339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 1

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah

رات کا آخری پہر تھا دور کہیں اذان کی ہلکی آواز سنائی دے رہی تھی

ہسپتال کے کوریڈور میں موجود نفوس کی صرف سانسوں کی مدھم آواز کے علاوہ کہیں کوئی آواز نا تھی ۔

رات پر گہری سیاہی چھا ئی ہوئی تھی

بالکل اس کے نصیب کی طرح

سب سے الگ تھلگ وہ ایک طرف کھڑا تھا

رات بھر نفل حاجت پڑھنے سے اس کے پاؤں

درد کر رہے تھے ۔رونے سے اس کی آنکھیں خون رنگ ہو رہی تھیں

روشن پیشانی پہ بکھرے بال

اسکے اندر کی وحشت کا پتہ دیتے تھے

لیکن اس وقت وہ ہر چیز سے بے نیاز تھا

اسکی نظریں آئی سی یو کے دروازے پر ٹکی تھیں ،،اس نے ایک نظر گھڑی کو دیکھا

ٹک ٹک ٹک

گھڑی کی ٹک ٹک سے اسکے دل کی دھڑکن کی آواز کہیں زیادہ تیز تھی ۔

اچانک دروازہ کھلا ڈاکٹر باہر آیا سب لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر قریب آگۓ ۔

اس کی پر امید نظریں ڈاکٹر کے چہرے پہ جمی تھیں ڈاکٹر نے ایک نظر سب کو دیکھا پھر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“آئی ایم سوری مسٹر شاہ ہم آپ کے مریض کو نہیں بچا پائے

“She’s no More”

سب دھک سے رہ گۓ

شاہ کو لگا اس کی ساری حسیات کھو گئی ھیں اسے ہر چیز ساکت ہوتی محسوس ہوئی

دل جیسے ڈوب کر ابھرا اس نے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی پر اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔

اسے لگا وہ کھڑا نہیں رہ پائے گا

اور پھر اس کی ٹا نگوں نے سچ مچ اس کا وزن اٹھانے سے انکار کر دیا .

************

لائن ما رے گا ؟

سالے پینسل ہی توڑ دینی ہے میں نے تیری

وہ لڑکے کے سر پہ کھڑی اس کی طبیعت صاف کرنے کی تیاری میں تھی ،،نہ نہ ایسا ظلم مت کرنا ورنہ بیچارہ ہوم ورک کیسے کرے گا

یہ اس کا سب سے شریر دوست سیفی تھا جس نے سینے پہ ہاتھ رکھ کر عو رتوں کے سٹائل میں یہ بات کہی تھی ۔

ہاہاہا

اس بات پر ایک زبردست قہقہ پڑا تھا۔

لیکن وہ نہیں ہنسی تھی بلکہ سب کو گھور کر رہ گئی ۔

چل معافی مانگ تیری تو ۔۔۔۔۔

اس کے منہ سے گالی نکلتے نکلتے رہ گئی

بات بگڑتی دیکھ کر سحر جو اسے یہ بتا کر پچھتا رہی تھی کہ

“سیکشن B کے ایک لڑکے نے اس سے بدتمیزی کی اسکا بازو کھینچتے ہوئے بولی

“بس کرو یار چلو یہاں سے بہت بے عزتی ہو گئی اس کی بھی ۔

ایسے کیسے چھوڑ دوں اس کا تو باپ بھی معافی مانگے گا وہ شرٹ کے بازو سمیٹتے ہوئے غرائی ۔

” ایکسیوزمی”

“یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا ؟

ایک اجنبی مردانہ آواز پر وہ مڑی ۔

اور مقابل کو سر سے پاؤں تک دیکھا

سیاہ پینٹ اور شرٹ پہنے بال پیچھے کو سیٹ کیے آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے ایک وجیہہ سا لڑکا کھڑا تھا اور وہ یقیناً اسی سے مخاطب تھا ۔

یہ میرا طریقہ ہے تجھے کوئی اعترا ض ہے ؟

وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی ۔

سامنے والے کی روشن پیشانی پہ بل پڑے

بلو پینٹ اور گھٹنوں تک آتی رف سی شرٹ بالوں کو ایک سائیڈ پہ چوٹی کی صورت میں لٹکائے وہ گلے میں دوپٹہ ڈالے کمر پہ ہاتھ رکھے کوئی لڑاکا قسم کی لڑکی لگ رہی تھی ۔

تمیز سے بھی بات کی جا سکتی ہے

اس کا موڈ سخت آف ہو چکا تھا ۔

تو اب تو مجھے تمیز سیکھائے گا ؟

وہ اب اس پر غرائی تھی ۔

اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا ۔

کہ اس لڑکی نے اپنا چشمہ اتار کر جیب میں لٹکایا کچھ کہنا ہی ہے تو اس بے ہودہ انسان سے کہو میری دوست سے معافی مانگے

وہ اسی بد تمیز انداز میں بولی ۔

شاہ کے سارے لفظ کہیں کھو گۓ تھے

اسکی کانچ جیسی آنکھیں اب شاہ پر مرکوز تھیں اور شاہ ایک بھی لفظ بولےبنا اسکی کانچ جیسی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا ۔

چلو تم یہاں سے پلیز سحر اسے بازو سے پکڑ کر لے جانے لگی “نینا !

نینا توقیر ملک نام ہے میرا یاد رکھنا بیٹا معافی تو میں منگوا کر ہی چھوڑوں گی

وہ غصے سے پاؤں پٹختی بول رہی تھی

اور علی شاہ سوچ رہا تھا ۔

کیا وہ سچ تھا ؟

جو اس نے ابھی دیکھا یا اسکا وہم ۔۔