Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 13

339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 13

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah

خالہ کے گھر میں کچھ ایمر جنسی تھی بھائی اور اسکو اچانک جانا پڑا

وہ کسی کو بھی بتا کر نہیں گئی تھی

2 دن گزر چکے تھے

اس نے سجیلہ کو کال کی

اسے سب سے زیادہ اس کی فکر تھی

ایک پل کو اس نے سوچا کہ شاہ کو بھی کال کرے

پر پھر ارادہ ملتوی کر دیا

2 دن سے وہ اتنی مصروف تھی کہ فیس بک پر بھی نہیں گئی تھی

اسے مزید یہاں وقت لگنے والا تھا

****************

12 بجے کے بعد اچانک اس کے موبائل کی بیل بجی

وہ نیند میں تھی پر پھر بھی اس کی آنکھ کھل گئی

اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا

شاہ کا میسج تھا

لکھا تھا

سنو…. .

اس نے جواب لکھا

“بولو “

کہاں ہو یار تم ؟

جواب سیکنڈ میں آیا تھا

میں خالہ کے گھر ہوں

کیوں ؟

اس نے جواب دے کر ساتھ ہی سوال۔ بھی کر دیا

بس یونہی نظر نہیں آئ تو اس لئے

شاہ کا خجل سا جواب آیا

تم سوئے نہیں ؟

پتہ نہیں کیوں نینا نے پوچھ لیا

نہیں نیند نہیں آ رہی

شاہ کا میسج سکرین پہ جگمگا یا

تم نہیں سوئی ؟

میں تو سوئی ہوئی ہی تھی

تم نے جگا یا

نینا نے برا سا منہ بنایا

ا وھو سوری ڈسٹرب کر دیا میں نے

شاہ نے شرمندہ ہو کر کہا

اٹس اوکے

نینا نے جواب دیا

پھر یونہی یہ باتیں چلتی رہی

تہجد کا وقت ہو گیا

وہ چونکی

اس نے شاہ کو بائے بولا اور سونے کو لیٹی

پر نیند کہاں تھی

وہ لیتی سوچتی رہی

وہ کیوں شاہ سے باتیں کرنے لگی ؟

اپنے آپ کو ڈانٹا

پر دل پتہ نہیں کیوں اس سے بھی زیادہ باغی تھا 😊

. . ***************

آج 2 ہفتے بعد وہ واپس آئ تھی

گھر میں داخل ہوتے ہی اسے کچھ غیر معمولی خاموشی کا احساس ہوا

زوہا

اس نے بہن کو آواز دی

وہ کیچن سے باہر نکلی

یہاں ہوں میں پانی لاؤں تیرے لئے ؟

نہیں مما کہاں ہیں ؟

اپنے کمرے میں زوہا کہہ کر واپس مڑ گئی

وہ مما کے کمرے میں آئی وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی تھیں

اس نے پردے کھینچے

مما

آواز پر انہوں نے بازو ہٹایا

نینا کو دیکھ کر وہ مسکرائیں

وہ پاس آئ آپ ایسے کیوں لیٹی ہیں ؟

طبیعت ٹھیک نہیں ہے بیٹا

تم بتاؤ تم کیسی ہو

انہوں نے اسے پاس بٹھا کر ہاتھ تھاما

میں ٹھیک ہوں آپ بتائیں ڈاکٹر کو دکھایا آپ نے ؟

نہیں ابھی تو نہیں

مما نے نظر چرائی

کیوں مما کمال کرتی ہیں آپ

نینا بگڑی

تمہا رے پاپا بہت بزی ہیں بیٹا

اب تم دونوں آ گۓ ہو نا سب ٹھیک ہو جائے گا

تم کچھ دیر آرام کر لو تھک گئی ہو گی

وہ سر ہلا کر وہاں سے اٹھ گئی

*************

آج بہت دن بعد وہ یونیورسٹی آئ تھی

سب سے مل کر بہت اچھا لگ رھا تھا

سجیلہ اسے تھوڑی بجھی بجھی سی لگی پوچھنے پر بھی اس نے کچھ نہیں بتایا

نینا نے بھی سوچا بعد میں تسلی سے پوچھ لے گی

وہ حسب معمول کافی پینے کینٹین میں آئی تھی جب شاہ بھی اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ایک کافی میرے لئے بھی 😊

نینا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

سڑیل اپنے پیسے خود دینا

نینا نے شان بے نیازی سے کہہ کر کافی اٹھا لی

کنجو س لڑکی میں خود دے دونگا 🙄

شاہ نے بھی ناک سے مکھی اڑائی

کہتی مجھے ہو پر ہو تم مجھ سے زیادہ سڑ یل ہٹلر دیدی 😜

شاہ نے اسے چڑایا

نینا نے بے نیازی سے کندھے اچکائے

اس سے پہلے کہ ان کی بحث اور بڑھتی ایک لڑکی ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی

شاہ میرے لئے بھی کافی منگواؤ

نینا نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا

پھر شاہ کو گھورا

تم کون ہو ویسے ؟

نینا اس کی طرف مڑی

وہ اسے جانتی تو تھی تھوڑی بہت لیکن پھر بھی اس نے پوچھا

میں شاہ کی دوست ہوں

اس لڑکی

( جس کا نام عائشہ تھا )

نے کہا

نینا نے شاہ کو کھا جانے والی نظروں سے

منہ میں بھرا کافی کا گھونٹ اسے کڑوا زہر کی طرح لگا

یہ کیا بکواس ہے شاہ کا چہرہ سرخ ہو گیا

میری کوئی دوست نہیں ہے سمجھی

شاہ نے عائشہ کو گھورا

اٹھو یہاں سے اور جاؤ

نینا خاموشی سے دونو کو دیکھتی رہی

پھر اٹھی اور وہاں سے چلی گئی

پیچھے سے شاہ اسے آوازیں دیتا رھا پر اس نے سنا نہیں

گھر آ کر بھی اس کا موڈ بہت خراب تھا

پتہ نہیں اسے اتنا غصہ کیوں آ رہا تھا

بھاڑ میں جائیں وہ دونوں مجھے کیا وہ اس کی کچھ بھی ہو 👊

نینا نے بڑبڑا کر ان کو۔ ذہن سے جھٹکا

ٹھنڈا پانی پی کر اس کا دماغ کچھ ٹھنڈا ہوا تھا

زوہا کا چہرہ دیکھ کر وہ چونکی

کیا ہوا پریشان لگ رہی ہو ؟

مما کی طبعیت بہت خراب ہے نینا

وہ بہت تکلیف میں ہیں ان کو دوا دے کر آئی ہوں میں پر ان کی تکلیف کم نہیں ہو رہی

وہ اٹھ کھڑی ہوئی میں دیکھتی ہوں

وہ مما کے کمرے میں آئ

مما ۔۔۔۔

وہ پاس چلی آئی

پتہ نہیں بیٹا بہت تکلیف ہو رہی ہے

انہوں نے بے بسی سے اسے دیکھا

اس نے بھائی کو فون ملایا

لیکن وہ اٹھا نہیں رھا تھا شاید کہیں بزی تھا

اس نے مما کو دوا دی اور ان کے پاس بیٹھ گئی

اس کے موبائل پر تھوڑی دیر بعد میسج آیا

اس نے موبائل کو دیکھا

شاہ کا نام جگمگا رھا تھا

اس نے بنا پڑھے موبائل سائیڈ پہ رکھ دیا

پھر مما سے باتیں کرنے لگی

مما کی طبیعت مسلسل بگڑ رہی تھی اچانک وہ درد سے تڑپنے لگی ان کی حالت دیکھ کر زوہا رونے لگی اس نے ایک بار پھر پاپا کو۔ فون کیا پر وہاں انگیج آرہا تھا

جب اس سے دیکھا نا گیا تو اس نے زوہا کو آواز دی

رونا بند کر زوہا مما اٹھیں آپ اس نے ایک فیصلہ کر کے مما کو سہارا دے کر اٹھایا

میرے ساتھ چلیں میں لے کر جاؤں گی آپ کو

لیکن نینا تم اکیلی۔ کیسے ؟

زوہا نے پریشانی سے اسے دیکھا

کم آن زوہا مشکل وقت میں عورت مرد بھی بن سکتی ہے تم میرے ساتھ مما کو اٹھانے میں مدد کرو

نینا نے ا یبولینس کو کال کر دی تھی

میں ساتھ چلوں ؟

نہیں تم یہیں رکو عینا آنے والی ہے

میں ہوں نا سب دیکھ لونگی

اس نے حوصلے کو مما کو تھاما

زوہا رونے والی تھی پھر سے

اس نے مما کو ایمبولینس میں ڈالنے میں مدد کی پھر مڑ کر زوہا کے پاس آئ

اس کا ہاتھ تھاما

میری طرف دیکھو زوہا

اس نے زوہا کی آنکھوں میں دیکھا

جب کوئی مصیبت آتی ہے تو رویا نہیں کرتے اس مشکل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں میری بات یاد رکھنا

مشکلات کے سامنے کمزور نہیں پڑتے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں

کوئی بھی مشکل ھمارے حوصلے سے بڑی نہیں ہوتی

ہمت سے کام لو تم کمزور نہیں ہو ❤

زوہا کے آنسو صاف کر کے وہ آگے بڑھی

اب رونا۔ مت بس دعا کرنا میں کال کرونگی

وہ زوہا کو تسلی دے کر مما کے ساتھ ہسپتال چلی آئی

ڈاکٹر نے مما کا چیک اپ کیا

پھر نینا کو اندر بلایا

کوئی اور بھی ہے آپ کے ساتھ مس نینا ؟

ڈاکٹر نے پوچھا

نہیں ڈاکٹر صاحب کسی اور کی بھی ضرورت ہے کیا ؟

میں جو ہوں

اس نے اعتماد سے کہا

ٹھیک ہے تو میں آپ کو ہی بتا دیتا ہوں

آپ کی مما کی ریڑھ کی ہڈی اور ٹانگوں کے درمیان کے جوڑ میں ریشہ پڑ چکا ہے

ہمیں آپریشن کرنا ہوگا

آپ سمجھ رہی ہیں میری بات ؟

جی میں سمجھ رہی ہوں ڈاکٹر صاحب آپریشن کب کرنا ہے ؟

اگر ہم آپریشن کر کے اس کو صاف نہیں کریں گے تو یہ ریڑھ کی ہڈی کو بھی لگ سکتا ہے

اس لئے جتنی جلدی ہو آپریشن کروا لیں اب جب آپ کہیں تبھی آپریشن کر لیں گے

وہ آگے کو جھکی ڈاکٹر صاحب آپ پچھلے 10 سال سے میری مما کے ڈاکٹر ہیں ان کا یہ جوڑ بہت سالوں سے خراب ہے اور آپ ہی ہمیشہ ان کا علاج کرتے آ رہے ہیں آپ بہتر جانتے ہیں کہ کب اور کیا کرنا ہے مجھے بس مما ٹھیک چاہیے باقی آپ دیکھ لیں جو بھی کرنا ہے

اگر آپریشن کرنا ہے تو کریں ابھی انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے

ٹھیک ہے نینا آپ گھر سے کسی کو بلوالیں ہم تیاری کرتے ہیں

وہ اٹھ کر باہر آگئی ایک بار پھر سے بھائی کو فون ملایا پر اس نے اٹھایا نہیں 10 منٹ بعد وہ ڈاکٹر کے کمرے میں آئی

ڈاکٹر صاحب میں بیٹھی ہوں نا آپ آپریشن کی تیاری کریں میں سائن کر دونگی

ڈاکٹر نے ایک بار اسے دیکھا پھر سر ہلا دیا مزید 10 منٹ بعد اس نے ایک کاغذ پر سائن کر کے دیے اور گھر کال کی

زوہا مما ٹھیک۔ ہیں ہم جلدی۔ گھر آجائیں گے فکر مت کرنا

پھر پاپا کو کال کی پر اٹھائی نہیں گئی

وہ مما کے پاس جا کر بیٹھ گئی

کچھ ہی دیر میں مما کو آپریشن کے لئے لے جایا گیا اور وہ باہر اکیلی رہ گئی پہلی بار اسے تنہائی محسوس ہوئی

لیکن اس نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور دعا کرنے لگی

کچھ دیر بعد وہ اٹھ کا ٹہلنے لگی

شاہ کے میسج آ رہے تھے پر وہ اگنور کر رہی تھی

اتنا لمبا آپریشن

اس نے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی

نینا ۔۔۔۔۔۔

وہ مڑی سامنے سجیلہ کھڑی تھی اور اس کے پیچھے شاہ

تم لوگ وہ ان کے قریب چلی آئی

تم لوگ یہاں کیسے ؟

ہاں ہم لوگ تونے تو بتانے کی زحمت نہیں کی پر شکر ہے کہ زوہا نے مجھے بتا دیا اور میں نے شاہ کو بلا لیا

ایسی بھی کیا بہا دری کہ اکیلی ہی چلی آئی ہم میں سے کسی۔ کو بلا لیا ہوتا ہم۔ سب مر گۓ تھے کیا

سجیلہ اسے ڈانٹتی ہوئی اس کے گلے لگی نینا اتنی پریشانی میں بھی مسکرا دی

میں ٹھیک ہوں یارا ❤

اس نے سجیلہ کو تسلی دی

کبھی کبھی ہمیں کچھ فیصلے اکیلے ہی کرنے پڑ تے ہیں اور ان پر عمل بھی😊

کیونکہ کبھی کبھی ہمارے پاس کسی کا انتظار کرنے کاوقت نہیں ہوتا 💔

اس نے شاہ کی طرف دیکھا

آنٹی کی طبعیت کیسی ہے اب ؟

شاہ نے بھی زبان کھولی

وہ اندر ہیں

تم فکر مت کرو۔ سب ٹھیک ہوگا ،

شاہ نے اسے تسلی دی نینا نے سر سے پاؤں تک شاہ کو۔ دیکھا

میں پریشان نہیں ہوں میں ٹھیک ہوں

نینا نے کہہ کر رخ موڑ لیا

کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد آپریشن تھیٹر کی بتی بند ہوئی اور ڈاکٹر نے باہر آ کر بتایا کہ اس کی مما اب ٹھیک ہیں

ان کو روم میں شفٹ کر دیا گیا آدھے گھنٹے بعد ان کو ہوش آگیا

وہ۔ ان کے۔ پاس بیٹھی رہی پھر سجیلہ کو اشارہ کر کے باہر آئی

پاپا کو کال کی اس بار کال اٹھا لی گئی تھی

ہیلو پاپا میں مما کو ڈاکٹر ہاشمی کے پاس لائی تھی انہوں نے کہا کہ آپریشن کرنا پڑے گا

تو بیٹا ان سے ٹائم لے لو پاپا نے عجلت میں کہا وہ تو

میں نے کروا لیا آپریشن اس سے سکون سے جواب دیا

کروا لیا ؟

جی پاپا آپریشن ہو۔ گیا اور وہ روم۔ میں بھی شفٹ ہو۔ چکی ہیں۔ ان کو۔ ہوش بھی آگیا ہے ❤

نینا نے ساری تفصیل بتائی

تو سب کچھ تو تم۔ نے کر لیا اب مجھے فون کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟

پاپا جیسے مسکرائے تھے

وہ تو اس لئے کیا کہ بھائی کو کچھ پیسے دے کر بھیج دیں

تاکہ ہم مما کو گھر لے کر آ سکیں

اس نے کہا

اچھا ٹھیک ہے بھیجتا ہوں

اس نے کال کٹ کر کے موبائل پینٹ کی جیب میں رکھا پھر مڑی تو شاہ اس کے پیچھے کھڑا تھا

ناراض ہو ؟

وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا

میں کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوتی

نینا کہہ کر جانے لگی

سنو میں اسے نہیں جانتا وہ میری دوست نہیں ہے

شاہ نے پیچھے سے کہا

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مسٹر شاہ

وہ کہہ کر رکی نہیں تھی

****************

مما کو وہ لوگ گھر لے آ ئے تھے

سجیلہ سارا دن اس کے ساتھ رہی تھی

شام ہونے تک وہ تھک چکی تھی

بھاگ دوڑ کرتے کرتے

وہ بستر پر لیٹی تو بہت ساری سوچوں نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا

وہ اس وقت کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتی تھی

اس نے دماغ سے ہر سوچ نکالی اور آنکھیں بند کر لی

***************

وہ ہر پل کسی نا کسی معاملے میں الجھی رہتی لیکن پھر بھی وہ نوٹ کر رہی تھی۔ کہ سجیلہ پریشان رہتی ہے

بہت پوچھنے پر اس نے بس اتنا بتایا کہ

میں اور اسد ہر وقت لڑتے رهتے ہیں

میں پریشان ہوں ابھی سے یہ حال ہے تو ہم ساتھ زندگی کیسے گزاریں گے

ارے یار کچھ نہیں ہوتا تم۔ لوگ ایک دوسرے کو سمجھ جاؤ۔ گے

نہیں یار مجھے نہیں لگتا

سجیلہ نے مایوسی سے کہا

بس بس رہنے دے تو اپنے لگنے کو

تجھے تو کچھ بھی نہیں لگتا

نینا نے اسے گھر کا

کیا کروں۔ میں یار

سجیلہ مشکل۔ میں۔ لگتی تھی

بڑی مشکل سے اسے سمجھا بجھا کر وہ اسے ساتھ کافی پینے لے گئی تھی

شاہ بھی ان کو دیکھ کر پاس چلا آیا

اس دن کے بعد سے نینا اس سے کھنچی کھنچی سی رہتی

ساری کافی کے دوران وہ چپ۔ چاپ بیٹھی رہی

سجیلہ نے شاہ کے جانے کے بعد اسے دیکھا

کیا بات ہے تو شاہ سے ناراض کیوں ہے ؟

نہیں تو میں کیوں ناراض ہوں گی بھلا

وہ۔ مکر گئی

پھر کیا بات ہے ؟

شاہ کے ساتھ ایسی کیوں پیش آ رہی ہے

سجیلہ میں نہیں چاہتی کہ ہم دونوں کو ایک دو سرے کی وجہ سے کوئی مسلہ ہو

میں اپنے انداز میں جینے کی عادی ہوں مجھے بس اپنے اصول پسند ہیں اور میرے اصول مجھے کسی بھی انسان کے لئے اپنے آپ کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں دیتے

نینا نے 2 ٹوک انداز میں کہا

سجیلہ اسے بس دیکھ کر رہ گئی

شاید نینا نہیں جانتی تھی کہ اسے کونسا جذبہ غصہ دلا رھا ہے پر سجیلہ جان گئی تھی ❤

****************

صبح اٹھتے ہی اسے شاہ کا میسج ملا تھا

میں کچھ دن کے لئے گاؤں جا رھا ہوں دادا جان کے پاس

شاید تب تک تمہارا غصہ بھی ٹھنڈا ہو جائے

اپنا خیال رکھنا ❤

اس نے کوئی جواب نہیں دیا

چپ چاپ اٹھ گئی 2 دن بیت گۓ پھر

رات کے کسی پہر پھر سے شاہ کا میسج اسے جگا گیا

وہ پوچھ رھا تھا

سو گئی کیا ،؟

نہیں اس نے 2 لفظی جواب دیا

اب تو غصہ جانے دو

میں غصہ نہیں ہوں

نینا نے لکھا

پکی بات ہے ؟

ہاں بالکل پکی اچھا مجھے بھی مس کرتی ہو ؟

شاہ نے پوچھا

نہیں جواب 2 ٹوک تھا

اوکے کال اٹینڈ کرو 2 منٹ کے لئے

نہیں میں نہیں لے سکتی کال

نینا نے انکار کیا

پلیز شاہ نے التجا کی

ٹھیک ہے وہ مان گئی

موبائل کان سے لگائے وہ اس کی باتیں سن رہی تھی

جب شاہ نے کہا

نینا ۔۔۔۔۔

ھمم

نینا نے مدھم انداز میں کہا

میں تم سے کچھ کہنا ۔۔۔۔چاہتا ہوں

شاہ نے ذرا اٹک اٹک کر کہا

نینا کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنا ہٹ ہوئی

دل تیزی سے دھڑکا

کیا ؟۔۔۔۔۔کیا کہنا ہے ؟

اس نے دل پہ ہاتھ رکھا

بتاؤں گا واپس آ کر جلد ہی میں واپس آ رھا ہوں ❤

اور وہ سوچ رہی تھی کاش وقت کو بھی آنے سے پہلے بدلا جا سکتا 💔