Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 35

339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 35

Falsfa-e-Ishq by Mehram Shah

ہر طرف ایک نور کی چادر بچھی تھی

ایک ایسی سفیدی جو اس نے آج تک نہیں دیکھی تھی

نور کی ٹھنڈی کرنیں جیسے اس پر برس رہی تھیں

اتنا خوبصورت ماحول اس نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا

سفید کپڑوں میں ملبوس سفید حجاب اوڑھے وہ اس ماحول کا حصہ لگ رہی تھی ❤

بہت ہی خوبصورت انداز میں تلاوت کرتی وہ بھی نور میں نہائی لگتی تھی

اس نے اللّه کے 99 نام پڑھنے شروع کیے ❤

وہ نا جانے کہاں تھی یہ کونسی جگہ تھی

اچانک منظر بدل گیا

اب اس کے سامنے اس کے کمرے کا منظر تھا

اس نے آنکھیں کھول کر ہر چیز کو دیکھا

وہ خواب سے بیدار ہو چکی تھی

خواب میں وہ کونسی جگہ پر تھی ؟

وہ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی 🤔🤔

واقع وہ تلاوت وہی کر رہی تھی ؟

اتنی خوبصورت تلاوت وہ کبھی کر سکتی ہے کیا ؟

لیکن وہ تلاوت بلاشبہ نینا ہی کر رہی تھی

جو بھی تھا وہ بہت پر سکون تھی

اس وقت وہ ایسا ہی سکون چاہتی تھی ❤

اسے یہ سکون چاہیے تھا ہر قیمت پر

یہی سوچتے سوچتے وہ سو گئی تھی

انسان کی سب سے بڑی ضرورت سکون ہے

یہ بات اس نے اب آ کر جانی تھی

اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں پیسہ سکون دے سکتا ہے

ہمیں شہرت سکون دے سکتی ہے

ہمیں دنیا اور دنیا کی محبتیں سکون دے سکتی ہیں

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں صرف اللّه سے گہرا تعلق سکون دے سکتا ہے بس ❤✌

******************

سجیلہ کے دن رکھے جا رہے تھے

سبھی خوش تھے سوا ئے اس کے وہ بالکل خاموش بیٹھی تھی

وہ ہر چیز سے بے نیاز سی بیٹھی تھی اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا

نینا بھی وهاں موجود تھی

سفید بنارسی سوٹ میں سفید ڈوپٹہ سر پر ٹکا ئے وہ سنجیدہ چہرے کے ساتھ گھوم رہی تھی

توصیف کی نظریں بار بار بھٹک کر اس کے چہرے کا طوا ف کرنے لگتیں جن کا زاویہ وہ

نینا کے دیکھنے پر جھٹ سے وہ بدل لیتا

کتنا سنجید ہ بنا دیا تھا وقت نے ان سب کو

وہ شوخ و چنچل لوگ نا جانے کہاں کھو گئے تھے 💔

وہ سجیلہ کو دیکھ کر عجیب سی بے سکونی محسوس کر رہا تھا

کچھ ایسا ہی نینا بھی محسوس کر رہی تھی

وہ سجیلہ کی کیفیت سمجھتی تھی لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ کر نہیں سکتی تھی 💔

وہ اس کے پاس جا بیٹھی

اتنی چپ کیوں ہو ؟

اس نے سجیلہ کا ہاتھ تھاما

نہیں تو میں ٹھیک ھوں 🙂

سجیلہ ہلکا سا مسکرا ئی

لگتا تو نہیں ہے 🙄

نینا بھی نینا تھی

بس یار پتہ نہیں بہت عجیب لگ رہا ہے سب 💔

سجیلہ نے سر جھکا لیا

دیکھو جانی یہ تو دنیا کا دستور ہے

آج سے نہیں ازل سے چلا آ رہا ہے

ہمارے پیارے نبی پاک مُحَمَّدُﷺ‎ نے بھی اپنی بیٹی بیاہی تھی ان سے زیادہ کسی کو پیاری ہو سکتی ہے بھلا بیٹی ؟

اور بیٹی بھی وہ جو جان سے زیادہ پیار کرتی تھی اپنے بابا سے ❤

لیکن پھر بھی انکو چھوڑ کر اپنے گھر جانا پڑا اسے کیوں ؟

کیونکہ یہی اللّه کا حکم ہے اور ہمیں اللّه کے احکام پر چلنا ہوتا ہے ہمیں اللّه کا ہر حکم ماننا ہوتا ہے اور یہی ایمان ہے میری جان ❤

نینا نے پیار سے اسے سمجھایا

جس پر سجیلہ بولی تو کچھ نہیں پر نینا کے گلے لگ کر رونے لگی 💔

نینا کی اپنی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں

وہ ہولے ہولے اس کی پیٹھ تھپتھپاتی رہی

اور اس کی خوشیوں اور سکون کی دعا کرتی رہی ❤

********************

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؕوَ لَوۡ یَرَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اِذۡ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ۙ اَنَّ الۡقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعَذَابِ ﴿۱۶۵﴾

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں ، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر ( جان لیں گے ) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے ( تو ہرگِز شرک نہ کرتے ) ۔

آیت کا ترجمہ پڑھتے ہی اس کے ہاتھ ساکت ہو گئے تھے

اس کے دل کی دھڑکن تھم گئی کانچ جیسی آنکھیں پتھرا گئیں

” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں ، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے “💔

اس کے ہونٹ کپکپا نے لگے

” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں ، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے “💔

کچھ الفاظ کی بازگشت اس کے دماغ میں دھماکے کرنے لگی

جب وہ اپنی غلطی ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی تو آخر اس نے رات اللّه سے مدد مانگی اور کہا کہ مجھے بتا دو مجھ سے کیا غلطی ہوئی اتنی بڑی جس کی وجہ سے آپ مجھ سے ناراض ہیں اللّه جی 😥

میری مدد کریں نا پلیز

آج کی آیت میں اسے بتا دیا گیا تھا اس نے کیا غلطی کی بلکہ گناہ کیا گناہ کبیرہ جس کی وجہ سے اللّه اس سے اتنا ناراض تھا

وہ جان گئی تھی اس کا گناہ کیا تھا

وہ شاہ کو اتنا زیادہ چاھنے لگی تھی جتنا چاہنا نہیں چاہیے تھا

اس نے اپنے دل میں اسے اتنا اونچا مقام دے دیا تھا جس پر کسی انسان کا حق تھا ہی نہیں 💔

اس حد تک کسی انسان کو چاہنا ہی نہیں چاہیے کیونکہ محبت کی انتہا پہ صرف اللّه کا حق ہے

اور جب ہم لوگوں کو محبت کی اس انتہا پے رکھ لیتے ہیں تو ہم شرک جیسے گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا 💔

وہ گم سم سی بیٹھی تھی سجیلہ نے اس کا کندھا ہلایا کیا ہوا تجھے ؟

وہ بے اختیار رونے لگی

سجیلہ حیران رہ گئی

کیا ہوا تجھے ؟😯

مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا میں نے بہت بڑی غلطی کر دی وہ ہچکیوں کے بیچ بمشکل بولی

ہوا کیا ؟

سجیلہ نے اسے دلاسہ دیتے ہو ئے پوچھا

شرک ……

شرک جیسا گناہ ہو گیا مجھ سے میں بہت گناہ گار ھوں اسی لئے اللّه ناراض ہے مجھ سے

وہ آنسو پونچھتی ہوئی بولی

سجیلہ کا منہ کھل گیا

کیا بولے جا رہی ہے 😯🙄

میں ٹھیک کہہ رہی ھوں

ہم سب نے کہیں نا کہیں اپنے دلوں میں بت کدے بنا رکھے ہیں جہاں ہم صنم رکھ کر پو جتے رهتے ہیں 💔

ہم سبھی نے بت بنا رکھے ہیں کوئی نا کوئی جو ہمیں اللّه سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں

کسی نے دولت کو ،کسی نے شہرت کو کسی نے دنیا کو کسی نے انسانوں کو ہر وہ چیز جو اللّه سے زیادہ ہمیں عزیز ہو وہ بت ہے جسے ہم اللّه کو بھول کر پو جنے میں لگے ہیں 💔

یہاں تک کہ ہمارا اپنا نفس بھی جس کو خوش کرنے کے لئے ہم اللّه کو ناراض کرنے کی بھی پرواہ نہیں کرتے

اللّه کی نا فرمانی کر کے اللّه کے احکامات سے مکر کے اللّه کی بنائی گئی حدود سے باہر نکل کر ہم ان بتوں کے غلام ہیں ہم اللّه کو ناراض کر سکتے ہیں لیکن ان کو نہیں ہم اللّه کو چھوڑ دیتے ہیں لیکن ان کو نہیں 💔😥

وہ اس وقت جنونی لگ رہی تھی

سجیلہ بس اسے دیکھے گئی

وہ ٹھیک کہہ رہی تھی یہاں سبھی کسی نا کسی کو اللّه سے زیادہ اہم کیے ہوئے تھے

یہاں سبھی اللّه ناراض کر کے اپنے بتوں کو راضی رکھے ہو ئے تھے

اسی لئے ہم سب اذیتوں کا شکار ہیں یہ ازیتیں ہم نے خود اپنے لئے چنی ہیں 💔

*********************

آج وہ بیحد خوش تھا

اسکا بچپن کا سپنا آج سچ ہونے جا رہا تھا ❤

لیکن اسے تھوڑا سا ڈر بھی لگ رہا تھا

نا جانے وہ کیا کہے گی

اس کا جواب کیا ہوگا

اس کے گھر والے ایک یتیم اور بے سہارہ انسان کو کیا اپنا لیں گے ؟

بیشک خالہ نے اسے اپنا بیٹا بنا کر پالا تھا اور کبھی خود سے الگ نہیں سمجھا تھا لیکن پھر بھی ایک خاندان اس کا اپنا خاندان جس کی کمی کا وہ شکار تھا 💔

یہ ساری باتیں آج سے پہلے اسے کبھی اتنی نہیں محسوس ہوئی تھیں جتنی آج ہو رہی تھیں

اور یہ باتیں اسے پریشان کر رہی تھیں

وہ رشتوں کے معاملے میں ہمیشہ بد نصیب رہا تھا

اور اس بات کا احساس آج سے پہلے اتنی شدت سے نہیں ہوا تھا

اپنا شنا ختی کارڈ ہاتھ میں پکڑے وہ اس کے حروف پر نظریں جما ئے بیٹھا تھا

جہاں اس کا نام توصیف نہیں لکھا تھا جہاں اس کے نام کے ساتھ ایک بہت بڑا نام جڑا تھا

جہاں اس کے نام کے ساتھ ایک شنا خت

تھی ایک بہت بڑا خاندان جس کا وہ حصہ تھا لیکن صرف اس کارڈ کی حد تک 💔

اس نے خاموشی سے کارڈ والٹ میں رکھ لیا

موبائل نکال کر ایک نمبر ملایا

وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا ایک بار لیکن کیا بات کرے گا ۔؟

اس سوچ نے اس کے ہاتھ روک لئے

چلو جو بھی ہوگا دیکھا جا ئے گا

اس نے سوچ کر موبائل واپس جیب میں رکھا اور پولیس اسٹیشن کے لئے نکل گیا ❤

*********************

اسے 2 دن سے سخت بخار تھا

اور وہ غنودگی کی حالت میں مسلسل اس کا نام لے رہا تھا

اس کا کلاس میٹ شیراز اس کے پاس بیٹھا تھا

وہی اسے ہسپتال میں لے کر آیا تھا

شاہ بے سدھ پڑاتھا کبھی کبھی اسے کچھ ہوش آتا تو وہ اس کا نام پکارنے لگتا

2 دن بعد اس کی حالت سنبھلی اب

وہ پوری طرح سے ہوش میں تھا

شیراز نے اسے سوپ پلا یا اور دوا دے کر اس کے پاس بیٹھ گیا

شکر ہے تمہیں ہوش آیا میں تو پریشان ہو گیا تھا

شیراز اس کے مرجھا ئے ہو ئے چہرے کو دیکھ کر بولا

ارے یار مجھے کچھ نہیں ہوتا مجھے پہلے بھی جب بھی بخار ہوتا ہے ایسے ہی ہوتا ہے شدید 🙂

شاہ ہلکا سا مسکرا یا

تمہارا بہت شکریہ یار اگر تم نہیں ہوتے تو پتہ نہیں کیا ہوتا 💔

شاہ نے ممنون ہوتے ہو ئے کہا

کیسی باتیں کرتے ہو یار ❤دوست کس لئے ہوتے ہیں برے وقت میں جو کام نا آ ئے وہ دوست کس کام کا

شیراز نے محبت سے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھا

شیراز یہاں اس کا واحد دوست تھا

ایک ایسا دوست جس پر وہ بھروسا کرتا تھا ❤

ایک بات بتاؤ

شیراز نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا

یہ نینا کون ہے ؟

نینا کے نام پر وہ چونکا

میرے ساتھ پڑھتی تھی کیوں ؟

شاہ نے کچھ تو قف کے بعد کہا

صرف ساتھ پڑھتی تھی ؟

شیراز نے غور سے اس کی آنکھوں میں دیکھا

کیوں پوچھ رہے ہو ؟

شاہ الجھا

تم غنودگی میں مسلسل اس کا نام لے رہے تھے

شیراز نے اسے اطلاع دی

شاہ چونک گیا

لیکن خاموش بیٹھا رہا

You know ۔۔۔۔۔۔

You Love Her Shah ❤

شیراز نے اس کے سر پر جیسے بم پھوڑا تھا

نو ……….

شاہ کتنی ہی دیر ساکت بیٹھا رہا پھر سر سراتی آواز میں بولا

یس مانو یا نا مانو یہی سچ ہے جو میں 2 دن میں جان گیا ھوں کیا تم اتنے عرصے میں نہیں جان پا ئے

وہ حیرت سے شاہ کو اور شاہ اسے دیکھ رہا تھا

اسے لگا تھا وہ اسے بھول چکا ہے

اسے لگا تھا اسے نینا سے محبت نہیں ہے

اسے لگا تھا وہ اس کے بغیر اچھے سے جی سکتا ہے وہ کوئی ضروری نہیں ہے 💔

لیکن

اس کی بے چینی کی وجہ وہی تھی

اس کی بے کلی کی وجہ وہی تھی

اس کا خیال اتفا قی نہیں تھااسے حیرت ہو رہی تھی اب خود پر وہ کیسے اسے چھوڑ کر آگیا تھا

کیا ہو گیا تھا اسے ؟

شیراز باہر جا چکا تھا کمرے میں وہ اکیلا رہ گیا تھا لیکن نہیں وہ اکیلا کہاں تھا

وہ تھی یہیں اس کے آس پاس وہ تھی اس کے ساتھ ہمیشہ اس کی آواز ،اس کی ہنسی ،اس کی باتیں ،اس کی سر گوشیاں سب اس کے ارد گرد تھے

وہ جیسے پاگل ہو اٹھا تھا ایک نیا احساس اسے بے چین کرنے لگا

اسے نینا سے بات کرنی تھی کسی بھی طرح

ایک نئی خواھش نے اسے اور بھی بے چین کر دیا

صرف 6 مہینے اور تھے اس کا کورس پورا ہونے میں اسے واپس جانا تھا لیکن وہ اب انتظار نہیں کر سکتا تھا اسے بات کرنی تھی نینا سے جلد سے جلد

وہ ایک بار پھر سے اس کا نمبر ٹرائ کرنے لگا جو ہمیشہ طرح بند آ رہا تھا

اسے سجیلہ کا خیال آیا

ہاں اسے کال کروں

وہ سجیلہ کا نمبر ڈھونڈنے لگا

یہاں آ کر اس نے نیا نمبر لیا تھا تو کسی سے بھی رابطہ نہیں کیا تھا

سب نمبر اس کی پاکستانی سم میں رہ گئے تھے اس نے سجیلہ کی ای میل پر مسیج چھوڑ دیا تھا

وہ دعا کر رہا تھا کہ وہ اسے نینا کا نمبر دے دے

دعائیں بھی عجیب ہوتی ہیں مانگنے والے ہاتھ بد لتے رهتے ہیں لیکن دعا ئیں وہی رہتی ہیں 💔✌

********************

رات کا تیسرا پہر تھا

سب لوگ اپنے اپنے بستر میں سکون سے سو رہے تھے

بس ایک بے سکون تھی تو وہی تھی

سجدے میں جھکی اپنی سسکیا ں دباتی

رو رو کر اس کی کانچ جیسی آنکھیں لال ہو چکی تھیں لیکن پھر بھی

وہ تہجد میں بیٹھی رو رہی تھی

اسے اپنے گناہ کی معافی چاہیے تھے

وہ دامن پھیلا ئے معا فی کی طالب تھی

لیکن اتنی آسانی سے معا فی اسے ملنے والی کہاں تھی اس کا دل بے چین تھا

وہ مدد مانگ رہی تھی

اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا ئے

اے اللّه

تو قادر ہے دنیا کی ہر چیز تیری محکوم ہے مولا تو بادشاہ ہے

میں بے بس ھوں تو قادر ہے

میں کمزور ھوں لیکن تو طاقت ور

میں گناہ گار ھوں تو معاف کرنے والا مہربان ❤

مجھے معاف فرما

اے آدمؑ کو معاف کرنے والے رب میں اپنے گناہوں سے اپنی غلطیوں سے توبہ کرتی ھوں میری توبہ قبول فرما ❤

اے ابراہیم ؑ کی دعا قبول کرنے والے رب

میری دعا پہ قبولیت کی مہر لگا دے

اے یو نس ؑ کو مچھلی کے پیٹ سے بحفاظت نکالنے والے رب

مجھے بھی ان اندھیروں سے نکال

اے موسٰی ؑ کو فر عون سے بچا نے والے رب

مجھے بھی بھی اپنی نا فرما نی سے بچا لے 😥

یا اللّه تو تو رحیم ہے تو نے خود فرمایا

بیشک میری رحمت میرے غضب پر حا وی ہے

مجھے بھی اپنی رحمت کے سا ئے میں لے لے

میں دنیا کی ہر اس محبت سے

ہر اس بت سے

ہر اس چیز سے پناہ مانگتی ھوں جو مجھے تجھ سے دور کر دے

مجھے اپنی پناہ میں لے میں بہت کمزور ھوں مجھے شیطان سے لڑ نے کی طاقت عطا فرما 😥

مجھے اپنا فرما بردار بنا لے

مالک مجھے بتا میں کیا کروں ایسا جس سے میں تیری محبت حاصل کر سکوں 😥

اذان ہونے لگی تھی اسے پتہ ہی نا چلا کتنا وقت بیت گیا مصلے پر بیٹھے بیٹھے ہی صبح ہو چکی تھی

اسے اب جواب کا انتظار تھا

وہ جانتی تھی اسے جواب ملے گا

اس نے اٹھ کر قرآن پاک کھولا

جہاں سے کل چوڑا تھا وہیں سے پڑھنا شروع کیا

کچھ آیت کے بعد اسے جواب مل گیا

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾

کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا مہربان ہے ۔

وہ بے اختیار ہی پھر سے رونے لگی تھی یہ پہلا موقع تھا جب وہ برا ہ راست اسے جواب دے رہا تھا ❤

وہ اسے راستہ دکھا رہا تھا

وہ اسے اپنے تک آنے کا راستہ دے رہا تھا

اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ ﴿۴﴾

بیشک اللہ تعالٰی ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ جہاد کرتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں ۔

جہاد ……

وہ زیر لب بڑ بڑا ئی

جہاد وہ سوچنے لگی

اسے یاد آیا ایک دن مولانا صاحب کے بیان میں اس نے سنا تھا

وہ کہہ رہے تھے سب سے بہترین جہاد اپنے نفس سے لڑنا ہے اپنے اندر کی برا ئی سے اپنی نا جا ئز خواہشات سے

تو اسے اب خود سے لڑنا تھا اپنے اندر کی ہر برا ئی ختم کرنی تھی اسے اب اپنے نفس سے جہاد کرنی تھی

اور اپنی خیر کی قوت کو اتنا بڑھانا تھا اتنا مظبوط کرنا تھا جیسے سیسہ پلا ئی دیوار ✌

اتنا مضبوط کہ دنیا کی کسی بھی چیز کے لئے وہ اللّه کی نا فرمانی میں مبتلا نا ہو دنیا کی کوئی بھی محبت کوئی بھی چاہت اسے اللّه سے غا فل نا کرے

اسے اب انتہا پہ صرف اللّه کو رکھنا تھا باقی ہر چیز اس سے نیچلے درجے پہ

اس نے ارادہ کر لیا اللّه کی مدد مانگتے ہو ئے اسے یقین تھا وہ اس کی مدد ضرور کرے گا وہ اس کے ساتھ ہے ❤