Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 12
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 12
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا
جب اچانک اس کی آنکھ کھل گئی
کتنی ہی دیر اسے سمجھ نہ آئی کہ اسکی آنکھ کیوں کھلی پھر ایک ہوا کا جھونکا آیا
جس نے اسے چونکا دیا وہ بستر سے اٹھا
کتنی ہی دیر با لکونی میں کھڑا رھنے کے بعد اس نے چابی اٹھائی اور باہر نکل گیا
قبرستان میں اس وقت مکمل سناٹا تھا
وہ چلتے چلتے ایک قبر کے قریب آیا پھر سرہانے بیٹھ گیا
کتنی ہی دیر وہ وہاں بیٹھ کر باتیں کرتا رہا پھر تلا وت کرنے لگا
وہ اکثر راتوں کو یہاں آجاتا
جان شاہ سے باتیں کرتا
پھر اسے تلا وت سناتا اور واپس چلا جاتا
. ***************
جلدی جلدی چلو بہت دیر ہو گئی ہے زوہا
وہ بھاگم بھاگ تیار ہو کر آئی تھی
عینا آجا یار وہ میر۔ جان کو آجا ئے گی چڑیل ![]()
نینا نے کلا ئی میں گھڑی باندھی
بس آئی میرا چشمہ نہیں مل رہا ![]()
وہ پتہ نہیں کہاں سر کھپا رہی تھی
آج سجیلہ کی سالگرہ تھی اور وہ لوگ اس کے ہاں جا رہے تھے
اتنی دیر ہو رہی ہے اور یہ دونو ![]()
ادھر بار بار اس کے میسج آ رہے تھے
اللّه اللّه کر کے وہ لوگ تیار ہوئی اور نکلی
گھر میں خوب چہل پہل تھی سجیلہ کے سسرال والے بھی آئے ہوئے تھے اور اسکی کزن وغیرہ بھی
وہ آتے ہی پارٹی کی تیاری میں لگ گئی سجیلہ نے سب کو ہی انوائٹ کیا تھا
ان کا گروپ بھی یہاں تھا
سبھی کسی نا کسی تیاری میں لگے تھے
تو چل میرے ساتھ ذرا
سجیلہ اسے ساتھ لئے اندر کو بڑھی
اندر زوہا بھی انتظار کر رہی تھی
بتا میں کونسا ڈریس پہنو ں ؟
سجیلہ نے کچھ لباس اس کے سامنے رکھے
آج تو فراک پہن لے
نینا نے ایک خوبصورت سا فراک اس کے لئے منتخب کیا
میرون کلر کا فراک پہ گولڈن موتیوں سے سجا ہوا تھا
ساتھ میچنگ جیو لری اور جوتے بھی الگ کیے
زوہا میری جان کو بہت اچھے سے تیار کرنا ![]()
اس نے زوہا کو جتایا
ہاں تاکہ مجھے نظر لگ جائے
سجیلہ نے اسے چھیڑا
ارے واہ ایسے کیسے لگ جائے گی
نظر کا بھی منہ تو ڑ دیں گے ہم ![]()
نینا نے آنکھ دبائی ![]()
ہاں اس کام میں تو تم ماہر ہو ![]()
زوہا نے اسے گھورا
جتنا مرضی گھور لو مجھے فرق نہیں پڑتا
نینا نے کندھے اچکائے
ہاں ہم پہ ہر چیز بے اثر ہے ![]()
سجیلہ نے بھی دانتوں کی نمائیش کی
پتہ نہیں تم لوگوں کا کیا ہوگا
کچھ نہیں بس ویاہ ہوگا ![]()
سحر اندر داخل ہوئی تھی
ہاں بس تیری کمی تھی ![]()
تو جا کچن میں ہمارے لئے کھانا بنا ![]()
سجیلہ نے اسے چھیڑا
سحر بہت اچھا کھانا بناتی تھی
اس لئے وہ آنٹی کے ساتھ کچن میں پائی جاتی تھی ![]()
چل میں کوئی تم لوگوں کی ماسی ہوں
سحر نے برا سا منہ بنا کر لپسٹک اٹھائی
یہ نا لگانا تو
کہیں سب لوگ ڈر کر بھاگ ہی نا جائیں ![]()
نینا نے ٹکڑا لگایا
اگر تجھ سے ڈر کر نہیں بھاگے نا تو مجھ سے ڈر کر بھی نہیں بھاگیں گے سمجھی
ہٹلر دیدی ![]()
سحر نے برا سا منہ بنایا
اس بات پر زور دار قہقہ پڑا تھا
سب تیا ر تھا
کاٹو کیک اب
نینا سجیلہ کے پیچھے کھڑی تھی
ایک منٹ
بس ختم ہوا انتظار
اس نے سامنے دیکھا
آنے والے کو دیکھ کر نینا نے سجیلہ کے کان سے منہ لگایا
اسے کس نے بلایا ؟
میں نے
سجیلہ نے مسکرا کر کہا
پر کیوں ![]()
نینا کو اچھا نہیں لگا تھا
کم آن نینو وہ بھی ہمارے گروپ کا حصہ ہے اب ![]()
سجیلہ نے اسے دیکھا
کوئی حصہ نہیں ہے سمجھی
وہ بس ایک مشن تھا جو ہم سب نے مل کر پورا کیا بس بات ختم![]()
نینا نے برا سا منہ بنایا
شاہ اب ان سب کے بیچ پہنچ چکا تھا
سجیلہ نے کیک کاٹا
سب نے تالیاں بجائی
پھر سب باری باری اسے گفٹ دینے لگے
نینا نے اسے ایک فوٹو فریم دیا تھا
جس میں سجیلہ اور نینا کی ایک ساتھ پکچر تھی ![]()
سب سے لاسٹ میں سجیلہ کے منگیتر نے اسے گفٹ دیا وہ ایک موبائل تھا
سجیلہ نے سب کو ایک بار پھر سے شکریہ کہا
اب کھا نے کا دور شروع ہوا
شاہ اپنی پلیٹ لے کر ان کے پاس چلا آیا تھا
کیا میں ہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟
اس نے اجزت چاہی
بیٹھو
نینا نے اشارہ کیا
مس نینا تمہیں دیکھ کر ایسا کیوں لگ رھا ہے جیسے تمہیں میرا یہاں آنا ا چھا نہیں لگا ؟
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے مسٹر شاہ ![]()
نینا نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا
ویسے مجھے سجیلہ نے بلایا تھا
اس نے سجیلہ کی طرف دیکھا
ہاں پتہ ہے
نینا کھانے میں مصروف ہو چکی تھی
ویسے آپ کی سالگرہ کب ہے ؟
وہ پوچھ بیٹھا
2 مہینے بعد
سجیلہ نے اس کے بولنے سے پہلے ہی جواب دے دیا
اچھا اور آپ کتنے سال کی ہو گئی ہیں ؟
شاہ نے سجیلہ سے پوچھا
تمہیں کسی نے یہ نہیں بتایا
کہ لڑکیوں سے ان کی عمر نہیں پوچھتے
نینا نے گلاس منہ سے لگایا
ا وہ رئیلی ![]()
شاہ کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی
نینا نے آج پہلی بار دیکھا تھا
شاہ کے گال میں پڑتا ڈمپل![]()
اب مجھ سے مت پوچھنا ہاں
نینا نے ہاتھ صاف کیے
بلیو جینز اور لائٹ سکائی گھٹنوں تک آتی شرٹ گلے میں دوپٹہ بالو کی پونی ٹیل بنائے بے نیاز سی بیٹھی تھی وہ
ایک کلائی میں گھڑی ایک میں بر یسلٹ پہنے میک ا پ سے پاک چہرے پہ سیاہ بالوں کی کچھ لیٹیں اٹھکلیاں کر
کرتی کبھی ادھر جھول رہی تھیں کبھی ادھر
کانچ جیسی آنکھیں اس وقت چشمے سے آزاد تھیں
شاہ نے دل چسپی سے اسے دیکھا
اور اگر پوچھ لوں تو ؟
تو میں کونسا بتا دونگی ![]()
وہ مسکرا ئی
وہ بھی مسکرا دیا
سڑیل تم مسکراتے بھی تو ![]()
اس نے شرارت سے زبان دانتوں میں دبائی
کس نے کہا میں سڑ یل ہوں ؟
شاہ نے ابرو اٹھا ئے
میں نے
نینا ملک نے نینا نے کا لر جھاڑا
میں نے تمہارا نام رکھا ہے ![]()
نینا نے اسے چڑا یا
تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا لڑکی
شاہ نے افسوس سے سر ہلایا
اس کا واقع کچھ نہیں ہو سکتا
سجیلہ نے پیار سے نینا کو دیکھا
یوں ایک خوبصورت شام کا اختتا م ہوا ![]()
. ***************
2 دن سے وہ آن نہیں گئی تھی
رات کے کھانے سے فری ہو کر اس نے لیپ ٹاپ اٹھایا
سب سے پہلی چیز جس پر اس کی نظر پڑی وہ شاہ کی پرسو کی لی گئی تصویر تھی
جس میں اس نے چشمہ نہیں لگا رکھا تھا
ذہانت سے چمکتی ہوئی سیاہ آنکھیں![]()
جن پر گھمبیر پلکوں کا خوبصورت سا سایہ تھا
وہ غور سے دیکھنے لگی
اس نے کبھی بھی شاہ کو غور سے نہیں دیکھا تھا وہ جب جب بھی اس کے سامنے ہوتا تھا
اس نے سرسر ی نظر ڈالی ہمیشہ اس پہ
بلکہ اس نے کبھی کسی کو بھی غور سے نہیں دیکھا تھا
اس نے نیچے کومنٹ کر دیا
“سادہ سے اک چہرے پہ دو جادوگر سی آنکھیں ہیں “
اسی وقت کومنٹ کا جواب آیا تھا
کیا سچ میں ؟
اس نے بنا کچھ کہے پیج اوپن کر لیا
اب وہ اکثر اس کے گروپ میں پوسٹ کرنے لگی
اکثر ان باکس ان کی بات بھی ہونے لگی تھی
وہ کبھی کوئی کام بول دیتا نینا کو کبھی گروپ کی ڈی پی بنا کر چینج کرنے کو کبھی کوئی خاص پوسٹ کبھی کبھی ویڈیو ایڈٹ کرنے کو وہ کر دیتی جو بھی کام وہ کہتا
کڑوی کسیلی باتیں سنائے بنا ![]()
اب وہ اس سے ذرا کم ہی لڑتی تھی
پر اسے چڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے بھی نہیں دیتی تھی
اب وہ اکثر لائبریری میں بھی ساتھ دیکھے جاتے
اور کینٹین پہ بھی اکثر کافی ساتھ بیٹھ کر پیتے
اس بیچ بہت ساری باتیں بھی ہوتی
شاہ نے ان کے ساتھ مل کر اور بھی 2/3 مشن
(بقول نینا کے)
مکمل کیے تھے
لیکن ان دونوں کی بنتی اب بھی کم ہی تھی
**************
کیا بات ہے آج تو اتنی چپ چپ کیوں ہے ؟
وہ کب سے نوٹ کر رہی تھی کہ سجیلہ چپ چپ ہے
آخر اس نے پوچھ ہی لیا
کچھ نہیں یار
سجیلہ نے گھاس توڑتے ہوئے کہا
تیری شکل بتا رہی ہے کہ کچھ تو ہوا ہے
نینا نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا
بس یونہی ۔۔۔۔۔
وہ نظر چرا گئی
سجیلہ پہلی بار تو مجھ سے ایسے بول رہی ہے
بتا کیا بات ہے ؟
اسد سے جھگڑا ہوا کیا ؟
اس نے اندازہ لگایا
ہاں یار
سجیلہ نے سر ہلایا
کیوں ؟
اس نے وجہ پوچھی
بس یونہی چھوٹی چھوٹی بات پہ پتہ نہیں کیوں لڑنے لگتے ہیں ہم
وہ اچھی خاصی اداس تھی
تیرے منگیتر کو اپنے انداز میں سمجھاؤں کیا ؟
نینا نے آنکھیں گھمائیں
یہ دیکھ ![]()
تیری مہربانی سجیلہ نے ہاتھ جوڑ دیے
پھر اس کو بول انسان بن کے رہے میری جان کو پریشان نا کرے ![]()
نینا نے سجیلہ کو ساتھ لگایا
اور اداس مت ہو
مان جائے گا وہ اور کہاں جائے گا ویسے بھی تو اس کے گلے پڑی ہوئی ہے اب تو ![]()
سجیلہ نے اسے مکا مارا بہت ہی بد تمیز ہے تو ![]()
ہاہا تعریف کے لئے شکریہ ![]()
نینا بھلا کہاں پروا کرنے والی تھی ۔![]()
************
لا ئبر یر ی میں داخل ہو کر وہ ایک کتاب ڈھونڈنے کو آگے بڑھی تھی پر کسی آواز نے جیسے اس کے قدم پکڑ لیے تھے
وہ آواز کی طرف کھنچی چلی گئی
جس آواز نے اسے بے خود کر کے اپنی طرف کھینچا تھا
وہ تلاوت قرآن کی آواز تھی
وہ شاہ تھا جو ایک سائیڈ پہ بیٹھا تلاوت کر رھا تھا
وہ آنکھیں بند کیے بڑے جزب سے تلاوت کرنے میں مگن تھا
اس کی آواز بے حد خوبصورت
تھی اور وہ اتنے خوبصورت انداز میں پڑھ رہا تھا کہ وہ وہیں سننے کھڑی ہو گئی
اس لمحے شاہ اسے جتنا خوبصورت لگا آج سے پہلے کبھی نہیں لگا تھا
وہ ایک ٹک اسے دیکھے گئی![]()
وہ خاموش ہو چکا تھا پر نینا ویسی کی ویسی ہی کھڑی تھی
شاہ نے آنکھیں کھولی
سامنے اسے دیکھا کھڑے
ایسے کیوں کھڑی ہو نینا ؟
اس نے پوچھا
وہ چونک کر جیسے کسی طلسم سے باہر آئی تھی
یہ تم کیسے ؟مطلب قرآن ،؟
میں حافظ قرآن ہوں
شاہ اس کی بات سمجھ کر ہلکا سا مسکرا یا
اچھا وہ سمجھ کر سر ہلاتی بیٹھ گئی
کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ؟
وہ پوچھے بنا نا رہ سکا
نہیں کچھ نہیں
وہ جانے کو اٹھی
کہاں جا رہی ہو ؟
شاہ نے پیچھے سے پکارا
وہ چپ چاپ چلی گئی تھی
****************
رات کا نا جانے کونسا پہر تھا جب موبائل کی تیز آواز نے اسے جگا دیا
اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا
سکرین پر شاہ کا نام جگمگا رھا تھا
اس وقت ![]()
اس نے گھڑی دیکھی پھر موبائل کان سے لگایا
ہیلو
جان شاہ …….
دوسری طرف سے شاہ نے ہیجان خیز انداز میں کہا
نینا کا دل جیسے تھم گیا تھا
وہ جیسے برف کی ہو گئی تھی
ہیلو ہیلو
تم سن رہی ہو ؟
شاہ نے گھبرا کر کہا
ہاں وہ بمشکل بول پائی
کچھ دیر میرے پاس رہو پلیز ![]()
وہ تڑپ کر بولا
سن رہی ہوں شاہ ……
لیکن وہ سن نہیں رہی تھی
اس کے کانو میں بس وہی الفاظ گونج رہے تھے
جان شاہ
جان شاہ
جان شاہ
**************
آج وہ یونیور سٹی بھی نہیں آیا تھا
وہ انتظار کرتی رہی
رات کیا ہوا تھا شاہ کو ؟
وہ سوچتی رہی
یونیورسٹی سے آ کر وہ کئی بار سوچ چکی تھی کہ شاہ کو پوچھے
اب وہ کیسا ہے
رات وہ بہت ڈپر یشن میں تھا
شام کے قریب آخر اس نے آئ ڈی لاگ ان کی اور گروپ میں دیکھا اس کی کوئی پوسٹ نہیں تھی ان باکس اس کا پرانا میسج پڑا تھا اس نے جواب دیا پھر پوچھا
کیسے ہو؟
ٹھیک ہوں
آئی ایم سوری
شاہ نے معزرت کی
رات میں نے بہت پریشان کیا
تمہیں پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا مجھے
کبھی کبھی مجھے ڈپریشن کا دورہ پڑ جاتا ہے
پتہ نہیں کیوں تمہا را نمبر ملا بیٹھا میں ![]()
اس نے معزرت کی
کوئی بات نہیں نینا نے بات ختم کی
پر بہت ساری باتیں ہم تو ختم کر دیتے ہیں اپنی طرف سے لیکن در حقیقت وہ ختم ہوتی نہیں ہیں ![]()
![]()
![]()
