339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 6

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shab

. تم ابھی تک نہیں آئی نا “وہیں بٹھی رہو میں بھی انگوٹھی نہیں پہننے والی

ایک ہی تم میری دوست ہو اور وہ بھی ابھی تک نہیں آئی وہ خوب لڑ رہی تھی اس سے۔

ارے آ رہی ہوں بابا بے صبری کہیں کی ابھی پہنچ جاؤں گی نینا نے اپنا پنک دوپٹہ خود پر پھیلا کر آئینے میں دیکھا بس یہ ذرا کپڑے سلیکٹ کر لوں ۔

ہاں ہاں مجھے پتہ ہے یہ تیرا کتنی جلدی ہونا ہے “اب سجیلہ باقاعدہ ناراض ہوتے ہوئے بولی

اف بس بند کر میں آئی “نینا نے موبائل بیڈ پر پھینکا اور جلدی سے واش روم میں گھس گئی ۔آج سجیلہ کی منگنی ہو رہی تھی اور وہ ابھی تک پہنچی نہیں تھی اس کا ناراض ہونا تو بنتا تھا -سجیلہ کی نسبت اپنے کزن سے طے پائی تھی اور آج منگنی بھی ہو رہی تھی

سجیلہ کا اس معا ملے میں کچھ بھی بولنا بیکار تھا کیونکہ اس کے پاپا نے منگنی کرنی ہی تھی جب کہ سجیلہ نے کتنا کہا تھا

کہ اسے ابھی پڑھنا ہے جس پر پاپا نے کہا

بیٹا کونسی شادی کر رہے ھیں ہم آپ پڑھتی رہنا وہ 2 بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی اور بے حد لاڈلی لیکن پاپا کی بات کے سامنے وہ کبھی سر نہیں اٹھاتی تھی

سو اس بار بھی چپ ہو گئی

**************

اسنے بلیک پینٹ پہ پنک شرٹ پہن رکھی تھی اور دوپٹا ہمیشہ کی طرح تھا لا پرواہ بال کھولے وہ نظر لگ جانے کی۔ حد تک۔ خوبصورت لگ رہی تھی وہ بھابی اور سحر کے ساتھ سجیلہ کے گھر پر موجود تھی

جہاں اب منگنی کی رسم ادا ہو رہی تھی

سب خوش تھے اور طرح طرح کی خوش گپیوں میں سب بزی تھے

وہ بہت خوش تھی اور خوب چہک رہی تھی لیکن بار بار کسی کی اپنے اوپر نظریں محسوس کر کے وہ ادھر ادھر دیکھتی پر اسے اندازہ نہیں ہوا کہ کون اسے دیکھ رہا ہے اور وہ دو آنکھیں اسے مسلسل اپنے حصار میں رکھے ہو ئے تھیں

منگنی کے بعد سجیلہ آج آئی تھی یونیو رسٹی سب اسے مبارک دے رہے تھے وہ لکچر کے بعد باہر نکلی تو راہداری سے دور سے شاہ کو قریب آتے دیکھ کر اس کے ما تھے پہ بل پڑ ے وہ اس کے قریب چلا آیا

ہیلو مس نینا

اس نے جواب دینے کا تکلف نہیں کیا تھامجھے آ پ سے کچھ بات کرنی ہے میرے ساتھ کینٹین تک چل سکتی ہیں ؟نینا نے یوں ادھر ادھر دیکھا جسے اوہ کسی اور سے کہ رہا ہو

کیا آپ میرے ساتھ ایک کپ کافی پینا پسند کریں گی

اس نے حیر ت سے شاہ کو دکھا بھلا وہ کیسے اسے کافی کی آفر کر سکتا تھا

وہ کچھ دیر دیکھتی رہی پھر مسکرا دی

کس سلسلے میں بات کرنی ہے ؟

ہے کوئی بات آپ چلیں تو سہی

شاہ خوش ہو گیا تھا “سوچوں گی اس نے کندھے اوچکا ئے شاہ صرف مسکرا کر رہ گیا

پر وہ جانتا نہیں تھا کہ وہ کس سے بات کر رھا ہے وہ بہت پچھتانے والا تھا اس سے یہ کہہ کر

. ************

سنو ……!

جان شاہ

میرے ساتھ چلو گی ؟

وہ جو اپنے لئے کافی کا مگ ہاتھ میں تھامے کچن سے نکل رہی تھی شاہ اس کے سامنے آن کھڑا ہوا “کہاں ؟وہ پوچھے بنا نا رہ سکی

جہاں میں لے کر جاؤں “شاہ نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا “ہاں “

جان شاہ نے اپنا ہاتھ شاہ کے ہاتھ میں دیا ۔

وہ ساتھ لئے ہلکی دھوپ میں جا بیٹھا

لیکن جائیں گے کدھر لے کر ؟اس نے پھر سوال کیا ؟کسی سے ملوانے شاہ ہلکا سا مسکرایا

کس سے ؟وہ اور الجھی

جس سے میں روز ملنے جاتا ہوں وہ اسے دیکھنے لگی جانتی ہو کل جب میں اس سے ملنے گیا تو اس نےمجھ سے کیا کہا ؟

وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے دوسرا ہاتھ اس پہ رکھتے ہوئے بولا ۔

کیا ؟جان شاہ نے تجسس سے پوچھا “

جب میں نے ان سے تمہارے لئے کچھ مانگا تو وہ بولے “بہت پیار کرتے ہو جان شاہ سے ؟

میں نے کہا جی بہت زیادہ وہ بولے تو اسے ساتھ لے کر کیوں نہیں آتے ؟مجھ سے ملوانے

،اسے بھی ساتھ لے کر آیا کرو نہ تو میں نے کہا”

ٹھیک ہے کل سے لے کر آؤں گا

تو تم چلو گی نا میرے ساتھ ؟

ساری بات کہہ کر وہ اس سے یقین کر رہا تھا پوچھ کر ۔میں وعدہ کر کے آیا ہوں ‘

اسے چپ دیکھ کر وہ پھر بولا

جان شاہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی

اسکی کانچ جیسی آنکھیں بھیگنے لگی تھی ۔

وہ سمجھ چکی تھی شاہ کیا کہ رہا تھا

وہ ایسا ہی تھا

ہر بات الگ انداز میں کہنے والاوہ تہجد پڑھنے کا عادی تھا اور جب آدھی رات کو وہ نیند سے سر اٹھا کر پوچھتی کہاں جا رہے ہو ؟

تو وہ کہتا “اپنے اللّه سے ملنے

اور جب وہ پوچھتی مل آئے ہو اپنے اللّه سے ؟

تو وہ مسکرا دیتا اور کہتا

“ہاں جی مل آیا ہوں ۔اور آج وہ اس سے کہہ رہا تھا کہ وہ اسے بھی اللّه پاک سے ملوانے لے کر جانا چاہتا ہے یعنی وہ جان شاہ سے کہہ رہا تھا کہ وہ بھی اس کے ساتھ تہجد پڑھا کرے ۔

جان شاہ نے سر ہاں میں ہلایا “جی چلوں گی

ضرور چلوں گی

وہ نم آنکھوں کے ساتھ مسکرائی

اس کی کانچ جیسی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگی تھی ۔کیونکہ اب وہ بھی ہر رات شاہ کے ساتھ اللّه پاک سے ملنے جانے والی تھی کچھ بلاوے اتنے خوبصرت ہوتے ھیں کہ ہم کبھی نہ بول ہی نہیں سکتے۔۔

*************

تونے اسے کافی کے لئے ہاں کیوں کر دی

شاہ کے جاتے ہی سجیلہ اس کا سر کھا نے لگی

نینا عجیب سے انداز میں مسکرائی

نینا ملک کہتے ھیں مجھے جانی

جہاں لوگ سوچنا بند کرتے ھیں

میں وہاں سے سوچنا شروع کرتی ہوں

دیکھا میں نے کہا تھا نا کہ یہ کچھ نا کچھ سوچ کر ہی کر رہی ہے

سحر نے برا سا منہ بنایا لیکن بتا تو سہی تو کر کیا رہی ہے

سجیلہ بضد ہوئی بتاؤں گی جان میری لیکن ابھی نہیں نینا نے اٹھتے ہوئے کہا جب کہ کانچ جیسی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی

اور وہ دونوں جانتی تھیں کہ اب اسے فورس کرنا بیکار تھا کیونکہ جب وہ ایک بار کہہ دیتی تو اس نے اب کچھ نہیں بتانا تھا

************

وہ سارے الفاظ کو نئے سرے سے ترتیب دے رھا تھا حلانکہ وہ ہزاروں لوگوں سے بات کرتا تھا وہ ایک طرح کی تبلیغ کرتا تھا لوگوں کو اللّه سے ملوانے کی کوشش کرتا تھا

وہ لفظوں کا جادو گر تھا جب وہ بولتا تھا تو لوگ اس کے لفظوں کے طلسم میں کھو جایا کرتے تھے

لیکن یہاں معا ملہ کچھ اور تھا آج پہلی بار وہ لفظوں کو ترتیب دے رھا تھا

اس نے اپنی سیاہ آنکھوں پہ سیاہ چشمہ لگایا اور چابی اٹھا کر نکل گیا

***********

وہ اس کے سامنے بیٹھی تھی

ریڈ شرٹ اور بلیک ٹرائوذر میں بال ایک سائیڈ پہ ڈالے وہ بے نیاز سی بیٹھی تھی

شاہ نے کافی کا مگ اس کے سامنے رکھا

اصل میں میں آپ سے سوری کرنا چاہتا تھا

جس طرح ہم لوگوں کا سامنا ہوتا رہا ہے

تو مجھے لگا سچ مچ میں میرا قتل آپ پر واجب ہو جائے گا

اس نے بات شروع کی

نینا نے اپنے موبائل سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا

وہ تو وقت بتائے گا مسٹر شاہ

وہ تکلف سے مسکرائی

ہہمم یہ بھی ہے

شاہ نے کافی کا گھونٹ بھرا “ویسے مجھے حیرت ہو رہی کہ آپ میرے بلانے پہ آگئی

حیرت تو مجھے بھی ہے

نینا نے بھی مگ اٹھا لیا یہ دوپٹہ سر پہ رکھ لیا کریں شاہ نے اس کے گلے میں لٹکے دوپٹے کی طرف اشارہ کیا تو اپنے کام سے کام رکھ بس نینا کا حلق کڑوا ہوا مجھے تیری تبلیغ کی ضرورت نہیں

یار یہ تو کر کے مت بولا کرو کتنا برا لگتا ہے

شاہ نے نیا نکتہ اٹھایا نینا کا دل چاہا مگ اس کے سر پہ دے مارے

پر وہ ضبط کیے بیٹھی رہی مجھے یہ آپ جناب پسند نہیں میں ایسی ہی ہوں اس نے خالی کپ میز پر پٹخااس کا موڈ بگڑتا دیکھ کر شاہ نے انداز بدلا چلو چھوڑو میں آپ سے کچھ خاص بات کرنا چاہتا ہوں لیکن سکون سے کسی ایسی جگہ جہاں آپ تسلی سے سن سکیں میری بات

شاہ نے بہت سوچ کر لفظ ادا کیے

نینا جو اپنا موبائل لے کر بیٹھی تھی مسکرا دی مجھے یہی امید تھی مسٹر شاہ

اس نے زہر خند انداز میں کہا

آپ پلیز مجھے اپنا فون نمبر دیں گی میں آپ کو فون کر لونگا جہاں آپ کہیں گی میں آجاؤں گا ۔شاہ ی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ بول اٹھی “نہیں میں نہیں دے سکتی

شاہ نے کچھ کہنے کو منہ کھولا پر اس نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا “خیر ابھی تو مجھے دیر ہو رہی ہے اور میں تیرا کوئی لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں ہوں

وہ جانے کو اٹھ کھڑی ہوئی شاہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا اس بارے میں

بعد میں بات کریں گے اس نے جانے کو قدم بڑھا ئے وہ کوئی عام لڑکی نہیں تھی

وہ پر سوچ نظروں سے اسے جاتا دیکھتا رہا

************

وہ بہت خوش تھی

سب جتنا اس نے سوچا تھا اس سے بھی بہتر ہو گیا تھا مسٹر شاہ

ہاہاہاہا اس نے قہقہ لگایا وہ جانتی تھی اسے اب کیا کرنا تھا بڑا عا لم بنا پھرتا ہے وہ سن چکی تھی کہ شاہ تبلیغ کرتا تھا

لوگوں میں اس کی کافی شہرت ہو چکی تھی

لوگوں میں اس کی عزت تھی وہ بہت ہی رکھ رکھاؤ والا تھا وہ کسی سے فری نہیں ہوتا تھا اس کی ایک امیج بن چکی تھی لیکن وہ جانتی تھی یہ سب دکھاوا تھا

بکواس تھا وہ جو نقاب شرافت چہرے پہ چڑھائے ہوئے پھرتا تھا وہ اس کے پیچھے دیکھ سکتی تھی

اسے لگتا تھا وہ صرف لڑکیوں کے قریب جانے کا بہانہ تھا اس کی اچھائی وغیرہ اس نے سر جھٹکا سب تیار تھا اسے بس ایک بٹن دبانا تھا اس نے بٹن دبا دیا اور کھل کر مسکرا دی

***********

وہ یونیورسٹی آیا تو سب اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے اور کچھ لوگ دبی دبی سرگوشیوں میں ہنس بھی رہے تھے وہ سب کو دیکھتا اپنے دیپارٹمنٹ کی طرف آیا اب اسے لوگوں کی نظروں سے الجھن ہونے لگی تبھی زین تیزی سے اس کے قریب آیا

شاہ ادھر آؤ وہ اسے ایک طرف لے گیا

یہ دیکھو اس نے اپنا موبائل سامنے کیا

شاہ نظر سکرین پر جم گئی

وہ ایک قدم پیچھے ہٹا اسے کچھ سمجھ نہیں آئی تو مڑ کر جانے لگا زین پیچھے سے اسے بلا تا رہا مگر وہ رکا نہیں

راستے میں اسے سیفی ملا

بڑا بہت ہی بڑا ہاتھ ما رنے کے چکر میں ہو سائیں “اس نے سنی ان سنی کر دی اور گیٹ سے نکلتا چلا گیا

دوسری طرف وہ بیٹھی تھی آنکھوں میں جیت کا نشہ لئے وہ بیحد خوش تھی

ہاہا اس نے زور کا قہقہ لگایا

مزہ آیا ؟اس نے اپنے سب دوستوں کی طرف دیکھا بہت سجیلہ نے نعرہ لگایا وہ لوگ پھر سے وہی ویڈیو دیکھنے لگے جو نینا نے سب کو بھیجی تھی

جس میں شاہ اسے کافی پیش کر رہا تھا اور ساتھ ہی اس سے مزید بات کرنے کا بول رہا تھا اور نمبر مانگ کر اس نے اپنے تابوت میں آخری کیل خود ہی ٹھونک دیا تھا

ساتھ اس نے لکھا تھا

یہ ہے شاہ کی اصلیت

یہ اچھائی کا نقاب لگا کر صرف لڑکیوں کو اپنے قریب لانے کی کوشش کرتا ہے

دیکھو سب مرا سم بڑھانے کا یہ نیا طریقہ ہے شاہ کی عزت کا کافی نقصان ہو چکا تھا جس پر نینا بہت خوش تھی

***********

وہ اپنے کمرے میں لیٹا تھا حالت عجیب تھی

اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھی

وہ ساری رات جاگتا رھا تھا

سب لوگ اسے کن نظروں سے دیکھ رہے تھے

اف اس نے مٹھی بھینچ کر زور سے بیڈ پر ماری وہ کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا

2 دن بیت گۓ تھے

سب نے کوشش کر دیکھی پر وہ باہر نہیں نکلا

اسے بس 2 کانچ جیسی آنکھیں یاد آ رہی تھی

وہ کہیں چھپ جانا چاہتا تھا کہیں بھاگ جانا چاہتا تھا اس کے خلوص کا اتنا مذاق اڑایا تھا اس لڑکی نے اسے اتنا غصہ نہیں آرہا تھا جتنی تکلیف ہو رہی تھی جتنا اسے دکھ ہو رہا تھا

***********

2 دیں گزر گۓ تھے پر شاہ یونیورسٹی نہیں آیا تھا وہ اس کی شکل دیکھنا چاہتی تھی

پر وہ آ ہی نہیں رہا تھا اس کی خوشی ابھی بھی ادھوری تھی اس کی شکل پہ 12 بجے دیکھے بغیر مشکلیں واقع اپنا وجود منوا کر چھوڑتی ہیں