Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 24

339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 24

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah

وہاں ہر طرف اندھیرا تھا

ایک گہری تاریکی

اور سناٹا

ایک گہرا سکوت

رگوں میں خون جما دینے والا جمود

اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا

اچانک پانی اس کے گلے تک پہنچ گیا

یوں جیسے وہ پانی میں میں گر گئی ہو

جیسے وہ کسی گہرے کنویں میں گری تھی

پانی اس کی ناک اور منہ سے ہوتا پھیپھڑوں تک پہنچ گیا تھا

وہ بری طرح سے ہاتھ پیر مار رہی تھی

لیکن اسے کہیں کوئی سہارا نہیں ہاتھ آ رہا تھا

وہ چلا نا چاہتی تھی لیکن اس کی آواز کہیں پانی میں ہی دب گئی تھی 💔

اس کی آنکھ کھل گئی

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے چھت کو دیکھ رہی تھی

اسے سخت پسینہ آ رہا تھا

اس نے اٹھنے کی کوشش کی

پانی کا ذ ائقہ اس کے منہ میں ابھی تک تھا

اس نے اپنی ناک کو چھوا

اس کی ناک گیلی ہو رہی تھی

اس نے بے اختیار ہی جھر جھر ی لی

کیا یہ خواب تھا ؟

نینا نے خود سے سوال کرنے لگی

میں کونسے کنویں میں گر نے جا رہی ہوں ؟

وہ سوچنے لگی

کبھی کبھی اللّه ہمیں بچانا چاہتا ہے

لیکن ہم خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیتے ہیں اور بیشک ہم سے بڑا نا سمجھ کوئی نہیں ہے 💔✌

**********************

لیکچر کے دوران بھی اس کا ذہن انہی سوچوں میں گڈ مڈ تھا اس نے غائب دما غی سے لیکچر اٹینڈ کیا

لیکچر کے بعد وہ شاہ کے ڈ یپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئی

ڈھونڈنے پر بھی وہ اسے کہیں نا ملا تو وہ مایوس ہو کر واپس لوٹ آئی

اسے سجیلہ سے ملنا تھا

وہ خود کو بہت ڈپریس محسوس کر رہی تھی

اسے اپنی حالت پریشان کر رہی تھی

وہ کبھی بھی ایسی نہیں تھی کیا ہو گیا تھا اسے

وہ خود کو جتنا سنبھالنے کی کوشش کرتی اور اس دلدل میں پھنستی چلی جاتی

یہی سوچتی وہ سجیلہ تک آئی

وہ اپنے کمرے تھی آنٹی کے بتانے پر وہ وہیں چلی آئی

دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی نینا کی پہلی نظر ہی اس پر پڑی تھی

کمر ے میں اندھیرا تھا دن میں بھی رات کا سماں لگ رہا تھا

پردے گرا ئے لائٹس آف کیے وہ صوفے کی ایک سرے پر دونوں گھٹنو ں کے گرد بازو لپیٹے گھٹنے پہ تھوڑی ٹکا ئے خاموش بیٹھی تھی 💔

نینا کی آہٹ پر بھی اس نے سر نہیں اٹھآیا

نینا آہستہ سے اس کے قریب بیٹھ گئی چپ چاپ

وہ اس کی بچپن کی دوست تھی

وہ اس کی رگ رگ سے واقف تھی

وہ جانتی تھی اس وقت اسے سجیلہ سے کچھ کہنے کی نہیں سننے کی ضرورت تھی

کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے

تمہیں پتہ ہے نینا

وہ میری دوست سے بات کرتا رہا اور اسے میرے بارے میں بہت کچھ کہتا رہا

وہ شاید اس کی دوست سے کچھ زیادہ تھی

شاید مجھ سے بھی زیادہ 💔

اس کی سما عت سے سجیلہ کی آواز ٹکرائی

وہ گر دن موڑ کر اندھیرے میں اسے دیکھنے لگی

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسد ایسا نکلے گا میری تو اس سے چیٹ پر بات ہوتی تھی

وہ کتنا اچھا تھا بات چیت میں تو

وہ اصل میں ایسا ہوگا مجھے نہیں پتہ تھا

اس نے میرا بہت دل دکھایا

اس نے نرمی سے سجیلہ کے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھا

تم ٹھیک کہتی تھی نینا ……

محبت صرف دکھ دیتی ہے 💔

نینا کو لگا وہ رو رہی ہے

محبت واقع دکھ دیتی ہے 💔

نینا نے ٹو ٹے لہجے میں کہا

سجیلہ آج کل اپنے ہی مسلوں میں الجھی تھی وہ نینا کی حالت سے بے خبر تھی

میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ سب ایسے ہوگا

سجیلہ نے سر اٹھایا

ہم جیسے لوگوں کو واقع محبت نہیں کرنی چاہیے 💔

کیونکہ ہم جیسے لوگ ہر چیز کی انتہا پہ پہنچ جاتے ہیں

محبت کی بھی سجیلہ نے کہتے ہوئے سر اس کی طرف موڑا

نینا نے اسکا درد اپنے دل میں محسوس کیا

مجھے ڈر ہے اس وقت کا جب ہم اس انتہا سے نیچے گریں گے 💔

نینا کی آواز میں لرز ش تھی

وہ سجیلہ کو بتا نا چاہتی تھی اپنے بارے میں اپنی تکلیف کے بارے میں پر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے

اور کچھ درد ہمیں اکیلے ہی جھیلنے ہوتے ہیں کیونکہ کچھ فیز ایسے ہوتے ہیں جن میں ہمیں بچانے کوئی نہیں آتا 💔✌

**********************

گھر آ کر وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئی

اس نے دروازہ بند کیا

اور موبائل نکال کر ایک نمبر ملانے لگی

بیل جا رہی تھی لیکن کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا

آخر اس نے میسج کیا

فون اٹھاؤ شاہ مجھے ضروری بات کرنی ہے

اب کی بار فون اٹھا لیا گیا تھا

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد نینا نے پوچھا کیسے ہو ؟

“ٹھیک ہوں “

شاہ نے مختصر جواب دیا

ابھی تک ناراض ہو ؟

نینا نے آہستہ سے پوچھا

وہ چپ رہا

آئ ایم سوری …..

نینا نے اپنی خود داری کو کوڑے دان میں ڈالااسے شاہ چاہیے تھا بدلے میں کچھ بھی چلا جاتا اسے پرواہ نہیں تھی

ٹھیک ہے

شاہ نے کہا پر انداز اب بھی روکھا سا تھا

یونیورسٹی بھی نظر نہیں آئے کہاں تھے ؟

نینا نے بات بڑھا نی چاہی

کہیں نہیں

شاہ نے پھر مختصر کہا

اچھا

نینا خاموش ہو کر سوچنے لگی اب کیا کہوں کیا کر رہے ہو ؟

جب کچھ نا سوجھا تو نینا نے یہی پوچھ لیا

کچھ نہیں

شاہ نے بات ختم کرنے والے انداز میں کہا

وہ لب کاٹنے لگی اب کیا کہے

تم کتنے بدل گئے ہو شاہ

نینا نے آہستہ سے کہا

اف پھر سے نا شروع ہو جانا تم ہاں

شاہ جھنجھلایا

نینا کی کانچ جیسی آنکھیں پانی سے بھر نے لگی

اسے یاد آیا کیسے وہ اس کے لاڈ اٹھا یا کرتا تھاوہ ناراض ہوتی تو اسے مناتا ❤

اسے پیار سے ہر بات سمجھاتا

اس کے نخرے اٹھا تا

پتہ نہیں وہ شاہ کہاں کھو گیا تھا

بدلہ تو ابھی میں نہیں ہوں یہ تو صرف ایک ٹریلر ہے اگر میں بدل گیا تو تم بہت پچھتا ؤگی نینا ملک اور پھر میں خود بھی چاہ کر بھی اپنے آپ کو ڈھونڈ نہیں پاؤں گا 💔

شاہ کی آواز اسے واپس حال میں لے آئی تھی

مت کرو شاہ

اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا

اسے بے اختیار یاد آیا

جب ایک دن وہ شاہ سے ناراض ہو کر رو دی تو شاہ نے اس کا آنسو اپنی انگلی کی پو ر پر سمیٹ لیا تھا اور کہا تھا

یہ آنسو بہت قیمتی ہیں ان کو ضائع مت کرو

اور آج اس کے آنسو مٹی میں رل رہے تھے 💔

ایسا مت کرو شاہ پلیز شاہ ایسا مت کرو میرے ساتھ میں اپنی ساری غلطیوں کی معافی مانگتی ہوں تم سے میں تمہیں پریشان نہیں کروں گی

میں تمہیں تنگ نہیں کرونگی میں کچھ بھی نہیں پوچھوں گی

کوئی روک ٹوک نہیں کروں گی

مجھے میرا شاہ واپس لوٹا دو

پلیز شاہ مجھے میرا شاہ واپس چاہیے

میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی 💔😥

وہ پتہ نہیں کیا کچھ کہے گئی

وہ بری طرح سے رو رہی تھی

اور دوسری طرف خاموشی چھا گئی

کیوں کر رہے ہو ایسا آخر تم چاھتے کیا ہو ؟

جب وہ کچھ نا بولا تو وہ روتے ہو ئے پوچھنے لگی

” تمہیں “

دوسری طرف سے آرام سے کہا گیا

اسے خوش گوار سی حیرت نے آن گھیرا

اس نے آنسو صاف کر ک موبائل کو دیکھا

کیا کہا ؟

نینا نے پھر پوچھا

میں نے کہا تمہیں چاہتا ہوں

اور اب یہ رونا دھونا بند کرو پلیز

شاہ نے سکون سے کہا

وہ تو جیسے اپنے سارے دکھ . درد شکایات سب بھول گئی تھی

تم سچ کہہ رہے ہو نا ؟

اس نے بچوں کی طرح یقین دہانی چاہی

ہاں بالکل سچ

اب فون بند کرو مجھے کام سے جانا ہے بعد میں بات کرتا ہوں

شاہ نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا

شام تک آجاؤ گے نا ؟

نینا نے پوچھا

ہاں آجاؤں گا

اس نے اللّه حافظ بول کر فون رکھ دیا

وہ کتنی ہی دیر موبائل کو دیکھے گئی

اس سے خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی

آج کتنے دن بعد شاہ نے اس سے اس طرح سے

پیار سے بات کی تھی ❤

اس کا دل چاہ رہا تھا وہ جھو منے لگے

اتنے دن جو اس نے تکلیف جھیلی تھی وہ سب بھول گئی ❤

اس نے خود کو ملامت کی

وہ بھی نا کچھ بھی سوچتی رہتی ہے

یونہی غصہ کرتی ہے

فالتو میں جھگڑا کرتی ہے

اسے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا

میں نے شاہ کو بہت تنگ کیا

اچھا اب میں ایسا کچھ نہیں کروں گی

جس سے کوئی بھی پروبلم ہو

جس سے شاہ ناراض ہو

غصہ ہو

بس اب میں اسے کسی بات سے نہیں روکوں گی

اب میں اسے کسی معاملے میں نہیں ٹو کوں گی

اب میں اس سے کچھ بھی نہیں پوچھوں گی

اب میں اس سے ٹائم نہیں مانگوں گی

اب میں اسے بالکل بھی تنگ نہیں کروں گی

اب میں اس سے کوئی شکایت نہیں کروں گی

اب لڑائی نہیں کروں گی غصہ نہیں کروں گی کیونکہ میں شاہ کو کھونا نہیں چاہتی

وہ جیسے خود کو تاکیدیں کر رہی تھی خود کو سمجھا رہی تھی اپنے مزاج کے خلاف

اپنے اندر کی انا ،خود داری ،اکڑ ،اپنا غصہ ،ضد ہر چیز ایک انسان کے لئے چھوڑنے کو تیار تھی وہ ❤

وہ جیسے باقی ساری دنیا کو بھول گئی تھی

اسے کبھی کبھی خود بھی حیرت ہوتی کوئی کسی کو اتنا بھی چاہتا ہے بھلا 🤔🙄

اسے اب ایک خاکی انسان چاہیے تھا

وہ جو اللّه سے اللّه کو مانگا کرتی تھی

اسے خبر ہی نا ہوئی کب وہ اللّه سے اللّه اور اللّه کی محبت کو چھوڑ کر ایک انسان کو مانگنے لگی

اس کی ہر سانس اب بس شاہ کے نام کا ورد کرتی

اور وہ ہر پل رب سے شاہ کو مانگتی رہتی 💔

اور آز مائش تو پھر من پسند چیز سے ہی شروع ہوتی ہے ❤✌

*********************

انسپکٹر توصیف کی اسے کال آئی تھی

سلام دعا کے بعد اس نے کہا

اسد نے جو کیا۔

کیا تمہیں نہیں لگتا کہ ہمیں اس سے کچھ حساب کتاب برابر کرنا چاہیے ؟

ہاں کیوں نہیں انسپکٹر ہمارا اس سے حساب کتاب چکتا کرنا بنتا ہی ہے ❤

اس نے معنی خیز انداز میں کہا

لیکن کیا ہے کہ سجیلہ نے مجھ سے زبان لی ہے کہ ہم اس منحو س انسان کو کچھ نہیں کہیں گے 🙄😏

نینا نے برا سا منہ بنایا

تو کیا ہم اسے ایسے ہی چھوڑ دیں گے ؟

جبکہ یہ ہمارے اصول کے خلاف ہے

توصیف نے اسے یاد دلایا

ہاں پر تم جانتے ہو ہم زبان دے کر اس سے بھی نہیں مکرتے

اس نے یاد دلایا

تو اب کیا کیا جا ئے ؟

توصیف نے ٹھہر کر کہا

تم نظر رکھو اس پہ توصیف

جب بھی موقع ملا ہم اس سے حساب برا بر کریں انشاءللہ ❤

نینا نے اسے تاکید کی

وہ اس کی بات سمجھ کر مسکرایا

اتنا تو وہ اسے جان ہی چکا تھا

وہ بخشنے والی نہیں تھی ہاں موقعے کا انتظار ضرور کرتی تھی وہ

دو چار اور رسمی باتوں کے بعد اس نے کال کٹ کر دی

وہ سوچ رہی تھی سجیلہ کتنی ہمت والی ہے کہ اس نے اتنا بڑا فیصلہ لے لیا اور وہ خود 💔

کتنی کم ہمت ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ تو دور

وہ ایسا کچھ سوچ بھی نہیں پا رہی تھی

وہ اپنی زندگی کو شاہ کے بغیر جینے کا اب تصور بھی نہیں کر سکتی تھی

اور نا ہی کرنا چاہتی تھی❤

**********************

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھائی جان 😯

ایسا کیسے ہو سکتا ہے

اتنا بڑ ا نقصان ایسے کیسے ایک دم سے آپ لوگوں نے مجھے پہلے تو کچھ بھی نہیں بتا یا تھا

وہ جو پاپا کی آواز سن کر باہر آئی تھی

بھیا اور مما بھی پریشان سے ان کے پاس آگئے تھے

وہ بھی پاس آگئی

آپ لوگ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے

اب کی بار پاپا کی آواز خاصی بلند تھی

سب لوگ ان کو دیکھ رہے تھے

فون بند کر کے وہ صوفے پہ گرنے کے انداز میں بیٹھے

کیا ہوا پاپا ؟

بھیا نے پوچھا

مما نے بھی پوچھا

ہمیں بز نس میں بہت بڑا نقصان ہوا ہے ہم کنگا ل ہو گئے پاپا نے پریشانی سے سب کو دیکھا

آپ حوصلہ رکھیں سب اچھا ہوگا مما پانی لے کر ان کی طرف بڑھیں

لیکن یہ سب ہوا کیسے پاپا ہمیں کسی نے بھی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا

بھیا پاپا کے قریب بیٹھے

یہی تو سمجھ نہیں آ رہی بیٹا

ضرور کہیں نا کہیں گڑ بڑ ہے

پاپا نے پانی لے کر گلاس سائیڈ پر رکھا

اب ہم کیا کریں گے پاپا ؟

نینا جو سب خاموشی سے سن رہی تھی پوچھنے لگی

پتہ نہیں

دیکھتے ہیں میں جاتا ہوں بھائی جان کی طرف

پاپا جانے کو اٹھے

میں بھی ساتھ چلتا ہوں پاپا

بھیا بھی پاپا کے پیچھے ہو لئے

اور وہ وہیں کھڑی سوچتی رہی اب آگے کیا ہونے والا ہے 💔🙄

*********************

ان دونوں کے بیچ بظا ہر پھر سے سب ٹھیک ہو چکا تھا

لیکن اب بھی اسے بس حسر ت ہی تھی کہ اسے پرانا والا شاہ ملے

وہ اکثر اب اس سے سامنا کرنے سے کتراتا

وہ میسج کرتی تو بہت دیر بعد جواب آتا

وہ جو خود اسے میسج کرتا رہتا تھا اب سب الٹ ہو چکا تھا

اب نینا خود اسے میسج کرتی اور وہ نخروں سے اپنی مرضی سے گھنٹوں بعد جواب دیتا

عموماً وہ رات کو جواب دیتا وہ سا را دن انتظار کرتی رہتی

رات کو جواب آتا تو وہ بے چینی سے اس سے بات کرنے کی منتظر ہوتی لیکن وہ 2/ 4 میسج کر کے کسی نہ کسی بہانے سے غائب ہو جاتا 💔

نماز کےلئے بھی اب اکثر وہ خود ہی اسے میسج کر لیتی

اس نے شاہ کا پورا گروپ سنبھال لیا تھا

نینا نے شاہ کو اپنے ایک پیج پر ایڈمن بنایا تھا

وہ اس کا اسلامی پیج تھا

پر اب وہ وہاں بھی نہیں آتا تھا

وہ گھنٹوں آن تو ہوتا لیکن نہ ہی گروپ میں آتا اور نہ ہی پیج پر نہ اس سے بات کرتا

پر پھر بھی چپ تھی خود سے کیے عہد کے مطا بق وہ اس سے کوئی سوال نہ کرتی

اس سے کوئی جواب نہ مانگتی

اس پہ غصہ نہ کرتی

اس سے کچھ نہ پوچھتی نہ کہتی

اسے امید تھی کہ شاید وہ لوٹ آ ئے اس کا پہلے والا شاہ بن کر

وہ اس میں اپنے پہلے والے شاہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی

پر وہ بھول گئی تھی کہ جو کھو جائیں ان کو تو ڈھونڈا جا سکتا ہے پر جو بدل جا ئیں ان کو کیسے ڈھونڈا جا ئے 💔

**********************

قسمت ان سے روٹھ چکی تھی

پاپا اپنے 2 بھائیوں کے ساتھ مل کر بز نس کر رہے تھے ان میں سے ایک بھائی ماموں جان کا قریبی دوست تھا

زوہا کی طلاق کے بعد ان لوگوں نے مل کر نہ جانے کیا پروپگنڈہ کیا کہ پاپا کو ان لوگوں نے دو دھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا تھا

اور ان کے شئیرز بھی ہڑپ کر لئے

پاپا کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا

ان کو انجائنا کا اٹیک آیا تھا

وہ سب جیسے راتوں رات دیوا لیہ ہو گئے تھے

ان کے پاس لے دے کے بس یہی بڑا سا گھر آن بچا تھا 💔

ملک توقیر کے پاس بہت پیسہ تھا

انہوں نے 14 سال سعودیہ عرب جیسے ملک میں بزنس کیا تھا

وہ پیسوں میں کھیلتے تھے

وہ لڑکپن میں ہی سعودیہ گئے تھے اور وہاں دن رات محنت کر کے انہوں نے عزت اور پیسہ کما یا پھر واپس آ کر شادی کی پھر سعودیہ چلے گئے جب وہاں انہوں نے اپنا بز نس سیٹ کر لیا ان کے پاس اس قدر پیسہ ہو گیا کہ وہ بیڈ پر نوٹوں کی گڈ یاں بچھا کر اس پر گدا رکھ کر سوتے تب وہ اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو ساتھ لے گئے

کچھ سال وہ لوگ وہاں رہے

اس بیچ ان لوگوں نے حج کی سعا دت بھی حاصل کی

اور یہ سعا دت حاصل کرنے والوں میں نینا بھی شامل تھی ❤

اس نے 2 حج کیے لیکن اس وقت وہ کم سن تھی وہ اپنی اس خوش قسمتی پر پوری طرح سے شکر گزار بھی نہیں ہو سکی اس وقت اس کو اس عنایت رب زلجلال کا صحیح اندازہ ہی نہیں تھا

لیکن پھر اچانک ہی نینا کی مما بیمار پڑ گئیں تو ان لوگوں کو واپس آنا پڑا

پاکستان آ کر وہ لوگ مما کا علاج کرواتے رہے

پاپا تب بھی وہیں تھے

جب ان کے بھائیوں نے مما کے ساتھ ان کے بچوں کو بھی گھر سے باہر نکال دیا

وہ لوگ جن گھروں میں رهتے تھے وہ ملک توقیر کے پیسے سے خریدے گئے تھے

پھر بھی ان میں توقیر صاحب کے بیوی بچوں کی جگہ نہ تھی 💔

تب ملک توقیر کو واپس آنا پڑا

انہوں نے اپنا بز نس یہاں منتقل کیا اور یہاں آ کر سب بھائیوں سے دور الگ گھر بنایا

جب وہ لوگ سیٹل ہو گئے تب ان کے بھائیوں کو بھائی کی یاد آئی اور وہ سب لوگ معافیاں مانگتے پہنچ گیے ملک توقیر کے گھر

اور وہ اتنے نرم دل تھے کہ سب کو معاف کر دیا اور بز نس میں بھی ساتھ ملا لیا

اور آج وہی لوگ پھر سے ان سے دغا بازی کر گئے تھے

نینا کو یاد تھی وہ رات جب تائی امی نے ان کو ان کی مما کے ساتھ دروازے سے باہر نکال دیا تھا

ٹھنڈ تھی بہت وہ سب سردی سے ٹھٹھر رہے تھے

عینا چھوٹی سی تھی شاید ایک سال کی اسے سینے میں بھینچے مما رو رہی تھیں

اور وہ دونوں بہنیں بھیا کے بازو سے چمٹی کھڑی تھی

تب پاپا کے ایک دوست کو فون کر کے بلایا وہ ان لوگوں کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے

اور آج بھی ویسی ہی رات تھی آج بھی وہ سب ٹھٹھر رہے تھے خوف سے پاپا کو کھو دینے کے خوف سے

آج بھی وہ لوگ بھیا کے بازو سے لپٹی ہوئی تھیں

آج بھی مما رو رہی تھیں

اسے عجیب سی وحشت نے آن گھیرا

وہ اچانک مڑی اور باہر کی طرف بھاگتی چلی گئی 💔

کاش ہم اپنوں کے کیے گئے ستم بھی پیچھے چھوڑ کر ایسے ہی منہ موڑ کر سب بھول کر بھاگ سکتے کاش ہم مصیبتوں سے بھی ایسے بھاگ سکتے 💔