Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 32
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 32
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shab
آج وہ بہت عرصے بعد پاپا کی سٹڈی میں ان کے سامنے بیٹھی تھی
پاپا اس کے مضطرب چہرے کو دیکھ رہے تھے
پاپا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے
ابھی 5 منٹ پہلے ہی نینا نے آ کر ان سے کہا تھا
اور وہ اس کی بات کے منتظر تھے
پر وہ خاموش بیٹھی اپنی گود میں رکھے ہاتھوں پہ نظریں جما ئے ہوئی تھی
بولو نینا کیا بات ہے ؟
آخر انہوں نے پھر سے اسے پکارا
پاپا میں مدرسہ جوائن کرنا چاہتی ھوں
آخر نینا نے اپنا مدعا بیان کیا اور سر اٹھا کر پاپا کو دیکھنے لگی
کیا ؟![]()
پاپا نے حیران ہو کر اسے دیکھا
جی پاپا مجھے سجیلہ کے ساتھ مدرسہ جانے کی اجازت دیں
نینا مجھے لگا تھا کہ ٹھیک ہونے کے بعد تم اپنی سٹڈی مکمل کرنے کی بات کرو گی لیکن یہ کیا …………
انہوں نے بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھا
پاپا کیا آپ کو نہیں لگتا کہ مجھے اس کی ضرورت ہے ؟
اس نے پاپا کو سوالیہ نظروں سے دیکھا
پاپا کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتے رہے پھر گہری سانس لی
ٹھیک ہے بیٹا جیسے آپ کو اچھا لگے ![]()
میں انتظام کر دیتا ھوں
مجھے بس میری بیٹی چاہیے پہلے والی میری نینا ![]()
وہ ہلکا سا مسکرا دی
پاپا نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا
تم تو میرا بہادر بیٹا ہو ![]()
![]()
جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہوگا
وہ خاموشی سے اٹھ آئی
اسے اب دنیا کی کسی چیز میں دلچسپی نہیں تھی پر اس مدرسے میں اسے دلچسپی پیدا ہو چکی تھی نا جانے وہاں کیا تھا ایسا جو اسے اپنی طرف کھینچنے لگا تھا
اور وہ کھنچی جا رہی تھی ![]()
انسان کی زندگی میں بہت سارے راستے آتے ہیں کچھ غلط کچھ صحیح
اور اللّه انسان کو دونوں راستوں پر جانے کے لئے آسانیاں مہیا کر دیتا ہے
یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ صحیح راستے کا انتخاب کرتا ہے یا پھر غلط کا ![]()
ایک راستہ اس نے پہلے چنا تھا جو اسے تباہی کے دہانے پر لے گیا تھا
اور ا یک راستہ وہ اب چننے جا رہی تھی
جو پتہ نہیں اسے کہاں لے جانے والا تھا ![]()
![]()
بیشک راستوں کا انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن منزلوں کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا ہے ![]()
![]()
************************
وہ ہمیشہ کی طرح اپنی چادر سنبھالتی ہاتھ میں نوٹ بک پکڑے دوڑتی ہوئی باہر کی طرف آ رہی تھی
اور وہ ہمیشہ کی طرح گا ڑی کا دروازہ تھا مے ہاتھ میں بندھی گھڑ ی کو بار بار دیکھ کر بڑ بڑ ا رہا تھا
کسی دن میں تمہیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا سمجھی ![]()
وہ قریب آتی سجیلہ سے کہہ کر گا ڑی میں بیٹھ گیا
تم جا کے تو دکھاؤ تمہاری ٹانگیں توڑ کر تمہارے گلے میں نا لٹکا دی تو سجیلہ نام نہیں میرا ![]()
سجیلہ نے اسے کڑ ے تیوروں سے گھو رتے ہوئے دروازہ کھولا
نہیں تو میں کیا ڈرا ئیور ھوں تمہارا ![]()
توصیف نے جھنجھلا کر گا ڑی سٹارٹ کی
یونہی سمجھ لو ![]()
سجیلہ نے گر دن کڑا کر کہا
وہ ابھی اسے کوئی جواب دینے ہی والا تھا کہ سجیلہ کا فون بجنے لگا
اس نے عجلت میں موبائل کان سے لگایا
“ہیلو “
دوسری طرف سے نینا کی آواز سن کر اس کا موڈ خوشگوار ہو چکا تھا
ہاں جانی سنا کیسی ہے ![]()
![]()
میں ٹھیک ھوں تو بتا کیسی ہے ؟
نینا کی آواز موبائل سے ا بھری جسے سن کر توصیف نے گا ڑی بند کر دی
اب وہ خاموشی سے اس کی آواز سن رہا تھا اور اپنے دل کی دھڑ کنو ں کو قابو کرنے کی کوشش جو ہٹلر کی آواز سن کر ہی تیز ہو چکی تھیں ![]()
کیا میں تیرے ساتھ مدرسہ چل سکتی ھوں ؟
نینا کی آواز ا بھری
ہاں ہاں کیوں نہیں ہم لوگ بس نکل ہی رہے ہیں تمہیں پک کرتے ہیں 15 منٹ میں ![]()
سجیلہ نے کن اکھیوں سے توصیف کی طرف دیکھا
جس کی آنکھوں میں چراغ سے جل اٹھے تھے
تم تیار ہو جاؤ ہم آ رہے ہیں
سجیلہ نے کہہ کر توصیف کو چلنے کا اشارہ کیا
جسے سمجھ کر اس نے گا ڑی سٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی
سجیلہ نے فون بند کیا اور اسے دیکھ کر شرارت بھرے لہجے میں بولی
اب بھی چھوڑ کر چلے جاؤ نا مجھے ![]()
جس پر توصیف ہلکا سا مسکرایا
نہیں تمہیں چھوڑ کر بھلا میں کیسے جا سکتا ھوں ![]()
ہاں ہاں سب سمجھتی ھوں میں
سجیلہ نے اسے جتا نے والے انداز میں کہا
سمجھتی هو تو ستا کیوں رہی هو پھر ![]()
توصیف نے سر کھجا یا
میری مرضی
وہ اترا ئی
وہ بہت خوش تھی
نینا کو اس فیز سے نکا لنے کے لئے اس نے صحیح اقدام کیا تھا
وہ اپنی عزیز از جان سہیلی کو ایسے نہیں دیکھ سکتی تھی
ٹھیک 15 منٹ بعد وہ لوگ نینا کے گھر کے سامنے تھے
وہ پہلے سے تیار تھی ان کے ہارن دینے پر فوراً باہر آگئی
لیمن کلر کے کاٹن کے سادہ سے سوٹ میں چادر میں لپٹی وہ سادہ سی لڑکی توصیف کے دل کے تخت پے پوری طرح سے قابض تھی کوئی بھی ایسا دن نا بیتتا تھا جب وہ اس نازک سی لڑکی کے لئے دعا نا کرتا هو ![]()
اس نے ایک نظر اسے دیکھا وہ عام دنوں سے بہت الگ لگ رہی تھی وہ بہت کمزور بھی لگ رہی تھی اللّه کرے اس کی زندگی میں سب کچھ ٹھیک هو جا ئے ![]()
توصیف نے دل سے دعا کی
اس کے بیٹھتے ہی توصیف نے گا ڑی آگے بڑھا دی
وہ اسے سلام کر کے اب سجیلہ کے ساتھ محو گفتگو هو چکی تھی
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بھی ان کی گفتگو میں شریک هو چکا تھا
آج کتنے ہی دن بعد وہ تینوں ایک ساتھ بیٹھے تھے
لیکن یہ سفر مختصر ثابت ہوا ان دونوں کو مدرسہ چھوڑ کر وہ اپنی ڈیوٹی پے جا چکا تھا
ہم سب مسافر ہیں اور زندگی سفر ہر کسی کو کہیں کہیں تو جدا هو کر آگے بڑھنا ہی ہے ![]()
![]()
*********************
مدرسہ جامع العلوم کی فضا میں بلا کا سکون تھا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا تی سجیلہ کے پیچھے چل رہی تھی
جو اسے لئے ایک کلاس روم میں داخل ہوئی
جہاں بہت ساری لڑکیاں پہلے سے موجود تھیں
سجیلہ نے اسے کچھ لڑکیوں سے ملوا یا
کچھ لڑکیوں سے وہ اس دن بھی نینا کو ملوا چکی تھی
سب لڑکیاں بہت محبت سے پیش آئیں اس کے ساتھ اسے بہت اچھا لگ رہا تھا آج ان سب کے بیچ وہ ہر ایک کے چہرے غور سے دیکھ رہی تھی
ہر ایک کے چہرے پر بلا کا سکون تھا
وہ سوچ رہی تھی
ایسا سکون کبھی اسے نصیب ہو سکتا ہے ؟
کبھی اس کے چہرے پر ایسا سکون آئے گا ؟
سجیلہ کے ساتھ بیٹھی وہ کب سے یہی سوچے جا رہی تھی
جب ایک ادھیڑ عمر ٹیچر کلاس میں داخل ہوئیں
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی
سجیلہ نے اسے کہنی ماری
کہاں گم ہو ؟
وہ چونکی
کہیں نہیں
اس نے سامنے دیکھا مس صدف کہہ رہیں تھیں
بہت سارے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ قرآن میں صرف نماز روزے کے احکام ہیں اور بس
اور کچھ نہیں
لیکن ایسا ہے نہیں ![]()
وہ مسکرائیں
قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے
اس میں آپ کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ہر چیز ہر مشکل ،ہر مسلے کا حل ملے گا
کون سے موقع پر ہمیں کیا کرنا ہے ؟
کن حالات میں ہمیں کیسے ڈیل کرنا ہے ؟
کہاں ہمیں کیسے پیش آنا ہے ؟
قرآن آپ کو ہر چیز میں گا ئیڈ کرے گا
لیکن ……..
اس کے لئے آپ کو قرآن کی بات سننی اور ماننی ہو گی
جیسے کہ
جب آپ بیمار ہوں تو آپ چاہیں گے کہ ہم ٹھیک ہو جا ئیں لیکن یہ بیڈ پر لیٹے لیٹے تو ممکن نہیں نا ![]()
آپ چاہیں گھر بیٹھے بنا ڈاکٹر کے پاس جا ئے اور اسے چیک اپ کروائے بنا دوا لئے آپ ٹھیک ہو جا ئیں یہ تو ہو نہیں سکتا اس کے لئے آپ کو قرآن کے پاس جانا ہوگا اسے اپنا مسلہ بتا کر اس سے حل پوچھنا ہوگا اور جو وہ کہے وہ کرنا ہوگا تبھی آپ ٹھیک ہو سکتے ہیں
اور اس کے لئے آپ کو قرآن کو پڑھنا ہوگا اور اسے سمجھنا ہوگا
قرآن پاک میں اللّه پاک نے ارشاد فرمایا :
ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ مَوۡعِظَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۸﴾
عام لوگوں کے لئے تو یہ ( قرآن ) بیان ہے اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے ۔
اب یہاں اس آیت میں انسانوں کو 2 گروہ میں تقسیم کر دیا گیا ہے
ایک وہ لوگ جو یہ سوچتے ہیں کہ قرآن صرف نماز روزہ کے احکامات کے لئے ہے
یہ وہ گروہ ہے جو کبھی بھی قرآن کے راز و نیاز میں دلچسپی نہیں لیتا جو کبھی خود کو یا اپنی زندگی کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے
ان کے نزدیک زندگی جیسے بھی چل رہی ہے بس چلنے دو یہ لوگ کبھی حق کی کھوج نہیں کرتے یہ لوگ کبھی اللّه سے تعلق مضبوط کرنے کا نہیں سوچتے
یہ لوگ ہزاروں کتابیں تو زندگی میں پڑھیں گے
لیکن
ساری عمر قرآن کا ترجمہ نہیں پڑھیں گے کیونکہ ان کی سوچ یہی ہوتی ہے ک قرآن میں صرف احکامات ہیں جو ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں اور ہمیں شروع سے بتا ئے گئے ہیں
یہ قرآن کو صرف ثواب سمجھ کر پڑھیں گے جب بھی پڑھیں گے
اب آیت کا دوسرا حصہ دیکھیں
اس میں وہ گر وہ ہے جو حق کی کھوج کرتا ہے ![]()
جو قرآن کو ہر مشکل کا حل سمجھ کر حل تلاش کرتا ہے اس میں
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو قرآن سے نصیحت لیتے ہیں قرآن سے ھدایت پاتے ہیں
اور جب آپ قرآن سے نصیحت لیں اور اس پہ عمل کریں
تو آپ کو ھدایت عطا ہوتی ہے
اور جب آپ کو ھدایت عطا ہو جا ئے تو آپ پرہیز گاروں میں ہو سکتے ہیں
ایک جگہ اور ارشاد ہوا :
اَوَ لَمۡ یَنۡظُرُوۡا فِیۡ مَلَکُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۙ وَّ اَنۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُہُمۡ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍ ۢ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾
اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کیں ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آپہنچی ہو پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے؟
اب اس آیت میں اللّه پاک نے کائنات کی ساری چیزوں کی طرف اشارہ کیا کہ اللّه نے کائنات میں جو چیزیں پیدا کی کیا ان پر غور نہیں کرتے ؟
یعنی ہمارے ارد گرد دنیا کی ہر چیز میں ہمارے لئے کوئی نا کوئی سبق ہے کوئی نا کوئی نشانی ہے
پھر فرمایا
قرآن کے بعد کونسی بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ،
اب یہ دونو اشارو ں کو سمجھیں تو
پہلے کائنات کا ذکر کیا گیا
اور ساتھ ہی قرآن کی باتوں کا ذکر آیا
اسکا مطلب کچھ یوں ہوا کہ قرآن پاک میں کائنات کی ہر بات کا ذکر ہے اور دنیا کی ہر چیز اور ہر بات کا ہر معا ملے کا ہر طرح کا اس میں علم موجود ہے ![]()
لیکن صرف سمجھنے والوں کے لئے ![]()
ایک اور جگہ ارشاد ہوا :
لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ؕ مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَ لٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ تَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾٪ 6
ان کے بیان میں عقل والوں کے لئے یقیناً نصیحت اور عبرت ہے یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہےان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں کھول کھول کر بیان کرنے والا ہے ہرچیز کو اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان دار لوگوں کے لئے :
ایمان دار لوگوں کے لئے ![]()
یہاں درجہ بندی کر دی گئی یعنی ایمان دار لوگوں کے لئے قرآن میں ھدایت اور رحمت ہے ،
قرآن پاک میں ایک اور بات جو بہت ہی دلچسپ ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کو گروہوں کی شکل میں بانٹا گیا ہے
اور ہر گروہ کی درجہ بندی کی گئی ہے
جیسے کہ
وہ لوگ جو ایمان لا ئے ![]()
وہ لوگ جو رکوع کرنے والے ہیں ![]()
وہ لوگ جو نماز پڑھنے والے ہیں ![]()
وہ لوگ جو حق کے راستے پر چلنے والے ہیں ![]()
وہ لوگ جو اللّه سے ڈر نے والے ہیں ![]()
وہ لوگ جو فرمابردار ہیں ![]()
وہ لوگ جو کفر کرنے والے ہیں ![]()
وہ لوگ جو شرک کرنے والے ہیں ![]()
وہ لوگ جو نا فرمانی کرنے والے ہیں ![]()
وہ لوگ جو برائی کا ساتھ دینے والے ہیں ![]()
وہ لوگ جو بے حیا ئی پھیلانے والے ہیں ![]()
وہ لوگ جو اللّه کی آیتوں کو جھٹلانے والے ہیں ![]()
ارشاد ہوا :
الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾
جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے ( مال ) میں سے خرچ کرتے ہیں ۔
وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾
اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۲﴾
مسلمان ہوں ، یہودی ہوں نصاری ہوں یا صابی ہوں جو کوئی بھی اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے رب کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اُداسی ۔
اس آیت میں ایک بہت ہی زبردست بات بتا ئی گئی ہے
اور وہ یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والے لوگ کبھی خوف اور اداسی کا شکار نہیں ہوتے
میں اسکی وضاحت کرتی چلوں
کہ جو لوگ اللّه کے منع کیے گئے غلط کام کرتے ہیں وہ ان غلط کاموں یعنی گناہوں کو لوگوں سے چھپا تے ہیں
وہ اس خوف میں ہمیشہ مبتلا رهتے ہیں کہ کہیں کسی کو پتہ نا چل جا ئے
اس طرح خوف کے ساتھ ساتھ وہ لوگ لا شعوری طور پر پریشان بھی رهتے ہیں
اداسی بھی ڈریشن کی ہی ایک شکل ہے ![]()
انسان کے گناہ اسے ہمیشہ بے چین رکھتے ہیں
تو یہاں اللّه پاک نے نیک لوگوں کو یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ وہ بے خوف اور پر سکون رہیں گے ہمیشہ ![]()
اور صرف اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ لوگ بے خوف اور پر سکون ہوں گے ۔
مس صدف نے رک کر گھڑی میں ٹائم دیکھا باقی گروہوں پر ہم کل بات کریں گے ![]()
کلاس کا ٹائم ختم ہو رہا ہے
کوئی سوال ؟
انہوں نے گرلز کی طرف دیکھ کر پوچھا
کافی لڑکیوں نے ہاتھ اٹھائے
پھر کھڑے ہو کر سوال پوچھے
وہ خاموشی سے سب کچھ دیکھتی رہی
سجیلہ جلدی جلدی نوٹ بنانے میں لگی تھی
مس صدف جا چکی تھیں
نینا کا دماغ ان کی باتوں میں الجھا ہوا تھا
سارے لفظ گڈ مڈ سے ہو رہے تھے
وہ آنکھیں بند کر کے دماغ کو پر سکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی
کچھ سمجھ میں آیا ؟
سجیلہ کی آواز نے اسے چونکا دیا
کچھ خاص نہیں ![]()
نینا نے آہستہ سے کہا
کوئی بات نہیں یہ باتیں بہت آہستہ آہستہ سمجھ آتی ہیں ![]()
دماغ پر زور مت ڈالو
چلو چلتے ہیں
وہ اٹھ کھڑی ہوئی
کہاں ؟
نینا نے غا ئب دماغی سے اسے دیکھا
ابھی قرآن تو پڑھنا ہے نا ![]()
سجیلہ نے نرمی سے کہتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے ساتھ لئے ایک راہداری کی طرف بڑھ گئی
کچھ دیر بعد سب لڑکیاں ایک اور حال نما کمرے میں چلی گئیں
وہ بھی سجیلہ کے ساتھ وہیں آگئی تھی
کچھ دیر بعد ایک قاریہ تشریف لے آئیں
وہ دیکھنے میں خوبصورت اور کم عمر تھیں
انہوں نے سب کو سلام کیا اور بیٹھ گئیں
یہ حافظہ مریم ہیں یہ ہمیں قرآن پڑھاتی ہیں ![]()
بہت خوش الحاف ہیں یہ میری فیورٹ ٹیچر ہیں ![]()
![]()
سجیلہ نے اس کے کان میں سر گوشی کی
نینا سر ہلا کر مس مریم کو دیکھنے لگی
جو بہت سکون سے بیٹھی سب سے سبق سن رہیں تھیں
لڑکیاں قرآن پاک پڑھ رہی تھیں باری باری ایک ایک لڑکی جاتی اور قرآن پاک ان کو سناتی
بہت خوبصورت آواز اور انداز میں تلا وت قرآن جاری تھی وہ مبہوت سی بیٹھی رہی ہر طرف قرآن کی آوازیں آ رہی تھیں
ایک عجیب سا سکون تھا اس ماحول میں
سکون جس سے وہ ڈیڈھ سال سے محروم تھی ![]()
اس کا جی چاہا یہ آوازیں کبھی بند نا ہوں
وہ یہیں بیٹھی رہے خاموشی سے آنکھیں بند کیے
کاش وقت ہماری مرضی سے کبھی رک جاتا پر نہیں
وقت کا کام ہوتا ہے چلنا اور وہ چلتا ہی رہتا ہے یہ دیکھے بغیر کہ کون اس کے ساتھ چل رہا ہے اور کون پیچھے رہ گیا ![]()
![]()
*********************
ہمیں اب زوہا کی شادی کر دینی چاہیے تو قیر
ان کی بیگم نے ان کا دھیان اس طرف دلایا
وہ جو کوئی فائل دیکھنے میں مصروف تھے بیوی کی بات سن کر چونک گئے
تم ٹھیک کہتی ہو تہزیب لیکن کوئی اچھا رشتہ بھی تو ہو
انہوں نے بیگم کی طرف دیکھا
اب اپنی برادری سے تو کوئی اچھا رشتہ آنے سے رہا باہر ہی دیکھ لیتے ہیں کوئی
تہذیب بیگم نے ان کو قائل کیا
شاید تم ٹھیک کہتی ہو
انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری
میں نے سوچا تھا نینا اور زوہا کی شادی ایک ساتھ کر دیں گے لیکن نینا ![]()
میری بیٹی کو پتہ نہیں کس کی نظر کھا گئی
زوہا کی طلاق نے مجھے اتنا نہیں توڑا تھا جتنا مجھے نینا کے ایکسیڈنٹ اور اسکی حالت نے توڑ دیا ہے ![]()
میں بالکل ریت کی دیوار کی طرح ہو۔ گیا ہوں تہذیب ![]()
بہت کمزور سمجھنے لگا ھوں خود کو
وہ ٹوٹے ہو ئے انداز میں بولے
حوصلہ رکھیں توقیر آپ تو بہت ہمت والے ہیں ![]()
تہذیب بیگم نے انکو تسلی دی
بیٹیوں کے معاملے میں ہر انسان کم ہمت ہو جاتا ہے تہذیب![]()
میں نے خود کو کبھی بھی اتنا بے بس محسوس نہیں کیا تھا جتنا اب کرتا ہوں
شکست خوردہ انداز میں بولے
بس دعا کریں آپ سب ٹھیک ہو جا ئے گا انشاءاللہ ![]()
انہوں نے شوہر کا کندھا تھپکا
باہر کھڑی زوہا کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں
ہم بیٹیوں کو کیا معلوم کہ ماں باپ کیسے کیسے درد اپنے سینوں میں چھپا ئے ہوتے ہیں
ہماری غلطیوں کی سزا کیسے خاموشی سے اٹھا کر اپنے آنسو اپنے اندر اتا رتے رهتے ہیں ![]()
![]()
انسان ماں باپ کا دکھ تب سمجھتا ہے جب وہ خود اولاد والا ہوتا ہے اور ماں باپ بنتا ہے ![]()
![]()
![]()
******************
کتنے ہی دن خاموشی کی نظر ہو گئے تھے
وہ اب باقا ئدہ مدرسہ جانے لگی تھی
پاپا نے سارے انتظامات کر دیے تھے
اسے وهاں داخلہ مل چکا تھا ![]()
وہ اب ان بہت سارے پر سکون لوگوں کا حصہ بن چکی تھی
لیکن وہ خود ابھی تک بے سکون تھی ![]()
مس صدف نے ہر گروہ کے بارے انہیں تفصیلی پڑھایا تھا
لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی
وہ کونسے گروہ کا حصہ ہے ؟
اسے اب اپنی کھوج کرنی تھی
خود کو ڈھونڈنا تھا
کہ وہ کون ہے ؟
اور کہاں ہے ؟
اب بھی کبھی کبھی اسے ڈپریشن کے دورے پڑ تے تھے
پر اب ان میں وہ شدت نہیں ہوتی تھی
اب بھی اس کا دماغ اکثر کام کرنا چھوڑ جاتا تھا
وہ اب بھی چیزیں اور چیزوں کے نام بھول جاتی
پر شاہ اسے اب بھی اتنا ہی یاد آتا تھا ![]()
اسے آج بھی شاہ سے اتنی ہی محبت تھی
بس اب وہ اسے مانگنا چھوڑ چکی تھی
اب اس کی محبت کی شدت میں جنون نہیں رہا تھا
اب اس کی دیوانگی میں ٹھہراؤ آگیا تھا
وہ نئے جہان کی طرف قدم بڑھا چکی تھی
اسے اب بھی اپنی غلطیوں کا ادراک نہیں تھا
وہ اپنے گناہوں سے اب بھی انجان تھی ![]()
وہ اب بھی اللّه سے اتنی ہی دور تھی ![]()
آج مدرسے سے آنے کے بعد اس نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا
وہ اپنے کمرے کی کھڑ کی میں کھڑی کب سے یہ سوچ رہی تھی کہ وہ کونسے گروہ کا حصہ ہے ؟
آج مس صدف نے کہا تھا :
طَاعَۃٌ وَّ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ ۟ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ ۟ فَلَوۡ صَدَقُوا اللّٰہَ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ﴿ۚ۲۱﴾
فرمان کا بجا لانا اور اچھی بات کا کہنا پھر جب کام مقرر ہو جائے تو اگر اللہ کے ساتھ سچے رہیں تو ان کے لئے بہتری ہے ۔
فَمَنۡ تَوَلّٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۸۲﴾
پس اس کے بعد بھی جو پلٹ جائیں وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں ۔
فرمان کا بجا لانا یہاں وہ ہے جو ہم اللّه کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں
اس کا ہر حکم مانتے ہیں جو بھی اللّه نے کرنے کا حکم دیا
اور اس میں حقوق العباد
اور حقوق اللّه
دونوں شامل ہیں ![]()
اور پھر ہم اکثر لا پرواہی کرنے لگتے ہیں
نا فرمانی کرنے لگتے ہیں وہ کام کرنے لگتے ہیں جن سے اللّه پاک نے ہمیں روکا ہو
تو نا فرمانی کیا ہے ؟
ہر وہ چیز جس سے اللّه پاک نے منع فرمایا :
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ ہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۙ کَفَّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ اَصۡلَحَ بَالَہُمۡ ﴿۲﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور اس پر بھی ایمان لائے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اتاری گئی ہے اور دراصل ان کے رب کی طرف سے سچا ( دین ) بھی وہی ہے ، اللہ نے ان کے گناہ دور کر دیئے اور ان کے حال کی اصلاح کر دی ۔
ایمان لانے کا مطلب ہوا سچ ما ن کر اس پے عمل کرنا تو جو قرآن پے عمل کرے گا
نینا نے قرآن اٹھایا اور ڈھونڈنے لگی
کون کون سی بات اور چیز سے منع کیا گیا ؟
وہ ایک نوٹ بک پر ان کو لکھتی بھی جا رہی تھی
اس نے ان سب کاموں کی لسٹ بنا لی جنہیں کرنے کا اللّه نے حکم دیا
اور ان کاموں کی بھی جنہیں نا کرنے کا حکم دیا گیا
لسٹ کافی لمبی تھی
وہ ڈھونڈتی رہی لکھتی رہی
اس نے اب ان ساری لسٹوں میں سے خود کے اندر موجود عادتوں کو ڈھونڈنا تھا
اس کا سر درد کرنے لگا تھا
اس کا دماغ چٹخنے لگا
اس نے تھک کر سر نوٹ بک پے رکھا اور آنکہیں بند کر لی
اسے اب اپنے 24 گھنٹوں کا مشاہدہ کرنا تھا
کہ عام طور پر دن میں کون کون سی نا فرمانی کرتی ہے ؟
وہ کتنے پر سینٹ نا فرمان ہے ؟
سوال بہت تھے پر جواب کوئی نہیں تھا ابھی
اسکا دماغ تھک چکا تھا
اسے سکون کی ضرورت تھی
پر سکون اس سے روٹھا ہوا تھا ![]()
بہت سارے لوگ یہ نہیں جانتے کہ سکون اللّه پاک کی کتنی بڑی نعمت ہے ![]()
********************
زوہا کے لئے بہت سارے رشتے آ چکے تھے جن میں ایک دو رشتے قریب کے تھے
ساتھ والی کالونی سے کچھ لوگ رشتہ لے کر آئے تھے
وہ کافی شریف لوگ تھے
لڑکا ڈاکٹر تھا وہ 3 بھائیوں میں سب سے بڑا تھا
3 بہنیں تھیں
ان کا باپ بچپن میں چل بسا تھا
وہ گھر آئی تو ان لوگوں کے آنے کا مدعا جان کر اسے کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی
پتہ نہیں کیوں اس کے احساسات پتھر ہو چکے تھے
لیکن وہ ان سے ملنا ضرور چاہتی تھی
وہ بھیا کے ساتھ اندر چلی آئی
لڑکا کافی ہینڈسم تھا
اور اس کی ماں سادہ سی خاتون بہت محبت سے ملیں
ساتھ اس کی چھوٹی بہن بھی تھی
ہٹلر …..
اسے دیکھ کر لڑکے کی بہن نے اپنے بھائی کے کان میں سر گوشی کی
اس نے سر اٹھا کر دیکھا
ہٹلر دیدی اس کے سامنے کھڑی تھی
اسے بھلا کون نہیں جا نتا تھا ![]()
پر وہ اپنے حلیے اور انداز سے بالکل الگ سادہ سی بے نیاز سی لڑکی لگ رہی تھی آج
سب نے آپس میں کچھ سرگو شیاں کی
وہ ہر چیز سے بے نیاز کچھ ہی دیر بعد اٹھ کر وهاں سے جا چکی تھی
ان لوگوں کے جانے کے بعد سب ان کے بارے میں ڈسکشن کرنے لگے لڑکا سب کو اچھا لگا تھا
فیملی بھی اچھی تھی ![]()
اور وہ لڑکا پہلے سے شادی شدہ بھی نہیں تھا یہ بات سب کے لئے حیران کن تھی کہ زوہا کی طلاق کے بارے میں پتہ ہونے کے باوجود بھی وہ لوگ اسے بہو بنانے کو تیار تھے ![]()
پاپا نے زوہا سے کہا کہ وہ سوچ سمجھ کر جواب دے کوئی جلدی نہیں وہ اچھی طرح سے سوچ لے ![]()
آخری فیصلہ اسی کا ہوگا ![]()
جب سب لوگ جا چکے تو اس نے بھیا کو پکارا
بھیا ….
بھیا جو جا رہے تھے رک گئے
ہاں جی بولو بچہ ![]()
بھیا آپ سے ایک کام ہے
نینا نے ایک پن ڈرائیو بھیا کی طرف بڑھائی
مجھے مولانا طارق جمیل صاحب کے کچھ بیان چاہیے
آپ یہ فل کروا کے لا دو مجھے
بھیا نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر پن ڈرا ئیو کو
ایسے مت دیکھو مجھے ![]()
جو کہا ہے وہ کرو یار ![]()
نینا نے چڑ کر بھیا کو کہا
آج عرصے بعد اس نے بھیا سے پہلے جیسے لہجے میں بات کی تھی
بھیا خوش ہو گئے تھے ![]()
پر وہ حیران بھی تھے
تم کب سے مولانا سننے لگی ![]()
وہ پوچھے بنا نا رہ پا ئے
ابھی ابھی سے ![]()
نینا ان کے انداز پر مسکرا دی
مجھے اب بھی یقین نہیں آ رہا ![]()
بھیا کو نا جانے کیوں یقین نہیں آ رہا تھا
ٹھیک ہے کل جب یہ بھروا لا ئیں گے تو آجا ئے گا
نینا کے کہنے پہ وہ ہنس دیے
ٹھیک ہے کل مل جا ئے گی ![]()
وہ کہہ کر سونے چلے گئے
وہ بھی اٹھ کر کمرے میں آگئی
اسے اپنی نوٹ بک میں آج کی نوٹ کی گئی ساری نا فرما نیاں لکھنی تھیں
اور وہ اس کام کو بہت ایمان داری سے کر رہی تھی ![]()
*********************
میں کتنی بار کہہ چکی ھوں مما مجھے شادی ننا کرنی ابھی پلیز میں ابھی پڑھنا چاہتی ھوں آپ لوگ کیوں ضد کر رہے ہیں ![]()
تو شادی کے بعد پڑھ لینا
مما نے سکون سے کہا
کیا واقع ![]()
سجیلہ نے حیرت سے انہیں دیکھا
شادی کے بعد گھر بار شوہر بچے سسرال دیکھوں گی یا پڑھنے بھاگتی رہوں گی ![]()
جیسے آپ تو ہمارے معا شرے کے رواجوں سے واقف ہی نہیں ہیں ![]()
پھر بھی بیٹا ![]()
مما نے اسے سمجھا نے کی۔ کوشش کی
اور تم شادی کرو گی تو ہی ہم توصیف کے بارے میں سوچیں گے نا تمہارے بعد اس کی باری آئے گی نا ![]()
مما جب تک میرا قرآن پاک مکمل نہیں ہوتا میں کوئی شادی وادی نہیں کرونگی سمجھ لیں آپ ![]()
وہ 2 ٹوک انداز میں کہہ کر جانے کو مڑ گئی
وہ تنگ آگئی تھی اس روز کی تقرار سے گھر والوں کا پریشر بڑھتا جا رہا تھا
وہ اس کی شادی کرنے پہ بضد تھے جب کہ وہ ابھی شادی کرنا نہیں چا ہتی تھی میں ابھی پڑھنا چاہتی ھوں آپ لوگ کیوں ضد کر رہے ہیں ![]()
وہ ہر بار کہتی اور ہر بار اسے کئی بہانے سے سمجھایا جاتا لیکن وہ ہر بار ساری دلیلیں ریجکٹ کر دیتی
وہ بہت ضدی تھی جب جانتے تھے لیکن اس کی عمر نکلی جا رہی تھی سب کو یہی فکر تھی جب کہ اسے کسی بات کی کوئی فکر نہیں تھی
وہ جہاں تھی خوش تھی
اسے ایک نیا جہان مل گیا تھا
وہ اسی کی کھوج میں لگی ہوئی تھی بس
**********”””””******”*
کمرے میں اس وقت یہاں سے وہاں تک ہر چیز بکھری ہوئی تھی
بیڈ کے پاس زمیں پر ٹوٹی پھوٹی ڈسکوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا
جس میں ہر برانڈ کے گانے اور فلمیں موجود تھیں
وہ انگلش فلموں کی دلدادہ تھی وہ ہمیشہ مشن اور ایکشن دیکھنا پسند کرتی تھی
اس کے پاس سینکڑوں ایسی انگلش فلمیں پڑی تھیں
اس کے پاس ایک سے ایک سپر ہٹ گانا ہوتا تھا
آج اس نے سب چیزوں کو اپنی زندگی سے نکالنے کا فیصلہ کرتے ہو ئے ان کو زمیں پر لا پھینکا تھا
یہ سب چیزیں اللّه کی نا فرمانی میں آتی تھیں اس نے ان کو اپنی زندگی سے نکل پھینکا
وہ ایک ایک کر کے اپنے کمرے سے ہر وہ چیز ہٹا رہی تھی جو اللّه کی نا فرمانی کا سبب تھی
اس نے لیپ ٹاپ سے بھی سب ڈیلیٹ کر دیا
اس نے جان لیا تھا کہ وہ کون ہے ؟
اور بدقسمتی سے وہ نا فرمان تھی ![]()
وہ اس گروہ کا حصہ تھی جو نا فرمان ہوتے ہیں اسے اب خود کو اس گروہ سے نکا لنا تھا
اسے ہر وہ چیز ترک کرنی ہوگی جو نا فرما نی میں آتی ہے
اس نے خود کو سمجھایا
وہ اب بھی توبہ نہیں کر پا رہی تھی
لیکن اسے کہیں سے تو شروعات کرنی تھی ![]()
چھوٹی چیزوں سے ہی سہی
وہ اب باقائدگی سے مولانا صاحب کے بیان سنتی
مدرسہ جاتی قرآن پڑھتی اور سمجھنے کی کوشش کرتی
اس کے دل پے جمی برف جیسے پگھلنے لگی تھی
وہ بیان سنتے ہو ئے کبھی کبھی رونے لگتی
جب دل بہت بے چین ہوتا تو اللّه کا نام کاپی پر لکھنے لگتی ![]()
پر یہ سب کرنے کے باوجود بھی اسے سکون اب بھی نہیں تھا
اسکی اذیت میں کچھ زیادہ کمی نہیں آئی تھی
اس کا درد اب بھی ویسا کا ویسا ہی تھا
پر اب اندر سے اسے کوئی ہمت دے رہا تھا
وہ اب بے یارو مدد گار نہیں رہی تھی
وہ زندگی کے اس مقام پر تھی جہاں وہ خود کو کھوجنے کی کوشش کر رہی تھی
زندگی کا یہ دور بھی بڑا عجیب تھا
وہ خود شناسی کے عمل سے گزر رہی تھی
ہم میں سے کتنے لوگ تا عمر اس عمل سے ڈرتے رهتے ہیں
جبکہ یہ ہر ایک کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود کو جانے پہچانے اور خود کو بہتر سے بہتر بنا ئے ![]()
ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک ہونا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم دوبارہ ویسی غلطی نا کریں ![]()
اس دنیا میں کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا
ہر انسان غلطیاں کرتا ہے
لیکن سمجھدار وہ نہیں ہوتا جو غلطی نا کرے بلکہ وہ ہوتا ہے جو غلطی کر کے اس کو دہرا ئے نہیں ۔
