Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 8
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 8
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shab
ارے یار یہ شاہ گیا کہاں
سجیلہ کو مزہ نہیں آرہا تھا ایسے اس کی شکل پہ 12 بجتے دیکھے بغیر
منہ چھپا کر بیٹھا ہوگا کہیں یہ سحر تھی
ہاہا منہ چھپانے والی ہی ہر کت تھی ویسے
نینا نے قہقہ لگایا
شرم آنی چاہیے آپ کو نینا ملک !
آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا سامنے زین کھڑا تھا آپ جانتی ہی کیا ہیں شاہ کے بارے میں ؟
اور کسی کو جانے بنا یوں اس کے کردار پر کیچڑ اچھا لنا بہت ہی بری بات ہے
آپ کو کیا پتہ ؟شاہ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟وہ اب زندہ ہے تو صرف اپنے اللّه کے لئے ورنہ اس کے جینے کی وجہ تو کب سے ختم ہو گئی اور شاید وہ بھی ختم ہو جاتا اگر اس نے لوگوں کو اللّه سے ملوانے کا عہد نا کیا ہوتا
اور لڑکیوں کی اسے کوئی کمی نہیں ہے
ہزاروں خود اس کے پیچھے آتی ھیں
مگر وہ ایسا نہیں ہے
آپ ۔………
وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا لب بھینچ کر اسے دیکھنے لگا آپ سے ملنے کا اس کا کوئی غلط مقصد نہیں تھا آپ نے میرے دوست کا دل بری طرح سے دکھایا ہے
بس دعا کریں کہ وہ اللّه سے آپ کی شکایت نا کرے وہ یہ بول کر رکا نہیں تھا وہاں سے چلا گیا تھا بڑا آیا شریف خان ہنہہ
سحر نے منہ بنایا
پر نینا بالکل خاموش تھی
************
گھر آ کر بھی وہ اپنے کمرے میں بند ہو گئی
عجیب سی بے کلی محسوس ہو رہی تھی اسے
آخر تنگ آ کر وہ پاپا کے پاس جا بیٹھی
پاپا اپنی اسٹڈی میں تھے وہ بھی چلی آئی
واہ آج تو میرا بچہ ادھر بھول کر آگیا ہے کیا
پاپا نے اسے دیکھ کر ہنستے ہو ئے کہا
نہیں پاپا
بس کچھ اچھا نہیں محسوس ہو رھا “کیوں بیٹا کیا ہوا ؟
طبیعت تو ٹھیک ہے ؟پاپا نے فکر مندی سے پوچھا “جی پاپا ٹھیک ہے “
پھر کیا بات میرے بیٹے کو پریشان کر رہی ہے ؟انہوں نے بک سائیڈ پہ رکھی
پاپا اگر ہم کسی کے بارے میں بغیر کنفرم کیے کوئی الزام لگا دیں تو ؟مطلب کہ ہمارے پاس کوئی بھی ثبوت نہ ہو کہ وہ انسان غلط ہے پھر بھی ہم اس پر الزام لگا دیں تو ؟
تو بیٹا یہ تو بہت غلط بات ہے بلکہ گناہ ہے
کسی پر تہمت لگانا اور اس بات کو لے کر اگر اس انسان کا دل دکھا تو ؟
دیکھو بیٹا دل دکھانا خود ایک گناہ ہے
جب آپ کسی کا دل دکھاتے ہو تو اللّه پاک کو یہ بات بالکل بھی اچھی نہیں لگتی اور جب تک وہ انسان آپ کو معاف نہ کرے اللّه بھی انسان کو معاف نہیں کرتا اس کا دل اور ڈوبا
پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اس نے بہت غلط کر دیااس نے شاہ کو بہت تکلیف پہنچائی
وہ چپ چاپ اٹھ کر آگئی ساری رات کروٹیں بدلنے کے بعد صبح اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے
**************
اس نے پرچی پہ نظر ڈالی
پھر ایک نظر سامنے کھڑی عالیشان عمارت کو دیکھا وہ صحیح اڈریس پہ کھڑی تھی
نا جانے اس کا ردعمل کیسا ہو ؟
اس نے سوچا پھر خود ہی اپنے آپ کو گھرکا
نینا ملک تم کسی کے ردعمل کی پرواہ کب سے کرنے لگی چل جو ہوگا دیکھا جائے گا
اس نے اندر کی طرف قدم بڑھائے
( اور جب بربادی آپ کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے تو آپ خود اس کی طرف چل کر جاتے ھیں )
اسے یہ حساب تو برابر کرنا ہی تھا
چاہے جیسے بھی
( اور زندگی بہت سارے خسارے آپ کے حصے میں ڈالنے والی هوتی ہے )
یہ پہلی غلطی تھی نینا ملک کی جسے وہ ٹھیک کرنے جا رہی تھی
(پر وہ نہیں جانتی تھی
کہ وہ اپنی زندگی کی ہر ٹھیک چیز کو خراب کرنے جا رہی تھی )
وہ سوچ رہی تھی۔۔
آج اس بات کو وہ یہیں ختم کر دے گی
( ہمیں معلوم ہی نہیں پڑتا کب کچھ چیزوں کو ختم کرتے کرتے ہم خود ختم ہو جاتے ھیں )(
***********
جی کس سے ملنا ہے آپ کو ؟ چوکیدار نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا “علی شاہ سے ” نینا نے با اعتماد انداز میں کہا “میں اس کی دوست ہوں اس کے ساتھ پڑھتی ہوں ،،
چوکیدار اندر غا ئب ہو گیا کچھ دیر بعد وہ واپس آیا اور اسے اندرآنے کا کہا وہ ڈرا ئینگ روم میں دا خل ہوئی ایک با ریش بز رگ وہاں موجود تھے اسے دیکھ کر وہ ششدر کھڑے تھے اس نے آگے بڑھ کر سلام کیا ۔
وہ چونکے بیٹھو بیٹی وہ کہتے ہو ئے بیٹھ گئے نینا تكلف سے صوفے پر ٹک گئی وہ بز رگ نینا کی آنکھوں کو غور سے دیکھ رہے تھے ۔
میں علی شاہ کی دوست ہوں اس کے ساتھ پڑھتی ہوں کیا میں اس سے مل سکتی ہوں ؟
نینا نے اپنا مدعا بیا ن کیا ” میں علی شاہ کا۔ دادا ہوں بیٹا اور علی شاہ تو ۔۔۔۔ان کی بات ادھوری ر ہ گئی ڈرا ئنگ روم میں ایک نازک سی لڑکی جوس لئے داخل ہوئی وہ اس کی طرف متوجہ ہو ئے ،،
فاطمہ بیٹا یہ شاہ کی دوست ہیں اس سے ملنے آئی ہیں دادا جان نے تعا رف کر وایا وہ لڑکی پہلے تو اسے دیکھ کر ٹھٹھکی لیکن پھر گرم جوشی سے آگے بڑھ کر اس سے ہاتھ ملایا “میں علی شاہ کی بہن ہوں اس نے بتا کر نینا کو جوس پیش کیا نینا نے سر ہلا یا وہ اصل میں 2 دن سے شاہ یونیورسٹی نہیں آیا تو اس مجھے آنا پڑا ۔۔۔۔۔نینا نے محتاط انداز میں کہا کیونکہ وہ لوگ شاید اسے شاہ کی کوئی قریبی دوست سمجھ رہے تھے اس لئے اس سے یوں پیش آ رہے تھے اگر ان کو پتہ چل جا ئے کہ میری ہی حر کت کی وجہ سے شاہ 2 دن سے کمرے میں بند ہے تو یہ لوگ میرے ساتھ کیا کریں گے ۔۔۔اس کی سوچو کا تسلسل فاطمہ کی آواز نے توڑا ۔
” بھائی تو 2 دن سے کمرے سے باہر نہیں نکلے ہم نے بہت کوشش کر دیکھی لیکن ۔۔۔۔اس نے جملہ ادھورہ چھوڑ کر اوپر دیکھا ۔۔
لیکن مجھے اس سے حر حال میں ملنا ہے نینا نے باری باری دونوں کو دیکھا اگر اجازت ہو تو میں دیکھوں ؟
نینا نے ذرا جھجھک کر کہا ” دادا جان نے سر ہلایا ٹھیک ہے بیٹا فاطمہ نینا بیٹی کو شاہ کے کمرے تک لے جاؤ” انہوں نے فاطمہ کو حکم دیا اور وہ اسے ساتھ لئے اوپر کی طرف بڑھی ۔۔
************”*********
آج وہ پھر سے اس باکس کو کھولے بیٹھا تھا
ساری چیزیں سامنے رکھے وہ یوں بیٹھا تھا جیسے کوئی بچہ اپنے کھلونے لئے بیٹھا ہو پر بہت پسندیدہ کھلونا ٹوٹ جانے پر باقی سب کو بھی نظر انداز کیے بیٹھا ہو
جان شاہ
اس نے اسے سرگوشی میں پکارا
تبھی دروازہ کھلا اور ایک روشنی کی کرن کمرے میں لہرائی ایک خوشبو اس کے ناک سے ٹکرا ئی اس نے سر اٹھا کر دیکھا
کوئی دروازے میں کھڑا تھا
ایک پل کو اسے لگا یہ نظر کا دھوکہ ہے وہ سایہ چلتے چلتے اس کے قریب آیا پھر اس کے سامنے بیٹھا اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا
:شاہ کو لگا یہ کوئی خواب ہے
نینا نے چاروں طرف دیکھا
پھر کمرے کے دروازے پر دستک دینے کو ہاتھ اٹھا یا پر دروازہ کھلتا چلا گیا
پر سامنے کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گئی
کمرے کے بیچو بیچ شاہ بیٹھا تھا قالین پر اس کے سامنے ایک باکس رکھا تھا
اس کے ارد گرد بہت سی چوٹی بڑی چیزیں بکھری تھیں وہ تھوڑا جھجھک کر آگے بڑھی
وہ شاہ کے سامنے جا کھڑی ہوئی
شاہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
بکھرے بال بڑھی ہوئی شیو لال آنکھیں
آنکھیں وہ جیسے تھم سی گئی شاہ کی آنکھیں سیاہ تھی اور بے حد گہری ذہانت سے چمکتی ہوئی آنکھیں اور ان پر دراز پلکیں یوں آنکھوں کو چھپا تی جیسے کسی نوخیز حسینہ کو اسکا حجاب آج اس نے پہلی بار شاہ کو بنا چشمے کے دیکھا تھا
وہ بھول گئی کیا کہنا تھا
شاہ خاموشی سے اسے دیکھے گیا
وہ پاس آئی نیچے بیٹھی زمیں پر بکھری چیزوں کو دیکھا ان میں ایک دوپٹہ ،
کچھ چوڑیاں ، ایک انگوٹھی ، ایک۔ ڈائری ، کچھ ادھ کھلے آ دھے ٹوٹے گلاب
اور ایک تصویر ۔۔۔۔
اس کی نظر تصویر پر جم گئی
نینا نے میکانکی انداز میں وہ تصویر اٹھائی
سفید پریوں جیسے لباس میں وہ بھی کوئی پری ہی لگ رہی تھی پنکھڑی جیسے ہونٹ مسکرا رہے تھے ایک ہاتھ سے دوپٹہ سر پہ رکھتی وہ کوئی پری ہی تھی
کانچ جیسی آنکھیں یوں چمک رہی تھیں جیسے ان میں روشنیاں سی بھر گئی ہوں
کھڑی کھڑی ناک میں ایک لونگ چمک رھا تھا
جس کی روشنی ہر چیز کو خیرا کیے دے رہی تھی وہ ایک ٹک اس تصویر کو دیکھ رہی تھی
وہ نینا کو دیکھ رہی تھی
ہاں بلا شبہ وہی تھی وہ نینا ہی تھی وہ اسی کی تصویر تھی پر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ تصویر میں جو لڑکی کھڑی تھی اس کے بال گولڈن تھے اور قدرے چھوٹے تھے
جب کہ نینا کے بال لمبے اور سیاہ تھے
نینا نے کبھی ایسا ڈریس نہیں پہنا تھا جیسا اس لڑکی نے پہن رکھا تھا اور نینا کے ناک میں کوئی لونگ نہیں تھا
یہ یہ ۔۔۔۔۔۔۔
اس کے منہ سے سرسراتی ہوئی آواز نکلی
شی از مائی وائف شاہ کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
اور کبھی کبھی زندگی موت سے ٹکرا جاتی ہے اور پھر جیت اسی کی هوتی ہے
جس میں حوصلہ زیادہ ہوتا ہے
