Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 36
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 36
Falsfa-e-Ishq by Mehram Shah
بھڑکتی ہوئی آگ نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا
آگ کی لپٹیں لہک لہک کر اسے اپنی آغوش میں لینے کو بے تاب ہو رہی تھیں
کہیں بھی اسے راہ فرار نظر نہیں آ رہی تھی
دھواں اس کے پھیپھڑ وں میں بھر نے لگا تھا اسے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا
وہ چکرا کر گرنے ہی والی تھی جب 2 مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا
اس نے آخری لمحات میں اس مردانہ ہاتھ کو تھاما تھا آج بھی وہ اس انسان کی شکل نہیں دیکھ پائی تھی لیکن ہاں اس ہاتھ میں جو نما یا چیز تھی وہ تھی اس کی انگلی میں ایک لال یاقوت جڑی انگوٹھی جس سے نکلتی سرخ شعا عیں سارے ماحول کو سر خ کرتی جا رہی تھیں اس سے آگے اسے کچھ یاد نہیں تھا
آج اس کی آنکھ نہیں کھلی تھی وہ صبح جب اٹھی تو اسے وہ خواب بالکل صاف صاف یاد تھا وہ کون تھا؟ ![]()
وہ سوچنے لگی اسے ایک ایک چیز یاد تھی آج اچانک وہ چونکی لال یا قوت
بہت یاد کرنے پر بھی اسے یاد نا آیا کہ اس نے کبھی ایسی انگو ٹھی اپنے جاننے والوں میں کسی کے پاس دیکھی ہو
اس نے ایسی انگو ٹھی اپنی زندگی میں کبھی کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں دیکھی تھی وہ انسان کون ہے جو اسے بار بار مشکل میں تھام لیتا ہے وہ ہاتھ کون ہے جو اس کا محفاظت بنا دیا گیا ہے
جب کچھ سمجھ نا آیا تو اس نے ہر سوچ دماغ سے جھٹک کر تیاری کرنی شروع کر دی اسے ابھی ناشتہ بھی کرنا تھا اور مدرسہ جا نے کا ٹائم بھی ہو جاتا تب تک
سجیلہ کا فون بھی آ چکا تھا
کل سے پھر اس کے سر میں درد تھا
یہ درد اب اس کی زندگی کا حصہ تھا اور اس نے اس سب سے سمجھوتہ کر لیا تھا
جو جیسا بھی تھا اَلْحَمْدُلِلّه کہتی ہر چیز پے شکر کرتی اور جو نہیں تھا اس پہ بھی اب وہ شکر کرنا سیکھ چکی تھی
اور یقین کریں شکر کرنے کی عادت ہمیں بہت ساری تکلیفوں سے بچا لیتی ہے ![]()
![]()
********************
سجیلہ کی شادی میں کچھ ہی دن بچے تھے
تیاریاں زوروں پر تھیں نینا کا ایک پیر گھر میں ہوتا تو دوسرا سجیلہ کے ہاں وہ اس کی بہن تھی دوست تھی سجیلہ کا سب کچھ وہی تھی
وہ ہر کام میں پیش پیش تھی بازار کے چکر بھی متواتر لگ رہے تھے
ہر چیز سجیلہ کی پسند کی لی جا رہی تھی
نینا بھی اس کے ساتھ ساتھ گھومتی رہتی اس نے مدرسہ سے کچھ چھٹیاں لے لی تھیں
سجیلہ کی خاموشی اسے کھلتی لیکن پوچھنے پر وہ مسکرا کر کہتی میں ٹھیک ہوں ۔
توصیف سے بھی اب روز ہی اس کا سامنا رہتا لیکن بہت کم وہ لوگ ایک دو سرے سے مخاطب ہوتے وہ سب ایک ہی دائرے میں تیر رہے تھے پھر بھی سب کے سرکل الگ الگ تھے ۔۔۔۔۔۔
********************
وہ اپنے لئے ایک گھڑی دیکھ رہا تھا جب اس کی نظر اس انگوٹھی پر پڑی بے اختیار ہی وہ اس کی طرف کھنچا چلا آیا
نفیس سی رنگ جس میں ایک خوبصورت سا ہیرا اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اس کی آنکھیں خیرا ہو گئی وہ انگو ٹھی ہاتھ میں لئے اس کے بارے میں سوچنے لگا اس کے تصور میں ایک مر مری ہاتھ ا بھرا
ایک ادا سے آنکھوں سے چشمہ اتار تا ہاتھ جس کی مخروطی انگلی میں وہ انگو ٹھی جگمگا رہی تھی ۔
شاہ نے اس انگو ٹھی کے پیسے ادا کیے اور واپس ہو لیا اپنے اپارمنٹ پر آ کر وہ پھر سے اس انگو ٹھی کو دیکھنے لگا وہ تصور ہی تصور میں اس وقت کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا جب وہ یہ انگو ٹھی نینا کی انگلی میں پہناتا اور اس کے چہرے پر بکھر تے رنگ شاہ کو دیوانہ کر دیتے وہ خود ہی یہ سب سوچ کر مسکرا رہا تھا اس کے گال میں پڑنے والا ڈمپل اس کی سوچوں کا عکاس تھا ۔
اس نے ایک فیصلہ کر لیا تھا وہ نینا سے ہر بات کے لئے معافی مانگ لے گا اور اسے یقین تھا وہ اسے منا لے گا وہ مان جا ئے گی
پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا تھا اپنی اس تبدیلی پر وہ خود بھی حیران تھا لیکن وہ اپنے اندر ایک خوشی بھی محسوس کر رہا تھا
وہ عجیب و غریب کیفیت کا شکار ہو رہا تھا پتہ نہیں اس کے ساتھ یہ کیا ہو رہا تھا پر اب وہ دل کی بات کو مزید نہیں ٹا ل سکتا تھا اس کی ہر خواہش پوری ہو چکی تھی بس چند ہی ہفتوں میں وہ ڈگری حاصل کر کے واپس جانے والا تھا
اور پھر وہ اپنے لئے ہر وہ فیصلہ لینے کا ارادہ کیے بیٹھا تھا جو اسے خوشی دے اس نے اس انگو ٹھی کو سنبھال کر رکھ دیا اور عریشہ کی تصویر اٹھا کر اسے مخا طب کیا
“میں تم سے بے وفائی نہیں کرنا چاہتا تھا تم میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی تم سے بہت محبت کی تھی میں نے تمہارے بعد بھی میں تمہارے ساتھ ہی رہنا چاہتا تھا پر اب نا جانے کیوں مجھے لگنے لگا ہے کہ میں تھکنے لگا ھوں مما کہتی ہیں تم ناراض نہیں ہوگی ۔
تم مجھے خوش دیکھنا چاہتی تھیں تو شاید نینا کے میری زندگی میں آنے سے تمہاری کمی پوری ہو سکے اور میری زندگی میں خوشیاں لوٹ آ ئیں
مما بھی یہی چاہتی ہیں کہیں تم مجھ سے ناراض تو نہیں ہو ؟
کہ میں نے ایسا سوچا
وہ خود ہی اپنے دل کی باتیں کرتا جا رہا تھا تصویر خاموش تھی لیکن اسے تسلی تھی کہ وہ اسے بتا رہا ہے جو ہمیشہ اس کی بات سنتی تھی
پچھلے کتنے ہی دنوں سے وہ اپ سیٹ اور پریشان تھا مما سے بات کرنے پر مما نے اسے سمجھایا تھا کہ اسے بھی جینے کا پورا حق ہے عریشہ اب نہیں رہی اسے یہ بات تسلیم کر کے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنی چاہیے اسے اب صرف واپس جانے کا انتظار تھا ۔
*********************
مریم بہن ہمارے آپ کی فیملی سے بہت پرانے تعلقات ہیں یہ بچے ایک ساتھ کھیل کر بڑے ہو ئے ہیں آپ کا بھانجا توصیف …….
وہ تھوڑی دیر کو خاموش ہو ئے پھر ان کے چہرے کی طرف دیکھا توصیف کے بارے میں ہم نے آپ سے کبھی زیادہ نہیں پوچھا نا ہی کبھی اس کی ضرورت محسوس کی توصیف بہت اچھا لڑکا ہے مجھے اس کی نیچر بہت پسند ہے
لیکن اب معاملہ کچھ الگ ہے یہ ہماری بیٹی کی زندگی کا سوال ہے میں آپ کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا لیکن اس کا کوئی خاندان کوئی حسب نسب نہیں جا نتے ہم اتنا بڑا فیصلہ ہم یونہی نہیں لے سکتے
ملک توقیر نے خاموش ہو کر ان کی طرف دیکھا
سجیلہ کی ماں اور بابا مالک توقیر کے گھر نینا کا ہاتھ توصیف کے لئے مانگنے آئے تھے مریم بیگم کی خواھش کے اظہار پر ملک توقیر نے اعترا ض اٹھا یا
بھائی صاحب میں آپ کی مشکل سمجھ سکتی ھوں میں بھی ایک بیٹی کی ماں ھوں بیٹیوں کے معاملے میں ماں باپ کو محتاط ہونا ہی پڑتا ہے اس لئے میں یہ ساتھ لائی ھوں
یہ کہہ کر انہوں نے ایک فائل ملک توقیر کی طرف بڑھا دی
توصیف ایک بڑے اور معزز خاندان کا چشم و چراغ ہے اس فائل میں اس کا برتھ سرٹیفٹک پاسپورٹ اور وہ تمام ضروری کاغزات موجود ہیں جو میری اس بات کو ثابت کر تے ہیں اور آپ اپنی تسلی کے لئے جیسے چاہیں تحقیق کروا کر اس بات کو کنفرم کر سکتے ہیں یہ آپ کا حق ہے اس کے دادا کے زندہ رهتے وہ اسے اپنا نے کو تیار نہیں لیکن ان کے بعد یقیناً اسے اس کا حق اور خاندان میں جگہ ضرور مل جا ئے گی ۔
مریم بیگم نے اپنی بات کہی
ملک توقیر نے فائل کھول کر ایک ایک کاغذ نکال کر دیکھنا شروع کیا
جو ان کی بات کی تصدیق کر رہے تھے وہاں توصیف کی اصل پہچان اس کے نام کے ساتھ موجود تھی
انہوں نے پاسپورٹ نکالا جس پہ اس کا نام
نور عالم شاہ جگمگا رہا تھا
باپ کا نام عالمگیر شاہ اور دادا کا نام جہانگیر عالم شاہ اسے ایک اعلٰی خاندان کا فرد ثابت کر رہے تھے
ملک توقیر نے فائل تہزیب بیگم کی طرف بڑھا دی
“خوشی ہوئی یہ جان کر مجھے
ہمیں سوچنے کا موقع دیں ہم آپ کو سوچ کر جواب دے دیں گے انہوں نے ایک نظر اپنی بیگم کی طرف دیکھا اور بات مکمل کی
بھائی صاحب میں چاہتی تھی کہ سجیلہ کی شادی کے ساتھ ہی میں توصیف کی منگنی کر دیتی شادی بعد میں دیکھیں ہم
انہوں نے اپنی بات کہہ کر منتظر نظروں سے مالک توقیر کو دیکھا ۔
ہم بہت جلد آپ کو بتا دیں گے ہمیں تھوڑا وقت دیں
ملک توقیر نے نرمی سے کہہ کر فائل انکو واپس کی
ٹھیک ہے بھائی صاحب جیسے آپ کہیں
مریم بیگم نے مسکرا کر بات ختم کی
اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہونے جا رہا تھا اور وہ بے خبر تھی
انسان کچھ سوچتا ہے اور اللّه کچھ اور لیکن ہوتا وہی ہے جو اللّه نے سوچا ہوتا ہے ۔
*******************
عشا کی نماز پڑھ کر اس نے سورہٴ مُلک کی تلاوت شروع کی تبھی عینا نے آ کر اس سے کہا “نینا پاپا تمہیں بلا رہے ہیں “
خیریت ؟
نینا نے تلاوت روک کر اسے دیکھا کچھ ضروری بات کرنی ہے
عینا نے بس اتنا بتایا
ٹھیک ہے میں 10 منٹ میں آتی ھوں
اس نے کہہ کر تلاوت شروع کی عینا جا چکی تھی پوری سورہٴ پڑھنے ک بعد اس نے قرآن کو لپیٹ کر رکھا اور پاپا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
دستک دے کر اندر آئی تو اسے پاپا کے ساتھ مما اور بھیا بھی وہاں بیٹھے نظر آئے اس کا ماتھا ٹھنکا
پاپا آپ نے مجھے بلایا تھا ؟
جی بیٹا آپ کو میں نے بلایا بیٹھو کچھ ضروری بات کرنی ہے
پاپا نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
وہ بھیا کے پاس صوفے پر ہی ٹک گئی
اور منتظر نظر وں سے پاپا کو دیکھنے لگی
نینا بیٹیاں ماں باپ کے گھر میں امانت ہوتی ہیں ہر ماں باپ کو ایک نا ایک دن یہ فرض پورا کرنا ہی ہوتا ہے بیٹا میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں زیادہ دیر شاید تم لوگوں کا ساتھ نا دے پاؤں لیکن اپنی زندگی میں ہی یہ فرض ادا کر جانا چاہتا ھوں
انہوں نے تمہید با ندھی
بیٹا بات یہ ہے کہ سجیلہ کی مما مریم بیگم صبح آئی تھیں
انہوں نے بات کا آغاز کیا
وہ انسپکٹر توصیف کے لئے تمہارا ہاتھ مانگنے آئی تھیں میں نے ان سے سوچ کر جواب دینے کو کہا ہے ظاہر ہے زندگی تمہیں گزارنی ہے تو فیصلہ بھی تمہارا ہی ہوگا
میں نے تمہیں یہاں یہی بتا نے کے لئے بلایا ہے
تم سوچ لو دیکھ لو پھر مجھے بتا دینا لڑکا اچھا ہے لیکن حتمی فیصلہ تمہارا ہی ہوگا اور پریشان نہیں ہونا سکون سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا کوئی جلدی نہیں تمہارا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں منظور ہوگا
پاپا نے اپنی با ت ختم کر کے اسے دیکھا
وہ سر جھکا ئے خاموشی سے ہونٹ کا ٹتی رہی
پھر چپ چاپ اٹھ کر آگئی
اپنے کمرے میں آ کر وہ کتنی ہی دیر خالی الذہنی کی کیفیت میں بیٹھی رہی اس کا دماغ خالی ہو چکا تھا کافی دیر بعد اسے پاپا کے الفاظ یاد آئے
اس کی آنکھوں کے سامنے ایک تشبیہہ ابھری
بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس فولڈ کیے بازو نیچے کرتا اور سر پر ٹوپی رکھے نماز پڑھتا شاہ ………
آنکھیں بند کیے ایک جزب کے عالم میں تلاوت کرتا شاہ ۔۔۔۔۔۔
منظر بدلا
یونیفارم میں ملبوس ایک با رعب ڈیشنگ سا انسپکٹر توصیف
ایک نرم مزاج با وقار سنجیدہ سا توصیف
منظر بدلا
اسے ڈوبنے سے بچا نے کے لئے اس کی طرف بڑھتے دو ہاتھ اور اس ہاتھ میں وہ سرخ نگینے والی انگوٹھی
اس نے آنکھیں کھول دی
کچھ آنسو اس کی کانچ جیسی آنکھوں سے چھلکے اس نے کیا کیا خواب سجا ئے تھے ساری عمر شاہ کے سنگ رہنے کے مرنے کے بعد بھی جنت تک کا ساتھ مانگا تھا ۔
لیکن اس کے حصے میں کیا آیا وہ بے آواز آنسو بہاتی رہی ایک وہ انسان تھا جسے اس نے چاہا تھا ایک وہ انسان تھا جو اسے چاہتا تھا ۔
اور ایک وہ تھا جسے اللّه نے شاید اس کے لئے چنا تھا جس کے لئے اسے اشارہ دیا گیا تھا وہ کیا فیصلہ کرتی وہ تو خود نہیں جانتی تھی کوئی بھی فیصلہ اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے والا تو اوپر بیٹھا تھا اسے تو بس اس کے فیصلے پر سر جھکا نا تھا
وہ کتنی ہی دیر یونہی بیٹھی رہی پھر اٹھ کر جا ئے نماز پر جا بیٹھی
وہ پھر سے اللّه سے محو کلام تھی
اے میرے اللّه میں بے خبر ھوں لیکن تو سب جانتا ہے یہاں تک کہ دلوں کے راز بھی مالک میری مدد فرما میرے لئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں یہ مجھ سے بہتر تو جانتا ہے پرور دگار میری الجھن حل فرما جو میرے حق میں بہتر ہو مجھے وہ عطا فرما اور جو مجھے عطا فرما وہ تیری فرما برداری کے ساتھ عطا فرما اور مجھے ہر اس چیز سے ہر اس محبت سے بچا جو مجھے تجھ سے دور کرے میں اپنے آپ کو تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔
دعا کر کے اس نے قرآن اٹھا یا چند آیات پڑھنے کے بعد وہ ٹھٹھک کر رکی سامنے آیت کھلی ہوئی تھی اور وہ اسے ٹکر ٹکر تک رہی تھی جہاں ارشاد باری تعالی تھا :
وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾ ؓ
اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں ( رضا مندی چاہتے ہیں ) ، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیاوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا ۔ دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سےغافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے ۔
اسکا دل تھرا گیا اسے کس خواھش سے منع کیا جا رہا تھا اسے کہا گیا تھا اللّه کی رضا مندی چاہو بس اپنی خواھشوں کے پیچھے مت بھاگو اس نے آنسو صاف کر لئے
ابھی وہ آگے بڑھنے کا سوچ ہی رہی تھی جب اس کی نظر چند آیات آگے ٹھہر گئی
وَ اصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ ﴿ۙ۴۸﴾
تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے ، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ صبح کو جب تو اٹھے اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کر ۔
اسے اب صرف صبر سے انتظار کرنا تھا اپنے رب کے حکم کا اور تب تک اسے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھو ڑنا تھا
وقت اور حالات انسان کو وہ کچھ کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں جو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا اور یہی زندگی ہے ۔۔۔
******************
بیڈ پر بہت سارا سا مان بکھرا تھا مریم بیگم الماری سے جیولری کے دبے نکال نکال کر بیڈ پہ رکھ رہی تھیں ۔
ساتھ بیٹھی نینا ایک لسٹ تیار کرتی جا رہی تھی جس میں ہر وہ چیز شامل تھی جو ابھی ان کو لینی تھی
“آنٹی یہ ہو گیا “
اس نے سر اٹھا کر آنٹی کو دیکھا
،،چلو یہ کام تو نمٹا اب ذرا ایک نظر زیوروں پر ما ر لیں پھر باقی کام دیکھتے ہیں تبھی سجیلہ ناک کر کے کمرے میں داخل ہوئی ،،مما کیوں خود کو ہلکان کر رہی ہیں آپ میں نے کہا نا مجھے اتنا کچھ نہیں چاہیے مجھے کچھ بھی مت دیں پلیز
وہ برا سا منہ بناتی نینا کے پاس بیٹھ گئی
کیسے نا دوں تم میری اکلوتی بیٹی ہو دنیا کی ہر چیز تمہاری دسترس میں دیکھنا چاہتی ھوں میں ۔
مما نے مسکرا کر اسے دیکھا “
سجیلہ سو گوار انداز میں مسکرائی مجھے نہیں لگتا مما کہ مجھے اس سب کی ضرورت ہے ،
اس نے بیڈ پر بکھرے ڈبوں کی طرف اشارہ کیا
لیکن میں نے تو ایک عمر سے سنبھال کر رکھے ہیں بیٹا مما نے کہتے ہوئے دبہ کھولا
یہ سیٹ تمہاری دادی کی نشانی ہے
مریم بیگم نے ڈبہ واپس رکھا اور دو سرے ڈبے کھولنے لگیں نینا مسکرا کر سجیلہ کو دیکھتی رہی جب کہ سجیلہ افسوس سے سر ہلا رہی تھی
مریم بیگم نے ایک ایک کر کے سب ڈبے کھول کر ان کی ہسٹری بھی ساتھ بتا دی آخری ڈبہ کھلنے پر نینا کو جھٹکا لگا تھا اس کی مسکراہٹ غا ئب ہوئی وہ ایک ٹک ڈبے میں رکھی اس انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی جس میں ایک سرخ یاقوت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا یہ وہی انگوٹھی تھی جو اس نے خواب میں دیکھی تھی
،،یہ ….یہ انگوٹھی ،؟
اس نے سر سرا تی ہوئی آواز میں پوچھا
“یہ …..یہ انگوٹھی نور عالم شاہ کی ہے یہ اس کے باپ کی خاندانی انگوٹھی ہے اور یہ میں نے سنبھال کر رکھی ہے اس دن کے لئے جب میں اس کے سر پر سہرا سجاؤں گی “
نینا پلک جھپکنا بھول گئی تھی اس کے تصور میں اسے تھامتا ایک ہاتھ ابھرا ،آنٹی کہہ رہی تھیں “یہ اس کے باپ کی آخری نشانی ہے “
وہ اور بھی نا جانے کیا کہہ رہی تھیں پر نینا کچھ بھی سن نہیں رہی تھی اس کی نظروں میں بس ایک منظر چل رہا تھا :
تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے ، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔
تو کیا فیصلہ ہو گیا تھا”
کیا حکم آن پہنچا تھا “
تو کیا یہی رب کی رضا تھی “
اسے توصیف کے بارے میں سب بتا دیا تھا مما نے اس کی اصلی پہچان نام اور خاندان سب جان کر اسے کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی کیونکہ اب وہ حیران ہونا چھوڑ چکی تھی لیکن آج یہاں یہ انگوٹھی دیکھ کر وہ واقع حیران ہو گئی تھی
تو اللّه نے اس کے لئے نور عالم شاہ کو چنا تھا
اور اسی شام واپسی پر اس نے پاپا سے کہا تھا
” پاپا سجیلہ کی مما کو ہاں بول دیں مجھے اس رشتے پر کوئی اعترا ض نہیں “
اور اسے اعترا ض ہو بھی کیسے سکتا تھا جب اللّه نے فیصلہ کر دیا تھا اسے تو بس اب راضی با رضا ہونا تھا اور اسے یقین تھا اللّه نے اس کے لئے جو بھی کیا بہترین ہوگا —
*********************
سفید سوٹ پر سیاہ واسکٹ پہنے گلے میں پیلا مفلر لٹکا ئے چھوٹے چھوٹے بال سلیقے سے سیٹ کیے آج وہ عام دنوں سے بہت مختلف لگ رہا تھا یا شاید نینا کا اسے دیکھنے کا نظریہ بدل گیا تھا وہ اس وقت اسفند ،سیفی ،اور اپنے کچھ کزن لڑکوں کے ساتھ کھڑا انتظامات کے بارے میں ڈسکس کر رہا تھا ۔
آج سجیلہ کی مہندی تھی اور ان لوگوں نے بہت اہتمام سے مہندی کی تقریب کے انتظامات کیے تھے حسن ولا پورا کا پورا جگمگا اٹھا تھا ہر طرف روشنی اور خوشبو کا سیلاب امڈ آیا تھا جس میں رنگ برنگے آنچل خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہے تھے ۔
ان کا پورا گروپ یہاں موجود تھا زوہا بھی آئی ہوئی تھی اور نینا کی ساری فیملی یہاں موجود تھی اور سب لوگ بے حد خوش تھے لڑکیا ں آج خاص طور بہت اہتمام سے تیار ہوئی تھیں سب نے سیم کلر کے کپڑے پہن رکھے تھے اور سیم سٹائل تھا سب کا لڑکیوں نے سفید فراک اور پیلے پاجاموں کے ساتھ پیلے دوپٹوں سے خود کو سجا رکھا تھا جب کہ لڑکوں نے سفید سوٹ اور بلیک واسکٹ کے ساتھ گلے میں پیلے مفلر ڈال رکھے تھے۔
آج سجیلہ کے چہرے پر بھی ایک خوبصورت سی مسکراہٹ سجی تھی ۔
اسے بھی سفید فراک کے ساتھ پیلے پاجامے اور دوپٹے کے ساتھ ساتھ سفید موتیے اور لال گلاب سے سجا دیا گیا تھا ہم رنگ چوریوں اور ہلکی جیولری کے ساتھ وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ،
نینا نے اسے دیکھا تو اس سے لپٹ گئی اور بے اختیار اس کی نظر اتاری کہ کہیں اس کی پیاری دوست کو نظر نا لگ جا ئے “
مہندی کی رسم میں بس تھوڑی دیر رہ گئی تھی وہ سحر کو بلا نے آئی تھی جو اپنے شوہر کو ڈھونڈنے نکلی تھی پر خود بھی واپس نہیں گئی تھی ”
انہیں سجیلہ کو اسٹیج پر لے کر آنا تھا وہ سحر کو ڈھونڈتی اس طرف آئی تھی جہاں لڑکے کھڑے تھے اسے سحر بھی نظر آگئی وہ اسے بلا کرواپس مڑ گئی ۔
تھوڑی دیر بعد ان لوگو ں نے سجیلہ کو اسٹیج پر لا کر بیٹھا دیا اور پھر مہندی کی رسم شروع ہوئی سب نے باری باری مہندی لگائی دلہن کو ہنسی مذاق اور قہقہوں کے درمیان مہندی کی رسم انجام پا ئی اس کے بعد ان لوگوں نے ہلا گلا شروع کیا جس میں سب نے دل کھول کر حصہ لیا ۔
اس کے بعد لڑکوں نے وہ ہنگامہ مچایا کہ ہال سیٹیوں اور تالیوں سے گو نچ اٹھا صبح 4 بجے تک یہ ہنگامہ جاری رہا اور پھر سب نے تھک کر کمروں کی راہ لی ۔
صبح بارات تھی اور ان لوگوں کو اور بھی بہت کچھ کرنا تھا
یہ ان سب کی زندگیوں کا یاد گار موقع تھا اور کون جانتا تھا کچھ چیزیں وقت کے ساتھ صرف یاد ہی بن کر رہ جاتی ہیں ۔۔۔،
*******************
“آپ کی دلہن تیار ہو چکی ہے “
جیسے ہی پارلر والی نے یہ اعلان کیا نینا اپنی تیاری ادھوری چھوڑ کر اٹھ کر اندر کی اور لپکی ۔
ارے میم روکیں ،،
اس کو تیار کروا نے والی لڑکی روکتی رہ گئی پر اس نے ایک نہیں سنی سحر بھی آگے بڑھی لیکن نینا نے اسے روک لیا
“رکو سحر “
کیوں ،
سحر نے حیران ہو کر اسے دیکھا
کیونکہ میں چاہتی ھوں سجیلہ کو سب سے پہلے دلہن بنے میں دیکھوں ،،
نینا نے یہ کہہ کر قدم بڑھا ئے وہ اندر داخل ہوئی تو سجیلہ آئینے طرف منہ کیے بیٹھی تھی اسے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔
نینا بنا پلک جھپکے اسے دیکھے گئی
سرخ عروسی جوڑے اور زیورات کے ساتھ ساتھ اسے سرخ گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا کلا ئی بھر بھر لال چوریاں اور ایک پروفیشنل بیوٹیشن کی ہنر مندی نے اسے چار چاند لگا دیے تھے اس کے بالوں میں جیسے آسمان سے افشاں اتر آئی تھی ۔
وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ اسے پریوں کی ملکہ کا خطاب دینا بھی کم لگ رہا تھا نینا نے اسے آگے بڑھ کر گلے لگا یا اور اس کی نظر اتاری کہ کہیں اسے نظر نا لگ جا ئے ۔
بہت بہت پیاری لگ رہی ہے آج میری جان “
نینا نے اسے دیکھ کر نہال ہوتے ہو ئے کہا کسی کی نظر نا لگ جا ئے “
سجیلہ یہ سن کر ہلکے سے مسکرا دی
سحر بھی آ چکی تھی وہ بھی اب اس کے واری صدقے ہو رہی تھی ۔
وہ سحر کو اس کے پاس چھوڑ کر اپنی تیاری مکمل کروانے باہر نکل آئی تھی
