Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 14
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 14
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
ملتان کا موسم آج کل کچھ مہربان تھا لوگوں پر
دن میں اچھی۔ خاصی دھوپ ہوتی اور پر رات میں ٹھنڈ پڑ نے لگی تھی
عجیب موسم میں عجیب کیفیات کا شکار تھی وہ
اس نے جھکے جھکے اپنے سفید پاؤں کو حرکت دی
اس کے پاؤں سن ہونے کو تھے
اتنی دیر سے بیٹھی تھی وہ یہاں
اس نے جوتا اتار کر پاؤں ٹھنڈے فرش پر رکھے سکون سا اتر گیا اس کے اندر
اس نے ایک بار پھر “O”T” کی طرف دیکھا
پھر اپنا موبائل نکال کر چیک کیا جس پر تھوڑی دیر پہلے ایک میسج آیا تھا
مسیج شاہ تھا
“لکھا تھا کل آ رہا ہوں میں”
اسے سمجھ میں نا آیا کہ وہ کیا کہے
بنا کچھ جواب دیے اس نے موبائل جیب میں رکھ لیا
تبھی” O.T ” کا دروازہ کھلا وہ اٹھ کا مما کے پاس چلی آئ
******************
اس نے شہر میں داخل ہو کر ایک گہری سانس لی
ایک عجیب سی خوشبو جیسے اس کی سانسوں میں اتر گئی
وہ یہ سوچ کر مسکرا دیا کہ اسی ہوا میں وہ بھی سانس لیتی ہے
اس ہوا میں اس کی سانسوں کی خوشبو بھی بسی ہے ![]()
اس نے اپنا موبائل نکالا اور اس کا نمبر ملایا
دوسری طرف سے کال اٹینڈ کر لی گئی تھی
شاہ نے ایک بار پھر گہری۔ سانس لی
نینا …….
خاموشی کو شاہ نے ہی توڑا
ہاں بولو شاہ ؟
نینا نے ٹھہرے ہو ئے انداز میں کہا
کہاں ہو ؟
شاہ نے اگلا سوال کیا
ہسپتال
جواب مختصر آیا تھا
میں آجاؤں ؟
شاہ نے پوچھا
“نہیں “
نینا نے روک دیا
ہم۔ گھر جا رہے ہیں
اچھا ٹھیک ہے کل ملتے ہیں پھر
شاہ نے گفتگو کو سمیٹا
اوکے بائے
نینا نے فون بند کر دیا
***************
آخر مسلہ کیا ہے تم لوگوں کا ؟
وہ سجیلہ کے سامنے بیٹھی اس کا مسلہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی
پتہ نہیں یار
کسی نا کسی بات پر ہم لوگ لڑ ہی پڑتے ہیں جتنی بھی میں کوشش کر لوں کہ نا جھگڑا ہو
سجیلہ نے اپنی بے بسی بتائی
میں اسد سے بات کرتی ہوں
نینا نے حل نکالا
بات اور بگڑ جا ئے گی یار
کچھ نہیں ہوگا تو فکر نا کر
نینا نے تسلی دی اسے
چھوڑ یار تو بتا آنٹی اب کیسی ہیں ؟
ہاں وہ ٹھیک ہیں اب
اس نے کلائی بندھی گھڑی دیکھی
شاہ نے کچھ کہا پھر ؟
سجیلہ نے پوچھا
نہیں ابھی تک تو نہیں
تیرا کیا خیال ہے کہ وہ کیا بات کرے گا ؟
پتہ نہیں یار
بس اللّه کرے جو بھی بات ہو اس کے اور میرے حق میں بہتر ہو
نینا نے پرس سے چوکلیٹ نکالی
یہ دیکھ ہماری پسند کی چوکلیٹ
چھوڑ ساری۔ فکریں آرام سے کھا
نینا نے اسے چوکلیٹ تھمائی
اس سے کیا ہوگا
سجیلہ نے لے کر چوکلیٹ کھولی
اس سے ![]()
![]()
تو پہلے کھا پھر بتاتی ہوں
نینا نے بھی کھانی شروع کی
تجھے پتہ ہے
جب ہم پریشان ہوں تو اپنی پسند کی کوئی چیز کھانے سے ہماری پریشانی کم ہو جاتی ہے
نینا نے منہ میں چوکلیٹ لے کر مزے سے کھاتے ہوئے آنکھیں بند کی
ہاہا ہاں بس بس تو اور تیرے فلسفے
سجیلہ ہنسی
لے نا مان پر یہی سچ ہے
نینا نے مسکرا کر اسے دیکھا
اچھا ایک بات بتا
سجیلہ نے اس کے پرس سے دوسری چوکلیٹ نکالتے ہوئے کہا
ہاں پوچھ
نینا نے لاسٹ ٹکڑا منہ میں رکھا
تیرے اعصاب اتنے مظبوط کیسے ہیں کہ تو پریشانی میں بھی نہیں گھبراتی
سجیلہ نے اسے رشک سے دیکھا
وہ اس لئے میری جان کیونکہ میں فوراً فیز 3 میں پہنچ جاتی ہوں کسی بھی طرح کے اچانک پیش آنے والے غیر معمولی حالات میں انسان 3 فیز سے گزرتا ہے
فیز 1 خوف کا فیز
جب انسان کو سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا
فیز 2 جب وہ ان حالات کوتسلیم کر لیتا ہے
کسی بھی چیز سے نمٹنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اسے تسلیم کرنا ہوتا ہے
حالات کو تسلیم کریں اس کے بعد ہی آپ اس سے نمٹنے کا طریقہ سوچ سکتے ہیں
اور فیز 3 جب انسان ان حالات پر غور کر کے ان سے نمٹنے کا پلان ترتیب دیتا ہے ![]()
![]()
ہم میں سے زیادہ لوگ فیز 1 میں ہی الجھے رهتے ہیں
کسی بھی قسم کے خطرناک حالات میں ڈر کر رونا شروع کر دیتے ہیں
اور اگر کوئی فیز 2 تک پہنچ جائے تو اس چیز کو وہ تسلیم ہی کر پاتے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ کیوں ہو سکتا ہے
بہت کم لوگ صحیح وقت پر فیز 3 پہنچتے ہیں جہاں وہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کر کے بہت ساری چیزوں کو صحیح کر سکتے ہیں
اس لئے جب بھی کوئی کوئی مشکل وقت آئے تو فوراً خوف سے نکل کر اس چیز کو تسلیم کر لیں اور فیز 3 میں داخل ہو جائیں
اور یہ سوچیں کہ اب اس مشکل سے کیسے نمٹا جائے
نینا نے اپنی بات مکمل کر کے سجیلہ کو دیکھا
اچھا کوشش کرتے ہیں ![]()
سجیلہ نے عزم سے کہا
اور کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی ![]()
نینا نے اسکا کندھا تھپکا
***************
وہ اس وقت اس کے سامنے بیٹھا تھا
ہمیشہ کی طرح بلیک ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ میں آنکھوں میں بلیک چشمہ لگائے کلائی میں سیاہ گھڑی پہنے بال پیچھے کو سیٹ کیے چہرے پہ نرم۔ سا تاثر لئے وہ اسے دیکھ رہا تھا
نینا نے نظر چرائی وہ اسے دیکھنا نہیں۔ چاہتی تھی
مجھے تم سے یہ کہنا تھا کہ………
شاہ نے ذرا توقف کیا
نینا کا دل ڈوب کے ابھرا
نینا ملک کیا تم میری دوست بننا پسند کرو گی ؟؟
شاہ اس کے سامنے اپنی چوڑی سفید ہتھیلی پھیلائے پوچھ رہا تھا
نینا نے گہری سانس لی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی
اس نے شاہ کی پھیلی ہوئی ہتھیلی کو دیکھا پر ہاتھ آگے نہیں بڑھایا
میری آج تک کوئی دوست نہیں ہے تم دنیا کی پہلی واحد لڑکی جسے کی ہو شاہ دوست بنانے کے قابل سمجھتا ہے
اور آفر کر رہا ہے
شاہ نے اس کی کانچ جیسی آنکھوں میں دیکھا
نینا نے جیسے کسی طلسم کے زیر اثر اپنا مخملی ہاتھ شاہ کے ہاتھ پہ رکھا
شاہ کی آنکھیں چمکنے لگی
شکریہ ![]()
شاہ نے سر ذرا سا خم کیا
نینا بس اس کی گال میں پڑنے والے ڈمپل کو دیکھتی رہی
اور وہ یہ بھول گئی کہ
” ایک عورت اور مرد کبھی بھی صرف دوست نہیں ہو سکتے “
***************
زوہا کے سسرال والے آئے تھے
شادی کے دن رکھنے وہ تیار ہو کر نیچے آئ تو سب اسے دیکھ کر ایک دوسرے کے کان میں سرگو شی کرنے لگے
اس نے ایک۔ بار پھر خود پہ نظر دوڑائی
پھول دار ٹراؤذر کے ساتھ سادہ گرین شرٹ پہنے وہ اچھی تو لگ رہی تھی
پر شاید ان کے معیار کے مطابق نہیں تھی
اس نے سر جھٹکا
دفع کر نینا لوگوں کی سوچ
وہ آگے بڑھ آئ اور۔ سجیلہ کا ہاتھ تھامے اسے ایک طرف لے گئی
کیا میں اچھی نہیں لگ رہی ؟
ارے کیوں نہیں تو بہت اچھی لگ رہی ہے۔![]()
سجیلہ نے اس کی بلا ئیں لی
اس نے سکون کی سانس لی
اچھا بتا نا شاہ نے کیا کہا ؟
نینا نے اسے سب بتادیا
اور تو نے ہاں کر دی ![]()
اس نے حیرت سے نینا کو دیکھا
ہاں
نینا نے سر ہلایا
پر کیوں ؟
سجیلہ نے سر پیٹ لیا
پتہ نہیں کیوں ![]()
نینا نے کندھے اچکائے
کہیں وہ تجھے اچھا تو نہیں لگنے لگا ؟
سجیلہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا
بکواس نا کر
یہ اب میرے لئے نہیں ہے ![]()
نینا نے اسے مکا دکھایا
ہاں ہاں سب ایسے ہی کہتے ہیں ![]()
سجیلہ نے اسے چڑا یا
منہ نا تڑوالینا اب مجھ سے
نینا نے اسے آنکھیں دکھائی
پر وہ بھی کہاں باز آنے والی تھی
. **************
آدھی رات کے وقت شاہ کا مسیج آیا
وہ سوئی ہوئی تھی
پتہ نہیں کیسے اس کی آنکھ کھل گئی
تم سوئی نہیں ؟
شاہ نے پہلا سوال کیا
سوئی ہوئی تھی اس نے کئی بار کا دیا جواب پھر سے دہرایا
اچھا ایک بار بتاؤ
شاہ نے کہا
ہاں پوچھو ؟
نینا نے جواب لکھا
تمہاری آنکھ کیسے کھل جاتی ہے ؟
نینا نے تھوڑی دیر سوچا
پھر ٹائپ کیا
پتہ نہیں ![]()
کہیں تم میرا انتظار تو نہیں کر رہی تھی ؟
شاہ نے اگلا سوال۔ داغہ
میں اور تمہارا انتظار
خوش فہمی ہے تمہاری
کیا سچ میں ؟
پتہ نہیں وہ اسے ستا رہا تھا یا یقین کرنا چاہ رہا تھا
بلکل نینا نے دو ٹوک انداز میں کہا
پھر باتوں کا یہ سلسلہ رات 3 بجے تک چلتا رہا
اور اب اکثر ہی ایسا ہوتا
12 بجے کے بعد شاہ کا مسیج آتا اور پھر باتوں کا یہ سلسلہ چلتا رہتا
اسے پتہ ہی نا چلا کہ کب وہ اس مسیج کا انتظار کرنے لگی اور کب اسے اس سے بات کرنے کی عادت ہو گئی
اور عادتیں تکلیف دیتی ہیں پھر چاہے وہ چیزوں کی ہوں یا خدا کے بندوں کی ![]()
****************
زوہا کی شادی کی شا پنگ زور و شور سے جاری تھی ہر کوئی اپنی اپنی پسند کی چیزوں کے پیچھے دیوانہ ہو رہا تھا
پر اس نے ابھی تک کچھ بھی نا لیا تھا
نا اسے شوق تھا
ہاں وہ گھر والوں کا ساتھ دیتی ہر معاملے میں پر اس کی اپنی ہر چیز ابھی رہتی تھی
شادی پے خدا کے لئے کوئی ڈھنگ کی ڈریسنگ کر لینا
یہ زوہا تھی جو اپنے لئے اپنے وزن سے زیادہ وزنی لہنگا لئے بیٹھی تھی
نینا نے کن نظرو ں سے اسے دیکھا
تیرا ہو گیا نا بس تو چپ رہ
نینا نے اسے ٹوک دیا
ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے وہ
مما نے بھی اسے لتا ڑا
کیا مما آپ بھی ![]()
نینا نے بد مذگی سے انکو دیکھا
تیرے باپ نے کچھ زیادہ ہی سر پے چڑھا رکھا ہے تجھے
مما نے پاپا کو بھی بیچ میں گھسیٹا
نینا چپ۔ چاپ وہاں سے کھسک گئی
کہ اب یہی بہتر تھا
*****************
وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے اس وقت ایک نیا مشن ڈسکس کر رہے تھے جب شاہ کی بے تجہی محسوس کر کے نینا نے اسکی توجہ اپنی طرف کرنے کے لئے میز پہ ہاتھ مارا
دھیان کہاں ہے تمہارا شاہ
اس لڑکی کو دیکھو کتنا پیارا فراک پہن رکھا ہے اس نے
شاہ نے ایک طرف۔ دیکھتے ہوئے کہا
نینا نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا
پنک کلر کے فراک میں وہ لڑکی اسے نظر آگئی نینا کے ماتھے پہ بل پڑے
اس لباس میں ایسا کیا ہے ؟
نینا نے پوچھ لیا
بس مجھے اچھی لگتی ہیں لڑکیاں فراک پہنے بالکل اپسرا لگتی ہیں
شاہ مسکرایا
اس لمحے نینا کو شاہ کا ڈمپل بھی زہر لگا
تمہیں ایسی ڈریسنگ پسند ہے ؟
نینا نے پھر لڑکی کو دیکھا
ہاں بہت
شاہ نے پھر مڑ کر لڑکی کو دیکھا
نینا نے غور سے لڑکی کو دیکھا
پنک کلر کا فراک پہنے ہلکے میک ا پ میں ساتھ ہم رنگ چوڑیاں پہنے پاؤں میں ہیل والا جوتا پہنے بال بڑے سلیقے سے بنائے بلا شبہ وہ لڑکی کافی حسین لگ رہی تھی
پھر نینا نے ایک۔ نظر خود پر ڈالی
بلو جینز کے ساتھ آف وائٹ شرٹ پہنے بالوں کی پونی ٹیل بنائے ایک ہاتھ میں گھڑی پہنے دوسری کلائی خالی بنا کسی بھی میک ا پ کے بغیر کسی جیولری کے وہ اپنے حلیے سے بے۔ نیاز بیٹھی تھی
جیولری کے نام پر بس ایک رنگ اور ایک لاکٹ اس کے گلے میں ہمیشہ لٹکتا رہتا تھا جس پر اللّه لکھا تھا اسے وہ ہمیشہ اپنے سینے سے لگائے رکھتی تھی
اسے یاد نہیں پڑتا تھا کہ اس نے کبھی زندگی میں فل میک ا پ کیا ہو
اس نے آخری بار کاجل کب لگایا تھا یاد کرنے پر بھی اسے یاد نا آیا
وہ کبھی بھی جیو لری نہیں پہنتی تھی وہ کبھی میک ا پ نہیں کرتی تھی وہ کبھی چوڑیاں نہیں پہنتی تھی
وہ کبھی بھی ہیل والا جوتا نہیں پہنتی تھی
ا ن سب چیزوں۔ پر ہمیشہ زوہا سے اس کی بحث ہوتی تھی
کبھی کسی خاص موقعے پر زوہا زبردستی اسے لیپسٹک لگا دیتی یا کاجل اس پر بھی وہ بڑ بڑ کرتی رہتی
وہ ہمیشہ ایک۔
جیسے حلیے میں رہتی تھی اور نا ہی کبھی گھر باہر جاتے ہو ئے اس نے کوئی اور جوتا پہنا تھا یا کوئی اور ڈریس چینج کی تھی یا کچھ بھی وہ جیسے گھوم رہی ہوتی ویسی ہی نکل کھڑی ہوتی
وہ ایسی ہی تھی ہمیشہ سے لا
پرواہ بے نیاز اور مگن پر آج پہلی بار اس نے خودپہ غورکیا تھا
وہ جان نہیں پا رہی تھی پر وہ شاید چینج ہو رہی تھی
اور بد لاؤ اچھا ہو یا برا وقتی خوش آئین نظر آتا ہے لیکن دیتا وہ ہمیشہ تکلیف ہی ہے ![]()
![]()
![]()
