Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 15

339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 15

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah

شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں

ان کا ایک پاؤں گھر ہوتا تو دوسرا بازار میں

مما چاہتی تھیں وہ اپنی بیٹی کو ہر چیز دیں

پاپا چاھتے تھے ہر چیز ان کی بیٹی کی پسند کی ہو

سو زوہا بھی ساتھ ہوتی صبح شام بازار کے چکر لگا لگا کر بقول نینا کے ان کے جوتے گھس گۓ تھے

آج کل اس کا دھیان ہر چیز سے ہٹا ہوا تھا

زوہا تھی کہ اس کی جان ہی نا چھوڑتی

اور وہ سجیلہ کی

سجیلہ نے کتنی بار کہا کہ وہ لوگ سامان لے لیں خود اس کا کیا کام وہاں پر نینا کہتی تیرے بغیر مجھے کچھ بھی پسند نہیں آتا 😜

یوں آج کل ان لوگوں نے بیچارے دکان داروں کے ناک میں دم کیا ہوا تھا

زوہا نے ہر چیز خود پسند کی تھی جب کہ باقی لڑکیاں صرف اس کی چیزوں پہ ناک چڑھانے کے علاوہ کچھ نا کرتی اور مما صرف پیسے دینے کے لئے ساتھ ہوتیں 😂

ایک دکان پر جب وہ لوگ کپڑے دیکھ رہے تھے تو عینا نے اسے کہنی ماری

نینا وہ دیکھ کتنی پیاری پینٹ ہے تو لے لے نا

اس نے ایک۔ نظر دیکھا پھر پاس جا کر دیکھنے لگے وہ لوگ

سجیلہ کو بھی بہت پسند آئ تھی

پر نینا نے منع کر دیا

کیا ہوا تونے لی کیوں نهی نہیں ؟

سجیلہ اور عینا حیران ہوئی

میں شادی پہ اس بار کسی اور سٹائل کی ڈریسنگ کرونگی

اس نے بات ختم کر دی

اور شام کو جب اس نے زوہا سے کہا

“زوہا میرے لئے بھی ا س بار کوئی اچھا سا فراک دیکھ لینا “

تو سب چونک گئے

زوہا کو پانی پیتے اچھو لگ گیا

اور عینا نے چشمہ نیچے کر ک اسے دیکھا

سجیلہ پوری اس کی طرف گھومی تھی

مما نے بھی سر اٹھا کر اسے دیکھا

اوہ ! کم آن یار ایسے مت دیکھو سب مجھے 🙄

وہ آپ سب ہی تو کہتے ہو کہ کبھی ڈھنگ کا ڈریس بھی پہن لیا کروں

اور شادی میں سب رشتے دار ہوں گے تو اس لئے بس ……

اس نے سٹپٹا کر وضا حت دی

ہاں تو ٹھیک ہی کہتے ہیں

زوہا نے باقی کا پانی پی کر گلاس رکھا

عینا اس سے لپٹ گئی

نینا تم۔ کتنی پیاری لگو گی فراک میں اف

” اس لڑکی کو دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہے فراک میں “

کسی کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے

وہ مسکرا دی

دیکھتے ہیں 😍

اور یہ ہمارا اپنا من ہی ہوتا ہے جو ہمیشہ ہمیں فریب میں ڈالتا ہے ✌

***************

آج بہت دن بعد وہ فیسبک پر آئی تھی

ایک گروپ میں ایک گھٹیا سی پوسٹ پر اسکی نظر پڑی

اس نے اَسْتَغْفِرُ اللّه‎‎

پڑھ کر اسکو ہائیڈ کیا

پھر یونہی وہ گروپ دیکھنے لگی کہ کس کا ہے

وہاں سب ہی ایسے تھے

ماحول بہت خراب تھا گروپ کا وہ لیفٹ کرنے لگی پھر کچھ سوچ کر اس نے شاہ کو میسج کیا

کیا کر رہے ہو شاہ ؟

جواب 2 سیکنڈ میں آیا تھا

کچھ نہیں لیٹا ہوں

وہ ایسے ہی جواب دیتا تھا فاسٹ

اچھا ایک گروپ میں ad کر رہی ہوں وہاں آنا ذرا

اس نے کہا

ٹھیک ہے کرو

شاہ کا جواب آیا تھا

نینا نے اسے ایڈ کر دیا

تھوڑی دیر بعد شاہ کا میسج آیا

کتنا گندا گروپ ہے یار

اور گندے لوگ بھی

نینا نے ناک چڑھائی

اسی لئے تو تمہیں ایڈ کیا ہے

وہاں کے لوگوں کو سدھارو

نینا نے جیسے اسے۔ ذمہ داری دی

اچھا ٹھیک ہے

شاہ نے حامی بھر لی

اور کبھی کبھی ہم نہیں جانتے کہ کچھ اچھا کرنے کے چکر میں ہم کتنی بڑ ی غلطی کر جاتے ہیں اور جب تک ہمیں احساس ہوتا ہے تب تک تو بہت دیر ہو۔ چکی ہوتی ہے 💔

***************

آج پھر وہ لوگ بازار میں کھڑی تھیں

بے حد رش تھا

وہ لوگ آدھی شاپنگ کر چکی تھیں

زوہا اب اپنے لئے کچھ شلوار قمیض دیکھ رہی تھی

زوہا تم۔ یہ پہنو گی

نینا نے اسے دیکھا اور ڈریس کو بھی ہاں کیوں اچھا نہیں ہے کیا ؟

زوہا نے فکر مندی سے ڈریس پھر سے دیکھا

نہیں مطلب تم تو شہزادی بن جاؤ گی نا شادی کے بعد تو یہ عام سے ڈریس کیوں پہنو گی پھر 🤔

نینا نے اسے تنگ کیا

بکواس نی کر اچھا

زوہا نے اسے۔ گھورا جب کہ۔ باقی سب مسکرا کر رہ گئے

زوہا ہی کہا کرتی تھی ایسا ڈریس لونگی جس میں میں شہزادی لگوں

اب نینا نے اسے تنگ کرنے کا موقع نکال لیا تھا

تبھی نینا کے موبائل پر میسج کی رنگ ٹون بجی

اس نے دیکھا شاہ کا میسج تھا

کہاں ہو ہٹلر ؟

میں بازار میں ہوں سڑ یل

وہ کہاں ادھار رکھنے والی تھی

کس کو لوٹ رہی ہو ؟

شاہ نے اگلا سوال کیا

بازار میں بندہ لٹنے آتا ہے لوٹنے نہیں

نینا نے جواب دیا

اچھا کیا کونسی دکان پہ ہو

اس نے نام بتا دیا

کیا لے رہی ہو ویسے ؟

زوہا اپنے لئے ڈریس لے رہی ہے

نینا نے بتایا

اچھا اور تم نے ؟

شاہ نے پوچھا

میں تو ابھی نہیں لیا

نینا ساتھ ساتھ جواب دے رہی تھی ساتھ ساتھ ڈریس بھی دیکھ رہی تھی

تو لو نا تم بھی

شاہ نے اصرار کیا

کونسے کلر کا لو گی ویسے ؟

شاہ نے پوچھا

ابھی تو سوچا نہیں

تم بتاؤ کونسے کلر کا لوں ۔؟

نینا نے بھی پوچھ لیا

دیکھ کر بتاتا ہوں

شاہ نے کہا

مطلب ؟

نینا نے۔ حیران ہو کر پوچھا

تھوڑی دیر بعد شاہ کا جواب آیا

میں بھی یہیں ہوں 😊

کہاں 😮

نینا نے گردن گھمائی

شاہ ایک۔ عبایا والی لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا

وہ دونوں پاس آگئے

نینا نے آنکھیں چھوٹی کر کے اس لڑکی کو دیکھا

نینا کے بعد سجیلہ نے اسے دیکھا تھا

ارے شاہ تم یہاں 😮

اور یہ لڑکی کون ہے ؟

سجیلہ نے لڑکی کو سر سے پاؤں تک دیکھا

اسلام و علیکم

شاہ نے آگے بڑھ کر نینا کی مما کو سلام کیا

وا علیکم اسلام

مما نے جواب دے کر نینا کو دیکھا

مما یہ سیدحنان علی شاہ ہیں

یہ ہمارے ساتھ پڑھتے ہیں اور شاہ یہ میری مما ہیں۔ اور یہ میری۔ بہن زوہا اور یہ عینا

شاہ باری باری سب کو دیکھ کر مسکرایا

( اور ہمارے ساتھ مل کر غنڈہ گردی بھی کرتے ہیں)) یہ بھی بتانا تھا نا 😂سجیلہ اس کے کان میں سر گو شی کی

شٹ اپ

نینا نے اسے کہنی ماری

اچھا اچھا کیسے ہو بیٹا

جی آنٹی میں۔ ٹھیک ہوں

آپ بتائیں

کہاں تک پہنچی آپ لوگوں کی شاپنگ ہم لوگ بھی یہاں کچھ کپڑے لینے آئے تھے فاطمہ کو کچھ سامان لینا تھا

یہ میری۔ چھوٹی بہن ہے 😊

میراب فاطمہ ❤

اب لڑکی نے بھی سب کو سلام کیا

کونسی ڈریس پسند کی ہے آپ نے ؟

فاطمہ بھی آگے بڑھ آئ تھی

زوہا نے کچھ ڈریس پسند کیے تھے اب نینا نے اب ڈریس دیکھا

کافی ڈریس دیکھنے کے بعد اسے ایک ڈریس پسند آیا 😊🤔

شاہ نے اسے میسج کیا

پنک کلر والا ڈریس لے لو نا

اس نے وہ بھی پیک کروا لیا

اور فاطمہ کے لئے بھی ایک ڈریس

فاطمہ کچھ ھی دیر میں ان لوگوں کے ساتھ گھل مل گئی تھی

گھر آنے کے بعد زوہا نے اس سے پوچھا

وہ لڑکا کون تھا ؟

تو سجیلہ نے لہک کر جواب دیا

وہ وہی تھا جسے نینا کچھ دن پہلے قتل کرنے والی تھی

اور نینا اسے گھور کر رہ گئی

***************

آج اس نے نینا کی آنکھوں میں اپنی مرضی کے رنگ دکھے تھے

اس نے شاہ کی بات مان کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ اب وہ اس سے کچھ بھی منوا سکتا تھا اس کامیابی پہ جشن تو بنتا تھا

اس نے زین کو فون کر کے بلایا

اور سب بتایا

واہ یار تو نے تو کمال کر دیا

زین نے اسے شاباش دی

اب آگے کیا سوچا ہے تونے ؟

زین نے اسے بغو ر دیکھا

کچھ خاص نہیں بس ٹائم کے حساب سے کرتا جاؤں گا فیصلے

شاہ نے اسے بتایا

اچھا آج چل رہا ہے نا کرکٹ کھیلنے ؟

ہاں ہاں بالکل چلیں گے

ہم تیار ہیں ✌

*******************

شادی کا ہنگامہ شروع ہو چکا تھا

رسمیں سٹارٹ ہوتے ھی گھر میں چہل پہل ہو گئی تھی

سجیلہ کو 2 دن پہلے سے ھی اس نے یہیں رکھ لیا تھا

وہ سجیلہ کے بغیر کوئی بھی موقع انجوائے نہیں کر سکتی تھی

آج مہندی کی رسم تھی اور سب تیاری میں بزی تھے

وہ بھی اپنا ڈریس لئے بھاگی بھاگی پھر رہی تھی

زوہا نے اسے پکڑ کر ایک کزن کے سپرد کیا جس نے اسے تیار کیا

اور سجیلہ کو بھی ان دونو۔ دونوں کے ڈریس سیم تھے

جو زوہا نے پسند کیے تھے

جامنی کلر کے لہنگے پہ گولڈن تلے سےنفیس سی کڑھائی کی گئی تھی گولڈن چولی اور دوپٹے پہ جامنی اور گولڈن مکس کڑھائی تھی ساتھ ہم رنگ جیولری اور کھسہ پہنے ہم رنگ چوڑیا ں اور ہلکے میک اپ میں سلیقے سے سیاہ لمبے بال سیٹ کیے جب وہ تیار ہو کر باہر آئی تو بہت ساری۔ نظریں اس پر سے ہٹنا بھول گئی جب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اتنی حسین لگ سکتی ہے ہمیشہ رف سے حلیے میں رہنے والی نینا آج وہ ہمیشہ سے الگ حلیے میں نظر آ رہی تھی وہ جہاں سے گزرتی سب دیکھ کر حیران ہو رہے تھے سب کچھ زوہا کی پسند کا پہنتے ہوئے آج اس نے ایک بار بھی اعترض نہیں کیا تھا

خالہ نے بار بار اس کی نظر اتاری اور۔ ممانی کن اکھیوں سے اسے دیکھتی 🙄

وہ سب سے بے نیاز سی سجیلہ، سحر اور عینا کے ساتھ پھولوں کی پلیٹیں باہر لا رہی تھی

اف قیامت لگ رہی ہو آج تو کہاں چھپا کر رکھا تھا اپنا یہ روپ ؟

وہ جو پلیٹ رکھ کر مڑی تھی سامنے کھڑے وسیم کو دیکھ کر اس کا حلق کڑوا ہو گیا

زہر لگتا تھا اسے یہ لڑکا

وہ اس کی بھابی کا چچا تھا

اس نے گھور کر اسے دیکھا

صرف کپڑے بدلے ہیں میرے زبان اور انداز وہی ہے سمجھا

اس نے غرا کر اسے ضواب دیا اور ایک موٹی سی گالی دی

تب تک باقی لڑکیان بھی آ چکی تھیں

تو وہ کھسک گیا

اسے بے اختیار یاد آیا

اس دن شاہ نے اس سے کہا تھا

ایک بات مانو گی میری ؟

کونسی بات ؟

نینا نے پوچھا

تم گالیاں مت دیا کرو یار پلیز

تمہیں پتہ ہے ایک گالی دینے سے کتنا گناہ ہوتا ہے اور

مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگتا

میں کیا کروں شاہ کچھ لوگوں کو دیکھ کر گالیاں خود با خود منہ سے باہر کود پڑتی ہیں🙄😏

اس نے اتنی معصومیت سے کہا کہ شاہ بے اختیار ہنسا تھا

شٹ یار پھر سے گالی دے بیٹھی اس نے افسوس سے سر جھٹکا

کہاں کھو گئی ہے چل بھی اب

سجیلہ نے اسے کھینچا

وہ شاہ کے بارے میں سوچتی آگے بڑھ رہی تھی جب اس کی نظر سامنے سے آتے شاہ پر پڑی

وہ چونک گئی تھی

بلیو پینٹ پے بلیک شرٹ اور بلیک جیکٹ پہنے بال پیچھے کو سیٹ کیے ایک کلائی میں گولڈن گھڑی پہنے دوسری کلا ئی میں ریڈ اور بلیک مالا پہنے ذہانت سے چمکتی سیاہ آنکھیں اس پے جمائے وہ اس کے پاس آ رکا

تم یہاں کیسے

وہ ابھی تک حیران تھی

جی میں یہاں

شاہ نے ہلکی مسکان کے ساتھ اسی کے انداز میں کہا

ہاں پر تم یہاں کیا کر رہے ہو 🤔

نینا نے پھر سوال دہرا یا

جناب ہم مہمان ہیں ہمیں بلایا گیا ہے تبھی آئے ہیں

شاہ نے سجیلہ اور باقی لڑکیوں کو دیکھا جو اس کے پیچھے کھڑی تھیں

کس نے بلایا 🙄

نینا کو ہضم نہیں ہو رہا تھا

پوچھو جا کر ویسے اگر تمہیں اچھا نہیں لگا تو میں چلا جاتا ہوں

ارے نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا

وہ شرمندہ ہو۔ گئی

EjOy The Party ❤

وہ اندر چلی گئی

شاہ کتنی ھی دیر اس کے پیٹھ پے لہراتے بال دیکھتا رہا

آج وہ بھی اسے دیکھ کر پلک جھپکنا بھول گیا تھا

کیا وہ نینا ھی تھی ؟

وہ جیسے خود سے پوچھ کر یقین کرنا۔ چاہ رہا تھا

اس نے خود سے ھی نگاہ چرائی

وہ اندر گئی تو زوہا کے پاس فاطمہ کو بیٹھا دیکھا

سلام کیا اور زوہا کے کان میں جا گھسی

ان لوگوں کو کس نے بلایا ؟

میں نے ،

زوہا نے سکون سے۔ کہا

پر کیوں ؟

وہ۔ پتہ نہیں کیوں جھنجھلا رہی تھی

کیونکہ وہ اچھے لوگ ہیں مما کو اچھے لگے اور فاطمہ۔ سے میری اچھی دوستی ہو۔ گئی تھی۔ اس لئے تجھے کیا اعترا ض ہے ؟

کوئی بھی نہیں وہ چپ چاپ باہر نکل گئی

. ****************

لڑکے والے ابھی تک نہیں آئے تھے

وہ سب تیاریا ں کر کے اب خوش گپیوں میں مصروف تھے

حال مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا

ملک توقیر نے اپنے بزنس پارٹنرز اور شہر کے کافی بڑے بڑے لوگوں کو مد عو کر رکھا تھا

اور ان کا اپنا بھی پورا خاندان جمع تھا

وہ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے

ان کے 4 بھائی تھے اور ان سب بھائیوں میں ہر ایک کے 4 یا 5 بیٹے تھے

اور بیٹیاں کسی کے گھر 4 کسی کی 2 کسی کی ایک تھی

یوں ان کا خاندان بہت وسیع تھا

اکثر جب گھر میں کوئی پارٹی یا فنکشن ہوتا تو نینا ہمیشہ کہتی

1000 کے قریب کرسیاں آپ کے بھائیوں اور ان کے بچوں کی ہو گئی باقی سب کے لئے اور ارینج منٹ کر لیں 😂

اس پر پاپا اسے گھورتے اور مما مسکراہٹ دبا لیتی ہونٹوں میں اور بہن بھائی دبی دبی ہنسی ہنستے

پاپا کہتے یہ تو بخت کی بات ہے کہ اتنے بھرے پرے خاندان کا فرد ہوں میں

سو آج پھر سے ان کے بھرے پرے خاندان سے حال بھرا پڑا تھا

لڑکیاں طرف بیٹھی سب پر نظر رکھے ہوئے تھیں

اور اس کے کپڑے دیکھ

اس کا جوتا دیکھ

فلاں کی جیولری دیکھ

بس اس کے سوا ان کو کوئی بات نہیں آتی تھی

اور لڑکے اپنی محفل جمائے بیٹھے تھے

سب کی اپنی اپنی دنیا تھی

سب کے اپنے اپنے شوق تھے

ایک طرف کونے میں وہ لوگ بھی ایک میز کے گرد بیٹھے تھے

اس کا پورا گروپ آیا ہوا تھا

اور وہ لوگ ہر کام میں پیش پیش رہے تھے

شاہ بھی ان کے ساتھ بیٹھا تھا

وہ سب سے بے نیاز اپنی ھی دنیا بسائے بیٹھے تھے

کچھ دیر بعد شاہ کو ایک کال آئی وہ اٹھ گیا

تھوڑی دیر بعد واپس آ کر اس نے نینا کو بلایا

بات سنو

دور کھڑا وہ اسے ہاتھ کے اشا رے سے بلا رہا تھا

وہ اٹھ کر اس کے پاس آگئی

نینا مجھے جانا ہوگا مما کی طبیعت ٹھیک نہیں مجھے جانا ہوگا ذرا فاطمہ کو بلا لاؤ

شاہ نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا

پر شاہ ابھی تو مہندی کی رسم بھی نہیں ہوئی 🙄

نینا نے اسے یاد دلایا

ہاں پتہ ہے یار پر کیا کریں مجبوری ہے بہت دیر ہو۔ گئی ہے میں صبح فاطمہ کو لے آؤں گا نا

شاہ نے نرمی سے اسے سمجھایا

اچھا ٹھیک ہے

خلاف توقع وہ آسانی۔ سے مان گئی

اور اندر کی طرف بڑھی

سنو…. .

شاہ نے پیچھے سے پکارا

وہ مڑی

اپنا صدقہ دینا آج تمہیں نظر لگ جائے گی

بہت پیاری لگ رہی ہو تم ❤

نینا کا دل زور سے دھڑ کا

آج پہلی بار اسے کسی کا تعریف کرنا۔ اچھا لگا

آج پہلی بار اسکا دل لڑکیوں کے۔ انداز میں۔ دھڑکا

وہ لڑکوں کے ساتھ پڑھتی تھی لڑکوں کے بیچ رہتی تھی پر۔ کبھی خود کو لڑکی سمجھا نہیں تھا نا کبھی اسے لڑکیوں جیسے احساسات محسوس ہوتے تھے

پر آج …………

اسکی پلکیں لرز کر جھکی

اور چہرے کا رنگ بدلا

شاہ کی نظریں اس کے گلابی ہوتے چہرے پہ ٹکی تھیں

اور نینا کی سانسیں جیسے سینے میں اٹک گئی تھیں

اور جب عورت کسی مرد سے تعریف سن کر خوشی محسوس کرے تو سمجھ جاؤ وہ مرد اس کے لئے امتحا ن بننے والا ہے 💔✌

. **************

رات اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی پر وہ ابھی تک جاگ رہا تھا

رہ رہ کر اس کی نظر میں وہی منظر ابھر رہا تھا

اس نے کر وٹ لی

بیڈ کی اس سائیڈ کو دیکھا جہاں جان شاہ سویا کرتی تھی

اس نے ہاتھ بڑھا کر بیڈ کو چھوا

دور کہیں اذان کی آواز سنائی دی وہ اٹھ گیا

اسے جلدی تیار ہو کر پھر جانا تھا اسے یقین تھا آج نینا میں اسے بہت کچھ بدلا ہوا دیکھنے کو ملنے والا تھا 😍

آج کا دن پتہ نہیں کیا کیا بدلنے والا تھا

اور کبھی کبھی ہم لوگوں کو بدلنے کی چاہ میں ان کی ساری زندگی کو بدل دیتے ہیں 💔✌

**************

ابھی وہ ٹھیک سے سوئی بھی نہیں تھی کہ کسی نے اسے ہلایا

اٹھو نینا صبح ہو گئی ہے

ارے کیا ہے یار سونے دو نا

اس نے ہاتھ پرے جھٹکا

ہاں سوتی رہو ہم لوگ چلے جائیں گے پارلر تم یہیں سوتی رہنا

وہ عینا تھی

ہاں ہاں چلی جاؤ

ہمیں ویسے بھی ضرورت نہیں ہے پار لر جانے کی

اس نے آنکھوں پر بازو رکھا

ہمیں مطلب 😝🤔

عینا نے حیران ہو کر پوچھا

مجھے اور سجیلہ کو

اس نے نیند میں ڈوبی آواز میں کہا

مجھے تو ہے اور میں تو جاؤں گی تیرا پتہ نہیں

پاس سے اٹھتی سجیلہ نے کہا

جس پر عینا کی کھی کھی اسے سنائی دی

نینا نے بازو ہٹایا

بے وفا عورت نینا نے اسے مکا جڑ دیا

اور پھر سائیڈ بدلی

ٹھیک ہے سوتی رہو تمہاری فراک میں پہن لونگی 😂

عینا کی بات سنتے ھی وہ جھٹ سے اٹھی تھی خبر دار جو میری فراک کو ہاتھ لگایا

👊تیرے بال کھینچ دونگی میں

ہاہا اٹھے گی تب نا عینا باہر بھاگ گئی تھی

اور وہ اس کے پیچھے 😂😍

*************

نا نا کرنے کے باوجود بھی وہ لوگ اسے ساتھ پارلر پہ لے گئی تھیں

وہاں اس نے لگائی جانے والی ہر چیز پہ اعترا ض کیا

جس پر پارلر والی نے زوہا کو شکایت کی

آپ ایسا کریں سب سے پہلے اس کے منہ پر ٹیپ لگا دیں باقی سب بعد میں لگانا

اس نے صدمے سے زوہا کو دیکھا

پھر چپ کر کے بیٹھ نا

زوہا نے اسے ڈانٹا

تو پھر وہ دوبارہ نا بولی جب سب تیار ہو گئے تو ان سب کو آئینے کے سامنے کھڑا کیا گیا

وہ تو منہ کھولے خود کو دیکھ رہی تھی

یہ کیا بنا دیا تھا ان لوگوں نے اسے 🙄

سبھی ایک۔ دوسرے کی تعریف کر رہے تھے

تب تک بھائی گاڑی لے کر آ چکا تھا ان کو

لینے

سب سے پہلے بھیا نے اسے دیکھ کر حیرت سے پوچھا ارے یہ کون ہے ؟😮🤔

اس نے بھیا کو گھورا

میری بہن کہاں ہے یہ تو کوئی اور ہے یار

بھیا زوہا کی طرف پلٹے جو دلہن بن کر کوئی شہزادی ھی لگ رہی تھی بھیا نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا

بہت پیاری لگ رہی ہے میری چندہ ❤

اور میں بھیا ؟

عینا نے منہ بسورا

تم بھی چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہو

بھیا نے اس کا گال تھپکا

پھر سجیلہ کو دیکھا وہ بھی نینا کی طرح فراک پہنے اور ہم رنگ جیولری اور جوتے پہنے ہاتھ میں کلچ پکڑے بالکل گڑیا جیسی لگ رہی تھی

میری سب بہنیں ماشاءالله بہت پیاری لگ رہی ہیں

بس ایک نینا نظر نہیں آ رہی

بھیا نے سڑک پار پارلر کی طرف دیکھا

بھیا ……..👊🙄😏

نینا نے بھیا کو غصے سے پکارا پر انداز میں لاڈ تھا

ہاہا اس کے اس انداز پر سب ہنس دیے ارے یار تنگ کر رہا تھا تمہیں

بھیا نے اسے پچکارا

میرا بچہ سب سے پیارا لگ رہا ہے ❤

اب بھی نا پہچانتے نا

نینا ڈور کھول کر فرنٹ سیٹ پر براجمان ہو چکی تھی

نا بابا نا

مجھے ہٹلر دیدی سے پنگا نہیں لینا بھیا نے کہتے ہوئے کار سٹارٹ کی اور گھر کی طرف چل دیے ❤

**********************

اندر قدم رکھنے پر سب سے پہلے جس سے اس کا سامنہ ہوا وہ سیفی تھا

جس نے اسے دیکھ کر ہونٹوں کو گول کر کے سیٹی بجائی تھی

ہائے آج تو ہماری ہٹلر دیدی لڑکی بنی ہوئی ہے 😂

اور وہ بھی ظالم حسینہ تو ہمیشہ ظالم ھی رہنا یار

صدقے 😜

ابے سالے لڑکی کو چھیڑ تا ہے تیری تو ……..

نینا نے اپنے انداز میں کہتے ہوئے

بازو اوپر چڑھانے کی اداکاری کی

جس پر سب کا ایک۔ زبردست قہقہہ پڑا جس میں سب سے بلند آواز نینا کی ھی تھی

لڑکی نہیں لڑکیاں بولو ہٹلر

کیونکہ باقی سب بھی آج تو قیامت سے کم نہیں لگ رہیں 😍

اسفند بھی کہیں سے آن دھمکا

اس نے باری باری سحر اور سجیلہ کو دیکھا

ہاں ہاں لگاؤ نظر ہمیں

سحر نے برا سا منہ بنایا

جب کے سجیلہ نے اترا کر بال جھٹکے

چڑیلوں کو بھی نظر لگتی ہے کیا 😂

اس نے انہیں اور ستا یا

یونہی ہنسی مذاق میں اب وہ لوگ اسٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے

برات ابھی نہیں آئ تھی تو یہاں بیٹھا جا سکتا تھا

یہی سوچ کر وہ لوگ اس طرف آگئے تھے

اس کی نظریں شاہ کو ڈھونڈ رہی تھیں

اور پھر وہ اسے نظر آ ھی گیا

اسٹیج کے ساتھ ھی ایک۔ ٹیبل پر بیٹھا تھا وہ

ان کی آواز سن کر اس نے گردن موڑی

اور پھر وہ اچانک ھی اٹھ کھڑا ہوا

وہ مبہوت سا کھڑا اسے اپنی

طرف آتا دیکھ رہا تھا

وہ اس کی پسندیدہ سیاہ کلر کا فراک زیب تن کیے سیاہ جالی کا دوپٹہ گلے میں ڈالے کلائیوں میں سفید اور سیاہ چوڑیاں پہنے سفید جیولری اور ہم رنگ ہیل والا جوتا پہنے کانچ جیسی آنکھیں اس پہ جمائے وہ خراماں خراماں چلتی اس کی اور چلی آ رہی تھی

لمبے سیاہ بال جو بڑے سلیقے سے رول کر کے ایک سائیڈ سے پن اپ کر کے باقی کھلے چھوڑے گئے تھے اور آج اس کی مخروطی انگلیاں انگوٹھیوں سے مز ین تھیں

سیاہ لباس میں اس کا سرخ و سپید چہرہ د مک رہا تھا

شاہ پلک جھپکنا بھول چکا تھا

تھوڑی دیر کے لئے جیسے ہر چیز تھم گئی تھی

ارد گرد کا سارا ماحول کہیں تحلیل ہو گیا تھا

آس پاس کے سب لوگ کہیں گم ہو گئے تھے

بس وہ دونوں تھے وہاں آمنے سامنے کھڑے

اس کے منہ سے سر سراتے ہوئے کچھ لفظ نکلے

“جان شاہ “

اور بلا شبہ وہ جان شاہ ھی تھی اس وقت اس کے سامنے نینا نہیں جان شاہ کھڑی تھی

جیسے بیچ میں سے سارے زمانے سمٹ گئے تھے

وہ کسی خوابوں کے دیس میں کھڑا تھا

اور ساری حقیقتیں نظروں سے اوجھل ہو چکیں تھیں

اور انسان جب خوابوں اور حقیقت کے درمیانی سنگم پہ جا کھڑا ہوتا ہے تو اس مکمل اور نا مکمل کے بیچ کا احساس بہت اذیت ناک ہوتا ہے 💔✌