Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 30
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 30
Falsfa-e-Ishq by Mehram Shab
تم جانتے ہو نا شاہ تمہارے بغیر میں نہیں جی سکتی ![]()
ایئر پورٹ پر کھڑ ے اس کے کانوں میں ایک مانوس سی آواز سنائی دی
مجھے واقع اسے بتا دینا چاہیے تھا شاہ نے سوچ کر موبائل نکال کر ایک نمبر ملایا
لیکن دوسری طرف سے نمبر بند آ رہا تھا
اس نے دوبارہ ملایا
لیکن کوئی فائدہ نا ہوا
نمبر بند آ رہا تھا
تبھی فلا ئٹ کا وقت ہو گیا
اس نے عجلت میں موبائل جیب میں رکھا اور زین کے گلے لگ کر اندر کی طرف بڑھ گیا
زین …..
وہ جاتے جاتے مڑا
نینا کو بتا دینا ![]()
اس نے ہدایت کی اور آگے بڑھ گیا
زندگی کی نئی را ہیں اس کی منتظر تھیں
اسے اب رکنا نہیں تھا
اسے اب اڑان بھر نی تھی اوپر اور اوپر آسمانوں میں ![]()
وہ خوش تھا بے حد خوش
یہ جانے بغیر کہ اس کی انجانے میں کی گئی غلطی کسی اور کے پر کاٹ کر اسے اپاہج بنا چکی تھی ![]()
*********************
ہر طرف سفید روشنی پھیلی تھی روشنی اتنی تیز تھی کہ اس کے لئے آنکھیں کھولنا مشکل تھا
بمشکل اس نے آنکھیں کھولی
ہر چیز جیسے سفید روشنی میں نہا ئی ہوئی سفید نظر آ رہی تھی
اس نے پلکیں جھپک کر دیکھا
سفید دیواروں سے ہوتی اس کی نظریں
سفید چھت پہ ٹھہری اس نے آہستہ آہستہ نظریں گھما کر دیکھا
کمرے کی ہر چیز سفید تھی
سفید بستر پہ وہ خود لیٹی تھی
میں کہاں ھوں ؟
پہلا سوال جو اس کے دماغ میں آیا تھا وہ یہ تھا میں کہاں ھوں
میں مر چکی تھی
اسے یاد آیا
تو میں کس جگہ ہوں ؟
کیا یہ قبر ہے ؟
مجھے سفید رنگ پسند ہے
تو کیا یہ سفید رنگ میرے لئے بچھا یا گیا ہے ؟
فرشتے ……..
فرشتے کہاں ہیں
وہ چو نکی
اللّه ![]()
اللّه کہاں ہے
اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن یہ کیا اس کا جسم اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا
اچانک سامنے کا دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا
وہ انسان ہی لگ رہا تھا
وہ ایک ٹک اسے دیکھے گئی
وہ واپس بھاگ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہاں اور بہت سارے لوگ آگئے
وہ ان کو دیکھے گئی
وہ سب پتہ نہیں کیا بول رہے تھے
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا
اتنا شور ہو گیا اس کا سر دکھنے لگا
اس نے تھک کر آنکھیں موندھ لی
اور کبھی کبھی ہم زندگی سے نہیں اپنے آپ سے تھک جاتے ہیں ![]()
![]()
******************
وہ اس وقت کو ریڈور میں بیٹھا تھا
نظریں دروازے پر جمی تھیں
وہ ایک ہفتے سے یہیں بیٹھا تھا
سب نے اسے جانے کو کہا لیکن وہ نہیں گیا
اس کی حالت عجیب ہو رہی تھی
ملگجے کپڑ وں اور بڑھی شیو کے ساتھ وہ خود بھی بیمار لگ رہا تھا
اس کے ہمیشہ ترو تازہ رہنے والے چہرے پہ عجیب سی یا سیت تھی
اس کی یہ حالت سب پر وہ راز کھول رہی تھی جسے اس نے خود اپنے آپ سے بھی چھپا کر رکھا تھا
لیکن اسے اس وقت اس بات کا ہوش ہی نہیں تھا
اندر جو لڑکی لیٹی تھی وہ اس کی پہلی اور آخری محبت تھی ![]()
وہ اسے تب سے اچھی لگتی تھی جب شاید اسے محبت کا مطلب بھی نہیں پتہ تھا
وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ نینا ملک سے کتنی محبت کرتا ہے ہاں پر وہ یہ جانتا تھا کہ اگر اسے کچھ ہوا تو وہ بھی زندہ نہیں رہے گا ![]()
ایک ایسے ہی ظالم حادثے نے اس سے اس کی ماما بابا کو چھین لیا تھا
اے اللّه میرے ماما بابا کے بعد اب پلیز نینا کو مجھ سے مت چھینیے گا ![]()
یہ دعا وہ پچھلے ایک ہفتے میں نا جانے کتنی بار کر چکا تھا ![]()
وہ سر جھکا ئے دعا کرنے میں مصروف تھا جب کوئی اس کے قریب آ کر بیٹھا
اس نے سر اٹھا کر دیکھا
وہ سجیلہ تھی
اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں وہ رو کر آئ ہے
وہ ٹھیک ہو جا ئے گی توصیف ![]()
سجیلہ کی آواز سر گوشی سے زیادہ نہیں تھی
سجو ……
میں نے اللّه سے کہا ہے وہ اور کچھ زندگی میں دے یا نا دے لیکن نینا کو میری زندگی سے نا نکا لے
توصیف نے اسے بچپن کے نام سے پکارا
وہ مان جا ئے گا نا ؟
اس نے بچوں کے انداز میں پوچھا
وہ ضرور تمہاری بات سنے گا تم فکر مت کرو
سجیلہ نے محبت سے اسے دیکھا
میں نے اپنے ماما بابا کو نہیں دیکھا
لیکن تمہاری امی نے مجھے کبھی ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دی
پر نینا ![]()
اس کی جگہ تو میں اور کسی کو دیکھ بھی نہیں سکتا
توصیف کی آواز پست تھی
جانتے ہو توصیف جب اللّه کسی کو مقام دینا چاہتا ہے تو کیا کرتا ہے ؟
توصیف نے صرف سر ہلا نے پر اکتفا کیا
اللّه پاک نے قرآن پاک میں فرمایا ![]()
وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ حَتّٰی نَعۡلَمَ الۡمُجٰہِدِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الصّٰبِرِیۡنَ ۙ وَ نَبۡلُوَا۠ اَخۡبَارَکُمۡ ﴿۳۱﴾
اور ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے ، تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون ہیں جو مجاہد اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ، اور تاکہ تمہارے حالات کی جانچ پڑتال کرلیں ۔
جب وہ کسی کو مقام دینا چاہتا ہے تو اسے آزماتا ہے کہ یہ بندہ اس مقام کے قابل بھی ہے یا نہیں ؟
جیسے تمہیں پولیس میں بھرتی کرنے سے پہلے تمہیں اچھی طرح سے جانچ پڑتال اور ٹریننگ کے بعد جب تم اس قابل لگے تب تمہیں سلیکٹ کیا گیا ![]()
بالکل ایسے ہی اللّه بھی آزماتا ہے
وہ تمہیں آزمائے گا اگر تم اس میں پورے اترے تو ہی وہ تمہیں وہ مقام دے گا جو تم چا ہتے ہو ![]()
اب مقام جتنا بڑا ہوگا آزما ئش بھی اتنی ہی بڑی ہوگی
تو تمہیں ہر طرح کی آز ما ئش میں پورا اتر نا ہوگا تبھی تمہیں وہ ملے گا جو تم چاہتے ہو ![]()
سجیلہ دھیمے انداز میں اسے سمجھا رہی تھی اور وہ غور سے اس کی باتیں سن رہا تھا
سجیلہ کو وہ بہت ہی عزیز تھا
اسے یاد تھا اچھی طرح جب پہلی بار اس کی ماں ایک چھوٹے سے گول مٹول سے پیارے سے بچے کو اٹھا ئے گھر میں داخل ہوئی تھیں ![]()
اسے وہ گڈا سا پہلی نظر میں ہی بہت پیارا لگا تھا
مما یہ کون ہے ؟
اس نے اشتیاق سے مما سے پوچھا
بیٹا یہ بھی آپ کے بھائی ہیں ![]()
مما نے پیار سے اس کے بال سنوارے
مما اب یہ ہمارے ساتھ رہے گا ؟
اس نے تھوڑا سا حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے پوچھا
ہاں بیٹا اب یہ ہمارے ساتھ رہے گا
مما نے اسے اسے بتایا
مما اس کا نام کیا ہے ؟
اس نے خوشی سے تا لی بجا تے پوچھا
نام ؟
مما ذرا سوچ میں پڑ گئی
مما اس کا نام میں رکھوں گی
سجیلہ نے جلدی سے کہا
ٹھیک ہے بیٹا آپ رکھ لو ![]()
![]()
مما نے اسے اجازت دے دی
اور یوں اس نے اپنی مرضی سے توصیف نام رکھا تھا اس کا
اور پھر ان لوگوں نے ہمیشہ اسے اپنا بھائی بنا کر پالا وہ سب سے چھوٹا تھا اور لاڈلا ![]()
وہ اسے کبھی بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی
وہ مما کی جان سے پیاری بہن کا اکلوتا بیٹا تھا جنہوں نے اپنی پسند سے شادی کی تھی جس وجہ سے خاندان والے ان سے قطع تعلق کیے ہو ئے تھے
قسمت کی ستم ظریفی سے وہ جلد ہی اپنی اولاد سے بچھڑ گئے
جب توصیف بہت چھوٹا تھا
صرف چند ماہ کا تب ایک شام ان لوگوں کا ایکسیڈنٹ ہوا اور دونوں میاں بیو ی زندگی کی بازی ہار گئے لیکن توصیف معجزاتی طو ر پر بچ گیا
تب مریم بیگم نے رو تے بلکتے توصیف کو اپنی ممتا کی چھا ؤں میں لے لیا اور اپنی اولاد بنا کر پالا ![]()
![]()
وہ ماضی کے جھرونکو ں میں جھا نکنے میں مصروف تھی جب ایک نرس تیزی سے ان کے قریب آئی
آپ کے مریض کو ہوش آ گیا ہے
اس نے خوش خبری سنا ئی
سجیلہ اور توصیف دونوں ایک ساتھ اٹھ کر اندر بھاگے تھے ![]()
![]()
****************†* ******
جب اس نے دوسری بار آنکھیں کھولی تو سب لوگ اس کے ارد گرد تھے
وہ ایک ایک کا چہرہ دیکھنے لگی
نینا ![]()
ملک توقیر نے اسے پکارا
اس نے اجنبیت سے ان کو دیکھا
نینا میری جان ![]()
![]()
مما نے اس کا ہاتھ تھاما
وہ ان کو دیکھے گئی
باقی لوگ ذرا پیچھے کھڑے تھے
اس کی نظر سجیلہ کی طرف اٹھی
اور پھر ساتھ کھڑے توصیف کی طرف
اس کا دماغ کام کر رہا تھا
وہ سب کو پہچان رہی تھی
لیکن اسے کسی کا نام یاد نہیں آ رہا تھا
پاپا …….
اس نے ہولے سے اپنے پاپا کو پکارا
جی میری جان
پاپا نے تیزی سے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا
مما ……
اب اس نے مما کو پکارا
مما بے اختیار ہی روتے ہو ئے اسے سے سینے سے لگا گئیں
وہ چپ چاپ باقیوں کے نام سوچتی رہی
سجیلہ …..
اس نے سجیلہ کا نام یاد کر کے اسے پکارا
وہ تیزی سے اس کے قریب آئی
پھر وہ ایک ایک کر کے سب کے نام یاد کرتی گئی
لیکن اس کا دماغ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا
اس کا سر دکھنے لگا
ڈاکٹر نے اسے آرام کرنے کا کہا وہ اب خطرے سے باہر تھی لیکن دماغ کس حد تک کام کرے گا یہ وقت ہی بتا نے والا تھا
سب لوگوں کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اب خطرے سے باہر تھی وہ زندہ تھی
مما نفل پڑھنے جا چکی تھیں
اللّه نے ان کی سن لی تھی ![]()
اللّه ضرور سنتا ہے بس وہ اپنے بندوں کا صبر دیکھنا چاہتا ہے ![]()
![]()
***********************
وہ اب کافی بہتر تھی
لیکن کبھی کبھی اس کے سر میں شدید درد کی لہر اٹھتی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سارے وجود کو لپیٹ میں لے لیتی
پھر بھی پاپا کے بے حد اصرار پر ایک مہینے بعد اسے گھر پر شفٹ کر دیا گیا ہر چیز اپنے معمول پر آ گئی تھی
اس کا موبائل اس دن ملا ہی نہیں تھا اور نا ہی کسی کو موبائل کی فکر تھی
بھیا نے اس کی سم بند کروا دی تھی
اس نے بھیا کو بول کر نیو موبائل اور سم منگوا لی تھی
شاید اسے امید تھی کہ شاہ اسے میسج کرے گا
پر اس کا کبھی کوئی میسج نہیں آیا
اس نے اپنی ای میل بھی سجیلہ سے چیک کروائی تھی وہ اکثر موبائل کو دیکھتی رہتی
ہر بیل پر چونک جاتی
اسے موبائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ڈاکٹر نے ابھی
لیکن پھر بھی وہ نمبر آن رکھتی
موبائل دور ٹیبل پر پڑا رہتا اور وہ ہر بیل پر عینا سے موبائل چیک کرنے کو کہتی
لیکن عینا بھی موبائل چیک کر کر کے تھک گئی خود سے اس نے کوئی کوشش نہیں کی تھی شاہ کو۔ میسج کرنے کی
ایک بار اس نے عینا سے کہا نومبر ملا کر دینے کو تو۔ اس نے ملا دیا پر شاہ کا نمبر بند آ رہا تھا
شاید اس نے نمبر چینج کر لیا
اس نے سوچ کر دوبارہ کوشش نہیں کی ![]()
سب کی زندگیاں پھر سے رواں دواں ہو چکی تھیں وہ سارا دن اپنے روم میں ہی رہتی جہاں سب اس کا بے حد خیال رکھتے سب با قائدگی سے اس سے ملنے آتے اس سے اچھے دنوں کی باتیں کرتے اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتے
سجیلہ روز اس سے ملنے آتی
توصیف آتا اس کے لئے پھول اور چاکلیٹ لاتا اور اس سے پرانے کیسوں کے بارے بات کرتا
سیفی آتا اسے ہٹلر دیدی بول کر چڑاتا
سحر آتی اسے ہنسا نے کی کوشش کرتی
پر وہ خاموش رہتی اس کے وجود پر خاموشی نے ڈھیر ے ڈال لئے تھے
اسے سب کی پہچان تھی اس کی یاداشت متا ثر نہیں ہوئی تھی
ہاں وہ کبھی کبھی چیزیں بھول جاتی
کبھی سب کے نام بھول جاتی
کبھی چیزوں کے نام بھول جاتی
کبھی کبھی اس کا دماغ کام کرنا چھوڑ جاتا
کبھی کبھی اس کا دماغ بالکل خالی ہو جاتا کسی صاف سلیٹ کی طرح جس پر کوئی بھی نقش نا ہوتا بالکل خالی
لیکن پھر بھی اسے سب یاد تھا
ایک ایک لفظ
ہاں میں نہیں کرتا اس سے محبت
شاہ کا یہ جملہ دن میں ہزار بار اس کا دماغ دہراتا وہ کرب سے آنکھیں میچ لیتی
اس روز کیا ہوا تھا اسے سب یاد تھا
سجیلہ نے اس سے پوچھا
اس روز کیا ہوا تھا ؟
وہ سب بتاتی چلی گئی
سب کچھ سن کر سجیلہ مسکرا دی
جا نتی ہو جب ہم اللّه سے محبت کا دعوی کرتے ہیں تو پھر وہ ہمیں ضرور آزماتا ہے
دوسروں کی محبت دے کر
دنیا دے کر
ہم دنیا کے پیچھے چل پڑتے ہیں
سب کچھ بھول کر
اللّه کو بھی ![]()
پھر وہ ہمیں تھکا دیتا ہے
ان ہی لوگوں کے ہاتھوں توڑ دیتا ہے ![]()
یہ سب تو ہمارے ساتھ ہونا ہی تھا
ہم دنیا کے پیچھے جو چلنے لگے
تو اس نے ہمیں تھکا دیا ![]()
لیکن تم ہمت مت ہارنا سب ٹھیک ہو جا ئے گا
وہ چپ چاپ سجیلہ کی باتیں سنتی رہی
لیکن وہ ایک بار بھی مجھے دیکھنے نہیں آیا ![]()
نینا نے افسر د گی سے کہا
وہ نہیں آ سکتا نینا
سجیلہ نے ٹھہرے ہو ئے لہجے میں کہا
کیوں ؟![]()
نینا نے اسے دیکھا
زین آیا تھا جب تم ہسپتال تھی
اس بات پر نینا نے چونک کر سر اٹھا یا
شاہ لندن چلا گیا ہے اپنی ڈگری کے لئے ![]()
سجیلہ نے ہولے سے بتایا
کب ؟![]()
نینا حیران تھی
اسی روز جس روز تمہارا ایکسڈنٹ ہوا
شام کی فلا ئٹ سے
نینا بالکل چپ رہ گئی اس کی بات سن کر
پھر کتنی ہی دیر سجیلہ اس سے باتیں کرتی رہی پر وہ گم سم سی بیٹھی رہی
اس کے جانے کے بعد بھی وہ یونہی لیٹ گئی گم سم سی
اس نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا ![]()
اسے خبر ہی نا ہوئی کب اس کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا
ہر بات ہر چیز اسے ہر بار ایک نئی اذیت سے دوچار کرتی جسے سہتے سہتے وہ نڈھال ہو جا تی
اسے وہ خواب بھی یاد تھا
اس نے کیوں مہلت مانگی
کیوں موقع مانگا اچھا تھا وہ مر جاتی ہر روز مرنے سے تو بچ جاتی
وہ روتے روتے یہی سوچتی
وہ اب بھی نا شکری کر رہی تھی
وہ اب بھی غلط تھی
وہ اب بھی غلط سوچ رہی تھی
وہ اب بھی اللّه کو ناراض کررہی تھی ![]()
اور اسے اس بات کا احساس ہی نہیں تھا
وہ اس روز روز کی اذیت سے تنگ تھی
پر وہ نہیں جانتی تھی کہ اصل اذیت تو اب شروع ہونے والی تھی ![]()
![]()
*********************
کیا اب میں نماز پڑھ سکتی ھوں ؟
اس کے سوال پر ڈاکٹر نے اسے دیکھا پھر مسکرا دیا
ہاں ضرور اب آپ نماز پڑھ سکتی ہیں ![]()
وہ اجازت دیتے ہو ئے بولا
لیکن ابھی بھی آپ کو احتیا ط کی ضرورت ہے
وہ سر ہلا کر رہ گئی
آج اسے چیک اپ کے لئے لایا گیا تھا
وہ جو کتنے ہی دنوں سے پوچھنا چاہتی تھی آج اس نے پوچھ ہی لیا
وہ نماز نہیں پڑھتی تھی لیکن اللّه سے باتیں کرتی تھی پر اسے لگتا اب وہ اسے جواب نہیں دیتا تھا
اب وہ اس کی باتیں غور سے نہیں سنتا
شاید یہ اس کا وہم ہے
وہ اکثر سوچتی نماز پڑھوں گی تو سب ٹھیک ہو جا ئے گا
وہ عرصے بعد نمز پرھنے جا رہی تھی
اس کا دماغ اب ٹھیک تھا
لیکن امتحان ابھی باقی تھا ![]()
اور کسی بھی امتحان کے اندر ہمارے لئے جو سبق پوشیدہ ہوتا ہے جب تک ہمیں وہ سبق حاصل نہیں ہوتا ہمارا امتحان ختم نہیں کیا جاتا ![]()
![]()
********************
اس نے اچھے سے وضو کیا
پھر جائے نماز پر جا کھڑی ہوئی
اس نے نماز شروع کی
لیکن یہ کیا ؟
اسے نماز یاد نہیں آ رہی تھی
وہ نماز بھول چکی ہے
اسے دھچکا لگا یہ کیسے ہو سکتا ہے
اسے سب یاد تھا تو نماز کیسے بھول سکتی ہے وہ ![]()
اس نے پھر سے شروع کی
لیکن پھر وہی ہوا اسکا دماغ خالی ہو چکا تھا
ایک بھی لفظ اسے نہیں آ رہا تھا
وہ کتنی ہی دیر بے بسی سی کھڑی رہی وہیں پھر تھک کر وہیں بیٹھ گئی
اسے شاہ یاد آنے لگا
اس کی آنکھوں کے سامنے جیسے ماضی کی فلم چلنے لگی
اسے ہر بات یاد آنے لگی
اسے پتہ ہی نا چلا وہ کب رونے لگی
پانی اس کی آنکھوں سے بہہ رہا تھا لیکن اسے احساس ہی نہیں تھا ![]()
ایسا کیسے ہو سکتا ہے میرے ساتھ
وہ جیسے صدمے میں بیٹھی تھی
اور پھر یہ روز ہی ہونے لگا اس کے ساتھ
وہ جیسے ہی نماز پڑھنے کھڑی ہوتی
اسے شاہ کی۔ یاد شدت سے آنے لگتی
وہ اسے دماغ سے جھٹک کر نماز پڑھنے کی کوشش کرتی تو اسے ایک بھی لفظ یاد نا آتا
اس کا دماغ خالی ہو جاتا وہ یاد کرتی رہتی اور آخر تھک کر وہیں بیٹھ کر رونے لگتی ![]()
![]()
اس کے دماغ سے شاہ کا خیال جیسے چپک کر رہ گیا تھا
ہر گھڑی ہر پل اسے بس شاہ کا ہی خیال رہتا سوتی تو آخری خیال اٹھتی تو پہلا
وہ تنگ آگئی تھی شاہ کے خیال اور یاد سے وہ اس سے اپنے دماغ کو آزاد کروانا چاہتی تھی
لیکن کروا نہیں پا رہی تھی
وہ مسلسل اذیت میں تھی ![]()
وہ نماز پڑھنے کی کوشش کرتی اسے کوئی لفظ یاد نا آتا
وہ اللّه کو پکارنا چاہتی اس کی زبان پر لفظ اللّه نا آتا ![]()
اسے کچھ بھی سمجھ میں نا آتا وہ کیا کرے
وہ روتی رہتی
ہر نماز کے وقت وہ وضو کرتی نماز پڑھنے کی کوشش کرتی لیکن اسے کچھ یاد نا آتا
اس کی حالت عجیب ہو گئی تھی
اس کا اللّه اس سے ناراض ہو چکا تھا
وہ پھر سے نا شکری کر رہی تھی
اس کو مہلت دی گئی تھی پر پھر بھی وہ اپنے مقصد کو بھول کر گمراہی میں زندگی خراب کر رہی تھی ![]()
اسے لگا تھا دنیا اس سے کھو گئی
اس سے عشق مزاجی چھن گیا
اسے صبر آنے لگا تھا
لیکن اب اس سے آخرت بھی چھن گئی تھی اب اس سے اللّه بھی دور ہو۔ گیا تھا
اب وہ کیسے صبر کرتی ![]()
یہ اذیت ہر اذیت سے بڑھ کر تھی
یہ تکلیف اسے اندر سے ختم کر رہی تھی
یہ۔ درد اسے توڑ رہا تھا
وہ بار بار اللّه کو پکارنے کی کوشش کرتی پر ہر بار ناکام ہوتی
وہ روتے روتے تھک گئی
اس کے آنسو خشک ہونے لگے
اس کا دل بنجر ہونے لگا
اس کا وجود کھنڈرات میں تبدیل ہونے لگا ![]()
وہ اندر سے مرنے لگی
وہ اب اور بھی گم سم رہنے لگی تھی
اسے جیسے اب کی بھی چیز میں دلچسپی نہیں رہی تھی
اس کا دماغ خالی ہو چکا تھا
اس کا وجود خالی ہو چکا تھا ![]()
وہ جسے بھی بتاتی سب اسے طرح طرح کے مشورے دیتے
لیکن ہر چیز بیکار چلی جاتی
اس کی حالت جوں کی توں رہتی
ہر وقت رونے اور پریشان رہنے سے اس کے سر کا درد بڑھنے لگا
وہ شدید بیمار ہو چکی تھی اور اس بار اس کی روح بیمار ہو چکی تھی ![]()
اور روح کا علاج صرف اس کے پاس تھا جو اس سے شدید ناراض ہو چکا تھا ![]()
![]()
***********************
پتہ نہیں کتنا عرصہ بیت گیا تھا
اسے اب نا دنوں کا پتہ ہوتا نا مہینوں کا
اس نے کسی بھی چیز کا حساب رکھنا چھوڑ دیا تھا اس شام
ملک توقیر گھر واپس آ ئے تو اپنی سالی کو اپنا منتظر پایا
رات کے کھا نے کے بعد انہوں نے اپنا مد عا بیان کیا ملک توقیر نے ابھی تک انہیں کوئی جواب نا دیا تھا اور وہ ان کے جواب کی منتظر تھیں
بھائی صاحب آپ سے ایک درخواست کی تھی ![]()
انہوں نے بات شروع کی
مجھے یاد ہے فرحانہ بہن
ملک صاحب نے آہ بھری
تو اب آپ کا کیا فیصلہ ہے بھائی ؟
انہوں نے پوچھا
فرحانہ بہن آپ جانتی ہی ہیں۔ حالات
میری بیٹی ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوئی اس کی زندگی میں جو ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے اس کے ساتھ اسے کافی وقت لگے گا سنبھلنے میں اس بارے میں آپ کو میں کوئی بھی تسلی بخش جواب دینے کی پو زیشن میں نہیں ھوں ![]()
![]()
فرحانہ بیگم نے ایک نظر بہن کو دیکھا
ٹھیک ہے بھائی صاحب پھر ہم اتنا انتظار نہیں کر سکتے
ہمیں پھر اجازت دیں ![]()
انہوں نے دبی دبی زبان میں کہا
ٹھیک ہے بہن جیسے آپ کا نظام چلتا ہے چلا ئیں اللّه پاک آپ کو کامیاب کرے ![]()
پاس بیٹھی اس کی مما کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں
انسان کچھ سوچتا ہے اور اللّه کچھ سوچتا ہے لیکن آخر ہوتا وہی ہے جو رب سوچتا ہے ![]()
![]()
***********************
بال دیکھو اپنے کتنے بڑے ہو رہے ہیں
پورے ملنگ لگ رہے ہو ![]()
وہ اسے دیکھ کر ہنسی تھی
میں ہوں ہی ملنگ بندہ ![]()
شاہ نے ایک اجلی مسکراہٹ کے سا تھ جواب دیا
ہاں ہاں نظر آ رہا ہے
نینا نے کافی کا مگ ہونٹوں سے لگایا
یقین نہیں کیا ![]()
شاہ نے حیران ہو کر اسے دیکھا
جناب ملنگ پینٹ شرٹ نہیں پہنتے اچھا ![]()
![]()
نینا نے جیسے اسے چڑا یا
میں ماڈرن ملنگ ہوں یارا ![]()
![]()
شاہ ہنسا
یہ سن کر وہ ہنسی اور ہنستی ہی چلی گئی
ماڈرن ملنگ ہاہا ہاہا اوہ شاہ تم بھی نا ![]()
![]()
میں بھی نا کیا ؟![]()
شاہ نے مسکراہٹ دبائی
بہت خراب ہو
نینا نے ہمیشہ کی طرح کہا
وہ تو میں ھوں ![]()
شاہ نے ماننے والے انداز میں کہا
کافی پیو ماڈرن ملنگ صاحب ![]()
نینا نے اسے کافی یاد دلائی
جو ٹھنڈی ہو رہی تھی
اور پھر وہ کتنے ہی دنوں اسی بات پر ہنستی رہی
کسی نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھا تھا
وہ ماضی سے حال میں آگئی پر
وہ یونہی بیٹھی رہی بے حس و حر کت
نینا تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟
ٹھنڈ میں وہ عینا تھی جو اب اس کے سامنے آ گئی تھی
وہ خاموشی سے اسے دیکھے گئی
اس کا دماغ خالی ہو گیا تھا
سارے لفظ کھو گئے تھے
پتہ نہیں عینا کیا کہہ رہی تھی اسے بس عینا کے ہونٹ ہلتے دکھائی دے رہے تھے
عینا نے اس کا ہاتھ تھاما
اوہ مائی گاڈ
تم تو ٹھنڈی پڑ گئی ہو کب سے یہاں بیٹھی ہو
چلو اندر وہ اسے پکڑ کر اندر لائی تھی بیڈ پر لٹا کر کمبل اوپر ڈال کر وہ پاس ہی بیٹھ گئی تھی لیکن نینا کو سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی
اسے خود بھی نہیں پتہ تھا وہ کب باہر گئی
عینا نے سائیڈ بدلی تو اسے بستر پر نا دیکھ کر وہ باہر آئی تھی جہاں وہ بنا شال کے بنا سویٹر کے ننگے پاؤں سخت سردی میں باہر کھلے آسماں تلے بیٹھی تھی
وہ اسی لئے اب نینا کے پاس ہی سوتی تھی
کیونکہ اکثر وہ اپنے حواسوں میں نہیں رہتی تھی کبھی وہ گھنٹوں گم سم سی ہو کر ایک ہی جگہ بیٹھی رہتی
کبھی ٹھنڈ میں باہر جا کر بیٹھ جاتی
کبھی کبھی وہ بیٹھے بیٹھے رونے لگتی وہ یاد ہی نا رہتا اس نے کب کھانا کھایا تھا
اسے بھوک کا احساس بھی نا رہتا وہ برف کا مجسمہ بنتی جا رہی تھی
اب وہ نماز پڑھنے کی کوشش نہیں کرتی تھی ![]()
اب وہ اکثر خاموش رہتی اسے لگتا اس کی بہن پاگل ہو رہی تھی آہستہ آہستہ اس کا رنگ روپ بگڑ چکا تھا
چمکتا دمکتا چہرہ ماندھ پڑ چکا تھا
کانچ جیسی چمکتی آنکھوں کا نور کھو چکا تھا آنکھوں کے نیچے پرے سیاہ ہلکے الجھے بال اسے دیکھ کر عینا کی آنکھیں بار بار بھیگتی وہ زندہ تو آگئی تھی پر زندگی اس سے روٹھ چکی تھی ![]()
اور جو لوگ زندگی کی طرح ہوں ان کو زندگی سے دور جاتے دیکھنا دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہے ![]()
![]()
![]()
********************
وہ مجھ سے اتنا ناراض ہے کہ مجھے اپنے سامنے کھڑا کرنے کے قابل بھی نہیں سمجھتا ![]()
اتنا ناراض ہے کہ اپنا نام بھی میرے ہونٹوں سے چھین لیا
اتنا کہ میرے دل کو بنجر کر دیا
میری آنکھوں سے آنسو نہیں گرتے ![]()
![]()
وہ اس وقت سجیلہ کے سامنے بیٹھی اسے بتا رہی تھی
آخر کیوں ناراض ہے وہ تم سے اتنا ؟
رب تو بہت مہربان ہے وہ تو اپنے بندوں کو فوراً معاف کر دیتا ہے
سجیلہ نے اسے غور سے دیکھتے ہو ئے کہا
مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہوگی اس لئے ناراض ہے ظاہر ہے
نینا نے اداسی سے کہا
تو تم توبہ کرو اس سے معافی مانگو وہ معاف کر دے گا ![]()
سجیلہ نے اسے سمجھایا
میں نے بہت کوشش کی توبہ کرنے کی بھی لیکن میرا دل پتھر ہو گیا ہے مجھے اس کے سامنے رونا نہیں آتا
میں توبہ کا لفظ بول نہیں پاتی
میں معافی بھی نہیں مانگ پا رہی میں کیا کروں ![]()
میں پاگل ہو رہی ھوں میرا دل اندر سے کٹ رہا ہے
پتہ ہے سجیلہ مجھے لگتا تھا شاہ سے بڑا میرا کوئی خسارہ نہیں ہو سکتا لیکن اب مجھے پتہ چلا کہ میرا سب سے بڑا خسارہ کیا ہے ![]()
یہ شاہ سے بھی بڑا خسارہ ہے میرا اللّه میرا سب سے بڑا اثاثہ ہے
میرے پاس جیسے اب کچھ بھی نہیں بچا
میں خالی دامن اور خالی ہاتھ رہ گئی ھوں
ایک خاکی انسان کے لالچ میں اپنے اللّه کو بھی۔ کھو دیا میں نے
ایک بات بتاؤں
وہ بولتے بولتے رکی اور سر اٹھا کر سجیلہ کو دیکھا
رات کے پچھلے پہر اکثر میری آنکھ کھل جاتی تھی اور میں اس سے باتیں کیا کرتی تھی مجھے نہیں پتہ وہ کیا تھا
محبت تھی ،عقیدت تھی، یا کچھ اور
لیکن اتنا ضرور پتہ تھا کہ یہ فرض تو نہیں تھا
پھر کیا تھا ؟
کچھ تو تھا جو اس کے اور میرے بیچ تھا ![]()
اس احساس کا کوئی مول نہیں تھا
میں جب جب اس کے سامنے بیٹھتی تھی مجھے یوں لگتا تھا
وہ میرے پاس ہے
وہ مجھ سے باتیں کر رہا ہے
اور میں ہر بات پہ کہتی
آپ سن رہے ھیں نہ
اللّه جی ؟
اور یوں لگتا وہ سن رہا ہے
اور وہ کہتا
ۗ وَمَا لَڪُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلَا نَصِيرٍ
اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار،
لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمیں دنیا کے خسارے مار دیتے ھیں
لیکن ایسا ہے نہیں
در اصل ہمیں اندر کا یہ احساس مار دیتا ہے
کہ اب اندر سے وہ آواز نہیں آتی ![]()
اب اللّه کا جواب نہیں آتا
میرے جیسے لوگ
بس اللّه کو ڈھونڈتے رهتے ھیں
اور یہ مسافت بہت صبر آزما ہے ![]()
![]()
وہ کہتے کہتے رونے لگی
اور سجیلہ کی بھی آنکھیں بھیگ چکی تھیں ![]()
واقع ہمارا سب سے بڑا اثاثہ تو اللّه ہوتا ہے
اور سب سے بڑا خسارہ اللّه سے دوری ہوتا ہے ![]()
![]()
![]()
