50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 30
محبوب کے ہاتھ کا چائے قمست والوں کا نصیب ہوتا ۔۔ ہے ۔ ایک تم ہے منہ موڑتا پھیرتا ہے “اسنے زریش کا رخ اپنی طرف زبردستی کیا ۔۔ اور چائے کا کپ تھمایا ۔۔۔۔ وہ بلکنی میں کھڑی صبح کے اجالوں کو محسوس کر رہی تھی ۔۔
اور کتنے دن مجھے یہاں قید رکھیں گے ۔۔۔”اسنے سوال کیا ۔۔
تم قید نہیں ہے”سادام سنجیدہ ہوا ۔۔۔
اسے قید ہی کہتے ہیں ۔۔”وہ غصے سے بولی سادام نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔۔
تم پر تمھارا سانسیں مشکل کیا ہے ہم ۔۔۔ تمھیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ۔۔۔
یہ تمھیں زنجیروں سے باندھا ہے جو قید قید بولے جا رہا ہے “وہ کپ پھینکتا بھڑکا تھا ۔۔۔ روز اسے شھاب ایک ہی بات سمجھاتا تھا کہ اپنے غصے کو ایک طرف کر کے وہ زریش سے گفتگو کیا کرے ۔۔۔
آپ نے جو میرے ساتھ کیا ۔۔ وہ قیدیوں کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے”وہ سہم گئ تھی ۔۔۔۔۔ مگر پھر بھی بولی ۔۔۔ سادام نے اسے بلکنی سےا ندر دھکیلا ۔۔ اور ڈور کلوز کیا ۔۔۔
زریش کا دل سہم سا گیا ۔۔۔
س۔۔۔ ساد۔۔سادام۔۔۔۔
نواب جی کہے گا تم اب ۔۔۔ ورنہ ہم تمھارے ٹکڑے کر دے گا “وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتا بولا ۔ ۔
زریش نے پیٹھ پھیر لی ۔۔۔
وہ جس انگریزنی کے سامنے مجھے کوک کہا تھا ۔۔ اس سے کھلوائیں”
وہ اچانک غصے سے بولی جبکہ سادام کا غصہ ۔۔ مسکراہٹ میں بدلا ۔۔۔
عجب محبوب ہے ہمارا ۔۔۔۔ جب خود کرے تو ۔۔۔ بلکل ٹھیک ہم کرے تو ۔۔ چیڑتا ہے لڑتا ہے ۔۔۔۔ مکھن ہم تمھیں کھانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔۔ تم ہمارا ساتھ دے گا نہ”وہ گھمبیر لہجے میں بولتا زریش کو جان بوجھ کر بھڑکا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ مجھ سے دور رہیں”وہ غصے سے بولی ۔۔۔ اچھا دور رہ کر کون سا سکون مل جائے گا تمھیں بھی ہم جانتا ہے تم دور جا کر روئے گا گلیوں میں سادام سادام نہیں ہمارا مطلب نواب جی نواب جی چلائے گا پاگلوں کیطرح بال نوچے گا ۔۔۔”اسکی اداکاری پر زریش حیرتوں سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ سادام اسکو انکھ مارتا بے باکی سے بستر پر گیرتا اسے نزدیک بلانے لگا ۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہو گا”زریش نے آنکھیں گھمائ ۔۔۔
اچھا تم بعد میں اکڑ لینا ہم دیکھے گا نہ تمھارا اکڑ آنکھوں پر رکھے گا۔۔ ابھی ہمارا پاس آئے گا یہ ۔۔ ہم آئے”اسنے کہا ۔۔۔
جبکہ زریش نفی کرنے لگی ۔۔۔
اپکو سمھجہ کیوں نہیں آ رہی یہ بات یہ غلط ہے ناجائز ہے یہ سب میں نہیں مانتی اس بات کو جب تک میرے گھر والے آپکے ساتھ رخصت نہیں کریں گے تب تک یہ سب ۔۔۔ جائز نہیں “
زریش سادام خان تمھارا گھر میں دو لوگ تھا وہ بھی تمھارا بقول ہم مار چکا ہے خود ۔۔۔۔ اب باقی کون ہے”اسنے اسکا بازوں کھینچ کر اپنے ساتھ بیٹھا لیا۔۔۔
آپکے لیے ہر بات آسان اور عام سی ہے میرے ماں باپ کو مارنے کے بعد آپ کس قدر سکون سے یہ بات مجھے بتا رہے ہیں”زریش کی آنکھیں بھیگی ۔۔ سادام کی بہکتی نظروں میں اب شعلے سے چمک اٹھے تھے ۔۔۔
تمھیں ایک بار دو بار ہزار بار بھی یہ ہی بتائے گا کہ ہم ۔نے تمھارا ماں باپ نہیں مارا ۔۔۔”وہ اسکے بال غصے سے مٹھی میں جکڑتا چلایا ۔۔۔
جبکہ اسکا منہ بھی سختی سے پکڑا ۔۔ کہ زریش کو اسکی انگلیاں اپنے گالوں میں چھبتی محسوس ہوئیں ۔۔۔
نواب ۔۔۔جی”بلآخر اسکے منہ سے وہ لفظ پھوٹے جسے سننے کو نواب سادام فضل خان بے چین تھا ۔۔۔۔
اسکے نازک لبوں کی پھڑپھڑاہٹ پر وہ کافی جنونی انداز میں ۔۔ بند باندھ گیا کہ ۔۔ زریش ۔۔ ہل بھی نہ سکی ۔۔۔۔
لمہے سرکتے گئے اسکی جنوں خیزی بھڑتی گئ ۔۔۔۔
اور وہ اپنی مرضی سے دور ہوا تو زریش کو چھوڑ دیا ۔۔۔ وہ ایکدم بستر پر گیری گھیرے سانس بھرتے زریش کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے ۔۔۔
کبھی تمھارے قریب نہیں آئے گا ۔۔اب تم ہمارے قریب آئے گا ۔۔”اسکو وارن کرتا ۔۔ وہ بستر پر سے اٹھا ۔۔
گاؤں جا رہا ہے ۔۔ فورا اٹھو ۔۔۔”اسنے کہا ۔۔۔ زریش نے آنسو صاف کیے یہ اسکے لیے خوشآند بات تھی کہ وہ گاؤں جا رہی ہے ۔۔۔
سادام نے نفرت سے اسکی عجلت دیکھی ۔۔۔
اور باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
شھاب اوپر ہی آ رہا تھا ۔۔۔ سادام کے تیور دیکھ کر اسے روکا ۔۔۔۔
کیا ہوا “وہ جیسے سب ختم کر دینے پر تلا تھا ۔۔
سالہ ہم پاگل کا بچہ ہے کسی نے دیکھنا ہے ہمکو دیکھو ۔۔۔۔ ہم اسکا ہر غلطی ۔۔۔ معاف کرتا ہے ہم سادام فضل خان ۔۔۔
اسکو آنکھوں پر بیٹھاتا ہے مگر اسکو اپنا وہ نیچ دو ٹکے کا بھائ عزیز ہے جو ابھی چار دن پہلے اسکو ملا ہے ۔۔۔ “وہ دھاڑا ۔۔۔ شھاب۔ خاموشی سے سب سنتا گیا ۔۔۔
اور افسوس سے کمرے کی جانب دیکھا ۔۔ یہ تو وہ جانتا تھا سادام کا دل کتنا زریش کے لیے پگھلتا تھا ۔۔اور وہ اسے کس کس طرح تکلیف دے رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاؤں کا سفر شروع ہوا تو رات ہو گئ ۔۔۔۔ اور گزری رات میں وہ لوگ ۔۔۔ وہاں پہنچے ۔۔۔ تو حویلی کی درودیوار نے بھی سادام فضل خان کو بانہوں میں بھرا تھا ۔۔۔
زریش چادر میں ڈھنپی ایک طرف کھڑی تھی ۔۔جبکہ سادام ہاد سے ملا تھا بس ۔۔۔ فضل خان کے کھلے بازو یوں ہی چھوڑ کر وہ اندر بڑھا شھاب عنایت سمیت زریش نے بھی اندر قدم اٹھائے ۔۔ اسنے ایک نظر دور کھڑی اپنی ماں کو۔ دیکھا ۔۔۔
اور دوسری نظر بیلا پر ڈالی ۔۔ اسکے زخم کے نشانات اب ختم ہو چکے تھے اور جیسے چاند سا نکل آیا تھا ۔۔ بیلا اسکی نظروں سے گھبراتی دور ہوئ ۔۔۔ نور کی بات بلکل سچ ہی لگی ۔۔ جبکہ دوسری طرف ہاد کے پیگھلنے کی وجہ بھی سادام کو سمھجہ آ گئ ۔۔
شمائلہ “سادام کی آواز پر شمائلہ دوپٹہ درست کرتی نکلی
۔۔ زری بی بی کو بلکل ہمارا کمرہ کے ساتھ والا کمرہ میں لے جائے ۔۔”اسنے کہا تو ۔۔ شمائلہ نے سر ہلایا ۔۔۔ اور زریش کو آگے چلنے کا کہا ۔۔ جبکہ زریش کو بلکل اچھا نہ لگا وہ خود ایک عام سی انسان تھی ۔۔ مگر وہ تو خاص تھا نہ ۔۔۔ اور اب وہ زریش سادام فضل خان تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چارو جانب سادام کی واپسی کی اطلاع آگ کیطرح پھیلی تھی ۔۔۔۔
جاناں تک یہ خبر پہنچی تو سادام کو دیکھنے کے لیے دل مچلا ۔۔۔ اور اسنے اپنی الماری کھولی ۔۔۔ اسوقت گھر پر کوئ نہیں تھا سوائے آئزہ اور اسکے نمل ۔۔ اور دادی پھوپھو بھی باغوں کیطرف گئیں تھیں ۔۔ اسنے موبائل نکالا ۔۔۔ جو اسنے تب سے چھپایا ہوا تھا جب سادام دے کر گیا تھا ۔۔ اون کیا ۔۔۔ اور اس میں بس ایک ہی نمبر فیڈ تھا اور وہ سادام کا تھا کانپتے ہاتھوں سے اسنے نمبر ملایا ۔۔۔
اور دوسری بیل پر کال اٹھانے اور خاموشی پھیل جانے پر ۔۔۔ جاناں کو رونا ایا۔۔۔۔
کیوں روتا ہے وہ بد بخت کچھ کہتا ہے تو بتاؤ “اسکی غصیلی آواز ابھری ۔۔۔۔
ن۔۔نہیں اپکو دیکھنا تھا”جاناں سسکی جبکہ مقابل بے چین ہو اٹھا ۔۔۔
ہم تصویر بھیج دیتا ہے تم روتا کیوں ہے”وہ زرا نرمی سے اسکو سمجھانے لگا ۔۔۔
زریش آپکے پاس ہے نہ”جاناں نے ۔۔۔ اس سے سوال کیا دوسری طرف خاموشی چھا گئ ۔۔۔
لالا پلیز بتائیں میں صرف جاننا چاہتی ہوں ۔۔۔ اور کچھ نہیں”
ہاں ہمارا پاس ہے ہمارا ہوتے ہوئے ۔۔۔ کوئ اسکو چھو سکتا ہے”وہ تفخر سے بولا ۔۔۔
یعنی آپ نے معاف کر دیا “جاناں کے لہجے میں شکوے بول اٹھے ۔۔۔۔
سادام خاموش رہ گیا ۔۔۔۔
بہت اچھی بات ہے ۔۔ خوش رہیں”
جاناں ۔۔۔ جاناں بات سنو ہمارا ۔۔۔ ہم تم کو کتنا چاہتا ہے تم جانتا ہے نہ”سادام کی جان پھنسی تھی جیسے ۔۔۔
نہیں آپ مجھے سے پیار کرتے تو میرے ساتھ ایسا کرتے”
وہ رو اٹھی۔۔۔۔
سادام نے مٹھیاں۔ بھینچی ۔۔۔
تم کیا چاہتا ہے بس تم ایک حکم کرے ۔۔ گا ۔۔ اور وہ ہو گا وعدہ ہے ہمارا “
کچھ نہیں لالا ۔۔۔۔ “اسنے کہا ۔۔۔
سوری میں ۔۔ جزباتی ہو گئ “وہ مدھم سا ہنسی ۔۔۔
جاناں ہمارا جان ہے تم ۔۔۔ تم ایسا کرے گا تو ۔۔ہم سب تیس نہس کر دےگا “
وہ پھنکارا۔۔۔۔
جانتی ہوں مگر میں خوش ہوں آپکے لیے ۔۔۔ اور اپنے لیے بھی”وہ مسکرائی ۔۔۔ گزری رات یاد آئ تھی ۔۔۔
سادام خاموش رہا ۔۔۔۔
وہ بھوت جیسا ۔۔ تمھیں پسند وسند تو نہیں ا گیا”اسنے کلس کر پوچھا ۔۔
اب بھوت بھی نہیں لالا”جاناں خفیف ہوئ ۔۔۔
ہمارا سامنے تو اسکی حمایت نہ ہی کرنا ۔۔ جانتا ہے چھچھوندر جیسا دیکھتا ہے ۔۔۔ اور اکڑتا ایسا ہے جیسے اسکا پیچھے فوج چلتا ہے”جاناں ہنس پڑی ۔۔ مگر اسکی ہنسی کو بریک تب لگی ۔۔ جب سامنے ولی کو دیکھا ۔
جو اسی خاموشی سےا ندر آیا ۔۔۔۔
میں۔۔میں آپ سے بعد میں بات کروں گی”ولی کے مسلسل گھورنے پر ۔۔ جاناں ہڑبڑا کر فون بند کر گئ ۔۔۔
یہ کب آیا تمھارے پاس “بخار سے تپتی آنکھوں سے اسنے اسے دیکھا ۔۔۔
پ۔۔پہلے کا ہے ل۔۔لالا نے دیا ت۔۔تھا ۔۔۔ اپ۔اپ نہیں تھ۔۔تھے سب۔بس سب تھے یہاں”
وہ بری طرح گھبرا اٹھی تھی ۔۔۔
اب وہ اسے مارے گا ۔۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی اسکا دل تیزی سے دھڑکا ۔۔۔
کیا بتاتا ہے زریش۔۔ کا بارے میں”اسنے سوال کیا ۔۔ سنجیدگی چہرے پر اب بھی تھی ۔۔۔
وہ۔میں”
جاناں سے سانس لینا مشکل ہو گیا ۔۔۔
بتاؤ “وہ موبائل پھینکتا دھاڑا ۔۔۔
زریش کہاں ہے”وہ پھر چیخا ۔۔۔
و۔۔۔ول۔ولی “
میں نے کہا سچ بتاؤ کہاں ہے زریش کب سے جانتی ہو تم کب سے مجھے آلو کا پٹھا بنا رہی ہو”وہ اسکا منہ اپنی سخت انگلیوں میں جکڑتا چیخا ۔۔
ن۔۔نہیں مج۔۔مجھےا بھی پتہ۔پتہ چلا ہے میں سچ کہہ رہی ہوں”وہ روتے ہوئے اسے صفائیاں دینے لگی ۔۔۔
جبکہ ولی نفی میں سر ہلانے لگا ۔۔
نہیں ۔۔نہیں تم اس قابل نہیں تھی “وہ کمرے کی چیزوں پر اپنے اندر کا زلزلہ نکالنے لگا ۔
اب نہیں بچے گا تمھارا بھائ مجھ سے ۔۔ نہیں کبھی نہیں۔ زندہ جان سے مار دوں گا ۔۔ اسے میں”وہ چنگھاڑا ریولور ۔۔ لوڈ کرتا ۔۔ چیخا ۔۔
ولی ولی نہیں مت کریں آپکی بہن کی بھی مرضی ہو گی ۔۔۔۔
ولی یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔”
بس چپ”جاناں کے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے اسکی بولتی بند کر دی ۔۔۔۔
میرے ساتھ رہ کر میرے بچے کی ماں بن کر بھی مجھ سے غداری ۔۔۔”
وہ دھاڑا دادی کے لب مسکرا اٹھے نمل کو اور پھوپھو کو بھی چین سا ملا ۔۔ جاناں کا جیسے وقت تھم گیا ۔۔۔
دل میں ننھی ننھی کونپلیں ہی تو کھیلنا شروع ہوئیں تھیں ابھی ۔۔۔ بس ۔۔۔
ولی دوسری نظر کسی پر ڈالے بنا باہر نکلا ۔۔
یہ سب کیا کرنے جا رہا ہے وہ”سکندر ہڑ بڑا کرا سکے پیچھے بھاگتے ۔ائزہ نے شھریار کو فون کیا ۔۔۔۔
آج ہو جائے گا بدلہ پورا “دادی بولیں اور نفرت سے جاناں کو دیکھا ۔۔۔
اور اوپر سڑھیاں چڑھتیں گئ اوپر سڑھی سے انکا پاؤں بری طرح پھیسلا اور پہلی سیڑھی سے آخری پر آ کر پڑیں اور انکا سر پھٹ گیا ۔۔
حویلی میں چیخوں پکار سی مچ گئی ۔۔۔۔ جبکہ اس دھکم پیل میں جاناں حویلی سے باہر نکل گئ تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولی ۔۔۔ ولی “سکندر صاحب چیخے ۔۔۔
مگر وہ اپنی جیپ میں بیٹھا ۔۔
صادق ۔۔۔ دوسرے گاؤں لے جاؤ “وہ چیخا اور صادق نے گاڑی تیر کیطرح آگے بڑھا لی ۔۔۔
جبکہ سکندر دوسری گاڑی میں سوار ہوئے ۔۔۔۔۔۔
آج وہ ایک ہی سفر پر تھے ۔۔۔۔
جاناں بھی اور ولی بھی ۔۔۔ بس فرق اتنا تھا کہ وہ جاناں کے بھائ کو مارنے کا رہا تھا جبکہ ۔۔ جاناں اپنے بھائ کے ۔۔۔۔ پاس جا رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑیوں کے ٹائر چرچرائے تھے ۔۔ حویلی کے سامنے ۔۔۔
ملازم اسکو روکتے کے اسنے ملازم کے سر پر بندوق ماری اپنی ہار تسلیم تھی ہی کب ۔ ۔۔
شور کی آواز سن کر عنایت باہر کیطرف بھاگا ۔۔۔ تب تک ولی اندرا۔ چکا تھا ۔۔۔
سب چیونٹیوں کیطرح اپنے اپنے کمروں سے نکلے تھے ۔۔ سادام جانتا تھا وہ آئے گا۔۔۔
لالا”اچانک پڑنے والے دھکے سے وہ دو قدم دور لڑکھڑا کر ہوا۔۔۔
اور یہ فلمی سا سین دیکھا ۔۔۔۔ اسکا محبوب جا رہا تھا ۔۔۔
اس سے دور زریش بے اوسان ہوتی ۔۔۔ ولی کی جانب دوڑی ۔ سادام کی نظروں میں یہ منظر چبھ سا گیا ۔۔۔ دل ٹوٹ گیا ۔۔۔۔۔ اور اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتی خاموش فضا میں تین فائر کھلے تھے ۔۔۔۔
فائر کی آواز کانوں کو سن کر چکی تھی ۔۔۔ پانچ منٹ کے حیرت انگیز توقف کے بعد ۔۔
لالا”ہاد کی درد ناک دھاڑ پر ۔۔۔ زریش نے مڑ کر دیکھا ۔۔۔
وہ سیڑھیوں سے لڑھکتا ۔۔۔ لڑھکتا نیچے آ پڑا ۔۔۔۔
چارو جانب جیسے سناٹا چاہ گیا ۔۔۔۔
وہ فائر کھولنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
اسکی بندوق میں تو گولیاں بھی نہیں تھیں ۔۔۔
وہ تو صرف دھمکا کر زریش کو لے جانے آیا تھا مگر اسکی ریولور میں گولیاں کس نے ڈالی ۔۔۔
اسنے دو قدم دور لیے ۔۔۔
وہ اس سے پہلے باہر نکلتا ۔۔ کہ جاناں کو دروازے پر پڑا پایا ۔۔۔
شھاب عنایت فضل خان ۔۔۔ یہاں تک کہ حویلی کے ملازموں کا بچہ بچہ بھی تڑپ کر سادام فضل خان تک پہنچا تھا ۔۔۔۔
عنایت گاڑی نکالو”ہاد چیخا ۔۔۔ شھاب نے خون میں لے پت مظبوط مرد کو بازوں میں اٹھایا اور ۔۔ باہر کیطرف بھاگا ۔۔۔۔
زریش ۔۔۔ کے قدم زمین نے جکڑ لیے تھے ۔۔۔۔
جاناں بے دم سی دروازے پر پڑی تھی ۔۔۔
شھریار جو ابھی وہاں آیا تھا ۔۔۔ اسنے انکی گاڑیوں کی پیچھے گاڑی لگائ ۔۔ جس میں سکندر صاحب بھی شامل تھے ۔۔۔
میرا بیٹا “ماں کی تڑپ بھری آواز گونجی ۔۔۔
ولی کے قدم باہر کیطرف جاتے گئے ۔۔۔۔۔
میرا سادام “اسکے کانوں پر ہتھوڑوں کیطرح ۔۔۔ برسی تھی یہ آواز ۔۔۔
جب کہ ایکطرف کھڑا انسان ۔۔ آج کھل کر مسکرایا تھا ۔۔
اسکا مقصد پورا ہو گیا تھا ۔۔۔
جاری ہے