Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 37

339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Episode 37

Falsfa-e-Ishq by Mehram Shah

اسٹیج پر دلہے کے پہلو میں بیٹھی وہ موم کی کوئی خوبصورت سی گڑیا لگ رہی تھی وہاج اور اس کی جوڑی بہت جچ رہی تھی مما نے بھی کتنی ہی بار نظر اتاری دونوں کی اس کے ساتھ ہی نینا کھڑی تھی ۔

آج وہ خود بھی کوئی اپسرا سے کم نہیں دکھائی دے رہی تھی پنک اور گولڈن کلر کے کامدار لہنگے میں سجی سنوری وہ آج بہت خوش اور پر سکون دکھائی دیتی تھی پچھلے 2 سال میں اس نے جتنی ازیتین اٹھا ئیں اور جتنے درد جھیلے تھے ان کا کوئی عکس اس کے چہرے پہ اب نظر نہیں آتا تھا ۔

حال میں موجود بہت سی نظریں اس کی جانب اٹھی ہوئی تھیں جن میں سب سے پر اشتیاق نظریں توصیف کی نظریں تھی”

نکاح کے بعد رخصتی کا مرحلہ آیا تو سب کی ہی آنکھیں نم تھیں ۔

آج نینا بھی رو دی تھی اس کی بچپن کی دوست اسے چھوڑ کر آج پیا گھر جا رہی تھی وہ خود کو اکیلا محسوس کر رہی تھی سجیلہ کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں تھی وہ بھی رو رہی تھی ، جن کے ساتھ آدھی زندگی گزاری تھی ان کو چھوڑ کر ایک ایسے انسان کے ساتھ جا رہی تھی جسے وہ جانتی تک نہیں تھی ۔

یونہی آنسو اور دعاؤں کے ساتھ ان لوگوں نے سجیلہ کو رخصت کیا گھر ایک دم سے خالی ہو گیا تھا اور نینا کا دل بھی ۔۔۔۔۔۔

*********************

اور پھر اگلے ہی دن اس کی انگلی میں نور عالم شاہ کے نام کی انگوٹھی ڈال دی گئی تھی وہ بالکل خاموشی سے بیٹھی رہی ۔

سب لوگ خوش تھے ایک دو سرے کو مبارک باد دے رہے تھے وہ چپ چاپ سب کے چہرے دیکھتی رہی اس کے لئے تو بس اتنا ہی کافی تھا کہ اللّه نے نور عالم شاہ کو اس کے لئے چنا تھا ۔

وہ لوگ سجیلہ کو بھی لے آئے تھے وہ بھی موجود تھی اور سحر ،سیفی ،اسفند سبھی موجود تھے اس موقع پر اور اسے خوب چھیڑ رہے تھے ۔

اور نور عالم شاہ کی قسمت پر افسوس کر رہے تھے کہ اسے اب ایک ہٹلر کے ساتھ ساری عمر رہنا تھا وہ اسے خوب تنگ کر رہے تھے اور وہ مسکرا مسکرا کر ان کی باتوں کا جواب دے رہا تھا “

اسے سجیلہ سے بہت ساری باتیں کرنی تھیں لیکن موقع نہیں مل رہا تھا اس نے صبح بات کرنے کا سوچ کر ارادہ ملتوی کر دیا ابھی تو اسے گھر جا کر بس آرام کرنا تھا وہ سب لوگ بہت تھکے ہوئے تھے ، اور ابھی وہ کچھ وقت خود کے ساتھ بتا نا چاہتی تھی ۔

کبھی کبھی ہمیں سب سے زیادہ اپنے آپ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

**********************

جا ئے نماز پہ بیٹھی وہ سوچ رہی تھی کیا دعا کرے اسے اللّه سے بہت ساری باتیں کرنی تھیں لیکن شروع کہاں سے کرے ؟

شاہ اس نے بے آواز ایک نام پکارا آج وہ آخری بار اس نام کو پکار رہی تھی اس نے اپنی انگلی میں پڑی انگوٹھی کو دیکھا اس کی کانچ جیسی آنکھیں نم ہوئی آج آخری بار وہ شاہ کے لئے رو رہی تھی ۔

اس نے ہاتھ اٹھائے

“اے میرے پیارے اللّه “

تو تو سب جانتا ہے تجھ سے کچھ بھی چھپا نہیں ہے تیری بہت بہت شکر گزار ھوں مالک کہ تو نے مجھے سنبھال لیا میرے لئے اچھے فیصلے کیے مجھے توبہ کی توفیق دی اور مجھے صراط مستقیم پہ چلنے کی توفیق دی ۔

میرے اللّه میں راضی ھوں اس میں جو تیری رضا ہے اَلْحَمْدُلِلّه

مجھے اپنے دین پر قائم رکھ اور مجھے بھٹکنے سے بچانا اے میرے اللّه جو میرے حق میں بہتر نہیں اور جو تیری رضا اور خوشی نہیں اسے میری زندگی ،میرے دل ،میرے دماغ ،میری یاد ،سے نکال دے ۔

اے میرے پیارے اللّه میرے دل سے ہر نا محرم کی محبت نکال دے یا اللّه میرے دل سے غیر معتبر رشتوں اور محبتو ں کو نکال دے ۔

ہر اس چیز کی ،انسان کی ،محبتوں کی چاہ میرے دل سے نکال دے جو تیرے اور میرے بیچ آئے جو تیری نا فرمانی کا سبب بنے جو تجھے ناراض کرنے کا سبب بنے ۔

فیصلوں پہ اور توبہ پہ ثابت قدم رکھ میں خود کو تیری پناہ میں دیتی ھوں ہر اس بت سے جو میرے کیے صنم ثابت ہو مجھے اپنی رحمت کے سا ئے میں لے لے اور مجھے دنیا اور آخرت کے ہر غم سے آزاد کر دے ۔

پھر اس نے سجیلہ کے لئے دعا کی اس کی خوشیوں کے لئے اور سکون کے لئے پھر چہرے سے آنسو صاف کیے اور اٹھ گئی

آج کے بعد اسے شاہ کے لئے نہیں رونا تھا وہ باب اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا تھا

ہماری زندگی بھی ایک کتاب ہے جس کا ہر دن ایک صفحہ ہے اور کچھ باب جتنی جلدی بند ہو جا ئیں اتنا ہی بہتر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔

*********************

اگلے دن سجیلہ کے سسرال والے اسے لینے آئے تھے نینا بھی وہاں موجود تھی سجیلہ اسے بے حد پریشان لگی تو وہ اس کے پاس جا بیٹھی

” کیا بات ہے اتنی چپ چپ کیوں ہے ؟

میں نہیں جانا چاہتی نینا وہاں میں نہیں رہ سکتی وہاں میں نہیں رہنا چاہتی یار

سجیلہ نے سوگوار لہجے میں کہا

سجیلہ سب ٹھیک ہو جا ئے گا یار تھوڑا وقت لگتا ہے ہر چیز کو ایڈجسٹ ہونے میں

نینا نے اسے سمجھایا

مجھ سے نہیں ہوگا یہ سب نینا ،،اس نے آنسو بھری آنکھوں سے نینا کو دیکھا

کیا بات ہے یار جیجو اچھے نہیں ہیں کیا ؟تجھے ان سے کوئی مسلہ ہے ؟

نینا پریشان ہو کر پوچھنے لگی

نہیں وہ اچھا ہے یار لیکن میں اسے خوش نہیں رکھ پاؤں گی میں ذمہ دریاں نہیں نبھا پاؤں گی یہ سب مجھ سے نہیں ہوتا ،،

سجیلہ حد درجہ مایوس نظر آ رہی تھی،، ایسے مت بول یار تو تو بہت ہمت والی ہے تو میری بھی ہمت تھی اور بہت سارے لوگوں کی ہمت تھی تو پیچھے دیکھ اپنے پاسٹ کو تو کیا تھی آج خود ہی ہمت ہار رہی ہے یار تو ایسے کیسے ہمت ہار سکتی ہے بنا لڑے کبھی ہم نے ہمت ہاری ہے جو تو اب ہار رہی ہے ۔۔

نینا نے اسے سمجھایا

نہیں رہی مجھ میں اب ہمت یار بہت کمزور پڑ چکی ھوں میں ۔۔۔۔سجیلہ نے آنکھیں صاف کی ۔۔۔۔۔۔تو کوشش تو کر یار سب ٹھیک ہو جائے گا نینا نے اسے بچوں کی طرح بہلایا

وہ بس خاموش ہو گئی ۔

جب وہ لوگ جانے لگے تو سجیلہ بے حد رونے لگی یہ دیکھ کر سجیلہ کی مما بھی رونے لگی اور باقی سب بھی نینا کے گلے لگ کر سجیلہ کتنی ہی دیر روتی رہی نینا بھی رونے لگی وہ اپنی جان سے پیاری دوست کے لئے چاہ کر بھی کچھ بھی نہیں کر پا رہی تھی ۔۔

سجیلہ چلی گئی وہ بھی روتی ہوئی گھر آئی تھی گھر آ کر بھی وہ کتنی ہی دیر روتی رہی اور سوچتی رہی بیٹیوں کے نصیب بھی عجیب ہوتے ہیں انہیں ہر کسی کو خوش رکھنا ہوتا ہے چاہے وہ خود اس بیچ خوش رہ پا ئیں یا نہیں ۔۔۔۔

*******************

کتنے ہی دن خاموشی کی نظر ہو گئے اس نے پھر سے مدرسہ جانا شروع کر دیا تھا منگنی کے بعد وہ سجیلہ کے گھر جانے سے گریز کرتی اور نور عالم کا سامنا کرنے سے بھی اس نے بھی منگنی کے بعد کبھی کوئی کال یا مسیج نہیں کیا تھا ۔

ہاں جب سجیلہ آتی تو اس نے ملنے آجاتی پہلے پہل وہ اکثر کہا کرتی “میں یہاں نہیں رہنا چاہتی میں وہاج کے ساتھ نہیں رہ سکتی جس پر نینا اسے بہت سمجھاتی کبھی پیار سے کبھی سختی سے سجیلہ کبھی سن کر خاموش ہو جاتی کبھی رونے لگتی کبھی ناراض ہو جاتی سجیلہ اکثر بیمار رہنے لگی تھی اور بہت گم سم اور خاموش ہو گئی تھی وہ بہت کم اب کسی سے بھی بات کرتی نینا نے اسے کہا تھا کہ وہ پھر سے مدرسہ جوائن کر لے تو سجیلہ نے کہا

“ٹھیک ہے وہاج سے بات کرونگی “

سب کی زندگیاں اپنے اپنے دائرے میں سمٹ چکی تھیں نینا نے لوگوں سے ملنا بالکل ترک کر دیا تھا وہ صرف مدرسہ اور گھر کے بیچ کے راستوں سے ملتی اور گھر کے لوگوں سے بات کرتی وہ بھی بہت کم ۔

رات کا نا جانے کونسا پہر تھا جب نینا کی آنکھ موبائل کے شور سے کھلی اس نے مندی مندی آنکھوں سے موبائل اٹھا کر دیکھا سجیلہ کا نام دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری کھل گئیں اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جو رات کے 2 بجا رہی تھی ۔

اس نے جلدی سے کال پک کی

“ہیلو “

سجیلہ کی آواز سن کر اسے سکون ہوا

کیسی ہو جانی ؟

ٹھیک ہوں تو کیسی ہے ؟سوئی نہیں

نینا نے فکر مندی سے پوچھا

نیند نہیں آ رہی سوچا کچھ دیر تجھ سے باتیں کروں ۔۔۔

سجیلہ نے جواب دیا

ہاں ہاں کیوں نہیں ۔

نینا نے کہہ کر بیڈ سے ٹیک لگائی

میرا دل کرتا ہے میں کسی سے اللّه کی باتیں کروں بہت ساری باتیں اللّه کا ذکر چلتا رہے لیکن ایسا کوئی ہے نہیں کس سے کروں ۔۔۔

سجیلہ نے گہری سانس لے کر کہا

میں جو ہوں مجھ سے کرو ۔

نینا نے محبت سے کہا

نینا لوگ کتنے لکی ہیں یار ۔۔۔

سجیلہ نے آہ بھری

وہ کیسے ؟

نینا نے وضاحت چاہی

وہ عبادت کر کے خوش ہو جاتے ہیں وہ عادتاً بھی نماز پڑھ کر پر سکون رهتے ہیں اور ایک ہم ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ رکی

ہاں ایک ہم ہیں جو صرف عبادت نہیں چاھتے بلکہ محبت بھی چاھتے ہیں ۔

نینا نے اس کی بات پوری کی

ہاں یہی بات ہے میں چاہتی ہوں وہ مجھ سے بات کرے وہ مجھے دیکھے مجھے نظر میں رکھے میں عادتاً نماز نا پڑھوں بلکہ مجھے اس کی محبت کھینچ لے اپنی طرف وہ میرے دل میں بسا رہے میں آواز دوں تو میرے دل سے۔ جواب آئے ۔۔۔

سجیلہ کہتی چلی گئی

میرا بھی کچھ یہی حال ہے ۔

نینا نے گہری سانس لے کر کہا

کیا ہم پاگل ہیں ؟

سجیلہ کے سوال پر وہ ہلکا سا ہنسی ہاں ہم پاگل ہیں کیونکہ محبت پاگل پن ہی تو ہے ۔۔

وہ سب پاگل ہی تو تھے جو الگ الگ سمت رکھتے ہو ئے بھی ایک ہی محور کے گرد گھوم رہے تھے ۔۔۔۔۔

**********************

اس نے جیب سے موبائل نکال کر ایک میسج ٹائپ کیا اور ایک نمبر پر سینڈ کرتے کرتے اس کے ہاتھ رکے ۔

کچھ دیر سو چنے کے بعد اس نے وہ میسج مٹا دیا اور موبائل واپس جیب میں رکھ لیا “کیا پتہ وہ جواب دے یا نہیں اسے اچھا لگے یا نہیں وہ یہی سوچتا ہوا سڑک کے کنارے چلنے لگا شام کا یہ وقت اسے بہت اچھا لگتا تھا وہ درختوں کے ساتھ ساتھ چلتے اس کے بارے میں سوچنے لگا ۔

جب سے منگنی ہوئی تھی وہ اس سے کترا نے لگی تھی اور وہ بھی نینا سے بات کرتے جھجھک محسوس کرتا اسے یاد تھا سجیلہ کے دادا مرحوم بہت اچھے اور زیر ک انسان تھے اور بہت اچھی باتیں کرتے تھے وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ۔۔۔

“شادی سے پہلے لڑکی لڑکے کو آپس میں بات نہیں کرنی چاہیے اس سے اگر وہ شادی کے بعد خوش رہنا چاھتے ہیں تو شادی سے پہلے بات نا کریں وہ کہتے بیٹا ہمارے وقتوں میں جہاں رشتہ ہوتا تھا لوگ صرف تب ہی اس دہلیز کو جا کر پار کرتے تھے جب بارات لے کر جاتے تھے اور اگر کہیں منگیتر مل بھی جاتے تو ایک دو سرے سے بالکل بھی بات نہیں کرتے تھے ۔

اس سے ان کے بیچ جھجھک اور لحاظ باقی رہتا اور وہ شادی کے بعد ایک دو سرے کی عزت کرتے تھے ۔

آج کل کے میاں بیوی ایک دو سرے کی عزت اس لئے بھی نہیں کرتے کیونکہ ان کے بیچ نا ہی کوئی شرم رہتی ہے نا لحاظ ہوتا ہے اور نا ہی کوئی جھجھک ہوتی ہے جس سے ان دونوں کو ایک دو سرے میں دلچسپی محسوس ہو وہ لوگ جلدی ہی ایک دوسرے سے اکتا جاتے ہیں اور ان کی زندگی خوشگوار نہیں گزرتی “

اور وہ چاہتا تھا ان کی زندگی خوشگوار گزرے اسے کوئی جلدی نہیں تھی اس کے لئے بس اتنا ہی کافی تھا کہ نینا اس سے منسوب ہو چکی تھی وہ خود کو دنیا کا خوش نصیب ترین انسان تصور کرتا اسے اپنے خواب پورے کرنے کے لئے جتنا بھی انتظار کرنا پڑتا وہ کر سکتا تھا ۔

نور عالم شاہ کبھی تمہیں مایوس نہیں کرے گا میری ہٹلر ،،،

وہ تصور میں اسے مخاطب کر کے مسکرایا اس لمحے اسے لگا کائنات کی ہر چیز اس کے ساتھ مسکرا رہی ہے ۔

اور سارے موسم تو انسان کے اندر ہوتے ہیں پھر وہ دکھ کے ہوں یا سکھ کے ۔۔۔۔۔

**********************

وہ دونوں اس وقت ایک ہوٹل میں بیٹھی لنچ کر رہی تھیں ۔

اچھا تو کیا بات کرنی تھی تجھے مجھ سے ؟

نینا نے پانی کا گلاس اٹھا تے ہو ئے سجیلہ سے پوچھا ۔۔۔کیونکہ سجیلہ ہی اسے یہاں لے کر آئی تھی یہ کہہ کر کہ ۔۔۔۔”تجھ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے “

سجیلہ نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا

“شاہ کا میسج آیا تھا مجھے “

سجیلہ نے ایک ہی سانس میں کہہ ڈالا ۔۔۔جس بات کو وہ دو دن سے سوچ سوچ کر پریشان تھی کہ اب کیا کرے ؟

نینا کو بتا ئے یا نہیں ؟

توصیف اس کا بھائی تھا اسے بہت عزیز تھا وہ اس کی چاہت بھی جانتی تھی پر نینا بھی اس کی دوست تھی وہ اس کی چاہت سے بھی انجا ن نہیں تھی ۔۔

دماغ کہتا مت بتاؤ نینا کو اگر وہ پھر سے شاہ کے ٹچ میں آگئی تو اس کے درد بھی زندہ ہو جا ئیں گے اور نینا اور توصیف کے بیچ بھی تعلق خراب ہو سکتا ہے ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے اس نے خود کو سمجھایا لیکن یہ بات اس کے پاس امانت تھی شاہ نے اسے پیغام دیا تھا کہ نینا سے کہو مجھ سے بات کرے ۔۔۔

ہر بات اپنی جگہ لیکن وہ امانت میں خیا نت کیسے کر سکتی تھی اسے اللّه کو بھی جواب دینا تھا دل کہتا بتاؤ یہ نینا کا حق ہے جا ننا سو اس نے آخر نینا کو بتا نے کا فیصلہ کر لیا اور آج وہ اسے یہاں لائی تھی اپنے ساتھ ۔

نینا اس کے سامنے بیٹھی تھی پتھر کی مورت بنی بالکل خاموش اس نے آہستہ سے اسے پکارا ۔

“نینا “

نینا کا دل ڈوب کر ابھرا

“شاہ “

کا نام سنتے ہی اس کے ہاتھ کانپے تھے اس کی پلکیں ساکت ہو گئی اس کا دماغ ایک دم سے خالی ہو گیا تھا ۔

سجیلہ کے پکارنے پر وہ چونکی اس نے ہاتھ کی لرزش چھپا نے کے لئے جلدی سے پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگا لیا اور ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر کے ٹیبل پر رکھ دیا

،،کب ؟،، نینا نے کچھ دیر بعد آخر زبان کھولی شادی کی مصروفیات کی وجہ سے میں اپنی ای میل چیک نہیں پائی کچھ دن پہلے کا ہے میسج میں نے 2 دن ہو ئے دیکھا ”

سجیلہ نے کانٹا پلیٹ میں رکھا

وہ تیرا نمبر مانگ رہا ہے اور وہ چاہتا ہے تو اس سے بات کر ۔

سجیلہ نے غور سے اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھے ،

نینا نے اپنی پلیٹ پرے کھسکا ئی اس کی بھوک مر چکی تھی ،ہمیں چلنا چاہیے وہ ایک دم سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔

نینا میری بات سنو سجیلہ نے اس کا ہاتھ تھاما ۔،۔۔۔مجھے کسی سے بات نہیں کرنی اور تو اسے میرا نمبر بالکل نہیں دے گی سمجھی ،نینا نے ہاتھ چھڑایا

لیکن بات سن لینے میں کیا حرج ہے سن تو سہی وہ کہنا کیا چاہتا ہے “سجیلہ نے اسے سمجھانا چاہا ۔۔۔۔کیوں سنوں میں اس کی بات ؟ کیوں آیا ہے اب وہ واپس کیا کوئی کسر رہ گئی ہے میری بربادی میں ؟

وہ نا چا ہتے ہو ئے بھی تلخ ہوئی اور پھر ہونٹ بھینچے خاموشی سے باہر نکل گئی سجیلہ اس کی پیٹھ دیکھتی رہ گئی وہ سوچ رہی تھی کیا پھر سے کچھ زندگیاں داؤ پہ لگنے جا رہی تھیں ؟

********************

وہ عشاء کی نماز کے بعد سورہٴ ملک کی تلا وت کر رہی تھی جب عینا بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی “نینا جلدی چلو ہمیں ابھی تایا ابو کے گھر جانا ہے “

کیوں ؟

نینا نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا

حا شر بھائی کا انتقال ہو گیا ہے ۔۔۔

عینا نے بتایا تو اس کی آنکھیں پھیل گئی

“کیا بکواس کیے جا رہی ہے ۔۔۔۔

نینا نے حیرت سے اسے گھورا

میں سچ کہہ رہی ہوں ہمیں ابھی جانا ہوگا پاپا نے کہا ہے جلدی کرو ۔۔

وہ کہہ کر باہر بھاگ گئی نینا ساکت بیٹھی رہی یہ کیسے ہو گیا ؟

حا شر تایا جان کا دوسرا بیٹا تھا وہ نینا کا ہی ہم عمر تھا ابھی 2 سال پہلے ہی اسکی شادی ہوئی تھی صرف ایک بیٹی تھی اسکی جو چند مہینوں کی تھی

ہائے میرے اللّه کاش یہ خبر جھوٹی ہو

وہ یہی سوچتی جلدی سے اٹھ کر باہر بھاگی تھی حال میں ہی اسے پاپا مل گئے وہ دوڑ کر ان کے پاس گئی

پاپا یہ عینا ۔۔۔عینا کیا بول رہی ہے ؟

اس نے پاپا سے پوچھا

بیٹا وہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔۔۔ہمیں ابھی تمہارے تایا جان کی طرف نکلنا ہوگا

پاپا نے کہتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھا ئے وہ حیران پریشان سی مما کی طرف مڑی

یہ سب کیسے ؟

پتہ نہیں بیٹا وہاں پہنچ کر پتہ چلے گا چلو اب

مما بھی کہہ کر باہر کی طرف بڑھ گئیں ۔

بھیا اور بھابھی بھی آ چکے تھے وہ لوگ ایک پل میں سب بھول گئے تھے کہ کیسے تایا جان اور ان کے بیٹے مل کر ان کو سڑک پہ لے آئے تھے ان سب نے مل کر ان کے ساتھ کیا کیا تھا ۔

وہاں پہنچ کر ان لوگوں کو صحیح سے اس قیامت کا احساس ہوا جو تایا جان کہ گھر پہ ٹوٹی تھی ۔

صحن میں حا شر بھائی کی میت رکھی تھی اور اس کی بہن اور بیوی ساتھ بیٹھی رو رہی تھیں اور دو سری طرف تا ئی جان بھی بیٹھی تھیں پورے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا حا شر بھائی کی جواں سالا موت نے سب کو توڑ کر رکھ دیا تھا تایا جان پہلے سے کہیں بوڑھے نظر آ رہے تھے ۔

اس کے بھی آنسو گر رہے تھے مما نے تائی جان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصے سے طبیعت خراب رہتی تھی حا شر کی ہسپتال لے کر گئے اس کے دل میں کچھ پروبلم تھی علاج کروا رہے تھے کافی بہتر ہو گیا تھا آج زیادہ طبعیت خراب ہوئی تو ہسپتال لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں ہی دم توڑ دیا میرے بچے نے یہ کہہ کر تا ئی جان رونے لگی مما ان کو تسلی دینے لگیں ۔

وہ خاموش آنسو ؤں کے ساتھ سب کو دیکھتی رہی اور سوچتی رہی ہر انسان کی آخری منزل یہی ہے انسان کا سچ یہی ہے باقی سب جھوٹ ہے ۔۔۔۔۔۔سب ۔۔۔

**********************

انہی آہوں اور سسکیوں کے بیچ حا شر بھائی کو سپر خاک کر دیا گیا وہ لوگ 3 دن سے یہیں تھے وہ مسلسل سپارے اور تسبیح پڑھنے میں مشغول تھی ۔

ہاں جب جب حاشر بھائی کی بیوی اور معصوم بچی کو دیکھتی تو اس کی آنکھیں بھیگ جاتی جانے والے تو چلے جاتے ہیں لیکن پیچھے رہ جا نے والوں کا دکھ کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔

تیسرے کے ختم کے بعد وہ لوگ گھر کو نکل رہے تھے جب تایا جان نے پاپا سے معافی مانگی ۔

مجھے معاف کر دے توقیر ہم لوگوں نے تیرے ساتھ بہت غلط کیا جو پیسہ ہم نے تجھے تکلیف دے کر بچایا وہ پیسہ آج میرے بیٹے کو نہیں بچا پایا شاید تیری بد عا لگ گئی ہمیں ۔۔۔۔یہ کہہ کر تایا جان رونے لگے ۔۔۔۔۔ایسے مت کہیں بھائی صاحب آپ بڑے ہیں میرے باپ کی جگہ ہیں آپ معافی مت مانگیں اور میں آپ کو کیوں بد عا دونگا بھلا میرا دل ایسا نہیں ہے پاپا بھی رونے لگے

تو پھر تیرا صبر لگ گیا ہمیں توقیر ۔۔۔تایا جان روتے روتے کہتے رہے پاپا نے ان کو گلے لگا لیا “بھول جائیں بھائی صاحب جو بھی ہوا میں بھی بھلا چکا ہوں میرے دل میں آپ کے لئے کوئی غصہ کوئی ناراضگی نہیں ہے۔

پاپا نے بات ختم کر دی وہ لوگ واپس گھر آگئے پر وہ سوچ رہی تھی کیا اللّه بھی بھول جاتا ہے ؟

کیا صبر کرنے والوں کا صبر واقع لگ جاتا ہے ؟

کیا کریں گے ہم لوگ دنیا کو جمع کر کے آخر ایک نا ایک دن تو اسے چھوڑ ہی جانا ہے کس کو خبر کہ کون کب کہاں رخت سفر باندھ لے اور یہ سب حلال حرام کمایا اور جمع کیا یہیں رہ جا ئے ۔۔۔۔۔

**********************

کیا تجھے لگتا ہے مقا فا ت عمل سچ میں ہوتا ہے ؟

اس نے بھاپ اڑا تے کافی کے مگ پہ اپنی انگلی پھیر تے ہو ئے کہا ۔

وہ دونوں اس وقت ٹیرس پہ بیٹھی کافی کے ساتھ ساتھ سردی بھی انجوا ئے کر رہیں تھیں موسم خاصہ سرد تھا اور ہلکی دھند کی وجہ سے دور کی چیز دیکھنے کے لئے آنکھوں کو کافی جدو جہد کرنی پڑتی ۔۔۔۔

ہاں مجھے لگتا ہے کہ مقافات عمل سچ میں ہوتا ہے ۔۔۔

سجیلہ نے کافی کا مگ ہونٹوں سے لگایا

تو تجھے لگتا ہے اب شاہ کو میری یاد آتی ہے ؟

نینا نے نے بھی کافی کا مگ منہ سے لگا یا

ہاں شاید ۔۔۔ایک بات تو طے ہے جتنی تکلیف تو نے اٹھا ئی اتنی تکلیف تو اسے کسی نا کسی طریقے یا کسی نا کسی کے ہاتھوں ضرور اٹھانی ہوگی اگر وجہ تو نہیں تو کوئی اور سہی پر ایک نا ایک دن وہ یہ درد محسوس ضرور کرے گا ۔۔۔۔

سجیلہ نے مگ کو دونوں ہاتھوں سے تھا متے ہو ئے کہا

بہت دیر کر دی مہربان آتے آتے ۔۔۔

نینا کہہ کر تلخی سے مسکرا ئی

لیکن تجھے ایک بار اس کی بات سن لینی چاہیے تھی نینا ۔۔۔۔

سجیلہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تاکہ تیرے دل میں کوئی کسک باقی نا رہتی “

نینا ہلکا سا ہنسی “کسک “

you know what سجیلہ میرے خیال میں تو ایک کامیاب انسان بننے کے لئے انسان کے دل میں کوئی نا کوئی کسک کا رہنا بہت ہی ضروری ہے یہ جو کسک ہوتی ہے نا یہ انسان کو انسان بناتی ہے یہ ہمیں جینے کا ہنر سیکھا تی ہے ۔

یہ ہمیں ایک منفرد سوچ دیتی ہے ہمیں ایک ٹھہرا ؤ عطا کرتی ہے انسان سلجھ جاتا ہے

نینا نے صو فیانہ انداز میں کہا

یہ بھی خوب کہی تم نے یار ،،سجیلہ مسکرا ئی زندگی میں جینے کے لئے کوئی نہ کوئی قیمتی درد تو ہونا ہی چاہیے جو ہماری متاع ہو یہ درد بھی ہمیں جینے کا حوصلہ دیتے ہیں نہ ۔۔

سجیلہ نے اس کا ہاتھ تھپتھپا یا

ہے نا ؟ ۔۔۔ نینا نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا

بالکل اور اَلْحَمْدُلِلّه ہم کامیاب انسان ہیں ۔

سجیلہ ہلکا سا ہنسی

بالکل ۔۔۔۔نینا بھی کھلے دل سے مسکرا ئی

اچھا تو نے وہاج سے مدرسہ جانے کی بات کی ؟

نینا کو یاد آیا ۔۔۔نہیں یار “سجیلہ نے مایوسی سے سر ہلا یا

میری ساس کو تو میری ہر بات پہ اعترا ض ہے وہ کبھی نہیں مانیں گی اور وہاج اس کو تو تو رہنے ہی دے بس اس کا کیا بتاؤں تجھے

سجیلہ نے خالی مگ میز پہ رکھا

اذان کی آواز نے دونوں کو خاموش کر وا دیا اذان کے بعد نینا اٹھی “چل پہلے نماز پڑھ لیتے ہیں باقی باتیں بعد میں کریں گے”

تو جا کہ پڑھ میں نہیں آ رہی ۔

سجیلہ نے سر ہلایا ۔۔۔۔۔نینا جاتے جاتے واپس مڑی کیوں ؟

،،میں نے نماز چھوڑ دی ،، سجیلہ کی بات نے جیسے اس کے پاؤں جکڑ لئے ‘ کیا کہا نماز چھوڑ دی ؟ نینا نے حیرت سے اسے دیکھا ،،،ہاں میں اب نماز نہیں پڑھتی ،،سجیلہ نے سر جھکا کر کہا

پر کیوں نہیں پڑھتی ؟نینا واپس آ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔بس میرا دل نہیں کرتا میں نہیں پڑھ سکتی ،،سجیلہ نے دھند کے پار دیکھنے کی کو شش کی

میری طرف دیکھ تو ایسا کیسے کر سکتی ہے ؟نینا نے اس کا بازو پکڑ کر چہرہ اپنی طرف کیا ۔

تو اور کیا کروں ؟ میرے شوہر کو لگتا ہے کہ میں دکھاوا کرتی ہوں نیک ہونے کا ڈھونگ کرتی ہوں وہ کہتا ہے یہ سب نماز قرآن پڑھ کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو ؟ جب تم اللّه کے احکام ما ننے سے انکاری ہو یہ سب صرف تمہارا دکھاوا ہے ریا کاری لگتی ہے اسے میری ہر بات ہر چیز ہر کام ۔۔۔۔۔۔یہاں دل میں گڑ گئے ہیں اس کے لفظ یہاں “”سجیلہ نے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا دل کے مقام پہ جب جب نماز پڑھنے لگوں یہی الفاظ میرے ذہن و دل میں گو نچتے رهتے ہیں نہیں پڑھ سکتی میں نماز ۔۔۔۔۔۔۔۔

سجیلہ کی آواز میں نمی گھلی ہوئی تھی

نینا سن ہوتے دماغ ک ساتھ اس کو دیکھے جا رہی تھی “یہ سب تو کیا بول رہی ہے ” وہ بس اتنا ہی بول پائی

دنیا کے ساتھ ساتھ میری آخرت بھی برباد ہو گئی مجھ سے سب کچھ چھوٹ گیا نینا میں اللّه سے دور ہو گئی ہوں میں یہ سب نہیں چا ہتی تھی میں نے تو دنیا مانگی ہی نہیں تھی لیکن میری جھولی میں صرف دنیا ہی ڈال دی گئی جبکہ مجھے دنیا چاہیے ہی نہیں مجھے صرف اللّه چاہیے اللّه کی محبت اور اسکی قربت چاہیے تو سمجھ سکتی ہے نہ اس خسارے کو ؟

سجیلہ نے بے بسی سے اسے دیکھا ،،نینا کو اس کی اذیت اپنے اندر اترتی محسوس ہوئی بھلا اس سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا اس خسارے کو اس اذیت سے نینا ملک سے زیادہ کون واقف ہو سکتا تھا بھلا جس کا روم روم اس درد کے پل صراط سے گزر چکا تھا اور آج اس پل صرا ط پہ اس کی عزیز از جان سہیلی کھڑی تھی وقت نے کیسا پلٹا کھایا تھا وقت اپنے آپ کو ہمیشہ دہراتا ہے صرف کردار بدل جاتے ہیں لیکن کہانی وہی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*********************

اس نے ایک بار پھر اپنی ای میل چیک کی کہیں کوئی جواب نہیں آیا تھا اس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑا ہوا ہر چیز پر شام اتر رہی تھی شام کا ملگجہ اندھیرا ہر چیز کو آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا ۔

وہ نینا کے بارے میں سوچنے لگا یہ اب اس کا معمول بن گیا تھا اسے سوچنا اور سو چتے رہنا وہ لڑکی ایک دم سے اس کے لئے اہم ہو گئی تھی پتہ نہیں کیوں اور کیسے شاہ کو اس کے ساتھ گزارا وقت یاد آ رہا تھا اسے پہلی بار احساس ہوا اس نے نینا کے ساتھ کتنی زیادتی کر دی تھی لیکن وہ ہر بات کا مداوہ کر دے گا اس نے خود کو تسلی دی ۔

تبھی اس کا موبائل بجنے لگا اس نے فون کان سے لگایا دوسری طرف زین تھا وہ کافی دیر اس سے باتیں کرتا رہا اس نے فون رکھنے سے پہلے کہا ۔

“میں پاکستان آ رہا ہوں زین “

جس پر زین کی خوشی کی انتہا نہیں تھی شاہ اس کی باتیں سن کر مسکرا رہا تھا اور اس کے گال کا ڈمپل بار بار اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا