Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 21

339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 21

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah

اٹھ جا اب نینو کب سے تیرا انتظار کر رہی ہوں میں 😏

سجیلہ نے کوئی دسویں بار اس کو ہلا یا تھا

آج اتوار تھا اور سجیلہ جلدی ہی آگئی تھی

اس کا ارادہ بازار جانے کا تھا

لیکن نینا تھی کہ اٹھ کر ہی نہیں دے رہی تھی 🙄

نینا اب تو نا اٹھی نا تو میں نے پانی تیرے اوپر ڈال دینا ہے 😏

سجیلہ نے اسے دھمکی دی

سجیلہ کی بچی آخر تیرا مسلہ کیا ہے 😠

ایک سنڈے کا دن ہوتا ہے وہ بھی سکون سے نہیں جینے دیتی صبح صبح نازل ہو گئی ہے

نینا نے آنکھیں کھول کر اسے گھورا

میرا مسلہ یہ ہے کہ مجھے شاپنگ پہ جانا ہے اور وہ بھی تجھے ساتھ لے کر

اس لئے اب اٹھ جا بس

سجیلہ نے کسی بھی بات کو خاطر میں نا لاتے ہو ئے کمبل اس کے اوپر سے کھینچ کر دور پھینک دیا

کوئی نہا یت ہی ڈھیٹ قسم کی عورت ہو تم یار 🙄

نینا جھنجھلا کر اٹھی

ہیں 😯

یہ عورت کس کو کہا تو نے 😠😏

سجیلہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا

تو غور کر کس کو کہا تب تک میں فریش ہو کر آئ

نینا مسکرا ہٹ دبا کر دروازے کی طرف

تو واپس آ تجھے بتاتی ہوں میں 👊

سجیلہ نے پیچھے سے اسے کشن اٹھا کر مارا

جو نینا تک پہنچنے سے پہلے ہی نینا جھلانگ لگا کر دروازہ پار کر گئی اور کشن دروازے میں پڑا سجیلہ کا منہ چڑا رہا تھا 😂

بیسٹ فرینڈ وہ واحد انسان ہوتا ہے جسے ہم گولی مارنے کی خواہش رکھتے ہو ئے بھی مار نہیں سکتے 😅❤😘

*********************

وہ گہری نیند میں تھا جب کسی کی مترنم آواز نے اسے خوابوں کی۔ دنیا سے حقیقت کی دنیا میں کھینچ لیا ۔

اٹھو شاہ نماز کا ٹائم ہو گیا ہے ❤

اونہہ سونے دو نا جان شاہ تمہیں پتا تو اتنا لیٹ سویا تھا میں

اور پھر …………

وہ ایک دم بولتے بولتے خاموش ہوا

اسے یاد آیا کہ اس کی بات سننے کے لئے اب جان شاہ اس کے پہلو میں نہیں تھی 💔

اس نے کراہ کر آنکھیں بند کی

کتنا عجیب تھا یہ سلسلہ

ایک جان شا ہ اسے نماز کے لئے جگایا کرتی تھی

اور ایک جان شاہ کو وہ جگایا کرتا ہے

اللّه کی محبت ایک ایسی مظبوط زنجیر تھی جس سے سب کڑی در کڑی جڑے ہو ئے تھے ❤

یہی سوچتے سوچتے ایک دم اس نے آنکھیں کھولی

ا وہ شٹ

اس نے جھپٹ کر اپنا موبائل اٹھا یا

آج اس نے نینا کو میسج نہیں کیا تھا

اس نے جلدی جلدی میسج ٹائپ کیا

اور سینڈ کر کے جواب کا انتظار کرنے لگا

لیکن کوئی جواب نہیں آیا

آج سنڈے تھا تو شاید وہ ابھی تک سو رہی تھی

شاہ نے خود ہی اندازہ لگایا اور موبائل رکھ کر واشروم میں گھس گیا

**********************

ایک گھنٹے بعد وہ لوگ بازار میں کھڑ ی تھیں

وہ عینا اور مما کو بھی ساتھ لے کر آئی تھی

نینا اب حجاب کرنے لگی تھی

جس پر سجیلہ نے کافی حیرت کا اظہا ر کیا تھا ❤

وہ کتنی بدل گئی تھی

ایک شاپ میں داخل ہو کر وہ لوگ کچھ دیکھ رہے تھے ساتھ والی شاپ پر عینا رک گئی

نینا نے مڑ کر اس کے پاس آئی

رک کیوں گئیں چلو

نینا نے اسے اشارہ کیا

نینا وہ دیکھو وہ نیل پینٹ کتنا پیارا کلر ہے اس کا 😍

عینا نے اس کی بات ان سنی کرتے ہو ئے کہا

نینا نے دیکھا وہ واقع بہت پیاری تھی

تو رکھ لو نینا نے کہا

نہیں یار مما غصہ ہوتی ہیں

عینا کو نیل پینٹ لگا نے کا بہت شوق تھا

پر اس کی مما کہتی تھیں یہ اچھی چیز نہیں ہے ✌

نینا نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اندر کی طرف بڑھی

نینا نے وہ نیل پینٹ لے کر اس کے پرس میں ڈالی اب چلو

وہ عینا کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھی

اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟

نینا نے نوٹ کیا وہ اسے غور سے دیکھ رہی تھی تم

میری ماں ہو یا مما میری ما ں ہیں ۔

کبھی کبھی لگتا ہے جیسے میری ماں مما نہیں تم ہو 🙄

عینا نے مسکرا کر اسے دیکھا ❤

ہاہا ہاں میں بھی تمہاری ماں ہوں کیونکہ بڑی بہنیں بھی ماں ہی ہوتی ہیں اب چلو ورنہ ہم دونوں کی اصل والی ماں ہماری واٹ لگا دے گی 😂

نینا نے ہنستے ہوئے کہا

اور پھر ان دونو ں نے مل ایک دوسرے کو دیکھ کر قہقہ لگایا ❤

ان لوگوں نے بہت ساری شاپنگ کی

اور جب تھک گئیں تو مما ان کو لے کر ایک ریسٹورانٹ کی طرف بڑھیں

لنچ کر کے جیسے ہی وہ نکلے

اس کا موبائل بجا

سکرین پر شاہ کا نام دیکھ کر اس نے ایک میسج کر دیا

بازار ہوں گھر جا کر بات کرتی ہوں

اور موبائل پرس میں رکھ لیا

********************

شاہ نے اسے ایک آئ ڈی بنا کر گفٹ کی تھی اپنی پسند کے نام کی

وہ اب اس آئ ڈی کو زیادہ استعمال کرتی

اپنی آئ ڈی وہ بس کام کے لئے آن کرتی

یوں اس کی پہچان نئی بن گئی تھی

آج وہ اپنی اصل آئ ڈی پر آئی تو اس نے شاہ کے گروپ میں جو کہ اب اس کا اپنا بھی تھا وہ بھی ایڈمین تھی ❤

اس نے وہاں ایک رومینٹک سی پوسٹ کی اور شاہ کو ٹیگ کر دی

تھوڑی ہی دیر میں اسے ان باکس شاہ کا میسج ملا

مجھے کیوں ٹیگ لیا یار

تو اور کسی کو کرنا تھا کیا ؟

نینا نے مذاق میں بات اڑائی

سب کیا سوچیں گے یار 😏

شاہ کا اگلا میسج دیکھ کر اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی

کیا سوچیں گے ہاں ؟

نینا نے پوچھا

کچھ نہیں یار بس چھوڑو

شاہ نے بجھے انداز میں کہا

ٹھیک ہے تمہاری نیک نامی نا خراب ہو لڑکیوں میں اس لئے میں پوسٹ ڈیلیڈ کر دیتی ہوں 💔

نینا نے تلخی سے کہا

نہیں رہنے دو بس اب

شاہ نے روکا

پر نینا نے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی اس کا موڈ سخت آف ہو چکا تھا

وہ لڑکیوں کا گروپ تھا

اور شاہ نہیں چاہتا شاید کہ وہاں کسی کو بھی ان کے بارے میں پتہ لگے 💔

نینا نے یہی سب سوچتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کر دیا اور بجھے دل کے ساتھ سونے لیٹ گئی

*********************

انسپیکٹر توصیف نے ملک صفدر کے خلاف سب ثبوت جمع کر لئے تھے

اور اس گواہ کو بھی ان لوگوں نے چھپا کر رکھا ہوا تھا

واردات میں استعما ل ہونے والی گاڑی توصیف کے قبضے میں تھی

بس اب اسے ملک صفدر کو اریسٹ کرنا تھا

اس نے ساری تفصیل نینا کو بتائی

بس اب ان لوگوں کو اس لمحے کا انتظار تھا ✌

***********************

آج وہ شاہ کی پوسٹ پر گئی

شاہ نے اپنی ڈی پی لگائی تھی ❤

وہ بلا شبہ بہت ہینڈ سم لگ رہا تھا

اس نے دل سے تعریف کی

وہیں وہ لڑکی بھی اسے نظر آئی

جس سے اس دن گروپ میں ان لوگوں کا جھگڑا ہوا تھا

نینا کا ماتھا ٹھنکا

یہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟

پھر وہ نینا کے کومنٹ میں آ کر اس سے کہنے لگی کہ اتنی تعریفوں کے پل باندھ رہی ہو نظر نا لگا دینا یہ وہ

نینا جس کا اسے دیکھ کر ہی موڈ آف ہو چکا تھا

اس کی بات جیسے جلتی پر تیل کا کام کر گئی

میں اس کی تعریف کروں یا جو مرضی تم کون ہوتی ہو بیچ میں بولنے والی ؟

نینا نے بھی اپنے ازلی سٹائل سے کہہ دیا

میں شاہ کی دوست ہوں پر تم کون ہوتی ہو مجھ سے یہ پوچھنے والی ؟

اس نے بھی بد تمیزی سے کہا

او ہو سیریسلی 🙄

نینا نے اسے چڑا یا

تم شاہ سے ہی کیوں نہیں پوچھ لیتی کہ میں کون ہوں ؟

نینا کا بھی دماغ گھوم گیا

وہ بگڑی ہوئی لڑکی اس گروپ کی مالک تھی

کبھی نینا بھی ایسی ہی ہوا کرتی تھی 💔

وہ 2 منٹ میں اس لڑکی کا دماغ ٹھیک کر سکتی تھی

لیکن تبھی بیچ میں شاہ آگیا

اور اس نے نینا سے کہا

خاموش ہو جاؤ اور جاؤ یہاں سے

میں کیوں جاؤں شاہ میں کہیں نہیں جا رہی

نینا نے بھی ضدی انداز میں کہا

میں کہہ رہا ہوں نا تم جاؤ

شاہ نے اسے سمجھآیا

تم اسے کیوں نہیں کہہ دیتے چلی جائے ویسے بھی یہ خود ہی میرے کومنٹ میں گھسی تھی

نینا بھی غصے میں آگئی تھی

اس سے پہلے کہ جھگڑا اور بڑھتا شاہ نے تصویر ڈیلیٹ کر دی

نینا کو سخت غصہ آیا 😠

یہ لڑکی تمہاری آئ ڈی میں کیا کر رہی ہے ؟

نینا نے غصے سے شاہ کو میسج کیا

اور یہ تمہاری دوست کب سے ہو گئی ؟

شاہ نے اس کا میسج سین نہیں کیا تھا 😐

اسے اور غصہ آیا

میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں شاہ ؟😠😠

نینا کا بس نہیں چل رہا تھا موبائل شاہ کے سر پر دے مارے

ایک تو تمہیں غصہ بہت آتا ہے کبھی صبر بھی کر لیا کرو

شاہ کا جواب آیا تھا

مجھے لیکچر نہیں سننا مجھے میری بات کا جواب چاہیے

نینا نے کوئی بھی بات نا سنتے ہو ئے کہا

نہیں ہے وہ میری دوست اور میں نے خود اسے ایڈ کیا ہے

بس خوش ؟

شاہ کا میسج دیکھ کر اسکا دماغ اور بھی گھوم گیا

اس لڑکی نے اس دن ہماری اتنی انسلٹ کی سا رے گروپ کے سامنے تم نے پھر اسے ایڈ کر لیا

اور آج پھر اس نے مجھے اتنی باتیں سنائی اور تم دیکھتے رہے الٹا مجھے چپ کروا رہے تھے

اور آخر میں پوسٹ ڈیلیٹ کر دی 😠

نینا نے لڑاکا عورتوں کی طرح نکتے نکالے

جس بارے میں تمہیں پتہ نا ہو اس معاملے میں نا پڑا کرو

شاہ نے اکتا کر کہا

اسے کسی مقصد سے ایڈ کیا ہے یار ۔

وہ سب میں نہیں جانتی تم اسے ابھی کے ابھی انفرینڈ کرو بس

یار بات سمجھنے کی کوشش کرو

شاہ نے اسے سمجھانا چاہا

تم اسے انفرینڈ کر رہے ہو یا نہیں؟

نینا نے 2 ٹوک انداز میں پوچھا

” نہیں “

شاہ نے بھی 2 ٹوک انداز میں جواب دے دیا

لگتا ہے یہ نیک کام بھی مجھے ہی کرنا پڑے گا ✌

نینا نے سرد لہجے میں کہا

کیا۔ کرو گی تم ؟

شاہ کو بھی غصہ آگیا تھا

نینا ملک کہتے ہیں مجھے اور میں کچھ بھی کر سکتی ہوں یہ بات تم اچھے سے جانتے ہو مسٹر شاہ 👊😠

نینا نے کہہ کر موبائل آف کر دیا

یہ ان دونوں کا با قاعدہ پہلا جھگڑا تھا

اور رشتوں کو ٹوٹنے کے لئے بڑی بڑی وجو ہا ت کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے لئے چھوٹی چھوٹی غلطیا ں ہی کافی ہوتی ہیں 💔✌

**********************

زوہا کے گھر میں پھر سے جھگڑا ہوا تھا

اس کی نند نے اسے مارا تھا

یہ خبر سب گھر والوں پر بجلی بن کر گری تھی

وہ جیسے ہی گھر آئی یہ خبر سن کر اس کے دماغ کا فیوز اڑ گیا تھا

کس نے بتایا یہ آپ کو ؟

اس نے ضبط کرتے ہوئے مما سے پوچھا

زوہا نے فون کیا تھا وہ رو رہی تھی

نینا کا خون کھول گیا

مجھے تو وہ لوگ شروع سے ہی زہر لگتے تھے

دکھا دی نا آخر انہوں نے اپنی اوقات 😠

آپ کو ہی شوق تھا اپنے بھتیجے کو داماد بنانے کا

لیکن ایک بات میں بتا رہی ہوں مما

اگر زوہا کو چوٹ آئی تو میں آپ کے بھتیجے اور بھتیجی دونوں کو جان سے مار دونگی 😠👊

نینا آگ بگو لا ہو رہی تھی

اس نے پاپا کو فون کیا اور بھیا بھی آ چکے تھے ۔

اب کا کرنا ہے ؟

یہ سب سے بڑا سوال تھا

بھیا نے کہا ہمیں زوہا کو گھر لے آنا چاہیے

پاپا نے کہا تمھارے ماموں سے بات کرتے ہیں

کوئی کسی سے بات نہیں کرے گا پاپا

نینا نے 2 ٹوک انداز میں کہا

بھیا اور میں جائیں گے وہاں حالات دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ اب کیا کرنا ہے 💔

نینا نے پاپا کو دیکھا

نینا ٹھیک کہہ رہی ہے پاپا

ان لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی ہماری بہن کو ہاتھ لگا نے کی اور وہ بھی کسی تیسرے انسان کی اگر جیجو نے مارا ہوتا زوہا کو تو معاملہ اور ہوتا پر ان کی بہن کا کوئی حق نہیں بنتا زوہا پر ہاتھ اٹھا نے کا

بھیا بھی غصے میں تھے

پاپا میرے خیال سے ہمیں پولیس کو ساتھ لے کر جانا چاہیے

نینا نے نئی تجویز رکھی

بیٹا جلدی نا کرو پہلے جا کر وہاں دیکھو حالات اگر یہ نوبت آئی تو یہ بھی کر لیں گے

پاپا نے اس کا ٹھنڈا کرنا چا ہا

ٹھیک ہے پاپا نینا نے گہری سانس لی

بھیا میں ریڈی ہو کر آتی ہوں

وہ کہہ کر اپنے روم کی طرف بڑھی

کمرے میں آ کر اس نے ایک نمبر ملایا

سارے حالات بتا کر اس نے کہا

تم ہمارے ساتھ چل رہے ہو توصیف

دوسری طرف کی بات سن کر اس نے کہا

ہم آدھے گھنٹے میں تمہارے پاس پہنچ جائیں گے

کچھ دیر بات کرنے کے بعد اس نے فون بند کیا

سجیلہ کو فون کیا اور حالات بتا کر یہ بھی بتایا

کہ وہ جا رہی ہے

اس کے بعد اس نے چادر اٹھا ئی اور باہر نکل گئی

وہ پہلے ہی اپ سیٹ تھی

شاہ اور اپنے جھگڑے کی وجہ سے

اور اب یہ نئی پریشانی 💔

لیکن وہ ایک مظبوط اعصاب کی لڑکی ہے اور اسے ہر حال میں ہر طرح کے حالات میں حوصلہ رکھنا ہے

اس نے ہمیشہ کی طرح خود کو نصیحت کی اور نیچے اتر گئی ❤

اور جب انسان پر مصیبت آتی ہے تو چارو طرف سے آتی ہے 💔✌

**********************

وہاں پہنچ کر ان لوگوں نے توصیف کو باہر گاڑی میں ہی چوڑا

اندر جا کر دیکھتے ہیں پھر بلا لیں گے آپ کو بھیا نے کہا

زوہا ان کو دیکھتے ہی رونے لگی تھی

نینا نے لپک کر اسے گلے لگایا

پھر اسے دیکھا

زوہا کے بال بکھرے ہوئے تھے

اور چہرے پر جا بجا خراشیں تھیں

اس کے ہونٹ پر بھی زخم تھا

اور قمیض سامنے سے پھٹا ہوا تھا جو اس نے چادر سے چھپا رکھا تھا نینا کی آنکھوں میں خون اتر آیا

پھر بھیا نے اسے گلے لگایا

بھیا کی حالت بھی نینا نے مختلف نا تھی ممانی ڈرامے کرتی قریب آئی تو نینا نے ہاتھ اٹھا کر ان کو روک دیا

بس بہت رشتے داری ہو گئی آپ سے

اب کسی اور زبان میں بات ہوگی

بھیا نے بھی یہی انداز اپنایا تھا

کہاں ہے وہ آپ کی جنگجو بیٹی بلائیے اسے

ہم بھی دیکھیں اس کے کرشمے

نینا نے غرا کر کہا اور زوہا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا

مما نی کچھ کہہ رہی تھیں لیکن اس نے سنا نہیں

توصیف کو فون کر کے بلا چکی تھی وہ

توصیف کی نگرانی میں ان لوگوں نے زوہا کو ساتھ لیا

کمرے کو لاک کیا اور ان سب کو گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے

مما نی اور ان کی بیٹی منتیں کر رہی تھیں

لیکن وہاں ان کی سننے والا کوئی نہیں تھا

انسپکٹر توصیف کو یو نیفارم میں دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے تھے

اور ان کی ساری اکڑ نکل گئی تھی

زوہا مسلسل رو رہی تھی 💔

وہ لوگ اسے اپنی گاڑ ی میں الگ لے کر جا رہے تھے جبکہ باقی سب انسپکٹر توصیف کی پولیس وین میں اس کے ساتھ تھے

سفر تو ابھی شروع ہوا تھا

اور کچھ سفر جتنے بھی تکلیف دہ ہوں پر ان سے گزرنا ہی ہوتا ہے

********************

بھیا نے پاپا کو فون کیا اور جیجا جی کا اور ان کے باپ کا بھی فون آ چکا تھا

پاپا کو اس نے سب بتا دیا

تم لوگ سچ میں پولیس لے کر گئے تھے کیا ؟

پاپا نے اس سے پوچھا

نہیں پاپا وہ توصیف ہمارے ساتھ تھا ان لوگوں کو وہ لے کر آ رہے ہیں پیچھے پولیس وین میں

اس نے ساری تفصیل بتائی

ہم نے ابھی تک رپورٹ نہیں لکھوائی ہم تو بس ان کی اکڑ نکال رہے تھے۔

اچھا

ان لوگوں کو پولیس اسٹیشن لے کر مت جانا

ان کو یہاں لے آؤ

پاپا نے اس کو نصیحت کی

ٹھیک ہے پاپا بھیا نے کہہ کر فون بند کر دیا

زوہا سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ ان دونوں کا آپس میں جھگڑا ہوا نند بھاوج کا اور بسمہ اس کے روم میں گھس آئی اور زوہا کو مارنے لگی

اس کی مما جب تک آتی وہ کافی نڈھا ل ہو چکی تھی

ایک تو اس نے اچانک حملہ کیا زوہا پر تو وہ سنبھل نا پائی

اور دوسرا وہ زوہا سے جسمانی لحاظ سے کہیں زیادہ مظبوط تھی تو زوہا کو کافی چوٹیں آئ

اس نے پہلا فون مما کو کیا تھا

اور پھر دروازہ بند کر کے بیٹھی رہی

یہ سب سن کر نینا کے خون میں بار بار ابال اٹھ رہے تھے

اس کا دل چاہ رہا تھا اس لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹے

اس نے زوہا کو تسلی دی

اور ان کے لئے کوئی سبق سوچنے لگی جس سے انکی عقل ٹھکانے لگائی جا سکے 👊

اور کچھ لوگ اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان کو عزت دی جا سکے 💔✌