Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 10
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 10
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
گھر میں زوہا کی شادی کا ہنگامہ جاگ اٹھا تھا
سب اٹھتے بیٹھتے یہی باتیں کرتے وہ خاصہ بور محسوس کرتی آج کل سجیلہ بھی اپنے منگیتر کے ساتھ لگی رہتی پتہ نہیں کون سی باتیں کرتے رهتے تھے وہ لوگ ہر وقت
وہ بہت بے کلی سی محسوس کر رہی تھی
اس نے سحر کا نمبر ملایا پھر کچھ سوچ کر کٹ کر دیا اور لیپ ٹاپ اٹھا لیا
لاگ ان ہوتے اس کی نظر فرینڈ ریکویسٹ پر پڑی جانی پہچانی شخصیت کو دیکھ کر اس کے ما تھے پر بل پڑے ڈ یلیٹ کا بٹن دباتے دباتے اس نے پتہ نہیں کیوں ایکسپٹ کا بٹن دبا دیا سامنے ہی اس کی ٹائم لائن کھلی تھی
وہ یونہی نظر مارنے لگی کافی مذہبی پوسٹس تھی پھر اس نے تصویروں کو دیکھا
بلا شبہ وہ ایک سمارٹ اور ہینڈسم لڑکا تھا
لیکن وہ کسی کے بھی حسن سے کبھی امپریس نہیں ہوتی تھی
اس نے اپنا کا م نمٹا یا اور لیپ ٹاپ بند کر کے سو گئی
************
نینا ۔۔۔۔۔۔
لیکچر کے بعد وہ لوگ یونہی ادھر ادھر کی ہانک رہے تھے جب ایک جانی پہچانی آواز نے اسے اپنی جانب متو جہ کیا
وہ مڑی سامنے شاہ کھڑا تھا
بولو ؟
اس نے بنا کسی تاثر کے جواب دیا وہ اب اسے دیکھ کر بد مزہ نہیں ہوتی تھی اس دن کے بعد اس کے دل سے شاہ کے لئے ہر منفی جذبہ ختم ہو گیا تھا نا اب وہ اس سے چڑتی تھی
وہ نارمل پیش آتی اس سے “ایک کام تھا چھوٹا سا “شاہ نے مدعا بیا ن کیا
ھمم کہو ؟
نینا نے اسے بنا دیکھے کہا ایک لڑکی کی تھوڑی سی ہیلپ کرنی ہے شاہ نے مختصر کہا
لڑکی ۔۔۔۔
اس نے لڑکی کے نام پہ ابرو اچکا ئے
ہاں وہ خود کشی کی کوشش کر چکی ہے اور اس وقت ہسپتال میں ہے نینا کے کان کھڑے ہو گۓ اس سے مل لو باقی دیکھ لینا پھر
شاہ نے تجویز رکھی “کب ملنا ہے ؟
نینا نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا
جب مرضی شاہ نے کندھے اچکائے
ٹھیک ہے وا پسی پہ مل لونگی میں ہسپتال بتاؤ شاہ نے اسے کچھ تفصیلات دیں اور چلا گیا اس کے جانے کے بعد سجیلہ نے آنکھیں گھمائیں اب یہ کیا چکر ہے ؟
پتہ نہیں دیکھتے ہیں
نینا نے لا پرواہی سے جواب دیا
***********
چھٹی کے بعد وہ دونوں وہاں موجود تھی
ہسپتال کے گیٹ پر ہی شاہ ان کو مل گیا تھا
وہ خاموشی سے اس کے پیچھے پیچھے چلی آئیں وہ ان دونوں کو ساتھ لئے ایک روم میں داخل ہوا جہاں ایک لڑکی آنکھیں بند کیے لیٹی تھی
سدرہ ۔۔۔۔
شاہ نے قریب جا کر اسے پکارا اس نے آنکھیں کھولی اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھی اور سوجی ہوئی بھی لگتی تھیں جیسے روتی رہی ہو اس نے باری باری تینوں کو دیکھا
یہ نینا ملک ہے میرے ساتھ پڑھتی ہیں
اور یہ ان کی دوست سجیلہ اس لڑکی نے خاموشی سے دونوں کو دیکھا
نینا یہ سدرہ ہے یہ کچھ پروبلم میں ہیں اور یہ مرنے کی کوشش بھی کر چکی ہیں
شاید آپ ان کی کوئی مدد کر سکیں
نینا آگے بڑھ آئی
سدرہ میرا ماننا ہے کہ اس دنیا میں انسان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا جب تک وہ خود اپنی مدد نا کرنا چاہے آپ اپنی مدد کرنا چاہیں گی تو ہی ہم بھی آپ کے کسی کام آ سکیں گے
اب مجھے بتائیں آپکا مسلہ اگر ہمارے میرے بس میں ہوا تو ہم ضرور حل کریں گے
وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر جو اس نے بتایا وہ کچھ یوں تھا
“میں فیس بک پر ایک لڑکے سے ملی ہماری اچھی دوستی ہو گئی تھی پھر اس نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھ سے محبت کرنے لگا ہے
میں بھی اسے چاہنے لگی تھی تو ہم نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی اور کافی وقت ساتھ بتایا جب میں نے اس سے شادی کا کہا تو وہ پہلے تو ٹا لتا رہا
لیکن پھر مان گیا
جب گھر بات کی تو گھر والے نہیں مانےمجبوراً ہمیں گھر سے بھاگنے کے بارے میں سوچنا پڑا میں گھر چھوڑ کر آگی پر اس نے مجھے اپنانے سے انکار کر دیا میرے پاس مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا
یہ سب بتا کر وہ رونے لگی
اس لڑکے کے پاس میری تصویریں ہیں اب وہ مجھے دھمکا رھا کہ اگر میں نے اسے پریشان کیا تو وہ سب کسی ویب سائٹ پر دے دے گا
میں مرنا چاہتی ہوں میں جینا نہیں چاہتی
سب خاموشی سے اس کی بات سن رہے تھے
سب سے پہلے شاہ نے اسے دلاسہ دیا
ایک ایسے انسان کے لئے تم مر جاؤ گی جو اس قابل ہی نہیں ہے
نینا نے اسے لتا ڑہ “زندگی اتنی سستی نہیں کہ اسے 2 ٹکے کے بیکار لوگوں کے لئے ضائع کیا جا ئے یہ زندگی اللّه کا دیا تحفہ ہے اسے ایسے خراب نہیں کرتے “اس نے سررہ کاکندھا تھپکا “جب کوئی آپ کو پتھر مارے تو جواب پھولوں سے دو “پر وہ پھول اس کی قبر پہ ہونے چاہیے –
نینا نے چشمہ لگایا اور جانے کو مڑی
اور ہاں مرنے کی ضرورت نہیں اسے مارنے کے بارے میں سوچ سکتی ہو تم میں تمہارے ساتھ ہوں سجیلہ کو آنے کا اشارہ کر کے وہ نکل گئی پیچھے پیچھے شاہ بھی آرہا تھا رکو “نینا “
وہ رکی میرے ساتھ آؤ وہ ان کو ساتھ لئے ایک اور روم کی طرف بڑھا روم میں ایک ادھیڑ عمر ڈاکٹر بیٹھی تھی جو اس عمر میں بھی کافی خوبصورت لگ رہی تھیں شاہ کے نقوش میں ان کی شباہت جھلک رہی تھی
سلام کے بعد شاہ نے تعا رف کروایا
مما یہ نینا ہے نینا ملک میرے ساتھ پڑھتی ہیں اور یہ سجیلہ ہیں ان کی دوست یہ بھی وہیں پڑھتی ہیں
اینڈ گرلز شی اس مائی موم
ڈاکٹر نگہت شاہ “ہیلو آنٹی اس نے آگے بڑھ کر ان سے ہاتھ ملایا انہوں نے نرم سی مسکراہت کے ساتھ ان کا استقبال کیا
اور باری باری دونوں سے ہاتھ ملایا
مما سدرہ سے ملوانے لایا تھا میں ان کو
ہاں بیٹا وہ بچی بہت پریشان ہے مجھ سے اس کی حالت دیکھی نہیں جا رہی
آنٹی آپ فکر نا کریں سب سیٹ ہو جائے گا آپ لوگ بس یہ خیال رکھنا کہ اب وہ مر نے کی کوشش نا کرے
نینا نے کہا “لیکن اب آپ لوگ کرو گے کیا ؟
آنٹی نے پوچھا آنٹی ہم لوگ وہ کرتے ہیں جو سوچتے نہیں اور جو سوچتے ہیں وہ کرتے نہیں “سجیلہ نے مسکرا کر انکو بتایا
مطلب یہ لوگ کمال کرتے ہیں موم شاہ بھی مسکرا دیااور آنٹی بھی
ویسے یہ سڑیل کہیں سے بھی آپ کا بیٹا لگتا نہیں ہے “نینا نے بھی حساب برابر کیا
اس بات پر سب ہنسے تھے
*************
وہ سب گول میز کے گرد بیٹھے تھے
میز پہ دھواں اڑاتی کافی انکو اپنی طرف بلا رہی تھی وہ سب یہ سوچنے کے لیے یہاں جمع ہوئے تھے کہ اب کیا کرنا ہے اور کیسے ؟
اس کے گروپ کے ساتھ آج ایک انسان اضافی تھا یہاں اور وہ تھا شاہ ہاں تو شروع ہو جاؤ سب نینا نے کافی کا مگ ہونٹوں سے لگا کر کان ان سب کی طرف لگائے
سب ہی کچھ نا کچھ بول رہے تھے کافی دیر کی سوچ بچار کے بعد ایک سٹیپ با سٹیپ پلان ترتیب دیا گیا
پہلا سٹیپ ۔
ہمیں سدرہ کو واپس زندگی کی طرف لانا ہوگا اس میں جینے کا حوصلہ اور امنگ زندہ کرنی ھوگی اور اسے بیان دینے کے لئے راضی کرنا ہوگا اور یہ ذمہ داری شاہ نبھائے گا
نینا نے شاہ کی طرف دیکھا
ٹھیک ہے میں کر لونگا شاہ نے حامی بھری
دوسرا سٹیپ ۔
سیفی تم اور اسفند مجھے اس لڑکے کی سب ڈیٹیلز لا کر دو گے
سٹیپ 3۔
سجیلہ تم میرے ساتھ مل کر اس لڑکے کی ساری سر گرمیاں چیک کرو گی اور ہم اس کی کمزوری ڈھونڈیں گے
سٹیپ 4: انسپکٹر توصیف تم اسے اریسٹ کرو گے
سٹیپ 5۔
سدرہ کے گھر والوں سے مل کر ان کو سمجھانا ہوگا اور وہ تم اور شاہ کرو گے
سجیلہ نے بیچ میں بات کاٹی نینا نے برا سا منہ بنایا “چلو ٹھیک ہے”
باقی حالات کے ساتھ دیکھیں گے ہمیں کیا رد و بدل کرنی ھوگی سب سے پہلے شاہ تو سدرہ سے اس لڑکے کی آ ئی ڈی کا ای میل لے کر مجھے سینڈ کرے گا اس کے بعد تم اپنا کام کرو گے اور ہم سب اپنا اپنا
اور میں کیا کرو ں گی ؟
سحر نے سب کو باری باری دیکھا
تم تم ہم سب کے لیے کافی بناؤ گی
سجیلہ نے اسے چڑ ا یا
جس سے سب کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی
**********
رات کا کھانا کھا کر فری ہوئی تو اس نے لیپ ٹاپ اٹھایا لاگ ان ہوتے ہی اسے شاہ کا میسج موصول ہوا ای میل اسے مل چکا تھا
اس نے ای میل نوٹ کی اور اپنا کام شروع کر دیا چند بٹن دبائے اور اب اس کے سامنے اس لڑکے کی آئ ڈی کھلی ہوئی تھی
سب سے پہلے اس نے اس کا نمبر اٹھا یا
اس کی ای میل چینج کی اور پاسورڈ لگا لیا اب آئی ڈی مکمل اس کےہاتھ میں تھی
اس کے بعد ان باکس کا رخ کیا
یہ دیکھ کر اس کا پارا آسمان چھونے لگا
کہ وہ ہر دوسری لڑکی کے ساتھ فلرٹ کر رھا تھا اس نے اپنا باقی کا کام نمٹایا
اب وہ جانتی تھی اسے کیا کرنا ہے
***************
وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا بیٹھا سو چکا تھا سامنے بہت سارے کاغذ بکھرے تھے جن پر جگہ جگہ مارکر سے نشان لگائے گۓ تھے
پاس کافی کا مگ پڑا تھا جس میں بچی ہوئی کافی ٹھنڈی ہو چکی تھی
سیاہ با ل ماتھے پہ بکھرے تھے
کلائی پہ بندھی سیاہ گھڑی کی سوئیاں ٹک ٹک کر کے اپنے ہونے کا احساس دلا رہی تھیں
چہرے سے تھکن کے باوجود سکون جھلک رھا تھا ایک دم سے خاموشی کو کسی تیز آواز نے توڑا اس نے آنکھیں کھولے بنا ہاتھ بڑھا کر اپنا موبائل اٹھایا
“ہیلو “
اس کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری
دوسری طرف سے اسے کوئی اچھی خبر سنائی گئی تھی
جسے سن کر اس کا چہرہ چمکنے لگا
کال بند کر کے اس نے لیپ ٹاپ کی طرف دیکھا جو یونہی اس کے قریب رکھا ہوا تھا
گود میں لیپ ٹاپ رکھے وہ اس کی پروفائل کو چیک کرتے کرتے سو گیا تھا
شاہ کی نظر اس کے نام پر جم گئی اس نے زیر لب اس کا نام دہرایا
” نینا “
پھر سر جھٹکا اس کا پیج وزٹ کرتے اسے بہت اچھا لگ رھا تھاشاہ نے کچھ سوچتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کیا چابی اٹھا ئی اور باہر نکل گیا
. . . ************
اس نے سب سے پہلے اس کا نمبر نکالا
پھر سجیلہ کو کال کی یہ نمبر سینڈ کر رہی ہوںتوصیف کو دے اور بول اسکا ڈیٹا نکلوا دے اور ایڈریس بھی سجیلہ کا کزن توصیف جو کہ پولیس والا تھا اور ان کے گروپ کا حصہ تھا پہلے بھی کافی بار ان کی مدد کر چکا تھا ہر کام میں وہ ان کا ساتھ دیتا جہاں جہاں ضروری ہوتا ۔میں نے بات کی تھی
وہ کر دے گا کام سجیلہ نے اسے بتایا
انسپکٹر صاحب سے شکریہ بولنا اور کہنا کسی دن دعوت قبول کریں ہماری
نینا نے دانت نکا لے
ہاں ہاں ضرور
سجیلہ نے بھی قہقہہ لگایا
سجیلہ کو یاد تھا
پچھلی بار نینا نے اس کو کہا تھا
تم کیا چنے دے کر پولیس والے لگے تھے مسٹر توصیف ؟
جس پر کتنے ھی دنوں اس کا منہ بنا رھا تھا
اور اس نے سجیلہ کو بارہا تانے دیے تھے
جسے سجیلہ نے ذرا بھی پروا ہ کیے بنا سن کر ہنسی میں اڑا دیا تھا
وہ دونو ں ایسی ہی تھیں ہر چیز کو ہنسی میں اڑانے والی ہر پل خوش رہنے والی اور اپنے حال میں مست لیکن کوئی نہیں جانتا کہ زیادہ ہنسنے والے لوگ روتے بھی زندگی میں سب سے زیادہ ہیں
****************
وہ اس وقت اپنے روم میں صوفے پہ بیٹھی اپنا باقی کا کام نمٹا رہی تھیبلیک پینٹ پہ گرین پرینٹڈ شرٹ پہنے دوپٹے سے بے نیاز مگن سی لگ رہی تھی سیاہ کھلے با ل اس کی پشت پر بکھرے تھے کچھ شریر لیٹیں چہرے پہ گر کر اسے ستاتی جنہیں وہ اپنے مرمریں ہاتھوں سے بار بار پیچھے کرتی کلائی پہ بندھی گھڑی پہ بار بار نظر مارتی پاس پڑے کافی کے مگ سے کافی کا گھونٹ لیتی پھر سے کچھ کھوجنے لگتی اس نے بہت سے سکرین شارٹ لے لئے تھے بس اب صحیح وقت کا انتظار تھا
اس نے تھک کر انگڑائی لی
تبھی کسی نے زور سے دروازہ کھولا آنے والے کو دیکھ کر اس کے سر میں درد ہونے لگا
یہ دیکھو نینا “یہ کلر مجھ پہ کیسا لگے گا ؟
عینا نے کچھ کلرز شیڈ اسے دکھائے
اف عینا دنیا میں کپڑوں کے سوا بھی بہت ضروری کام ہیں نینا نے اسے پرے کیا جس پر عینا کا منہ لٹک گیا
نینا تم بہت کھڑو س ہوتی جا رہی ہو
تمہیں پتہ ہے میری دوست تمہیں ہٹلر دیدی کہتی ہیں اس نے دل کی بھراس نکالی
ا وہ سیریسلی
نینا نے ابرو ا چکائے
اور کیا ٹھیک ہی کہتی ہیں وہ ” ہا ہا ہا “اچھا مطلب تم بھی تو ہٹلر دیدی کی بہن ہوئی نا
نینا نے اسے چڑایا
تمہارے کپڑوں کا کلر نہیں سیلکٹ کروں گی
اس نے منہ بسورا “اچھا بابا ادھر آؤ “
نینا نے لیپ ٹاپ بند کیا اپنی لاڈلی بہن کو پاس بٹھایا دکھاؤ مجھے وہ کلر دیکھنے لگی
زوہا کو بھی تو دکھائیں اس کو ہم سے زیادہ ضرورت ہے کیوں کہ دلہن تو وہی ہے
اس نے عینا کو دیکھا ہاں میں اسے بلا کر لاتی ہوں عینا اٹھ کر بھاگی
نینا سب کچھ سمیٹ کر سائیڈ پر کیا اور گھنٹہ سر کھپا نا تھا اسے اب ان دونوں کے ساتھ اس کے ہونٹوں پہ خوبصورت سی مسکراہٹ بکھری
رشتے کتنے پیارے ہوتے ہیں ہماری ہر تھکن کو منٹوں میں سمیٹ کر ہمیں سکون فراہم کر دیتے ہیں
. . ************
وہ اس وقت فیملی کے ساتھ بیٹھی تھی شادی کی کچھ ضروری باتیں ڈسکس کی جا رہی تھیں جب اس کا موبائل بجنے لگا انجان نمبر دیکھ کر پہلے تو اس نے اگنور کیا
پر جب وہ بار بار بجنے لگا تو اس نے کال اٹینڈ کر لی
“ہیلو “
اس کی مترنم آواز کے جواب میں ایک گھمبیر مردانہ آواز ابھری جسے سن کر وہ چونکی
وہ آواز پہچان چکی تھی وہ ایک بار جو آواز سن لیتی تھی اسے کبھی نہیں بھولتی تھی
پھر بھی اس نے پوچھنا ضروری سمجھا
کون ؟
“شاہ “دھیمے سے انداز میں جواب آیا
نینا کے ماتھے پہ بل پڑے
تجھے نمبر کہاں سے ملا میرا
شاہ نے موبائل کو گھورا
یہ لڑکی کبھی تمیز سے بات نہیں کر سکتی ![]()
وہ اٹھ گئی وہاں سے “سیفی سے “
شاہ نے بس اتنا ہی کہا
یہ سیفی بھی نا نینا نے ایک موٹی سی گا لی دی دل ہی دل میں سیفی کو
اچھا بولو کیا بات ہے ؟نینا نے پوچھا
میں نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہے سدرہ بیان دینے کو تیار ہے
پر ۔۔۔۔۔۔۔پر ؟
نینا نے اس کے پر پہ اعترض کرنے والے انداز میں پوچھا پر پہلے وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے ایک بار شاہ نے اپنی بات مکمل کی
ٹھیک ہے کل میں اس سے مل لونگی
نینا نے بات ختم کر کے موبائل بند کیا اور واپس کمرے کی طرف بڑھ گئی
