Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 31

339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 31

Falsfa-e-Ishq by Mahram Shab

مما پلیز میں شادی نہیں کرنا چاہتی 😏

آپ لوگ کیوں مجھے پریشان کر رہے ہیں 💔

اس نے اکتا ئے ہوئے لہجے میں کہا

اگر تمہیں کوئی اور پسند ہے تو بتا دو ہمیں ہم وہیں تمہاری شادی کر دیتے ہیں

مما نے غور سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

شادی ،شادی یہ نام سن سن کر میں تنگ آگئی ھوں کیا شادی کے بغیر انسان کی کوئی زندگی نہیں ہے ؟

اس کی اپنی ذات کوئی خواب کوئی مقصد نہیں ہے کیا ہم لوگ صرف شادی کرنے دنیا میں آتے ہیں حد ہے مما 🙄

سجیلہ کے لہجے میں نا چاھتے ہو ئے بھی تلخی در آئی تھی

لیکن بیٹا شادی تو آخر ہر انسان کو کرنی ہی ہوتی ہے ہر ماں باپ کا یہ فرض ہوتا ہے اور ہم بھی اپنا فرض ادا کرنا چاھتے ہیں

مما نے اسے سمجھایا

مجھے نہیں کرنی ابھی شادی پلیز مجھے کوئی پسند نہیں ہے اور نہ ہی مجھے کسی میں بھی کوئی انٹرسٹ ہے میں جو کر رہی ھوں فلحا ل مجھے وہی کرنے دیں پلیز

وہ کہہ کر باہر نکل گئی تھی

مما اس کی پشت دیکھتی رہ گئیں 💔

*******************

وہ ان باتوں سے کافی پریشان ہو جاتی تھی

وہ اب مردوں پر بھروسہ نہیں کرتی تھی

اسے اب مرد ذات میں کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی وہ صرف اللّه کی جستجو کرنا چاہتی تھی وہ صرف قرآن سیکھنا چاہتی تھی اور اسی علم و تدریس سے جڑے رہنا چاہتی تھی دین کی خدمت اور اللّه کی خوش نودی چاہتی تھی

اسے دنیا چاہیے ہی نہیں تھی

عرصہ ہوا اس نے دنیا کو سوچنا ،چاہنا اور مانگنا ہی چھوڑ دیا تھا

اسے جو چاہیے تھا وہ بس اسی کی لگن میں تھی ❤

کاش اس کے گھر والے اس کی فیلنگز کو سمجھیں

اس نے آہ بھر کر آسمان کی طرف دیکھا

کیا ضرورت تھی ہمیں اس سب دنیا داری میں الجھانے کی صرف اپنے ہی در کا غلام رکھا ہوتا ہمیں 💔

وہ اللّه سے شکوہ کناں تھی

جس کو جو چاہیے ہوتا ہے وہ اسے مکمل کبھی نہیں ملتا اور یہی زندگی ہے ✌

وہ اداسی سے اپنے کمرے کی کھڑ کی میں کھڑی باہر لان میں پودوں کو پانی دیتی اپنی کم سن ملازمہ کو دیکھ کر سو چ رہی تھی

نا جانے وہ اور کتنی دیر کھڑی سوچتی رہتی کہ اس کا موبائل بجنے لگا

اس نے نینا کالنگ دیکھ کر موبائل کان سے لگایا

“ہیلو “

دوسری طرف سے جو اسے بتایا گیا وہ اس کے ہوش اڑا نے کے لئے کافی تھا دوسری طرف

عینا تھی جس نے اسے فوراً آنے کو کہا تھا

نینا کو ڈریشن کا دورہ پڑا تھا اور اس نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا

اس کے کمرے سے توڑ پھوڑ کی آوازیں آ رہی تھیں وہ کسی صورت دروازہ نہیں کھول رہی تھی 💔

ان کو فکر تھی کہ کہیں وہ خود کو نقصان نا پہنچا لے آخر کوئی چارہ نا دیکھ کر مما کے کہنے پے عینا نے سجیلہ کو بلا یا تھا کہ شاید وہ کسی طرح دروازہ کھلوانے میں کامیاب ہو جائے

اس نے پردہ چھوڑ دیا ٹیبل سے چابی اٹھا ئی چادر اوڑھی اور باہر کی طرف لپکی

اس کے پاس رکنے کا وقت نہیں تھا

نینا کی دماغی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی

ایک سال گزر چکا تھا پر سب ٹھیک ہونے کی بجا ئے الٹا بگڑتا جا رہا تھا

نینا کو اب اکثر دورے پڑتے وہ چیزیں توڑتی کبھی خود کو نوچتی کبھی گھر والوں پر چلا تی کبھی کبھی کئی کئی دنوں تک خاموش رہتی ملک توقیر اس کا مسلسل علاج کروا رہے تھے لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا تھا💔

15 منٹ بعد وہ اس کے روم کے دروازے کے سامنے کھڑی تھی

آنٹی اسے دیکھتے ہی اس کی طرف لپکی تھیں

بیٹا دیکھو نا نینا دروازہ نہیں کھول رہی 😥

وہ آبدیدہ ہو ئیں

آپ فکر نا کریں آنٹی میں کھلوا تی ھوں

وہ انکو تسلی دے کر آگے بڑھی

عینا اور زوہا بھی اس کے قریب آگئی تھیں

گھر میں صرف خواتین ہی تھیں

اس نے دروازہ بجایا

نینا …..

دروازہ کھولو نینا میں ھوں سجیلہ ❤

سجیلہ نے اسے آواز دی

لیکن اندر سے کوئی جواب نا پا کر اس نے سب کے چہروں کی طرف دیکھا

اب ٹوٹ پھوٹ کی آوازیں آنا بھی بند ہو چکی تھیں

اس نے پھر سے آواز دی

نینو دیکھو میں تیار ہو کر آئی ھوں ہم بازار چلیں گے پلیز میرے ساتھ چلو ❤

اب کی بار بھی کوئی جواب نا آیا

لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری

وہ اس کی مختلف چیزوں کا لالچ دے کر اسے دروازہ کھولنے کا کہہ رہی تھی لیکن وہ کوئی جواب نہیں دے رہی تھی مما اب رونے لگی تھیں

اچانک سجیلہ کے ذہن میں ایک خیال آیا

نینا دروازہ کھولو میں تمہیں اللّه سے ملوانے لے کر جاؤں گی میرے ساتھ چلو ہم دونوں جائیں گے ❤

2 منٹ بعد ہی دروازہ کھل گیا

سب سے پہلے سجیلہ نے اندر قدم رکھا

کمرے کی حالت دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم گئے اس کے پیچھے باقی سب بھی کمرے میں داخل ہو ئے

کمرے کی ہر چیز بکھری ہوئی تھی

کانچ کی ہر چیز ٹوٹ کر زمیں پر بکھری تھی

بیڈ کے چادر اور تکیے بیڈ کی بجا ئے زمیں پر نظر آ رہے تھے💔

ڈریسنگ کا شیشہ ٹوٹ کر جا بجا اپنے نقش چھوڑ رہا تھا

کہیں کہیں خون کے دھبے اور قطرے بھی نظر آ رہے تھے

نینا الماری کے ساتھ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹےگھٹنوں میں سر دیے نیچے بیٹھی تھی اس کے خوبصورت بال بے رونق انداز میں بکھرے ہو ئے تھے

سجیلہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی

نینا اس نے نینا کے قریب بیٹھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہو ئے اسے پکارا

اس نے سر اٹھا کر سجیلہ کو دیکھا

اس کی نظروں میں کچھ ایسی وحشت تھی کہ سجیلہ کا دل کٹ کر رہ گیا

وہ ناراض ہے مجھ سے 😥💔

نینا نے سر گوشی کرنے والے انداز میں ہولے سے کہا

وہ مان جا ئے گا تم فکر مت کرو اٹھو منہ ہاتھ دھو لو ❤

سجیلہ نے اس کا ہاتھ تھاما

اس کا ہاتھ خون آلود ہو رہا تھا

اس کے ہاتھ زخمی تھے

یہ سب چیزیں ہٹاؤ یہاں سے مجھے وحشت ہوتی ہے ان سب سے

اس نے ہاتھ چھڑا کر آنکھوں پر رکھا اور

وحشت زدہ انداز میں کہا

مجھے نفرت ہے دنیا کی ساری چیزوں سے مجھے نفرت ہے اپنے آپ سے مجھے نفرت ہے ہر اس چیز سے جو اللّه اور میرے بیچ آگئی

وہ ہزیا نی انداز میں چلانے لگی

سب نکل جا ئیں گے بیچ سے فکر مت کرو

سب ٹھیک ہو جا ئے گا میری بات سنو نینا

سجیلہ نے اسے بے اختیار باہوں میں جکڑ کر قابو کیا

سب ٹھیک ہو جا ئے گا میری بات پہ یقین کرو ❤سجیلہ نے مچلتی ہوئی نینا کے سر کو تھپکا

آہستہ آہستہ وہ اسے سمجھاتی رہی اور دھیرے دھیرے وہ پر سکون ہوتی گئی

اسے پکڑ کر بیڈ پر بٹھا تے سجیلہ کو احساس ہوا اس کا ایک پاؤں بھی زخمی تھا

عینا اور سجیلہ نے اس کے ہاتھ پاؤں صاف کیے زخم گہرے نہیں تھے ان لوگوں نے خود ہی بینڈیج کر لی نینا گم سم سی خاموش بیٹھی رہی

مما نے روتے ہو ئے اس کے پاس جانے کی کوشش کی پر سجیلہ نے انہیں منع کر دیا

اس سے نینا پھر سے وحشت زدہ ہو کر کوئی حرکت کر سکتی تھی 💔

سجیلہ نے محبت سے اس کے بال سمیٹے اسے دوا دی اور نیند کی ایک گولی دے کر پانی پلایا کافی دیر بعد وہ کچھ پر سکون ہو گئی

تھوڑی دیر سو جاؤ تم میں آتی ھوں ابھی ❤

وہ خاموش اور گم سم بیٹھی نینا کو لٹا کر آنٹی کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتی باہر نکلی

جبکہ عینا ابھی تک نینا کا ہاتھ تھا مے اس کے پاس بیٹھی تھی جبکہ زوہا کمرے میں سب چیزیں سمیٹ رہی تھی 💔

آنٹی آپ پریشان مت ہوں وہ ٹھیک ہے

سجیلہ نے آنٹی کو تسلی دی

ہم بہت پریشان ہیں سجیلہ کیا کریں اب اکثر اسکو دورے پڑنے لگے ہیں آج تو اس نے حد ہی کر دی اگر وہ خود کو کوئی نقصان پہنچا لیتی تو 💔

ڈاکٹر نے کہا ہے

نینا کو ہسپتال میں ایڈ مٹ کروا دیں

آنٹی نے آنسو صاف کرتے ہو ئے اسے بتایا

نہیں آنٹی وہ پاگل نہیں ہے آپ لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہیں وہ ٹھیک ہو جا ئے گی 😥

سجیلہ نے جلدی سے کہا

لیکن اسے علاج کی ضرورت ہے بیٹا

آنٹی نے اسے سمجھایا

ہاں تو علاج چل رہا ہے نا اس کا وہ ٹھیک ہو جائے گی آنٹی نینا جسمانی طور پر بیمار نہیں اسکی روح بیمار ہے 💔

سجیلہ نے پر سوچ انداز میں کہا

اور ہم کیا کریں بیٹا بہت پریشان ہیں انسان کی۔ ساری دنیا اس کی اولاد ہوتی ہے اسے تکلیف میں دیکھنا دنیا کا سب سے سے بڑا دکھ ہے 💔😥

توقیر بہت پریشان ہیں اور اندر ہی اندر غم میں گھلتے جا رہے ہیں

پہلے ایک بیٹی کی طلاق نے ان کو توڑ دیا اور اب دوسری بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر وہ اپنے دل کو کیسے سنبھا لے ہو ئے ہیں وہ ہی جانتے ہیں 💔

ہم بھی نہیں چاھتے کہ اپنی بچی کو اپنی آنکھوں سے دور کریں لیکن اس کی حالت 😥💔

آنٹی خاموشی سے نینا کے روم کی طرف دیکھنے لگیں ان کی آنکھوں سے اب بھی آنسو بہہ رہے تھے

وہ ٹھیک ہو جا ئے گی آنٹی یقین رکھیں ❤

وہ آنٹی کے کندھے پر ہاتھ رکھے تسلی دے کر اندر کی طرف بڑھ گئی

اور انسان سے جڑے دکھ صرف اسے ہی تکلیف نہیں دیتے بلکہ اس سے جڑے بہت سارے لوگوں کو بھی اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں 😥💔

*********************

اس نے آخری بار اپنے پروجیکٹ پر نظر ڈالی

کافی کا آخری گھونٹ حلق سے اتارا

کلا ئی پر بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھا

جو رات کے 12 بجا رہی تھی

اس نے زور سے انگڑ ائی لی ❤

لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے اچانک کسی ہوا کے جھو نکے کی طرح ایک خیال اس کے دل و دماغ سے ٹکرا یا

اس نے یونہی غیر ار ا دی طور پر فیس بک پر کلک کر دیا

ایک الگ ہی دنیا اس کے سامنے تھی اب

اس نے گروپ پہ نظر ڈالی

پھر پیج پر

ہر چیز سنسان پڑی تھی

نینا کی آئ ڈی کو دیکھا اس نے وہ نا جانے کب سے آن نہیں آئی تھی

اس نے چپ چاپ لیپ ٹاپ بند کر دیا

آج زین کا فون آیا تو باتوں باتوں میں نینا کا ذکر چلنے پہ اسے نینا کا خیال آیا ❤

یہاں آ کر اسے واقع احساس ہوا کہ اس نے غلط کیا نینا کو بتا یا نہیں

لیکن کوئی بات نہیں میں اسے سوری بول دوں گا اور وہ ہمیشہ کی طرح مان جا ئے گی

اس نے لا پرواہی سے سوچا

اگلے دن اس نے نینا کو کال کی لیکن اس کا نمبر بند آ رہا تھا

اس نے واٹس اپ پر دیکھا وہ آن نہیں تھی

فیس بک پر بھی نظر ڈالی پر وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی اسے

شاہ کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کی ناراضگی اتنی شدید ہوگی

جب کئی بار کوشش کرنے پر بھی نینا سے رابطہ نا ہوا تو شاہ نے سوچا

شاید وہ بات نہیں کرنا چا ہتی مجھ سے

چلو ٹھیک ہے وہ بات نہیں کرنا چاہتی تو اس کی مرضی 😏

ویسے بھی وہ اس کی دیوانگی سے اکتا یا ہوا تھا

اس نے زین سے پوچھا تو زین نے کہا میں نے بتا دیا تھا اسے

زین نے یہ بات شاہ سے دانستہ چھپا ئی کہ نینا کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے

وہ شاہ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا

شاہ کے لئے یہ کورس بہت اہم تھا

اور زین اسے اپ سیٹ نہیں کرنا چاہتا تھا

اس لئے وہ اس بات کو گول کر گیا 💔

اور شاہ نے 2/ 4 بار کوشش کرنے کے بعد آخر نینا سے رابطہ کرنے کی کوشش ترک کر دی

اور پھر آہستہ آہستہ پڑھا ئی میں وہ اتنا گم ہو گیا کہ اس کے دماغ سے نینا کا خیال نکل گیا

لیکن آج اسے اچانک ہی اس کی یاد آئی تھی

اس نے پھر کوشش کی لیکن وہ کہیں بھی آنلائن نہیں تھی 💔

شاہ نے سر جھٹک کر لیپ ٹاپ بند کر کے رکھا

اور سونے کو لیٹ گیا

ٹھیک ہے وہ نہیں بات کرنا چاہتی تو اس کی مرضی 😏🙄

وہ سوچتے سوچتے نیند کی وادی میں اتر گیا ❤

*******************

وہ گہری نیند میں تھی جب کسی نے اسے جھنجھوڑا

نینا

نینا اٹھو کوئی آواز بہت دور سے آتی محسوس ہو رہی تھی

اس کے ادھ سو ئے دماغ نے اس آواز کو گرفت میں لینے کی کوشش کی

وہ آواز پہچان چکی تھی

وہ سجیلہ کی آواز تھی

نینا نے جھٹ سے آنکھیں کھول دی

شکر ہے میڈم کی آنکھ کھلی 😏

اٹھ جاؤ اب جلدی سے تیار ہو جاؤ تم میرے ساتھ چل رہی ہو

سجیلہ نے اسے آنکھیں بند کرتا دیکھ کر جلدی سے بازو سے پکڑ کر ہلایا

کہاں ؟🤔

نینا نے سوئی سوئی آواز میں کہا

آج ہمارے مدرسے میں ایک اجتماع ہے

ایک بہت بڑے

مزہبی سکا لر آ رہے ہیں

سجیلہ بڑ ے پر شوق انداز میں بتا رہی تھی جسے وہ بے توجہی سے سن رہی تھی

اس نے بیزاری سے آنکھوں پر بازو رکھا

مولانا طارق جمیل ہیں نا وہ آ رہے ہیں ❤

سجیلہ نے کہتے ہو ئے اٹھ کر اس کی الماری کھولی اور اس کے لئے ڈریس نکا لنے لگی

مولانا طارق جمیل کے نام پر نینا چونکی تھی

اس نے بہت نام سنا تھا ان کا اور ایک دو بار ان کا بیان بھی سنا تھا

اس نے آنکھوں سے بازو ہٹایا

مولانا صاحب آ رہے ہیں ؟

ہاں جی وہی آ رہے ہیں ❤

سجیلہ نے الماری میں سر گھسا ئے گھسا ئے جواب دیا

نینا اٹھ بیٹھی

اس وقت وہ بالکل نارمل نظر آ رہی تھی ❤

کبھی کبھی وہ بالکل نارمل ہو جاتی اور کبھی کبھی اسے نا جانے کیا ہو جاتا

سجیلہ نے ایک سادہ سا سوٹ نکال کر اسے تھما یا

جلدی تیار ہو جاؤ ہمیں نکلنا ہے 😊

وہ بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی

اسے نینا کی روحانی بیماری کا علاج ڈھونڈنا تھا

اس نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا تھا ❤

اسے نینا سے بہت محبت تھی اور وہ اسے پاگل ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی 💔

اس کے لئے یہ دنیا کی سب سے بڑی اذیت تھی

لوگ جب زندگی سے ہار جاتے ہیں تو صرف اپنی تھکن میں گم ہو جاتے ہیں اپنے سے جڑے لوگوں کی حالت سے بے خبر یہ جانے بغیر کہ ان کی حالت سے ان سے جڑے لوگ کتنی تکلیف میں ہیں 💔

***********************

مدرسہ جامع العلوم میں اس وقت

بہت بڑا مجمع جمع تھا

وہ دونوں بھی ایک سائیڈ پر کرسیوں پر بیٹھ چکی تھیں ❤

نینا خاموشی سے ہر چیز کو دیکھ رہی تھی

کچھ دیر بعد مولانا صاحب تشریف لے آئے

سپیکر میں سے کچھ آوازیں بلند ہوئیں

تلاوت قرآن سے شروع ہو کر اللّه کی حمد و ثنا کے بعد مولانا صاحب نے بیان شروع کیا

وہ غائب دماغی سے سب سنتی رہی

بیان کا کچھ حصہ پڑھا جا چکا تھا

اچانک ایک فقرے پر اس کا دماغ پوری طرح سے بیدار ہو گیا

اس نے غور سے مولا نا صاحب کے لفظوں کو فوکس کیا

وہ کہہ رہے تھے

” زمین و آسمان کا مالک کون ؟

اللّه ❤

زمین و آسمان میں کس کی بادشاہی ہے ؟

میرے اللّه کی ❤

اول و آخر کون ؟

میرا اللّه ❤

حاضر ناظر کون ؟

میرا اللّه ❤

شہرگ سے قریب کون ؟

میرا اللّه ❤

رحمت کا نشاں کون ؟

میرا اللّه ❤

محبت کی انتہا کون ؟

میرا اللّه ❤

میرا اللّه ❤

جنگل پہاڑ کہتے ہیں

اللّه اللّه ❤

سمندر ندیاں کہتی ہیں

اللّه اللّه ❤

اڑتے پرندے کہتے ہیں

اللّه اللّه ❤

اونچے پربت ،پھٹتے آتش فشاں

لہلہاتی فصلیں ،بہتے جھرنے

سب میرے اللّه کی بڑائی بیان کرتے ہیں ❤

کوئل کی کوک میں اللّه ❤

ہوا کی روا نی میں اللّه ❤

مٹی کی خوشبو میں اللہ ❤

ساون کی رم جھم میں اللّه ❤

کائنات کے زرے زرے میں اللّه ❤

نینا کے دل پر عجیب سی ہیبت طاری ہو نے لگی

کائنات کا ذرا ذرا میرے اللّه کی عظمت بیان کرتا ہے

جس چیز کو دیکھو گے میرے اللّه کا جلوہ نظر آ ئے گا ❤

اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو چکی تھی

اس کا قہر بھی غضب کا

اس کی رحمت بھی لا محدود

نینا کا دل کانپا

زندہ سے مردہ

اور مردہ سے زندہ کو پیدا کرنے والا اللّه ❤

ظاہر اور با طن کو جاننے والا اللّه ❤

پکڑ کرنے والا ،بخشنے والا

بدلہ لینے والا

اجر دینے والا

میرا اللّه ❤

ہر طرف خاموشی چھا چکی تھی

سارے منظر نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے

ہر طرف روشنی کی ایک چادر تن چکی تھی

سارے لوگ غائب ہو چکے تھے

بس مولانا صاحب کی آواز اس کی سما عت سے ہی نہیں دل سے ٹکرا رہ تھی

وہ بولتے جا رہے تھے

سارے سمندر سیاہی بن جائیں

ساری دنیا کے درخت قلم بن جا ئیں

ساری دنیا کے انسان لکھتے لکھتے تھک جا ئیں

پھر بھی میرے اللّه کی عظمت کو بیان کرنے سے قا صر رہیں ❤

پھر بھی میرے اللّه کی عظمت بیان نا کر پائیں ❤

اتنا عظیم ہے میرا اللّه

یہ ہے میرا اللّه

میرا اللّه آپ کا اللّه ❤

ہمارا اللّه ❤

ہم سب کا اللّه ❤

ایک آواز ہر چیز پر چھا چکی تھی

اللّه ❤

اللّه ❤

اللّه ❤

اللّه ❤

میرا اللّه ❤

نینا کے کپکپاتے ہونٹوں نے بے آواز ایک نام پکارا ❤

“اللّه “

میرا اللّه ❤

اسے لگا اس کے دل سے کوئی برف پگھلنے لگی ہے ❤

جب سب کچھ اللّه کا ہے تو پھر اللّه کے ہو جاؤ اس کے حکم پے چلو

اپنے گناہوں سے توبہ کر لو

کرتے ہو توبہ سب ؟

مولانا صاحب نے پوچھا

وہ آنکھیں بند کیے اس آواز پے دھیان لگا ئے بیٹھی تھی

تو میرے ساتھ پڑھو ❤

اَسْتَغْفِرُ اللّه‎‎

اَسْتَغْفِرُ اللّه‎‎

اَسْتَغْفِرُ اللّه‎‎

اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِىْ مِنْ کُلِ ذَنْۢبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ❤

میں اللہ سے اپنے تمام گناہوں کی بخشش مانگتی/مانگتا ہوں جو میرا رب ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتی/کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی زبان یہ الفاظ ادا نا کر پائی لیکن اس کا دل ضرور اس کو دہرا رہا تھا

اچانک سجیلہ نے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ چونک کر اس ماحول میں واپس آئی

اب سب آوازیں اسے سنائی دے رہی تھیں

لوگ با آواز بلند رو رہے تھے

کچھ لوگ خاموش آنسو بہا رہے تھے

اور ان میں وہ خود بھی شامل تھی

پر اس بات کا اسے احساس تک نہیں تھا

تم رو رہی ہو ؟

سجیلہ نے اسے احساس دلایا

بے اختیار ہی اس کا ہاتھ آنکھوں پر گیا تھا

اس نے حیرت سے انگلی کی پور پر ٹکے آنسو کو دیکھا

اسے جانے کتنا عرصہ ہوا تھا اللّه کے سامنے رو ئے ہو ئے اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے وہ چاہ کر بھی نا رو پاتی تھی

نا اللّه کو پکار پاتی تھی

اس کا دل جیسے پتھر ہو گیا تھا

آج میں نے اللّه کا نام لیا ❤

میری آنکھ سے آنسو گرا

میرے دل پہ جمی برف پگھلی

اس نے سجیلہ سے کہا

اس کی آواز کانپ رہی تھی

ہاں نینا تم رو رہی ہو دیکھو ❤

سجیلہ نے خوشی سے اس کے آنسو صاف کیے

اس کی اپنی آنکھیں بھی بھیگی ہوئی تھیں

تو کیا میری سزا ختم ہو گئی ؟

نینا نے دل میں سوچا

لیکن سزا ئیں کہاں جلدی ختم ہوتی ہیں

بڑے گناہوں کے واقع بڑے کفا رے ہوا کرتے ہیں ✌💔

***********************

وہ جب سے واپس آئی تھی خاموش اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی

آج اسے عرصے بعد سکون محسوس ہو رہا تھا

آج اسے امید کی ایک کرن نظر آئی تھی

وہ جو امید چھوڑ رہی تھی اور ڈپریشن کا شکار ہوتی جا رہی تھی آج اسے ایک نئی ہمت ملی تھی ❤

آج اس نے عرصے بعد اپنے بارے میں سوچا

وہ کہاں تھی اور کہاں آگئی تھی

اس نے غلطی کہاں کی تھی ؟

وہ خود سے سوال کر رہی تھی

لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا

اس کا سر دکھنے لگا

وہ بیڈ پر لیٹ گئی آنکھیں بند کر کے دن والے بیان کے الفاظ یاد کرنے لگی

لیکن اس کا دماغ پھر سے خالی ہو چکا تھا

سارے لفظ مٹ چکے تھے 💔

اس کا دم گھٹنے لگا

وہ جیسے کسی بند گلی میں کھڑی تھی پھر سے

اس کے اندر دھواں بھرنے لگا

اس کا جی چاہا وہ چیخ چیخ کر رو ئے

اس نے بے بسی سے آنکھیں زور سے بند کی

کافی دیر بعد اسے لگا اس کا دماغ تاریکی میں ڈوبتا جا رہا ہے

اور پھر وہ ہر سوچ سے آزاد ہو گئی 💔

انسان کو پاگل کرنے کی سب سے بڑی وجہ نا امیدی ہوتی ہے انسان کو امید تھما دی جا ئے تو خود سے لڑنے کے لئے راضی ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ میں بھی امید کا سرا آ چکا تھا ❤✌

********************

سحر کی شادی کی بات چل رہی تھی

وہ نینا سے ملنے آئی تو اسے گلے لگا کر رونے لگی ❤

جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ نا نینا تمہارے بغیر تو۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگتا 💔

کتنی مستی کرتے تھے ہم لوگ ❤

وہ گزرے دنوں کا ذکر کرتی رہی اور نینا مسکراتی رہی

میں ٹھیک ھوں سحر 😊

فکر مت کرو تمہاری شادی میں۔ ضرور آؤں گی ❤

اس نے سحر کو تسلی دی

وہ اسے کئی پرانی چیزیں یاد دلا گئی تھی

جن میں ایک یاد شاہ بھی تھا

پر نہیں وہ اسے بھولی ہی کب تھی جو یاد دلاتا کوئی 🙂

وہ تو اس کی ہر سانس میں بستا تھا بس اتنا تھا کہ اب وہ اس کا نام نہیں لیتی تھی

اس کا ذکر نہیں کرتی تھی

روتی نہیں تھی

بے تاب ہو کر اس کے پیچھے نہیں بھاگتی تھی

اس کے تر لے نہیں کرتی تھی

اس کے لئے ہر حد سے گزرنے کا نہیں سوچتی تھی

اب وہ اسے دعاؤں میں نہیں مانگتی تھی 💔

پر وہ آج بھی اس کے دل پر قابض تھا

وہ اب بھی اس کی واپسی کی راہ تکتی تھی

اس کی خاموش التجا ئیں اب بھی اسی کو مانگتی تھیں ❤

وہ دنیا کا واحد شخص تھا جسے وہ اپنا خون بھی معاف کر سکتی تھی

لیکن اسے معاف کر بھی نہیں کر پا رہی تھی 💔

وہ اس کی زندگی تھا پر اس کی زندگی میں نہیں تھا

اس سے جڑی ہر چیز ہر یاد اس نے سنبھال کر رکھی تھی

پر اب وہ اس کی پروفائل اوپن کر کے دیکھتی نہیں تھی

اس کی ساری تصویریں موبائل میں محفوظ رکھیں تھیں پر وہ کبھی دیکھتی نہیں تھی

اس کے سینڈ کیے ہو ئے محبت بھرے گانے جوں کے توں پڑے تھے

پر وہ سنتی نہیں تھی

ہاں کبھی کسی اور جگہ چلتا ہوا کوئی سونگ اس کے کان میں پڑ جاتا تو اسے پہروں اذیت میں دھکیل دیتا

وہ اب فیس بک ،واٹس اپ پر جانے سے گھبراتی اسے عجیب سا خوف محسوس ہوتا

اس درد سے اس تکلیف سے اس اذیت سے جو پرانی کسی بھی یاد کے تازہ ہونے پر اسے محسوس ہوتا 💔

اس نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا

موبائل بھی بہت کم اٹھاتی وہ اس کا لیپ ٹاپ عرصہ ہوا بند پڑا تھا

وہ جب نارمل ہوتی تب بھی کسی چیز کے قریب نا جاتی اگر وہ ایسا کرتی تو وہ پھر سے ڈپریشن کا شکار ہو جاتی 💔

اسے اپنی اس حالت سے خود ہی ڈر لگتا

اس کا دل چاہتا وہ دیواروں میں سر پھوڑے 💔

وہ چیخ چیخ کر رو ئے

اپنا آپ نوچ ڈالے

اپنا دل نکال کر چیل کوؤں کو کھلا دے

جب وہ نماز نا پڑھ پاتی اللّه کے سامنے نا حاضر ہو پاتی تو اسے خود سے شدید نفرت محسوس ہوتی

اس کا دل چاہتا وہ خود کو کاٹ ڈالے

اس وقت اسے ایسی تکلیف محسوس ہوتی جیسے کوئی اندر ہی اندر اس کے دل کو آہستہ آہستہ کاٹ رہا ہے

کچوکے لگا رہا ہے 💔

اسے اپنی ہر رگ میں ایک حشر برپا ہوتا محسوس ہوتا

اپنے روم روم میں کانٹوں کی چبھن محسوس ہوتی

اسے کرب کا یہ احساس کہیں بھی چین نا لینے دیتا

ایسی حالت میں آ کر وہ چلانے لگتی چیزیں توڑتی سب کو لگتا اس پر ڈپریشن کا دورہ پڑا ہے پر یہ صرف وہی جانتی تھی

کہ وہ اپنے اندر کی اذیت سے چھٹکا رہ چاہتی تھی 💔

وہ خود سے تنگ آجاتی تو خود سے دور بھاگنے کی کوشش کرتی 💔

لیکن انسان اپنے گناہوں سے جتنا بھی بھاگ لے آخر اسے ہر چیز کا حساب دینا ہی پڑتا ہے 💔✌