Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 3
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 3
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
وہ بیڈ پر الٹی ہو کر منہ تکیے میں دیے لیٹی تھی جب بھیا اسے آوازیں دیتے کمرے میں آئے اس نے اکتائے ہوئے انداز میں کمبل مزید اوپر لپیٹ لیا
نینا”
بھیا نے اسے پکارا
سنا ہے کل تو میری بہن نے بہت جنگ لڑی ہے
وہ اس کے چہرے سے کمبل ہٹاتے ہوئے بولے
نا کریں نا بھیا
اب آپ بھی مجھے باتیں سنانے آئے ہوں گے
نینا نے برا سا من بنایا ۔
ارے نہیں یار
میں کیوں باتیں سناؤں گا میں تو شاباش دینے آیا ہوں
کیا سچ میں
وہ جھٹ سے اٹھ بیٹھی
ہاں نا
بھیا پاس بیٹھے
کل سے تم واحد انسان ہو جو یہ بول رہے ہو قسم سے
ورنہ سب نے ہی باتیں سنائی ھیں مجھے
بچہ اگر تم سہی ہو تو تمہیں کسی کی باتوں کی پرواہ نہیں کرنی۔
ایک بات یاد رکھنا نینا
ہمیشہ سہی کا ساتھ دو اور اگر تم سہی ہو تو کوئی بھی خلاف کھڑا ہو پرواہ مت کرو
کیونکہ جو حق پہ ہوتا ہے اس کے ساتھ اللّه ہوتا ہے
اور جس کے ساتھ اللّه ہو اس کے ساتھ کوئی اور ہو یا نا ہو کوئی فرق نہیں پڑتا
بھیا نے مسکرا کر اسکا کندھا تھپکا
تھینک یؤ بھیا
چلو اب اٹھو ہم سب پیزا کھانے جا رہے ھیں
واؤ ابھی آئی میں
وہ فٹا فٹ تیار ہونے بھاگی
اس کے بھیا ایسے ہی تھے
اسے یاد تھا بچپن میں جب ایک لڑکے نے اسے مارا تو وہ روتے روتے بھیا کے پاس گئی
تو بھیا اسکے ساتھ باہر آئے اور پوچھا کون سے لڑکے نے مارا ہے ؟
تو اس نے بتایا اور انتظار کرنے لگی کہ ابھی بھیا اس لڑکے کو پیٹیں گے اور وہ تالیاں بجائے گی پر بھیا اس لڑکے کو پکڑ کر اس کے پاس لا ئے اور اس سے کہا نینا مارو اسے
جیسے اس نے آپ کو مارا
تو اس نے بھی ہمت کر کے لڑکے کو تھپڑ مارا اور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کے بال کھینچے ۔
اور وہ لڑکا بھاگ گیا
اور وہ رونا بھول کر بے حد خوش ہو گئی تھی
تب بھیا نے اس کے ہاتھ پکڑے اور اس کے سامنے بیٹھ کر اسے سمجھایا
” نینا ہمیشہ خود پر بھروسہ رکھو ہر وقت ہماری مدد کے لیے کوئی نہیں ہوتا اس لئے اپنی مدد کرنا خود سیکھو تم کمزور نہیں ہو تم نازک ہو تو یہ بات تمہاری کمزوری نہیں ہے خود کو مضبوط بناؤ
اور ہمیشہ سہی کرو اگر بات آپ کے بس سے باہر ہو تب کسی دوسرے سے مدد مانگو پر جہاں تک ہو سکے اپنی مدد خود کرو “
اور اس نے بھیا کی یہ بات پلو سے باندھ لی
اور اس کے بعد اس نے کبھی خود کو کمزور نہیں سمجھا
*********
آدھی رات کا وقت تھا جب شاہ کی آنکھ کھل گئی اس نے بیڈ پہ اپنے پہلو میں دیکھا کچھ دیر بعد اس نے دھیرے سے بیڈ پے اس جگہ ہاتھ پھیرا جہاں وہ سویا کرتی تھی اس کی آنکھوں میں ماضی کا ایک منظر لہرایا
شاہ …..
اٹھو نہ شاہ
نا جانے رات کا کونسا پہر تھا وہ شاہ کو جگانے میں لگی تھی
اٹھو نا
وہ اسکا بازو پکڑ کر ہلاتے ہوئے بولی
اووں کیا ہے یار
شاہ کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری ۔
مجھے بھوک لگی ہ
جان شاہ نے معصومیت سے کہا
اف ٹائم دیکھو یار
یہ کوئی ٹائم ہے بھوک کا
شاہ نے بازو آنکھوں پہ رکھا
بھوک کا بھی بھلا کوئی ٹائم ہوتا ہے
جان شاہ نے برا سا منہ بنایا
صبح کھا لینا سو جاؤ
شاہ نے کروٹ لی
نہیں مجھے ابھی کھانے ہیں
پکوڑے اور وہ بھی تم بناؤ گے
واٹ
شاہ کو جیسے شاک لگا تھا
ہاں
اس نے سکون سے کہا
مجھے نیند آ رہی ہے سونے دو یار
شاہ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے بھوک سے
اس نے اتنی مسکین صورت بنائی کہ
شاہ کو اس پے ترس کے ساتھ ساتھ پیار بھی آگیا
اچھا چلو چلتے ہیں
وہ کمبل ہٹا کر اٹھ کھڑا ہوا
وہ بھی خوشی خوشی اس کے ساتھ ہو لی
ویسے تم بہت ہی ظالم حسینہ ہو
شاہ پکوڑے بنانے میں مصروف تھا
اور وہ سٹول پر بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی
وہ کیوں بھلا
میں نے کونسا ظلم کر دیا
یہ ظلم ہی ہے آدھی رات کو مجھ معصوم سے اتنی محنت کروا رہی ہو
شاہ نے پلیٹ میں پکوڑے نکالتے ہوئے برا سا منہ بنایا
ہاہا ہاہاہا جان شاہ نے فلک شگا ف قہقہہ لگایا
معصوم اور تم
بس بس رہنے دو
وہ کیا ہے نہ تم مرد ہو نا مضبوط ہو
طاقت ور ہو
تم میں زیادہ ہمت ہے
میں عورت ہوں کمزور ہوں یہ اتنا مشکل کام مجھ سے نہیں ہونا تھا نا
اس نے جیسے شاہ کو چڑا یا
کس نے کہا عورت کمزور ہوتی ہے ؟
شاہ نے مڑ کر اسے دیکھا
تو کیا نہیں ہوتی ؟
اس نے الٹا سوال کر دیا
عورت بہت مضبوط ہوتی ہے
مرد سے زیادہ عورت میں ہمت ہوتی ہے
وہ کیسے ؟
وہ دلچسپی سے شاہ کو دیکھنے لگی
عورت بڑے بڑے مردوں کو اپنے سامنے گھٹنوں پہ بیٹھنے پہ مجبور کر دیتی ہے
وہ مرد کو اپنے سامنے جھکا لیتی ہے
طاقت سے نہیں
محبت سے
اور جتنی ہمت سے عورت سہتی ہے
کوئی مرد نہیں سہہ سکتا
پھر چاہے وہ تکلیف ہو ،درد ہو ،اذیت ہو
ویسے تم پہلے مرد ہو جو یہ مان رہے ہو
شاہ کی بات ختم ہونے پر اس نے اسے چھیڑا
ہاں جی میں تو ہوں بیبہ بچہ
شاہ نے کالر جھاڑے
پر پھر بھی تم مجھ پہ ہمیشہ ظلم ہی کرتی ہو ؛
اچھا نا چلو پکوڑے تم بنا لو چائے میں بنا لونگی
پھر دونوں مل کر کھائیں گے
اس نے بچوں کی طرح اسے بہلایا
واہ واہ بڑی سیانی ہو تم
مشکل کام مجھ سے کروا لیا آسان تم کرو گی
ہاں نا
ہٹو اب چائے بنانے دو
وہ بازو سمیٹ کر اٹھی
میڈم چائے بنانی ہے
لڑنا نہیں ہے
شاہ ایک بات بتاؤ
اگر میں تمہا ری لائف میں نا رہوں
تو کیا تمہاری لائف پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا ؟
نا جانے کیوں اس نے پوچھا تھا
شاہ جھٹکے سے رکا تھا
کچھ بھی بولتی رہتی ہو
تم کہیں نہیں جاؤ گی
میری لائف سے
میرے ساتھ رہو گی
آخری سانس تک ۔
شاہ نے اس کا ہاتھ تھاما مضبوطی سے
اور ہاں اگر آئندہ ایسی بات کی تو ۔۔۔۔۔۔
تو اس نے کانچ جیسی آنکھیں گھمائیں
تو میرے ہاتھ کے بنے پکوڑے میں اکیلا کھاؤں گا
وہ اس سے پلیٹ لے کر بولا
وہ ہنس دی اوکے کبھی نہیں کہوں گی
پکوڑے ادھر لاؤ
اور شاہ اس کے انداز پہ بے اختیار ہنس پڑا
کہیں دور تہجد کا اعلان ہو رھا تھا
وہ حال میں لوٹ آیا
اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ کے ساتھ آنکھوں میں نمی بھی چمک رہی تھی
وہ اٹھا وضو کرنے چل دیا اسے اپنے اللّه سے ملنے جانا تھا
**********
ڈائٹنگ ٹیبل پر اس وقت سب لوگ موجود تھے شاہ بیٹا کھانا کھاؤ
پاپا نے اسے بے تجہی سے چمچ سے کھیلتے دیکھ کر آواز دی
جی پاپا
اس نے خاموشی سے کھانا کھانا شروع کیا
رمیز شاہ نے فکر مندی سے اسے دیکھا
وہ اپنے بیٹے کو ان نا خوشگوار یادوں سے دور یہاں لے تو آئے تھے پر وہ پھر سے دیکھ رہے تھے وہ پھر سے اپ سیٹ لگتا تھا ۔
شاہ بیٹا کھانے کے بعد میرے کمرے میں آنا ذرا
دادا جان اٹھتے ہوئے بولے
جی دادا جان آتا ہوں
وہ بھی اٹھ کر پیچھے گیا
بیٹا ذرا میرے پاؤں تو دبا دو
دادا جی نے فرمائش کی شاہ مسکرا دیا
جی دادا جان ضرور
وہ ہمیشہ سے شاہ سے یہ فرمائش کرتے اور وہ پوری کرتا یہ ان کی محبت کا انداز تھا
شاہ بیٹا آپ کچھ پریشان لگتے ہو ؟
دادا جی نے بغور اسے دیکھا
نہیں تو دادا جان
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے
بیٹا مانا کہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں پر میری نظر اب بھی اتنی تو تیز ہے کہ اپنے بچوں کے چہرے پڑھ سکو”
وہ جواب میں کچھ دیر خاموش رھا
دادا جان جیسا کہ آپ جانتے ہی ھیں کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے
میرا مشن کیا ہے
ا ور میں اللّه سے کیا اپنا وعدہ نبھا بھی رھا ہوں
لیکن ۔۔۔۔۔۔
دادا جی کی سوالیہ نظریں اٹھی
لیکن ؟
اگر آپ کے سامنے کوئی ایسا آجائے جس سے آپ اپ سیٹ بھی ہوں لیکن آپ کو اپنا فرض بھی نبھانا ہو
تو کیا کرنا چاہیے ؟
اب اس نے سوالیہ نظروں سے دادا جی کو دیکھا “دیکھو بیٹا غلط کا ساتھ دینا یہ غلط راستے پر چلنا بہت آسان ہوتا ہے
لیکن سہی کرنا ا ور سہی کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے
ا ور اگر تم سہی کرنے کا ارادہ کر چکے ہو تو تمہیں چوٹی موٹی مشکلا ت سے گھبرانا نہیں چاہیے تمہیں یقین ہے نہ کہ تم سہی کرنے جا رہے ہو ؟
ا ور کسی کا بھلا کر رہے ہو ؟
جی دادا جان بالکل
اس نے سر ہلایا
تو بیٹا پھر صرف اپنے مقصد پر دھیان دو
اپنی پریشانی کو ہرانا سیکھو اور ذہن میں بس یہ رکھنا کہ تم یہ اللّه کے لئے کر رہے ہو
دیکھنا سب آسان ہو جائے گا
اس نے سر ہلایا ایک بہت بڑی الجھن حل ہو چکی تھی
**********
وہ نماز پڑھ کر آیا تو وہ اسے نظر آئی
ویسی ہی لا پرواہ سب کے ساتھ الٹی سیدھی حر کتیں کرتی
اس کی نظروں کا زاویہ جان کر زین نے اسے ٹوکا
وہ ایسی ہی ہے
کیا وہ نماز نہیں پڑھتی ؟
شاہ پوچھے بنا نا رہ سکا اس نے کبھی اسے نماز کے لئے جاتے نہیں دیکھا تھا
نہیں میں نے تو کبھی نہیں دیکھا
زین نے کندھے اچکائے
ھمم شاہ نے ہنکارہ بھرا
اسے کچھ نا کچھ تو کرنا ہی ہوگا
شاہ تم اس پہ دھیان مت دیا کرو
وہ تمہارے لئے جتنی تکلیف کا باعث ہے اس سے زیادہ مت بناؤ اسے
زین نے اسے سمجھایا
وہ شاہ کا بیسٹ فرینڈ تھا اور وہ اپنے دوست کا بھلا ہی چاہتا تھا “میں ٹھیک ہوں زین “
شاہ نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
پر وہ دو کانچ جیسی آنکھیں اسے اندر سے کتنا ڈسٹرب کر رہی تھیں
زین اچھی طرح سے جانتا تھا
