Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 10
دور رہیں مجھ سے انتقام تو لے ہی لیا ہےاپ نے” وہ اپنی توجہ سامنے اچھے سے تیار شیار شخص پر کرتی بولی….
جبکہ شہریار مسکرا کر اسکی آنکھوں کے پھولے پپوٹے دیکھ رہا تھا…
اچھا… تمھیں ایسا کیوں لگ رہا ہے یہ انتقام ختم ہو گیا “وہ اسکے نزدیک ہوا… جبکہ ائزہ اس سے پھر سے دور ہوئ….
شہریار مجھے بخش دیں مت گیریں اتنا” وہ سسک اٹھی..
میں گیرہ ہوں.. میں.. ائزہ بی بی تم گیری ہو محبت کی دھجیاں تم نے بکھیریں ہیں تو اس کے چیتھڑے… تمھیں اتنے برے کیوں لگ رہے ہیں… “وہ اسکا ہاتھ سختی سے جکڑتا.. اسے اپنے نزدیک کر گیا جبکہ ائزہ. کا دل بیٹھ گیا… اسکی انگلیوں کی بے باک حرکت اپنی کمر پر محسوس کر کے وہ تڑپ اٹھی مگر مقابل اسپر رحم کھانے کے ارادے نہیں رکھتا تھا…
وہ اس سے دور ہو جانا چاہتی تھی..
چھوڑیں” وہ چیخی..
اواز بند کروو” وہ اس سے زیادہ چیخا… حویلی میں چونکہ سب باہر کی جانب تھے تبھی اسے آوازوں کی پرواہ نہیں تھی…
محبت کو زلیل کر دیا تم نے…. تم نے”
اور جو آپ کر رہیں ہیں” وہ اسکی گرفت میں پھڑپھڑای….
جبکہ شہریار نے اسے مزید خود سے نزدیک کیا… اسکی قربت میں عجب… مدہوشی تھی…
کیا کر رہا ہوں میں بس اپنے سابقہ حقوق ہی تو وصول کر رہا ہوں”اسکی گردن پر اپنی انگلیوں کا لمس چھڑتا وہ مزید اسپر جھکا.. تو ائزہ نے اپنے جسم کی گویا پوری طاقت لگا کر.. اسکو خود سے دور جھٹکا….
شہریار نے سنجیدگی سے اسے دیکھا…
میں خود کو مار لوں گی.. سمھجے آپ.. اپ اپ.. دفع ہو جائیں یہاں سے…” وہ بری طرح روتی اپنی کلائ پر چھری رکھ گئ آنکھوں میں ایسا تاثر تھا کہ آر ہو جائے گا یہ پار… شہریار نے اسکی جانب دیکھا.. اور باہر نکل گیا…
وہ اسکو نقصان پہنچا کر بھی نقصان نہیں دینا چاہتا تھا…
تبھی وہ چپ چاپ نکل گیا… جبکہ وہ وہیں بیٹھتی سسک اٹھی کس کو بتاے اخر کس کو کون تھا اسکا… ماں ماں نے ہی تو یہ سب کرایا تھا…. اور باپ اسکو دیکھتا ہی کب تھا… اور باقی سب.. کو کیسے کیسے اپنے لوٹنے کی داستاں بتاے….
اسکی سسکیاں گھٹی گھٹی پورے کچن میں گونجی تو… زریش جو کب سے باہر کھڑی تھی اس سے رہا نہیں گیا اور وہ اندر آ گئ…
م.. معافی چاہتی ہوں.. بی بی جی… مگر آپ.. اپ ایسے مت روئیں “وہ کچھ جھجھکتی بولی جبکہ ائزہ نے اسکیطرف دیکھا.. اپنے آنسوں صاف کیے…
اور اپنی جگہ سے اٹھی.. زریش کو لگا اسے برا لگا ہے تبھی وہ خاموشی سے باہر جانے لگی کہ ائزہ کی اواز پر رکی..
تم.. کون ہو.. یہاں کیا کیوں رہی ” خود کو سمبھالتی وہ سنجیدگی سے بولی…
وہ… چھوٹے صاحب نے بلایا تھا جی… اور انھوں نے کہا کہ یہیں رہو” زریش کو رونا آیا… جبکہ ایزہ کو ولی پر غصہ آیا.. ایک بھائ اسکی زندگی برباد کر رہا تھا جبکہ دوسرا.. کسی معصوم کو تکلیف پہنچا رہا تھا…
تم مت رو.. چلی جاو اگر جانا چاہتی ہو” وہ بولی لہجے میں مظبوطی تھی…
وہ جی مجھے اپنی اماں کے پاس جانا ہے یہاں. تو کوئ جگہ نہیں ہے میرے لیے” وہ کب سے یوں ہی پھیر رہی تھی. نہ بیٹھنے کی جگہ نہ سونے کی آخر کرتی کیا وہ…
ائزہ کو اسپر ترس آیا.. تم میرے روم میں رہ لو… “
وہ مسکرائ… تو.. زریش نے اسکیطرف دیکھا…
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی…. کہ ائزہ نے اسکا ہاتھ پکرا اور اپنے ساتھ لے گئ.. جبکہ زریش کو کچھ سکون آیا تھا کوئ تو تھا.. رحم دل.. ورنہ ولی سے وہ شدت سے خوف زدہ تھی…
…………………
پورے گاوں میں آگ کیطرح یہ خبر پھیلی تھی کہ ولی بہت بری حالت میں کھیتوں میں پایا گیا تھا.. یہ سب کے لیے حیران کن بات تھی…
جبکہ شہریار سر پر پاوں رکھے دوڑا تھا… ولی کی حالت دیکھ کر.. اسکے قدموں تلے زمین کھسکی تھی…
فورا ہسپیٹل پہنچا کر… وہ… ڈاکٹر کا انتظار کر رہا تھا… جو کہ آدھے گھنٹے بعد نکلا..
چھوٹے چوہدری اب بہتر ہیں صرف چوٹیں زیادہ آئیں ہیں باقی وہ ٹھیک ہیں…. “ڈاکٹر نے کہا تو. شہریار نے سکون کا سانس لیا….
اور فورا ڈاکٹر کی اجازت لے کر اندر کمرے میں ولی کے پاس گیا.. تو ولی ہوش میں تھا….
دیوار کو گھور رہا تھا….
تم ٹھیک ہو” وہ اسکاہاتھ تھام کر بولا….
سادام کو قتل کرنا ہے… اسکی بہن کو قتل کرناہے اسکی معشوقہ کو قتل کرنا ہے…..” وہ دانت کچکا کر بولا تو.. شہریار نے سرد سانس کھینچی..
میں سرپنچ سے بات کرتا ہوں “اسنے کہا..
بس” ولی چیخا وہ زخمی شیر لگ رہا تھا اس وقت…
مزید ایک لفظ اور نہیں.. کیا وہ مجھے بھی میرے باپ کیطرح بے بس سمھجتا ہے” وہ دھاڑ رہا تھا.. شہریار خاموش ہو گیا… غصہ تو اسے بھی بہت آیا.. مگر وہ جانتا تھا ایساکچھ ہو گا… کیونکہ ولی نے بھی سادام کے کلیجے پر ہاتھ مارا تھا بدلہ تو نکلنا ہی تھا….
تم صبر کر سکتے ہو…” شہریار نےا سے سمھجانا چاہا…
شہریار مجھے اکیلا چھوڑ دو. “اسنے سرد نظروں سے اسے دیکھا.. اور خاموشی سے باہر نکل گیا….
وہ جانتا تھا یہ سلسلہ یوں نہیں روکے گا.. اسطرح تو وہ دونوں ایک دوسرے کی جان لے لیں گے….
………………
سادام کافی خوش دیکھائ دے رہا تھا….. مگر وہ بھول چکا تھا یہ صرف وقتی تھا…
ہال میں بیٹھا سیگریٹ کے کش لیتے ہوے وہ زریش کے بارے میں سوچ رہا تھا.. اسے وقت نہیں مل رہا تھا اسکے پاس جانے کا… اور اسے موبائل کا طریقہ سمجھانے کا.. وہ چاہتا تھا.. اسکے موبائل کی ٹون بار بار بجے.. اسکے میسج سے مگر افسوس… وہ کب…
ان عاشقانہ طریقوں کو جانتی تھی….
جبکہ آج تو جشن کا دن تھا…
ولی کو اسکی اوقات اور حثیت اچھے سے یاد کرا کر وہ کافی خوش لگ رہا تھا کہ اسکا موبائل بجا.. نمبر دیکھ کر اسکی بانچھیں کھلیں…
حکم سردار “وہ دوستانہ لہجے میں بولا تو مقابل کی جانب سے قہقہ ابھرا…
کیسے ہو خان…”
اے ون تم کیسا ہے کیسا واپسی ہوا… پاکستان”وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا….
بس.. لندن کی کلیوں سے دل بھر گیا تھا. سوچا پاکستان آ جاو” مقابل اپنی عادت سے مجبور ہو کر بولا.. تو سادام نے نفی کی..
تم نہیں سدھرنے والا…. عجیب انسان ہے کبھی عاشقی کا معنی جان گیا تو.. ہزاروں پر منڈانا چھوڑ دے گا”وہ بولا.. تو.. مقابل ہنسا تھا…
تمھارا لہجہ بتا رہا ہے غضب کا عشق ہو چلا ہے”مقابل نے چھیڑی تو زریش کا حسین چہرہ نگاہوں میں میں گھوم گیا..
آہ حسرت ہی رہ گیا یار کا دیدار نہیں ہو پا رہا. “وہ ٹھنڈی آہ بھرتا بولا.. جبکہ.. مقابل پھر ہنسا…
دنیا بہت آگے نکل گئ ہے میرے بھائ موبائل زندہ باد”مقابل نے جیسے اسکی توجہ موبائل پر کرائ..
سائیں ہمارا سائیں زرا انپڑ سا ہے….
بس ہمارا دل کا زبان پڑھتا ہے.. اسے کہاں یہ موبائل شبائل کا پتہ ہو گا… خیر تم… کب آ رہا ہے جلدی بتاے گا” سادام نے بات بدلی
تو مقابل نے نفی کی..
نہیں بھائ تمھارے گاوں کی جاہل دیویاں میرے کام کی نہیں…. مجھے دور رکھو اور تمھیں پتہ ہے زرا منٹل سا بندہ ہو… اپنی پسندیدہ چیزوں کے بنا نہیں رہ سکتا” وہ مجبوری بیان کرنے لگا. جبکہ سادام نے زبردست گالی سے نوازا…
گھامڑ آدمی… تم کو کل یہاں پہنچنا ہے.. بابا سائیں خوش ہو گا تم کو دیکھ جر.. اور ہم تم جانتا ہے تم سے زیادہ منٹل ہے.. سمھجا” وہ حکمیہ کہہ کر…. فون بند کر گیا جبکہ مقابل ارے ارے کرتا رہ گیا… “کال بند کر کے اسنے یاد کی طرف دیکھا…
جو موبائل کی جانب دیکھتا. آ رہا تھا..
ہاد سائیں کیسامزاج ہے.. “وہ خوش اخلاقی کی انتہا پر تھا.. کہ ہاد ہنسا…
اج تو آپ خوش دیکھ رہے ہیں” وہ اسکے نزدیک ایا..
ارے ہم بہت خوش اخلاق بندہ ہے تم سب کو نہ جانے کیوں ایسالگتا ہے کہ… ہم سڑا ہوا ہے “وہ مزے سے بولا
ہاد ہنس دیا.. کیسے بتاتا. وہ واقعی سڑا ہوا انسان تھا….
سادام جبکہ اسکا شانہ تھپتھپا کر باہر چلا گیا.. آج گھڑ سواری کا موڈ تھا جبکہ اسکا سلطان باپ بھی بننے والا تھا اور وہ اسی کی پیٹھ پر گھڑ سواری کرنا چاہتا تھا…
ہاد سادام کو دیکھ کر.. اوپر جانے لگا کہ.. کچن میں اسے نور دیکھائ دی..
وہ کچن میں آ گیا جان بوجھ کر… اس دن کے بعد اسکے دماع نے ایک سوچ سوچ لی تھی.. مگر وہ میسر نہیں تھی تبھی وہ اپنی سوچ پر عمل نہیں کر سکا..
وہ
اندر ایا تو. نور جو سلاد کاٹ رہی تھی رک گئ..
کافی دو مجھے”وہ چئیر پر بیتھ کر مصروف انداز میں بولا..
نور کا دل تو کیا نکار کر دے سمھجتا کیا تھا وہ خود کو.. وہ سب سے الگ تھا.. اور کوفی اوچھا بھی جس کے دیکھنے کے کی انداز سے مقابل پریشان ہو جائے کہ ناجانے وہ اسکا ایکسرے کر رہا تھا…
تبھی وہ بنا کچھ بولے اسکے لیے کافی بنانے لگی
ہاد ترچھی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا…
پانچ منٹ میں کافی تیار ہوئ.. اور اسنے وہ ہاد کے سامنے رکھی..
کہ اسے رکھنے سے پہلے.. ہی ہاد نے اسکی انگلیوں سمیت کافی کا کپ تھام لیا..
اسکا انداز بہت غلط تھا.. جبکہ لبوں کی تراش میں.. عجیب مسکراہٹ..
نور کانپ سی گئ مگر وہ بزدل نہیں.. تھی.. تبھی ا سسے اپنا ہاتھ جھٹک کر چھڑایا.. تو کافی کا مگ ہاد پر گیرہ…
یو بیچ”وہ چیخا اس سے پہلے وہ اسپر ہاتھ اٹھاتا نور نے اسکے منہ پر تھپر دے مارا..
مجھے گالی دینے کے بارے میں اگلی بار سوچنا بھی مت.. تمھاری غلام نہء ہوں میں” وہ بھی غصے سے چلائ.. ہاد سے کم از کم بھی وہ دو سلا چھوٹی ہی تھی مگر اس کے کسی بھیا نداز میں گھبراہٹ نہیں تھی..
ہاد ھیران گی سے اسے دیکھ رہا تھا.. جو کچن سے باہر بھاگ گئ…
جبکہ ہاد نے ساری ٹیبل الٹ دی…
تمھارا ایس ابندوبست کروں گا کہ پناہ مانگو گی” وہ موبائل ہر ممبر ڈائل کرتا بڑبڑایا …
…………….
بستر پر پڑ کر اسکو لگا.. جیسے اسکے بسترے میں آگ لگ گئ ہو…
تیری بہن تو میری ہی بیوی بنے گی” اسنے سوچ میں سادام کو جیسے للکار کر کہا تھا.. وہ بھی… بہت جلد.. کتنی بار ٹوٹواے گا میری ٹانگیں “وہ شدت غصے سے اپنی جگہ سے اٹھا…
ٹانگوں پر بازوں پر چوٹ زبردست تھی مگر نفر کی آگ سکون نہیں لینے دے رہی تھی..
تبھی وہ بستر سے اتھ کر چلنے کی کوشش کرنے لگا….
لڑکھڑایا… گیرہ مگر خود ہی سمبھلتا ناےقام کی آگ میں جلتا….
وہ ہسپیٹل سے باہر نکل آیا.. شہریار وہیں تھا مگر اس وتق کہاں تھا وہ نہیں جانتا تھا..
اسکا خاص ملازم اسکو دیکھ کر دور کر اس تک آیا…
اور ولی نے اسکے بولنے سے پہلے.. اسکو گاڑی چلانے کا حکم دیا.. جسے وہ یر حال میں مانتا..
تبھی ولی کی گاڑی دشمنوں کے گاوں کی سمت چل پڑی…
وہ کیوں موت کے کنویں میں جا رہا تھا یہ بات تو ملازم بھی نہیں جانتا تھا.. مگر وہ خاموشی سے چلاتا گیا..
خان حویلی سے کافی فاصلے ہر گاڑی روکوا کر.. وہ رات کی سیاہی میں اس حویلی کو دیکھ رہا تھا.. جسے وہ جلا کر بھسم کر دینا چاہتا تھا.. مگر اسکے اندر وہ وجود بھی تھا جسے چیونٹی کیطرح مسل کر وہ حقیقت میں سادام کی ٹانگیں ہاتھ پاوں توڑ دینا چاہتا تھا..
جبکہ زریش کو اتنی جلدی وہ منظر پر نہیں لا سکتا تاھ. اسکے لیے تو وہ فیصلہ کر چکا تھا…
اسنے فمگاڑی کا دروازہ کھولا…
معافی چاہتا ہوں چھوٹے چوہدری مگر آپ یہاں کہاں “ملازم سمھجا نہیں..
پانی مانگ سے ملنے جا رہا ہوں.. اب ان زخموں پر مرہم وہ ہی رکھے گی…” اسنے سرد لہجے میں کہا..
تو ملازم ہقا بقا رہ گیا…
جبکہ ولی آگے چلنے لگا…
………………..
جاری ہے
