Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 20
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 20
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
اس نے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا
خفا خفا دھلا دھلایا چہرہ
آنکھیں ہلکی سی گلابی
کھلے بال سمیٹ کر اب اب باندھ چکی تھی وہ ڈریس چینج کر کے آئینے کے سامنے کھڑی نینا
اس نے نظر ہٹا لی
ایک نظر موبائل کو دیکھا اور پھر آف کر کے صوفے پہ پھینک دیا
اور خود بیڈ پر اوندھی گر پڑی
صبح سے شام ہو گئی تھی لیکن شاہ کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں تھا
صبح بس ایک عید مبارک کا میسج کرنے کے بعد وہ نا جانے کہاں غائب ہو گیا تھا
وہ سارا دن انتظار کرتی رہی پر نا وہ خود آیا نا اس کا میسج
نینا نے۔ میسج بھی کیے اسے پر کوئی جواب بھی نا آیا
وہ یہی سب سوچتے سوچتے نا جانے کب سو گئی
صبح نماز کے ٹائم اسے جگانے کے لئے شاہ کا میسج آیا تھا
وہ نروٹھے پن سے جواب دے کر اٹھ گئی
سارا دنپھر سے وہ غائب ہو گیا
نینا کا کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا
بھیا ان سب کو باہر لے کر گئے تھے گھمانے سب بیحد خوش تھے سوائے اس کے اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا
وہ بار بار موبائل کو دیکھتی
اس کا دل اداس تھا
اور روح بے چین
اور اسے غصہ بھی آ رہا تھا
رات کو وہ لوگ خاصہ لیٹ گھر آئے اور وہ سونے لیٹ گئی
وہ نیند آنے کی دعا ہی کر رہی تھی جب شاہ کا میسج آیا
اس نے موبائل نہیں اٹھا یا
اور سو گئی
صبح پھر اسے شاہ نے ہی جگا یا
وہ نماز پڑھ کر آئ تو شاہ کے میسج آئے ہوئے تھے
ناراض ہو ؟
نینا کا دل چاہا موبائل اس کے سر پر دے ما رے
پر اس نے بس اتنا ہی کہا
تو کیا نہیں ہونا چاہیے ؟
سوری یار تھوڑا بزی تھا
شاہ نے عزر پیش کیا
ھمم ٹھیک ہے
نینا نے بات ختم کر دی
لیکن اس کا موڈ ابھی بھی سخت آف تھا
*********************
آج کتنے ہی دن بعد وہ فیس بک پر آن آئ تھی
اس نے کچھ لوگوں کی شکایات نوٹ کی
کچھ لوگوں سے سر سری بات چیت کی
پھر یونہی اسے گروپ میں شاہ کی پوسٹ نظر آگئی
یہ وہی گروپ تھا جہاں نینا نے شاہ کو۔ ایڈ کیا تھا
اس نے دیکھا شاہ کی۔ کافی پوسٹس تھی
اس کے۔ دل کو تسلی ہوئی وہ اچھا کام کر رہا تھا
شاہ کے گروپ کو۔ دیکھا اس نے اور پھر آف ہو گئی
اسے توصیف سے ملنا تھا
سحر کیس کی کچھ تفصیلات جاننا تھا
وہ تینو ں اس وقت کافی شاپ میں بیٹھے تھے
یہ اس انسان کا نمبر ہے اور پتا بھی ہے ساتھ جس کے نام پر وہ گاڑی رجسٹرڈ ہے
توصیف اس کے سامنے کچھ کاغذ رکھ رہا تھا
اس نے اٹھا کر دیکھا
اگر کہو تو اسے ہم اٹھا لیتے ہیں
توصیف نے کافی کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا
نہیں توصیف
اس نے سوچتی نظر وں سے ہر چیز کا جائزہ لیا
پر کیوں نینا ہمیں اسے موقع دیے بنا اٹھا لینا چاہیے
سجیلہ نے کافی پیتے ہوئے سر اٹھا کر اسے دیکھا
ٹھیک کہہ رہی ہو پر ہمیں اس پر اس طرح سے ہاتھ ڈالنا ہوگا کہ وہ بچ کر نکل نا پائے
نینا نے وضاحت کی
ہمیں جلد ہی مل کر کوئی پلان بنا نا ہوگا
سجیلہ نے رائے دی
ہاں بالکل سب کو بلا لیتے ہیں
کل ہی سب فائنل کر لیتے ہیں
تھینک یو توصیف ![]()
![]()
نینا نے سب سمیٹ کر توصیف کی طرف دیکھا
یہ تو میرا فرض ہے نینا جی
توصیف مسکرا دیا
تو پھر کل ملتے ہیں وہ لوگ اب اٹھ رہے تھے وہاں سے ان کو بہت کچھ کرنا تھا ابھی ![]()
****************
وہ ایک ضروری کام نمٹا کر فری ہوئی تھی
جب اس کی نظر شاہ کی پوسٹ پر پڑی
یہ اسی گروپ میں تھی جہاں نینا نے شاہ کو ایڈ کیا تھا
نینا بھی وہاں چلی گئی
شاہ اور کسی لڑکی میں بحث ہو رہی تھی
وہ چپ چاپ دیکھتی رہی
لیکن پھر اسے مداخلت کرنی پڑی
وہ لڑکی اب شاہ سے بدتمیزی کرنے لگی تھی اور اسے برا بھلا کہہ رہی تھی
نینا نے پہلے تو اسے بہت پیار سے سمجھایا لیکن جب وہ توہین آ میز باتیں کرنی لگی تو نینا کا بھی دماغ گھوم گیا
اس کے اندر کی ہٹلر دیدی باہر آگئی
تو نینا نے بھی اس کو کھری کھری سنا دی
جبکہ شاہ اسے روکتا رہا
غصے سے نینا نے شاہ سے کہا ابھی کے ابھی گروپ لیو کرو
شاہ نے اسے سمجھا نے کی کوشش کی پر وہ کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھی
تم گروپ لیو کر رہے ہو یا نہیں ؟
نینا نے آخری بار پوچھا
لیکن بات تو سنو
شاہ نے کچھ کہنا چاہا
تم ابھی کے ابھی گروپ چھوڑو گے شاہ میں اور کچھ نہیں جانتی
نینا بھی ضد میں آگئی تھی
وہ سب کچھ برداشت کر سکتی تھی لیکن شاہ کی انسلٹ نہیں
مجبوراً شاہ کو گروپ چھوڑنا پڑا
آج کے بعد تم۔ مجھے وہاں نظر نا آؤ بس
نینا نے 2 ٹوک انداز میں کہا
وہ اب پر سکوں تھی
پر کوئی بھی سکون ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتا ہماری زندگی میں ![]()
******************”**
وہ سب اس وقت جمع تھے
سب باری باری اپنا اپنا پلان بتا رہے تھے
وہ ہر بات پر غور کر رہے تھے
سب کی باتیں سن کر نینا نے کہا
ہم ایسا کریں گے کہ توصیف کے ساتھ مل کر اس آدمی کو اٹھا کے لا ئیں گے
لیکن اسے پولیس ا سٹیشن کی بجائے کسی اور جگہ پر رکھیں گے
پر وہ کوئی اور جگہ کونسی جگہ ہوگی ؟
اسفند نے نکتہ اٹھا یا
میرے پاس ہے جگہ بے فکر رہو
توصیف نے اس کی طرف دیکھ کر تسلی دی
لیکن ہم اس کا کریں گے کیا ؟
یہ سجیلہ تھی جو کب سے خاموش بیٹھی تھی آخر بول پڑی
وہ ہم اسے لانے کے بعد سوچیں گے
سیفی نے کہا
بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے
اس سے مل ہی ہم فیصلہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے
شاہ نے بھی زبان کھولی
تو ٹھیک ہے پھر
اسے توصیف اریسٹ کرے گا
اور میں بھی ساتھ جاؤں گی
سیفی تم توصیف کے ساتھ جا کر وہ جگہ دیکھ لینا اور ضروری انتظام کر لینا
اور سجیلہ تم میرا سگنل ملتے ہی سحر کو لے کر وہاں آجانا
پر میں وہاں آ کر کیا کروں گی
سحر بد کی
یہ وہیں بتاؤں گی میں جانو ![]()
![]()
نینا نے اسکا گال تھپکا
اسفند تم بھی سیفی کے ساتھ چلے جانا
میرے خیال سے تمہارا آنا ٹھیک نہیں ہے نینا شاہ اور میں چلے جائیں گے
تم یہیں اس سے حساب کتاب کر لینا
توصیف نے اسے روکا
نینا نے شاہ کی طرف دیکھا
اس نے بھی یہی اشارہ کیا
ٹھیک ہے تم۔ دونوں چلے جانا لیکن کوئی گڑ بڑ نہیں ہونی چاہیے
اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی
سب پلان کے مطا بق ہوگا فکر نا کرو
شاہ نے اسے تسلی دی
اور سب نے یک زبان ہو کر کہا
انشاءللہ ![]()
![]()
*****************”””
سنو ……!
جان شاہ ![]()
میرے ساتھ چلو گی ؟
وہ جو اپنے لئے کافی کا مگ ہاتھ میں تھامے کینٹین کے خاموش سے گوشے میں آ کر بیٹھی تھی
شاہ اس کے سامنے آن کھڑا ہوا
کہاں ؟
وہ پوچھے بنا نا رہ سکی ![]()
جہاں میں لے کر جاؤں
“شاہ نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا ۔
ہاں ![]()
جان شاہ نے اپنا ہاتھ شاہ کے ہاتھ میں دیا ۔
لیکن جائیں گے کدھر لے کر ؟![]()
اس نے پھر سوال کیا ؟
کسی سے ملوانے شاہ ہلکا سا مسکرایا ![]()
کس نے ![]()
وہ اور الجھی
جس سے میں روز ملنے جاتا ہوں ![]()
وہ اسے دیکھنے لگی
جانتی ہو
کل جب میں اس سے ملنے گیا تو اس نےمجھ سے کیا کہا ؟
وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے دوسرا ہاتھ اس پہ رکھتے ہوئے بولا ۔
کیا ؟
جان شاہ نے تجسس سے پوچھا “
جب میں نے ان سے تمہارے لئے کچھ مانگا تو وہ بولے
“بہت پیار کرتے ہو جان شاہ سے ؟
میں نے کہا جی بہت زیادہ ![]()
وہ بولے تو اسے ساتھ لے کر کیوں نہیں آتے ؟
مجھ سے ملوانے
،اسے بھی ساتھ لے کر آیا کرو نہ ![]()
تو میں نے کہا”
ٹھیک ہے کل سے لے کر آؤں گا![]()
تو تم چلو گی نا میرے ساتھ ؟
ساری بات کہہ کر
وہ اس سے یقین کر رہا تھا پوچھ کر ۔
میں وعدہ کر کے آیا ہوں ‘
اسے چپ دیکھ کر وہ پھر بولا
جان شاہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی
اسکی کانچ جیسی آنکھیں بھیگنے لگی تھی ۔
وہ سمجھ چکی تھی شاہ کیا کہ رہا تھا
وہ ایسا ہی تھا
ہر بات الگ انداز میں کہنے والا![]()
وہ تہجد پڑھنے کا عادی تھا
اور جب آدھی رات کو وہ نیند سے اٹھ کر پوچھتی کہاں جا رہے ہو ؟
تو وہ کہتا
“اپنے اللّه سے ملنے ![]()
اور جب وہ پوچھتی مل آئے ہو اپنے اللّه سے ؟
تو وہ مسکرا دیتا اور کہتا
“ہاں جی مل آیا ہوں ۔
اور آج
وہ اس سے کہہ رہا تھا
کہ وہ اسے بھی اللّه پاک سے ملوانے لے کر جانا چاہتا ہے ![]()
یعنی وہ جان شاہ سے کہہ رہا تھا کہ وہ بھی اس کے ساتھ تہجد پڑھا کرے ۔
جان شاہ نے سر ہاں میں ہلایا “جی چلوں گی
ضرور چلوں گی ![]()
وہ نم آنکھوں کے ساتھ مسکرائی ![]()
اس کی کانچ جیسی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگی تھی ۔
کیونکہ اب وہ بھی ہر رات شاہ کے ساتھ اللّه پاک سے ملنے جانے والی تھی ![]()
کچھ بلاوے اتنے خوبصرت ہوتے ھیں کہ ہم کبھی نہ بول ہی نہیں سکتے ![]()
![]()
*************
زوہا کا گھر میں جھگڑا ہوا تھا
اور اس نے فون کر کے بھیا کو بلایا تھا
وہ جیسے ہی گھر آئی یہ خبر اس کی منتظر تھی
سب لوگ پریشان تھے
ابھی 2 مہینے ہوئے تھے اس کی شادی کو اور ابھی سے جھگڑے ![]()
میں بھی ساتھ جاؤں گی مما
اس نے ا علان کیا
نہیں تم کہیں نہیں جا رہی نینا
مما نے صاف منع کر دیا
پر کیوں
اس نے ضدی انداز میں کہا
تم تو وہاں جا کر اور بات بگاڑ دو گی
تم رہنے دو
وہ بس بھیا کو دیکھ کر رہ گئی
ابھی پاپا کو اس بارے میں کچھ نہیں بتا یا گیا تھا
پہلے زوہا سے مل کر معلوم کرنا تھا کہ بات کیا ہے
وہ کافی ڈسٹرب ہو چکی تھی
اس کی بہن لڑا کا نہیں تھی
وہ تو بہت ٹھنڈے مزاج کی مالک تھی
اس نے تو کبھی گھر میں کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی
یہی سب سوچتے ہوئے وہ اٹھ کر روم میں آئی
اسے باقی ساری باتیں بھول گئی تھیں فلحال
اس نے موبائل اٹھا کر شاہ کو میسج کیا
اذان ہونے لگی تھی
وہ نماز کے لئے اٹھ گئی
اب وہ ساری نمازیں پڑھنے لگی تھی
اور تہجد بھی ![]()
وہ رب کے قریب ہو رہی تھی اور آز مائیشیں تو انہی پہ آتی ہیں جو رب کے قریب ہوتے ہیں ![]()
![]()
********************
آج وہ اپنی دوسری آئ ڈی سے آن تھی
یہ اس کی خاص آئ ڈی تھی جو وہ خاص موقع پہ کھولتی تھی
وہ اپنا کام نمٹا کر فیس بک بند کرنے والی تھی جب اس کی نظر ایک پوسٹ پر پڑی
وہ اسی گروپ میں تھی پوسٹ جس کو شاہ اور وہ دونوں چھوڑ چکے تھے
یہ آئ ڈی بھی وہاں ا یڈ تھی
اس نے پوسٹ پر کومنٹ کیا
وہ جان چکی تھی پوسٹ کس کی ہے وہ شاہ کی پوسٹ تھی لیکن کسی نئی آئ ڈی سے۔
اس کے کومنٹ کرتے ہی شاہ نے اسے بلاک کر دیا
اس نے حیران ہو کر موبائل کو دیکھا
شاہ جانتا تھا یہ میں ہی ہوں تو اس نے مجھے بلاک کیوں کیا ![]()
نینا سوچ میں پڑ گئی
کیا وہ نہیں چاہتا کہ مجھے اس کی آئ ڈی کا پتا چلے ![]()
لیکن کیوں ؟
وہ اسی سوچ میں گم تھی
اس نے لیپ ٹاپ آف کیا اور ذہن سے اس بات کو جھٹکنے کی کوشش کی
ہو سکتا ہے کوئی وجہ ہو
اس نے خود کی تا ویل گھڑ لی
شام کو باتوں باتوں میں اس نے شاہ سے کہا
تو مجھے بلاک کر کے سکون مل گیا ؟
شاہ نے گہری سانس لی
تو تمہیں پتا چل ہی گیا
میں تمہیں سات پردوں میں پہچان سکتی ہوں شاہ ….
میں نے تمہیں منع کیا تھا نا شاہ
اس نے نا چاہتے ہو ئے بھی گلہ کیا
اف کم آن نینا میرا وہاں ہونا ضروری ہے
شاہ نے اسے سمجھا نے کی کوشش کی
مطلب میری بات کی تو کوئی اہميت نہیں نا
اس نے افسوس سے کہا
اف بس کرو نینا کیوں دماغ خراب کر رہی ہو میرا مجھے روک ٹوک پسند نہیں اوکے
میں اپنی مرضی سے جیتا ہوں
شاہ نے نہایت روڈ انداز میں کہا
نینا اس کے لہجے پر حیران ہوئی تھی
یہ شاہ کس انداز میں بات کر رہا ہے ![]()
![]()
وہ تو کبھی ایسے بات نہیں کرتا تھا
اس کا نرم لہجہ ![]()
وہ آگے کچھ نا سوچ سکی
ٹھیک ہے بول کر بات ختم کر دی
یہ پہلی بار تھا جب ان دونوں میں کوئی تلخ کلامی ہوئی تھی
شام کو وہ دونوں بات پھر سے کرنے لگے
لیکن وہ لہجہ اسے 2 دن تک اپ سیٹ کرتا رہا ![]()
رویے ہمیں تکلیف تب دیتے ہیں جب ہم رو یوں کو سمجھنے لگتے ہیں ![]()
*******************
پلان کے مطا بق ان لوگوں نے اس آدمی کو اٹھا لیا تھا
اسے جیسے ہی خبر ملی وہ وہاں پہنچ گئی
سیفی اور توصیف وہاں موجود تھے
وہ سجیلہ کو بھی بلا چکی تھی
سحر اور وہ بھی پہنچنے والی تھیں
اس نے توصیف کو اشارہ کیا
وہ گاڑی اسی کی ہے پر لڑکی کو اغوا کرنے سے یہ انکار کر رہا ہے
توصیف نے اسے بتایا
ٹھیک ہے سحر کو آنے دو
نینا نے کہہ کر گھڑ ی دیکھی تھوڑی ہی دیر میں سحر اور سجیلہ آگئی
اس لڑکی کو پہچانتے ہو ؟
توصیف نے اس کا سر بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھا یا
اس کے چہرے پہ جگہ جگہ زخم دکھا ئی دے رہے تھے
لگتا تھا توصیف پہلے ہی اس کی مہمان نوازی کر چکا تھا
تبھی وہ بولنے کو تیار تھا
اس شخص نے غور سے سحر کو دیکھا
ہاں
اس نے کراہ کر اقرار کیا
کیوں اغوا کیا تھا اسکو ؟
توصیف نے اگلا سوال داغا
وہ چپ رہا
بتاؤ سیفی نے آگے بڑھ کر اس کے ناک پر مکا رسید کیا تھا
اس کے ناک سے خون بھل بھل بہنے لگا
سحر گھبرا کر۔ ذرا سا پیچھے ہوئی
وہ شخص چیخا
نینا نے سیفی کو پھر سے آگے بڑھتے دیکھا تو ہاتھ اٹھا کر روکا
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے قریب آئ
اسے وہ پل یاد آیا جب اس نے سحر کو جھاڑیوں سے اٹھایا تھا
نینا نے جھک کر اس کے بال مٹھی میں پکڑے
اور ایک جھٹکے سے سر اٹھایا
تمہاری بھلا ئی اسی میں ہے کہ تم سب سچ سچ بتا دو ہمیں
ورنہ
وہ غرائی
تم کہاں ہو کسی کو نہیں معلوم
اور کسی کو تمہاری لاش تک نہیں ملنی ![]()
اس نے ایک ایک لفظ چباچبا کر کہا
آخری لفظ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں ایسی ٹھنڈک تھی کہ اس شخص کے ساتھ ساتھ وہاں کھڑے لوگوں کے بھی رو نگٹے کھڑے ہو گئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ بپھری ہوئی شیر نی کی طرح غرا رہی تھی
میں نے کسی ……
کے کہنے پر …….لڑکی کو اٹھایا تھا
اس شخص کی زبان لڑ کھڑا گئی تھی
کون ؟کون ہے وہ انسان ؟
نینا نے اپنے ہاتھ کو جھٹکا دیا
وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتاؤ کون وہ ؟
توصیف نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑا
نینا اسے چھوڑ کر سیدھی ہو گئی تھی
وہ۔۔وہ ملک طارق حسن۔۔۔۔۔
کا بیٹا۔۔۔۔۔
ملک صفدر ہے۔۔۔
اس نے اٹک اٹک کر بتایا
نینا نے الجھ کر سب کو دیکھا
ملک طارق
ایک جانی مانی شخصیت تھا
اس کے بیٹے سے ہماری کیا دشمنی ؟
وہ بڑبڑا تی ہوئی مڑی
اب اس کا کیا کرنا ہے ؟
سیفی نے توصیف کی طرف دیکھا
اور اس نے نینا کی طرف
اسے ابھی یہیں رہنے دو
اس کے باپ کو لے کر آئیں گے پھر کچھ سوچیں گے
نینا باہر کی طرف جاتی ہوئی بولی اور باقی سب بھی اس کے پیچھے چل دیے ![]()
********************
بھیا زوہا کے گھر سے واپس آگئے تھے
وہاں سب سے بات چیت کر کے سب ٹھیک کر کے آئے تھے وہ
اور زوہا کو بھی سمجھا کر
نینا بہت ہی بد مزہ ہو رہی تھی
اسے وہ لوگ شروع سے ہی نہیں بھاتے تھے
اور اب ان کی حرکتیں ![]()
نینا کا بس چلتا ان سب کو 2/ 2 جھانپڑ لگاتی
پر اب وہ سوائے کڑھنے کے کچھ کر نہیں سکتی تھی
اس نے افسوس سے مما کو دیکھا اور سر جھٹک کر باہر نکل گئی ![]()
********************
آج وہ کافی اپ سیٹ تھی
شاہ سے بات کرتے اس کے پوچھنے پر بھی اس نے کچھ نا بتایا
آج شاہ بھی جلد ہی سونے کا بول کر اسے بائے بول گیا تھا
وہ بھی سو گئی صبح جلدی اٹھنا تھا اسے
آدھی رات کے وقت اس کی آنکھ کھلی
نیند نا آئ تو اس نے فیس بک آن کی اور شاہ کو وہاں آن دیکھ کر اس کا دل کو عجیب سا احساس ہوا اس نے دھیان نہیں دیا
اور پھر سے آف ہو گئی
پر اسے نیند نہیں آ رہی تھی
وہ کافی دیر تک کرو ٹیں بدلنے کے بعد نا جانے کب اس کی آنکھ لگی
سچ کہتے ہیں لوگ
جب عشق ہو جائے تو آنکھ مشکل سے لگتی ہے ![]()
![]()
![]()
