339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 5

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shab

اوئے بچہ چیک کر

سحر نے اپنا چشمہ نیچے کرتے ہوئے انکو متوجہ کیا وہ لوگ اس وقت یونیورسٹی سے گھر جا رہی تھیں اور سجیلہ کے ضد کرنے پر بازار کی طرف مڑی تھیں کیونکہ وہ مری جا رہی تھی

اسے کچھ کھانا تھا

اور چلتے چلتے سحر سب کو غور سے دیکھ رہی تھی اسے بوائز میں ہمیشہ انٹرسٹ رہتا تھا اور وہ لڑ کوں کو دیکھ کر یونہی کہا کرتی تھی نینا نے اسے گھورا “کوئی تہزیب نام کی بھی چیز هوتی ہے بی بی

نینا کو اس کی یہ عادت زہر لگتی تھی

اچھا وہ کہاں هوتی ہے

سحر نے بھولے پن سے کہا

بچے کا تو پتہ نہیں پر تیری گردن کا ناپ ضرور ہم چیک کریں گے اپنے ہاتھوں سے اگر اب تو نے یہاں وہاں دیکھا تو

سجیلہ نے ایک شاپ پر رکتے ہوئے اسے دھمکا یا جس پر سحر نے برا سا منہ بنایا

یہاں پر کیوں رکی ؟

نینا اسے پان والے کے پاس رکتے دیکھ کر پوچھنے لگی ابھی پتہ چل جائے گا بس چپ چاپ کھڑی رہو وہ پان لے کر آئی

یہ لو کھاؤ

اس نے پان ان دونوں کو پیش کیے

کیا,_پان ؟

ہاں یہ پان ہمارے لئے ھیں ہم تینوں کھائیں گے

سجیلہ نے سکون سے کہا اور ایک پان اٹھا کر منہ میں رکھا

نینا نے دلچسپی سے اسے دیکھا

کھا نا جانی

سجیلہ نے اسے پان اٹھا کر دیا

سارے الٹے کا م تو نے ہی کرنے ہوتے ھی سجیلہ نینا نے پان منہ میں رکھا

ہاہا ہاں نا اور میں چاہتی ہوں تم لوگ میرے ہر الٹے کام میں میرے ساتھ رہو تا کہ مرنے کے بعد جب میں پکڑ ی جاؤں تو تم لوگ بھی میرے ساتھ ٹنگی جاؤ

“محبتیں یو نو “

اس نے آدھی پنجابی اور آدھی اردو کے ساتھ انگلش کی بھی ٹانگ مروڑی

وہ ایسا ہی کرتی تھی اور نینا کو اس کے بولنے کا یہ انداز بہت پیا را لگتا تھا

ہاہا ہا ان سب کا قہقہ گونجا

یہ کیا یار حلق کڑوا ہو گیا

نینا نے برا سا منہ بنایا

خبر دار جو تم لوگوں نے پان تھوکا تو

پیسے بھرے ھیں میں نے بہن

چپ چاپ کھا جاؤ

بلکہ باہر تھوکنا بھی مت “یاک گندی لڑکی”

وہ دنیا جہان سے بے خبر اپنی ہی دھن میں جینے والے لوگ تھے جن کے لئے زندگی بہت خوبصورت سی تفریح تھی

************

وہ ایسا سویا اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ کب شام ڈھل گئی

مغرب کی اذان ہوئی تو اس کے کمرے کا دروازہ بجنے لگا وہ دروازے تک گیا

بیٹا نماز کے لئے نہیں جانا ؟

سامنے ہی دادا جان کھڑے تھے پتہ ہی نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی

کوئی بات نہیں بیٹا چلو چلتے ھیں میں مسجد ہی جا رھا ہوں جی چلیں۔

وہ دادا جان کے ساتھ چلنے لگا

بیٹا وہ لڑکا جس نے خود کشی کی کوشش کی تھی کیا نام تھا اس کا ؟

سمیع دادا جان شاہ نے بتایا

ہاں سمیع اللّه

کیا حا ل ہے اسکا ؟

اور اب دماغی حالت کیسی ہے اس کی ؟

ٹھیک ہے دادا جان اب وہ

کافی برین واش کیا تو ہے میں نے دیکھتے ھیں اب اپنے ماضی سے نکل سکتا ہے وہ یا نہیں کیونکہ انسان خود کو تب ہی بدل سکتا ہے جب وہ خود کو بدلنا چاہے وہ دادا جان کے ساتھ ساتھ چل رھا تھا

بالکل بیٹا ایسا ہی ہے اور انسان کو اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہیے

جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے

بیٹا زندگی ہمیں روز نیا موقع دیتی ہے

ہمیں بس اس موقعے کو اپنانا ہوتا ہے

دادا جان اسے بھی غیر محسوس انداز میں سمجھا رہے تھے

آپ ٹھیک کہہ رہے ھیں دادا جان

میں بھی اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر چلنا شروع ہو چکا ہوں

لیکن ……

وہ دو آنکھیں

مجھے واپس وہیں کھینچ لے جاتی ھیں جہاں سے میں چلا تھا اس نے کہا نہیں بس سوچ کر رہ گیا

************

ہمیشہ کی طرح وہ تینوں ایک ساتھ کینٹین میں بیٹھی کافی سے انصاف کر رہی تھیں

جب شاہ ان کو دیکھ کر پاس چلا آیا

مس نینا !

اس نے نینا کو آواز دی

نینا کے ماتھے پر بل پڑے نینا ملک کہتے ھیں مجھے اوکے مس نینا ملک میں دو منٹ آپ سے بات کر سکتا ہوں ؟

“نہیں “

نینا نے ٹکا سا جواب دے دیا

سجیلہ اور سحر ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئی میں جانتا ہوں آپ ناراض ھیں مجھ سے پر میں معزرت کرنے آیا ہوں

آئ ایم سوری

شاہ نے اپنی صفائی دی میں کبھی کسی سے ناراض نہیں هوتی مسٹر اور تجھے معزرت کرنے کی ضرورت نہیں جا اپنا کام کر وہ سر جھٹک کر اٹھی

شاہ کے ما تھے پر شکنیں نمو دار ہوئی

یہ “تو “کیا ہوتا ہے ؟

آپ کہہ کر نہیں بات کر سکتی آپ ؟

شاہ نے نرمی سے پوچھا نہیں مجھے نہیں آتا یہ آپ جناب کہنا میں تو ایسے ہی بات کرتی ہوں تو تڑک سے وہ تڑخ کر بولی

آپ لڑکی ھیں لڑکیوں کے انداز میں بات کیا کریں اچھا نہیں لگتا ایسے اس نے سمجھانے کی کوشش کی ،مجھے نہیں پروا کسے اچھا لگتا ہے اور کسے نہیں “اب آپ جا سکتے ھیں “

وہ چپ چاپ اسے دیکھتا رہا جب وہ نہیں گیا تو نینا خود اٹھ کر چل دی تو سحر اور سجیلہ جو چپ چاپ سب دیکھ رہی تھیں اس کے پیچھے اٹھ کر چل دیں

************

ﺁﺝ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﻟﻮﭨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮﻧﮩﯽ

ﺍﻧﺪﺭ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺎ ﻭﮦ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ” ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﯼ ﻧﻈﺮ ﺁئی ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﻞ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻠﺦ ﮐﻼﻣﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ، ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺟﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﺗﻨﺎ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﮍ ﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﺱﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﺟﺎﺗﯽ

….. I Love u

ﺍﺳﮑﯽ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ

” ﭨﮑﺮﺍئی ﻭﮦ ﭼﻮﻧﮑﯽ ﭘﺮ ﭘﻠﭩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﯽ

ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ

— ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﮭﮍﯼ ﻟﺐ ﮐﺎﭨﺘﯽ ﺭﮨﯽ

…I LoVe u

ﺍﺏ ﮐﯽ ﺑﺎﺭ ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﮐﺎﻥ ﮐﮯ

ﻗﺮﯾﺐ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﺊ ﻣﻮﺗﯽ

ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﮔﺮ ﮐﺮ ﺑﮯ ﻣﻮﻝ ﮨﻮ

” ﮔﺌﮯﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ

ﻣﭩﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺗﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ” ﺑﮩﺖ ﺑﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ” ﻭﮦ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﻮﻝ ﭘﺎﺋﯽﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺩﻭﮌﮔﺌﯽ ؛

” ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ !ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ

ﻭﮦ ﮨﻮﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ

I Hate U

” ﻭﮦ ﻣﻨﮧ ﺑﺴﻮﺭﺗﮯ ﮨﻮ ﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ

…..Love U More

” ﺷﺎﮦ ﺍﯾﮏ ﻗﺪﻡ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﺁﯾﺎ

Hate u again

ﻭﮦ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﻼ ﺋﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ

__ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﺎ ﺳﻮﺭﯼ “

ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﺳﮯ ﻟﮕا ﻟﯿﺎ

ﮐﺎﻥ ﭘﮑﮍﯾﮟﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻤﮏ ﻟﻮﭦ

ﺁﺉی ﺗﮭﯽ ۔

— ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻓﻮﺭاً ﮐﺎﻥ ﭘﮑﮍ ﻟﺌﮯ

ﺍﺳﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﺁئی ﺑﮩﺖ، ﮐﺘﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻟﮓ

” ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺁﭖ ﻭﮦ ﭼﮩﮑﯽ

” ﺷﺎﮦ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﯿﺎ

ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﺣﺼﮧ ﻟﮓﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ”ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﺎﻥ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮﺍﺳﮑﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﺌﮯ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﮐﻞ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﺎﺭ ﺭﻭﺋﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﺁﮔﯿﺎ

ﻭﮦ ﮐﯿﻮﮞ ؟

” ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺑﺮﻭ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ

ﺑﺲ ﺍﺫﯾﺖ ﭘﺴﻨﺪﯼ

” ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﺍﭼﮑﺎﺋﮯ

ﭘﺎﮔﻞ ۔۔۔۔۔۔۔

” ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﺮ ﺗﮭﭙﮑﺎ

ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﯿﮟ

” ﺑﺮﺟﺴﺘﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ

ﺍﭼﮭﺎ !ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ؟

ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎ ﮞ ﭘﮭﯿﺮ

ﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ ؟

ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ

ﮨﻮﮞ” ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ” ﻭﮦ ﻣﮑﺮ ﮔﺌﯽ

ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ” ﻭﮦ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺍ

“ﻧﮩﯿﮟ ۔ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺴﯽ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﺳﮯ”

ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭼﻼ ﺋﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ

—- ﺳﺘﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻮڈ ﻣﯿﮟ ﺁ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ

،،،،، ﺷﺎﮦ،،_،ﻭﮦ ﺻﺪﻣﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﮐﮯ ﻣﻠﮯ ﺟﻠﮯ ﺗﺎ ﺛﺮﺍﺕ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﮯ ﮔﮭﻮﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ

‘ﺟﯽ ﺟﺎﻥ ﺷﺎﮦ

ﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﻟﻄﻒ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮑﺎ ﭘﮭﻮﻻ

ﮨﻮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ؟

” ﮨﺎﮞ ﻧﺎ

ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ

_ ﺭﻧﮓ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾڈ ﺟﺴﭧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ

” ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ” ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﭻ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻧﮑﺎﻟﯽ

ﭘﺮﺁﭖ ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ

ﻧﺎ”’ ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻣﻌﺼﻮﻣﺎﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ

ﺗﻮ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﻧﺎ””ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺎﺩ ﺩﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ

__” ﮐﯿﺎ ﭘﺘﮧ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ

” ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺗﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﯽﮨﻮﮞ ﻧﺎ” ﻭﮦ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ

” ﮨﺎﮨﺎﮨﺎﮨﺎ

” ﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﺑﮩﺖ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﺗﮭﺎ

ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻧﺎ ﻻﺋﻦ ﭘﮧ

ﺍﺏﻭﮦ ﭘﺰﻝ ﺳﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﮧ

” ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮭﯿﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ

ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻨﮯ ﭘﮧ ﺟﺎﻥ

ﺷﺎﮦ ؟

ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻣﺎ ۔۔۔ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ

“””” ﻟﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﮧ

، ﻭﮦ ﻟﮕﻦ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ

ﻭﮦ ﮐﯿﻮﮞ ؟ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺟﮭﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ

ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہو ئے ﭘﻮﭼﮭﺎ ۔۔

ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﻧﺎ ﺭﮐﮭﮯﺳﺐ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺁﭖ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ

“” ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮئے ﮨﯿﮟ

___ ﻭﮦ ﺑﮍﮮ ﻣﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ

ﺍﻭﮦ ۔۔۔ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮔﮩﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ

ﺳﺐ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﺷﺎہ ” ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺟﺘﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ

، ﻭﮦ,,ﻭﮦ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﺘﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ۔۔

ﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﮭﺴﻠﯽ ﭘﮭﺮ ﻓﻮراً

ﺯﺑﺎﻥ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﺎ ﻟﯽ ﭘﺮ ﺗﺐ ﺗﮏ

ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻮﭘﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ

ﻣﮍ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ۔

ﺁﭖ ﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺘﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﺖ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﮍﻭﺍ ﮐﺮ ﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ

ﭘﮯ ﻣﮑﮯ ﻣﺎﺭﮮ ۔۔۔

””’ ﺁﮦ ، ﺷﺎﮦ ﮐﺮﺍﮦ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ

ﻭﯾﺴﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎ ﺋﮯ ﺗﻮ؟_ ﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﯿﮍﺍ

ﻭﮦ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭩﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﮍﺍ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ

ﮔﮭﻮﺭﺍ ۔ﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﯽﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﯿﮕﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔” ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﻭ ﭘﮍﻭﮞ ﮔﯽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺁﭖﻭﮦ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺁﻣﯿﺰ ﻟﮩﺠﮯﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ۔۔

ﺍﻓﻔﻒ ﺭﻭﻧﺎ ﻣﺖ ۔۔

ﻭﮦ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ

ﺑﺲ ﺍﺏ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ

ﻣﯿﮟ ۔ﻭﮦ ﺧﻔﺎ ﺧﻔﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ

ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ”ﺷﺎﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎ ﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎﻭﮦ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﺷﺎﮦ ﮐﻮﻣﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭨﺎﺋﻢ ﺍﻭﺭ ﻟﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ

“شاہ نے آنکھیں کھولی

اس کی آنکھیں خون رنگ ہو رہی تھیں

وہ بار بار کیوں پیچھے چلا جاتا تھا

وہ جانا نہیں چاہتا تھا کاش وقت گزر جانے کے ساتھ یادیں بھی گزر جایا کریں اس نے تکلیف سے سوچا