Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 27
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 27
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
آگ بہت تیز تھی یوں لگتا تھا جیسے ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دے گی
وہ جتنا تیز دوڑ سکتی تھی اتنا تیز دوڑ رہی تھی ![]()
لیکن پھر بھی وہ آگ اسے نگلنے کو بے تا بی سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی ![]()
![]()
وہ بری طرح سے چیخ رہی تھی
اور مدد کے لئے پکار رہی تھی لیکن اس کی مدد کرنے والا کوئی نا تھا
آگ نے اسے پوری طرح سے گھیر لیا تھا
اس نے زور۔ سے آنکھیں بند کی
دوسرے ہی پل ہر طرف خاموشی چھا گئی
اس نے آنکھیں کھولی سر پر بلو چھت اس نے گردن موڑی پنک دیواریں
ملگجے اندھیرے میں بھی وہ صاف دیکھ سکتی تھی
وہ ایک دم سے اٹھ بیٹھی
یہ تو میرا کمرہ ہے ![]()
اس نے چارو طرف دیکھا وہ اپنے کمرے میں اپنے بیڈ پر بیٹھی تھی
اس نے لیمپ آن کیا
اسے اپنا جسم جھلستا ہوا محسوس ہوا
جیسے آگ کے بے حد قریب سے ہو کر گزری ہے
تو وہ اب کونسی آگ میں جلنے والی تھی ؟
نینا نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر تے ہو ئے سوچا ![]()
![]()
***********************
کچھ لوگوں کو ہم اپنے دل میں اتنا اونچا مقام دے دیتے ہیں کہ پھر جب وہ لوگ اپنے مقام سے نیچے آ ئیں تو ان سے زیادہ ہمیں خود تکلیف ہوتی ہے ![]()
اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا
وہ شاہ کے بارے میں کچھ غلط سوچ بھی نہیں سکتی تھی
اسے شاہ پر خود سے زیادہ بھروسہ تھا وہ غصے میں اس سے جتنا مرضی جھگڑ لے جو مرضی بول لے لیکن اسے یقین تھا شاہ کچھ غلط کبھی کر ہی نہیں سکتا ![]()
لیکن اس کا دل بھی بار بار کسی طرح اشارہ کر رہا تھا
اس نے 2 ہی دن میں اس لڑکی ایڈ مین سے دوستی کر لی تھی اور اتنی قریب ہو گئی تھی کہ وہ اسے اپنا ہر راز دینے کو تیار تھی
دوپہر کا وقت تھا
وہ نماز پڑھ کر آئی تو نوٹیفکیشن دیکھ کر اس نے گروپ پر نظر ماری شاہ نے اسے ایڈمن لگایا تھا
تھوڑی دیر میں شاہ کا میسج ملا اسے
تمہیں ایڈمین لگا دیا ہے
اچھا
اس نے بس اچھا کہنے پہ اکتفا کیا
ہاں عروج تو کہہ رہی تھی موڈریٹر لگانا لیکن میں نے ایڈمین لگا دیا ہے ![]()
شاہ کا میسج دیکھ کر اس کے دل کو عجیب سی تکلیف ہوئی
تو نا لگاتے اگر اسے اچھا نہیں لگتا تو
نا چاھتے ہو ئے بھی وہ تلخ ہوئی
بس لگا دیا ہے اب ممبر ایڈ کرنا اور گروپ کا خیال رکھنا ![]()
شاہ نے اسے تاکید کی
ٹھیک ہے
اس نے حامی بھر لی
وہ جا چکا تھا زمہ داری دے کر وہ کتنی ہی دیر یونہی بیٹھی رہی سکرین کو دیکھتی رہی
تو اب وہ صرف ذمہ داری اٹھا نے کے لئے تھی ؟
اسے عجیب عجیب سے خیال آ رہے تھے اس کا دل جا نے کیوں بجھ سا گیا تھا ![]()
**********************
وہ جب بھی آن ہوتی عروج کی محبت بھری پوسٹس اسے نظر آتی جو شاہ کو ٹیگ کی گئی ہوتیں ![]()
وہ کومنٹ کرتا اکثر باتیں کرتے رهتے پوسٹ پر نینا چپ چاپ دیکھتی رہتی ![]()
باوجود ضبط کے اس کا دل دکھنے لگتا
اس کا دل چاہتا وہ کہیں دور بھاگ جا ئے
ان سب سے
وہ اپنے آپ سے ہی لڑ لڑ کر تھک رہی تھی
دوسرے دن اس نے عروج سے باتوں باتوں میں پوچھ ہی لیا
سسٹر آپ سنگل ہیں ؟
اس پر وہ ذرا سا شرمائی
نہیں
میں کسی کو چاہتی ہوں اور وہ بھی مجھے بے تحاشا چاھتے ہیں ![]()
ارے واہ کون ہے وہ خوش قسمت انسان ؟
نینا نے پوچھا
سسٹر انہوں نے منع کیا ہے کسی کو بھی بتانے سے ![]()
عروج نے نام نا بتاتے ہو ئے کہا
لو یار میں کونسا کسی کو بتانے لگی ہوں
اس نے اصرار کیا
اچھا بتاتی ہوں آپ پلیز کسی کو بتانا مت
عروج نے کہا
ٹھیک ہے نہیں بتاتی ![]()
نینا نے حامی بھری
شاہ
علی شاہ ہیں وہ اپنے گروپ کے ایڈمین ![]()
وہیں ہیں میرے سب کچھ ![]()
عروج نے شرماتے ہوئے کہا
اسے لگا زمین و آسمان کی گردش تھم گئی ہے
جیسے ساری کائنات رک گئی ہو
اسے لگا اس کا وجود ریزہ ریزہ ہو رہا ہے ![]()
دھڑکن جیسے تھم گئی تھی
اسکا سر چکرانے لگا
عروج اس کی حالت سے بے خبر کہے جا رہی تھی
انہوں نے خود مجھ سے بات کرنی شروع کی پھر واٹس اپ مانگا پھر کال پہ بات ہونے لگی
پھر انہوں نے مجھے بہت سارے رومینٹک سونگ سینڈ کیے
میں نے پوچھا کیا یہ صرف گانے ہیں ؟
تو وہ بولے نہیں یہ میرے جذبات ہیں ![]()
پھر انہوں نے خود مجھے
I love u بولا تو میں نے بھی جواب میں ہاں بول دیا ![]()
نینا میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں جو وہ مجھے ملے ہیں ![]()
وہ خوشی سے بتا رہی تھی اور نینا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا جواب دے
اسے پتہ ہی نا چلا کب اس کے آنسو اس کے گال بھگوتے گود میں گرنے لگے
اور آپ کی کیا کہانی ہے ؟
اب عروج اس سے پوچھ رہی تھی
میری ….کوئی کہانی نہیں ہے میری کہانی ختم ہو چکی ہے ہم دونوں کے بیچ کوئی اور آ گیا ہے ![]()
![]()
نینا بس اتنا بول کر آف ہو گئی
وہ کتنی ہی دیر خاموشی سے ویران سکرین کو دیکھے گئی
اسے اپنا آپ بھی ایسے ہی ویران لگ رہا تھا![]()
کافی دیر بعد موبائل کی گھنٹی بجی تو اسے ہوش آیا
اس نے بے دردی سے اپنے گال رگڑے
آنکھیں صاف کی
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا
وہ لڑکی جھوٹ بولتی ہے ![]()
میرا شاہ ایسا نہیں کر سکتا
وہ ایسا نہیں ہے
وہ تو اللّه سے بہت پیار کرتا ہے
وہ تو اللّه کے بہت قریب ہے
وہ کیسے خیانت کر سکتا ہے
وہ کیسے دھوکہ دے سکتا ہے
وہ کیسے جھوٹ بول سکتا ہے
جو لوگ اللّه کے قریب ہوتے ہیں وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے
نہیں نہیں یہ سب کوئی غلط فہمی ہے
شاہ ایمان دار انسان ہے وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا
وہ اللّه سے …….
ہاں اللّه …
مجھے اللّه سے بات کرنی چاہیے
وہ بے ربط جملے بول رہی تھی خود ہی بڑ بڑا رہی تھی خود کو سمجھا رہی تھی
اسے یقین تھا شاہ ایسا نہیں کر سکتا
ٹھیک ہے وہ چھوٹی موٹی باتوں کے لئے اس سے جھوٹ بول سکتا ہے
کچھ چھپا سکتا ہے لیکن اتنی بڑی بات نہیں نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتا
وہ خود کو تسلی دیتی اٹھی
جلدی جلدی سے وضو کر کے جائے نماز پر بیٹھ گئی
اللّه جی سنا آپ نے سب ![]()
وہ جو خود کو تسلیاں دے رہی تھی یہاں اس مہربان رب کے سامنے اسکا ضبط جواب دے گیا
کیا یہ سچ ہے ؟
مجھے بتائیں اللّه جی ؟
شاہ ایسا کر سکتا ہے کیا ؟
آپ نے سنا اس لڑکی نے کیا کہا ؟
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
نہیں مجھے یقین نہیں ہے میرا شاہ ایسا نہیں کر سکتا ![]()
آپ بھی جانتے ہیں نا کہ وہ کتنا اچھا انسان ہے
آپ تو سب جانتے ہیں نا ![]()
مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے آپ میری تکلیف سے بھی آگاہ ہیں نا
پلیز کچھ کریں نا آپ
مجھے بتا ئیں نا سچ کیا ہے ؟
اب کیا کروں میں ؟
میری۔ مدد کریں
وہ بری طرح سے رو رہی تھی
اور یوں باتیں کر رہی تھی جیسے اللّه اس کے بے حد قریب ہے اور ہر لفظ سن رہا ہے
وہ روتی رہی باتیں کرتی رہی
جب رو رو کر تھک گئی تو اٹھ کر صوفے پر بیٹھ گئی
عروج کی باتیں اس کے دماغ میں بار بار گھوم رہی تھیں
اس کے کانوں نے شاہ کی آواز سنی
تم کیا کسی حور سے کم ہو ؟
فلش بیک سے اسے اپنی آواز آئی
ہاں ہاں تم لوگوں کو تو جنت میں حوریں ملیں گی ![]()
تم کیا کسی حور سے کم ہو ؟
شاہ نے شرارت سے ہنس کر کہا
یہ تو بس یہاں کی باتیں ہیں جنت میں تو تم نے مجھے پوچھنا بھی نہیں ![]()
![]()
نینا نے برا سا منہ بنایا
ارے نہیں میری جان شاہ ![]()
فکر مت کرو میں تو جنت میں بھی ساری حو روں کو تمہاری خاطر داری میں لگا دونگا میں کہوں گا
تم لوگ بس میری جان شاہ کا خیال رکھو
اور میرے لئے تو بس تم ہی کافی ہو اور وہاں بھی بس تم ہی کافی ہو گی مجھے ![]()
![]()
شاہ نے محبت سے کہا
وہ بے اختیار بلش ہوئی ![]()
![]()
![]()
کیا شاہ تم بھی ![]()
میں بھی کیا ؟
شاہ نے ہمیشہ کی طرح پوچھا
بہت خراب ہو ![]()
![]()
نینا نے ہمیشہ کی طرح کہا
شاہ کا ہلکا سا قہقہہ گو نجا
میں نے کیا کیا ہے ؟
تم مردوں کا کیا بھروسہ تم وہاں مکر جاؤ اپنی بات سے تو ![]()
نینا نے اسے تنگ کیا
تو کیا تم مجھے بھی عام مردوں جیسا سمجھتی ہو ؟
شاہ نے حیرت سے پوچھا تھا
نا تمہیں سب سے الگ سمجھتی ہوں اسی لئے تو تم میرے دل تک پہنچ آ ئے ![]()
![]()
نینا نے مسکرا کر کہا
شاہ بے اختیار مسکرا یا تھا ![]()
وہ حال میں لوٹ آئی
پرانی باتیں یاد کر کے اس کا یقین اور پختہ ہو گیا شاہ ایسا نہیں کر سکتا وہ عام لوگوں جیسا نہیں ہے ![]()
اس نے اپنے آنسو صاف کیے منہ تکیے میں دیا اور آنکھیں بند کر لی
اور ہمیں لوگ دھوکہ نہیں دیتے یقین کریں ہمیں وہ یقین دھوکہ دیتا ہے جو ہم دوسروں پر حد سے زیادہ کر بیٹھتے ہیں ![]()
![]()
**********************
موبائل کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی
پر وہ فون نہیں اٹھا رہی تھی
اس نے جھنجھلا کر کال کٹ کی اور دوسرا نمبر ملایا
وہاں بھی بیل جا رہی تھی پر کوئی اٹھا نہیں رہا تھا
وہ کال کٹ کرنے ہی والا تھا جب فون اٹھا لیا گیا
دوسری طرف سے اس کی سوئی سوئی سی آواز ا بھری
ہیلو
اس نے سلام کیا
سلام کا جواب دے کر وہ خاموش ہو گئی تھی
“نینا “
اس نے آواز دی
ہاں بولو سن رہی ہوں
بے تاثر سے انداز میں اس نے کہا
تم ٹھیک ہو ؟
نا جانے کیوں اسے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا
ہاں مجھے کیا ہونا ہے
نینا نے اسی انداز میں جواب دیا
تم روتی رہی ہو ؟
اس نے حیرت سے پوچھا
کیونکہ نینا اور رونا 2الگ الگ باتیں تھیں
نہیں تو نینا نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا
اسے یاد آیا وہ کتنی دیر روتی رہی تھی
کوئی مسلہ ہے تو بتاؤ میں سب ٹھیک کر دوں گا ![]()
اس نے عجیب انداز میں کہا
نہیں کوئی مسلہ نہیں ہے توصیف تم بتاؤ کیسے فون کیا ؟
نینا نے سا منے آئینے میں خود کو دیکھتے ہو ئے کہا
اس کی کانچ جیسی آنکھیں لال ہو رہی تھیں اور رونے سے سوج چکی تھیں اسکی کھڑی کھڑی تیکھی سی ناک ریڈ ہو رہی تھی
اس کے حلق میں ابھی تک آنسوؤں کی نمی گھلی تھی ![]()
کاش میں تمہیں بتا سکتی توصیف کہ مجھے کیا ہوا ہے
پر وہ کسی کو بتا کر اپنا بھرم نہیں کھونا چاہتی تھی ![]()
ہاں ایک کام تھا یار ایک چھوٹا سا مسلہ ہے
دوسری طرف توصیف کہہ رہا تھا
توصیف میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے تم پلیز سجیلہ کو کال کر لو
نینا نے اسے ٹالا اس وقت وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی
کی ہے کال وہ اٹھا نہیں رہی
توصیف نے بتایا
وہ مدرسے میں ہوگی
تم ایسا کرو سیفی سے مل لو
نینا نے نیا راستہ دکھایا
ٹھیک ہے میں سیفی سے رابطہ کر لیتا ہوں
تم ٹھیک ہو نا ؟
اس نے پھر سے نینا سے پوچھا
ہاں بس تھوڑا سر درد ہے
نینا نے کنپٹی مسلی
ڈاکٹر کو دکھا لینا لازمی
توصیف نے فکر مندی سے کہا
ہاں دکھا لونگی نینا نے اللّه حافظ بول کر کال بند کر دی
تمہیں کیسے بتاؤں توصیف کہ میرا روگ کسی ڈاکٹر کے بس کی بات نہیں ہے
اور جس کے پاس علاج ہے اسے پرواہ ہی نہیں ![]()
اللّه کسی کو کبھی کسی کی محبت کا محتاج نہ کرے ![]()
![]()
***********************
نینا آؤ کھانا کھا لو
عینا اسے کھا نے پہ بلانے آئی تھی
مجھے بھوک نہیں ہے
اس نے تکیہ آنکھوں پر رکھا
کیا ہوا ہے ؟
تم ٹھیک ہو ؟
عینا نے آگے بڑھ کر تکیہ ہٹایا
ہاں میں ٹھیک ہوں بس سر میں درد ہے تھوڑا
نینا نے پھر سے وہی بہانہ بنایا
اچھا میں ٹیبلٹ لاتی ہوں وہ کھا لو
عینا اس کی فکر کرتی باہر نکلی
نینا نے پھر سے تکیہ آنکھوں پر رکھا
وہ دوپہر سے اب تک باہر نہیں نکلی تھی
وہ مسلسل یہی سوچ رہی تھی کہ اب کیا کرے ؟
ٹھیک ہے مجھے شاہ سے بات کرنی ہوگی میں اس سے پوچھ لیتی ہوں یہ سب کیا معاملہ ہے ![]()
یہی سوچتے ہو ئے اس نے شاہ کو میسج کیا
کافی دیر تک کوئی جواب نا آیا تو اس نے دوسرا میسج کیا
“ایک بات بتاؤں “
کچھ دیر بعد جواب آگیا
ہاں بتاؤ
آج میری عروج سے بات ہوئی
اس نے محتاط انداز میں بات کا آ غاز کیا
اچھی لڑکی ہے وہ بس بیچاری مصیبتو ں کی ماری ہوئی ہے
شاہ نے افسوس سے کہا
وہ ایک لمحے کو۔ چپ ہو گئی
ہم دونوں کافی قریب آگئی ہیں ایک دو سرے کے اتنے کہ ہم نے ایک دوسرے سے ذاتی سوالات بھی کیے ![]()
نینا نے بات بڑھائی
اچھا
شاہ نے بس اتنا کہا
اور ایک عجیب بات بتاؤں
نینا نے عجیب انداز میں کہا
ہاں بتاؤ نا
شاہ نے اجازت دی
بد قسمتی سے اس کا اور میرا لوور ایک ہی نکلا ![]()
![]()
نینا نے ٹوٹے انداز میں کہا
ہاہا ہاہا اچھا
شاہ نے قہقہہ لگایا
تو پھر ؟
پھر یہ مسٹر شاہ اب تم مجھے بتاؤ گے کہ یہ سب کیا چل رہا ہے ؟
نینا نے پوچھا
کچھ نہیں یار تم کچھ بھی الٹا سیدھا مت سوچنا میں تمہیں پوری بات بتاؤں گا کال پر سمجھاؤں گا کہ یہ سب کیا ہے ![]()
شاہ نے عام سے لہجے میں کہا جیسے اس کے لئے یہ عام سی بات ہو
ٹھیک ہے
نینا نے بس اتنا ہی کہا
ویسے کیا تم نے واقع اسے i love u کہا تھا ؟
نینا نے دکھے دل سے پوچھا
میں نے نہیں اس نے مجھ سے کہا تھا
شاہ نے تصیح کی
وہ تو کہہ رہی تھی تم نے کہا تھا ![]()
نینا کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ سچ ہے ![]()
میں نے نہیں کہا
شاہ کا موڈ خراب ہو چکا تھا
تم نے اس سے کہا یا اس نے تم سے مجھے کیا پتہ تم دونوں کو پتہ کیسے تم لوگ مجھے دھوکہ دیتے رہے ![]()
نینا نا چاہتے ہو ئے بھی تلخ ہو گئی تھی
میں نے تمہیں کوئی دھوکہ نہیں دیا اوکے
شاہ نے بھی تلخی سے جواب دیا
اسکا مطلب جو کچھ اس نے کہا سب سچ ہے ![]()
نینا کو جیسے صدمہ لگا
اف ایک تو تم سوچتی بہت ہو اور جب بھی سوچتی۔ ہو غلط ہی سوچتی ہو
شاہ جھنجھلا یا
ہاں میں ہی غلط ہوں میں غلط سوچتی ہوں اور تم جو کچھ کرتے پھر تے ہو وہ صحیح ہے ![]()
نینا بھی بھری بیٹھی تھی
تم پھر شروع ہو گئی تمہاری یہی عادت بہت بری لگتی ہے مجھے ![]()
شاہ نے اکتا کر کہا
ہاں اب تو میں اور میری باتیں تمہیں بری ہی لگیں گی
نینا کا دل دکھ سے بھر گیا
شٹ اپ یار ![]()
شاہ نے اسے جھڑک دیا
ابھی کال کرو مجھے بتاؤ سب ابھی
نینا نے ضدی انداز میں کہا
کوئی کال نہیں کر رہا میں اور نا ہی کچھ بتا رہا ہوں جو مرضی سوچو
شاہ نے دوٹوک انداز میں کہا
کیوں نہیں کرو گے کال ابھی تو تم نے کہا تھا کال پر بتاؤں گا
نینا نے کہا
میں کچھ نہیں بتا رہا نا بتانے کی ضرورت سمجھتا ھوں
شاہ نے رو کھے سے انداز میں کہا
وہ کال کرنے لگی
پر شاہ فون نہیں اٹھا رہا تھا
وہ پاگلوں کی طرح اسے بار بار فون ملانے لگی
اسے پتہ ہی نا چلا کب اس کے آنسو بہنے لگے
اس کا دماغ اس وقت ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا ![]()
اس کا دل چاہ رہا تھا موبائل دیوار میں دے ما رے
شاہ ایسا کیسے کر سکتا ہے میرے ساتھ ![]()
اتنا سب کر کے اب بات بھی نہیں سن رہا اب اگنور کر رہا ہے مجھے غلطی بھی اسکی ہے اور نخرے بھی مجھے دکھا رہا ہے اسے اب غصہ آنے لگا تھا
اس نے تھک کر موبائل گود میں رکھا اور
خالی خالی نظروں سے دیواروں کو تکے گئی
کافی دیر بعد جب سکون نا آیا تو اس نے پھر شاہ کو میسج کیا
شاہ میں آخری بار کال کر رہی ھوں اٹھاؤ
ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
کوئی جواب نا آیا تو اس نے کال کی لیکن اس نے پھر بھی کال نا اٹھا ئی
وہ بار بار میسج کرنے لگی
بہت دیر بعد شاہ کا میسج آیا
مت کرنا کال اب کبھی بھی مت کرنا
مجھے کوئی بات نہیں کرنی
نینا نے آنسو صاف کیے
ہاں اب کیوں کرو گے تم مجھ سے بات۔
بات کرنے کو اور تھوڑ ے لوگ ہیں ![]()
نینا نے بھی میسج لکھ بھیجا
جو مرضی سوچو اور جو مرضی کرو مجھے پرواہ نہیں ![]()
شاہ نے روکھے انداز میں کہا
اسکا مطلب وہ تمہاری گرل فرینڈ ہے ؟![]()
نینا نے زہر خند انداز میں پوچھا
ہاں ہے
شاہ کا جواب دیکھ کر اس کا سر گھومنے لگا
تو میں کون ھوں شاہ ؟
اس کے آنسو پھر سے بہنے لگے تھے
تم اپنے ماں باپ کی بیٹی ![]()
شاہ نے دوٹوک انداز میں کہا
اسے لگا اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا ہے اسے سانس لینے میں مشکل پیش آئ
تمہیں اب اس سے محبت ہے ؟
نینا نے دھندلی آنکھیں صاف کر کے سکرین کو دیکھا
ہاں ہے مجھے اس سے محبت اور میں اس سے نکاح کروں گا بس یا کچھ اور بھی سننا ہے ؟
شاہ نے کہا
شاہ کا جواب پڑھ کر اس کی آنکھیں پھر سے دھندلائی تھیں ![]()
![]()
نینا کو لگا دنیا ختم ہو گئی ہے وہ دنیا کے آخری سرے پے کھڑی ہے اس کا کوئی نہیں رہا اس کی ٹانگیں بے جان ہونے لگی
ٹھیک ہے ![]()
نینا نے بس اتنا کہا
جواب آنا بند ہو چکا تھا
وہ موبائل کی سکرین پہ نظریں جما ئے بیٹھی تھی
اسے لگا اس کے دل کو کوئی خنجر سے کاٹ رہا ہے
کچھ ایسی ہی اذیت محسوس ہو رہی تھی اسے
اسے لگا اس کے جسم سے قطرہ قطرہ خون نچوڑہ جا رہا ہے ![]()
اس کا دماغ خالی ہو۔ چکا تھا اسے اب کوئی بھی سوچ پریشان نہیں کر رہی تھی
وہ جیسے ہر چیز سے آزاد ہو چکی تھی اس کا دماغ اس کا ساتھ چھوڑ چکا تھا صدمہ اتنا گہرا تھا کہ وہ جیسے سکتے میں آگئی تھی
وہ خاموشی سے خالی الذہنی سے سامنے دیوار کو دیکھنے لگی وہ لڑکی جو من پسند شرٹ کھو جانے پر پورا گھر سر پر اٹھا لیتی تھی آج محبت کھو کر بالکل خاموش بیٹھی تھی ![]()
اسے پتہ ہی نا چلا کب اس کی آنکھیں بند ہوئی اور وہ بیڈ پر گری
ہمیں لوگ تباہ نہیں کرتے ہمیں لوگوں سے جڑی ہماری بے جا امیدیں تباہ کر دیتی ہیں ![]()
![]()
![]()
********************
رات بہت خاموش تھی دور کہیں سے اذان کی آواز آ رہی تھی اور رات کے اس آخری پہر کو خوبصورت سی تازگی بخش رہی تھی
اس کی آنکھ مسلسل بجتے موبائل سے کھلی تھی
اس نے ادھ کھلی آنکھوں سے موبائل اٹھا کر دیکھا
سجیلہ کا نام دیکھ کر اس نے جلدی سے موبائل کان سے لگایا
ہیلو سجیلہ
دوسری طرف سے سجیلہ کے رونے کی آواز آ رہی تھی
وہ گھبرا گیا
کیا ہوا سجیلہ ؟
توصیف وہ نینا سجیلہ روتے ہو ئے بس اتنا ہی بول پائی تھی
اس کا دل دھک سے رہ گیا
نینا ….
کیا ہوا نینا کو تم رو کیوں رہی ہو ؟
وہ ایک دم سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اسکی نیند ہوا ہو چکی تھی ![]()
تم جلدی سے ہسپتال آجاؤ
سجیلہ نے اتنا کہہ کر فون بند کر دیا تھا
وہ موبائل کو گھورنے لگا اڈریس اسے وہ ایس ایم ایس کر چکی تھی
اس نے موبائل اٹھا یا اور پاگلوں کی طرح باہر بھاگا
وہ تیزی سے ہسپتال کی طرف جا رہا تھا اس کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں اور دل سے بے اختیار نینا کے لئے دعا ئیں نکل رہی تھیں
وہ سوچ رہا تھا شاید کسی دشمن نے کوئی نقصان پہنچا یا ہو
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ جتنا شدید نقصان انسان کو اپنے پہنچا تے ہیں اتنا کوئی غیر نہیں پہنچا سکتا ![]()
![]()
![]()
********************
اسکا نروس بریک ڈاؤن ہوتے ہوتے بچا تھا ![]()
وہ اب خطر ے سے باہر تھی لیکن ابھی بھی وہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھی
اس وقت سب لوگ اس کے ارد گرد موجود تھے سوا ئے اس ایک شخص کے جس کے لئے اس کی یہ حالت ہو رہی تھی ![]()
اسکا پورا گروپ وہاں موجود تھا
سبھی کے چہرے اتر ے ہو ئے تھے
ان کی ہٹلر دید ی کو نا جانے کس کی نظر لگ گئی تھی ![]()
سجیلہ اور سحر رو رو کر چپ ہو گئی تھیں اس کی مما کا بھی یہی حال تھا
ملک توقیر جو پہلے ہی کچھ عر صے سے مشکلات سے لڑ رہے تھے لاڈلی بیٹی کو اس حال میں دیکھ کر ان کا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا
توصیف کی نظریں نینا کے چہرے پر جمی تھیں لیکن ذہن کہیں پیچھے گیا ہوا تھا
تم کیا چنے دے کر پاس ہو ئے تھے مسٹر توصیف ہاہا ہاہا
اس کے کانوں میں ایک کھنکتی ہوئی سی آواز گو نجی
کیا تمہیں لگتا ہے کہ ہمیں کسی کی ضرورت ہے انسپکٹر توصیف ؟
ایک نرم لہجہ
لیکن ہمیں تمہاری ضرورت ہے نینا پلیز آنکھیں کھول دو
توصیف دل ہی دل میں جیسے اس سے مخاطب تھا ![]()
سب کو اس کی باتیں یاد آ رہی تھیں
آخر جان لیوا انتظار کے بعد اس نے آنکھیں کھول دی
” شاہ ” اس کے لبوں سے ایک سر گوشی نکلی جسے سجیلہ کے علاوہ کوئی نا سن سکا کیونکہ وہ اس کے پاس بیٹھی تھی اس کا ہاتھ تھامے
نینا ![]()
نینا میری جان آنکھیں کھولو
سجیلہ نے بے تابی سے اس کو پکارا
سب لوگ قریب آگئے تھے
اس نے آہستہ آہستہ سے آنکھیں کھولی
سارے منظر جیسے دھندلا سے گئے تھے
اس کی نظریں جسے ڈھونڈ رہی تھیں وہ وہاں تھا ہی نہیں ![]()
ان لوگوں نے شاہ کو فون کیا تھا پر اس نے فون نہیں اٹھا یا تھا
وہ باری باری خاموشی سے سب کے چہرے دیکھتی رہی
پھر تھک کر آنکھیں موندھ لی
وہ اب آنکھ کھولنا نہیں چاہتی تھی
وہ اب کچھ بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی ![]()
وہ اب سانس کے بار سے آزاد ہونا چاہتی تھی
اسے اب کسی بھی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی
ساری آوازیں آنا بند ہو چکی تھیں ![]()
اس کا دماغ گہری نیند سو چکا تھا
اس کی ساری حسیات کام کرنا چھوڑ چکی تھیں
ہر طرف سیاہی چھا گئی تھی بالکل اس کے مقدر کی طرح ![]()
اور جب ہم دوسروں کے ہاتھ میں اپنی زندگی کی ڈور تھما دیتے ہیں تو ہم خود پتنگ کی طرح ہو جاتے ہیں اور پھر اس پتنگ کو کٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ![]()
![]()
![]()
