Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 33

339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 33

Falsfa-e-Ishq by Mehram Shab

تا حد نگاہ پانی ہی پانی نظر آ رہا تھا

آج پھر وہ طوفان میں پھنسی تھی

اور سہارا تو دور سہارے کی امید بھی نہیں تھی 💔

اس نے آج مدد کے لئے کسی کو پکارا ہی نہیں

وہ خاموشی سے ڈوب جانا چاہتی تھی

پانی اس کے منہ میں بھر نے کے بعد اب ناک میں گھسنے لگا تھا

اس کا دم گھٹنے لگا 💔

آخری لمحات میں اس نے غیر ارا دی طور پر ہاتھ پاؤں ما رے

پانی اب سر سے اوپر پہنچ چکا تھا

تبھی اچانک ایک ہاتھ نے اسے تھام لیا

وہ ایک مر دا نہ ہاتھ تھا

ایک مضبوط ہاتھ جس نے اسے مضبوطی سے تھام کر باہر کھینچ لیا تھا

اس کا رکا ہوا سانس بحال ہوا

اس نے گہر ے گہرے سانس لئے

گہرے اندھیرے میں اس نے ہاتھ ادھر ادھر مارا لیکن شاید لائٹ نہیں تھی

اس لئے اس کے کمرے میں اندھیرا هو چکا تھا

اس نے عینا کو آواز دی

جسے سن کر وہ اٹھ بیٹھی

کیا ہوا نینا ؟

اس نے اس کا کندھا ہلایا تو وہ اس خواب سے نکل آئی

آج پھر اس نے عرصے بعد ویسا ہی خواب دیکھا تھا

لیکن آج اسے کسی نے ڈوبنے سے بچا لیا تھا

لیکن وہ کون تھا ؟

وہ مردانہ ہاتھ کس کا تھا ؟

باوجود کوشش کے بھی اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا اس ہاتھ کے بارے میں

وہ کتنی ہی دیر سوچتی رہی اور آخر سوچتے سوچتے وہ کب سو گئی خبر ہی نہ ہوئی ❤

**********************

وہ ابھی ابھی نہا کر نکلا تھا

گیلے بال ما تھے پر بکھرے تھے

پانی کے ننھے ننھے قطرے داڑھی میں جذب هو رہے تھے

مغرور سی ناک ہلکی ریڈ ہو رہی تھی

اس نے آئینے میں اپنے عکس پر نظر ڈالی

ہاتھ بڑھا کر اپنے لمبے بالوں کو ہاتھ سے بکھیر دیا

پانی کے کتنے ہی ٹھنڈے آبشار اس پر جیسے برس گئے ❤

اس نے سیٹی پر کوئی دھن بجا تے ہو ئے برش اٹھا یا اور اپنے بالوں میں چلا نے لگا

اس نے ہمیشہ کی طرح اپنے بال بیک سائیڈ پر کیے

میرے علاوہ کیا تم سے اور کوئی نہیں کہتا کہ یہ بال چھوٹے کروا لو؟ 🙄

تمہارے علاوہ کسی کو کبھی یہ حق ہی نہیں دیا نہ اجازت کہ کوئی کہے 😍

شاہ نے اس کی کانچ جیسی آنکھوں میں دیکھتے ہو ئے ایک ادا سے کہا

بس بس مسکے مت لگاؤ

کتنی بار تم سے کہا ہے کہ یہ بڑ ے بڑ ے بال ذرا بھی اچھے نہیں لگتے تم پر چوٹے بال اچھے لگتے ہیں تم پر کٹواتے کیوں نہیں 😏

وہ بری طرح سے جھنجھلا ئی تھی

آج کے آج ہی ان کو کٹواؤ 😏

ایک شوخ سی آواز اس کی سما عتوں پے چھانے لگی

بالوں میں بر ش کرتا اس کا ہاتھ وہیں ساکت ہو گیا

ہوا کے تیز جھو نکے کی طرح ایک یاد اس سے ٹکرائی تھی

اس نے اپنی آنکھوں میں دیکھا اسے آئینے میں 2 کانچ جیسی آنکھیں نظر آئیں

اس کی آنکھوں کی پتلیا ں جامد ہو چکی تھیں

اس نے جھک کر ڈریسنگ پر دونو ہاتھ رکھے اور آئینے کے قریب ہو کر دیکھا اس کی آنکھیں اب اس کی اپنی آنکھیں تھی وہ دو کانچ جیسی آنکھیں غا ئب ہو۔ چکی تھیں

نینا ……..

اس کے ہونٹوں نے بے آواز ایک نام پکارا ❤

ڈیڈھ سال ہو گیا تھا اس نے کبھی نینا سے دوبارہ رابطے کی کوشش نہیں کی تھی

اور اس کے دماغ سے وہ کافی حد تک نکل بھی گئی تھی پر آج اچانک اس کی یاد اتنے عجیب انداز میں کیوں آئی تھی اسے

اس نے مڑ کر پاس رکھی عریشہ کی تصویر اٹھا ئی

تھوڑی دیر اسے دیکھتا رہا پھر اس کے خیال کو ذہن سے جھٹک کر تصویر واپس رکھ کر باہر نکل گیا ۔✌

********************

شادی کے کارڈ پر نظر پڑتے ہی اسکی کانچ جیسی آنکھیں چمکنے لگی تھی ❤

یہ سحر اور سیفی کی شادی کا کارڈ تھا

اسے اس دن کا شدت سے انتظار تھا

آج وہ بیحد خوش تھی ❤

اس نے فون کر کے دونوں کو مبارک دی

اور شادی میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا

سب لوگ اپنی اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکے تھے

سب سیٹل ہو چکے تھے

بس ایک وہی تھی جو آج بھی وہیں کی وہیں تھی

وہ آج بھی اسی دوراہے پہ کھڑی تھی

اس کی آج بھی کوئی منزل نہیں تھی

وہ ہاتھ میں کارڈ تھا مے کب سے یہی سو چے جا رہی تھی

غلطی میں نے اکیلی نے تو نہیں کی تھی نا

پھر سزا مجھے اکیلی کو کیوں ملی 💔

وہ چاہتی تھی اس کی سزا اب ختم ہو جا ئے وہ چاہتی تھی وہ بھی اب آگے بڑھ جا ئے

سب کچھ بھول کر سب کچھ فرا موش کر کے

لیکن کیسے ؟

یہ اتنا بڑا سوالیہ نشان تھا جس کے پیچھے ہر خوش آئین چیز چھپ جاتی

اسے سکون چاہیے تھا جو کسی صورت مل نہیں رہا تھا 💔

اس نے اپنی تئیں ہر وہ چیز اپنی زندگی سے نکال دی تھی آہستہ آہستہ جو اللّه کی نا فرمانی کا سبب تھی

پھر بھی وہ بے چین تھی

ہاں پر اتنا تھا کہ اب وہ رو سکتی تھی اس کا دل نرم ہونے لگا تھا

اب وہ توبہ کر سکتی تھی

اب وہ اللّه کے قریب ہونے کی کوشش کر سکتی تھی

پر نماز وہ اب بھی نہیں پڑھ پاتی تھی

اس کا دل اب بھی بے چین تھا

کوئی خلش اب بھی باقی تھی

شاید کچھ سزا باقی تھی

زندگی ہمیشہ خطا ؤں سے بڑی سزا ئیں دیا کرتی ہے

*********************

وہ تینوں اس وقت کیفے میں بیٹھے تھے

باہر ہلکی دھند کی تہہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی

ٹھنڈی ہوا رگو میں لہو جما دینے کو بے چین تھی ❤

ایسے میں سامنے رکھے کافی کےبھاپ اڑا تے مگ بہت ہی خوش کن معلوم ہو رہے تھے

آج ایک سال بعد وہ یہاں آئی تھی

پچھلے ایک سال میں اس نے کبھی اس طرف رخ نہیں کیا تھا

یہ وہ جگہ تھی جس سے اس کی بہت ساری یادیں جڑی ہوئی تھیں

یہاں بیٹھ کر اس نے شاہ کو پہلی بار نیچا دکھانے کی کوشش کی تھی

یہاں بیٹھ کر اس نے شاہ سے معافی مانگی تھی

یہاں بیٹھ کر ان دونوں نے اکثر ایک ساتھ کافی پی تھی اور بہت ساری با تیں کی تھیں ❤

اس نے غیر ارادی طور پر اس ٹیبل کی طرف مڑ کر دیکھا جہاں وہ دونوں بیٹھا کرتے تھے

ہر شے ویسی کی ویسی ہی تھی

بس ویسی نہیں رہی تھی تو۔ نینا نہیں رہی تھی

بس کچھ نہیں تھا تو شاہ نہیں تھا 💔

کچھ نہیں تھا تو اس کی آواز نہیں تھی

وہ ماضی میں کہیں بہت دور نکل گئی تھی جب سجیلہ کی آواز اسے واپس حال میں لے آئی

تم دونوں کو میں اس لئے ساتھ لائی ھوں تاکہ تم لوگ میرا مسلہ سن لو اور کچھ کرو 🙄

اور تم۔ کہاں گم ہو کافی پیو نا ٹھنڈی ہو جا ئے گی

اس نے نینا کو کہنی ماری

نینا چونک کر اسے دیکھنے لگی

سجیلہ نینا اور توصیف دونوں کو آج یہاں لے کر آئی تھی کچھ بات کرنے

توصیف نے نینا کو دیکھا وہ الجھی ا لجھی اور خاموش لگ رہی تھی

نینا اور توصیف کی نظریں ایک پل کو ملی پھر دونوں نے نظر جھکا لی

ہاں بولو تمہارا مسلہ

توصیف نے کافی کا مگ ہونٹوں سے لگا تے ہو ئے پوچھا

وہ اس وقت یو نیفارم میں تھا

کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھے وہ کافی کا مگ ہاتھ میں تھا مے سنجیدگی سے سجیلہ کی بات سننے میں محو تھا

نینا کا دھیان بھی اب سجیلہ کی طرف تھا

وہ کہہ رہی تھی

میں بہت پریشان ھوں یار

گھر والے شادی کے لئے مجھ پر پریشر ڈال رہے ہیں جبکہ میں ابھی شادی کرنا نہیں چاہتی تم لوگ بتاؤ میں کیا کروں ؟😏

سجیلہ نے اپنا مسلہ بیان کیا

ہمم …لیکن اس انکار کی وجہ ؟

توصیف نے ساری بات سن کر پوچھا

یار میں ابھی پڑھنا چاہتی ھوں قرآن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شادی کے بارے میں سوچوں گی

سچ کہوں تو مجھے اب مردوں میں اور شادی میں کوئی دلچسپی نہیں رہی 🙄

سجیلہ نے کہہ کر کافی کا گھونٹ بھرا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم شادی کرو گی ہی نہیں

شادی تو ہر انسان کو کرنی ہی پڑتی ہے کیونکہ یہی ہمارے مذہب اور معاشرے کا اصول ہے

اور ہم قائم کردہ اصولوں سے بغاوت کر کے کیسے جی سکتے ہیں 💔

نینا نے بھی اپنی زبان کھولی

اف یار لیکچر مت دو مجھے 😏

کر لونگی نا شادی کونسی قیامت آ رہی ہے

سجیلہ نے ہاتھ جھلایا

شاید تمہارے پاپا بیمار رهتے ہیں اس لئے وہ اپنی زندگی میں تمہارے فرض سے آزاد ہونا چاہتے ہیں

توصیف نے اسے سمجھا یا

کیا تمہیں نہیں لگتا توصیف کہ جو کام میں نے شروع کیا ہے اسے ختم کرنا چاہیے ؟

مجھے قرآن کی تعلیم مکمل کرنی چاہیے درمیان میں کیسے چھوڑ سکتی ہوں میں یار 😏

سجیلہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے توصیف

نینا نے خالی مگ ٹیبل پر رکھا

میں سمجھ سکتی ھوں اس کے جذبات

لیکن سجیلہ غلط تمہارے مما پاپا بھی نہیں ہیں وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہیں

نینا نے باری باری دونوں کو دیکھا

پھر بھی میں چاہتی ھوں توصیف تم مما سے بات کرو ان کو سمجھاؤ پلیز 😏

سجیلہ نے کہتے ہوئے نینا کو دیکھا

اور تم بھی پلیز ان کو سمجھاؤ مجھے پریشان نا کریں

اچھا ٹھیک ہے تم۔ پریشان مت ہو ہم بات کریں گے

توصیف نے بات ختم کی

نینا نے بھی تا ئید میں سر ہلا دیا

اس کا دھیان بار بار بھٹک کر اس ٹیبل کی طرف جا رہا تھا

وہ پھر سے کمزور پڑنے لگی تھی 💔

ہماری سب سے بڑی کمزوری ہماری یادیں ہوتی ہیں جو ہمیں کبھی بھی آگے نہیں بڑھنے دیتی بار بار اسی دوراہے پر لا کھڑا کرتی ہیں جہاں سے ہم چلے تھے 💔✌

********************

نینا کے بارے میں کوئی انفارمیشن ہے تمہیں ؟

وہ اس وقت اپنے بیڈ پہ بیٹھا فون کان سے لگا ئے کسی سے فون پر بات کر رہا تھا

سامنے لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا جس پر نینا کی پروفا ئل کھلی ہوئی تھی

لیکن اسکے آن آنے کا کہیں کوئی نشاں نہیں تھا

نا ہی وہ واٹس ایپ پر آن آتی تھی

وہ کتنے ہی دنوں سے اسے مسلسل یاد آ رہی تھی

آخر آج اس نے زین کو فون کر کے پوچھ لیا اس کے بارے میں

نہیں مجھے کچھ نہیں معلوم میں اس کے بعد اس سے کبھی نہیں ملا اور نا ہی کبھی اسے دیکھا نا رابطہ کیا

زین نے اسے مایوس کیا تھا

اچھا ٹھیک ہے

شاہ کا موڈ آف ہو چکا تھا

اور 2/ 4 باتوں کے بعد اس نے فون بند کر دیا

اور سکرین پر نظریں جما دی

جہاں نینا کے لکھے لفظ اس کا منہ چڑا رہے تھے ✌

*******************

وہ کلاس روم سے باہر بینچ پر اکیلی بیٹھی تھی

ایک سبز جلد والا قرآن پاک اس کے سینے سے لگا ہوا تھا

وہ سر جھکا ئے نا جانے کن سوچوں میں گم تھی چہرے پر اداسی اور پریشانی کے سا ئے منڈلا رہے تھے

کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھی ہو ؟

سجیلہ اس کے قریب آ کر بیٹھی

نینا نے سر اٹھا یا

میں ہر ممکن کوشش کر رہی ھوں سجیلہ لیکن میرے دل کو سکون پھر بھی نہیں ہے 💔

اس نے شکست خوردہ انداز میں کہہ کر سر جھکا یا

تم ناراض ہو 🤔

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد سجیلہ نے کہا

مطلب 😯

نینا نے جھٹکے سے سر اٹھا یا

تم کسی سے ناراض ہو اور ناراضگی اور غصہ کی وجہ سے تم بار بار خود کو تکلیف دے رہی ہو اور اسکی وجہ سے تم بے چین بھی ہو

اور ایک اور بات بتاؤں ؟

سجیلہ نے اس کی کانچ جیسی آنکھوں میں دیکھا

ہاں بتاؤ

نینا نے سر ہلایا

ہم کرتے کیا ہیں کہ جب کوئی ہمیں کسی بھی قسم کا دکھ یا تکلیف دیتا ہے تو ہم اس کو دل سے لگا کر بیٹھے رهتے ہیں

بار بار اس کو سوچتے ہیں اور خود کو مزید اذیت دیتے ہیں

اس بات کو دل میں رکھنے سے ہماری ناراضگی مسلسل بڑھتی ہے اور تکلیف بھی

غصہ ،ناراضگی ،نفرت ،یہ بالکل بوجھ کی طرح ہوتے ہیں جو ہم اپنے دل پر رکھے رکھتے ہیں

جس سے ہم خود ہی تھک جاتے ہیں ہمارا مسلہ یہ ہے کہ

ہم لوگوں کو معاف نہیں کرتے اگر معاف کر دیں تو ہمارے دل کا یہ بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے ہم۔ اس بات کو بھول جاتے ہیں اور ہم خوش رهتے ہیں آگے بڑھ سکتے ہیں

نینا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی

یہ دیکھو اب اس کا دوسرا پہلو دکھاؤں تمہیں

سجیلہ نے کہتے ہوئے موبائل اس کے سامنے کر کے ایک کلپ پلے کیا

وہ مولانا طارق جمیل صاحب کی ہی ویڈیو تھی جو کہہ رہے تھے

غصہ ،ناراضگی ،نفرت دل میں رکھنے سے ہمارا ایمان کمزور ہو جاتا ہے معاف کر دیں لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں اللّه آ پ سے راضی ہو جا ئے گا ❤

وہ ایک ٹک دیکھے گئی

نینا معاف کرو تاکہ تمہیں معاف کیا جا ئے ❤

وہ اور بھی نا جانے کیا کہہ رہی تھی پر نینا کے دماغ میں صرف ایک ہی جملہ گردش کر رہا تھا

معاف کرو تاکہ تمہیں معاف کیا جا ئے

معاف کرو تاکہ تمہیں معاف کیا جا ئے ✌

واقع ہم لوگوں کو معاف نہیں کرتے اس لئے ہمیں بھی معافی نہیں ملتی 💔✌

*****************

گھر آ کر وہ اپنے کمرے میں بیٹھی اس بات کو سوچتی رہی

اس نے قرآن کھولا

وَ لَمَنۡ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۴۳﴾٪  5

اور جو شخص صبر کرلے اور معاف کر دے یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ( ایک کام ) ہے ۔

قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّ مَغۡفِرَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ صَدَقَۃٍ یَّتۡبَعُہَاۤ اَذًی ؕ وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیۡمٌ ﴿۲۶۳﴾

نرم بات کہنا اور معاف کر دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو اور اللہ تعالٰی بے نیاز اور بردبار ہے ۔

واقع وہ وہ۔ ناراض تھی 💔

وہ غصہ تھی

شاہ سے تھی ناراض وہ

اور کیا کروں میں ؟

اسے معاف کر دوں ؟

کیسے کر دوں معاف ؟

وہ مجھے اذیتوں میں دھکیل کر چلا گیا

اس نے مجھے برباد کر دیا

صرف میری دنیا نہیں میری۔ آخرت بھی برباد کر دی 💔

کیسے معاف کروں اس کو ؟

وہ خود سے سوال کرنے لگی

کیا اس اکیلے کی غلطی ہے ؟

اس کے اندر سے جیسے کسی کی آواز آئی

جتنی غلطی اس کی ہے اتنی تمہا ری بھی تو ہے اپنی غلطی کیوں نہیں نظر آتی تمہیں ؟

لیکن میری کیا غلطی ہے ؟

میں نے کیا کیا؟

وہ الجھ کر بولی

کیا تمہیں نہیں پتا تھا کہ تمہارے اللّه نے کیا فرمایا ؟

کسی بھی نا محرم سے کوئی تعلق نکاح کے بغیر حرام ہے

کیا تمہیں نہیں معلوم تھا کہ اللّه کی قائم کردہ حدود کیا ہیں ؟

کیا تمہیں حکم نہیں دیا گیا تھا نا محرم مردوں سے پردہ کرو اور ان پر بھروسہ نا کرو ؟

وہ بالکل خاموش ہو گئی تھی

اللّه نے یہ حدود عورت کی بھلا ئی کے لئے ہی یہ ساری حدود قائم کی ہیں اگر اس سے باہر نکلو گی تو خسارہ تو اٹھا ؤ گی نا

اس کا ضمیر اسے آئینہ دکھا رہا تھا

اور وہ چپ چاپ ہر لفظ سن رہی تھی

لیکن میں اس سے محبت کرنے لگی تھی میری نیت صاف تھی اور میں اس سے شادی بھی کرنا چاہتی تھی 💔

نینا نے اپنی صفائی دی

اگر محبت تھی تو پہلے ہی شادی کا پیغام کیوں نہ دیا

شروع سے ہی ایک حرام رشتے کو حلال میں بدلنے کی کوشش کیوں نہ کی

چلو اس سے تمہیں یہ تو اندازہ ہو جاتا کہ وہ تمہارے ساتھ سیریس ہے یا نہیں

پھر شاید تمہیں اپنی حدود کا تعین کرنے میں آسانی ہوتی پھر شاید تم محبت کے راستے پر اتنا آگے نہ بڑھتی 💔

ٹھیک ہے اس نے جو کیا غلط کیا لیکن اس میں تمہاری بھی غلطی ہے

نا محرموں سے فاصلہ رکھنے میں ہی عورت کی بھلائی ہے اور عزت ہے ❤

آواز خاموش ہو چکی تھی

اسے پتہ ہی نا چلا کب اس کی آنکھوں سے آنسو اس کے گالوں پر بہتے ہو ئے گود میں گرنے لگے

اللہ جی مجھے معاف کر دو 😥

میں اتنی بڑی نا فرمانی کر بیٹھی 💔

وہ بے اختیار ہی روتے ہو ئے سجدے میں گری تھی اور پھر نا جانے کتنی دیر وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر روتی رہی

ہچکیوں کے بیچ اس نے اللّه سے کتنی ہی بار معافی مانگی

جب دل کچھ ہلکا ہوا تو وہ سیدھی ہوئی

ٹھیک ہے اللّه پاک میں شاہ کو معاف کرتی ھوں ❤

اپنے ساتھ کیے ہر دھوکے

ہر فریب کے لئے

میں اسے معاف کرتی ھوں

اپنی ہر اذیت ،ہر دکھ ،ہر غم ،ہر درد ،ہر تکلیف کے لئے معاف کرتی ھوں

میں اسے ہر چیز سے آزاد کرتی ھوں ✌

یہ کہتے کہتے اسے لگا اس کا دل بند ہو جا ئے گا وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

میں ہر چیز کے لئے اسے معاف کرتی ھوں بس مجھے صبر دے دے میرے اللّه 😥

جو کرنا بہت مشکل لگتا تھا آسان ہو گیا

اس نے شاہ کو معاف کر دیا اور اپنی غلطی کی معافی اللّه سے مانگ لی

واقع ہم لوگوں کو معاف نہیں کرتے اس لئے ہم ہمیشہ بے سکون رهتے ہیں دوسروں کو معاف کریں اور آگے بڑھ جا ئیں

بیشک اللّه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ❤✌😥

**********************

زوہا کا رشتہ طے ہو گیا تھا

نینا کے لئے بھی کچھ رشتے آئے تھے

جنہیں پاپا نینا کے حالات کے پیش نظر ٹال رہے تھے

پر اب وہ نوٹ کر رہے تھے کہ وہ کافی حد تک ٹھیک تھی اب اسے ڈپریشن کے دورے بھی بہت کم پڑ تے کبھی کبھار ہاں البتہ اسکی بھول جانے کی۔ عادت اب بھی جوں کی توں تھی 💔

اب وہ زندگی کی طرف واپس لوٹ رہی تھی

ان 2 سالوں میں اس پر اور اس کی وجہ سے اس کے گھر والوں پر کیا کیا گزری تھی بس وہی جانتے تھے یا ان کا اللّه 💔

اسے نارمل ہوتا دیکھ کر پاپا بہت خوش تھے

لیکن اس سے پہلے وہ زوہا کا گھر بستا دیکھنا چاہتے تھے

گھر میں زوہا کے نکاح۔ کی تیاری شروع ہو چکی تھی پھر ایک شام سادگی سے زوہا کا نکاح فہد سے کر دیا گیا

فہد کے گھر والوں نے ولیمہ کا انتظام کر رکھا تھا واپس جا کر ان لوگوں نے دھوم دھام سے ولیمہ کیا وہ لوگ بھی شامل ہو ئے

اس دن زوہا بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ❤نینا اسے دیکھ کر نہال ہو گئی تھی

ان لوگوں نے جیجو کو بھی بہت ستایا

اور جب ان لوگوں نے جیجو سے پوچھا کہ وہ زوہا کے لئے کیسے تیار ہو گئے ؟

تو وہ ہنس کر بولے

یہ محترمہ مجھے کا لج کے زما نے سے اچھی لگتی ہیں ❤

تو پھر آپ پہلے کیوں نا رشتہ لے کر آئے 😯

وہ سب حیران تھیں

بھئی پاپا نے کہا تھا جب تک اپنے پیروں پر نہیں کھڑے ہو جاتے تب تک شادی کا نام بھی مت لینا اور جب تک میری جاب لگی تب تک تو یہ محترمہ کسی اور کے گھر کی رونق بن چکی تھیں 💔

اوہ 😯

سب نے افسوس سے زوہا کو دیکھا جس کے چہرے پر بکھرے رنگ اسے حوروں جیسا حسن بخش رہے تھے ❤

اور جب مجھے پتہ چلا کہ یہ واپس آگئی ہیں تو میں نے گھر والوں سے کہا اس گھر میں میری بیوی بن کر اگر آئے گی تو صرف زوہا ❤

اور کبھی کوئی نہیں

وہ زوہا کو دیکھ کر نہال ہو ئے

واہ واہ جیجو آپ تو سچے عاشق نکلے ❤😇

سالیوں نے نعرہ لگایا

جس پر دونوں میاں بیوی شر ما گئے

کچھ لوگوں کی محبتیں کتنی خالص ہوتی ہیں کہ اللّه پاک بھی کن فرما دیتے ہیں 😇❤

اس بات کا احساس اسے آج ہوا تھا

*******************

کیا تم نے اسد کو معاف کر دیا ؟

وہ بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی جب نینا کی آواز نے اسکا ہاتھ روک لیا

اس نے ایک پل کو سر اٹھا کر نینا کو دیکھا جو اب اس کے سامنے بیٹھ چکی تھی

ہاں کر دیا

سجیلہ نے واپس قلم چلانا شروع کر دیا

نینا خاموشی سے اسے دیکھنے لگی

میں نے جس دن یہ سب جانا اسی دن اسے معاف کر دیا تھا

سجیلہ نے رجسٹر کا صفحہ الٹا

پھر تمہارے دل کو سکون ملا ؟

نینا نے اس کے قلم چلاتے ہاتھ کو فوکس کرتے ہوئے کہا

ہاں میرے دل کو پھر سکون مل گیا

کیونکہ اسے معاف کرنے کے ساتھ میں نے اللّه سے اپنے لئے بھی معافی مانگی ❤

سجیلہ نے کہا

کیا تمہیں لگتا ہے ہماری بھی غلطی ہے ؟

نینا نے غور سے اسے دیکھا

ہاں مجھے لگتا ہے ایسا ہی ہے

سجیلہ نے ایمان داری سے کہا

اتنی تکلیفوں اور اذیتوں کے بعد

مجھے بھی ایک بات سمجھ میں آئی ہے سجیلہ

کہ ہم لوگ صرف تب تک خوش رہ سکتے ہیں جب تک ہم اللّه کے بتا ئے احکامات پر چلتے ہیں

اور یہ اصول سارے زمانوں کے لئے ہے

چاہے آج کا ترقی یافتہ دور ہو

یا صدیوں پہلے کا غیر ترقی یافتہ دور

یہ سبق ہر دور کے ہر انسان کے لئے ہے

کہ انسان جب قدرت کے بنائے دائروں سے باہر قدم نکالے گا

تو منہ کے بل گرے گا

وہ اللّه کی نا فرمانی کرے گا تو ذلت اور اذیت اسکا مقدر بنے گی

یہ بات ہر انسان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نا محرم محبتیں اور نا جائز رشتے کبھی سکون نہیں دے سکتے

وہ انسان کو کچھ نہیں دیتے سوا ۓ تکلیف کے 💔

ہمیں صرف اللّه کے بنائے گۓ دائیروں میں ہی رہنا چاہیے کیونکہ یہی ہماری جائے پناہ ہیں ❤✌

اس نے آنکھ میں آئی نمی کو صاف کیا

کیا تم نے شاہ کو معاف کر دیا ؟

سجیلہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

کچھ دیر وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتی رہیں

ہاں کر دیا

نینا نے آہستہ سے کہا

تو تمہارے دل کو سکون ملا ؟

سجیلہ نے اس کا سوال اسی پے لوٹا دیا

ہاں کچھ ملا لیکن ……..

نینا خاموش ہو گئی

لیکن ؟🤔

سجیلہ نے اسے غور سے دیکھا

اب بھی کچھ ہے جو میرے اور میرے اللّه کے بیچ ہے

فاصلہ ہے کوئی

کوئی چیز ہے جو ہمارے درمیان حائل ہے

میں ابھی بھی نماز نہیں پڑھ پاتی 💔

نینا نے بے بسی سے کہا

ہمم تو ڈھونڈو وہ کونسی چیز ہے ؟

جو تمہارے اور تمہارے اللہ کے درمیان آ رہی ہے

ہماری بہت ساری غلطیوں کا ہمیں ادراک نہیں ہوتا نینا ہمیں خود ہی اس خود شناسی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے

سجیلہ نے رجسٹر بند کیا

تم ٹھیک کہتی ہو سجیلہ ہمیں خود ہی خود شناسی کے عمل سے گزرنا ہوتا ہے کیونکہ ہر فیز میں ہمیں بچا نے کوئی نہیں آتا کچھ فیز سے ہمیں خود ہی اپنے آپ کو نکا لنا ہوتا ہے 🙂

میں ڈھونڈ لونگی انشاءاللّه ❤✌

سجیلہ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی اس نے پیار سے نینا کا ہاتھ پکڑا اور دونوں نے ایک نۓ عزم کے ساتھ باہر کی سمت قدم بڑھا دیے ❤

ہر انسان کو کبھی نا کبھی خود فراموشی کو چھوڑ کر خود کو خود شناسی کے عمل سے گزارنا ہی پڑتا ہے ✌🙂

******************

وہ لوگ سحر کی شادی کی شاپنگ کرنے آئے تھے کپڑوں کو نمٹا کر وہ ایک عبایا دیکھنے لگی

اسے وہ عبا یا بہت پسند آیا تھا

اسکا تم کیا کرو گی 🤔

سحر کے پوچھنے پر وہ مسکرا دی

یہ میرے لئے ہے ❤

ہیں 😯🙄

سحر بیہوش ہوتے ہوتے بچی

اس نے سجیلہ کو کہنی ماری

یہ نینا سچ میں پاگل ہو گئی ہے یار

سجیلہ بھی اس کی طرف مڑی

یہ کیوں یار ؟

بس میں نے ایک انسان کو خوش کرنے کے لئے چادر لی تھی

نیت صرف اسے راضی کرنا تھی

لیکن اب یہ عبا یا میں اپنے اللّه کو خوش کرنے کے لئے لے رہی ھوں

اب نیت اللّه کو راضی رکھنے کی ہے ❤

اس لئے پہنو گی کیونکہ میرے اللّه کا حکم ہے ❤اسے یہ پسند ہے تو میں پہنو گی ضرور ❤

اس نے عبا یا پیک کروایا

اور پیسے دے کر باہر طرف بڑھ گئی

سب لوگ اسے حیرت سے جاتا دیکھتے رہے

وہ کیا تھی اور کیا بن گئی تھی

وہ خود بھی حیران تھی پر پر سکون تھی

وہ اب خود فرا موشی سے نکل کر خود شناسی کے دور میں داخل ہو چکی تھی

اسے اب وہی کرنا تھا جو ٹھیک تھا

اور جو اللّه کو پسند آتا

اسے اب اپنے اندر سے ہر وہ چیز ختم کرنی تھی جو اللّه اور اس کے بیچ حائل ہوتی

اللّه کی طرف جانے والے راستے پر قدم رکھنا آسان ہوتا ہے لیکن اس راستے پر ثابت قدم رہ کر منزل تک پہنچنا بہت مشکل وہ جانتی تھی لیکن اسے اب ہر مشکل سے گزر نا تھا

ایک نئے عزم کے ساتھ ایک نئی زندگی اس کی منتظر تھی ✌😍❤