Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 18
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 18
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
شعبان کے آخری دن چل رہے تھے
اور رمضان کی آمد آمد تھی
ہر طرف رمضان کی تیاریاں چل رہی تھیں
گھر میں صفائی ستھرائی کا کام زور و شور سے جاری تھا
یہ مما کی ہمیشہ سے عادت تھی وہ رمضان کے لئے خاص طور پر گھر کو صاف کرواتی تھیں
آج اتوار تھا تو اسے بھی ساتھ لگا رکھا تھا مما نے
کچن صاف کرنے کی ذمہ داری اسے دی تھی
وہ بہت کم ہی ایسے کاموں کو ہاتھ لگاتی تھی
لیکن مما اسکو کوئی ڈھیل دینے کو تیار نہیں تھیں
وہ کب سے کچن صاف کر راہی تھی پر ہر چیز جیسے ویسی۔ کی۔ ویسی ہی پڑی تھی
اف
اس نے تنگ آ کر ہر چیز یونہی چوڑی اور سٹول پر چڑ ھ کر بیٹھ گئی
وہ ابھی سوچ ہی راہی تھی کہ کیا کرے جب عینا آگئی
نینا تم نے ابھی تک کچن صاف نہیں کیا ![]()
اس نے بکھر ی ہوئی ساری چیزوں کو دیکھا
عینا یہ مجھ سے نہیں ہو رہا ![]()
نینا نے مسکین سی صورت بنائی
اچھا میں مدد کرتی ہوں نا ![]()
عینا کہتے ہی ساتھ لگ گئی کام کرنے
کافی دیر لگا کر ان دونوں نے کچن چمکا دیا
وہ اپنے روم میں آ کر نہائی اور چینج کر کے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی
بلیک جینز پہ سفید شرٹ پہنے لمبے سیاہ بال پشت پہ پھیلا ئے
اس نے گھڑ ی اٹھا کر کلائی میں با ندھی
یونہی خود کو دیکھتے ہوئے اس نے ڈوپٹہ اٹھایا
تم ایسے ڈوپٹے میں بہت اچھی لگتی ہو مجھے ![]()
ایک سر گوشی اس کی سماعت سے ٹکرا ئی
اس نے ڈوپٹہ سر پر اوڑھا اور مسکرا دی
شاہ اس نے سر گوشی کے انداز میں ہولے سے اس کا نام لیا ![]()
تبھی موبائل کی بیل بجی
اس نے اٹھا کر دیکھا
کیا کر رہی ہو ہٹلر ؟
شاہ کا میسج دیکھ کر اس کی مسکرا ہٹ گہری ہو۔ گئی
تمہیں یاد کر راہی تھی
اس نے جواب دیا
سچی ؟![]()
مچی ![]()
نینا نےاپنے بال سہلائے
ایک بات بتاؤ شاہ
ساتھ ہی سوال بھی کر دیا
ہاں پوچھو
شاہ نے کہا
جب بھی میں تمہیں یاد کرتی ہوں یا تمہارا نام لیتی ہوں تمہیں پکارتی ہوں تبھی تمہارا میسج آجاتا ہے یا کال آجاتی ہے
تمہیں کیسے پتا چل جاتا ہے کہ میں تمہیں یاد کر راہی ہوں ؟![]()
نینا نے اس کے سامنے اپنی ا لجھن رکھی
دل بتا تا ہے ![]()
اسی کو کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے
شاہ نے کہا ![]()
کیا سچ میں ایسا ہوتا ہے ![]()
وہ حیران تھی
ہاں بالکل دیکھو جب رات کو میں تمہیں میسج کرتا ہوں چاہے تم۔ نیند میں بھی ہو تب بھی تمہاری آنکھ کھل جاتی ہے
بتاؤ کیسے ؟
شاہ نے اس سے پوچھا
ہاں واقع جب تمہارا میسج آ تا ہے تو میں جتنی بھی گہری نیند میں ہوؤں میری آنکھ کھل جاتی ہے
نینا نے اعتراف کیا
بس یہی تو محبت ہوتی ہے ![]()
شاہ نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا
وہ گھبرا کر چپ ہو گئی تھی
کچھ باتیں ان کہی زیادہ اچھی لگتی ہیں
وہ سوچ کر رہ گئی
*********************
آج بہت دن بعد اس نے سحر کو خوش دیکھا تھا
وہ سیفی کے ساتھ بیٹھی کسی بات پر ہنس رہی تھی وہ دونوں بہت خوش نظر آ رہے تھے
نینا کے دل میں ایک اچھو تا سا خیال آیا
اس دن سیفی کو اس نے جس انداز میں پریشان دیکھا تھا
اسے یاد آیا
وہ خاموشی سے ان کو دیکھتی لائبریری کی طرف بڑھ گئی
کتابوں کے ریک کی طرف اس کے بڑھتے قدم آج پھر اسی آواز نے روکے تھے
وہ بے اختیار اس طرف کھنچی چلی گئی
وہ شاہ کے سامنے جا کھڑی ہوئی
وہ اسے دیکھے گئی کتنا خوبصورت لگ رہا تھا وہ
سر پہ ٹوپی رکھے آنکھیں بند کر کے نعت پڑھتا شاہ وہ جیسے اس آواز اور ان الفاظ کے طلسم میں کھو سی گئی تھی ![]()
شاہ ….
تم نعتیں کیوں نہیں پڑھنا شروع کر دیتے![]()
وہ جو نعت پڑھ کر خاموش ہوا تھا اس کی بات پر چونک کر آنکھیں کھولی ۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو ؟
تم کالج میں سنگر تھے نہ ![]()
ہاں
شاہ نے ہاں میں سر ہلایا![]()
ہاں تو پڑھو نا اتنی اچھی آواز ہے تمہاری ![]()
اور تم نبی پاک ﷺ سے اتنی محبت کرتے ہو
تو ان کی تعریف کیا کرو ![]()
اچھا تھوڑا سا فری ہو لوں تو سوچتا ہوں اس بارے میں
وہ سوچتے ہوی بولا ۔
سوچنا نہیں بس کرنا ہے تم نے ![]()
نینا جیسے بضد تھی
اچھا بابا جیسے تمہارا حکم ![]()
![]()
شاہ کو ہار مانتے ہی بنی
“یہ ہوئی نا بات ![]()
پھر جب تم بہت مشہور ہو جاؤ گے ![]()
تمہارے سامنے آٹو گراف لینے والوں کی لائن لگی ہوگی ![]()
ہائے ![]()
![]()
وہ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی ![]()
بے اختیار شاہ کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھری ![]()
اس کے بچگانہ انداز پر
اور اس کے گال کا ڈمپل نمایاں ہوا ۔
اچھا پھر اتنے سارے لوگ ہوں گے تمہارے آس پاس کیا تم مجھے بھی آٹو گراف دو گے ؟
اسے نئی پریشانی نے آن گھیرا ۔
ہاں بالکل سب سے پہلے تمہیں ہی آٹو گراف دونگا ![]()
شاہ نے یقین دہانی کروائی
وہاں تو اتنے لوگ ہوں گے
لائن لگی ہو گی ![]()
میں تو کہیں پیچھے رہ جاؤں گی ![]()
اتنے لوگوں میں تم مجھے کیسے پہچانو گے ![]()
وہ اداس ہوئی
بھلا تمہیں بھول سکتا ہوں میں ؟
شاہ نے الٹا اس سے سوال کیا
اور تم پیچھے کیوں رہو گی بھلا
تمہیں میں اپنے پاس کھڑا کروں گا ![]()
تم میرے ساتھ ہوگی
پیچھے رہنے کا تو سوال ہی نہیں
کیا سچ میں ؟![]()
وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
جی بالکل وعدہ رہا میں تمہارا تعارف کرواؤں گا
” اور میں سب کو بتاؤں گا
کہ تم ہی وہ ہو
جس نے مجھے یہ سعادت حاصل کرنے کی
تر غیب دلائی ![]()
![]()
شاہ نے اس سے وعدہ کیا
نینا کی کانچ جیسی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگی ![]()
وہ خوشی سے پاگل ہی تو ہو۔ رہی تھی ![]()
![]()
اتنا بڑا وعدہ پا کر ![]()
********************
2 دن بیت گئے تھے شاہ کی کوئی خبر نہیں تھی
نہ وہ یونیورسٹی آ رہا تھا
اور نہ ہی اس کا کوئی میسج یا فون آیا تھا
نینا نے کتنے ہی میسج کیے اسے پر کوئی جواب نہ آیا
آخر اس نے شاہ کے گھر پہ نمبر پر فون کیا
فون نگہت شاہ نے اٹھا یا
ہیلو آنٹی میں نینا ملک بات کر رہی ہوں کیسی ہیں آپ ؟
اس نے آواز پہچان کر خوش دلی سے کہا
اَلْحَمْدُلِلّه میں ٹھیک ہوں بیٹا آپ بتائیں
میں بھی ٹھیک ہوں آنٹی ![]()
یہ شاہ کہاں ہے ؟وہ یو نیورسٹی بھی نہیں آ رہا
نینا نے لہجہ نارمل رکھتے ہوئے پوچھا
وہ ہونے کمرے میں ہے بیٹا اصل میں اس ہاتھ کچھ زخمی ہیں اس لئے وہ گھر پر ہی ہے
آنٹی نے مختصر بتایا
نینا کا دل دھک سے رہ گیا
کیا ہوا آنٹی اس کو ؟
ہاتھ کیسے زخمی ہوئے ؟
اس نے گھبرا کر پوچھا
گرم پانی اتار کر مجھے دینے لگا تھا
کہ وہ اس کے ہاتھوں پہ گر گیا
آنٹی نے ٹفصیل بتائی
نینا دل چاہا اڑ کر پہنچ جائے شاہ کے پاس![]()
اور آدھے گھنٹے بعد وہ اس کے کمرے میں کھڑی تھی
آنٹی اس کے ساتھ آئ تھیں
شاہ دیکھو بیٹا آپ سے ملنے کون آیا ہے ![]()
آنٹی کے متوجہ کرنے پر اس نے آنکھیں کھولی نینا نے دیکھا شاہ کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں
ارے نینا تم یہاں
نینا کو دیکھ کر شاہ نے مسکرانے کی کوشش کی اور اٹھ کر بیٹھ گیا
آنٹی اسے چھوڑ کر جا چکی تھیں
نینا اس کے پاس چلی آئی
یہ سب کیسے ہوا شاہ ؟
نینا نے بے اختیار اس کے ہاتھوں کو تھام کر دیکھا
شاہ کے ہاتھوں پہ آبلے بن چکے تھے
اس کے دل کو کچھ ہوا
کچھ نہیں بس تھوڑا سا پانی گر گیا تھا
شاہ نے اس کے فکر مند چہرے کو دیکھا
دھیان کہاں ہوتا ہے تمہارا ؟![]()
دیکھ کر خیال سے کام نہیں کر سکتے
کتنے لا . پرواہ ہو تم ![]()
نینا نے اسے ڈانٹا
وہ چپ چاپ اسے دیکھے گیا
کتنے پیار سے وہ اسے ڈانٹ رہی تھی
اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو ![]()
![]()
نینا نے نوٹ کر کے اسے ٹوکا
میں بس دیکھ رہا تھا
کتنے خوبصورت انداز میں ڈانٹ رہی ہو ![]()
اور میں سوچ رہا تھا کہ تمہیں اب سے جان شاہ بلایا کروں ![]()
شاہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی
اور گال کا ڈمپل چمکا
نینا نے بے یقینی سے اسے دیکھا
ایسے کیوں دیکھ راہی ہو
تمہیں کوئی اعترا ض ہے کیا ؟
شاہ نے اس کی کانچ جیسی آنکھوں میں دیکھا
نہیں ……
نینا نے گھبرا کر پلکیں جھکا ئی
آخر کس بات سے ڈرتی ہو تم ؟
شاہ نے بغور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
کسی بھی بات سے نہیں بس کچھ باتیں ان کہی اچھی ہوتی ہیں شاہ
وہ اٹھ کھڑی ہوئی ایک قدم پیچھے ہٹی
جب کہہ دی جائیں تو وہ بے وقعت ہو جاتی ہیں نینا نے رخ پھیرا
اور ان کی کوئی قدر نہیں رہتی اور جب قدر نہ رہے تو محبت روٹھ جاتی ہے شاہ ![]()
شاہ بھی اٹھ کھڑا ہوا
شاہ نے صد مے سے اسے دیکھا
محبت بھلا کیسے روٹھ سکتی ہے
شاہ کی آواز بہت دھیمی تھی
وہ ایک قدم پیچھے ہٹا
محبت کیسے روٹھ سکتی ہے بھلا ![]()
وہ خود کلامی کے انداز میں دہرا رہا تھا
اب ان کے بیچ فاصلہ 3 قدم ہو چکا تھا
یہ کیسے ہو سکتا ہے بھلا
فاصلہ بڑھتا گیا
شاہ پیچھے پڑے صو فے سے ٹکرا یا
وہ لڑ کھڑا یا
شاہ ……
نینا مڑ کر اس کی طرف لپکی
سارا فاصلہ چند سیکنڈ میں مٹ گیا
دیکھ کے شاہ
نینا نے بے اختیار اسے تھاما
چھوڑ دو نینا
شاہ کراہا
نینا نے بے اختیار اس کے ہاتھ تھامے
اب یہ نا ممکن ہے شاہ ![]()
نینا نے اسے بیٹھا دیا
اس کے زخمی ہاتھوں پہ اپنا نرم ہاتھ محبت سے رکھا
ہاتھ پکڑ کر چھوڑنا خاندانی لوگوں کا شیوا نہیں ہوتا شاہ ![]()
![]()
وہ ہلکا سا مسکرائی
اور شاہ کی آنکھیں اس کی آنکھوں کی چمک سے چندھیا گئیں ![]()
*********************
ہر کسی کی زندگی میں پروبلمز ہوتی ہیں
ہر انسان اپنی اپنی جگہ کسی نہ کسی جنگ سے نبرد آزما ہوتا ہے
وہ بھی تھی
ایک طرف اسد کی پریشانی تھی تو دوسری طرف پاپا کی
اسد سے کہہ کہہ کر وہ تھک گئی تھی پر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا
اور پاپا اپنی ہی الگ دنیا میں رهتے تھے سب کی اپنی اپنی مرضی تھی وہ ہر طرف سے خود کو بے بس محسوس کرتی
آخر تھک ہار کر اس نے خاموشی اختیار کر لی
وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی
جب کسی چیز کو کھونے کا ڈر انسان کے دل میں جڑ پکڑ لے تو وہ انسان کھو ہی جاتا ہے
اور اس کے دل میں یہ ڈر جڑ پکڑ چکا تھا ![]()
***************””**
جان شاہ …….
وہ ابھی روم میں آ کر لیٹی تھی جب شاہ کا میسج آیا
جی
اس نے جواب دیا
بھوک لگی ہے ![]()
شاہ نے کہا
تو کھانا کھاؤ نہ
نینا نے حل بتایا
کیسے کھاؤں ![]()
ہاتھ زخمی ہیں نہ
تو پھر
نینا نے سوچ کر جواب دیا
تم آ کر کھلا دو نہ ![]()
شاہ نے شرارت سے کہا
میں تو آ بھی جاؤں گی ![]()
نینا نے اطلاع دینے والے انداز میں کہا
تو آجاؤ نہ ![]()
شاہ نے اصرار کرنے والے انداز میں کہا
اچھا ٹھیک ہے میں صبح آؤ ں گی
نینا نے تسلی دی
وہ اب اسے منع کر ہی نہیں سکتی تھی
کسی بھی بات کے لئے
اتنا ہی عزیز ہو گیا تھا وہ
اس کے لئے کچھ ایسے ہی احساسات رکھنےلگی تھی اب وہ
شاہ کے بغیر جیسے اب اسے کچھ نظر ہی نہ آتا
اس کی صبح شام شاہ سے منسوب ہو چکی تھی
اسے لگتا وہ شاہ کے بغیر سانس بھی نہیں لے پائے گی
دن رات وہ ساتھ ساتھ رهتے
24 میں سے 20 گھنٹے وہ دونوں بات کرتے رهتے
ہر سانس ساتھ لیتے
اور اس بات کا احساس اسے تب ہوا جب اس کا 10000 میسجز کا مہینے والا پیکج ایک مہینے کی بجائے صرف ایک ہفتے میں ختم ہو گیا
نینا حیرت زدہ ہو گئی
اور جب اس نے اس بات کا ذکر شاہ سے کیا تو وہ ہنس دیا
تم پاگل ہو گئی ہو جان شاہ ![]()
ہاں تمہارے پیار میں ![]()
وہ بر جستہ جواب دیتی
اب وہ اسے جان شاہ ہی کہا کرتا
اور وہ ا پنی قسمت پر ناز کرتی ![]()
وہ واقع پاگل ہو چکی تھی
اس کو دنیا جہاں کا کوئی ہوش نہیں رہا تھا
اس کے کام کرنے کی رفتار سست ہو چکی تھی
وہ بدل راہی تھی اسکی دنیا بدل رہی تھی
اس کی ڈریسنگ کا سٹائل چینج ہو گیا تھا
اب وہ دوپٹہ بھی لینے لگی تھی
اب وہ گالیاں بھی نہیں دیتی تھی
اب وہ لوگوں کے گریبان نہیں پکڑتی تھی
اب وہ کسی کو مارنے نہیں دوڑتی تھی
شاہ کو دیکھ دیکھ کر وہ بھی اب نماز پڑھنے لگی تھی
شاہ اس سے گھنٹوں اللّه کی باتیں کیا کرتا
اسے اچھا لگتا اللّه کی باتیں کرنا اور سننا
نینا کو بھی جیسے اللّه سے محبت ہونے لگی تھی ![]()
عجیب سے احساسات کا شکار رہتی وہ ![]()
محبت عجیب ہوتی ہے جب یہ دل میں بس جائے تو دل کا قرار بس محبوب کی ذات سے جڑ جاتا ہے
اور یہ
انسان کی تقدیر کے ساتھ ساتھ انسان کو بھی يكسر بدل دیتی ہے![]()
![]()
![]()
