50.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part 1

ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر

اسکے ایک ایک لفظ کی گواہی جاناں کا دل دے رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہاں اسنے اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔۔ شروع دن سے آج تک مگر اسنے کبھی یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ بھری دنیا کے سامنے اسکو بدنام کرنے والا شخص اسی بھری دنیا کے سامنے ہار کر ۔۔۔۔ اس کے سامنے جھک جائے گا ۔۔۔۔۔
جس انا کی عمارت اتنی اونچی تھی کہ وہ جتنا چاہتی وہ کبھی نیچے نہیں آتا ۔۔۔ بعض اوقات ہماری زندگی میں کچھ کام اتنی انایکسپیکڈیڈ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ کہ انکے ہونے کے باوجود ہمارے لیے یقین کرنا مشکل ہوتا ہے ۔۔۔ مگر حیران کن اور باعث خوشی بھی ۔۔۔۔
اور اس وقت جاناں کا وہی حال تھا ۔۔۔
ولی کو آج بھی اسنے تنہا بھیجا تھا ۔۔۔ مگر آج اسکی بے چین نظروں سے وہ خود بھی افسردہ ہو گئ تھی ۔۔۔ وہ جا چکا تھا ۔۔۔ اسکا دل کیا اسے روک لے ۔۔۔۔
مگر اسکو روکنا آسان نہیں تھا پھر وہ رکتا بھی نہ ۔۔۔۔۔
تبھی اسکے لاکھ اصرار کے باوجود بھی جاناں ولی کے ساتھ نہیں گئ تھی ۔۔۔ ۔
سیاہ رات میں ۔۔۔۔۔ بکھرے بکھرے لون میں درختوں کی آغوش سے ٹکراتی ہواؤں میں وہ چئیر پر سر جھکائے خود کو اس چئیر پر سمیٹے بیٹھی تھی ۔۔۔
اس وقت اسکے گرد کوئ نہیں تھا ۔۔۔رات آنکھوں میں کٹ رہی تھی ۔۔ اسکا ایک ایک لفظ جیسے دل پر تم جھم بن کر برس رہا تھا ۔۔۔۔
آنکھیں بند کیے وہ صرف چوہدری ولی جو ظالم تھا ۔۔۔۔ نکچڑا تھا ۔مغرور تھا۔ ۔۔ مگر اسکا تھا ۔۔۔
اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے جاناں گھر واپس نہیں آئ تھی تب سے اسنے حویلی جانا ترک کیا ہوا تھا ۔۔۔ اسنے ایک دو بار جا کر دیکھا ۔۔۔
ایسا معلوم ہوتا ساری حویلی سائیں سائیں کر رہی ہے ۔۔ عجب ویرانی عجب وحشت ۔۔۔۔
جو شروع میں تو اسکی انا کو نہیں توڑ سکی ۔۔۔ اور یہ سب فضول سمھجہ کر ایک رات جو اسنے اپنے کمرے میں کاٹی ۔۔۔ تو اسکے ساتھ گزارے ایک ایک پل کی یادوں کے ریلے نے جیسے اسکا لیٹنا مشکل کر دیا ۔۔۔
خیر کمرہ تو دور کی بات اسے تو اپنے دل سے اس قسم کی بے وفائی کی امید نہیں تھی جو وہ کر چکا ۔۔۔ تھا
اور اس رات میں اسے اتنا احساس ہو گیا ۔ کہ ولی کا دل یہ حویلی یہ کمرہ صرف جاناں کے وجود سے آباد ہو گیں ۔۔اور اسکے بعد اسنے حویلی جانا ہی چھوڑ دیا ۔۔۔
ہاں وہ سادام کیطرح اظہار نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔
نہ اسکی طبعیت اتنی عاشق مزاج تھی اور نہ ہی اسے یہ چونچلے پسند تھے ۔۔۔
مگر فنکشن میں سادام کو زریش کا منہ میٹھا کراتے دیکھ ۔۔۔ اسکے دل کی کچھ ہوا تھا ۔۔۔ اور اسنے پہلی بار اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے جاناں پر سے کئ نوٹ وار دیے تھے وہ جانتا تھا ۔۔ وہ حیران رہ جائے گی ۔۔۔۔
مگر وہ کر گیا تھا ۔۔ایسا ۔۔۔۔ اظہار عام کر دیا تھا۔ ۔۔
یہ محبت بھی کیا چیز ہے ۔۔۔ عجیب چبھن سی تھی ۔۔۔ جو دل میں چبھ جائے تو صرف اپنا زہر پھیلائے ۔۔۔ پھر دنیا کی پرواہ اپنے مزاج کا احترام سب جیسے محبوب کی جوتی تلے آ جاتا ہے ۔۔۔
اور پھر وہ لگ بھی اتنی خوبصورت رہی تھی مگر ا
ہاتھوں سے مچھلی کیطرح نکل نکل جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اور اسکے لاکھ چاہنے کے باوجود بھی وہ یہاں نہیں آئ ۔۔۔۔
پھر دو دن تک اپنی ہی بیٹی کا چہرہ نگاہوں میں گھوم گھوم گیا ۔۔نہ اسے نیند آ رہی تھی نہ سکون مل رہا تھا ۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا وہ ادھورا ہے سب کے پاس سب ہے ۔۔ مگر اسکے پاس کچھ نہیں ۔۔۔۔
تبھی آج صبح وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی بچی ۔۔۔
کے لیے مختلف سامان لینے چلا گیا ۔۔۔
ہاں یہ پہلی بار تھا ۔۔۔۔ مگر اسے مزاہ آیا ۔۔۔۔۔
اور جب وہ فنکشن میں داخل ہوا ۔۔ تو جاناں کی آنکھوں کی چمک کو جی کیا لبوں سے چن لے ۔۔۔۔
دوریوں نے فاصلے نہیں ۔۔ بیچ میں مزید قربت حائل کر دی تھی ۔۔
چوہدری ولی کے انگ انگ سے تڑپ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اور پھر وہ مجبور ہو کر اسکیطربڑھ آیا ۔۔۔
اس سے اظہار محبت کر ڈالا ۔۔۔۔ خود کو اسکے سامنے کھول کر رکھ دیا ۔۔۔۔۔
اور وہ کتنی نرم دل کی تھی اسکے اتنے سے اظہار سے ۔۔۔ جی اٹھی ۔۔رونے لگی اسکا ہاتھ تھام گئ ۔۔۔۔
مگر اسکے ساتھ پھر بھی نہ آئ ۔۔۔۔۔
خیر محبت کی تڑپ تھی ۔۔۔ وہ سلگ رہا تھا ۔۔ اور مسز ولی اسکو سلگا رہیں تھیں ۔۔۔۔
اسنے ایش ٹرے میں راخ جھاڑی ۔۔ اور آسمان کی جانب دیکھنے لگا ۔۔ایسی چیزوں پر نہ یقین کرنے والے جب اس راہ کے مسافر ہوں تو ۔۔۔
انھیں چاند تاروں میں محبوب کی جھلک دیکھنے لگتی ہے جیسے چوہدری ولی ۔۔۔ چاند میں اسکی صورت کو تلاش رہا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برات کا فنکشن سر پر آیا ۔۔۔۔۔ تبھی سادام کو ضروری کام۔ پڑ گیا ۔۔۔۔۔
اسے شہر ہر حال میں جانا ضروری تھا ۔۔ اور زریش کو جب سے یہ خبرملی تھی تب سے وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی ۔۔۔ سادام اسے شاید ایک لاکھ بار یہ بات بتا چکا تھا ۔۔کہ وہ ابھی گیارہ بجے گھر واپس لوٹ آئے گا فکر کی کیا بات ہے ۔۔۔۔
مگر وہ مان کر ہی نہیں دے رہی تھی بگڑ بگڑ جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اب تم نہ مانا تو ہم نائٹ سین شروع کر دے گا “سادام نے دھمکایا مگر اس کا بھی اثر نہیں ہوا ۔۔ اسے ہنسی آئ ۔۔ وہ اس سے منہ موڑے بیٹھی تھی ۔۔ سادام نے پیچھے سے اسے بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔
اسکی سفید شرٹ میں ۔۔۔وہ اسکی محبت کی بارش میں بھیگی بھیگی خفا سی تھی ۔۔۔۔
جان یارم دیکھو گھڑی چیک کرو ۔۔۔ 8بجہ ہے صبح کا ۔۔۔ ہمارا سائیں ابھی ا رام کر کے اٹھے گا بھی نہیں ہم ۔۔واپس ا جائے گا ۔۔ وعدہ “اسنے اسکو پیار سے سمجھایا ۔۔۔۔
نہیں”زریش نے سر نفی میں ہلا دیا ۔۔۔
اچھا یہ گھڑی ہمارا تم ہاتھ میں باندھ لے اس میں وقت دیکھتا رہے ۔۔ ہم تمھارا سامنے گیارہ بجے کھڑا ہو گا ۔۔۔”اپنے ہاتھ کی۔ گھڑی اسکے ہاتھ میں بندھتے ہوئے وہ چاہت سے بولا ۔۔۔ زریش نے گھڑی کی جانب دیکھا ۔۔۔ اور پھر غصے سے بولی ۔۔۔
جائیں آپ مجھے بات ہی نہیں کرنی”زریش نے خود کو اس سے آزاد کرایا ۔۔۔
بات نہیں کرتا ۔۔۔۔ ہاں ۔۔ بہت تیز ہو گیا ہے ۔۔۔”اسکا رخ اپنی جانب موڑ کر ۔۔۔ وہ اسکے پھولے پھولے گالوں پر لمس چھوڑ گیا ۔۔۔۔۔
زریش کی نگاہیں بھاری ہونے لگیں ۔۔۔ جبکہ سادام کو جام جتنا ملتا اتنا کم تھا ۔۔ کبھی اسکے محبوب سے بھی اسکا دل بھرا تھا ۔۔۔۔
آپ مت جائیں نہ ۔۔۔۔ “زریش نے اسکا شاداب چہرہ ہاتھوں کے پیالےمیں بھر لیا ۔۔۔
اچھا نہیں جاتا”وہ اتنے پیار سے بولی تھی کہ وہ جوتا اتار کر اسکے ساتھ ہی لیٹ گیا ۔۔۔۔
اس وقت اسے اپنے لباس میں پڑنے ولی شکنوں کی بھی پرواہ نہیں ہوئ ۔۔
زریش ایکدم ایکسائٹیڈ سی ہوتی اسکو جکڑ گئ ۔۔۔
سادام کو ہنسی آئ ۔۔۔۔
سائیں کتنا پیار کرتا ہے ہم سے”وہ اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتا بولا ۔
جتنے آسمان پر چاند تارے ہیں”اپنی بات پر وہ خود ہی کھلکھلائ ۔۔۔
مگر نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں کو ۔۔۔ سادام دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ڈائیلاگ مارتا ہے ۔۔ چالاک “اسنے مصنوعی گھوری لگائ جبکہ زریش نے مسکراتے ہوئے اسپر مزید گرفت سخت کی ۔۔۔ اور آنکھیں موند لیں ۔۔۔
نواب جی آپ کہیں نہیں جانا ۔۔۔”وہ نیند کی وادیوں میں اترنے سے پہلے بولی ۔۔۔
دلبر جو حکم”سادام نے اسکے کان میں کہا ۔۔اور نرمی سے وہیں پیار کیا ۔۔۔
تب تک زریش کی سانسیں بھاری ہو گئیں ۔۔۔
سادام اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔ دل کو سیراب کرنے لگا ۔۔۔
جی بہک سا گیا ۔۔۔ تو اسکی خوبصورتی کو خوبصورتی سے چن لیا ۔ پیار سچا ہو تو محبوب دنیا کے کسی بھی کونے سے نکل آتا ہے ۔۔ اور پھر اسکا تو عشق تھا ۔۔۔۔
جسے اسنے دنیا سے چھین لیا تھا ۔۔۔ اسنے اسکے ماتھے پر پیار کیا ۔۔۔
تب تک زریش بھی گھیری نیند میں چلی گئ ۔۔۔۔ سادام نے خود کو اس سے جدا کیا ۔۔ اسکے بازوں بستر پر رکھے اور اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
اسکے سفید سوٹ پر شکنیں پڑ گئیں تھیں ۔۔ سرمئ شال شانوں پر ڈالے ۔۔۔ اسنے زریش کی جانب دیکھا ۔۔اور ایک پل میں اسکے نزدیک ہوتے ۔۔۔ وہ اسکے لبوں پر پھول بکھیر گیا ۔۔۔۔
مطمئن سا ہو کر پیچھے ہوا ۔۔۔۔
اور باہر نکلا ۔۔۔۔ تو عنایت سامنے تھا ۔۔۔۔
خان گاڑی تیار ہے”وہ بولا ۔۔۔ تو اسنے منع کیا ۔۔
عنایت بادشاہ یہ تم مجھے دے ۔۔ ہم خود جائے گا تم ۔۔۔۔ دھیان رکھنا سب کا ۔۔ حویلی کا “اسنے اسکے شانے تھپتھپائے ۔۔۔
خان مگر ۔۔اپ اکیلے کیوں جا رہے ہیں”عنایت نے سوال کیا ۔۔
کیوں ہم کو گاڑی چلانا نہیں آتا کیا”وہ ہنسا ۔۔۔
عنایت بلکل مطمئین نہیں ہوا تھا ۔۔۔
شھاب باؤ کو لے جائیں پھر”وہ پھر سے بولا ۔۔۔
سادام نے اسکیطرف مسکرا کر دیکھا ۔۔اور گاڑی آگے بھگا لے گیا ۔۔جبکہ دھواں پیچھے رہ گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیز رفتار گاڑی نے اسکی سکون سے چلتی گاڑی کو ۔۔۔ ٹکر ماری ۔۔۔ اور اسکی گاڑی نے دو کلابازیاں کھائیں ۔۔۔ اور کھائ میں ۔۔۔۔ گیر گئ ۔۔۔
ایک بلاسٹ ہوا تھا ۔۔۔
آگ دھوئیں نے گاڑی کو جلا کر راخ کر دیا تھا ۔۔۔۔
لوگ کھائ پر جمع ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔ چیخ و پکارمیچ گئ تھی ۔۔۔۔
نواب سادام فضل خان ۔۔۔ مر گیا “اسکے کانوں میں یہ الفاظ تیزاب کیطرح پڑے اور وہ جھٹکے سے اٹھی ۔۔
نواب جی”ارد گرد دیکھا ۔۔۔ کوئ نہیں تھا جبکہ وہ خود پسینے میں شرابور تھی ۔۔۔
اف یہ کیسا خواب تھا ۔۔۔ یہ اللہ انکی حفاظت کرنا”اسکو نہ پا کر اندازا ہو گیا تھا کہ وہ یہاں نہیں ہے ۔۔ تبھی وہ بے چین دل سے اسکے لیے دعا کر گئ ۔۔۔۔
اور اپنی کلائی پر بندھی اسکی گھڑی دیکھی ۔۔۔ جس میں بارہ بج رہے تھے ۔۔۔
دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے”دل کو سمجھایا ۔۔
خواب کو دفع کرتے ہوئے وہ اٹھی اور فریش ہونے چلی گئ ۔۔۔
تبھی جاناں نے دروازہ بجایا ۔۔۔
دیکھو ۔۔لالا چلے گئے ۔۔۔ اب بندہ اپنے بھائ کی برات پر کہیں جاتا ہے “جاناں خفگی سے بولی تو زریش مسکرائ ۔۔۔۔
اللہ تم دن بدن پیاری ہوتی جا رہی ہو”اسکی گردن پر سادام کی محبت کے نشان۔ دیکھ کر وہ اسے شرمانے پر مجبور کر گئ۔ ۔۔
اچھا یہ لو آج تم لہنگا پہنو گی اور میں بھی ۔۔ میسی کو بھی کہا ہے ۔۔اور آئزہ کو بھی ٹھیک ہے”اسنے لہنگا اسکے سامنے پھیلایا ۔۔۔
زریش ایکدم ایکسائٹیڈ ہو گئ ۔۔وہ آگے بڑھی کہ چکرا گئ ۔۔
زری”جاناں نے اسکو تھاما ۔۔
کیا ہوا “اسنے پوچھا تو زریش نے نفی کی ۔۔
ویسے ہی چکر ا گیا “وہ بولی تو جاناں نے اسکا زرد چہرہ دیکھا ۔۔۔
میں عنایت لالا کو کہتی ہوں ڈاکٹر کو بلائیں گے وہ”اسنے زریش کو بیٹھایا ۔۔۔ تو زریش نے اسے روکنا چاہا ۔۔۔
میڈیم ۔۔سادام لالا سے ہمارا کچومر بنوانا ہے تم نے”عنایت کو کہہ کر وہ بولی تو زریش ہنس دی ۔۔۔۔
آپ سب لوگ نواب جی سے بہت پیار کرتے ہیں”زریش نے ویسے ہی کہا ۔۔۔
ایسا ویسا ۔۔۔ بے حد بے شمار ۔۔۔ جانتی ہو میرے لالا کی بات الگ ہے”جاناں جوش سے بولی ۔۔
اور میرے لالا”زریش نے اسکو چھیڑا تو جاناں نے اسکی طرف دیکھا۔۔
مغرور اڑیل ۔۔ غصیلے نک چڑے ۔۔۔۔ اور انا تو ایسی ۔۔ اتارے نہیں اترے”اسنے تفصیل دی تو زریش بری طرح ہنسنے لگی ۔۔
ہممم اچھائ بھی ہو گی کوئ”اسنے پوچھا ۔۔۔ جاناں نے مسکراتے ہوئے نفی کی ۔۔۔۔
اور عنایت تب تک ڈاکٹر کو لے آیا ۔۔۔۔
زریش کو لگا یہ سب فضول ہے وہ ٹھیک تھی بس چکر ہی تو آیا تھا ۔۔۔
جبکہ ڈاکٹر نے اسکی نبض پر ہاتھ رکھتے ہی ۔۔
خوشخبری سنائی تو ۔۔۔ وہ حیران رہ گئ ۔۔۔
شرم سے الٹا برا ہال ہوا جبکہ جاناں ایکدم چیخی تھی ۔۔
عنایت بھی ایک طرف کھڑا مسکرا دیا ۔۔۔
اور حویلی میں جاناں نے آگ کیطرح یہ بات پھیلا دی ۔۔
اور بار بار سادام کا نمبر ٹرائے کرنے لگی ۔۔۔۔
خبر ہی ایسی تھی ۔۔۔ زریش نے اسوقت سادام کو بہت مس کیا ۔۔
فضل خان بھی ا س خبر پر پہلی بار اسکے پاس آئے ۔۔سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
اور اسکا صدقہ دیا ۔۔۔۔
زریش کے اندر سے خوشی پھٹنے لگی ۔۔۔
وہ کتنا اہم تھا سب کے لیے ۔۔۔ اسکے توسط سے اسکی جھولیاں میں کتنی خوشیاں بھر گئیں تھیں ۔۔ بس اب اسکی واپسی کا انتظار تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کوئ خاص قسم کا انتقام کا طریقہ تھا جو تم نے مجھے اپنے ساتھ گھسیٹا ہے ۔۔۔ صبح سے رات ہو گئ ۔۔۔۔ تمھارے بھائ کی بارات تھی ۔۔۔ عجیب انسان ہو”ولی چیڑ کر بولا تو سادام نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔
ہم نے تمکو اکثر یہ کہا ہے کہ تمھارا پاس دماغ نام کی کوئ چیز نہیں ۔۔۔۔۔ پھر بھی تم نہیں مانتا”سادام نے سنجیدگی سے سیگریٹ کا دھواں اڑاتے کہا ۔۔۔۔
زیادہ بکواس مت کرنا ۔۔۔۔ تمھارے کہنے پر میں ایک بار میں آیا ہوں تو صرف اسلیے کے ۔۔ شاید فیروز سے ریلیٹیڈ کوئی بات ہو ورنہ تمھاری شکل دیکھنے کا کوئ شوق نہیں مجھے”وہ تپ کر بولا ۔۔۔ اور خود بھی سیگریٹ پینے لگا ۔۔۔۔
اس کے علاؤہ اور کوئ بات ہو سکتا ہے جو ہم تمھارا شکل دیکھتا”سادام نے ترچھی نظروں سے دیکھا ۔۔۔ ولی نے چونک کر اسکو دیکھا جیسے منتظر ہو بات کیا ہے ۔۔۔
ہمارا گاڑی کا برکیں فیل ہے”اسنے سکون سے بتایا ۔۔۔
کیا کیا مطلب”ولی کو جھٹکا لگا ۔۔ صبح سے وہ اسکے ساتھ سفر پر تھا ۔۔۔۔
اور اب وہ یہ بات کہہ رہا ہے ۔۔۔
اس احمق کی اولاد کولگتا ہے دماغ صرف اسکا پاس ہے ۔۔۔۔
ہمارا گاڑی کی برکیں فیل کروا کر وہ یہاں ہمارا کام تمام کراتا ۔۔اور تم جو اس وقت اپنے ڈیرے پر ہوتا۔۔۔ تمھاراکھیتوں ڈیرے اور ۔۔۔ تم سمیت تمھارا کام تمام کراتا ۔۔۔۔ “اسنے شانے آچکا کر اسے حقیقت سے روشناس کرایا ۔۔۔۔۔
ولی کی گویائی سلب ہوئ تھی ۔۔۔ اتنا بڑا پلین ۔۔۔
یعنی وہ جانتا تھا ۔۔ تم آج نکلو گے ۔۔۔” ولی نے سوال کیا ۔
ہاں اور تمھارا کھیت جلا کر ۔۔۔۔ وہ ہمارا سر اوپر الزام رکھتا ۔۔۔۔ کہ ہم یہ سب کر کرا کے فرار جیسے ہی ہوا ۔۔ تو ہمارا گاڑی کھائی میں گیر گیا ۔۔۔۔۔
جب کے وہ جانتا نہیں ۔۔ سالہ ہم کبھی کوئ کام چھپ کر نہیں کرتا “اسنے سر جھٹکا ۔۔۔۔۔
تو تم مجھے پہلے یہ سب انفارم کر سکتے تھے ۔۔۔۔ اور مجھے اپنے ساتھ لانے کا مقصد ۔۔۔۔ مجھے تم اس سب سے آگاہ کر سکتے تھے ۔۔۔ تاکہ میں وہاں کچھ کرتا ۔۔اور جب معلوم تھا توگاڑی میں سوار کیوں ہوے۔۔۔۔ ولی کو یہ منتق بلکل سمھجہ نہیں آئ تھی ۔۔۔
ہمارا گاڑی کا برکیں فیل ہے یہ ابھی ہمکو پتہ چلا ہے صبح تک یہ سب درست تھا ۔۔۔
اور تمکو نکالنے کا مقصد اتنا ۔۔۔ تھا ۔ اس بار اسکو رنگے ہاتھوں پکڑے گا ۔۔۔۔
اگر تم وہاں ہوتا تو وہ چوکنا ہوتا ۔۔۔۔ اب وہ کھلے میں کام تمام کرے گا ۔۔”گاڑی کو سنبھالتے ہوئے وہ پہاڑی راستوں پر ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔
ولی نے اردگرد دیکھا ۔۔۔۔۔
اور تمھیں لگتا ہے ہم دونوں بچیں گے”اب اسے شدید غصہ آیا تھا ۔۔۔
اسکے علاوہ بھی بہت کچھ ہو سکتا تھا ۔۔۔
ہم تو ڈوبے گا صنم تمکو بھی لے ڈوبے گا آخر کو ہمارا سالہ ہے تم”اسنے چیڑانے ولی مسکراہٹ اسپر اچھالی ولی کا دل کیا اس کا منہ توڑ دے مگر فلحال اگنور کیا اور موبائل اٹھایا ۔۔۔
تو موبائل میں سگنل ہی نہیں تھے ۔۔۔
اسنے موبائل پٹخا ۔۔۔
اب کیا ہو گا کتنی دیر ڈرائیو کرو گے”اسنے غصے سے پوچھا ۔۔۔۔
دماغ فیروز پر پھٹنے کو بے تاب تھا ۔۔۔۔
سادام نے سیگریٹ شیشے سے باہر پھینکی۔۔۔۔
یہ گاڑی رکے گا نہیں ۔۔۔۔ ہمکو کودنا پڑے گا “اسنے سٹیرنگ پر سے ہاتھ ہٹائے ۔۔ولی ایکدم چکنا ہوا ۔۔۔ گاڑی سپیڈ سے آگے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
آگے کھائ دونوں کو ہی دیکھائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
ہم بچ جائیں گے”ولی نے کھائ کیطرف بڑھتی گاڑی کی سپیڈ سے کچھ گھبرا کر پوچھا ۔۔۔۔
سادام بھی ایک پل کو ۔۔ پریشان ہوا تھا۔ ۔۔۔
کود مارے گا تو پتہ چلے گا ایسا پوچھتا ہے جیسا ہم سب جانتا ہے احمق سالہ”اسنے اسکو دھکا ۔۔۔ دیا ولی نے دروازہ کھولا ۔۔اور گاڑی سے جمپ لگا دی۔ ۔۔ دو کلابازیاں کھا کر ۔۔ وہ روڈ پر گیرہ تو بری طرح چوٹیں آئیں ۔۔ اسکی کھنی سے خون بہنے لگا
۔۔۔ اسنے کراہ کر اوپر دیکھا ۔۔سادام اب تک نہیں کودا تھا ۔۔۔۔
سادام”وہ چلایا ۔۔۔۔ گاڑی کھائی کے نزدیک پہنچ گئ ۔۔۔۔۔ اور اسنے حیرت سے ابلتی آنکھوں سے گاڑی کوکھائ میں گیرتے دیکھا ۔۔۔
بس ایک پل اور صرف ایک پل کو اسنے آنکھیں بند کیں تھیں ۔۔۔۔۔
اگلے پل کھلنے پر گاڑی وہاں موجود نہیں تھی ۔۔۔ یعنی گاڑی کھائی میں گیر گئ تھی ۔۔۔۔
سادام”وہ پھر چیخا ۔۔۔۔۔۔۔
بمشکل خود کو اٹھاتا ۔۔۔ وہ ۔۔۔ آگے کیطرف بھاگا ۔۔۔۔۔
گاڑی کے گرنے سے وحشت انگیز شور برپا ہو گیا تھا ۔۔اور ایکدم ہونے والے بلاسٹ پر ۔۔۔ ولی ۔۔۔۔۔
نے پھر آواز لگائی ۔۔۔۔
سادام “اسکی دھاڑ سے ۔۔۔۔۔ اس جنگل نما کھائ کے اونچے اونچے خوف ناک درخت اور اندھیرے میں پرندے پھڑپھڑا کر ۔۔۔ درختوں پر سے اڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
اتنا چلاتا کیوں ہے ۔۔۔۔ زندہ ہے ہم ۔۔۔۔ تمھارا خون کیے بنا کہیں نہیں جائیے گا “نقاہت سے بھرپور آواز پر ۔۔وہ جھٹکے سے مڑا ۔۔۔۔۔
پہاڑ کے قریب ۔۔۔ سادام زمین پر پڑا تھا ۔۔اسکے سر سے خون نکل رہا تھا ۔۔ جبکہ سفید سوٹ کے بازوں پر بھی خون لگا تھا ۔۔۔
ہاں تجھے مرنے بھی نہیں دوں گا میں ۔۔۔۔۔۔
جب تک میرا انتقام پورا نہیں ہو گا”اسکا گریبان جکڑتے وہ غصے سے چیخا تھا ۔۔۔
سادام ہنس دیا ۔۔۔۔۔
دونوں نے کھائ کے نیچے سے جلتی آگ کی روشنی کو دیکھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس حویلی میں خوشی کے شادیانے بجنے تھے ۔۔۔۔
بیلا اور ہاد کا ملن ہونا تھا ۔۔۔ وہاں اس وقت سکوت چھایا ہوا تھا ۔۔۔۔
سادام کا نہ نمبر مل رہا تھا ۔۔۔ اور نہ سادام کا کسی کو اتا پتہ تھا کہ آخر گیا تو کہاں گیا ۔۔۔۔۔۔
سب کے چہروں پر پریشانی تھی ۔۔ ہاں برات نے کہیں جانا نہیں تھا کیوں کہ بیلا بھی یہیں تھی ۔۔۔ مگر رات کے بارہ بج چکے تھے مگر سادام واپس نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
اس حویلی میں جہاں سب ہی پریشان تھے ۔۔ ایک وجود پتے کیطرح کانپ رہا تھا ۔۔۔۔
یہ اللہ میرا خواب سچ نہ ہو ۔۔۔۔”اپنے بستر پر بیٹھی سادام کی دیوار پر لگی تصویر کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔ وہ چڑیا کیطرح سہم گئ ۔۔تھی ۔۔۔۔
آنسوں زاروقطار آنکھوں سے بہہ رہے تھے ۔۔۔۔
نواب جی واپس آ جائیں” سرخ جوڑے میں اسکے عشق میں سجی اسکے انتظار میں تھی اپنے خواب پر اسکا دل خوف زدہ تھا ۔۔۔۔
نیچے سب اسکا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔
ایک ایک مہمان اسکا منتظر تھا ۔۔۔۔
ویسے سادام کہاں جا سکتا ہے ۔۔۔”فیروز نے حیرانگی کا اظہار کیا ۔۔۔
وہ کہیں بھی نہیں گئے آ جائیں گے”ہاد نے ناگواری سے کہا ۔۔۔
شھاب نے بھی غصے سے اسکیطرف دیکھا تھا ۔۔جب کہ عنایت کو تو جیسے پتنگے لگے ہوئے تھے ۔۔
فضل خان سے آج پہلی بار اسنے اتنی ڈانٹ سنی تھی کہ وہ اسکو مارنے کے لیے اٹھ گئے تھے اور ہاں وہ اسے مارتے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا اسکی غلطی تھی آخر اسنے سادام کو تنہا جانے ہی کیوں دیا ۔۔۔۔
مگر اسنے سب کو شہر دوڑا دیا تھا ۔۔۔۔
فیروز کا چہرہ مطمئین تھا کیونکہ اسکا خاص ملازم ۔۔۔ کھائ میں گرنے والی گاڑی کی اسے اطلاع دے چکا تھا ۔۔۔۔
یہ چوہدری ولی کہاں ہے”اسنے ایک اور نقطہ اٹھایا ۔۔۔
صبح سے وہ بھی ڈیرے پر ہی ہے “شھریار نے اسکو جواب دیا تو اسنے سر ہلایا ۔۔
اتنی آسانی سے سادام اسکے درمیان سے نکل جائے گا اسنے کہاں سوچا تھا یہ ۔۔۔
اب ولی کو ختم وہ اپنے ہاتھوں سے کرے گا ۔۔یہ ہی سوچتے ہوئے وہ ۔۔ چپکے سے وہاں سے نکلا ۔۔۔۔
گاڑی میں سوار وہاں ۔۔اور ۔۔ ولی کے کھیتوں کی جانب آ گیا ۔۔۔
جہاں اسکا ڈیرہ تھا ۔۔۔ اور کچھ کسان اس وقت بھی کام کر رہے تھے صرف اس کوشش میں کے نوابوں سے زیادہ انکی فصل اترنی چاہیے ۔۔۔
اسنے مسکرا کر سب کو دیکھا ۔۔
بیوقوف لوگ ۔۔۔ اس وقت بھی محنت کر رہیں ہیں جب انکی موت انکے سر پر کھڑی ہے “اسنے سوچا ۔۔۔۔ اور ولی کے ڈیرے کیطرف دیکھا ۔۔جو روشن تھا آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔۔۔۔
اسکے آدمی چاروجانب پھیل گئے ۔۔۔۔
اور اسکے کھیت اور ڈیرے کا احاطہ کر کے انھوں نے ۔۔۔ بم بیچھانے شروع کیے ۔۔۔ اس طرح کے کسی کی بھی نگاہ میں نہ آ سکیں ۔۔۔۔
آج کا دن فیروز کے لیے سب سے بڑا دن تھا ۔۔ آنے والی کل میں ۔۔۔۔
سب اسکا ہوتا ۔۔۔۔۔ اور کوئن بھی”وہ خباثت سے ہنسا ۔۔۔۔
زریش کا بے مثال سراپا بھی آنکھوں میں آ دھمکا تھا ۔۔۔
وہ چپ چاپ اندر جا رہا تھا ۔۔۔
اسکے آدمیوں نے وہاں کھڑے گارڈز کو اپنے قبضے میں کر لیا ۔۔۔۔
ایک شور سا برپا ہوا تھا ۔۔۔
کھیتوں پر کام کرتے کسانوں نے حیرت سے ۔۔ یہ منظر دیکھا ۔۔ابھی وہ بھاگتے کہ فیروز کے آدمیوں نے انھیں بھی پکڑ میں لے لیا ۔۔۔۔
اب وہ چیختے چلاتے ۔۔انکی مدد کو کوئ نہیں آنا تھا ۔۔کیونکہ اس وقت فیروز کے آدمیوں نے سب کچھ اپنے قبضے میں کر لیا تھا ۔۔۔
نواب فیروز خان نے بندوق کو لوڈ کیا ۔۔
اور ولی کے کمرے کے دروازے کو ۔۔۔ ٹھوکر مار کر کھولا ۔۔۔۔
تو ایکدم حیران رہ گیا ۔۔۔۔ ہاں حیرانگی سے اسکا منہ کھل چکا تھا ۔۔۔۔
اسکی نظروں کے سامنے نواب سادام فضل خان ۔۔۔۔ اپنی پوری شان شوکت سے ۔۔۔ بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔
چہرے پر بلا کا اطمینان تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملازم دوڑتا ہوا آیا ۔۔۔۔۔
عنایت عنایت باؤ ۔وہ خان ۔۔خان کی گاڑی کھائی میں گیر گئ”وہ چیخا ۔۔تو وہاں سب کی چیخ نکل گئ ۔۔۔
زریش جو نیچے ہی آ رہی تھی ۔۔
اپنے خواب کو حقیقت کے روپ میں سن کر ۔۔۔ اسکی ٹانگیں کانپیں ۔۔اور وہ انھیں سیڑھیوں پر بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔
عنایت نے ۔۔ ملازم کو پرے دھکیلا اور شھاب ۔۔ ہاد سمیت وہ تینوں۔۔۔ بھاگے تھے ۔۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔ ابھی تو ۔۔ اس دامن میں خوشیوں کی چاندنی ہوئ تھی۔۔۔ایسانہیں ہو سکتا “زریش پاگلوں کیطرح چیخنے لگی ۔۔۔
جاناں جس کے خود حواس معطل ہو چکے تھے ۔۔ ہاتھ بے دم تھے ۔۔ زریش کے پاس ۔۔ائ ۔۔۔
اسکی چیخوں پکار پر ۔۔جیسے جاناں کا دل پھٹنے کو ہوا ۔۔
ایسانہیں ہو سکتا ۔۔۔ جاناں دیکھو ۔۔ میں نے روکاتھا تمھارے لالا کو انھوں نے میری بات نہیں مانی ۔۔۔”سرخ آنکھوں سے ۔۔۔ وہ زاروقطار روتی ۔۔۔اسے بتا رہا تھی جاناں نے اسکو سینے میں بھینچا ۔۔
رقیہ بیگم بھی وہیں آ گئیں ۔۔۔ زریش بے حال ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ مورے زمین پر دھڑام سے گیریں تھیں۔۔۔
فضل خان ۔۔۔ صدمے سے ۔۔الگ صوفے پر پڑے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسا ہے لالا سائیں” سکون سے مسکراتے ہوئے اسنے فیروز کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
جس کی سیٹی گم تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ مڑا تو ولی کو کھڑا پایا ۔۔۔۔
ولی کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی ۔۔۔
منظر ایسا تھا اب فیروز خان کے لیے گویا آگے کنواں پیچھے کھائ ۔۔۔۔
مگر اسنے بڑی کوشش سے پھر سے اپنے حواس بھال کیے ۔۔۔
میں بھی یہ سوچ رہا تھا ۔۔۔ اتنی آرام سے تم مر کیسے گئے صرف میرے ایک ہلکے سے پلین کی مار تھے کہ مجھے کنگڈم اور کوئن دونوں مل جاتا ۔۔ سٹرینج مگر تم نے ثابت کر دیا ۔۔۔۔
تم سادام فضل خان ہو “فیروز نے مسکرا کر شانے آچکائے ۔۔۔
کوئن کے نام پر ایک پل کو سادام کو حیرت ہوئ اور اگلے پل اسکی بات سمھجتے ہوئے اندر اتنا جلال بھر گیا کہ من کیا ۔۔ اسی کی بندوق کی ساری گولیاں اسکے سینے میں اتار دے ۔۔۔ اسکی ۔۔۔ زریش پر کسی کی نظر ہو ۔۔ جان نکل کر بھی اطمینان میں نہ آئے ۔۔۔۔
جبکہ ولی بھی اسکی بے غیرتی پر بھڑکا تھا ۔۔۔۔
تجھے کیا لگتا ہے جیت تیری ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ تو نے میرا بے حد نقصان کیا ہے فیروز خان ۔۔۔۔
تیری موت ۔۔۔۔ آج ابھی اور اسی وقت لکھی گئ ہے “ولی اسکے سامنے آیا ۔۔۔۔ فیروز نے مسکرا کر اسکیطرف دیکھا۔ ۔۔
ہاں ۔۔۔ سادام کے چکروں میں سارا نقصان بے چارے ۔۔ چوہدری ولی کا ہوا ہے ۔۔۔۔ مگر یار ۔۔۔۔ تو بھی اسکا دشمن ہے ۔۔۔ اصل یہ فساد کی جڑ ہے اسکو ختم کر کے تیرا بدلہ بھی پورا ۔۔۔۔ اور میرا بھی پورا ۔۔”بھڑکے ہوئے ولی کو دیکھ کر اسنے ایک پتہ پھینکا تھا بس جیسے ہی جزباتی ولی اس میں پھنستا وہ ولی سے ہی سادام کا کام تمام کرا کر ۔۔۔ اور ولی کا خود کر کے وہاں سے نکلتا ۔۔۔۔
سادام اسکی بات پر مسکرا اٹھا۔ ۔۔
ہاں جہاں اسکا دل تھوڑے سے مارجن پر اسکو اکسا رہا تھا کہ وہ زندہ رہے ۔۔زریش کے نام سے اب سارے مارجن ختم ہو چکے تھے اور اسکی سزا صرف موت تھی ۔۔۔
ہاں یار تو نے صیحی کہا ۔۔۔۔۔
ولی نے اسکی آنکھوں میں اٹھتی چمک کو غور سے دیکھا۔
مگر وہ کیا ہے نہ ۔۔ چوہدری ولی اپنا بدلہ خود لے سکتا ہے ۔۔۔ اسکے لیے تیرے جیسے گیدڑ کی ضرورت نہیں مجھے “کہتے ساتھ ہی کھینچ کر ۔۔۔ اسکے منہ پر مکہ ۔۔ مارا ۔۔۔ فیروز کہاں ابھی اس حملے پر تیار تھا ۔۔ دو قدم دور ہوا ۔۔۔۔
اور پیچھے سے سادام کی بندوق سے سکون سے دو گولیاں نکلیں تھیں اور اسکے دونوں پاؤں پر لگیں ۔۔۔
تو اسے بے دم کر گئیں ۔۔۔
فیروز کی چیخ گونجی تھی ۔۔اور وہ زمین پر دھڑام سے گیرہ ۔۔۔۔
سادام آگے آیا ۔۔۔
اسکے تکلیف سے کراہاتے وجود کو دیکھا۔ ۔۔۔۔
کیا خیال ہے لالا سائیں ۔۔۔ تیری آنکھیں نکال کر ۔۔۔ اپنی کوئن کا صدقہ نہ دے دے ۔۔۔”وہ سنجیدگی سے اسکی آنکھوں پر بندق رکھتے بولا۔
فیروز کی آنکھیں پھیلیں ۔۔۔۔ ولی نے کچھ جھنجھلا کر سادام کیطرف دیکھا ۔۔ مگر اس وقت وہ اپنے ہوش میں نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
تم۔۔۔تمھیں مجھے مار کر کوئ فائدہ نہیں ۔۔۔ اگر م۔۔۔مجھے تم مارو گے تو تم دونوں بھی نہیں بچو گے ۔۔ میرے آدمی ابھی بٹن دباتے ہی بم بلاسٹ کر دیں گے ۔۔۔ اور تم دونوں سمیت تمھارے کسان بھی مارے جائیں گے ۔۔۔ “وہ پلکا سا مسکرایا ۔۔۔۔
تو سادام بھی مسکرایا۔ ۔۔۔
وہ سارا آدمی ہمارا ہے جان من ۔۔۔۔”فیروز کی غلط فہمی دور کرتے ہی اسنے اسکی ایک آنکھ پر بندوق کا بٹ مارا ۔۔۔۔
فیروز تلملایا ۔۔۔
ولی اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔
تم اسکو عزیت ناک موت دینے کے موڈ میں ہو تو بتا دو۔ ۔۔۔
میں یہاں سے چلا جاتا ہوں”وہ چیڑ کر بولا ۔۔۔
جبکہ سادام فیروز کو بلکتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اسکی آنکھ سے خون نکلنے لگا تھا ۔۔۔
اسی آنکھ کو ہمارا محبوب پر ڈالا ہے تم نے ۔۔۔۔۔ ہم تمکو ایسے نہیں مارے گا ۔۔۔”وہ پھنکارہ ۔۔۔۔۔
فیروز کی تلملاہٹ دیکھنے لائق تھی کہ چوہدری ولی ۔۔جو ایک سخت خو انسان تھا وہ یہ منظر نہ دیکھ سکا ۔۔۔۔
ہم کو ایک بات بتا یہ تم ہمارا دشمن بنا کیسا ۔۔۔ ہمکو اب تک ساری کہانی میں یہ سمھجہ نہیں آیا کہ ویلن تم۔ کس لیے بنا”وہ بندوق کی نوک سے اپنی بریڈز کھجاتا حیران کن نظروں سے اسکو دیکھتا بولا ۔۔۔۔۔
ولی جو بے دم زمین پر پڑا تھا کیونکہ اسکی دونوں ٹانگوں پر گولیاں لگیں تھیں ۔۔۔ اور ہلنے کی بھی سہلایت نہیں تھی ۔۔ اوپر سے آنکھ زخمی تھی اسنے دوسری آنکھ سے نفرت سے سادام کو دیکھا ۔۔۔۔
تجھے میں نے عمر کے ہر حصے میں ۔۔۔۔۔ صرف اپنا دشمن مانا ہے ۔۔۔ کیونکہ تو ناگ ہے ۔۔۔۔ میری ہونی تھی۔۔یہ شان شوکت یہ دولت ۔۔۔۔
یہ مرتبہ یہ عزت ۔۔۔۔۔۔
مگر نہیں ۔۔۔ تیرے باپ نے اپنی گدی تجھے دے دی ۔۔ اور اتنی سی عمر میں تجھے سردار بنا کر مجھے دودھ میں سے مکھی کیطرح نکال پھینکا۔۔۔۔۔۔
میری بات میرا فیصلہ اسکی اوقات نہیں رہی ۔۔۔
تم سب نے مل کر مجھے حویلی کا کتا سمھجہ لیا جسے سب جھڑک دیں جب چاہے ۔۔۔۔
اور پھر ۔۔۔۔۔ میں نے ۔۔۔ زریش کا رشتہ بھیجا ۔۔۔
تو تم ایک بار پھر ناگ بن کر سامنے آ گئے ۔۔۔ (یعنی زریش کو دیکھنے جو لوگ آ رہے تھے وہ سب فیروز کا پلین تھا )
تو میری خوشیوں کا قاتل ہے تو میں تجھے تباہ کر دوں گا “وہ سب تکلیف بھول بھال ۔۔ دونوں ہاتھ سادام پر چلانے لگا ۔۔جبکہ سادام جو یہ سب سن کر حیرانگی میں تھا ایکدم پیچھے ہوا ۔۔۔ اور اسکیطرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
ولی بھی سادام کیطرف دیکھا رہا تھا۔
تو اس قابل نہیں تجھے زندہ چھوڑا جائے ۔۔۔”اسنے اسکے ہاتھ پر فائرنگ کی۔ ۔۔
فیروز کی چیخیں نکلیں ۔۔۔۔۔
مگر تیرا نفرت کا وجہ بے حد ۔۔۔ نا معقول تھا ۔۔۔”وہ پرسوچ ہوا ۔۔
مگر تمھارا منہ سے ہمارا بیگم کا نام ہمکو پسند نہیں آیا “اسنے دوسرے ہاتھ پر بھی فائر کیا۔ ۔۔ اور دوسرا ہاتھ بھی بے جان ہوا ۔۔
اور ایکدم اسکا گریبان جکڑا ۔۔۔
مگر ہم تمکو پھر بھی زندہ چھوڑے گا ۔۔۔ جانتا ہے کیوں ۔۔۔۔
کیونکہ اب تم اس لنگڑا ہاتھ پاؤں اور ایک آنکھ کو ۔ اپنا وراثت ۔۔۔۔
اپنا حصہ ۔۔۔ سے صیحی کراتا ۔۔۔ پھیرے گا اور جس دن یہ صیحی ہو گیا ۔۔ہم پھر انکو ایسا کر دے گا ۔۔۔۔
تمکو مار کر ہمارا دل کو تسلی نہیں ہو گا ۔۔۔
تم درست کہتا ہے ۔۔۔۔
سادام فضل خان ناگ ہے ۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔
لوگوں کے خون سے اپنا ہاتھ نہیں رنگتا ۔۔۔۔
تیرا زندگی کا حساب کتاب اب آگے تو خود کرے گا ۔۔۔۔۔
اس دشمنی سے اپنا پیٹ پالنے کے بجائے ایک بار تم ہم سے حصہ مانگتا ۔۔۔۔۔
خیر ۔۔۔۔ “وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ ۔۔۔
فیروز کو ایک آنکھ سے دیکھائی دینا واقعی بند ہو چکا تھا ۔۔۔
اس طرح زندہ چھوڑ کر مجھے بھیانک موت مت دو سادام فضل خان ۔۔۔ مار دو مجھے ۔۔۔۔”وہ چلایا ۔۔ مگر سادام باہر نکل گیا ۔۔۔۔
ولی بھی اسکے ساتھ باہر نکلا ۔۔۔۔۔
دونوں نے ابھی چند قدم ہی بھرے تھے کہ ۔۔ ایک فائر اٹھا ۔۔۔۔
فائر کی آواز سے ۔۔ کھیتوں کا احاطہ کیے درختوں میں سے پرندے پھڑپھڑا کر باہر نکلے ۔۔۔ دونوں نے پیٹھ موڑ کر بند کمرے کو دیکھا ۔۔۔۔
اور ایک دوسرے کی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔۔
سیگریٹ ہے تمھارا پاس”سادام کی آواز پر ولی نے چونک کر دیکھا ۔۔۔
عجیب آدمی ہو “ولی بولا ۔۔
ناگ “سادام مسکرایا ۔۔۔
کوئ شک نہیں”ولی نے ہامی بھری ۔۔سادام نے گھورا تو مسکرانے کی باری ولی کی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منظر ایسا تھا ۔۔کہ حویلی میں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔
لوگوں سے بھری ہونے کے باوجود قبرستان جیسا سماں تھا ۔۔۔۔
مدہم مدہم سسکیاں بار بار دم توڑ رہیں تھیں ۔۔۔۔
شھاب ہاد عنایت واپس لوٹ آئے تھے ۔۔۔
کہاں ہے ہمارا بیٹا۔ سائیں”فضل خان دوڑ کر ان تک آئے ۔۔۔
عنایت کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ہاد کی بھی سرخ سی آنکھیں اب بہنے لگیں تھیں جبکہ شھاب۔ ۔۔ سرخ نظروں سے انکو دیکھنے لگا ۔۔۔
گاڑی کا کچھ نہیں بچا”وہ بولا ۔۔۔۔۔
تو فضل خان نے سر تھام لیا ۔۔۔
حویلی میں ہائے ہائے گونجنے لگی ۔۔اور اس سکوت میں چیخوں پکار مچ گئی ۔۔۔
جہاں شادیانے بجنے تھے ۔۔۔ وہاں صفے ماتم بچھ گئ تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیس منٹ کی ڈرائیو سے حویلی کے سامنے گاڑی رکی ۔۔۔
جسے ولی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ سادام کے بازو پر چوٹ زیادہ لگی تھی ۔۔۔
چلیں”ولی نےا سکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
کمال ہے ہم اپنے بھائ کی برات پر ایسا جائے گا ۔۔ اپنے محبوب کو پسند بھی نہیں آئے گا “اسنے سر جھٹکا ۔۔۔
تمھارے اندر اتنی عاشقی کی ٹھرک ہے ہی کیوں”ولی نے سیٹ بیلٹ کھولی سادام نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
ہم تمھارا جیسا نہیں ہے مر مر کر ۔۔۔ کنجوسی سے محبت کرے ۔۔۔
ہم عاشقی کرے اور دنیا نہ دیکھے ۔۔۔ ایسا ممکن نہیں سمجھا “اسنے آنکھوں سے جتایا ۔۔۔ ولی نے اس فضول گوئی پر لعنت بھیجی اور دونوں گاڑی سے اترے ۔۔۔
حویلی کے باہر ملازم کھڑے تھے گاؤں کے لوگ ۔۔۔ کھڑے تھے ۔۔ دونوں کو شان سے چلتا ہوا آتا دیکھ کر ۔۔۔ وہ اندھیرے میں ان کو پہچاننے کی کوشش کرتے ان کے نزدیک ہوئے ۔۔۔۔
بڑے خان ا گئے ۔۔۔”ایک مزارے نے چیخ کر آواز لگائی ۔۔۔
ولی نے حیرت سے جبکہ سادام نے بھی اس پاگل کو حیرت سے دیکھا ۔۔۔۔۔
تو ہم نے واپس نہیں آنا تھا کیا”وہ بڑبڑایا ۔۔۔
شاید تمھاری موت کی خبر پہنچی ہو ۔”ولی طنزیہ مسکرایا ۔۔۔
تو تیرا بھی پہنچنا چاہیے پھر تو”سادام نے کہا ۔۔۔ تو دونوں نے ناگواری سے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔
اور اندر بڑھے ۔۔۔
سب سے پہلی نگاہ عنایت کی اسپر اٹھی ۔۔۔
اور وہ دوڑتا ہوا اس تک آیا ۔۔۔
خان ۔۔۔ خان آپ زندہ ہیں”وہ بولا ۔۔۔
سادام نے اسکیطرف دیکھا ۔۔
اپنے باپ کو بھائ کو دوست کو اپنی جانب آتا دیکھا۔۔
وہ سب اسے دیوانوں کیطرح دیکھ رہے تھے ۔۔۔
ولی یہ منظر دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔
ہاں اسکے چاہنے والے بہت تھے ۔۔۔اور چند گھنٹے ۔۔ اسکے ساتھ گزار کر اسے اندازا ہوا ۔۔ اس میں ایک الگ ہی بات تھی ۔۔۔۔۔۔
حویلی میں اسکی واپسی کا شور سا مچ گیا ۔۔۔۔۔ جاناں دوڑتی ہوئی ۔۔ نیچے آئ ۔۔۔
اسکی آنکھیں کچھ لمہوں میں سرخ ہو گئیں تھیں۔۔۔۔ سب سے پہلے نظر اپنے لالا پر ہی گئ تھی ۔۔۔۔
اور دوسری نظر جب اسپر اٹھی تو وہیں جم کر رہ گئ ۔۔۔۔۔
ولی بھی اسی کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ سمھجہ نہیں سکی ۔۔اسے کہاں جانا چاہیے ۔۔۔
آنسوں بھری آنکھوں سے وہ ۔۔ بیچ میں ہی رک گئ ۔۔۔۔
تبھی سادام آگے بڑھا ۔۔۔۔ جاناں کا ہاتھ تھاما اور ولی کے سامنے لے آیا ۔۔
شاید ہاد خوشنصیب تھا کہ اس شادی میں گاؤں کے لوگ ۔۔اور حویلی کے گھر والے کرشمے دیکھ رہے تھے ۔۔
ولی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ ۔۔۔ سختی سے بولا ۔۔۔
اب کی بار ۔۔۔ یہ ہمارا گھر تمھارا وجہ سے آئ ۔۔۔۔
تو ۔۔ ہم سچ کہہ رہا ہے تمھیں فیروز سے بھی بدتر موت دے گا”وہ سفاکیت سے بولا ۔۔۔۔
مگر کافی مدھم آواز میں کہ دونوں کے مابین ہوئ گفتگو کوئ سن نہیں سکا ۔۔۔
ولی نے بنا کچھ کہے جاناں کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔
گھر چلیں”اسنے ۔۔۔ نرمی سے پوچھا ۔۔۔۔ جاناں اسکے زخموں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بھرے رہے تھے ۔۔۔
وہ کچھ بول نہ سکی ۔۔یہ سب جو بھی کچھ ہوا ۔۔سمھجہ تو کسی کو نہیں آئ تھی سچویشن ایسی تھی کہ لوگ سوال کم کر رہے تھے ۔۔۔
سادام وہاں کھڑے لوگوں سے مخاطب ہوا ۔۔
سب اپنے سردار کو زندہ دیکھ کر بے حد خوش تھے ۔۔۔
اور رفتہ رفتہ سب ۔۔۔ اسکو دیکھنے کے بعد وہاں سے جانا شروع ہو گئے ۔۔۔۔
کہ اب حویلی کے لوگ رہ گئے ۔۔۔
ولی نے بھی پلٹ جانا مناسب سمجھا ۔۔۔۔ اگر ایک دوشمن کو مارنے کے لیے ان دونوں کو ایک ہونا پڑا تھا ۔۔تو اسکا مطلب یہ نہیں تھا دونوں اپنے بیچ موجود انتقام کو بھول گئے تھے ۔۔۔
ولی کو اندر جاناں گوارا نہیں ہوا جہاں ۔۔۔ جاناں کے گھر والے جا رہے تھے جبکہ ۔۔ شھریار اسکے پاس آیا ۔۔۔
تم کہاں تھے یہ چوٹیں کیسے لگیں اور تم ٹھیک ہو نہ”وہ پریشانی سے بولا ۔۔۔اور ولی کو گلے سے لگا لیا ۔۔۔
یار ایسے کام کیوں کرتے ہو ۔۔تم دونوں لڑے ہو آپس میں”وہ سوال کر رہا تھا ۔۔
اگر ہم آپس میں لڑتے تو زندہ کوئ نہیں بچتا ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔ حویلی جا رہا ہوں ۔۔ تم بھی آ جاؤ کل بات ہو گی”اسنے اسکی پشت کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
شھریار نے سر ہلایا ۔۔۔ اور آئزہ اور قیہ بیگم کو لینے چلا گیا ۔۔۔۔
جبکہ ولی نے ایک بار پھر اسکی صورت تکتی جاناں کو دیکھا ۔۔۔۔
اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔”ولی اسکے چہرے کے نزدیک ہوا ۔۔۔
جاناں نے نگاہیں جھکا لیں ۔۔۔۔
جان ولی ہماری بیٹی بھی ہے شاید”ولی نے اسکو احساس دلایا ۔۔۔۔
تو ۔۔۔ جاناں نےا سکی جانب دیکھا ۔۔
میں ۔۔ کل آ جاؤ گی۔۔۔”وہ آہستگی سے بولی ۔۔۔
خون دیکھ رہی ہو میرا ۔۔۔۔ کتنا ضایع ہوا ہے ۔۔ صرف اور صرف تمھارے نکمے ۔۔ بے تکے بھائ کی وجہ سے ۔۔۔ تو اب اس خون کو بڑھائے گی بھی ۔۔۔ اسکی ہی بہن ۔۔وہ بھی آج ہی رات ۔۔سمھجی ۔۔۔۔ “اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر ۔۔۔۔ وہ سختی سے بولا ۔۔۔
چوٹ سے زخمی ہو گئے مگر مزاج اب بھی ویسے ہی ہیں”جاناں نے اسکو ۔۔ دور کیا اور اندر اپنی بیٹی لینے کے لیے دوڑی ۔۔
جبکہ ولی نے سیگریٹ جلا کر ۔۔۔ شعلہ ۔۔۔ دیا ۔۔۔
اور حویلی سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالہ ہم حج کر کے آیا ہے جو تم سب گھیرے بیٹھا ہے” ڈھکے چھپے لفظوں میں وہ سب کے سوالوں کے جواب دے چکا تھا ۔مگر فیروز کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ۔۔۔۔ کہ اسکی موت کی خبر خود ہی گاؤں میں صبح پھیل جائے گی ۔۔۔۔
مگر گھنٹہ ہونے کو آیا تھا ۔۔۔ وہ جانتا تھا زریش ۔۔۔ کی کیا حالت ہو گی ۔۔ تبھی اسکی جان پر بنی ہوئ تھی مگر یہ لوگ جان چھوڑنے کو تیار نہیں تھے ۔۔بلاخر وہ چیڑ کر اٹھتا ہوا بولا ۔۔
عنایت نے پل دو پل میں اسکی ڈریسنگ کرا دی تھی ۔۔
مگر اب اسکا جسم اکڑ چکا تھا ۔۔۔
تبھی وہ چیخا تو ۔۔سب منہ بسرتے ۔۔۔ ادھر ادھر ہونے لگے ۔۔
اے ہاد سائیں ۔۔تم شرافت سے اپنے کمرے میں جائے گا ۔۔۔۔ اگر ادھر ادھر نظر گھمایا بھی تو تمھارا ٹانگوں کا کچومر بنا کرتمھارا برات کا کھانا کھلائے گا تمکو ہی ۔۔۔۔ “اپنے کمرے میں جاتے ہوئے وہ ہاد کو دیکھ کر بولا ۔۔۔
لالا میری شادی ہوئ ہے یار آج”اسنے دہائ دی ۔۔۔
ابھی درست کرتا ہے تمھارا کھوپڑی”سادام نے غصے سے ۔۔ اسکی جانب قدم اٹھائے ۔۔۔
کیا ہو گیا کیا ہو گیا ۔۔۔ جا رہا ہوں اپنے کمرے میں جزباتی ہو جاتے ہیں یہ حویلی کے لوگ بھی”ایکدم دونوں ہاتھ اٹھا کر وہ اسکو بولا ۔۔۔ تو شھاب کا قہقہ سب سے اونچا تھا ۔۔۔
اللہ کرے ۔۔میرے جیسی ریس ریس کر آپکی شادی ہو ۔۔ آپ آدھے دولہا بنو ۔۔۔۔ آپکی بیوی راضی نہ ہو آپ سے “ہاد جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد اس حویلی میں اسنے آج قدم رکھا تھا ۔۔۔۔ تھوڑا عجیب لگا ۔۔۔
آج وہ اپنے بچے کے ساتھ اس حویلی میں آئ تھی ۔۔۔
وہاں سب اب بھی ویسا کا ویسا ہی تھا ۔۔۔ رات زیادہ ہونے کے باعث سب اپنے کمروں میں۔ تھے ۔۔۔ شاید وہ لوگ جو اسے ناپسند کرتے تھے ۔۔۔
اور باقی پیچھے گاڑیوں میں آ رہے تھے ۔۔۔۔
ولی اسے لیے کمرے میں آ گیا ۔۔ تو جاناں حیران نظروں سے کمرے کو دیکھنے لگی۔ ۔۔۔پھولوں کی مہک سے کمرہ مہک رہا تھا
۔
ولی کو بھی اب یاد آیا کہ وہ ۔۔۔ کل صبح تک یہ کام کرا رہا تھا کیونکہ اسے یقین تھا آج جاناں اسکے ساتھ آئے گی ۔۔۔
اور آج کے دن اتنے حادثات ہوئے کے اس بارے میں وہ بلکل بھول گیا تھا ۔۔۔
جاناں کے لب اپنے آپ مسکرا دیے ۔۔۔۔
اسنے پھولوں کو چھوا۔۔۔۔
جبکہ ولی سے اپنی ہی بیٹی نہیں سمبھل رہی تھی حالانکہ وہ سوئ ہوئ تھی اورا سے اس وقت سونا ہی چاہیے تھا ۔۔۔
مگر ولی نے اسے ایسے پکڑا ہوا تھا کہ وہ کسی بھی وقت بآسانی اٹھ جاتی ۔۔۔۔
اسنے تبھی جاناں پر دھیان دینے کے بجائے پہلے اپنی بیٹی کو ۔۔کوٹ میں لیٹایا جو سپیشلی اسی کے لیے بنوایا گیا تھا ۔۔
اور پھر جاناں کو دیکھا ۔۔ جو اب بھی پھولوں کی سیج کو دیکھ رہی تھی اور پھر کسی احساس کے تحت ۔۔۔ وہ بلکنی میں چلی گئ تو اسکی مدھم سے حیران کن چیخ نکلی ۔۔
ولی اپنے کیے گئے کارنامے کو سیرے سے ہی فراموش کیے بیٹھا تھا ۔۔۔
حالانکہ اسکے ہاتھ پاؤں میں بہت درد ہو رہا تھا ۔۔۔ مگر وہ پھر بھی جاناں کے پیچھے آیا ۔۔اور بلکنی میں ۔۔۔ کبوتر دیکھ کر ۔۔ اسنے سانس بھرا ۔۔۔۔
جبکہ جاناں ایکسائٹیڈ سی ۔۔سفید کبوتروں کو بانہوں میں بھرے ۔۔۔ انھیں پیار کر رہی تھی ۔۔۔
یہ سب آپ نے میرے لیے کیا ہے”وہ حیرانگی سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔
کیا تم ان سے کل نہیں مل سکتی”اسنے اکتا کر کہا ۔۔۔ جاناں کی ایکسائٹمنٹ دم توڑ گئ ۔۔۔
اب بلکل نہیں بدل سکتے “اسنے منہ بسور کر کہا ۔۔۔
تو تمھیں مجھ میں بدلنا کیا ہے”ولی نے آگے بڑھ کر کبوتروں کو اسکی گود سے الگ کیا ۔۔
دھیان سے انھیں کچھ ہو جائے گا “جاناں بےتابی سے بولی ۔۔۔
اگر ایسا ہی رہا تو انکی گردنیں مروڑ کر اپنے ولیمے میں لگا دوں گا”اسنے گھور کر جاناں کو دیکھا ۔۔۔ اور اسے بانہوں میں بھر کر اندر لے ایا
ولی ۔”جاناں نے ہمت کر کے اسکے بازو پر تھپڑ لگا دیا ۔۔۔
میں زخمی نہ ہوتا ۔۔ تو ۔۔ تمھارا شکار ۔۔۔ ایسا کرتا کے تمھارے ہوش ٹھکانے لگتے”اسنے سائیڈ لیمپ جلایا ۔۔۔۔
جاناں کا خوبصورت چہرہ ۔۔۔ چمک اٹھا ۔۔۔ پھولوں کی سیج میں ۔۔ دونوں ایکدوسرے کے بے حد قریب تھے ۔۔۔۔
جاناں کی گرتی اٹھتی پلکیں ولی کو مدہوش کرنے کے لیے کافی تھیں ۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ اسکے چہرے پر جھکتا ۔۔۔
جاناں نے اپنا چہرہ موڑ لیا ۔۔۔۔
ولی نے کچھ چونک کر اسکو دیکھا ۔۔۔
کیا میرے لیے تمھارے دل میں اب بھی جگہ نہیں بنی”وہ ایک احساس کے تحت بولا ۔۔۔۔
میں نےا یسا نہیں کہا “جاناں نے اسکے سر کے مختصر سے زخم پر ۔۔۔ اپنے انگلی پھیری ۔۔۔۔۔
ولی نے اسکی انگلی کو پکڑ کر لبوں سے لگا لیا ۔۔۔۔
کیا تمھارا دل مجھ سے صاف ہوا “اسنے ایک اور سوال داغا ۔۔۔۔
جاناں نے غور سے ولی کیطرف دیکھا ۔۔
وہ اسکے بولنے کا منتظر تھا چوہدری ولی جو اپنے غرور انا ۔۔۔ میں مدہوش انسان تھا ۔۔۔ آج کس طرح اس کے جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔
اگر صاف نہ ہوتا ۔۔۔۔ تو آپکے پاس نہیں ہوتی”جاناں نے اسکیطرف دیکھا۔ ۔۔۔ ولی کو لگا جیسے اسکے انگ انگ کے درد پر ۔۔ ٹھنڈک کا احساس رکھ دیا ہو ۔۔۔
جاناں پر جھکتے ۔۔ وہ پوری طرح مدہوش ہو چکا تھا ۔۔۔
جبکہ جاناں نے بھی جیسے ۔۔ دل و دماغ کی رضامندی سے ۔۔ اسکی گردن میں ۔۔بازوں حائل کیے ۔۔۔۔ ولی خود کو سیراب کرنے میں اسکو اپنی محبت کی بارش میں بھگونے میں مگن ہو گیا ۔۔۔
کچھ توقف بعد جاناں نے پھر سے اسکو زیادہ پھیلنے سے روکا ۔۔۔۔
میں نےا پکا کتنا انتظار کیا”اسنے بلآخر اسکے کرتے کے بٹن سے کھیلتے ہوئے شکواہ کیا ۔۔۔ جہاں گرد لگی تھی ۔۔۔
آج کے بعد انتظار کراو تو بھلے جان لے لینا”ولی نے مسکرا کر اسکے گال پر پیار کیا ۔۔۔
ہماری بیٹی ہوئ ۔۔ ولی ۔اپ سب سے دیر سے آئے”اسنے ایک اور شکواہ کیا ۔۔۔۔
میں معافی مانگتا ہوا اچھا نہیں لگاو گا میری جان ۔۔۔انے والے دس بارہ بچو میں میں تمھارے سر پر کھڑا رہو گا”دوسرے گال پر پیار کرتے ہوئے اسنے جو کہا جاناں کی آنکھیں پھیلیں ۔۔۔
دس بارہ”وہ حیران تھی ۔۔
کیوں کم ہیں”ولی نے اسکی ناک پر پیار کیا ۔۔۔۔
جاناں نے سر جھٹکا ۔۔۔اور اسکی جسارتوں سے گھبرہ کر انگلیاں اسکے لبوں پر رکھ دی ۔۔۔
اپ نے ہماری بیٹی کا نام بھی نہیں رکھا”ایک اور شکواہ تیار تھا ۔۔۔۔
اوہ”ولی کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا ۔۔۔
ایکچلی مجھے اممم یار لڑکیوں کے نام تمھیں پتہ ہوں گے نہ “وہ کچھ سوچتے ہوئے بلآخر اسپر ڈال گیا ۔۔۔
نہیں آپ رکھیں گے” جاناں نے ضد کی ۔۔۔۔
امممم جانلی”وہ بہت سوچ کر بولا ۔۔۔
جاناں نے اسے ایسے دیکھا گویا پاگل ہو ۔۔۔ ولی نے ہنستے ہوئے بھرپور شرارت کی ۔۔۔
یہ کیسا نام ہوا بھلہ کتنا فضول سا نام ہے”اسنے احتجاج کیا ۔۔۔
دیکھا ۔۔۔۔ مجھے یقین تھا تم سمجھو گی نہیں ۔۔۔”
آپ اسکے اندر کی سائینس سمجھا دیں”جاناں اسکی شرارت پر شرما سی گئ ۔۔۔
جاناں کا جان ۔۔۔۔ اور ولی کا لی ۔۔ مل کر بن گیا جانلی”اسنے بتایا ۔۔تو جاناں کو ہنسی آ گئ ۔۔۔
میں نے ایسا نام پہلے کبھی نہیں سنا “وہ بولی جبکہ ولی نے ۔۔۔ اسکی کھلکھلاہٹ کو ہی قید کر کے اسکو خود میں جکڑ لیا ۔۔۔۔
جاناں کے دل کی دھڑکن ۔۔۔ آج ولی کی محبت کی تال پر تھرک رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ ابھی کھلا بھی نہیں تھا کہ گھومتا ہوا تکیہ اسکے منہ پر آ کر لگا ۔۔۔ جبکہ وہ اپنا زخمی سر تھام کر رہ گیا ۔۔۔۔
اف گھائل کرے گا یہ لڑکی آج ہمیں ۔۔کتناچالاک ہے ۔۔ زخمی شیر کو شکار پر اکساتا ہے”اسکو دیکھتے مسکراہٹ دباتے ہوے خود سے ہی بول رہا تھا جبکہ مقابل سرخ لہنگے میں اپنے بے پناہ حسن سے بے پرواہ ۔۔۔۔ اپنی سسکیوں کو روکتی ۔۔۔ جو چیز ہاتھ میں آ رہی تھی کھینچ کر اسکے سر پر مار رہی تھی یہ تو شکر تھا اب تک صرف تکیے ہی اسکے ہاتھ آ رہے تھا۔۔۔
یار من ۔۔ حوصلہ مکھن سائیں ۔۔ہم زخمی ہے ۔۔۔”وہ بولا اور اچانک اسکی کلائ کو سختی سے تھام کر اپنے قریب کیا ۔۔۔۔
زریش نے اسکے سینے پر مکے برسا دیے جبکہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔۔۔
اسکے جسم سے روح نکال کر وہ کتنے سکون سے مسکراتا ہوا اندر آیا تھا۔
مکھن دلبر ۔۔۔ ہم۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ یارم”اسنے اسکے مچلتے وجود کو زبردستی سہلینے میں جکڑا ۔۔۔
نہیں ۔۔میں نے روکا تھا ۔۔روکا تھا میں نے ۔۔۔ آپ پھر بھی چلے گئے ۔۔۔۔ آپ کتنے برے ہیں نواب جی”وہ اس ستم گر کے ہی سینے میں منہ چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔
سادام ۔۔ اتنی محبتوں پر سرشار ہوا تھا ۔۔۔
اسکی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر وہ اسکو حوصلہ دینا چاہ رہا تھا ۔۔۔
اب روتا۔ رہے گا ۔۔۔ قسم اٹھا لے دلبر ۔۔۔۔ ہمارا ہاتھ دوکھتا ہے تمھارا اس وزن سے رونا دھونے سے”وہ ضبط سے بولا ۔۔زریش نے سر اٹھایا ۔۔۔
بکھرے بال اڑے اڑے میکپ سے اسکے سر پر پلبندھی پٹی اور بازوں پر پٹی دیکھ کر وہ نئے سیرے سے رو دی ۔۔
اپکو درد ہو رہی ہے ۔۔ سادام ۔۔ آپ ۔۔اپ کیوں گئے”وہ اسکے ہاتھ تھامتا معصومیت سے پھراسے رو دی ۔۔۔
اچھا اب نہیں جاتا ۔۔ تم رونا بند کرے گا ۔۔ایسا شعلہ بن کر ۔۔ رومینس جھاڑنے کے بجائے کاٹنے کو دوڑتا ہے”اسکے ریشمی بکھرے بالوں کو سنوارتے ہوئے وہ اسکی پیشانی پر اپنا لمس چھوڑ گیا ۔۔۔۔
زریش نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیے ۔۔اسکو بستر پر بیٹھایا ۔۔۔
سادام اسکی بے تابیاں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
آپ لیٹ جائیں”اسنے ۔۔۔ کہا ۔۔۔
سادام سعادت مندی سے لیٹ گیا ۔۔۔۔
زریش نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
آنکھیں پھر بھرنے لگی ۔۔۔
اب تم رویا تم تمھارا صحت کے لیے اچھا نہیں ہو گا”سادام نے گھورتے ہوئے وارن