Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 4
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 4
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shab
اٹھ بھی جا اب یار
کیا مسلہ ہے تیرا
اس نے کوئی تیسری بار نینا کے اوپر سے کمبل کھینچا تھا
تو بتا تیرا مسلہ کیا ہے ؟
نینا نے اسے گھورا
میرا مسلہ تو ہے جو صبح سے حل نہیں ہو رھا
سجیلہ نے بھی اسے گھورا
بازار جا رہے ھیں ہم جلدی اٹھ جا
اف یار سنڈے کو تو سکون سے سونے دیا کرو
آ کر سو لینا نا یار!
سجیلہ نے بھی اسے گھورا
اٹھ جا نینا صبح سے انتظار کر رہی ہے وہ
اور مجھے بھی کچھ چیزیں لینی ھیں۔
زوہا بھی کمرے میں داخل ہوتے بولی
وہ برے برے منہ بناتی اٹھ گئی
ویسے لینا کیا ہے تجھے ؟
وہ تیار ہو کر آئی تو سجیلہ سے پوچھا
یار کچھ پینٹ شرٹس اور برش اور پینٹینگ کا تھوڑا سامان
اس نے گن کر بتایا یار مجھے بھی لینی ہیں کچھ شرٹس نینا جلدی جلدی ناشتہ کرنے لگی سجیلہ اور وہ ایک جیسی ڈریسنگ کیا کرتی تھیں ہاں سجیلہ دوپٹہ لیتی تھی جب کے وہ بس دوپٹا نام کو لیتی تھی اور کہیں آتے جاتے سجیلہ چادر لیتی جب کے نینا ایسا کوئی تکلف نہیں کرتی تھی
آج کا دن ان کا بہت مصروف گزرنے والا تھا
************
شاہ اس وقت زین کے ساتھ اس کے ایک کزن کے پاس بیٹھا تھا
وہ 2 بار خود کشی کی کوشش کر چکا تھا
لیکن خوش قسمتی سے بچ گیا تھا
آخر تم جینا کیوں نہیں چاھتے ؟
زین نے پھر وہی سوال دہرایا
مجھے زندگی میں کوئی ایسی چیز نہیں نظر آتی جس کی وجہ سے میں جینا چا ہوں
اس نے اکتائے ہو ئے انداز میں کہا
جینے کے لئے وجہ ڈھونڈی جاتی ہے دوست
شاہ نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا
اللّه پاک انسان کو جب پیدا کرتا ہے تو اس کی زندگی کا کوئی نا کوئی مقصد تو ہوتا ہے
بس ہمیں وہ وجہ تلاش کرنی هوتی ہے
ٹھیک ہے اگر آپ کے پاس اپنے جینے کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے
تو دوسروں کے لئے جینے کی کوئی وجہ تلاش کریں اپنے آس پاس دیکھیں آپ کو جینے کی بہت ساری وجوہات نظر آئیں گی جہاں آپ کو مرنے کی 4وجہ ملے گی وہاں جینے کی 1 وجہ ضرور ملیں گی
دوسروں کے لئے جینا سیکھیں
اپنی زندگی کو لوگوں کی بھلائی اور خوشی کے لئے وقف کر دیں
زندگی تو جیسی بھی گزری گزر جائے گی
لیکن آخرت آپ کی سنور جائے گی
زندگی اللّه پاک کا دیا ہوا تحفہ ہے اس کی قدر کریں اللّه پاک سے محبت کریں زندگی سے خود بخود محبت ہو جائے گی
شاہ اپنے نرم اور دھیمے انداز میں اسے سمجھا رھا تھا اور اس پر سوچ کے نئے در وا ہو رہے تھے ۔
*************
لیکچر کے بعد وہ کینٹین کی طرف جانے والا تھا اسے بھوک لگ رہی تھی
آج اس نے ناشتہ نہیں کیا تھا
رات دیر سے گھر آیا تھا
صبح سر بوجھل ہو رھا تھا
ابھی بھی اس کی سیاہ آنکھیں لال ہو رہی تھیں وہ ایک سائیڈ پہ جا کر بیٹھ گیا
تبھی وہ سجیلہ اور سحر کے ساتھ آتی نظر آئی ہمیشہ کی طرح دوپٹے سے لا پرواہ سیاہ پینٹ پہ سفید رنگ کی لونگ شرٹ پہنے لمبے سیاہ بال ایک سائیڈ پہ سیٹ کیے ہوئے تھے
میک اپ سے عا ری چہرے کے ساتھ وہ ہنستی مسکراتی چلی آ رہی تھی
شاہ نے بے چینی سے پہلو بدلا
“سفید رنگ “
اسے وہاں کی ہر چیز سے وحشت ہونے لگی
وہ بھی شاہ کو دیکھ چکی تھی
اس کی کانچ جیسی آنکھوں میں نا گواری ابھری شاہ کو عجب سا احساس ہو رھا تھا
وہ بنا کچھ کھائے اچانک اٹھا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا
***********
جان شاہ ……
وہ جو آئینے کے سامنے کھڑی سوچ رہی تھی بال بندھے یا کھلے رہنے دے شاہ کی آواز سن کر پلٹی ۔شاہ جو اسے آوازیں دیتا ہوا آ رہا تھا اسے دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گیا اور بنا پلک جھپکے اسے دیکھے جا رہا تھا وہ جو سفید کپڑے پہنے ہلکے میک اپ اور ہم رنگ چوڑیوں اور کھلے بالوں کے ساتھ کنفیوز سی کھڑی تھی اسے یوں دیکھتا پا کر اور پریشان ہو گئی
کیا ہوا شاہ ؟
میں اچھی نہیں لگ رہی کیا ؟
وہ ایک بار پھر سے خود کا جائزہ لینے لگی “واوُ “
شاہ کے ہونٹ سیٹی کے انداز میں گول ہوئے ۔
اچھی ؟بہت بہت پیاری لگ رہی ہو تم شاہ کی جان اور یہ سفید رنگ تم پہ بے حد اچھا لگ رہا ہے بالکل پری لگ رہی ہو
شاہ نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پہ دوپٹہ پھیلا یا کیا سچ میں ؟
وہ پتہ نہیں کونسی تسلی کرنا چاہ رہی تھی
جی ہاں سچ میں تم روز سفید رنگ پہنا کرو
وہ خوش دلی سے کہہ رہا تھا
لگے گا کیوں نہیں میرا پسندیدہ کلر ہے آخر
وہ اترا کر بولی
اور میرا پسندیدہ سیاہ
شاہ نے ایک نظر خود پہ ڈالی
تم پر بھی سفید بہت اچھا لگتا ہے
وہ جتا تے ہوئے بولی
اچھا اب چلو دیر ہو رہی ہے محترمہ
ہاں بس یہ بال وہ پھر سے کنفیوز ہوئی
انکو کھلا رہنے دو نہ
وہ اس کے بالوں کو چہرے سے ہٹا رہا تھا مجھے تمہارے کھلے بال بہت اچھے لگتے ھیں
اور کیا اچھا لگتا ہے ،؟
وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی
تم جواب بنا سوچے آیا تھا
ہاہا ہاہا اس کا قہقہہ جان دار تھا اور یہ ہنسی
شاہ ہمیشہ اس کی ہنسی میں کھو جایا کرتا تھا ” یہ ہنسی ؟
اس نے سر اٹھایا یہ ہنسی مجھے پاگل کر دے گی وہ سچ مچ کا مجنو لگ رہا تھا
تم پہلے سے ہی پاگل ہو چکے ہو سائیں
وہ ہنس دی ہمم مانتا ہوں
شاہ نے اسکا ہاتھ تھاما اور ساتھ ساتھ چلنے لگا اس کے ساتھ چلتے ہوئے جان شاہ اس کے گال میں گہرا ہوتا ڈمپل دیکھ سکتی تھی ۔
اس نے سارے پردے برابر کیے اور بیڈ پر اوندھے منہ گرا
وہ اندھیرا چاہتا تھا
بے حد گہرا اندھیرا
جس کے پار اسے وہ سفید رنگ دکھائی نہ دے
شاہ نے تکیہ اٹھا کر اپنے کانوں پہ رکھ لیا
اور آنکھیں زور سے بند کر لی
