Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 23
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 23
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
اگر ایک تم ہی نہ ہو تو
شہر ملتان میں کیا رکھا ہے ![]()
آج ملتان کے موسم کا مزاج خاصہ برہم تھا
گرمی اچھی خاصی بڑھ چکی تھی
اس نے آخری بار آئینے پہ نظر ڈالی
سادہ سے آف وائٹ ڈریس میں کھلے بال پیچھے پشت پہ بکھرائے
ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں پہنے ڈوپٹہ سر پہ ڈالے وہ باہر جانے کو تیار تھی
تبھی اس کے موبائل کی بیل بجی
اس نے اٹھا کر دیکھا
“عید مبارک جان شاہ
“
شاہ کا میسج دیکھ کر اس کی آنکھوں کی چمک لوٹ آئی
وہ مسکرا دی
خیر مبارک
تمہیں بھی عید مبارک ![]()
نینا نے بھی میسج لکھ بھیجا
خیر مبارک ![]()
شاہ کا جواب آیا
عید نماز پڑھ آئے ؟
نینا نے پھر میسج کیا
لیکن اس بار کوئی جواب نا آیا
وہ انتظار کرتی رہی اور پھر نیچے چلی آئی
آج گھر میں کوئی رونق نہیں تھی
سب لوگ چپ چپ تھے
پاپا اور بھیا قربانی کے لئے باہر نکل گئے تھے
وہ سب گھر والوں کو عید مبارک کہہ کر ان کے پاس بیٹھ گئی
سارا دن گزر گیا شاہ کا کوئی میسج نا آیا
وہ سجیلہ کی طرف ہو کر آئی تھی
سجیلہ بیحد خوش تھی ![]()
اسد کل یہاں آ رہا تھا
وہ بہت دن بعد آنے والا تھا
اس کے ہر انداز سے خوشی جھلک رہی تھی ![]()
اس نے دل ہی دل میں اپنی جان سے پیاری دوست کی نظر اتاری اور ہمیشہ خوش رہنے کی دعا بھی کی
محبت کرنے والے بھی عجیب ہوتے ہیں
ان کے لئے ان کی ساری کائنات صرف ایک ہی انسان میں سمٹ آتی ہے ![]()
![]()
*********************
صبح نماز کے ٹائم بھی شاہ کا میسج نا آیا تو اس نے خود اسے میسج کیا
اٹھو شاہ نماز کا ٹائم ہو گیا ہے ![]()
کچھ دیر بعد جواب آیا تھا اٹھا ہوا ہوں
پھر مجھے کیوں نہیں اٹھایا ؟
اس نے پوچھا
لیکن شاہ نے کوئی جواب نا دیا سارا دن بیت گیا لیکن اسکا کوئی میسج نا آیا
رات کو وہ فیس بک پر گئی تو اسے آن دیکھا لیکن اس نے نینا کو جواب پھر بھی نا دیا
نا جانے کیوں نینا کا دل دکھنے لگا ![]()
وہ اداس ہو کر کتنی ہی دیر لیٹی سوچتی رہی اس کے بارے
جب کہیں سکون نا آیا تو اٹھ کر جائے نماز بچھا لی
دل کا بوجھ ہلکا کر کے وہ سو گئی لیکن اسے نیند نا آتی
اس کی عادت اتنی بگڑ چکی تھی
پتہ نہیں کیوں جیسے ہم ہوتے ہیں لوگ ہمیں ویسا نہیں رہنے دیتے ہمیں بدل کر خود بدل جاتے ہیں ہماری عادتیں بگاڑ کر اپنی عادت ڈال کر ہماری زندگی کو بے سکون کر دیتے ہیں
نا جانے وہ بھیگی آنکھوں سے کب تک یہی سب سوچتی رہی
نا جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی
********************
تیسرے دن شاہ کا میسج آیا تھا
کیا کر رہی ہو ؟
اس نے دیکھا
اسے غصہ آ رہا تھا
پہلے تو اس کا دل چاہا وہ بھی شام تک جواب نا دے پر دل نہیں مانا تو اسے نے جواب دیا
“کچھ نہیں “
کیسی گزری عید ؟
شاہ نے بات بڑھائی
ٹھیک تھی
نینا نے بجھے دل سے کہا
میری تو بہت بزی گزری ابھی بھی بستی کے بچوں کو عیدی دے کر آ رہا ہوں
شاہ نے خود ہی بتایا
واہ کاش میں بھی اس بستی کی بچی ہوتی کوئی
نینا نے حسرت سے کہا
ہاہا وہ کیوں ![]()
شاہ نے حیرت سے پوچھا
کم سے کم تم میرے لئے 5 منٹ تو نکال لیتے
لیکن میرے لئے تو تمہارے پاس 5 منٹ بھی نہیں ہیں ![]()
نینا نے میسج سینڈ کر کے آنکھوں میں آئی نمی صاف کی
کیا مطلب ![]()
شاہ نے پوچھا
تو کیا ہے تمہا رے پاس ٹائم میرے لئے ؟
نینا نے الٹا سوال کر دیا
میں نے کہا نا میں بزی تھا ![]()
شاہ جھنجھلایا
ہاں رات کو آدھی رات تک تم بزی تھے فیس بک پر دیکھا میں نے
پر مجھے ایک میسج نہیں کر سکے
وہ جو بھری بیٹھی تھی آخر پھٹ پڑی
تم پھر سے شروع ہو گئی ![]()
شاہ کا موڈ خراب ہو گیا
واہ تو تم چاھتے ہو میں تمہیں کچھ بھی نا کہوں تم جو مرضی کرتے رہو جب دل چاہے بات کرو جب اپنی مرضی ہو تب بات کرو اور جب اپنا دل نا ہو تو یوں بھول جاؤ جیسے میں کوئی چیز ہوں کہ ضرورت کے وقت استعمال کی اور باقی وقت کسی کونے میں پھینک دی ![]()
وہ بھی آج چپ رہنے والی نہیں تھی
شٹ اپ یار جو منہ میں آئے بولتی چلی جاتی ہو ![]()
شاہ کو غصہ آیا
تو کیا غلط کہہ رہی ہوں میں
تمہیں صرف اپنی مرضی کرنی ہوتی ہے میں تو تمہاری نظر میں انسان ہی نہیں ہوں میرے جذبات , میرے احساسات میری کسی بھی بات کی تمہاری نظر میں کوئی اہمیت ہی نہیں ہے میں کیا سوچتی ہوں
میں کیا چاہتی ہوں
میں کیا محسوس کرتی ہوں
میں کیسے رہتی ہوں
کس اذیت سے گزرتی ہوں
تم نے یہ کبھی نہیں سوچا
تمہیں میری فکر ہی نہیں ہے ![]()
تم چاھتے ہوتمہارا دل نا ہو تو تم ہفتہ بھی بات نا کرو مجھ سے اور جب دل چاہے آجاؤ بات کرو اور میں کچھ کہوں بھی نہیں
کچھ پوچھوں بھی نہیں جب بات کرو کر لوں جب نا کرو پرواہ نا کروں ![]()
میں بھی انسان ہوں یار مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے
مجھے تمہاری کمی محسوس ہوتی ہے
مجھے بھی تمہاری ضرورت محسوس ہوتی ہے
میرا بھی دل ہے
جذبات ہیں میری بھی مرضی ہے میں بھی تم سے بات کرنا چا ہتی ہوں
پہلے کی طرح تمہاری آواز سننا چاہتی ہوں
تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں ![]()
اس نے آج ہر بات بول دی تھی جو وہ اتنے دنو سے اپنے اندر چھپا ئے پھر رہی تھی
لیکن شاہ نے کوئی جواب نا دیا
اس نے کتنے ہی میسج کیے کرتی رہی
لیکن کوئی جواب نا آیا
تھک کر اس نے موبائل کی سکرین پر ماتھا ٹکایا اور رونے لگی
نا جانے کیوں اس کا دل عجیب سے دکھ سے بھر گیا تھا
جب رو رو کر تھک گئی تو اٹھی اور وضو کر کے جائے نماز پے جا بیٹھی
وہ پھر سے رونے لگی تھی
وہ کیوں کر رہا ہے میرے ساتھ ایسے اللّه پاک ؟
آپ کے تو بہت قریب ہے نا وہ آپ تو جانتے ہوں گے نا وہ کیا چاہتا ہے آخر ؟
آپ اسے سمجھاؤ نا اللّه پاک ![]()
وہ پہلے جیسا ہو جا ئے مجھے وہ پہلے والا شاہ ہی اچھا لگتا تھا
آپ اسے پہلے جیسا کر دو نا پلیز ![]()
![]()
وہ اللّه سے اس کے بارے میں باتیں کرنے لگی
اور یہ پہلی بار تھا جب اس نے اللّه پاک سے اللّه پاک اور اپنے علاوہ کسی تیسرے کی بات کی تھی ![]()
اور بیشک وہ نا واقف تھی فلسفہِ عشق سے
وہ جانتی ہی نا تھی کہ عشق کا فلسفہ کیا ہے ![]()
![]()
********************
2 دن بیت گئے
ان دونوں میں پھر کوئی بات نہیں ہوئی
اس نے بہت سارے میسج کیے شاہ کو پر اسکا کوئی جواب نا آیا
موبائل کی بیل بجی تو اس نے بھاگ کر موبائل اٹھا یا
سجیلہ کی موم کی کال تھی
جسے سن کر نینا ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی تھی
کیا کہہ رہی ہیں آپ آنٹی ![]()
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے
ٹھیک ہے میں ابھی آ رہی ہوں
اس نے عجلت میں موبائل بند کیا اور باہر کی اور لپکی
سجیلہ کے گھر پہنچنے میں اسے 10 منٹ لگے تھے
سب لوگ ڈرائینگ روم میں جمع تھے
سجیلہ بھی وہاں موجود تھی
اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں اور رو رو کر سوج چکی تھیں
وہ سدھی سجیلہ کی طرف گئی تھی
میری بات سن جانی
اس نے سجیلہ کا ہاتھ پکڑا
مجھے کوئی بات نہیں کرنی نینا
میں اپنا فیصلہ کر چکی ہوں
اور سب کو سنا بھی چکی ہوں
اور اس میں اب کچھ نہیں بدلے گا ![]()
نینا نے باری باری سب کے چہروں کی طرف دیکھا
تو اس سے بات کر نینا
سجیلہ کی ممی نے نینا کو بے بسی سے دیکھا
سجیلہ اٹھ
نینا نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر ایک طرف گھسیٹا
کیا کر رہی ہے تو یہ؟
نینا نے اسے گھورا
میں جو بھی کر رہی ہوں ٹھیک کر رہی ہوں نینا
میں کسی مفلس انسان کے ساتھ تو رہ سکتی ہوں
کسی بے روزگار کے ساتھ بھی رہ سکتی ہوں
لیکن ایک بے وفا اور دھوکے باز کے ساتھ نہیں
ایک ایسے انسان کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہوں
جس پر اعتبار ہی نا کر پاؤں ساری عمر
سجیلہ نے اپنی آنکھیں صاف کی
بات کیا ہے ؟ہوا کیا ؟
نینا نے ایک نظر باہر بیٹھے لوگوں پر ڈالی
تمہیں پتہ ہے اسد نے کیا کیا ہے ؟
سجیلہ نے اسے دیکھا
بتائے گی تبھی پتہ چلے گا نا
نینا نے اس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھا
اسد نے میرے موبائل سے میری سب فرینڈز کے نمبر نکال کر ان سب کو کالز کی اور مسیجز کیے ان سب سے کہا کہ مجھ سے دوستی کرو گی ؟
کچھ کو واٹس ایپ پر بھی مسیج کیے
ان لوگوں نے مجھے سکرین شارٹ بھی دیکھائے ![]()
اور جب ان لوگوں نے منع کیا تو اس نے کہا سجیلہ کی دوست ہو تو میری کیوں نہیں بن سکتی ؟
اور کچھ کو اس نے کہا میری گرل فرینڈ بنو گی ؟
یہ کہتے کہتے سجیلہ کا گلا رندھ گیا
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ایسی حر کت کر سکتا ہے
میں کتنا بھروسہ کرتی تھی اس پہ
منہ ما رنے کو اور دنیا تھوڑی ہے ؟
میری ہی دوست ملیں تھیں اسے
سب نے مجھے اتنی باتیں سنائی
کہ تمہارا منگیتر ایسا ہے
نینا منہ کھول کے بس اسے دیکھ رہی تھی
اسد نے ایسا کیا ![]()
![]()
تو نے اس سے بات کی ؟
نینا نے پھر بھی تسلی چاہی
ہاں کی
سجیلہ نے کہا
وہ مان گیا ؟
نینا نے پھر حیرت سے پوچھا
ہاں مان گیا اور یہ بھی کہا کہ فیس بک پر تو ہر لڑکے سے ان کی دوستی اور بات چیت ہوتی ہے مجھ سے کر لیں گی تو کیا ہو جائے گا
پھر تم نے کچھ کہا نہیں اسے ؟
نینا نے دانت پہ دانت جما یا
کہا بہت کچھ کہا
جم کر جھگڑا ہوا ہمارا
اور بھی بہت کچھ کہا اس نے
میں نے انگوٹھی اتار کر اس کے منہ پر دے ماری
میں ایسے انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی یار
جس کی نظر میں عورت کی عزت ہی نا ہو
اور پھر میں ساری زندگی اس سے اپنی دوست بہنو اور کزنز کو بچا تی رہوں
میں ہر وقت اس پہ شک کرتی رہوں
میں ہر وقت اس پہ نظر رکھتی رہوں
اور وہ میرے کسی بھی رشتے کو ڈس سکتا ہے یہ سوچ مجھے مفلوج کر دے گی
میں ایک نفسیا تی مریض بن جاؤں گی ایسے تو
میں نہیں جینا۔ چاہتی ایسے
میں نہیں جی سکتی ایسے ![]()
اسی لئے میں نے ایسا فیصلہ لیا
سجیلہ نے ساری بات کہہ کر اسے دیکھا
لیکن کیا تم اس کے بغیر رہ پاؤ گی ؟
نینا نے ایک نیا نکتہ اٹھایا
مجھے نہیں پتہ
لیکن میں اتنا جانتی ہوں رشتوں کا تقدس پامال کرنے والے کسی انسان کے ساتھ میں نہیں رہ سکتی ![]()
سجیلہ نے مضبوط لہجے میں کہا
یہ بہت تکلیف دہ ہوگا
نینا نے افسر د گی سے اسے دیکھا
ہاں لیکن اس سے کم جو اس کے ساتھ رہ کر ہوگا ![]()
سجیلہ نے ہمت نہیں ہاری
پھر ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ ہوں اور تم پر کوئی بھی زور نہیں ڈال سکتا ![]()
نینا نے اس کا ہاتھ تھام کر باہر کی طرف قدم بڑھا ئے
وہ سوچ رہی تھی
محبت کرنے والوں کے حصے میں تکلیفیں ہی کیوں آتی ہیں ![]()
***********************
سجیلہ کی منگنی ٹوٹ چکی تھی اور وہ لوگ واپس جا چکے تھے
وہ گھر آئی تو اس کی حالت بھی کچھ ٹھیک نہیں تھی
وہ روم میں آ کر بیڈ پر اوندھی لیٹی تھی
یہ اس کی بچپن کی عادت تھی وہ جب ڈپریس ہوتی تو یونہی لیٹا کرتی تھی
اسے رہ رہ کر سجیلہ کا رونا یاد آ رہا تھا ![]()
اس کا بس نہیں چل رہا تھا اسد کی ٹا نگیں توڑ دے
کیوں کرتے ہیں لوگ ایسے
کسی محبت کرنے والے انسان کو چھوڑ کر کسی وقتی ٹائم پاس کرنے والے لوگوں کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔۔![]()
کسی کے جذبات کا خیال نہیں کرتے
انسان ہو کر دوسروں کو انسان نہیں سمجھتے
یہاں ہر انسان کہیں نا کہیں کسی نا کسی انداز میں کسی دوسرے انسان پر ظلم کر رہا ہے
کب ہم لوگ سہی معنوں میں انسان بنیں گے ؟
کب ہمارے اندر انسانیت جاگے گی
اور ہم دوسروں کا درد محسوس کر سکیں گے
کب لوگ عورت کو ایک استعمال کی چیز سمجھنا چھوڑ کر انسان سمجھیں گے
کب لوگ دوسروں کی بہن بیٹیوں کی عزت کو اپنی عزت سمجھیں گے
کب ؟
کب ؟
کب ؟![]()
یہی سسب سوچتے سوچتے نا جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی
وہ بہت مظبوط اعصاب کی مالک تھی وہ بہت کم روتی تھی
لیکن آج کل وہ رونے لگی تھی وہ کمزور پڑ نے لگی تھی
اور محبت تو بڑے بڑے پہاڑوں کو ہلا دیتی ہے محبت کا نزول ہر کوئی کہاں سہہ سکتا ہے ![]()
![]()
********************
ایک ہفتہ ہو چکا تھا ان کے بیچ کوئی بات نہیں ہوئی تھی
نینا نے بات کرنے کی کوشش کی پر بے سود
وہ ایک عجیب اذیت میں مبتلا تھی
جس نے نا وہ نکل پا رہی تھی اور نا ہی اسے ختم کر پا رہی تھی
وہ صبح اٹھتے ہی موبائل دیکھتی
پر شاہ کا کوئی میسج نا ہوتا
وہ سارا دن موبائل کو ہی دیکھتی رہتی
شاہ کے بارے میں سوچتی رہتی دن میں ایسا کوئی پل نا ہوتا جس میں وہ شاہ کو نا سوچتی ہو
ہر وقت اس کا خیا ل نینا کو بے چین کیے رکھتا
وہ اداس رہتی
بے چین رہتی
اس کا کہیں کسی کام میں دل نا لگتا
اس کا کھانا پینا سب چھوٹتا جا رہا تھا
وہ زندگی میں کبھی بھی اتنی پریشان اور اپ سیٹ نہیں ہوئی تھی جتنی اب رہنے لگی تھی
وہ عجیب چڑ چڑی سی ہو رہی تھی کسی سے بات نا کرتی کمرے میں پڑی رہتی
آخر تنگ آ کر اس نے ایک فیصلہ کیا
وہ کسی بھی طرح سے اس اذیت سے نکلنا چاہتی تھی
اپنی انا تو وہ پہلے ہی شاہ کےقدموں میں رول چکی تھی
اب اس نے اپنی خود داری بھی محبت کی بھینٹ چڑھا نے کا سوچ لیا تھا
اور یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی بننے والی تھی ![]()
کیونکہ انسان کی عزت تب تک ہی ہوتی جب تک اس میں خود داری ہوتی ہے ![]()
![]()
![]()
