Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 22
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 22
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
ڈرائینگ روم میں اس وقت بالکل خاموشی تھی
ایک گہری خاموشی
ایسی خاموشی جس کے بعد طوفان آیا کرتے ہیں
سامنے کے صوفے پہ مما نی جان اور ان کی بیٹی بسمہ ایک دو سرے سے لگی بیٹھی رو رہی تھیں
ساتھ والے صوفے پہ ماموں جان اور جیجا جی سر جھکائے بیٹھے تھے
اور ان سب کے سامنے پاپا صو فے پہ بیٹھے افسوس سے ان سب کو دیکھ رہے تھے
ساتھ مما بیٹھی تھیں جو اپنے آنسو صاف کر رہی تھیں
پیچھے نینا ،عینا اور زوہا کھڑی تھیں
زوہا کا ہاتھ نینا کے ہاتھ میں تھا
تھوڑے فاصلے پہ انسپکٹر توصیف اور بھیا کھڑے تھے
جو کن اکھیوں سے کبھی نینا اور زوہا کو دیکھتے تو کبھی وہاں بیٹھے نفوس کو
زوہا کا ڈریس چینج ہو چکا تھا
بال سمیٹ کر ڈوپٹہ اوڑھ رکھا تھا اب اس نے
اس کا منہ دھلا ہوا تھا
چہرے پہ سوجن صاف نظر آ رہی تھی
اور ہونٹ کا زخم کافی بد نما دکھا ئی دے رہا تھا
ماموں بار بار پاپا سے معافی مانگ رہے تھے
اور جیجو کبھی زوہا کو دیکھتے کبھی مما کو
ماموں کہہ رہے تھے
توقیر ایک بار معاف کر دے ہمیں بچی سے غلطی ہو گئی ہم ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہیں
پولیس میں رپورٹ مت لکھوا
تمہاری منت کرتا ہوں میں
مظفر میں نے تم لوگوں کو بیٹی یہ سوچ کر دی تھی کہ تم اپنے ہو ہمارے
اور میری بیوی تمہیں زبان دے بیٹھی تھی
ہم زبان سے پھر نے والے لوگوں میں سے نہیں ہیں
کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کبھی اپنی زبان سے نہیں پھر تا
لیکن تم لوگوں نے بہت مایوس کیا
ابھی تو کچھ ہی مہینے ہو ئے ہیں شادی کو اور تم لوگ میری بیٹی کے ساتھ مار پیٹ کرنے لگے ![]()
میں نے اپنے بچوں کو بہت لاڈ پیار سے پالا ہے
میری بیٹیوں کو کوئی جھڑک بھی دے تو میں برداشت نا کروں اور تم لوگوں نے ہاتھ اٹھا یا
میری بیٹی پہ
جی تو چاہتا ہے کہ تم سب کو جیل میں سڑاؤں پر رشتے داری کا خیال ہے مجھے
اور میری بیگم کی آنکھوں میں آنسو بھی نہیں دیکھ سکتا میں
اس لئے میں رپورٹ نہیں لکھوا رہا
اب تم سب کی بھلا ئی اسی میں ہے کہ ابھی کے ابھی میرے گھر سے نکل جاؤ
اور دوبارہ اپنی شکلیں مت دکھانا مجھے ![]()
پاپا جو کب سے خاموش بیٹھے تھے
اپنی بات مکمل کر کے اٹھنے لگے
اور زوہا ؟
زوہا کے شوہر نے زبان کھولی
سب نظریں اس کی طرف اٹھیں
نینا نے دانت پیسے
بھیا نے زیر لب اسے کسی القاب سے نوازا
زوہا اب تم لوگوں کے ساتھ نہیں جائے گی
تم لوگ جا سکتے ہو
یہ کہہ کر پاپا اٹھ کر چلے گئے
ان کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا تھا گھر میں
اور فیصلہ ہو چکا تھا ![]()
*********************
2 دن بیت گئے تھے
ان دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی
پھر 2 دن اور بیت گئے
ان کی ناراضگی طول پکڑ رہی تھی
4 دن سے نا۔ ان کی بات ہوئی نا سامنا ہوا
نینا کی یہ راتیں بس کروٹیں بدلتے گزری
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ شاہ کی کتنی عادی ہو چکی تھی
وہ اس کے بغیر سانس بھی نہیں لے پا رہی تھی
صبح نماز کے لئے بھی اب اس کا میسج نا آتا
وہ موبائل اٹھا اٹھا کر بار بار دیکھتی
اس کے پرانے میسجز پڑھتی
آنکھیں بھیگ جاتی
اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا
اس نے کل سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا
اب اسے اپنی غلطی لگنے لگی
وہ خود کو ملامت کرنے لگی
پھر بہت مجبور ہو کر آخر اس نے خود ہی شاہ کو میسج کرنے کا فیصلہ کیا
زندگی میں پہلی بار وہ کسی شخص کے لئے اپنی انا اپنی خود داری داؤ پہ لگانے جا رہی تھی ![]()
اور ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ ہم اپنے آپ کے ساتھ کتنی بڑی بڑ ی زیادتیاں کر جاتے ہیں ![]()
![]()
*********************
آج وہ لیکچر کے بعد اس کے ڈیپارٹمنٹ میں چلی آئی
وہ اسے کہیں نظر نا آیا تو اس نے ایک لڑکے سے اس کا پوچھا
وہ اس سائیڈ پہ ہوگا میم آپ وہاں دیکھ لیں
لڑکے نے ایک طرف اشارہ کیا تو وہ اس طرف چل پڑی
وہ خود کو بہت بے سکون محسوس کر رہی تھی
پچھلے 4 دن سے وہ۔ مسلسل اذیت کا شکار رہی تھی مزید اب وہ اس اذیت کو نہیں جھیل سکتی تھی
محبت میں کیسی انا ![]()
اس نے ایک بار پھر خود کو سمجھایا
اور مضبو طی سے قدم بڑھائے
وہ اسے دور سے ہی نظر آگیا
2 لڑکیاں بھی تھیں وہاں وہ ان سے باتیں کر رہا تھا
اس کی نینا کی طرف پیٹھ تھی وہ اسے دیکھ نہیں پایا
اسلام و علیکم
نینا نے پاس جا کر سلام کیا
ان سب نے ایک ساتھ اس کی طرف دیکھا
واعلیکم اسلام
شاہ نے ہی جواب دیا تھا
کیا میں کچھ بات کر سکتی ہوں مسٹر شاہ ؟
نینا نے باری باری ان لڑکیوں کو دیکھا
وہ آہستہ سے وہاں سے کھسک گئیں
اب وہ دونوں گھاس پر بیٹھے تھے آمنے سامنے
نینا کو لگ رہا تھا وہ صدیوں بعد شاہ کو دیکھ رہی ہے اس کی آواز سن رہی ہے
4 دن اس پر 4 صدیاں بن کر گزرے تھے
بولو ؟
شاہ نے سوالی نظروں سے اسے دیکھا
اسے لگا بس یہی آواز اس کی سما عت کو بر قرار رہنے کے لئے ضروری ہے ![]()
تم ابھی تک ناراض ہو ؟
نینا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا
نہیں
شاہ نے ہولے سے سر ہلایا
آئی ایم سوری ….
نینا نے ناراضگی ختم کرنا چاہی
اٹس اوکے
شاہ نے بات ختم کی
وہ کچھ دیر لب کاٹتی رہی
4 دن سے تم نے ایک بار بھی مجھ سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی ![]()
نینا کی کانچ جیسی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی
میں بزی تھا
شاہ نے تو جیہہ پیش کی
چلو ٹھیک ہے
اس لڑکی کو تو تم نے اب بھی انفرینڈ نہیں کیا ہوگا نا
نا چاھتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں تلخی در آئ
نہیں
شاہ نے مختصر جواب دیا
نینا خاموشی سے اسے دیکھتی رہی
اور یہ ہماری غلط فہمی ہی ہوتی ہے کہ ہم کسی کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں ![]()
وہ کچھ دیر اور بیٹھ کر وہاں سے اٹھ آئی
*********************
توصیف نے ملک صفدر کے وارنٹ حاصل کر لئے تھے
یہ خبر اس نے نینا کو دی
نینا نے خوشی کا اظہار کیا وہ جلد از جلد اس خبیث کو جیل کے اندر دیکھنا چاہتی تھی
پہلے تو وہ اس بات کے لئے راضی ہی نہیں تھی لیکن پھر توصیف اور شاہ کے سمجھا نے پہ مان گئی
ان کا کہنا تھا کہ قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے ہمیں ہم لوگ صرف دوسروں کی بھلائی کے لئے کرتے ہیں جو بھی کرتے ہیں
ہم کوئی غنڈے نہیں ہیں نا گینسٹر کہ لوگوں کو اٹھائیں اور ان کو اپنی مرضی سے سزا ئیں دیں
قانون کو ہاتھ میں لیں اور یہ معاملہ کافی بڑا تھا تو ان کو اس معا ملے کو توصیف کے انڈر دے دینا چاہیے
سب نے اس پر اتفاق کیا اور بات نینا کی سمجھ میں بھی آگئی
بس اب وہ ملک کا بچہ بہت جلد جیل ہوتا ![]()
********************
ان دونوں میں بات پھر سے ہونے لگی تھی
بظاہر سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا
سب کچھ پہلے جیسا ہو گیا تھا
پر کہیں کچھ تھا
جو اسے اکثر کھٹکٹا اور بے چین رکھتا
وہ نہیں جانتی تھی وہ کیا تھا
پر اکثر وہ کافی بے چینی محسوس کرتی
اب ان کی بات کا دورانیہ بھی کم ہو گیا تھا
شاہ اب بھی اسے صبح نماز کے لئے جگاتا لیکن اس کے بعد وہ کہیں غائب ہو جاتا
جب اس نے تلاوت کا کہا اسے تو شاہ نے ریکارڈ کر کے اسے تلا وت بھیج دی
اور کہا کہ اس کو سن لیا کرو
وہ کبھی اس سے لڑتی کبھی روٹھ جاتی
کبھی رو دیتی کبھی اگنور کر جاتی
کبھی شاہ اس سے سوری بول لیتا کبھی وہ شاہ سے سوری بول کر بات ختم کر دیتی
وہ شاہ کو میسج کرتی اور جواب کا انتظار کرتی رہتی
اب جواب لیٹ آتا تو وہ سوال کرنے لگتی
کبھی شاہ کہتا وہ بزی ہے
کبھی سمجھاتا اسے کبھی غصہ کرنے لگتا
سب بہت ہی عجیب ہو رہا تھا
کچھ بھی تو پہلے جیسا نہیں رہا تھا
پر یہ بات وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی
یا سمجھنا نہیں چاہ رہی تھی
کہ بدلاؤ قدرت کا اصول ہے
ہر چیز کو اپنے وقت پہ بدلنا ہی ہوتا ہ
*********************
ملک صفدر کے خلاف جتنے ثبوت اور گواہ تھے توصیف کے پاس ان کے بل پر وہ صفدر کو سزا دلوانے میں کامیاب ہو۔ گیا تھا
لیکن ان لوگوں کی یہ الجھن اب بھی قائم تھی کہ آخر ملک صفدر کو ان سے کیا دشمنی تھی ؟![]()
![]()
جب کہ وہ اب بھی ان کو دھمکیا ں دے رہا تھا کہ وہ باہر آ کر ان سب کو دیکھ لے گا
اس بیچ ان سب کو جو جو کرنا پڑا وہ ایک الگ داستان ہے لیکن فائنلی وہ منحوس انسان اندر پہنچ چکا تھا
ایک با اثر انسان کو سزا دلوانا آسان نہیں تھا لیکن ان لوگوں نے ہمت نہیں ہاری اور اللّه تو کوشش کرنے والوں اور حق کے لئے لڑ نے والوں کے ساتھ ہوتا ہے ![]()
![]()
![]()
وہ سب آج جمع تھے
ان لوگوں نے توصیف کو خصوصی ٹریٹ دی تھی
کیونکہ اس سب میں اس نے انکا بہت ساتھ دیا تھا ![]()
![]()
بلا شبہ اگر وہ نا ہوتا تو شاید وہ لوگ شاید کبھی کامیاب نہ ہوتے
آج وہ سب خوش تھے
شاہ بھی ان میں موجود تھا
آج بہت دن بعد اس کے چہرے پر وہی نرم مسکراہٹ تھی ![]()
اور وہی لہجہ تھا
وہی عزم اور وہی جوش تھا بہت تھکان کے بعد وہ آج ان سب کے بیچ بیٹھا مسکرا رہا تھا ![]()
وہاں نینا بھی تھی
جس نے کبھی غلط کے سامنے جھکنے کا سوچا تک نہیں تھا چاہے سر کٹ جائے پر اس کا سر باطل کے سامنے کبھی جھکنا نہیں وہ
آج بہت دنوں بعد پر سکون نظر آ رہی تھی
اور ٹانگ پر ٹانگ رکھے اپنے پر اعتماد انداز میں بیٹھی مسکرا رہی تھی ![]()
وہاں انسپکٹر توصیف بھی تھا
یونیفارم سے بے نیاز
عام سے کپڑوں میں ایک شاندار شخصیت کے ساتھ پورے وقار سے بیٹھا مسکرا رہا تھا ![]()
کبھی کبھی چپکے سے نینا کو نظر بچا کر دیکھتا اور پھر مسرور سے انداز میں مسکرا دیتا ![]()
![]()
وہاں سجیلہ بھی تھی
جس کی دنیا ان سب لوگوں کے گرد گھو متی تھی
جو اکثر اپ سیٹ رہتی لیکن آج وہ نہا یت سکون اور وقار سے نینا کے پہلو میں بیٹھی مسکرا رہی تھی ![]()
وہاں سحر بھی تھی
جو اس سارے واقع میں مین کردار تھی اور یہ کتنا تکلیف دہ تھا یہ بس وہی جانتی تھی ![]()
لیکن ان سب لوگوں نے اپنا دن رات ایک کر کے اس کو تکلیف دینے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا یا تھا اور آج وہ بہت دن بعد پرانا اعتماد حاصل کرکے ان سب کے بیچ بیٹھی مسکرا رہی تھی ![]()
وہاں سیفی بھی تھا
جسے اس سارے واقع نے اتنا توڑا تھا کہ وہ کئی راتوں تک سو نہیں پایا تھا ![]()
پر آج وہ اپنا وعدہ نبھا کر بہت ہی پر سکون انداز میں مسکرا رہا تھا ![]()
وہاں اسفند بھی تھا
وہ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کی سانس کے ساتھ سانس لیتا رہا تھا
اس نے کبھی بھی ان لوگوں کو اکیلا نہیں چوڑا تھا چاہے مشکل وقت ہو یا آسان
بہت دنوں کی بھاگ دوڑ کے بعد آج اطمینان سے بیٹھا مسکرا رہا تھا ![]()
یہ دنیا کے بہترین لوگوں میں سے چند بہترین لوگ تھے جو اپنی بہترین صلاحیتیں لوگوں کی بھلا ئی کے لئے استعما ل کرنے کا عزم رکھتے تھے ![]()
یہ وہ لوگ تھے
جو اپنی اپنی زندگیوں میں اپنے اپنے مسائل سے نبرد آزما تھے لیکن حوصلے ان کے بلند تھے
وہ ہر مشکل کا سامنا کرنے کو تیار تھے پھر چاہے وہ مشکل گھر کی ہو یا باہر کی
وہ اس کے سامنے سینہ سپر تھے
اور
مشکلیں تو بہترین لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہیں کیونکہ وہ ان کو بہترین طریقے سے حل کرنے کا ہنر جا نتے ہیں ![]()
![]()
**********************
بکرا عید قریب تھی
سب تیاریوں میں مصروف تھے
رات ہی پاپا نے ان سب کو شاپنگ کے لئے پیسے دیے تھے
اگلے دن ہی وہ سب بازار پہنچ گئی
دب نے اپنی اپنی خریداری کی
پر اس بار نینا نے صرف ایک ہی ڈریس پر اكتفا کیا تھا
مما کے اعترا ض کرنے پر اس نے بس اتنا ہی کہا کہ
اس سے بھی ضروری کام ہیں دنیا میں ![]()
بس مجھے ایک ہی ڈریس کافی ہے
زوہا کا ڈریس اس نے خود پسند کیا
اپنے لئے اس نے آف وائٹ سادہ سا ڈریس پسند کیا تھا
جب سب کچھ لے لیا تو اس نے سجیلہ کو ساتھ لیا اور بےبی گا ر منٹس کی طرف بڑھ گئی
سجیلہ کے حیران ہونے پر اس نے بس اتنا ہی کہا ڈریس پسند کر بعد میں بتاؤں گی کس کے لئے ہے ![]()
وہاں سے ان لوگوں نے 2 ڈریس پیک کروا ئے اور باہر آگئی
یہ کس کے لئے ہیں اب تو بتا ؟
نینا نے اسے بتا دیا
در اصل کچھ مہینوں پہلے ہی نینا کی ایک دور کی کزن جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی![]()
اس کے 2 چھوٹے بچے تھے
وہ ایک غریب گھر کی بہو تھی
نینا چاہتی تھی اس کے بچے عید کے دن نئے کپڑے پہنیں تو اس نے ان دونوں بچوں کے لئے ڈریس لئے
ا وہ اچھا تو اس لئے تو نے اپنے لئے بس ایک ڈریس لیا
سجیلہ نے محبت سے اسے دیکھا
ہاں میرےپاس پہلے بھی بہت ڈریسز ہیں
اور عید تو ایک ڈریس میں بھی گزر جانی ہے ![]()
جو لوگ اس کے زیادہ مستحق ہیں ان کے لئے ہمارا فرض بنتا ہے
نینا نے اسے سمجھایا
سجیلہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی
اس میں بہت سی تبدیلیاں آئی تھیں
پر یہ تبدیلی اسے سب سے زیادہ خوبصورت لگی ![]()
![]()
******************
عید سے 2 دن پہلے ہی زوہا کی طلاق کے کاغذ ان کی دہلیز پر پہنچ گئے تھے
جن کا سب نے خاموشی سے استقبال کیا
زوہا نے ہاتھ میں پکڑے کاغذوں پر نظر ڈالی اور خاموشی سے سائیڈ پر رکھ دیے یوں جیسے وہ اس کے لئے خود کو پہلے سے ذہنی طور پر تیار کر چکی تھی ![]()
سبھی خاموش تھے سوائے مما کے جو رو رہی تھیں
پاپا کو پتہ چلا تو وہ بھی چپ چاپ زوہا کے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھ گئے
پھر جاتے جاتے پلٹے
بیٹا زندگی میں گرتا ہر کوئی ہے لیکن اصل بہادر وہ ہوتا ہے جو گرتے ہی فوراً اٹھتا ہے ![]()
زندگی میں کبھی بھی حوصلہ نہیں ہارنا
اور تم اکیلی نہیں ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں ہمیشہ ![]()
یہ کہہ کر وہ رکے نہیں تھے باہر نکلتے چلے گئے
زوہا نے بھی کاغذ اٹھا ئے اور اندر کی طرف بڑھ گئی
نینا اسے جاتا دیکھتی رہی
اس سے پہلے کہ زخم ناسور بن جائیں ان کو جڑ سے کاٹ دینا بہتر ہوتا ہے
پھر چاہے اس کے لئے ہمیں جتنی بھی تکلیف اٹھانا پڑے ![]()
![]()
********”*************
وہ کھڑکی میں کھڑی باہر کیاری میں لگے پھولوں کو دیکھ رہی تھی جو دھوپ میں مرجھا رہے تھے
وہ بھی آج کل ایسے ہی مر جھانے لگی تھی
انتظار کی دھوپ اسے روح تک جلا رہی تھی
اور وہ نا چاہتے ہوئے بھی جل رہی تھی
ان دونوں میں اب اکثر ہی لڑا ئی ہونے لگی تھی
نینا شاہ سے پہلے جیسی محبت توجہ اور وقت چاہتی تھی
جبکہ شاہ کے بقول اسے اور بھی کام تھے
اس کی زندگی میں اور بھی بہت سی چیزیں تھیں
اور اس پر گھر کی بھی زمہ داریاں آن پڑی تھیں پاپا نے اسے کچھ کاروبار کی زمہ داری سونپی تھی وہ بھی اسے دیکھنی تھی
اس کے پاس ہزار جواز تھے
لیکن نینا کے پاس بس اس کی چاہت کی لگن تھی اور کچھ بھی نہیں ![]()
کبھی وہ اس کی بات سمجھ جاتی
کبھی غصہ کرتی کبھی روٹھ جاتی
کبھی رونے لگتی
لیکن وہ اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتی تھی
اس کی حالت عجیب ہو رہی تھی
وہ شاہ کو میسج کرتی پھر موبائل کو دیکھتی رہتی انتظار کرتی رہتی جواب کا
کبھی کبھی یہ انتظار گھنٹوں پہ محیط ہو جاتا ![]()
وہ ہر آہٹ پہ چونکتی
ذرا سا موبائل کی بیل بجتی وہ جھٹ موبائل اٹھاتی
اور جب شاہ کا میسج نا ہوتا تو اس کا دل عجیب سی تکلیف محسوس کرتا
وہ اسے دیکھنے اس کے ڈیپا رمنٹ کی طرف جاتی پر وہ اسے نا ملتا
وہ کینٹین میں اس کا انتظار کرتی اس کی کافی پڑی پڑی ٹھنڈی ہو جاتی پر شاہ کا کہیں کوئی اتا پتہ نا ہوتا ![]()
اسے انتظار سے سخت نفرت تھی
لیکن آج کل اس کی زندگی انتظار ہی بن گئی تھی
اور جس چیز سے ہم زیادہ ڈرتے ہیں وہی چیز ہمارے سامنے ضرور لائی جاتی ہے ![]()
![]()
