Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 29
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 29
Falsfa-e-Ishq by Mhram Shab
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ۚ ۖ وَ مَا تُخۡفِیۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَکۡبَرُ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾
اے ایمان والو ! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو راز دار نہ بناؤ ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے ۔ ( ٣٩ ) ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ ۔ بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے ، اور جو کچھ ( عداوت ) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے ۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتا دی ہیں ، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو ۔![]()
اس نے اس آیت کو پڑھا اور بار بار پڑھا
اپنے سے باہر کے کسی شخص کو
مطلب کسی انجا ن کو
گھر سے باہر کے انسان کو
اور میں نے کیا کیا ؟
ایک باہر کے انسان پر سب راز کھول دیے
ہاں ھماری ذاتی چیزیں ہمارے راز ہی ہوتی ہیں میرے موبائل کے اندر موجود میری دوستوں کے نمبر راز ہی تھے
میں نے کیسے ایکباہر کے انسان کے ہاتھ میں اپنا موبا ئل دے دیا
کاش میں نے آپ کی بات پہلے سن لی ہوتی اللّه پاک ![]()
لیکن تب تو مجھے آپ سے بات کرنے کا سلیقہ ہی نہیں تھا ![]()
میں نے کتنی بڑی غلطی کی ![]()
اور اس کا مطلب جب تک نکاح نا ہو جا ئے منگیتر بھی
“باہر کا شخص” ہی رہتا ہے
اس نے کچھ صفحے آگے کو سر کا ئے
اور ہم لوگ نا محرم لوگوں کو اپنا سب سے بڑا خیر خواہ اور ہمدر د سمجھ کر اپنے سارے راز بتانے لگتی ہیں ![]()
![]()
اور یہی ہماری غلطی ہوتی ہے ![]()
وہ جیسے آیات پڑھتی جا رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے
اس کا اللّه اسے اس کی غلطی بتا رہا تھا
ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿۱۸۲﴾ۚ
یہ تمہارے پیش کردہ اعمال کا بدلہ ہے اور اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔
بیشک ہم خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں ![]()
سجیلہ نے قرآن پاک بند کیا اور اسے مظبوطی سے سینے سے لگایا ![]()
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾
ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا ![]()
![]()
اس کی آنکھیں بند تھیں اور ہر سانس ایک ہی ورد کر رہا تھا ![]()
ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا
ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا
ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا ![]()
**********************
رات کے 11 بج چکے تھے
اس کی نظریں گھڑی پر ہی جمی تھیں
11.5 منٹ پر اس نے میسج ٹائپ کیا
شاہ …….
اب اس کی نظریں گھڑی دے ہٹ کر موبائل کیا سکرین پر جم چکی تھیں
10 منٹ ہو گئے پر کوئی جواب نہیں آیا
اس نے واٹس اپ آن کیا
شاہ کو آن دیکھ کر اسے غصہ آنے لگا
اب وہ اسے بار بار میسج نہیں کرتی تھی
بس رات کے 11 بجنے کا انتظار کرتی تھی
کب سے میسج کر رہی ھوں ![]()
اس نے واٹس اپ میسج کیا
کچھ دیر بعد میسج سین کر لیا گیا
ا وہ سوری یار دوسرا موبائل چارج پے تھا
شاہ کا جواب دیکھ کر اس کا غصہ کچھ کم ہوا
تمہیں پتہ تھا نا یہ میرا ٹائم ہے ![]()
میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ میں نہیں کر پاؤں گا یہ ![]()
شاہ نے اسے یاد دلایا
مطلب تمہارے پاس 24 گھنٹے میں 30 منٹ بھی نہیں ہیں میرے لیے ![]()
نینا کے دل کو ایک ان دیکھی تکلیف نے اپنے قبضے میں لے لیا ![]()
میں نے یہ تو نہیں کہا یار
شاہ نے جلدی سے کہا
نینا نے گہری سانس لے کر دل کی دکھن کو اندر اتارا
اس کی نظر گھڑی کی طرف اٹھی
صرف 10 منٹ رہ گئے تھے
وہ جھگڑا نہیں کرنا چاہتی تھی
اس نے خاموشی اختیار کرنا بہتر جانا ![]()
اس کی خاموشیاں اب بڑھنے لگی تھیں
اور جب خاموشیاں بڑھنے لگیں تو انسان کے اندر شور بڑھ جاتا ہے ![]()
![]()
**********************
جلدی آجاؤ یار اور کتنی دیر لگاؤ گی ![]()
وہ گا ڑی کا دروازہ تھا مے اس کے انتظار میں کھڑا تھا
سفید پینٹ پہ سفید ہی ٹی شرٹ پہنے سر پہ بلیک کیپ رکھے چشمہ آنکھوں پہ لگا ئے ایک ہاتھ سے گاڑی کا دروازہ پکڑے بار بار اپنی کلائی پہ بندھی گھڑی کو دیکھتا وہ جھلا رہا تھا
وہ چادر درست کرتی دوڑتی آ رہی تھی
کتنا شور کرتے ہو تم ![]()
وہ پاس آ کر سانس لینے کو رکی
اور کتنی سست ہو تم ![]()
تمہارا شوہر روز ہمیں بد دعائیں دے گا کہ کیا بلا میرے گلے ڈال دی ![]()
![]()
وہ اندر بیٹھ کر دروازہ کھول رہا تھا اب اس کی سائیڈ کا
اور تمہاری وائف
روز ہمیں گالیاں دے گی کہ کہاں لا کر پھنسا دیا مجھے ![]()
وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی
آہ کاش وہ کہہ ہی دے بلکہ میں تو کہتا ھوں وہ تم سب کی واٹ لگا دے ![]()
![]()
اس نے گاڑی سٹا رٹ کرتے ہوئے سرد آہ بھری
تصور میں بے اختیار ایک ملیح چہرہ چمکا
غصے سے دانت پیستی جھٹکے سے چشمہ اتار تی ایک ہٹلر ![]()
اس چشمے سے آزاد ہوتی کانچ جیسی گھورتی ہوئی آنکھیں
خیالی پلاؤ بعد میں پکا لینا ابھی جلدی چلو مجھے دیر ہو رہی ہے ![]()
سجیلہ نے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی
توصیف نے برا سا منہ بنایا
کیسی بہن ہو تم
بھائی کا ذرا بھی خیال نہیں
اور میں کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتی خیال کرنے کا ![]()
سجیلہ نے اپنے ذہن میں اپنا سبق دہراتے ہو ئے کہا
یہی امید تھی تم سے ![]()
توصیف نے موڑ کاٹا
اچھی بات ہے امیدیں جتنی کم رکھی جائیں انسان کو تکلیف اتنی کم ہوتی ہے ![]()
سجیلہ نے سر ہلا تے ہو ئے کہا
توصیف بس اسے دیکھ کر رہ گیا
بولا کچھ نہیں
وہ بھی سب سمجھتی تھی لیکن کچھ کہنا نہیں چا ہتی تھی
محبتوں کے بھرم صرف تب تک رهتے ہیں جب تک وہ انسان کے دل میں چھپی رہتی ہیں جب محبت دل سے زبان تک کا سفر طے کر لے تو وہ اپنا بھرم کھو دیتی ہے ![]()
![]()
***********************
وہ ابھی نماز پڑھ کر اٹھی تھی جب اس کے کمرے کا دروازہ بجا
آجاؤ کون ہے
وہ بیڈ پہ بیٹھی تھی
پاپا کو کمرے میں دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی
پاپا آپ مجھے بلا لیا ہوتا
نہیں بیٹا کچھ ضروری بات کرنی تھی میں خود چلا آیا
پاپا اسے دیکھ کر مسکرا ئے
آئیں بیٹھیں وہ کھڑی ہی رہی پاپا صوفے پر بیٹھ گئے
وہ بھی سامنے بیڈ کی نکر پر ٹک گئی
بیٹا میں سیدھی سیدھی بات کرتا ھوں
تمہاری خالہ آئی تھی
2 دن پہلے وہ اپنے بیٹے صمد کے لئے تمہارا ہاتھ مانگ رہی تھی
اتنا بول کر پاپا رکے بغور اس کا چہرہ دیکھا
پھر گو یا ہو ئے
بیٹا زوہا والا معاملہ ہمارے سامنے ہے
ان لوگوں پہ اعتبار کرنا تو مشکل ہے لیکن تمہاری خالہ کی فیملی والے ذرا اچھے لوگ ہیں اس لئے میں نے سوچنے کا وقت مانگا ہے
نینا کے چہرے پر پریشانی کے اثار دیکھ کر وہ بولے
فکر مت کرو بیٹا آخری فیصلہ تمہارا ہی ہوگا
تم جو چاہو گی وہی ہوگا اس بات کو ذرا سوچ کر مجھے بتا دینا جو بھی تمہیں بہتر لگے ![]()
پاپا کچھ دیر انتظار کرتے رہے کہ وہ کچھ بولے گی لیکن جب وہ کچھ نا بولی تو وہ اٹھ کھڑے ہو ئے
پاپا کب کے جا چکے تھے اور وہ یونہی بٹھی تھی ابھی تک
مجھے شاہ سے بات کرنی ہوگی
لیکن میں کیسے بات کروں
اور کیا بات کروں
وہ سوچ رہی تھی
اسے اب اپنی موم کو بھیجنا چاہیے
اسے جلد ہی شاہ سے اس بارے میں بات کرنی ہوگی ![]()
وہ فیصلہ کر کے اٹھی
11 بجے اس نے شاہ کو میسج کیا لیکن کوئی جواب نا آیا وہ انتظار کرتی رہی اور پھر پتہ نہیں کب اسے نیند آگئی
صبح بھی شاہ کا کوئی جواب نہیں تھا
اس نے واٹس اپ اسے میسج کر دیا تھا
میں جلدی سو گیا تھا
شاہ کا۔ جواب دیکھ کر اس نے چپ چاپ بس اتنا ہی کہا ٹھیک ہے
اسے شاہ سے مل کر یہ بات کرنی ہوگی
نینا نے سوچا شاہ کا برتھ ڈے آ رہا تھا وہ اس دن اس کے لئے پارٹی رکھے گی اور اس دن اس سے بات کر لے گی ![]()
![]()
وہ خود ہی پلان بنا کر خوش ہو رہی تھی اسے شاہ چاہیے تھا ہر حال میں وہ پاپا کو منا لے گی
بس شاہ سے ایک بار بات کر لے ![]()
اور شاہ کی زندگی میں شامل ہونے کے بعد وہ شاہ سے کبھی جھگڑا نہیں کرے گی ![]()
وہ اس کا ہر کام خود کیا کرے گی ![]()
وہ اسے اتنا پیار دے گی کہ وہ عریشہ کے غم کو بھول جا ئے گا ![]()
![]()
وہ نا جانے کیا کیا سوچے جا رہی تھی کیسے کیسے خواب سجا رہی تھی ![]()
یہ سوچے بنا کہ تقدیر کیا سوچے بیٹھی ہے ![]()
![]()
****************
شاہ کا برتھ ڈے تھا
نینا نے اس کے لئے سر پرائز پارٹی کا پروگرام بنایا تھا ۔![]()
ان لوگوں نے سب تیاری کر لی تھی
اس نے ایک ہوٹل میں سارا انتظام کیا تھا
سب تیار تھا بس شاہ کے آنے کی دیر تھی
وہ اسے دن میں ہی بول چکی تھی کہ آج رات ڈنر تم میرے ساتھ کرنا کچھ ضروری باتیں بھی کرنی ہیں ![]()
اور وہ حامی بھی بھر چکا تھا سب کچھ ٹھیک ہو رہا تھا وہ خوش تھی
باتوں باتوں میں ٹائم کا پتہ ہی نا چلا تھا
شام ہو گئی تھی
جب کافی دیر ہو گئی تو ان لوگوں نے نینا سے کہا شاہ کو کال کرے
اس نے پہلے میسج کیا پر کوئی جواب نا آیا
پھر اس نے کال کی لیکن وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا باری باری سب نے ہی اسے فون کیا پر دوسری طرف سے فون نہیں اٹھا یا گیا
وہ لوگ انتظار کرتے رہے 10 بج چکے تھے لیکن شاہ کا کہیں کوئی پتہ نہیں تھا
سب کو بھوک لگ رہی تھی
نینا نے کھانے کا آرڈر دے دیا
اس کا موڈ سخت آف ہو چکا تھا
سب نے کھانا کھایا سوائے نینا کے
سب لوگ 12 بجے تک انتظار کرتے رہے لیکن جب شاہ نا آیا تو سب گھروں کو لوٹنے لگے
نینا کو چپ لگ گئی تھی
گھر آ کر بھی اس نے کسی سے کوئی بات نا کی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی
وہ ساری رات شاہ کو میسج کرتی رہی لیکن کوئی جواب نا آیا ![]()
روتے روتے صبح ہو چکی تھی اس نے ایک۔ پل کو بھی آنکھ نا بند کی تھی
اتنی بے قدر![]()
اتنی لا پرواہی ![]()
مجھے اب شاہ سے دو ٹوک بات کرنی ہوگی
آخر وہ چاہتا کیا ہے ؟
اگر اسے مجھ سے محبت ہے تو وقت آ گیا ہے میرے پاپا سے میرا ہاتھ مانگ لے ![]()
یہی سب سوچتے وہ اٹھی اور تیار ہونے لگی
اسے شاہ سے ملنے جانا تھا
***********************
تو جانتا ہے تو کیا کر رہا ہے ؟
زین جھنجھلا کر بولا
ہاں میں جانتا ھوں میں کیا کر رہا ھوں
شاہ نے اپنے کپڑے اٹیچی میں رکھتے ہو ئے سنجید گی سے کہا
پھر بھی ایک بار سوچ لو شاہ
زین نے اسے سمجھا نے والے انداز میں کہا
مجھے سوچنے کی ضرورت نہیں
شاہ نے عجلت میں اپنا سا مان سمیٹنا شروع کیا
تم نے نینا کو بتایا ؟
زین نے غور سے اسے دیکھا
نہیں ….
شاہ نے مختصر جواب دیا
کیا تمہیں نہیں لگتا شاہ کہ تم غلط کر رہے ہو ؟
زین نے افسوس سے سر ہلایا
میں نے سب ٹھیک کرنے کی ہی کوشش کی تھی زین
شاہ نے بنا اس کی طرف مڑ ے جواب دیا
زین میرا جانا بہت ضروری ہے میرے کئیر یر کا سوال ہے اور یہ موقع میں کسی کے لئے بھی نہیں چھوڑ سکتا
یہ ڈگری میرے لئے کتنی امپورٹنٹ ہے تم جا نتے ہی ہو
شاہ نے اسے سمجھایا
لیکن تم اسے بتا کر بھی تو جا سکتے ہو
زین نے نئی راہ دکھائی
وہ نہیں مانے گی یار میں جانتا ھوں اسے وہ ایک لا ابالی اور نادان لڑکی ہے جلد باز اور بے صبری وہ ہمیشہ ہر چیز کو اپنی مرضی سے سوچتی اور سمجھتی ہے ![]()
اور میں اسے بتانا ضروری بھی نہیں سمجھتا
شاہ نے لا پرواہی سے کہا
اور اس محبت کا کیا جو تم اس سے کرتے ہو ؟
زین نے اسے یاد دلایا
کونسی محبت ؟
شاہ نے رک کر اسے دیکھا
تو کیا تم نینا سے محبت نہیں کرتے ؟ ![]()
![]()
زین کو جیسے جھٹکا لگا تھا
ہاں نہیں کرتا میں اس سے محبت میں صرف اسے سدھارنا چاہتا تھا انسان بنانا چا ہتا تھا
اور اس جیسی لڑکی کے لیے اور کوئی طریقہ سوچنا ہی فضول تھا
اس لئے مجھے یہ سب کرنا پڑا
شاہ نے جیسے اعتراف کرنے والے انداز میں کہا
اور مجھے لگا عریشہ سے شکل ملتی جلتی ہونے کی وجہ سے تم شاید اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاھتے ہو ![]()
زین نے افسردگی سے کہا
ہاں شاید میں ایسا سوچتا بھی لیکن اسکی سوچ اور اس کی عادت مجھے ایسا سوچنے کا موقع نہیں دیتی
وہ اور میں کبھی خوش نہیں رہ سکتے میرا مقصد تو تم جانتے ہی ہو اس کے ساتھ رہ کر میں کبھی کچھ نہیں کر پاؤں گا میں کسی کے ما تحت نہیں رہ سکتا میں کسی کو بار بار صفائیاں نہیں دے سکتا میں کسی کی تفتیش برداشت نہیں کر سکتا میرے ماملات میں کوئی دخل دے مجھے نہیں پسند
میں آزاد رہ کر جینے اور کام کرنے کا عا دی ھوں زین مجھے روک ٹوک سے سخت نفرت ہے اور وہ سمجھنے والوں میں سے نہیں ہے ![]()
وہ کبھی بھی میرے ساتھ نہیں چل سکتی وہ کبھی بھی میرے مقصد میں میرا ساتھ نہیں دے سکتی
نتیجہ کیا ہوگا لڑائی جھگڑے
بدمز گی ناچاکی ہر وقت کی ٹینشن جو میں نہیں چاہتا میں چاہتا تھا وہ اللّه کے قریب ہو جا ئے وہ ہو گئی
میرا کم ختم ہو گیا میرے خیال سے ![]()
اب میں چاہتا ھوں وہ صبر کرنا بھی سیکھ لے
شاہ نے اپنی مزید کچھ چیزیں ڈریسنگ سے اٹھا کر بیگ میں رکھیں
اور دروازے کے باہر کھڑی نینا کو لگا جیسے آسمان اس کے سر پر آن گرا ہو ![]()
زمیں پاؤں کے نیچے سے سرکنا کسے کہتے ہیں اسے آج سمجھ میں آیا تھا
وہ جیسے برف کا مجسمہ بن گئی تھی
وہ یہاں شاہ بات کرنے آئی تھی لیکن دروازے میں داخل ہونے سے پہلے اس نے جو کچھ کھلے دروازے سے سنا اسے ساکت و جامد کر دینے کے لئے کافی تھا ![]()
تو شاہ کو اس سے محبت نہیں تھی ![]()
وہ صرف اپنا کام کر رہا تھا
اور وہ پاگل کیا کیا سوچے بیٹھی تھی
وہ کتنی دور نکل آئی تھی
آج اسے سمجھ میں آیا تھا وہ صحرا میں کیسے اکیلی ننگے پاؤں نکل گئی تھی
وہ اتنی دور نکل آئی تھی کہ واپسی کا کوئی دروازہ بھی نہیں بچا تھا
یہ سب کیا ہو گیا تھا ![]()
اس کا دماغ صرف شاہ کے الفاظ دہرا رہا تھا
اسے مزید کچھ بھی سنائی دینا بند ہو گیا تھا
اس نے سہا رے کے لئے دیوار کی طرف ہاتھ بڑھایا
ہر چیز جیسے اس کے ہاتھ سے دور ہو گئی تھی دیوار بھی ![]()
اس میں مزید کھڑے رہنے کی سکت نا رہی تھی
اس نے واپسی کو قدم بڑھا ئے
زمیں آسماں جیسے گھومنے لگے
پتہ نہیں وہ پاؤں کہاں رکھ رہی تھی اور وہ کہاں پڑ رہے تھے
اسے کچھ پتہ نہیں تھا وہ کیسے اس کے گھر سے روڈ پر آئی
اسے اپنی گاڑی بھی یاد نہیں تھی
وہ راستہ بھی بھول چکی تھی ![]()
اسکے ذہن میں بس ایک ہی جملہ گر دش کر رہا تھا
“ہاں نہیں کرتا میں اس سے محبت “
اس نے لڑ کھڑا تے ہو ئے سڑک پر پہلا قدم رکھا
ہاں نہیں کرتا میں اس سے محبت
اس نے دوسرا قدم رکھا
“وہ میرے ساتھ کبھی نہیں چل سکتی “
اس نے ایک اور قدم اٹھا یا
“ہم ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکتے “
اس نے دھندلی آنکھیں صاف کرنے کی کوشش کی
“میرا کام ختم ہو گیا ہے میرے خیال سے “
اس نے بد حواسی سے ساری آوازوں کو پرے دھکیلنے کی کوشش کی
“میں اسے سدھارنا چاہتا تھا “
“ہاں نہیں کرتا میں اس سے محبت “
“وہ میرے ساتھ کبھی نہیں چل سکتی “
“میرا کام ختم ہو گیا “
ہارن زور سے چیخا
ساری آوازیں جیسے گڈ مڈ ہو گئی تھیں
بریک زور سے چر چرا ئے
ایک زوردار چیخ بلند ہوئی
اور پھر کئی چیخیں گونجی
دور کہیں سا ئرن کی آواز آئی
“میں چاہتا تھا وہ اللّه کے قریب ہو جا ئے “
ساری آوازیں بند ہو چکی تھیں
اس کا دماغ تاریکی اور خاموشی میں پناہ لے چکا تھا ![]()
واپسی کا سفر شروع ہو چکا تھا ![]()
![]()
افسوس کی پہلی سیڑھی پہ
قدم رکھتے ہی
زندگی کا نقش
الٹ سا جاتا ہے
جیسے تصویر کے 2 رخ ہوتے ہیں
ایک رنگین تو اک سیاہ
پچھتا ؤں کا سفر بھی
تصویر کا سیاہ رخ ہی ہوتا ہے ![]()
![]()
**********************
اسکا ایکسیڈنٹ ہوا تھا
سامنے سے آتے ٹرک نے اسے بری طرح سے کچل دیا تھا
اس کا خون بہت تیزی سی بہہ رہا تھا
ہسپتال کے کو ریڈور میں بھاگتے لوگ لگتا تھا خود بھی اپا ہج ہو گئے ہیں
ملک توقیر کو ڈاکٹر نے کچھ کاغذ تھما تے ہو ئے کہا
ملک صاحب آپ کی بیٹی کی حالت بہت نازک ہے کا دماغ کافی حد تک متا ثر ہو چکا ہے ہم اس کا آپریشن تو کر رہے ہیں لیکن ہم آپ کو زیادہ امید نہیں دلا سکتے
50/ 50 چانسز ہیں ہم بہت بڑا رسک لینے جا رہے ہیں
اگر ہم کا میاب ہو بھی گئے تو بھی
کچھ باتیں میں پہلے کلئیر کر دینا چاہتا ھوں
ان کی یاداشت بھی متاثر ہو سکتی ہے
ان کے دماغ کے کچھ حصے کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں جس سے وہ اکثر کچھ بھول جایا کریں گی
ان کا دماغی توازن بھی بگڑ سکتا ہے
وہ کوما میں بھی جا سکتی ہیں
اور اگر دماغ کا بچا کھچا حصہ بھی کام کرنا چھوڑ گیا تو ان کی موت بھی ہو سکتی ہے
ملک صاحب کو لگا کسی نے ان کا دل مٹھی میں لے لیا
ان کا دل ڈوب کر ابھرا
انہوں نے سارا حوصلہ جمع کر کے ہاتھ آگے بڑھا یا
جو بھی ہوگا دیکھا جا ئے گا ڈاکٹر صاحب آپ آپریشن کریں
آج وہ واقع نینا ملک کے باپ بن کر بول رہے تھے
انہوں نے کاغذ تھا مے
کہاں سا ئن کرنے ؟
انہوں نے دل کڑا کر کے سا ئن کر دیے
اور بینچ پر بیٹھ گئے
اولاد کا دکھ ماں باپ کی کمر توڑ دیتا ہے ![]()
![]()
سب دعا میں مصروف تھے
لیکن کچھ دعا ئیں عرش سے واپس لوٹ آیا کر تی ہیں ![]()
![]()
![]()
*********************
صحن کے بیچو بیچ اسکی میت رکھی تھی
جس کے ارد گرد سب لوگ بیٹھے رو رہے تھے
اس کی ماں سر ہا نے بیٹھی رو رہی تھی ![]()
وہ ایک ایک کے قریب جا کر ان کو متوجہ کر رہی تھی
لیکن کوئی بھی اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا
پھر وہ اپنی مما کے پاس جا بیٹھی
مما دیکھیں ادھر یہاں ھوں میں مما
وہ مما کو بلا بلا کر تھک گئی پر وہ اس کی طرف دیکھ ہی نہیں رہیں تھیں
پھر اس کی میت اٹھا لی گئی
اسے بہت دیر میں سمجھ آیا کہ وہ مر چکی ہے ![]()
اب میت آگے آگے تھی اور وہ پیچھے پیچھے چل رہی تھی
اچانک ہی ہلکی آندھی چلنے لگی
اسے اس پل بے حد خوف محسوس ہوا
وہ اتنی دہشت زدہ ہو گئی کہ اس سے چلا نہیں جا رہا تھا ![]()
![]()
وہ سوچ رہی تھی
میں مر چکی ھوں اب میرا کیا ہوگا ؟
میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے
کوئی اچھے ا عمال نہیں ہیں کوئی نیکیاں نہیں ہیں
اب میں کیا کروں گی
اس نے زمیں پر ہاتھ مارا اس کے ہاتھ مٹی سے بھر گئے
اس نے اپنے سامنے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا ئے
میرے ہاتھ تو خالی ہیں اب ؟
اب میں کیا کروں گی ؟
وہ سارا ماحول کچھ ایسا دہشت ناک تھا کہ اسے لگا اس کا دل پھٹ جائے گا
نا ہی اسے کوئی عذاب دیا جا رہا تھا
نا ڈرا یا جا رہا تھا
نا کچھ اور لیکن اس سب میں ایک عجیب دہشت تھی ایک عجیب سی وحشت اور خوف تھا ![]()
اس نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کو اٹھا ئے
یا اللّه میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے
میں نے تو کوئی نیک کام بھی نہیں کیا
یا اللّه اب میرا کیا ہوگا ؟
وہ اپنی عادت کے مطابق اللّه سے محو کلام تھی
یا اللّه مجھے ایک موقع اور دے دیں
پلیز اللّه جی ![]()
مجھے مہلت دیں
مجھے موقع دیں
اب میں اچھے کام کروں گی ![]()
اب میں آپ کی کوئی نا فرما نی نہیں کروں گی
پلیز اللّه جی ایک بار بس ایک بار ![]()
![]()
اچانک ایک تیز روشنی نے اس کی آنکھیں چندھیا گئی ہر شے ختم ہو چکی تھی ![]()
![]()
