Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 19
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 19
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا تھا
اور وہ چھت پر کھڑی چاند دیکھ راہی تھی
جب شاہ کی کال آئ
اس نے پک کر کے کان سے لگایا موبائل
رمضان المبارک کا چاند مبارک ہو جان شاہ ![]()
شاہ کی خوبصورت آواز اس کی۔ سماعت سے ٹکرائی
خیر مبارک شاہ ![]()
تمہیں بھی چاند مبارک ![]()
اس نے بھی مبارک دی
خیر مبارک ![]()
تو اب کیا پروگرا م ہے رمضان کا ؟
شاہ نے اس سے پوچھا
کیا ؟
وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی
روزے ؟
شاہ نے مختصر کہا
یار روزے تو رکھنا مشکل نہیں پر میری آنکھ نہیں کھلتی سحری میں ![]()
نینا نے اپنی پروبلم بتائی
میں جگا دیا کروں گا نہ ![]()
شاہ نے زمہ داری لی
اچھا پھر ٹھیک ہے
نینا نے بجھے دل سے کہا
کیوں اب کیا ہوا ؟
شاہ نے پوچھا
کچھ نہیں ہونا کیا ہے
نینا نے ٹا لا
جان شاہ یہ ہمارا پہلا رمضان ہے ساتھ ساتھ اور میں چاہتا ہوں کہ ہم سارے روزے ساتھ ساتھ رکھیں ![]()
اس نے نرمی سے نینا کو سمجھایا
ہاں ٹھیک ہے تم مجھے جگا دیا کرنا
نینا نے مسکرا کر کہا
یہ ہوئی نہ بات ![]()
شاہ خوش ہو گیا
اور ہاں اب میری روٹین بھی چینج ہو جائے گی
اب سے میں تراویح پڑھایا کروں گا
اور رات کو مسجد میں ہی سویا کروں گا
سو بات بھی کم ہو گی
اس نے نئی خبر دی نینا کو
اچھا چلو کوئی بات نہیں
بات ہوگی تو سہی نہ
وہ اتنے پہ بھی خوش تھی اور یونیورسٹی بھی تو وہ لوگ ملنے والے تھے نہ
زندگی جیسے بس اس ایک شخص کے گرد گھومنے لگی تھی سارے دا ئرے اس سے شروع ہو کر اسی پر آ کر ختم ہوتے تھے ![]()
**********************
رات کے 3 بجے تھے جب اسے شاہ کی کال آنے لگی
آج وہ جلد ہی سو گئی تھی کیونکہ شاہ تو تراویح پڑھا نے چلا گیا تھا تو اس نے جاگ کر کیا کرنا تھا وہ سو گئی
وہ اٹھ گئی تھی آواز پر
بند آنکھوں کے ساتھ اس نے موبائل کاں سے لگایا
اٹھ جاؤ جان شاہ سحری کا ٹائم ہو گیا ہے ![]()
شاہ کی فریش آواز نے اس کی سستی بھی ختم کر دی
وہ اٹھ بیٹھی
تم ابھی اٹھے ہو ؟
اس نے جمائی روک کر کلاک کو دیکھا
نہیں میں تو 2 بجے کا اٹھا ہوں
بس تمہیں تھوڑا لیٹ جگایا ![]()
شاہ نے جواب دے کر پیچھے کسی سے کچھ کہا
پھر اسکی طرف متوجہ ہوا
اٹھ جاؤ اب ہٹلر ![]()
![]()
ہاں اٹھ گئی ہوں سڑ یل جا اب پرے
نینا نے کال بند کی اور اٹھ کر کچن کا رخ کیا ![]()
******************
آج سبھی روزے سے تھے ![]()
اور زور و شور سے روزے کی باتیں جاری تھیں
سنو شاہ
دفعتاً نینا نے شاہ کو پکارا
ہوں ….
شاہ نے کچھ سوچتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
تلاوت سناؤ نہ ہمیں ![]()
نینا نے فر مائش کی
اچھا وضو کر کے آتا ہوں میں پھر
وہ اٹھ کر چلا گیا تھا
کیا بات ہے بڑی محبتیں بڑھائی جا رہی ہیں ![]()
سجیلہ نے اس کے کان میں سر گو شی کی
شٹ اپ جا نو ![]()
نینا نے مسکراہٹ دبائی
میرے شٹ اپ ہونے سے کیا ہوگا ![]()
سجیلہ نے بھی دانت نکا لے
سب کو پتا ہے
ہیں
کس کو اور کیسے پتا چلا ؟
نینا نے حیران ہو کر اسے دیکھا
ہم اتنے سالوں سے تمہارے ساتھ ہیں نینو
تمہارا ہر انداز پہچانتے ہیں ![]()
اور ہم سب خوش ہیں اس بات سے ![]()
بس یہ دھیان رکھنا یہ علی شاہ نظر آنے والا شاہ “فراڈ شاہ “نہ نکل آئے
کیونکہ مجھے بہرحال ابھی تک اس پہ شک ہے
اس نے برا سا منہ بنایا ![]()
ہاہا نینا کو بے اختیار ہنسی آئ تھی
اس کے انداز پر
مجھے نہ اس سے زیادہ وہ اچھا لگتا ہے جس سے یہ محبت کرتا ہے ![]()
![]()
نینا نے جھک کر اس کے کان میں کہا
اور وہ کون ہے ؟
سجیلہ نے حیرت سے اسے دیکھا
وہ اللّه ہے ![]()
نینا نے مسرور سے انداز میں کہا
سجیلہ اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ رہی تھی
وہ سب سمجھ رہی تھی سمجھ تو سبھی چکے تھے بس ظاہر نہیں کرتے تھے
تب تک شاہ واپس آ چکا تھا
اس کی روشن پیشانی پر پانی کے قطرے تھے ![]()
جو دھیرے ٹپک کر اس کی داڑھی میں جزب ہو رہے تھے
اس کی سیاہ روشن آنکھیں جھکی ہوئی تھیں
اور وہ اپنی شرٹ کے بازو نیچے کر رہا تھا
نا جانے کیوں وہ جب بھی شاہ کو دیکھتی اسے اس کے وجود سے ایک۔ روشنی سی پھوٹتی محسوس ہوتی ![]()
وہ انسان کتنا خوش نصیب تھا جو اللّه کے قریب تھا ![]()
وہ اکثر سوچتی
اور خود میں اللّه سے کتنی دور ہوں ![]()
وہ پھر سے یہی سوچ رہی تھی
جب شاہ نے سورہٴ یسین کی تلاوت شروع کی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا![]()
يٰسٓ ۞
یسٰں![]()
وَالۡقُرۡاٰنِ الۡحَكِيۡمِ ۞
حکمت والے قرآن کی قسم،![]()
اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَۙ ۞
بیشک تم
عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍؕ ۞
سیدھی راہ پر بھیجے گئے ہو![]()
شاہ کی خوبصورت آواز ہر طرف پھوار بن کر برس رہی تھی
اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کی
پتا نہیں وہ کہاں جا رہی تھی
پر ہاں وہ جو جہان بھی تھا
بہت خوبصورت تھا ![]()
اور اس کے پار کون تھا ؟
وہ دیکھنا چاہتی تھی
*******************
دوپہر کے بعد وہ سو رہی تھی جب عینا نے اسے آ کر جگایا
تم سے ملنے کوئی آیا ہے
وہ کہہ کر چلی گئی
نینا ناچار اٹھی
اس نے منہ دھویا اور اپنا ڈوپٹہ اٹھا یا اور سر پہ لپیٹا
نیچے آ کر دیکھا تو انسپکٹر توصیف اس کے انتظار میں بیٹھا تھا
السلام علیکم
وہ خوش دلی سے کہتی قریب آگئی
وعلیکم السلام
توصیف اسے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا
ارے بیٹھو بیٹھو انسپکٹر توصیف ![]()
وہ کہہ کر سامنے والے صوفے پہ بیٹھ گئی
اکیلا توصیف کہہ سکتی ہیں آپ ![]()
توصیف واپس بیٹھ چکا تھا
اچھا مسٹر توصیف
وہ مسکرا دی
توصیف نے اسے دیکھا
سادہ سے شلوار قمیض میں سر پہ ڈوپٹہ رکھے بال سلیقے سے بنائے
بیحد سادہ سی لڑکی لگ رہی تھی اور آج اس کی آنکھوں میں ایک نرم سا تا ثر تھا
کتنی بدل گئی تھی وہ ![]()
وہ دل ہی دل میں اعتراف کیے بنا نا رہ سکا
لیکن اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ حسین لگتی اسے
کیا ہے اس لڑکی میں ایسا ؟
کیوں میں اس کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتا ہوں
وہ دل ہی دل میں خود سے کہتا چپ چاپ اسے دیکھے گیا
روزہ ہے ؟
نینا نے اس کی سوچوں کا سلسلہ توڑا
ہاں ہے
اس نے تھوڑا سا گڑ بڑا کر جواب دیا
اچھا تو کیا رپورٹ ہے پھر ؟
نینا نے اسے دیکھا
جس گاڑ ی میں سحر کو لے جایا گیا تھا
اس کے بارے میں کچھ پتا چلا ہے ہمیں
توصیف نے اپنی رپورٹ دی
نینا سیدھی ہو کر بیٹھی
ہم بہت جلد اس کا پتا لگا لیں گے
توصیف کہہ رہا تھا
وہ صو فے پر آگے کو جھکی
مجھے وہ شخص چاہیے توصیف
ہر حال میں اور تم اسے کچھ نہیں کہو گے وہ ہمارا شکار ہے
اسے میں خود دیکھوں گی
اس کے انداز میں عجیب سی غرا ہٹ تھی
اس کی کانچ جیسی آنکھوں میں اس وقت ایک سفاک سی چمک تھی
جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی
تھوڑی دیر پہلے والی نینا کہیں گم ہو چکی تھی
وہ اس وقت صرف ہٹلر دیدی دکھائی دے رہی تھی ![]()
تم بس اس کا پتا لگاؤ
وہ پیچھے کو سیدھی ہوئی
توصیف نے گہری سانس لی
ٹھیک ہے
اب میں چلتا ہوں
وہ اٹھ کھڑا ہوا
وہ بھی ساتھ اٹھی
ٹھیک ہے اور ہاں اس ہفتے گھر میں افطاری ہے تو ضرور آنا ![]()
نینا نے اسے دعوت دی
جی ضرور حاضر ہوجاؤں گا میں
توصیف نے الوداع کہہ کر دروازے کی طرف قدم بڑھا ئے
*****************
اٹھ جاؤ اب جان شاہ مجھے بھی دیر ہو رہی ہےاٹھ جاؤ ورنہ میں ادھر ہی آجاؤں گا
کوئی 4 بار اسے اٹھانے کے بعد بھی جب وہ نا اٹھی تو شاہ نے اسے دھمکایا
نینا نے آنکھیں مل کر موبائل کو گھورا
اٹھ گئی ہوں میں
پر تم نا ![]()
وہ جھنجھلائی
میں نا کیا ؟![]()
شاہ نے مسکراہٹ دبائی
بہت برے ہو ![]()
نینا نے کہہ کر موبائل پرے رکھا اور اٹھ کر باہر نکل گئی
سحری کے بعد فری ہو کر اس نے موبائل اٹھایا
ہاہا جانتا ہوں ![]()
شاہ کا۔ میسج دیکھ کر اس کے ہونٹ مسکرا دیے
سو گئی کیا ؟
لاسٹ میسج دیکھ کر اس نے ضواب ٹائپ کرنا شروع کیا
نہیں تو
کہاں غائب تھی ؟
جواب 2 سیکنڈ میں آیا تھا
سحری کرنے
اس نے بتایا
اچھا مجھے لگا سو گئی
نہیں ابھی نماز پڑھوں گی
میں بھی ![]()
شاہ نے کہا
پھر نماز کے بعد اس نے موبائل اٹھا یا
اب کیا کرنے لگے ہو ؟
وہ لیٹ چکی تھی
قرآن پڑھنے لگا ہوں
شاہ کا جواب دیکھ کر
اس کی آنکھیں چمکی
مجھے بھی سننی ہے ![]()
اس نے فوراً کہا
ٹھیک ہے کال کرتا ہوں ہینڈ فری لگا لو
شاہ نے کہہ کر فون ملایا
نینا نے ہینڈ فری لگا لئے
فون اٹینڈ کرتے ہی شاہ کی آواز اس کے کانوں میں رس گھولنے لگی ![]()
وہ تلاوت کرتا رہا اور نینا سنتی رہی
اسے پتا ہی نا چلا کہ کب وہ سکون سے نیند کی وادی میں اتر گئی
اور پھر یہ انکا معمول بن گیا روز سحری کے وقت شاہ اسے جگاتا
پھر وہ سحری کے بعد نماز پڑھتے پھر شاہ تلاوت کرتا اور وہ سنتی رہتی اور کبھی سنتی سنتی سو جاتی![]()
پھر شاہ فون بند کر کے سو جاتا اور وہ اٹھ کر تلا وت کرتی
زندگی جیسے بہت خوبصورت ہو گئی
اتنے رنگ نظر آتے اسے ہر چیز میں وہ ہوا میں اڑ تی پھرتی
کبھی وہ اسے نعتیں سناتا کبھی تلا وت
وہ اللّه کے قریب ہونے لگی ![]()
وہ اسے عزیز ہونے لگا تھا
وہ کبھی بھی مذہبی نہیں رہی تھی پر اب ہونے لگی تھی
اب وہ ساری نمازیں پڑھتی
روزے رکھتی
اس میں عجیب و غریب تبدیلیاں آ رہی تھیں ![]()
*******************
وہ شب قدر کی روشن صبح تھی
جب شاہ نے اس سے پوچھا تھا
آج رات اللّه سے کیا مانگا ؟
میں نے اللّه کو ![]()
![]()
وہ بے اختیار مسکرائی
اور تم نے ؟
اس نے جواب میں شاہ سے پوچھا
تمہارا ساتھ ![]()
شاہ کا جواب سن کر اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی
کب تک ؟
اس نے عجیب سوال کیا
ہمیشہ کا ![]()
شاہ نے کہا
ہمیشہ کا ؟![]()
![]()
وہ ذرا سی حیران ہوئی
جنت تک کا ![]()
شاہ کا جواب اسے سر شار کر گیا
لفظ ہمیشہ جیسے اس کی سما عت میں رس گھولنے لگا
اس کا دل خوش کن خوابوں سے آباد ہونے لگا
کبھی کبھی انسان سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں دیکھتا ہم بس وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں ![]()
*********************
اس کے سسرال والے آئے تھے اسے عیدی دینے
وہ اسد کا انتظار کر رہی تھی پر وہ نہیں آیا
آج کل ان کے بیچ ایک عجیب سا تناؤ رہتا
جسے وہ جتنا ختم کرنا چاہتی وہ اتنا گی بڑھتا جاتا
عید پر وہ سارے گلے شکوے ختم کر کے اپنی محبت سے ہر چیز کو۔ ٹھیک کر دے گی
وہ یہی سوچ رہی تھی
سجیلہ نے بہت شوق سے سسرال سے آیا ہوا ایک ڈریس تیار کروایا
اور عید کے دن کا۔ انتظار کرنے لگی ![]()
![]()
لیکن عجیب بات ہے کہ جو ہم سوچتے ہیں وہ ہوتا نہیں
اور جو ہوتا ہے وہ سوچا نہیں ہوتا ![]()
***********************
ہمیشہ کی طرح آج آخری افطاری بھی ان دونوں نے ساتھ کی
چاند رات تھی
وہ ہر پل ساتھ ساتھ تھے
مہندی لگا لو نا جلدی سے پھر مجھے دکھانا ![]()
شاہ نے اس سے کہا
ہاں لگاتی ہوں اس نے اپنی ہتھیلی کو دیکھا
کل کونسے رنگ کا سوٹ پہنوں ؟
نینا نے سوچتے ہوئے پوچھا
پر پل کلر کا
شاہ نے بتایا
اور چوڑیاں بھی پہننا
اور بال کھلے چھوڑ نا
اس نے مزید ھدایت کی
تم آؤ گے نا کل مجھ سے ملنے ؟
نینا نے حامی بھرتے ہوئے پوچھا
اگر تم کہو گی تو آجاؤں گا ![]()
شاہ نے کہا
میں تو کہتی ہوں ابھی آجاؤ
اس نے شرارت سے مسکرا کر کہا
میں تو آ بھی جاؤں گا
شاہ نے جھٹ سے کہا
تو آجاؤ روکا کس نے ہے ![]()
نینا بھی تیار تھی
میں خود پاس بیٹھ کر مہندی لگواؤں گا تمہیں ![]()
شاہ نے کہا
خود لگا دینا ![]()
نینا نے بھی چڑایا
صبح دیکھوں گا
ابھی مہندی لگاؤ اور مجھے دکھاؤ
اس نے مہندی لگوا کر اسے واٹس اپ تصویر دکھائی
سجیلہ اور اس نے ایک جیسے ڈریس بنوائے تھے
صبح 4 بجے تک وہ دونوں اس کے ساتھ میسج پر رہے
پھر سو گئے
کل کی صبح ان کے لئے بہت ساری تبدیلیاں لانے والی تھی اور وہ سب بے خبر سو رہے تھے
بالکل ایسے ہی جیسے انسان موت سے بے خبر سوتا رہتا ہے اور یہاں تک کہ وہ اس کے سر پہ پہنچ آتی ہے اور تب اسے سمجھ آتی ہے کہ وہ کتنا غافل رہا ![]()
![]()
******************
اٹھو جان شاہ ![]()
نماز کا ٹائم ہو گیا ہے
ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کی آنکھ شاہ کے جگانے پر ہی کھلی تھی
اس نے نیند بھری نظروں سے موبائل کو دیکھا
اس کی نظریں
سکرین پر جگمگاتے حرف
“شاہ “
پر جمی تھی اس کے تصور میں ایک چہرہ ا بھر ا
سرخ و سپید چہرے پہ چھوٹی چھوٹی داڑھی جو اس وقت گیلی تھی ![]()
پنک ہونٹ اس وقت ہل رہے تھے وہ اس کا نام پکار رہا تھا ![]()
![]()
کھڑی کھڑی مغرور سی تیکھی ناک ریڈ ہو رہی تھی ![]()
اسکی سیاہ شفاف ذہانت سے چمکتی آنکھیں جن پر پلکیں سایہ کیے ہوئے تھیں
جان شاہ پہ مر کوز تھیں
گال میں پڑنے والا ڈمپل اس وقت کہیں چھپا بیٹھا تھا
سلکی بالوں سے پانی قطرہ قطرہ گر رہا تھا
وضو میں دھلا چہرہ اس پہ جھکائے وہ فولڈ بازو سیدھے کرتے ہوئے اسے جگا رہا تھا
وہ اسے اس تصور سے باہر شاہ کا دوسرا میسج لا یا تھا
اٹھ جاؤ جان شاہ مجھے بھی دیر ہو رہی ہے مجھے مسجد جانا ہے
اس نے چونک کر موبائل کو دیکھا
اٹھ گئی ہوں شاہ
نینا نے رپلائے کیا
شکر ہے اب پھر سے نا سو جانا ![]()
شاہ نے تاکید کی
تمہیں پتا ہے شاہ تم سب سے زیادہ پیارے مجھے کب لگتے ہو ؟
اس نے شاہ کی بات ان سنی کر کے اس سے پوچھا
کب ؟
شاہ نے تجسس سے پوچھا
جب تم وضو کر کے آتے ہو
صبح پھر مجھ پے جھکے مجھے آوازیں دیتے ہو مجھے نماز کے لئے جگاتے ہو
اس نے محبت سے مخمو ر لہجے میں کہا
شاہ کا ڈمپل نمایا ہوا
ویسے نہیں پیارا لگتا کیا ؟
اس نے نینا کو چھیڑا
۔لگتے ہو پر سب سے زیادہ اس وقت لگتے ہو ![]()
![]()
جان شاہ نے سچ بولا
سنو شاہ
اگر میں تم سے کچھ مانگوں تو دو۔ گے ؟
اس نے ایک مان سے کہا
ہاں کیوں نہیں
مانگو ضرور دونگا
شاہ نے یقین دہا نی کروائی
میں چاہتی ہوں تم ہمیشہ مجھے نماز کے لئے جگاؤ ہر صبح میری آنکھ تمہاری آواز پر کھلے ![]()
میرے دن کی ابتدا تمہا ری تلا وت کی آواز سے ہو ![]()
اس نے اپنی خواہش ظاہر کی
ٹھیک ہے جگا دیا کروں گا روز ![]()
شاہ نے حامی بھری
اچھا میں مسجد تک پہنچ گیا ہوں
اٹھ کے نماز پڑھو ![]()
وہ کہہ کر جا چکا تھا
اورجان شاہ اب بھی اس کے تصور میں کھوئی تھی ![]()
تصورات کی دنیا جتنی خوبصورت لگتی ہے
اتنی خطرناک بھی ہوتی ہے
یہ ہمیں اس بری طرح سے توڑتی ہے جس کا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا ![]()
![]()
**********************
عید کا دن تھا سب تیار ہو کر ایک دوسرے سے عید مل رہے تھے
آج زوہا بھی آ رہی تھی
اور پاپا نے اپنی فیملی کو بھی انوائٹ کیا تھا
وہ بھی تیار ہو کر سجیلہ کا انتظار کر رہی تھی ان کو سحر کے گھر جانا تھا
اور اسے شاہ کا بھی انتظار تھا
تھوڑی دیر میں سجیلہ اسے اندر آتی دکھائی دی
ساتھ انسپکٹر توصیف کو دیکھ کر نینا کا خیال سحر والے کیس کی طرف گیا
سجیلہ آتے ہی اس سے لپٹ گئی تھی
توصیف ان کی محبت دیکھ کر مسکرا رہا تھا
سجیلہ سے الگ ہو کر اس نے توصیف کو دیکھا
اور اس کے سلام کا جواب دیا
وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
ریڈ اور بلیک شیڈ کے ٹراؤزر اور شرٹ میں بال کھولے آنکھوں میں کاجل لگا ئے سر پہ ڈوپٹہ ٹکائے ہاتھوں میں چھوڑیاں اور کانوں میں آویزے پہنے
ہاتھوں کو مہندی سے رنگے وہ اب لڑکیوں والے حلیے میں نظر آ رہی تھی
آج وہ پھر اس کے دل کا امتحان لینے پہ تلی تھی
توصیف نے دل ہی دل میں ماشاءالله کہا
کہیں اسے نظر نا لگ جائے ![]()
جب کہ وہ خود بھی آج سوٹ میں خاصہ شاندار لگ رہا تھا
بیٹھو توصیف کھڑے کیوں ہو
اس نے دونوں کو۔ بٹھایا
اور اندر بڑھ گئی
وہ کب سے موبائل کو بار بار دیکھ رہی تھی
اب اسے صرف شاہ کا انتظار تھا ![]()
اور اسے انتظار سے سخت نفرت تھی ![]()
لیکن کبھی کبھی ہمیں ان ہی چیزوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے جن سے ہمیں نفرت ہوتی ہے ![]()
![]()
