Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 16
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 16
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
کیسے ہو شاہ ؟
وہ جو بے خود سا اسے دیکھے
جا رہا تھا کی آواز پر چونکا
سب نے آنکھوں آنکھوں میں ایک دو سرے
کو اشارہ کیا سجیلہ نے نینا کی کان میں سر گو شی کی یہ تو گیا کام سے ![]()
نینا آگے بڑھ کر شاہ کو واپس دنیا میں لائی
ہاں…..میں ٹھیک ہوں
شاہ نے خجل سا ہو کر سر جھٹکا
فاطمہ کہاں ؟
نینا نے اگلا سوال داغا
وہ زوہا کےپاس
شاہ نے اب نظریں جھکا لی
وہ دل ہی دل میں خود کو ڈانٹنے لگا کیا سوچ رہی ہوگی وہ اف
نینا اور باقی لوگ بھی وہیں بیٹھ گئے
نینا نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا
گرے کلر کے شلوار قمیض پہ بلیک واسکٹ پہنے ہمیشہ کی طرح بال پیچھے کو سیٹ کیے جیب میں چشمہ لٹکائے وہ اس وقت اپنے موبائل پہ نظریں جمائے بیٹھا تھا
اس کی جھکی پلکوں کو وہ دیکھے گئی
با رات آنے میں ابھی وقت تھا
وہ اٹھ کر زوہا کے پاس چلی گئی
******************
با رات آگئی با رات آگئی کا شور اٹھا
اور دیکھتے ہی دیکھتے لڑکیوں نے راہ داری کو دونوں اطراف سے گھیر لیا
اور پھر پھولوں کی بارش شروع ہو گئی ![]()
جس میں وہ پیش پیش رہیں
ہر طرف رنگ برنگے آنچل لہرا رہے تھے
اور طرح طرح خوشبوؤں نے حال کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا
اس کی موبائل کی رنگ ہوئی
اس نے اپنے کلچ سے موبائل نکالا
شاہ کا نام دیکھ کر اس نے نظر اٹھا کرشاہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کی پر وہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا
نینا نے میسج کھولا
ایک بات کہوں ؟
ہاں کہو
نینا نے جواب لکھ بھیجا
تم فراک میں اس لڑکی سے کہیں زیادہ پیاری لگ رہی ہو ![]()
شاہ کا میسج دیکھ کر اس کی گال سرخ ہوئے
سچ میں .؟
نینا نے دھڑکتے دل سے پوچھا
بس ایک کمی ہے
شاہ کا اگلا میسج آیا
وہ کیا ؟
نینا نے جلدی سے پوچھا
سر پر دوپٹہ رکھ لو تو تم بلکل جان شاہ لگو گی ![]()
اسکا دل دھڑکا ![]()
اسے یاد اس روز اس تصویر میں عریشہ کے سر پر دوپٹہ
اس نے خاموشی سے موبائل اندر رکھا
اور چپ چاپ آگے بڑھ گئی
سب بہت خوش اسلوبی سے نمٹ گیا
ڈھیر ساری دعاؤں اور آنسوؤں کے سائے میں زوہا کو رخصت کر دیا گیا
بس ایک وہ نہیں روئی تھی
بڑے حوصلے سے وہ کھڑی رہی تھی ![]()
اور ضروری نہیں ہوتا کہ اپنے دکھ کو ہم آنسوؤں سے ہی ظاہر کریں
کبھی کبھی ہم اپنے دکھ کو ایک بے مثال حوصلے سے بھی ظاہر کرتے ہیں ![]()
*****************
شادی کا ہنگامہ ختم ہوا
ہر چیز اپنے اصل پر آگئی تھی
گھر زوہا کے بغیر خالی خالی سا لگتا
پر وہ کہتی نہیں تھی
یہ اس کی ہمیشہ کی عادت تھی وہ
چیزوں کو باتوں کو جز بوں کو کہنے کی عادی نہیں تھی
اسے اپنے جذبات کبھی بھی کہنے نہیں آتے تھے
اسے بس غصہ ظاہر کرنا آتا تھا
پیار نہیں
اب وہ گھر آتی تو کوئی اس کا خیال رکھنے والا نہیں ہوتا تھا
کوئی اسے زوہا کی طرح ڈانٹتا نہیں تھا
کوئی اسے نا ٹوکتا
اس پر کبھی کبھی وہ جھلا جاتی
پر بدلاؤ زندگی کا حصہ ہے ہر چیز کو کبھی نا کبھی بدلنا ہی ہوتا ہے
وہ اب سجیلہ کے اور بھی قریب ہو گئی تھی
وہ اب پہلے سے زیادہ بزی ہو گئے تھے
شاہ سے اب بھی اس کی بات ہوتی روز
اور اسے اب اس کی بری طرح سے عادت ہو۔ چکی تھی
اس کا چیزوں کو دیکھنے کا نظریہ بدلنے لگا تھا
وہ بدل رہی تھی
بہت غیر محسوس انداز میں
********************
آج بہت تھکی ہوئی تھی صبح جلدی اٹھ کر کچھ ضروری کام نمٹا نا تھا اسے
ایک نیا مشن ان لوگوں کی لئے تیار تھا
گھر میں آ کر وہ سو گئی شام کو اٹھ کر فریش ہو کر وہ نیچے آئ پر نیچے آ کر اسے غیر معمولی سناٹے کا احساس ہوا
سارے گھر میں اندھیرا تھا
اور خاموشی
مما
اس نے آواز دی
عینا ….
اس نے ذرا زور سے آواز دی
لیکن کہیں کوئی آہٹ نا ہوئی
پاپا
بھیا
بھابی
وہ یکے بعد دیگرے سب کو آوازیں دیتی
دروازے تک آئ
وہ مضبوط اعصاب کی مالک تھی
جلدی گھبراتی نہیں تھی
پر اندھرے میں ڈوبا پورا خالی گھر اسے پریشان ضرور کرنے لگا تھا
کہاں چلے گئے سب
فیز 3 میں داخل ہوتے ہی اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا
اس نے اپنا موبائل نکالا
گھر والوں کے نمبر ملانے لگی
تبھی ایک زوردار دھماکہ اس کی سماعت سے ٹکرایا
اور ایک تیز روشنی نے اسے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر دیا
بہت ساری ملی جلی آوازیں اس کی سماعت سے ٹکرا رہی تھیں
جن میں واضع ایک آواز تھی
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ڈئیر نینا
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
یہ اس کے بہن بھائیوں کی آواز تھی
اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی
سامنے سب کھڑے
گھر والے اسکا پورا گروپ
ساتھ زوہا اور اس کی ہسبینڈ بھی
وہیں شاہ بھی تھا سب میں شامل
اسے خوش گوار سی حیرت نے آن گھیرا
سب لڑکیاں آ کر اس سے لپٹ گئے تھے
وہ خوش تھی بے انتہا خوش
یہ سب کیا ہے
وہ سب کو باری باری دیکھ رہی تھی
سر پرائز ![]()
بھیا آگے بڑھے
بتا دیتے تو میں بھی کچھ نا کچھ کر لیتی ![]()
![]()
اس نے سجے سجائے لاؤنچ کو دیکھا
ہم سب جو ہیں یارا
ہن کس لئے ہیں
سجیلہ نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پہ تھوڑی ٹکائی
اور ویسے بھی اگر بتا دیتے تو پھر تمہا رے چہرے کے یہ رنگ تھوڑی ملتے دیکھنے کو ![]()
زوہا بھی پاس چلی آئ
تم تو ہو ہی چڑیل بتایا بھی نہیں کہ کب آئ
وہ زوہا کا تھام کر مس یو کہتی اس کی بازو سے لگ گئی
یونہی ہنسی خوشی میں اس نے کیک کاٹا
اور سب نے اسے تحفے دیے
جو اس نے لے کر رکھ لئے اس کی بعد کھانے کا دور چلا وہ سب بہت انجوائے کر رہے تھے
یہ۔ اس کا یادگار برتھ ڈے تھا
سب کی جانے کے بعد اس نے گفٹس کھولے
سب کی گفٹس دیکھتے دیکھتے وہ شاہ کی گفٹ کو کھولنے لگی
وہ کافی بڑا گفٹ پیک تھا
اس نے کھول کر دیکھا اندر سے ایک خوبصورت سا سفید کلر کا فراک بر آمد ہوا
واہ زوہا نے دل کھول کر تعریف کی
بلا شبہ ڈریس بہت پیارا تھا
وہ کتنی ہی دیر اس کو چھو کر دیکھتی رہی
پھر آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر ساتھ لگا کر دیکھا ![]()
پھر الماری میں رکھ دیا
وہ سونے کو لیٹی تو شاہ کا مسیج آگیا
گفٹ دیکھا ؟
ہاں دیکھا
۔نینا نے بتایا
پسند آیا ؟
شاہ نے اگلا سوال کیا
ہاں بہت
تھینک یو ![]()
نینا نے دل سے شکریہ ادا کیا
بس صرف خالی تھینک یو
؟
شاہ کا جواب دیکھ کر اسے ہنسی آئ
ہاں تو اور کیا ؟
نینا نے دلچسپی سے موبائل کو دیکھا
میں چاہتا ہوں کل تم یہ ڈریس پہن کر اسی جگہ اسی کافی شاپ پہ آؤ جہاں پہلی بار ہم لوگوں نے ساتھ کافی پی تھی
اور جہاں میں نے تمہاری ویڈیو بنائی تھی ![]()
نینا نے شرارت سے کہا
ہاہا ہاں وہیں ![]()
شاہ نے ہنس کر کہا
اور اگر میں نا آؤں تو ؟
نینا نے پوچھا
مجھے یقین ہے تم آؤ گی
شاہ نے یقین سے کہا
کیوں ؟
نینا بھی اپنے نام کی ایک تھی
کیوں کہ میں جانتا ہوں تم میری کوئی بات نہیں ٹالو گی نا ٹا ل سکتی ہو ![]()
شاہ نے پرے اعتماد سے کہا
اللہ خوش فہمی ![]()
نینا نے منہ چڑایا
چلو دیکھتے ہیں کل ہٹلر ![]()
ہاں دیکھ لیتے ہیں سڑیل ![]()
اس نے حساب برابر کیا
اور ہم نہیں جانتے کہ ہمارا آنے والا کل
ہمارے کتنے ہی کل برباد کرنے والا ہوتا ہے ![]()
![]()
********************
پوری رات وہ کروٹیں بدلتی رہی
اسے اپنے اندر کی اس احسا س سے ڈر لگ رہا تھا
وہ بدل رہی تھی
وہ کمزور پڑ رہی تھی
اسے نفرت تھی کمزور ہونے سے
اس نے کبھی بھی خود کو کمزور پڑنے نہیں دیا تھا
صبح اس نے ٹھیک سے ناشتہ بھی نہیں کیا
اس کا موڈ آف تھا
اس کے دل و دماغ میں عجب سی جنگ چھڑ ی ہوئی تھی
وہ اس کی باتوں پہ۔ ایمان بھی لا رہی تھی
پر اس کی باتوں کو ماننا بھی نہیں چاہتی تھی
پتا نہیں وہ کیا چاہتی تھی
یونیورسٹی میں بھی وہ اس سے دور ہی رہی
واپس آ کر سجیلہ کی پوچھنے پر اس نے سب اسے بتا دیا
تو تجھے جانا چاہیے سن تو سہی وہ کیا کہنا چاہتا ہے
وہ چپ چاپ سنتی رہی
گھر آ کر وہ اپنے کمرے میں گھس گئی
وہ سونے کی کوشش کر رہی تھی جب شاہ کا میسج آیا
کب تک آ رہی ہو ۔؟
میں نہیں آ رہی شاہ ![]()
اس نے صاف جواب دیا
پر کیوں ؟
میری مرضی
اس نے چڑچڑ ے پن سے کہا
لیکن مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے
شاہ نے اصرار کیا
یہیں بتا دو
نہیں سامنے بتانے والی بات ہے
کچھ باتیں ان کہی زیادہ اچھی لگتی ہیں شاہ ……
اس نے میسج سینڈ کر کے آنکھیں موند لی
میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں
شاہ کا میسج دیکھ کر اس نے کتنی ہی دیر موبائل یونہی ہاتھ میں پکڑے رکھا
پھر اٹھی اور الماری کی طرف بڑھ گئی
****************
وہ اس وقت اس کے سامنے بیٹھی تھی
اس کے دیے ہوئے گفٹ میں
سفید فراک پہنے بال ایک سائیڈ پہ پھیلائے دوسری سائیڈ پہ دوپٹہ ڈالے
وہ بے نیازی سے ٹیبل بجا رہی تھی پانے نیل سے ہولے ہولے
شاہ سامنے بیٹھا تھا وہ بھی آج سفید سوٹ میں ملبوس تھا
شاہ نے خود اسے کافی پیش کی
جو نینا نے ہونٹوں سے لگا لی
مجھے یقین تھا تم آؤ گی
شاہ کہہ رہا تھا
وہ کافی پیتی رہی
نینا ……
شاہ نے اسے پکارا
ہمم نینا نے سر اٹھایا
شاہ اٹھ کر اس کی طرف آیا
اسے سر پہ رکھا کرو مجھے یہ ایسے اچھا لگتا ہے
شاہ نے اس کی کندھے پہ رکھا دوپٹہ اس کی سر پہ اوڑھا یا
وہ خاموشی سے دیکھتی رہی شاہ واپس بیٹھ چکا تھا
مجھے کہنا تھا کہ
اس نے بیچ میں ہی شاہ کی بات کاٹ دی
اور میں نے کہا تھا کچھ باتیں ان کہی زیادہ اچھی لگتی ہیں
شاہ نے اسکی کانچ جیسی آنکھوں میں دیکھا
اور مجھے تم اچھی لگتی ہو ![]()
I Love U
کیا تم جان شاہ بننا پسند کرو گی ؟
نینا کا دل اتنی زور سے دھڑکا تھا کہ اسے لگا آخری بار دھڑک رہا ہے
وہ ساکت ہو گئی تھی
نینا ؟
شاہ نے اس کا ٹیبل پر رکھا ہاتھ ہلایا
وہ جیسی خواب سے جاگی تھی
اس نے تیزی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچا
اور اٹھ کر تیزی سے وہاں سے چلی گئی
پیچھے شاہ لب بھینچے اسے جاتے دیکھتا رہا
اور کبھی کبھی ہم خود ہی اپنے اوپر واپسی کے سارے دروازے بند کر لیتے ہیں پھر ہم چاہ کر بھی وقت کے چکر سے نہیں نکل سکتے ![]()
******************
وہ کب سے اسے کال کر رہا تھا پر وہ اٹھا نہیں رہی تھی
آخر اس نے تنگ آ کر میسج کیا
کہاں ہو تم یار ایک کام ہے ار جنٹ
وہ سجیلہ کے سامنے بیٹھی اسے سارا قصہ سنا رہی تھی جب سیفی کا میسج دیکھ کر اس نے موبائل کان سے لگایا
ہاں سیفی بولو
یار وہ سحر کا۔ کوئی اتا پتا نہیں ہے
سب لوگ پریشان ہیں مجھے اس کی ابو کی کال آئ تھی
سیفی پریشانی کی عالم میں اسے بتا رہا تھا
وہ بھی پریشان ہو کر اٹھی
کیا مطلب کوئی اتا پتا نہیں
کہاں چلی گئی وہ ![]()
وہ عجلت کے عالم میں باہر کو لپکی
کیا ہوا سجیلہ پیچھے پیچھے آئ تھی
سحر گھر نہیں آئ
اس نے جلدی جلدی بتا کر موبائل کان سے لگایا
میں بھی آتی ہوں سجیلہ موبائل اٹھا کر اس کے ساتھ آئ تھی
وہ لوگ سیدھا سحر کے گھرگئے تھے
جہاں بس یہی پتا چلا کہ سحر صبح نکلی تھی اس کی بعد گھر نہیں آئ شام ہونے والی تھی ان کے پاس ٹائم بہت کم تھا
ہمیشہ کی طرح پہلے ان لوگوں نے پلان تر تیب دیا جو کہ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے
ان لوگوں نے بنایا تھا
جس کے مطابق ان لوگوں کو 2/ 2 ہو کر الگ الگ سائیڈ سے سحر کو ڈھونڈنا تھا
اسفند اور سجیلہ جا چکے تھے
سیفی اور وہ دونوں پیچھے رہ گئے تھے
سحر کی بابا کو وہ پہلے ہی انسپیکٹر تو صیف
کے پاس بھیج کر آئے تھے
وہ لوگ ہر اس جگہ اسے ڈھونڈ رہے تھے جہاں اس کی ہونے کا کوئی بھی امکان ہوتا
لیکن ابھی تک کہیں کوئی اتا پتا نا تھا
اندھیرا پھیلنے لگا تھا
اور وہ لوگ شہر سے کافی دور نکل آئے تھے
نینا نے ایک۔ نظر سیفی کے چہرے کی طرف دیکھا
اسے وہ خود سے بھی زیادہ پریشان لگا
اس کی بڑی بڑی آنکھیں اس وقت لال ہو رہی تھیں
اور جبڑے بھنچے ہوئے تھے
ہاتھوں کی گرفت اسٹیرنگ پر بہت مضبوط تھی
تم ٹھیک ہو سیفی ؟
اس نے اسے متوجہ کیا
یس
اس نے 2 لفظ جواب دیا
آج اس نے اسے ہٹلر بھی نہیں کہا تھا
وہ لوگ موبائل سے اس کی لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس کا موبائل مسلسل آف آ رہا تھا
