50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 29
وہ مزے سے اسے اپنا ہوٹل دیکھا رہا تھا ۔ ۔شھاب نے زریش کیطرف دیکھا اور دل سے دعا کی کہ وہ لڑکی اس آلو کے پٹھے کا سر پھاڑ دے۔ ۔۔۔
زریش ۔۔۔ نے سادام کی جانب دیکھا اسکا دل سا ٹوٹا ۔۔
اور اسکے قدم ساڑھیوں پر آئے اور وہ نیچے آ گئ ۔۔۔
میم یہ تمھارا کمرہ ہے “سادام اس حرکت پر اور بھی چہک اٹھا ۔۔۔
جبکہ زریش وہیں کھڑی دیکھتی رہی ۔۔۔
شھاب کی پوری پوری سپورٹ اس وقت زریش کی طرف تھی ۔۔۔
اوہ یہ کیوٹ لیڈی کون ہیں ۔۔ “زریش کیطرف دیکھتے وہ لڑکی سوال کرنے لگی ۔۔۔
جبکہ زریش نے دانت پیسے ۔۔۔
یہ ۔۔۔ یہ یہاں کوک ہے “سادام ۔۔ انگلش میں بولا ۔۔۔ جبکہ زریش کی آنکھیں پھیلیں اب وہ اتنی بھی نہ سمھجہ نہیں تھی ۔۔
وہ اسکے نزدیک گئ۔
اور اس لڑکی کیطرف دیکھا ۔۔۔
I’m his wife”
وہ نارملی بولی تو لڑکی کے چہرے پر حیران تاثر پھیلا۔ ۔ اور اسنے سادام کیطرف دیکھا ۔۔
جبکہ سادام کا دل اسکے اس حق پر خوش ہوا ۔۔
وہ لڑکی سر ہلا کر اندر چلی گئ ۔۔ جبکہ سادام چاہت لٹاتی نظروں سے زریش کو دیکھنے لگا ۔۔۔
اور شھاب نے اسکے بازوں پر سختی سے چٹکی کاٹی ۔۔۔
پہلے انگریزنی سے آنکھیں ٹھندی کر لیں اب بیوی کو ۔۔ بھرے چہرائے پر لالچی نظروں سے دیکھ رہا ہے”وہ بولا تو سادام کا قہقہ ابھرا ۔۔۔۔۔۔ جس پر زریش نے پاؤں پٹخے اور وہ اوپر چلی گئ اس شخص سے بات کر کے وہ اپنے گلے میں وبال نہیں لانا چاہتی تھی مگر جسے اس کمرے کی راہ دیکھائی تھی وہ ضرور اسکی آنکھ میں پھنس چکی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زریش کے نہ ملنے سے ۔۔۔۔ ولی کے جیسے حوصلے ٹوٹنے لگے تھے ۔۔۔۔ وہ کون سی جگہ نہیں تھی جہاں اسنے اسے تلاش کر لیا تھا ۔۔۔ ہفتہ ہونے کو آیا تھا مگر اب ۔۔بھی صورتحال وہی تھی ۔۔۔ اگر فرہاد ہوش میں ہوتا تو شاید اسکے لیے اسکو ڈھونڈنا آسان ہو جاتا مگر ۔۔۔۔ اسکے کومے میں جانے سے ۔۔۔ ساری کہانی پلٹ گئ تھی ۔۔۔
جبکہ مقابل گاؤں میں راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا ۔۔۔
اسکے اپنے گاؤں کے لوگ ۔۔۔۔ باتیں بنانے لگے تھے ۔۔۔۔ کہ حویلی والوں کی لڑکی کو کوئ اٹھا کر لے گیا ۔۔۔
یہ سب باتیں اسکا دل کلسا رہیں تھیں ۔۔ تبھی وہ حد سے زیادہ آج کل ہائیپر رہنے لگا ۔۔تھا ۔۔۔ شھریار اسے مسلسل کنٹرول کر رہا تھا جبکہ ڈھونڈ پڑتال اب بھی جاری تھی وہ خود بھی پریشان تھا ۔۔ اب تو ۔۔ زریش کے علاؤہ اسکے کمرے میں بھی ایک مسلہ بننے لگا تھا ۔۔جس پر وہ مزید پریشان ہو گیا تھا ۔ ۔۔
اور وہ تھا ۔۔۔ اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی آئزہ کے ہاں خوشخبری کا نہ ہونا ۔۔۔۔ وہ چپ چپ رہنے لگی تھی ۔۔۔۔ وہ جانتا تھا ۔۔ یہ دادی اور پھوپھو کا کیا دھرا ہے ۔ ورنہ کچھ دن پہلے تک تو وہ بلکل ٹھیک تھی ۔۔۔۔
مگر وہ دونوں اسکے سامنے آئزہ کو ایک لفظ بھی نہیں کہتی تھیں ۔۔ اور پیٹھ پیچھے اسے بہت کچھ سنانے لگیں تھیں ۔۔۔
شھریار نے اسے روم سے۔زبردستی نکالا ۔۔۔۔
پہلے بہن کا نہ ملنا کوئ کم ستم نہیں تھا کہ ۔۔ اسکی بیوی کی تکلیف پر وہ تڑپ اٹھا تھا ۔۔ آئزہ ان باتوں کو بہت دل پر لے گئ تھی جبکہ اسے تو بلکل کوئ فرق بھی نہیں پڑتا تھا۔
یہ سب اللہ کی دین تھی وہ جب چاہیے جس کی چاہے گود ہری کر دے ۔۔۔
وہ دونوں کھانے کی ٹیبل پر آئے ۔۔۔ سب رات کے کھانے کے لیے کافی دنوں بعد اکھٹے ہوئے تھے ۔۔
خاموشی سے کھانا کھایا جا رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ ان سب میں صرف جاناں تھی جو ۔۔ولی کے پاس چپ چاپ کھڑی ۔۔تھی ۔۔ یہ اسکی عادت تھی ۔۔ حالانکہ اس بات پر اسپر کوئ سختی نہیں تھی ۔۔مگر پھر بھی ۔۔ وہ شروع دن سے ولی کے بعد کھانا کھاتی تھی ۔۔
بت بن کر کیوں کھڑی ہو ۔۔۔۔ کھانا سرو کر دو مجھے بھی”نمل جو سو کر ہی ابھی اٹھی تھی ۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ جاناں کی خوبصورتی میں بڑھتے اضافے کو دیکھ کر تپ کر بولی ۔۔۔ توولی نے سامنے بیٹھی نمل کی جانب دیکھا ۔۔ آنکھوں میں اتنا کڑا تاثر تھا کہ ابھی بیٹھے بیٹھے نگل جائے گا اور کون ان دنوں میں ولی کو اپنے پیچھے پڑواے ۔۔
جاناں نے دوسری کوئ بات کہنا مناسب نہیں سمھجہ اور ۔۔ سالن کے ڈونگے میں سے ۔۔۔۔ کھانا نکال کر ۔۔ اس سے پہلے وہ نمل کے آگے سرو کرتی ۔۔۔ ولی ۔۔ نے وہ پلیٹ اسکے ہاتھ سے کھینچ ۔۔ کر زور سے زمین میں پٹخی۔۔۔۔۔۔
سب اس حرکت پر حونک رہ گئے ۔۔۔۔
ولی کھانے کی عزت نہیں ہے تم میں”رقیہ بیگم زرا غصے سے بولی ۔۔۔۔
جس پر ولی نے کوئ جواب نہیں دیا ۔۔۔
تمھارے ہاتھ پاؤں تڑوا دوں ۔۔ جب لنگڑی ٹونڈی ہو جاؤ گی ۔۔ تب بھی میری ۔۔ چوہدری ولی کی بیوی ۔۔ کسی کو کھانا سرو نہیں کرے گی ۔۔ آج کے بعد زبان سے لفظ نکلتے وقت سوچ لینا “وہ چنگھاڑا ۔۔۔ جبکہ نمل کا چہرہ خون چھلکانے لگا ۔۔۔۔ وہ تو سمجھتی تھی کہ ولی کی نظر میں کسی کی کوئ ولی نہیں تو اچانک اسکے باپ کی قاتل کی بیٹی کی عزت اہمیت کیسے بڑھ گئ ۔۔۔۔
اسنے دادی کیطرف دیکھا ۔۔۔
بھول گیا ہے ولی سب ۔۔ تیرے باپ کے قاتلوں میں سے ہے یہ چھوکری جس کی ضرورت سے زیادہ حمایت لینے لگا ہے ۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔۔ خون سفید تو یہاں سب کا ہی ہو گیا ہے ۔۔۔۔ بیٹا تو میرا گیا تھا ۔۔ تو ساری تکلیف بھی مجھے ہی ہو گی ۔۔۔۔ باقی سب تو مگن ہو ہی گئے اپنی اپنی زندگیوں میں”وہ نفی میں سر ہلاتی افسوس سے بولتیں ۔۔۔ وہاں سے چلی گئیں ۔۔جبکہ ولی کا دماغ جیسے پھٹنے کو تھا ۔۔۔۔
اسے لگا وہ پھنس گیا ہے ہر چیز میں ۔ پھنس گیا ہے ۔۔۔۔۔
ایک جنون کی سی کیفیت تھی جو وہ ساری ٹیبل پر انڈیلتا اپنے کمرے میں بند ہوا ۔۔۔۔
جاناں کو آج اسپر پہلی بار ترس آیا تھا ۔۔۔
وہ وہیں کھڑی تھی ۔۔ جبکہ نمل اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
رقیہ بیگم اپنی جگہ سے اٹھیں اور اسکے نزدیک آئیں ۔۔۔
بیٹا میں ماں ہوں ۔۔۔ جانتی ہوں ۔۔۔ وہ اس وقت عجیب کش مکش کا شکار ہو گیا ہے اور چیڑچڑا بھی ۔۔ اسکو کچھ وقت کے لیے ہی سہی عارضی سہارا بن کر ہی سہی سمبھال لو ۔۔
زریش کا معملہ اسکی انا کا مسلہ بن گیا ہے ۔۔۔ اسے پریشانی بہن کے گم ہو جانے سے زیادہ یہ ہے کہ وہ اب تک اسے تلاش نہیں کر سکا ۔۔۔۔ “شھریار بھی بولا ۔۔۔۔۔
وہ ایسا ہی ہے ۔۔ بیٹا ۔۔ ایک ماں کی درخواست ہے ۔۔۔۔ تم اسکو سمبھال لو ۔۔۔ تا کہ اسکایک پاگل پن کہیں رک جائے ۔۔”وہ بولیں جبکہ جاناں آگے کچھ بول ہی نہیں پا رہی تھی وہ واقعی پاگل ہو رہا تھا کسی انسان کے لیے اسکی انا اتنی ضروری ہو سکتی تھی ۔۔۔۔
وہ حیران تھی ۔۔۔۔ لیکن پھر اپنی سوچ پر ہی ہنس دی ۔۔ اس سے کئ گناہ اونچی انا والے اسکے گھر میں موجود تھے اور اسکا دل گواہی دیتا تھا ۔۔۔۔ کہ اسکے لالا زریش کے معاملے میں انولو ہیں ۔۔ انکے ہوتے ہوئے کوئ زریش کو نہیں اٹھا سکتا تھا ۔
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں آئ تو ۔۔۔ ولی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ۔۔۔۔ لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔
جاناں نے کھانے کی ٹرے اسکے ساتھ ٹیبل پر رکھی ۔۔۔
اور اسکے ساتھ بیٹھنے کی کوشش کی مگر وہ اب اتنی موٹی ہو چکی تھی کہ ساتھ بیٹھنے کے لیے ۔۔ ولی کو کافی زیادہ دوسری طرف سرکنا پڑتا ۔۔۔۔
ادھر ہو جائیں نہ”جاناں نے بلآخر کہہ ہی دیا ۔۔۔۔
ولی نے اسکی جانب دیکھا بولنے کا بلکل دل نہیں تھا ۔۔ تبھی کروٹ بدل لی ۔۔۔۔
وہ خود سے عاجز آنے لگا تھا ۔۔اپنے اندر مچلتی انا ۔۔۔ اسکے اعصاب چٹخا رہی تھی ہر وقت اسکے پاس صرف یہ سوچ تھی کہ سادام کے پاس زریش ہے اور وہ زریش ۔۔ کو اس سے آزاد نہیں کر پا رہا ۔۔۔ پھر یہ سوچ بھی آتی ۔۔۔ کہ ہو سکتا ہے کوئ اور ۔۔ مگر سادام کے علاؤہ اسکا کوئ دشمن نہیں تھا۔ ۔
۔اور پھر دوسری طرف اسی زلیل کی بہن نے اسکا آدھا خون نچوڑ لیا تھا ۔۔۔۔
نہ جانے کیوں اسکی آنکھوں میں ولی کے لیے محبت کیوں نہیں تھی ۔۔۔۔ کیوں آخر ۔۔۔ مگر یہاں بھی انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ ہتھیار نہیں ڈالتا تھا ۔۔ جبکہ وہ بھول گیا تھا ۔۔ اسے ہتھیار ڈالنے ہی تھے ۔۔
ولی”جاناں نے مدھم آواز میں پکارا ۔۔۔ اسنے اتنے پیار سے پکارا تھا کہ اسے شبہ ہوا کہ اسکے پیچھے اسی کی بیوی بیٹھی ہے یہ کوئ اور ۔۔۔
مگر وہ پلٹا نہیں ۔۔
آپ کھانا کھا لیں ۔۔ زری مل جائے گی آپ پریشان مت ہوں “اسنے۔ جیسے تسلی دی ۔۔۔ اور اسکے بازوں پر ہاتھ رکھا ۔۔
کسی احساس کے تحت ۔۔ اسنے جلدی سے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ اور سر تھام گئ ۔۔
اپکو بخار ہے “وہ عجلت میں اٹھتی بولی ۔۔۔
مجھے کچھ نہیں ہے دور رہو مجھ سے “وہ غصے سے بولا ۔۔۔
لو پھر شروع ہو گئے ۔۔ انسان بخار میں ہی ۔۔ کچھ لحاظ رکھ لے ۔۔ اتنی اکڑ نہ جانے کیوں ہے”وہ اسکو چیڑاتی ۔۔ بولی ۔۔۔ اور سائیڈ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ بوکس میں سے ۔۔۔ تھرما میٹر نکالا ۔۔۔۔
تم اپنی چونچ بند رکھو “ولی سر میں اٹھتیں ٹیسوں سے عاجز ہوتا بولا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں نہیں بولتی ۔۔۔۔ بولنے کا ٹھیکا تو آپکا ہے ۔۔۔”اسنے زبردستی ولی کے منہ میں تھرمامیٹر ڈالا ۔۔۔ اور اسکی آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا ۔۔ وہ پوری طرح اسپر جھکی ہوئی تھی ۔۔۔
آپکی آنکھوں میں درد ہو رہا ہے”اسنے سوال کیا ۔۔۔ ولی سرخ نظروں سے ۔۔ اسکا چہرہ دیکھتا رہا ۔۔۔
میں دبا دوں”جاناں نے اپنے سرد ہاتھ اسکی آنکھوں پر رکھے ۔۔ تو جیسے اسکے اندر تک ۔۔۔ چین کی ایک لہر دوڑی تھی ۔۔۔۔ اور اسکے بعد کا لمہہ اسکے لیے حیرت انگیز تھا ۔۔جب جاناں کے لبوں کا لمس وہ اپنی پیشانی پر ۔۔۔ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ لڑکی اسے مکمل ہرا دینا چاہتی تھی ۔۔۔ ولی نے دل سے اس لمس کو۔ خود میں جزب کیا اور اسکے ہٹنے پر آنکھیں کھولیں ۔۔۔ جاناں کی جھکتی گیرتیں پلکوں پر اسکے لب مسکرا دیے ۔۔۔
اگر آپ زیادہ غصہ نہ کریں تو یہ پیشانی ۔۔ گرم نہ ہو ۔۔۔ میرے لالا ۔۔۔ میرے سر پر پیار کرتے تھے جب مجھے بخارہوتا تھا ۔۔۔ وہ کہتے تھے اسطرح بخار دوسرے میں کنورٹ ہو جاتا ہے “جاناں اسے بتانے لگی ۔۔
وٹ آ نون سینس تھیوری ۔۔”لالا کے نام پر ولی کا حلق کڑوا ہو گیا ۔۔۔
ہمم اپکو کیا پتہ”جاناں منہ بناتی دور ہوئ ۔۔
نہیں تمھارا اسکا نام لینا ضروری تھا”اسنے تھرمامیٹر اسکی ہتھیلی پر سجایا اور چڑ کر بولا ۔۔۔
جاناں اس جلن پر پہلی بار اسکی موجودگی میں دل سے ہنسی تھی ۔۔ وہ پیٹھ موڑے اس جلترنگ کو سن رہا تھا ۔۔۔۔
ایک سو ایک بخار ہے پھر بھی زبان چلتی ہے ۔۔۔ دماغ بھی چلتا ہے ۔۔ انا بھی یاد رہتی ہے اور دشمنی بھی”وہ بولی ولی جیسے اس سے روٹھ کر کروٹ بدل چکا تھا ۔۔۔ اسنے چند لمہے دیکھا ۔۔۔۔
اور باہر نکل گئ ۔۔۔
اور ایک باؤل میں ٹھنڈے پانی کے ساتھ پٹیاں لے آئ ۔۔۔
اپنی طبعیت کا بوجھل پن دور کرتے وہ ۔۔اپنے سامنے پڑے ۔۔ اس مرد نماں بچے کی آؤ بھگت میں لگی ہوئ تھی ۔۔۔
اس وقت وہ خود بھی ۔۔۔ ساری تلخ باتیں بھلا گئ تھی ۔۔
وہ ولی کے پاس آئ ۔۔ اور اسکے سر پر پٹی رکھنا چاہی جسے اسنے ۔۔۔ نیچے پھینک دیا ۔۔
جاناں نے دوسری رکھی جبکہ ولی نہ وہی عمل دھریا۔۔۔ تیسری پر بھی یہ ہی کیا تو بے اختیار جاناں نے اسکے ہاتھ پر تھپڑ مارا ۔۔
ولی نے کھا جانے ولی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
آپ بہت بدتمیز ہیں۔ “وہ غصے میں لگی ۔۔۔
ٹھیک ہے میں جا رہی ہوں ۔۔۔ آپکی نفرت تو بخار میں بھی نہیں جائے گی”وہ اٹھنے لگی ولی نے ہاتھ پکڑا ۔۔
کہاں جاؤ گی”
مرنے ساتھ چل لیں”وہ چیڑ کر بولی ۔۔
خودی نہ مار دوں “اسنے دوبارہ اسکو اسکی پوزیشن پر بیٹھایا ۔۔ اور چوہدری ولی خود اٹھ کر اپنا پھینکا ہو اکارنامہ اکھٹا کر کے اسے دے کر ۔۔۔ اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔۔۔۔
میرے بالوں میں ہاتھ پھیرو ۔۔ “اسنے فرمائش کی ۔۔۔
جاناں کا دل زوروشور سے دھڑکنے لگا تھا ۔۔
اسنے اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ چلایا جبکہ ایک ہاتھ سے ۔۔ وہ اسکے سر پر پٹیاں رکھ رہی تھی ۔۔۔
کچھ دیر گزرنے پر ۔۔ اسے احساس ہوا ۔۔ ولی گھیری نیند میں ہے
ولی”اسنے پکارا ۔۔ مگر وہ کروٹ لیتا اسکے گرد اپنے بازوں کا حصار باندھ کر اس میں گھس جانے کی کوشش میں تھا ۔۔۔
جاناں اسکو گور سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
اگر وہ ۔۔ غصہ نہ کرے ۔۔۔ تو وہ کتنا پرفکٹ تھا ۔۔۔ اسنے اسکی مونچھوں کو چھیڑا۔ ۔۔۔۔
پھر اسکی بریڈز پر انگلی چلائ ۔۔
ولی کسمسایا ۔۔۔ ایکدم وہ اپنی حرکت پر شرمندہ ہوئ ۔۔۔
ولی ادھر لیٹ جائیں”آہستگی سے ۔اسکے کان میں بولی ۔۔
مگر دوسری طرف سنا ہی گوارا نہیں تھا ۔۔
سرک کر ۔۔ اسنے کراؤن سے ٹیک لگائ ۔۔ اور بیٹھ کر ولی کا چہرہ تکنے لگی ۔۔۔۔
جلد ہی اسے نیند نے جا لیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے