339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 2

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah

what the he’ll yar

نینا نے ایک جھٹکے سے سحر سے اپنا بازو چھڑوایا

کیا ہیل ہاں

تم بھی ہر کسی سے پنگے لینے کھڑی ہو جاتی ہو نینا ۔

معافی مانگ کر جائے گا وہ

نینا نے اسے گھورا

اف اس سے تو ہم بعد میں نمٹ لیں گے ..

پر تمہیں علی شاہ سے الجھنے کی کیا ضرورت تھی-

اب وہ کون ہے

وہ جھنجھلائی

وہی لڑکا جس سے اتنی بدتمیزی سے بات کی تونے سحر نے اسے احساس دلایا

وہ اتنا اچھا لڑکا ہے

اور یہ تمہیں کیسے پتہ

نینا نے اسے کھا جانے والے انداز میں دیکھا ۔

وہ سید علی شاہ ہے ایک ہفتہ پہلے ہی اس نے یونیورسٹی جوائن کی ہے A ڈیپارٹمنٹ میں ہم سے سینئر ہے وہ ،سحر کے ہر انداز سے محبت جھلک رہی تھی۔

تو میں کیا کروں “

اس نے جیسے ناک سے مکھی اڑائی بھاڑ میں جائے وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی ۔

**********

زوہا !

زوہا …

میری بلیک والی پینٹ کہاں ہے

وہ کب سے سر کھپا رہی تھی ۔

پر اس کی پینٹ مل کر ہی نہیں دے رہی تھی جس پر وہ غصے سے اب بہن کو چلا چلا کر بلا رہی تھی۔

وہ میں نے چھپا دی ہے”زوہا نے بڑے سکون سے روم میں داخل ہوتے اطلاع دی ۔

میں پوچھ سکتی ہوں کیوں ؟

وہ دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے بڑی بہن کے سامنے کھڑی تھی

کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ آج تم وہ پہنو

زوہا کا سکون قابل دید تھا ۔

پر مجھے وہی پہن کر جانا ہے “اس نے زور دیتے ہوئے کہا

اف نینا !

کبھی تو انسانوں والے کپڑے پہن لیا کرو

آج ہم تایا ابو کے ہاں جا رہے ھیں اور وہاں کوئی ڈھنگ کا جوڑا پہن کر چلو “زوہا اکتا کر جانے لگی

تو کیا میں ان سے ڈر کر جیتی ہوں

میں جیسی ہوں بس ویسی ہی ٹھیک ہوں اور جسے تکلیف ہے ہوا کرے وہ پیر پٹختی جا چکی تھی زوہا نے افسوس سے سر ہلایا ۔وہ ایسی ہی تھی

کسی کو بھی خاطر میں نہ لانے والی

کسی کی بھی پرواہ نا کرنے والی

اس کے خیال میں زندگی اپنی خوشی اور مرضی سے جینے کا نام تھا نہ کہ لوگوں سے ڈر ڈر کر جینے کا ۔

وہ ملک توقیر احمد کی لاڈلی بیٹی تھی

بہن بھائیوں میں اسکا نمبر تیسرا تھا

سب سے بڑے ان کے بیٹے ملک فہد توقیر تھے

پھر ان کی بیٹی زوہا توقیر ملک تھی

اور پھر نینا توقیر ملک اس سے چھوٹی عینا توقیر ملک اور سب سے چھوٹا بیٹا مہد توقیر ملک تھا ۔

جب وہ پیدا ہوئی تو سب سے پہلے پاپا نے اسے گود میں اٹھایا اور اس نے اپنی کانچ جیسی آنکھیں کھول کر پاپا کو دیکھا تو پاپا مسکرائے “میری بیٹی کی آنکھیں کتنی پیاری ھیں

اس کا نام تو میں نینا رکھوں گا

اور یوں اس کا نام نینا رکھ دیا گیا

اس کی آنکھیں واقع کانچ جیسی تھیں

یوں لگتا جیسے کوئی کانچ چمک رہا ہے اتنی ہی چمک تھی اس کی آنکھوں میں اور جب اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تو یوں لگتا جیسے آئنے پر پانی کی بوندیں گری ہوں

اور جب وہ خوش ہوتی تو یوں لگتا جیسے کسی نے کانچ پر افشاں بکھیر دی ہو ❤

دوسری چیز جو اس میں قابل دید تھی وہ تھے اس کے سیاہ لمبے بال

پاپا کو بہت شوق تھا کہ اس کے بال لمبے ہوں وہ اس کے لئے شیمپو اور آئل لے کر آتے اور ممی سے کہتے اس کی چوٹیاں بنائیں اور وہ روز بناتی یوں اس کے قد سے زیادہ لمبی اس کی چوٹیاں ہوتی گئیں ۔

وہ بچپن سے ضدی تھی اور پاپا کے لاڈ پیار نے اسے اور بھی بگاڑ دیا تھا ۔پاپا اسے ہمیشہ بیٹوں کی طرح ٹریٹ کرتے اور یوں اس میں لڑکیوں سے زیادہ لڑکو والی عادتیں پائی جاتی تھیں وہ نڈر، بے باک ،اور اچھی خاصی بدتمیز تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اچھی خاصی بے خوف اور بد لحاظ بھی تھی

**********

وہ آنکھوں پر بازو رکھے بیڈ سے ٹیک لگائے نیم دراز تھا اس کی روشن پیشانی پہ اس وقت سلوٹیں تھی ۔

کمرے کی ہر چیز جیسے خاموشی سے اسے تک رہی تھی تبھی دروازہ ناک ہوا

“کم ان”

اس نے آنکھوں سے بنا بازو ہٹائے کہا

اس کی مما کمرے میں داخل ہوئیں

“شاہ “

بیٹا آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے ؟

آپ نے آج کھانا بھی نہیں کھایا “وہ تشویش سے پوچھتی ہوئی اس کے قریب چلی آئیں –

“جی مما …..

“آئ ایم اوکے ،،

شاہ نے آنکھوں سے بازو ہٹایا اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں –

کیا بات ہے شاہ؟

وہ پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں “بس تھوڑا تھک گیا ہوں اور کوئی بات نہیں “اس نے مسکرانے کی کوشش کی

بس آپ ایک کافی بھیج دیں میرے لئے

،،ٹھیک ہے بیٹا ،،

مما چلی گئی تو اس نے خالی کمرے کو دیکھا

پھر کچھ سوچ کر اٹھا اور الماری کھول کر ایک سائیڈ پہ رکھا ایک چھوٹا سا بکس اٹھایا ۔

اسے کھول کر اس نے اس کے اندر رکھی ہوئی چیزوں کو دیکھا جہاں کچھ چوڑیاں رکھی تھی ایک دوپٹہ اور ایک کونے میں دو ہئیر پنز ایک چمکتی ہوئی انگوٹھی بھی ساتھ پڑی تھی بلکل ویسی ہی ایک انگو ٹھی چین میں ڈال کر اس نے اپنے گلے میں ڈال رکھی تھی

اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر ان چیزوں کو محبت سے چھوا

دوپٹہ اٹھا کر گال سے لگایا ایک نرم سی خوشبو اس کے ارد گرد پھیل گئی پھر اس نے ایک تصویر کو اٹھایا پھر کتنی ہی دیر وہ تصویر میں کھڑی لڑکی کی کانچ جیسی آنکھوں کو دیکھے گیا یہاں تک کہ اس کی اپنی آنکھیں بھر آئیں ۔

لیکن اس نے فوراً ہی آنکھیں صاف کی

کہیں قریب سے اس کے کانوں میں ایک سرگوشی ابھری

“اگر مجھے کچھ ہو جائے تو رونا مت

جب جب میری یاد آئے تو بس قرآن اٹھانا اور پڑھتے جانا “

اس نے ہر چیز سمیٹ کر وا پس رکھی اور الماری لاک کر کے وضو کرنے چل دیا ۔

**********

وہ جیسے ہی یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر نکلا اسے وہ اپنے اسی لفنڈر گروپ کے ساتھ باہر کھڑی نظر آئی ۔

آج اس نے سفید ٹراؤذر کے ساتھ سیاہ شرٹ پہن رکھی تھی سمپل سا دوپٹہ سر پر لے رکھا تھا جو کہ اس کو پوری طرح سے چھپانے میں ناکام ہو رہا تھا ۔

کسی بھی قسم کے میک اپ سے پاک چہرے پے ہنسی تھی جس سے اس کے موتیوں جیسے د انت اتنی دور سے بھی نظر آ رہے تھے اس کی کانچ جیسی آنکھیں چمک رہی تھیں-

شاہ نے ناگواری نے سر جھٹکا اسے اس بد تمیز لڑکی کے منہ نہیں لگنا چاہیے

اس نے خود کو سمجھایا ۔

لیکن اکثر ہم وہی کام کر جاتے ھیں

جس سے ہم خود کو بار بار روکتے ھیں