Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 11
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 11
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
اس کے سامنے اس وقت اس لڑکے جس کا نام آیان تھا کا سارا بائیو ڈیٹا رکھا تھا
شاباش سیفی اس نے دل سے سیفی اور اسفند کی تعریف کی سب نے اپنا اپنا کام کر لیا تھا
اب نیکسٹ کیا کرنا ہے ؟
سب نے ایک دوسرے کو دیکھا
اب سدرہ کے ماں باپ سے ملنا ہے
اس نے با ری باری سب کو دیکھا یہ کام تمہیں ہی کرنا ہے سجیلہ نے اس کا کندھا تھپکا
شاہ اور تم چلے جاؤ ان سے ملنے
اس نے شاہ کو دیکھا “میں تیار ہوں””
شاہ نے سب کو اپنی طرف دیکھتا پا کر رضا مندی دی ٹھیک ہے سدرہ سے مل کر فیصلہ کرتے ہیں نینا نے بات ختم کر دی
اس نے کال کر کے بھائی کو بلا لیا تھا وہ سدرہ سے ملنے جا رہی تھی سجیلہ بھی ساتھ تھی ہمیشہ کی طرح
. . **************
ایک خستہ حال سے مکان کے سامنے وہ دونوں اس وقت کھڑے تھے جس کی دیواروں سے رنگ اتر کر جگہ جگہ سے اسے بد صورت بنا چکا تھا شاہ نے آگے بڑھ کر دروازہ بجایا
اندر سے ایک بوڑھا سا آدمی باہر نکلا
شاہ نے اپنا اور نینا کا تعا رف کروایا
سدرہ کی ماں سے ملنے کی درخوا ست کی
وہ ان کو ایک بیٹھک میں بٹھا کر اندر چلا گیا
کچھ دیر بعد ایک عورت اس مرد کے ساتھ اندر داخل ہوئی وہ دونوں سدرہ کے ماں باپ تھے شاہ نے بات شروع کی
ہم آپ لوگوں سے سدرہ کے بارے میں کچھ پوچھنا چاھتے ہیں وہ دونوں کچھ بھی بولنے سے انکاری تھے نینا نے باری باری دونوں کو دیکھا۔
اگر آپ لوگ اپنا یہ رویہ بدل لیتے تو آج آپ کی بیٹی زندہ ہوتی نینا نے سیدھا ان کے کلیجے پہ ہاتھ ڈالا تھا اس کی ماں یہ سنتے ہی رونے لگی ہائے میری بیٹی
اس کے باپ نے پوچھا
سدرہ مر چکی ہے ؟
جی ہاں وہ مر چکی ہے
نینا نے بے رحمی سے ان کے دل پر دوسرا وار کیا باپ کے چہرے پر بھی تکلیف کے اثار ابھرے اس میں آپ لوگوں کی بھی اتنی ہی غلطی ہے جتنی اس کی ہے اپنی اولاد کی بات بھی کبھی سن لینی چاہیے مانا آپ لوگوں نے دنیا دیکھی ہوتی ہے لیکن بچوں کو بھی فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہیے
اگر آپ لوگ اس کی بات مان جاتے تو بات یہیں ختم ہو جاتی کیوں کہ وہ لڑکا تو اس سے شادی کرنے والا ہی نہیں تھا
لیکن آپ لوگوں کی ضد کی وجہ سے اسے گھر چھوڑنے کی سوجھی وہ شاہ کے گھورنے کی پرواہ کیے بغیر بولتی رہی
وہ دونوں کچھ دیر روتے رہے
پھر سدرہ کی ماں نے آنسو صاف کیے
کاش ہم اس کی بات مان لیتے
تو آج ہماری بیٹی زندہ ہوتی
آپ کو آپ کی بیٹی اب بھی واپس مل سکتی ہے آنٹی اگر آپ لوگ اسے معاف کر کے گلے سے لگا لیں نینا کی بات سن کر سدرہ کی ماں چونکی
کیا میری بیٹی زندہ ہے ؟ہاں زندہ ہے
نینا نے سر ہلایا
وہ اٹھ کر نینا کے پاس آگئی کہاں ہے ؟کہاں ہے میری بیٹی مجھے اس کے پاس لے چلو مجھے اس کے پاس جانا ہے وہ پھر سے رونے لگی
نہیں آنٹی پہلے آپ وعدہ کریں کہ آپ لوگ ہمارا ساتھ دیں گے اور سدرہ کو دل سے اپنا ئیں گے
اب سدرہ کے ابو بھی اس سے پوچھنے لگے
وہ دھیرے دھیرے ان کو سب بتاتی چلی گئی
سب کہہ کر وہ ان دونوں کے چہروں کو دیکھنے لگی
بیٹا ہمیں ہماری غلطی کا احساس ھو گیا ہے
آپ جیسا کہو گے ہم ویسا ہی کریں گے
سدرہ کے باپ نے ایک عزم سے کہا
تو یقین رکھیں انکل ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں اس لڑکے کو اس کی سب غلطیوں کی سزا ملے گی اب وہ اور لڑکیوں کی زندگی برباد نہیں کر سکے گا
شاہ نے بھی ان کو یقین دلایا
کچھ اور باتیں ان سے طے کرنے کے بعد وہ دونو وہاں سے نکلے
شاہ اسے دیکھ رہا تھا
تم اتنی بری بھی نہیں ہو جتنی پہلی باردیکھنے پر میں نے سوچا تھا
نینا نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا تیرا مطلب ہے میں بری ہوں نہیں نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا
شاہ نے فوراً تصیح کی
وہ اسے روانی میں تم کہہ گیا تھا
اس نے سوری کہا
کہہ لو تم کوئی فرق نہیں پڑتا
نینا نے منہ بنایا
ایک تو تم لڑنے کو تیار ہو جاتی ہو فوراً “شاہ نے ناک سکیڑی ،،آپ سے تم کا فاصلہ چند لمحوں میں طے ہوا تھا
تیرا مطلب ہے میں لڑا کا ہوں
نہیں نہیں ہٹلر دیدی یونہی بولتے ہیں تمہیں لوگ شاہ نے بھی دل کی بھڑا س نکالی
WhATEVER
بھاڑ میں جائیں لیکن اس سے پہلے تو یہ بتا کہ میں کتنی بری ہوں تیرے حساب سے ؟
وہ اپنی کانچ جیسی آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی شاہ نے اس کے سراپے پہ نظر ڈالی
سفید پینٹ پہ ڈارک جامنی شرٹ پہنے دوپٹہ گلے میں ڈالے بال اونچی پونی ٹیل
میں با ندھے کانچ جیسی آنکھیں اس پہ جما ئے وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی شاہ نے بے اختیار نظریں چرائی
تم اچھی ہو بس اپنا یہ حلیہ ذرا سا چینج کر لو تو
شاہ نے گاڑی سٹارٹ کی اچھا بھلا تو حلیہ ہے
اور میں خود کو ایسے ہی پسند ہوں
نینا نے لا پرواہی سے کندھے اچکائے
شاہ نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا
تو اپنے کام سے کام رکھ میرا باپ بننے کی ضرورت نہیں ہے
آگے دیکھ کے گاڑی چلا
اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی نینا نے اسے ٹوک دیا شاہ نے ضبط سے اسے دیکھا
پتہ نہیں کیوں میں اس بد تمیز
لڑکی کو برداشت کرتا ہوں
اس نے دل ہی دل میں خود کو کوسا
وہ بہت مزے سے اپنے موبائل پہ ٹائپنگ میں مصروف ہو چکی تھی
سا را راستہ خاموشی سے گزرا
جب وہ اترنے لگی تو کچھ قدم دور جا کر واپس پلٹی
گاڑی کے کھلے شیشے پر جھکی
اور ہاں مسٹر شاہ ۔۔۔۔۔۔
“مجھ سے برا کوئی ہے بھی نہیں !
لیکن صرف برے لوگوں کے لئے “
وہ سیدھی ہوئی آنکھوں پہ ایک ادا سے چشمہ لگایا
اور مڑ کر چلی گئی
پیچھے شاہ خاموشی سے اس کی پشت کو دیکھتا رہ گیا
*************
باقی کے معا ملا ت بہت آسان تھے
سدرہ کے ماں باپ اس کے پاس آ چکے تھے
نینا کے کہنے پہ وہ لوگ اغوا کی ایف آئی آر بھی کٹوا چکے تھے اور انسپکٹر توصیف کو بلا کر سدرہ کا بیان بھی ریکارڈ کروا چکے تھے
نینا نے آیان کے خلاف سائبر کرائم میں بھی رپورٹ کر دی تھی
بس اب ان کو آیان کے گرفتار ہونے کا انتظار تھا
*************
وہ آج بہت سارے دنوں کے بعد دادا جی کے پاس بیٹھا تھا آج وہ اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رھا تھا وہ دادا جان کو ان سارے دنوں کی رودا د سنا رھا تھا
اور دادا جان بہت مزے سے سن رہے تھے
لاسٹ ٹائم کی نینا کی اور اپنی گفتگو دادا جان کو بتا تے ہوئے وہ بولا
وہ لڑکی اتنی بری بھی نہیں ہے جتنی میں سوچتا تھا
دادا جان نے اسے دیکھا
بیٹا برا ہونا ایک الگ چیز ہوتی ہے
اور بری عادا ت رکھنا ایک الگ چیز
برا انسان وہ ہوتا ہے جس کا کردار برا ہو
جو اندر سے برا ہو ،جو ظالم ہو ،جو دوسروں کا حق کھائے،جو دیدہ دلیری سے گناہ کرے
جب کے جو لوگ دوسروں کا بھلا کریں کسی بھی طرح سے کسی بھی طریقے سے انسانیت کو فائدہ پہنچائیں جو اندر سے خوبصورت اور ہمدرد دل رکھتے ہوں
وہ لوگ برے نہیں ہوتے ہاں ان کی کچھ عادا ت بری ہو سکتی ہیں جو ان سے چھڑ وائی جا سکتی ہیں اور وہ دنیا کے بہترین انسان بن سکتے ہیں
کیونکہ وہ فطر تاً برے نہیں ہوتے
وہ غور سے دادا جان کی باتیں سن رہا تھا
اس کے چہرے پر گہری سوچ کی پرچھائیاں تھی
*************
آج سب بہت خوش تھے
آیان کو گرفتار کر لیا گیا تھا
اور سدرہ اپنے گھر جا چکی تھی
جاتے ہوئے وہ ان سب کو بہت ساری دعائیں دے کر گۓ تھے نینا خاص طور پر سدرہ سے ملی تھی آج سدرہ بھی خوش تھی اور نینا کو دیکھ کر اس نے شکریہ بھی ادا کیا
نینا مسکرا دی اس کی ضرورت نہیں ہے
ہاں اگر زندگی میں کسی اور کو تمہاری مدد کی ضرورت ہو تو اسکی مدد کرو
کوشش کرو زندگی میں
کچھ اچھا کر سکو
اور پھر سے وہی کہوں گی
جب آپ کے پاس مرنے کی سو وجوہات ہوں
وہیں آپ کے پاس جینے کی بھی کوئی نا کوئی ایک وجہ تو ھوگی ہی نا
تو اس ایک وجہ سے جینا شروع کر دو
اپنے لئے جینے کی وجہ نہیں ہے تو دوسروں کے لئے جینا شروع کر دو
تم دنیا کے ہر غم سے آزاد ہو جاؤ گے
اور سدرہ نے اس کی باتیں ذہن نشیں کر لی تھی وہ واپس آئی تو سجیلہ بھی اس کے ساتھ تھی وہ اسے لئے سیدھی اپنے روم میں گئی ابھی ایک لاسٹ کام تو رہتا تھا
اس نے لیپ ٹاپ اٹھایا
آئی ڈی اوپن کی اور وہ سارے سکرین شارٹ آیان کی وال پر پوسٹ کر دیے
سجیلہ کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی
تو نہیں سدھرے گی
پاگل
ہاہا ہا خوش رہنے کے لئے پاگل پنتی بھی ضروری ہوتی ہے ڈارلنگ
نینا نے ہائی فائی کو ہاتھ اٹھا یا
تو اور تیرے فلسفے
سجیلہ نے ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ سے ہاتھ ٹکرا یا
چل پارٹی کرتے ہیں
اس نے سجیلہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف جاتے ہو ئے کہا
اور سجیلہ اس کے ساتھ چل دی
**************
کمرے میں اس وقت خواب نا ک سا ماحول تھا ہلکا ہلکا اندھیرا اور دھواں سا تھا
ایک ہلکی خوشبو سب کو اپنے حصار میں لئے ہوئے تھی ہلکے میو زک پہ وہ سب ناچ رہی تھیں سب کے ہنستے مسکراتے چہرے نیم اندھیرے میں ایک حسین منظر پیش کر رہے تھے ایک طرف کوک کی بوتلیں اور جو س کےخالی ڈبےاور چوکلیٹ کے ریپر پڑے تھے پیزا کے ڈبے پڑے تھے
وہ اپنے حال میں مست لڑکیاں پارٹی کرنے میں مصروف تھیں
ان میں نینا ،سجیلہ ،زوہا ، سحر ، عینا ، اور نینا کی بھابی رمشا شامل تھیں یہ وہ لوگ تھے جو زندگی کو گزارتے نہیں جیتے تھے
جو ہر پل کو اپنے انداز میں جینے کے عادی تھے زندگی بھی جیسے ان کے ساتھ مسکرا رہی تھی
*************
آج پھر وہ سب گول میز کے گرد بیٹھے تھے
آج بھی شاہ ان کے بیچ بیٹھا تھا
وہ ان سب کا شکریہ ادا کرنے آیا تھا
ہر چیز جیسے اپنے زاویے میں فٹ تھی
لیکن کوئی نہیں جانتا تھا
کہ کہیں کوئی زاویہ بگڑ نے لگا تھا
وہ یونہی اپنے پیج پر مسیج چیک کر رہی تھی جب اسے ایک نوٹیفیکیشن ملا
شاہ نے اسے اپنے کسی گروپ کا ایڈمین بنایا تھا اس نے کچھ سوچا پھر ایکسپٹ کو کلیک کیا ان باکس شاہ کا مسیج آیا تھا
شکریہ اس نے جواب دینے کی بجائے سوال داغ دیا اسکی وجہ بتا سکتا ہے ؟
فوراً جواب آیا تھا
بس مجھے اچھا لگے گا اگر تم میرے ساتھ کام کرو لیکن میرے پاس ٹائم نہیں ہوتا
اس نے صاف صاف بتایا
کوئی بات نہیں چلے گا
شاہ کا ریپلائی آیا تھا “اوکے “
نینا نے بات ختم کی اور آف ہو گئی
************
محرم شروع ہو چکا تھا
شہر میں امام بارگاہ آباد ہو چکے تھے
جگہ جگہ سے جلوس نکالے جا رہے تھے
شاہ اسے اب کم ہی نظر آتا
اور وہ نوٹ بھی نہیں کرتی تھی
یا یوں کہہ لیں کہ اسے فرق ہی نہیں پڑتا تھا
لیکن شام کو گروپ میں ایک پوسٹ دیکھ کر وہ بھی کومنٹ کرنے چلی آئی
نیاز بنانے کے بارے پوسٹ تھی شاہ کی اس نے بھی کومنٹ کے دیا
شاہ نے جواب میں اسے ان باکس کیا تھا
نیاز کھاؤ گی ؟
تو بنائے گا ؟
نینا نے بھی مذاق میں پوچھ لیا
ہاں نا
شاہ کا جواب آیا
تجھے بنانی آتی ہے
نینا نے حیران ہو کر پوچھا
اور کیا آتی ہے مجھے
شاہ کا جواب تھا
ہم لوگ کل بنائیں گے میں خود بناؤں گا
تم کھاؤ گی ؟
کھلا دینا اس نے یونہی بول دیا
اوکے ٹھیک ہے
جواب آیا تھا
اور اگلے دن اس کے گھر کھیر پہنچ چکی تھی
نینا کو تو یاد بھی نہیں تھا پر جب پتہ چلا تو وہ حیران ہو گئی شاہ نے واقع نیاز بھیج دی
اس کے کسی یو نیورسٹی فیلو کے گھر سے نیاز آئی تھی جب اسے پتہ لگا تو پہلے تو یقین ہی نا ہوا خیر
کھیر مزے کی تھی
اس نے شوق سے کھائی ویسے بھی کھیر اس کی موسٹ فیورٹ تھی شام کو جب وہ آن گئی تو اسے شاہ کا مسیج ملا
کھیر پسند آئی ؟
تونے تو سچ میں بھیج دی مجھے لگا تو مذاق کر رہا ہے اس نے سچی بات بول دی
ارے نہیں جناب میں نے تو مذاق میں نہیں پوچھا تھا
اچھا خیر مزے کی تھی “شکریہ “
نینا نے مروتاً کہا
کوئی بات نہیں شاہ نے کہا
ویسے کیا وہ تونے خود بنائی تھی
نینا نے پھر سے پوچھا ہاں میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی تھی
شاہ نے اسے یقین دلایا “اچھا “
وہ بس یہی بول پائی
ایک بات بولوں ؟
شاہ نے کچھ کہنے کی اجازت چاہی
ہاں بول ؟نینا نے اجازت دی
یہ “تو ” نا بولا کرو مجھے
اچھا پھر کیا بولوں تجھے ؟
مجھ سے یہ آپ جناب والے تقلفات نہیں ہوتے
نینا کو ہنسی آئی “تم کہہ لو “
پر تو نا بولا کرو کتنا برا لگتا ہے شاہ نے اسے سمجھایا ،میں تو سب کو ایسے ہی بولتی ہوں نینا نے کہا “پر مجھے نا بولا کرو نا “
شاہ نے اصرار کیا “اچھا ٹھیک ہے “
پہلی بار اس نے کوئی کڑ وا جواب دینے کی بجائے اس کی بات خاموشی سے مان لی تھی
یہ نرمی اس کے مزاج کا حصہ نہیں تھی
پر پھر بھی وہ نرم پڑ گئی تھی پتہ نہیں کیوں “اور عورت کی بربادی وہاں سے شروع ہو جاتی ہے جب وہ کسی نا محرم مرد کے ساتھ نرمی سے پیش آتی ہے
