Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 9
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 9
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
. . . . . اسکا نام عریشہ تھا
شاہ اور وہ ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے ان کی پسند کی شادی تھی
اور وہ دونوں بہت خوش تھے لیکن ۔۔۔۔۔۔
کچھ ہی مہینوں کے بعد اچانک ایک راتعریشہ کو سینے میں درد اٹھا اور ہسپتال جانے پر پتہ چلا کہ اس کے دل میں ایک سوراخ ہے
شاہ نے اسکا علاج کروانے کی بہت کوشش کی دن رات اک کر دیا پر آپریشن سے صرف دو دن پہلے ہی وہ شاہ کا ساتھ چھوڑ گئی
جان شاہ اب نہیں رہی یہ بات خود کو باور کروانے میں شاہ کو بہت وقت لگا وہ بری طرح سے ٹوٹ گیا تھا اس کی جینے کی چاہ مٹ چکی تھی اس کی مما نفسیا ت کی ڈاکٹر ھیں
وہ بھی اس کی حالت کو سدھار نہیں پا رہی تھیں لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ سنبھل گیا
اس نے اپنی زندگی اللّه کے لئے وقف کر دی
اپنی زندگی کا مقصد بدل لیا اب وہ بھی نفسیا ت پڑھ رہا ہے وہ اپنی مما کی طرح لوگوں کو زندگی کی طرف لانا چاہتا ہے
اب اس کے جینے کا بس ایک مقصد ہے لوگوں کو اللّه سے ملانا لوگوں کی بھلائی انسانوں کو ٹھیک راستہ دکھانا زندگی سے مایوس لوگوں کو زندگی کی طرف لانا ۔
وہ سب کچھ کہہ کر خاموش ہو چکا تھا وہ ابھی تک کھوئی ہوئی سی تھی وہ تصویر بار بار اس کے سامنے آ رہی تھی اور یہ ایک عجیب اتفاق تھا کہ آپ کی شکل عر یشہ سے ملتی ہے اور آپ کی آنکھیں !
آپ کی آنکھیں بالکل جان شاہ جیسی ہیں
لیکن یقین کریں شاہ اس لئے آپ سے بات کرنے کی کوشش کبھی نہیں کرتا میں جانتا ہوں اچھی طرح سے اپنے دوست کو وہ صرف آپ کو ایک اچھی لڑکی کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے “مطلب میں بری ہوں ؟؟
اچانک ہی اس نے نکتہ پکڑ لیا” نہیں نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا”” زین گڑ بڑا گیا تیرا جو بھی مطلب تھا ،،واٹ ا یو ر ،،بہرحال تھینک یو، وہ جانے کو اٹھ کھڑی ہوئی
“اٹس اوکے “وہ بھی اٹھا وہ جاتے جاتے مڑی
اور ہاں میں جیسی ہوں ٹھیک ہوں
کیونکہ میں خود کو ایسے ہی پسند ہوں
یہ بول کر جواب کا انتظار کیے بغیر جا چکی تھی
**********
ھیں تیرا دماغ چل گیا ہے کیا ؟
تو شاہ کے بارے میں معلومات لینے زین کے پاس پہنچ گئی وہ اس وقت سجیلہ کے سامنے بیٹھی تھی اور ساری کہانی سننے کے بعد اس نے نینا کی کلاس لی ہاں کیوں کہ مجھے الجھن سے نفرت ہے تو جانتی ہے نہ میں ہر چیز کلئیر ہی پسند کرتی ہوں اور اس شاہ کی شکل دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ وہ مجھے کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہے اس لئے میں زین سے مل کر سب معلوم کر لیا اس نے 7up
کا لاسٹ گھونٹ لے کر گلاس سجیلہ کے سامنے رکھا سجیلہ نے برا سا منہ بنایا
میں نے جب اس کو سوری کہا تب بھی وہ کچھ بولا نہیں چپ چاپ بیٹھا رھا
تو میں اس سے کوئی مزید سوال نہیں کر سکتی تھی نینا اب اس ٹرانس سے نکل آئی تھی ۔
خیر مجھے تو اب بھی اس شاہ پر شک ہےسجیلہ نے ناک سکیڑی وہ تو خیر مجھے بھی ہے “نینا اٹھ کھڑی ہوئی “ویسے نائیس سٹوری ہاں “
اس نے ہائی فائی کے لئے ہاتھ اٹھایا سجیلہ بھی مسکرا دی اچھا بیٹھ نا بریانی بن رہی ہے
کھا کے جائیو سجیلہ نے اسے روکتے ہوئے کہا
ارے نہیں یار
زوہا کے سسرال والے آ رہے ھیں امی کی کال 2 بار آ چکی ہے کل ملتے ھیں نہ اچھا چل ٹھیک ہے اس نے کلائی میں بندھی گھڑی دیکھتے ہوئے ہاتھ ہلایا
. **********
وہ کب کی جا چکی تھی پر وہ اب تک یونہی بیٹھا تھا ساری چیزیں ویسی کی ویسی ہی بکھری ہوئی تھیںاس کی خوشبو کمرے میں رقص کر رہی تھی اس نے سامنے پڑا دوپٹہ اٹھا کر آنکھوں سے لگایا اسے لگا وہ کمز ور پڑ رھا ہے وہ خود کو پھر سے جوڑنے لگا
**********
گھر میں خوب چہل پہل تھی
کچن سے طرح طرح کے کھانوں کی خوشبو پھیل رہی تھی عینا نے اسے دیکھ کر اس کی عقل پر ماتم کیا “نینو تو اب آ رہی ہے “
دیکھ ماموں لوگ آ بھی گۓ ھیں “ہاں تو میں بھی تو آگئی ہوں نہ “اس نے اپنا پرس بیڈ پر پھینکا “اف اب خود نا گر جانا یہاں “
زوہا بھی اس کے سر پر پہنچ گئی
کپڑے بدل جلدی سسرال تیرا ہے تو سج سنور کر جا مجھے کیا ضرورت ہے اس نے ہاتھ جھلایا شرم کر لے کچھ تیرے بھی کچھ لگتے ھیں وہ لوگ وہ جلدی جلدی اپنا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی “ہاں بد قسمتی سے “
اس نے برا سا منہ بنایا
عینا جا چکی تھی ان کی بحث سے تنگ ہو کر
زیادہ بکواس نہ کر جلدی آجا کچن میں امی غصے میں ھیں وہ جانے لگی آتی ہوں
اس نے بگڑے تیوروں کے ساتھ اپنے کپڑے نکا لے اور شاور لینے گھس گئی
*********
اسے ماموں کی فیملی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی لیکن زوہا کا رشتہ ان کے ہاں ہوا تھا اور وہ بھی بچپن سے اسے ان بچپن کے رشتوں سے بھی سخت نفرت تھی اوپر سے ان کی سوچ یہ نا پہنو ،یہ نا کھاؤ ،یہاں نا جاؤ ،ایسے نا بولو ایسے نا ہنسو ،اف اس کے ماتھے پہ بل پڑے امی بھی نااور یہ زوہا کیسے چپ چاپ ان کی بات مان لیتی ہے ۔اسکا بس چلتا تو سب کو اٹھا کر باہر پھینک دیتی ۔۔
***********
آج پورے ایک ہفتے بعد وہ اسے لائبریری میں نظر آیا تھا وہ ویسا کا ویسا ہی تھا وہ نا جانے کیا سوچ کر اس کے پاس چلی آئی اس کی آہٹ سن کر شاہ نے سر اٹھایا پھر خاموشی سے واپس سر جھکا لیا ۔
تو نے ابھی تک مجھے معاف نہیں کیا کیا ؟
وہ چیونگم چباتے ہوئے اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بے نیازی سے پوچھ رہی تھی
شاہ نے کتاب بند کی “میں ناراض تھا ہی نہیں” چلو یہ تو اور بھی اچھی بات ہے
نینا نے چیونگم کا غبارہ بنایا شاہ نے افسوس سے سر ہلایا آپ نے سوری کر لی یہی بہت ہے
شاہ نے پھر سے کتاب کھول لی
“شکریہ بول سکتے ہو”
اس نے چشمہ نکال کر کانچ جیسی آنکھوں پہ لگایا “ایکسکو زمی “
شاہ نے اسے گھورا نینا نے بے نیازی سے کندھے اچکا ئے اور یہ جا وہ جا
. . **********
کیا بات ہے اکیلے اکیلے مسکرا رہی ہے
سجیلہ جو اپنے موبائل میں جانے کس سے چیٹ کر رہی تھی اور مسکرا رہی تھی اسے پتہ ہی نا چلا کب نینا نے اس سے موبائل لے لیا
نینا میرا موبائل واپس کر چل وہ چلائی
دیکھنے تو دے آخر اس میں ایسا کیا ہے جسے دیکھ کر محترمہ خود ہی مسکرائے جا رہی ہے
اس نے موبائل اپنے سامنے کیا نینا جان سے مار دوں گی میں تجھے واپس کر چل
وہ اس کے پیچھے بھاگی نینا آگے آگے
لیکن اس نے دیکھا نہیں تھا وہ بس اسے تنگ کر رہی تھی نینا واپس کر یار
سجیلہ نے زچ ہو کر اسے پکارا اچھا پھر بتا مجھے بھی کس سے بات کر رہی تھی
اس نے موبائل واپس سجیلہ کے ہاتھ پہ رکھا
اسد سے سجیلہ نے تھوڑا سا مسکرا کر بتایا
ا وے ہوئے شرما بھی رہی ہے
نینا نے پھر اسے چھیڑا نینا کی بچی اس نے نینا کے بال کھینچے اسد سجیلہ کا منگیتر تھا
پہلے تو اس نے بس اپنے باپ کے کہنے پر منگنی کی تھی پر اب اسے اسد سچ میں اچھا لگنے لگا تھا وہ اکثر اس سے بات کرتی
اور آج نینا نے اس کی چوری پکڑ ہی لی
ویسے چل کیا رھا ہے یہ سب ؟
نینا نے حسب عادت سجیلہ کے کندھے پہ اپنی تھوڑی ٹکائی کچھ نہیں جانی
بس کبھی کبھی بات کر لیتی ہوں
اب کیا کروں منگیتر ہے تو منع بھی نہیں کر سکتی نا “سجیلہ نے صاف صاف بتایا
یوں بول نا کہ وہ اب تجھے اچھا لگنے لگا ہے ؟
نینا جو صاف بات بولنے کی عادی تھی بول گئی “ہاں یہ سچ ہے “
سجیلہ نے ایک پیاری سی مسکا ن کے ساتھ اقرار کر لیا بس تو تو گئی کام سے بچہ نینا نے اسے یوں دیکھا جیسے فاتحہ پڑھ رہی ہو اس پہ اب ایسا بھی نہیں ہے اچھا سجیلہ نے منہ بنایا ۔
تو کیا جانے محبت “ہاں سچ کہا اور مجھے جاننا بھی نہیں اس محبت کے چکروں میں نا میں نہیں پڑتی
نینا نے ناک سے مکھی اڑائی”
بچہ جب پیار ہو جاتا ہے نا تو بڑے بڑے منہ کے بل گرتے ھیں سجیلہ نے اسے چڑ ا یا
توبہ توبہ اللّه معاف کرے “اچھا اچھا بول چڑیل”نینا نے کانوں کو ہاتھ لگائے
تو جتنے مرضی کانوں کو ہاتھ لگا ہونا وہی ہے جو لکھا ہے سجیلہ نے اسے تنگ کیا
اب اپنا تھو بڑا مجھ سے تڑ وا مٹ لینا بس تجھے ہی مبارک ہو یہ بیماری نینا نے اسے مکا دکھایا اور سجیلہ ہنستی چلی گئی اس کی اس حرکت پر لیکن کہتے ھیں نہ پتہ نہیں کونسی گھڑی قبولیت کی ہواور شاید وہ گھڑ ی کوئی قبولیت کی ہی گھڑی تھی
*********
وہ لیپ ٹاپ لے کر کچھ ضروری کام نمٹا رہی تھی جو بس اب مکمل ہونے کو تھا
اس نے زور سے انگڑائی لی
بیزاریت سے لیپ ٹاپ کو دیکھا پھر یونہی موڈ بدلنے کو اپنی آئ ڈی لاگ ان کر لی
اس کے پیج پر بہت ساری لڑکیوں کے مسیج آئے ہوئے تھے ان سب نے اپنے اپنے مسلے لکھے تھے وہ سب سے قریب ٹارگٹ کو پن کرنے لگی
پھر اس نے اپنا موبائل نکالا ایک نمبر ملایا
دوسری طرف سے کال اٹھا لی گئی تو اس نے کہا سیفی کل اپنی پورے گروپ کے ساتھ اس جگہ آجانا اس نے اپنے محلے کے سب سے قریب کے ایک محلے کا نام سیفی کو بتا کر کچھ ھدایا ت دی
ہمیں کسی کی دعوت کرنی ہے
مسکراہٹ دبا کر اس نے دوسری سائیڈ کی بات سنی پھر کال کٹ کی پھر سجیلہ کا نمبر ملایا پھر سحر کا پھر سکون سے موبائل سائیڈ پہ رکھ دیا اور کل کا پروگرام سیٹ کرنے لگی
**********
شاہ نے ان سب لوگوں پہ نظر دوڑا ئی جن کے چہروں پہ جینے کی امنگ نظر آ رہی تھی
لیکن کچھ دن پہلے ان سب کے چہرے مایوسی کی تصویر بنے ہوئے تھے شاہ کو مما نے ان لوگوں سے ملوا یا تھا وہ کافی وقت ان لوگوں سے ملتا رہا ان کو جینے کا حوصلہ دیتا رھا ان کو زندگی کو ایک الگ نظریے سے دیکھنا سکھاتا رھا اور آج ان سب لوگوں میں جینے کی ایک نئی لگن دیکھنے کو مل رہی تھی مما بہت خوش تھیں اور وہ خود بھی
مما کے پاس ایسے بہت لوگ آتے تھے جو خود کشی کی کوشش کر چکے ہوتے جو زندہ رہنا نہیں چاھتے تھے اور ایسے کیسز میں مما اس سے ہیلپ لے لیتی تھیں اور وہ اپنے لفظوں کا جادو ان لوگوں چلاتا اور ان کی سوچ ان کی زندگی بدل جاتی
***********
مقررہ وقت پر وہ لوگ وہاں پہنچ چکے تھے
بس اب ان دونوں کا انتظار تھا پھر انتظار ختم ہوا اور ایک لڑکی چادر میں لپٹی تیز تیز قدموں سے گلی میں داخل ہوئی
تھوڑی دور چلنے کے بعد ایک لڑکا دوسری گلی سے نکلا اور اس کے سامنے پہنچ گیا وہ ٹھٹھک کر رکی سائیڈ سے نکلنے کی کوشش کی لیکن بے سود اس لڑکے نے اس کا راستہ روک رکھا تھا پھر اس نے کچھ نا زیبا جملے کہے لڑکی نے بے بسی سے ادھر ادھر دیکھا
تبھی کسی نے لڑکے کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا
لڑکے نے مڑ کر دیکھا ایک لڑکی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ہوا تھا
اور اس کا دوسرا ہاتھ پینٹ کی جیب میں تھا مزے سے چیونگم چباتی وہ اپنی کانچ جیسی آنکھیں اس پر جمائے ہوئی تھی پیچھے 2 اور لڑکیاں تھی انکا سٹائل بھی کچھ ایسا ہی تھا
اور ساتھ ایک لڑکا بھی تھا جو اسے گھور رھا تھا کیا مسلہ ہے ؟
لڑکے نے نا گواری سے اسے دیکھا یہی تو ہمیں تجھ سے پوچھنا ہے بچہ کہ تیرا کیا مسلہ ہے ؟
نینا نے سکون سے جواب دیا
یہ تیری بہن ہے کیا ؟تم سے مطلب ؟
لڑکے نے ڈھٹائی سے جواب دیا “ھمم یہ بھی سچ کہا “پر اس سے ضرور تجھے مطلب ہے بیٹا نینا نے ایک ویڈیو اس کے سامنے کی
جس میں اس لڑکے کی تھوڑی دیر پہلے کی گئی حرکت صاف نظر آ رہی تھی اور یہ ویڈیو ایک اکاؤنٹ پر پوسٹ ہونے جا رہی تھی اور وہ اکاؤنٹ دیکھ کر اس لڑکے کی حالت غیر ہونے لگی کیونکہ یہ اسی کا فیس بک اکاؤنٹ تھا یہ یہ تو میری آئی ڈی ہے
تمہارے پاس کیسے ؟وہ کیا ہے نا کہ کمینگی میں نا میں اپنی مثال آپ ہوں نینا نے ٹیگ کا بٹن دبایا ایسی ہزاروں آئ ڈیز میری انگلیوں پہ ناچتی ہیں اس آئ ڈی میں تیری فیملی بھی ہے نہ اب دیکھ ترے کرتوت سب کو دکھاتی ہوں نینا نے اوکے کا بٹن دبایا
ایسا مٹ کرو پلیز وہ گھبرا چکا تھا اور اس کی ساری اکڑ نکل چکی تھی اب کیا کریں اگر ہمیں تجھ سے مطلب نہیں ہے تو تجھے بھی تو اس لڑکی سے کوئی مطلب نہیں ہے نا نینا نے سامنے کھڑی لڑکی کی طرف اشارہ کیا یہ بھی تو کسی کی بہن ہے کسی کی عزت ہے اپنی عزت کو اپنی امیج کو خراب ہوتا دیکھ کر ہوا نکل گئی اور دوسروں کی بہنو کا راستہ روکتے شرم نہیں آتی
نینا نے اسے آئینہ دکھایا
مجھ سے غلطی ہو گئی
ہاں تو چل معافی مانگ نا بہن سےنینا نے اسے کالر سے پکڑ کر کھینچا مجھے معاف کر دو آگے سے غلطی نہیں کروں گا اس نے لڑکی سے معا فی مانگی گڈ اور ہونی بھی نہیں چاہیے کیونکہ جن کے اپنے گھر کانچ کے ہوتے ھیں وہ دوسروں کے گھروں میں کنکر نہیں پھینکتے
نینا نے اسے سمجھایاعزت دار لوگ دوسروں کی بھی عزت کرتے ہیں اب وعدہ کرو کہ آج کے بعد کسی لڑکی کو تنگ نہیں کرو گے ؟
ٹھیک ہے میں وعدہ کرتا ہوں پر پلیز میرااکاؤنٹ مجھے واپس کر دو اور یہ ویڈیو بھی “وہ لجاجت سے بولا
ھمم اکاؤنٹ شام کو مل جائے گا “لیکن یہ ویڈیو” یہ میرے پاس ضمانت کے طور پر رہے گی اگر تم نے دوبارہ کوئی مسلہ کیا تو یاد رکھنامجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
ویسے مجھ سے برا کوئی ہے بھی نہیں
نینا نے موبائل جیب میں ڈالا آنکھوں پر چشمہ لگایا اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی
************
اس نے یہ کام 1 سال پہلے شروع کیا تھا
پہلے ایک دوست کی مدد کی ہوا کچھ یوں کہ ایک لڑکا اسے اکثر یونیورسٹی سے واپسی پر تنگ کیا کرتا اس نے نینا سے کہا اور وہ اس کے ساتھ چلی آئی سجیلہ اور نینا نے اس لڑکی کے ساتھ مل کر اس لڑکے کو تھپڑ لگایا پھر ایک دوست کے کہنے پہ اس کی دوست کی مدد کی
پھر کچھ لڑکیوں کی یونہی کسی نا کسی کے کہنے پہ وہ ایسے لڑکوں کو سبق سیکھانے لگیں پھر سحر بھی آگئی دھیرے دھیرے اس بات کا چرچا بڑھنے لگا اور اس کا گروپ بھی اب اس کے گروپ میں 3 لڑکے بھی شامل تھے
سیفی ،اسفند ،انسپکٹر توصیف جو سجیلہ کا کزن تھا ۔
وقت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں نے بہت سے طریقے ڈھونڈ لئے تھے نینا نے ہیکنگ سیکھ لی تھی اب وہ سب سے پہلے ٹارگٹ کا اکاؤنٹ ہیک کرتی اور پھر وہ لوگ مل کر سامنے والے کی کسی ایسی کمزوری پہ حملہ کرتے کہ وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا اور دماغ کے ساتھ ساتھ جہاں ضرورت پڑتی وہ لوگ ہاتھ بھی چلاتے تھے اب فیس بک پر نینا کا پیج بھی تھا جہاں وہ ایسی لڑکیوں کی شکایا ت سنا کرتی تھی اور جہاں تک ہو سکتا وہ سب کی مدد کرتے
