50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 5
پنچایت چوہدریوں کے گاوں میں سجی تھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی سادام کو پنچائیت کا احترام کرتے ہوئے چوہدریوں کے گاوں انا پڑا..
فضل خان فیروز خان… سادام خان.. عنایت اور بھی خاص ملازمین… سب تھے…. جبکہ چوہدریوں کا پورا گاوں ارد گرد جمع تھا جن.. میں کسی درخت کے پیچھے زری کا پوشیدہ وجود بھی تھا…. جبکہ دوسری طرف… ولی شہریار… چوہدری سکندر… اور خاص ملازمین اور پنچیتی لوگ.. اور بلکہ انکے ساتھ پورا گاوں آ کھڑا تھا…
سیاہ کرتے میں… وہ ٹانگ پر ٹانگ جماے بیٹھا تھا….
جیسے کسی چیز کی اسے کوئ پرواہ نہ ہو.. مگر زری کو بہت دکھ ہوا تھا اسنے جو کیا تھا اس سے اسکے ابا کا کتنا نقصان ہوا تھا… اور وہ کیسے بچوں کیطرح رو رہا تھا….
ہاں تو فضل خان… تمھارے بیٹے نے…. ایک بار پھر دبی ہوئ دشمنی کو چنگاری دی ہے….. اسنے چوہدریوں کا بہت نقصان کیا ہے “سرپنچ فضل خان کیطرف دیکھتے بولے.. اس سے پہلے فضل خان جواب دیتے.. سادام نے سر جھٹکا..
ہمارا طرف سے دشمنی کبھی دبتا نہیں ہمارا پاس معافی لفظ نہیں. اگر ہم نے یہ کیا ہوتا… تو.. اس کالج کھیت کو نہ جلاتا.. انکا پورا گاوں جلا ڈالتا….
انتقام تو ایسا ہوتا ہے یہ چھوٹا موٹا حرکتیں نوابوں کا شان نہیں “اسکے کڑک جواب پر فضل خان کا بس نہیں چلا اسکا ماتھا چوم لیں….
سر پنچ سمیت ولی اور شہریار نے بھی اسکو بری طرح گھور کر دیکھا.. مگر ولی کا اطمینان قابل دید تھا….
وہ اب تک بھڑکا نہیں تھا جبکہ سادام کا تو بیٹھنے کا انداز ہی اسکے تن بدن میں آگ لگا ڈالتا….
ہم لوگ معافی چاہتے ہیں آپ لوگوں.. سے اور اسکا ازالہ بھی کرنے کو تیار ہیں “کسی کے بھی بولنے سے پہلے فیروز کی جانب سے ادا ہوئے یہ لفظ.. سادام کا دماغ گھما گئے.. اسنے کھا جانے والی نظروں سے پہلے باپ کو.. اور پھر فیروز کو دیکھا جو ان کیطرف متوجہ نہیں تھا…
جب ہم کہہ چکا ہے ہم نے ایسا.. حرکت نہیں کیا تو.. تمھارا زیادہ من ہے غلامی کرنے کا….
تو بیٹھو اس… پنچایت میں خود..
ہم ڈنکے کی چوٹ پر سب کرتا ہے….. سمھجا “وہ غرایا.. اور فیروز کو دیکھتا اٹھ گیا…
بیٹھ جاو برخوردار…. اپنی غلطی ماننا جرم نہیں.. جبکہ… سب جانتے ہیں یہ تم نے کیا ہے” سر پنچ کی بات سن کر.. اسنے ایک پل کو سوچا اتنا بھی مشکل نہیں اس بڈھے کی گردن دبا دینا….
تم ثبوت دیکھاے گا…. کیا ثبوت ہے.. تمھارے پاس…” وہ خونخوار ہوا….
ثبوت بھی مل جائے گا.. نواب فضل خان.. بلکہ ایک نہیں دو دو…. “ولی نے اٹھ کر اسکے شانے پر ہاتھ رکھا….
سادام کی آنکھوں میں بس ایک پل کو حیرت ابھری.. اور پھر.. اسنے اسکے ہاتھ جھٹک دیے…
سادام نے کوئ جواب نہیں دیا.. یہ سب بکواس تھا اسنے ایسا کچھ نہیں کروایا تھا…
ولی نے سر ہلایا.. کیونکہ سادام کی آنکھیں ثبوت مانگ رہیں تھیں.. اسنے اپنے خاص ملازم کو اشارہ کیا.. تو وہ… گدی سے.. ایک آدمی کو پکڑ کر کھینچ لایا…
سادام سمیت عنا یت کو بھی بری طرح جھٹکا لگا… وہ ان کے ڈیرے کا خاص ملازم تھا جو کل ہی شہر کی چھٹیاں لے گیا تھا.. عنایت نے اسکے کان میں جھک کر بتایا…
ج… جی مجھ سے یہ کام سا.. سادام سائیں نے کرایا… اور پھر شہر فرار ہونے کا کہا… یہ میرے پاس ٹکٹ بھی ہے “اسنے روتے ہوئے بتایا…
تو سب سادام کی جانب دیکھنے لگے.. جو خاموش کھڑا تھا مگر آنکھوں میں ایسا تاثر تھا.. کہ ایک ایک شخص کو چیر دے گا….
اب بھی یہی کہو گے..” سرپنچ بولے….
ہم نے جو نہیں کیا…وہ ہزار لوگ بھی سامنے کھڑا ہو کر کہے ہم تب بھی نہیں مانے گا.. اس پنچائیت میں ہمارا بیٹھنا بےکار ہے سمجھا . “وہ کڑک لہجے میں کہتا اس سے پہلے وہاں سے جاتا کہ ولی کی پکار پر رکا….
تم ازالے کے بنا نہیں جا سکتے”وہ بولا.. سادام مسکرا کے پلٹا
ٹھیک ہے کتنارقم.. مانگتا ہے…. ہمارا مقام تم پر چند پیسے پھینک کر نہیں گیرے گا….. جو ہم نے نہیں کیا وہ نہیں کیا.. “اسنے ایک بار پھر سے کہا…
تو ولی کا قہقہ ابھرا…..
ازالہ صرف پیسوں سے نہیں ہوتا… سرپنچ.. جی.. میرا اور نوابوں کی بیٹی کا چکر چل رہا ہے.. ان سے کہو سیدھی طرح اپنی لڑکی کو میرے ساتھ رخصت کر دیں”
اسنے جیسے ہی یہ بات ادا کی شہریار حیران کن اپنی جگہ سے اٹھا جبکہ… سادام کسی بھکے شیر کیطرح اسپر جھپٹا.. اور اسکے گال پر کئ تھپڑ مار کر وہ اسکی گردن دبوچے کھڑا تھا..
فیروز بھی حیران تھا… اور سادام کو.. اس سے الگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا.
مگر ولی بلکل مطمئین سا تھا جیسے اپنے بولے گئے جملوں سے ہی اسنے سادام کو مٹی میں ملا دیا تھا…
کیا بکواس کرتا ہے.. تیری بوٹی بوٹی کتوں کو کھیلا دے گا.. اگر تو نے ہمارا بہن کو بیچ میں گھسیٹا… اور تم تو ہو ہی گھٹیا نسل… عورتوں کو پنچائیت میں اچھالتا ہے… مگر یاد رکھ وہ نواب سادام فضل خان کی بہن ہے سمھجا “وہ اسکی گردن پر گرفت حد سے زیادہ بڑھا چکا تھا جیسے ابھی مار دے گا.. ولی کا سانس اکھڑا… اور اسنے خود ہی اسے زور سے دور دھکا دیا…
تم پنچائیت کے اصولوں کے خلاف جا رہے ہو” سرپنچ بولے تو فضل خان نے بیٹے کے شانے پر ہاتھ رکھا…
تحمل کرو سائیں ہم دیکھتا ہے “وہ انکھوں سے اسے خاموش رہنے کا کہتے… ولی کیطرف بڑھے جبکہ فیروز نے سادام کا بازو سختی سے جکڑا جسے اسنے جھٹکے سے چھڑایا… اور گھور کر فیروز کو دیکھا….
تم ہمارا بیٹی کا نام بھی کیسے لے سکتا ہے” فضل خان غصے سے بولے…
سیدھی سی بات ہے.. فضل خان تمھاری بیٹی اور میری عاشقی چل رہی ہے جس کی کئ نشانیاں ہیں میرے پاس…. تو سیدھی طرح ازالے کی صورت اسے رخصت کر دو” ولی فضل خان کے منہ تو کبھی نہیں لگنا چاہتا تھا پھر بھی تحمل سے جواب دیا کیونکہ وہ سادام کی دکھتی رگ پکڑنا چاہتا تھا جس سے وہ پل پل مرے….
بابا سائیں تم راستے سے ہٹ جاو اسکا خون کر دے گا ہم بار بار بکواس کرتا ہے نیچ” سادام ایک بار پھر چیخا…
تو عنایت اسکے نزدیک ایا..
خان.. پنچائیت کے خلاف جا کر ہمارا ہی نقصان ہو گا…” وہ نرمی سے بولا…
تو سالا (گالی) دیکھتا نہیں انکو اور مجھے سمھجتا ہے “وہ عنایت پر چیخا اسکا قہر پورا گاوں دیکھ رہا تھا جبکہ زریش تو درخت کی اوٹ میں کانپ اٹھی تھی….
کیا نشانیاں ہیں تمھارا پاس “فضل خان مطمئن سے ہوئے کیا ہو سکتیں تھیں.. جب جاناں کبھی کسی کے سامنے ائ نہیں….
مگر ایک جھپاکا سا انکے دماغ میں ہوا جب وہ روتی ہوئ گھر پلٹی تھی.. تو انکو فکر سی لاحق ہوئ…
ولی نے دوپٹہ اور موبائل سرپنچ کے سامنے پھینکا… یہ دوپٹہ… میری عاشقی کی نشانی ہے یہ میرے. اسکی بہن کے ساتھ چکر کی…
اور اس موبائل میں میری اور اسکی لاکھوں تصویریں ہیں… اور یہ موبائل بھی اسی کی بہن کا ہے “وہ جان بوجھ کے گھٹیا لفظ استعمال کر رہا تھا برسو بعد نوابوں کو زق پہنچانے کا موقع ملا تھا کیسے ہاتھ سے جانے دیتا..
یہ سب کیا ہے” شہریار نے.. سختی سے نیچی آواز میں پوچھا..
چپ رہو “ولی نے.. آنکھوں سے اسے.. منع کیا جبکہ.. فضل خان سمیت سادام کے قدموں تلے بھی زمین کھسک چکی تھی..
یہ موبائل یہ دوپٹہ جاناں کا ہی تھا.. کیونکہ یہ سوٹ اسنے اسے خود لا کر دیا تھا.. اور موبائل تو اسنے ضد کر کے لیا تھا…
سرپنچ نے ایک قدرے چھوٹی عمر کے لڑکے سے… وہ موبائل کھلوایا..
اس میں واقعے جاناں کی.. اور ولی کی تصویریں تھیں….
سادام کے سر پر گویا خون سوار ہو چکا تھا
وہ بھوکے شیر کیطرح اس دوپٹے.. اور.. موبائل کو جھپٹ کر ولی.. کو دھکا دیتا.. وہاں سے نکل گیا…
جبکہ ولی کے لبوں کی مسکراہٹ زبردست تھی….
فضل خان… پنچائیت کا فیصلہ سن کر جاو “سرپنچ کی اواز پر وہ رک کر دیکھنے لگے.. بیوی کا دھوکہ.. انکے لیے.. شاید کم تکلیف دہ تھا جتنا آج بیٹی نے توڑا تھا…
اج سے 5 دن بعد تمھاری بیٹی پوری عزت سے. چوہدری ولید ارتضی کی زوجیت میں آ رہی ہے….. چوہدریوں کے نقصان کے ازالے کے ساتھ ساتھ تمھاری عزت بھی بچ جائے گی “وہ.. مٹھیاں بھینچتے فیصلہ سن کر وہاں سے نکل گئے…….
……………
یہ پیسے لو اور روح پوش ہو جاو…. ولی تمھارے ساتھ کیا کرتا ہے کیا نہیں میں نہیں جانتا مگر نواب تمھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے… شاید تمھیں اپنی بوٹیاں بھی کہیں نہ. ملیں تو بہتر ہو گا دفع ہو جاو کہیں” آدمی نے اسکے ہاتھ میں پہ یسے رکھے.. تو وہ سر ہلاتا پلٹ گیا جبکہ وہ شخص مدھم سا مسکرایا.. تھا پنچائیت کا عجب فیصلہ اور وہاں پر ثبوت… اور انکی عزت کی دھجیاں اڑ چکیں تھیں… خیر… کچھ سکون اور تسکینِ ملی تھی دل کو.. سادام خان… کو تکلیف میں دیکھ کر…
……………
جاناں “تیز چھنگاڑتی آواز.. ہال میں گونجی تو وہ کچن میں سے باہر نکلی…. آج سادام کی آنکھوں میں وہی خون تھا جو کچھ عرصے پہلے انھوں نے فضل خان کی آنکھوں میں دیکھا تھا..
جاناں جو کمرے میں تھی اسکی اواز پر گھبرا کر کمرے سے نکلی..
جی لالا” سادام کی سرخ آنکھوں سے اسے خوف آیا….
وہ اسکے سامنے جیسے ہی ائ.. سادام کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا اور.. کھینچ کر اسکے نازک گال پر پڑا…
وہ حونک رہ گئ….
کیا کر رہے ہو سادام.. بہن پر ہاتھ اٹھاو گے” ان سے برداشت نہ ہوا تبھی سب سے پہلے وہ اپنی بیٹی کے نزدیک ہوئیں جو.. بے یقینی سے.. بھائ کو دیکھ رہی تھی…
اپنا منہ.. اور اپنا بکواس بند کر….. دوبارہ ہماری آنکھوں کے سامنے مت آنا…..” ماں کو لتاڑتا
. وہ جاںاں کیطرف متوجہ ہوا.. جو اسکے ہاتھ میں اپنا دوپٹہ اور موبائل دیکھ کر.. دھک سے رہ گئ…
وہ خود ہی خاموشی سے ایک طرف ہوئ تو… سادام نے جاناں کا بازو پکڑا..
تم ہمیں بتاے گا ہمارا پیار ہمارا محبت ہمارا مان ہمارا اعتبار میں کہاں کمی رہ گیا کہ.. تم اس عورت پر چلا گیا… “وہ چیخا.. آنکھیں بے حد سرخ تھیں جس سے اسکی تکلیف اسکے اعتبار کے ٹوٹنے کا اندازا لگایا جا سکتا تھا…
لالا..” وہ سسکی…
جبکہ فیروز خان.. اور فضل خان بھی موجود تھے مگر کوئ آگے نہیں بڑھا تھا…
تم تم نے ہمارا اعتبار توڑ دیا جاناں وہ نیچ.. کے ساتھ یاری لڑا کر.. ایک بار پھر… تم ہمارا سر کٹوا چکا ہے.. تم ہمارا دل چیر.. کر خوشیاں مناے گا اب. اس ولی کے ساتھ…” وہ اسے جھنجھوڑتا….
خود بھی کافی عزیت میں لگا….
جبکہ جاناں نے نفی کی..
لالا.. نہیں.. ایسا ایسا نہیں ہے.. میں میں نہیں جانتی کسی و.. و.. ولی کو.. لالا.. یہ..”
تو یہ کیسا گیا… تمھارا اسکے پاس… تمھارا عزت.. یہ
.” اسنے دوپٹہ اسکے منہ پر مارا..
یہ تمھارا عزت… اسکے ہاتھ میں تھا.. غیر کے ہاتھ میں اپنا بہن کا عزت… دیکھ کر.. ہمارا دماغ… اس دن میں پہنچ گیا جبکہ.. ہم نے اس عورت کو.. اپنا عاشق کے لیے مرتا دیکھا….”
وہ اسکو خود سے پرے دھکیل کر.. چیخ رہا تھا.. چلا رہا تھا.
لالا.. لالا… وہ تو.. نہیں…. میں تو نہیں جانتی.. میرے کبوتر مارے.. تھے… ان انھوں ن. نے… میں صرف بدلہ لینے کے لیے… ندی پار کر گئ.. اصطبل میں گئ. م مجھے اسکا گھوڑا اچھا لگا.. مگر وہاں وہاں وہ ا گیا.. اور میں بھاگی تو
. میرا دوپٹہ وہیں
. وہیں رہ گیا… اور موبائل. بھی.. خدا کی قسم.. میں ن نہیں جانتی.. اسکو.. “
وہ روتی روتی ہچکیاں بھرتی اسکے قدموں میں بیٹھ گئ وہ جانتی ہی نہیں تھی اور کتنا بڑا الزام لگ گیا تھا اسپر…
سادام.. کو اسکی بات پر یقین آ گیا تھا.. وہ جانتا تھا جو اسکے قریب ہوتے ہیں وہ اس سے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے…
مگر جاناں کی چھوٹی سی غلطی… نے آج اسے بڑے خسارے میں کھڑا.. کر دیا تھا.. وہ چپ چاپ کھڑا اسکی سسکیاں سنتا رہا…
جاناں دہی رانی “فضل خان اسکے قریب گئے…
بابا سائیں…. میں نہیں جانتی میں سچ کہہ رہی ہو میں نہیں جانتی..” وہ بلک اٹھی تھی..
سادام نے.. اسکے اوپر دوپٹہ پھینکا… اور موبائل.. کو دیوار میں. اتنی شدت سے مارا کے. وہ کئ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا…
جلا ڈالو عنایت اس موبائل کا ایک ایک زرا” اسنے کہا… اور کمرے میں جاتا کے جاناں جلدی سے اسکے سامنے ا گئ..
وہ اسکا بھائ تھا.. اسکا آئیڈیل…
اس سے کیسے خفا رہتا اور وہ کیسے سکون میں رہتی..
ہماری نظروں کے سامنے مت انا جاناں.. ہم تمھارا منہ نہیں دیکھنا چاہتا… ” وہ ضبط سے بولا..
لالا مجھے معاف کر دیں” اسنے ہاتھ جوڑے… اسکی ایک خطا کیا کر گئ تھی…
جاناں ہم نے معاف کرنا نہیں سیکھا…. ہم… اپنے دل کو چیر
ر سکتا ہے اپنے ہاتھوں سے مگر… اپنے ساتھ دھوکا .. برداشت نہیں کر سکتا…
سمھجا.. پانچ دن بعد اس نیچ کا ہو کر تمھارا ہمارا واسطہ نہیں… ” وہ فیصلہ سنا کر… اوپر چلا گیا جبکہ.. وہ حیران حق و دق رہ گئ…
………………
تم نے ایک معصوم لڑکی پر الزام لگا کر اچھا نہیں کیا..” شہریار نے اسے غصے سے کہا.. جبکہ دادی اسکی بلائیں لے رہی تھی…
جشن بناو.. میرے بھائی جشن…. میرے باپ کا خواب تھا.. انکی عورت ہماری حویلی میں آے لو وہ خواب پورا ہو گیا…” ولی بہت خوش تھا…
بکواس کر رہے ہو… “شہریار… نے سنجیدگی سے اسے دیکھا..
دوسروں کی عزتیں اچھال کر اپنی عزت کی بھی فکر کر لو کہ کبھی تمھاری عزت پر ہی بات نہ بن جائے… “وہ بولا تھا جبکہ.. اسکی اماں نے بھی اثبات میں سر ہلایا…
جبکہ دادی نے ان دونوں کو گھورا….
پہلے اپنی عزت سمبھال لو “ولی نے.. آنکھیں گھما کر گویا طعنہ مارا.. جو شہریار پر جیسے جلتی پر تیل کا کام کر گیا….
وہ.. پاس پڑا واس.. نیچے پھینکتا.. کمرے سے نکل گیا…
بہت افسوس کی بات ہے ولی” ماں نے اسکو افسردگی سے دیکھا…
جس نے کوئ… خاص ریسپونس نہیں دیا…
بدلہ لے لیا میری جان.. میرا.. شیر” دادی تو جان نثار ہو رہی تھیں…
کہاں دادی… انکی اتنی اتنی چھٹاک بھر کی عورتوں میں بھی اتنی جرت ہے کہ ندی پار کر کے بدلہ لینے پہنچ جاے جب تک مسل نہیں دوں گا سکون نہیں ملے گا..
بدلے تو اب شروع ہوں گے سمھجو سادام خان… کے حلق میں ہاتھ ڈال کر اسکا.. کلیجہ کھینچا ہے میں نے “وہ سکون سے بولا… تو… دادای ہنسی..
جگ جگ جی میرے لاڈلے… بس وہ. آے تو میں اس منحوس سے اپنے بیٹے کی موت کے بدلے لے کر.. اپنے دل کو تسکین دوں گی” وہ بولیں… تو ولی نے سر ہلایا…
کیوں نہیں دادی.. “وہ ہنسا…
مگر ولی.. میں اپنی.. نسل آگے اس سے چلنے نہیں دوں گی بتاے دے رہی ہوں “وہ کچھ خفگی سے بولیں…
تو وہ ہنسا….
جو حکم..” سر خم کرتا.. وہ انکے پاس سے مسکراتا ہوا اٹھ گیا.. جبکہ… آنکھوں میں ڈری ڈری آنکھیں اتری تھیں…
……………………
کل کالج مت جانا… زریش “اماں نے کہا تو وہ حیران ہوئ..
کیوں اماں”اسنے پوچھا… وہ تو سادام سے ملنے کو بے چین تھی.. مگر خوف زدہ بھی تھی.. کیونکہ اسکے غصے کی تاب کیسے لاتی…
تجھے کل لڑکے والے دیکھنے آ رہے ہیں “وہ بولیں تو زری روٹی چھوڑ کرا ٹھ گئ..
اماں” اسنے حیرانگی سے کہا..
کیوں کیا شادی نہیں کرنی تیری میں نے” وہ ہلکا سا مسکرائ اور.. خود روٹی پکانے لگی.
.مگر مجھے نہیں کرنی” اسنے دبے دبے لفظوں میں احتجاج کیا..
چل پگلی.. تیرے سوچنے کی باتیں نہیں.. تو آرام سے.. بس… سو جا..” وہ بولیں تو.. زریش کو آگے بولنا بے کار لگا…
وہ سوچ میں بھی معمولی سا یہ تصور نہیں لا سکتی تھی کہ…
اسکی شادی یہ اسکے رشتے یہ کوئ ایسے ہی عام ہی اسے دیکھنے آ جائے اوراسکا علم سادام کو ہو جاے تو.. وہ اسکاکیا حشر کرے گا…
پہلے ہی جو کچھ کل ہوا.. اس سب کے بعد لازمی سادام.. کا غصہ سوا نیزے پر ہو گا…
وہ سوچتی ہوئ اپنے کمرے میں چلی گئ…
…………
جاری ہے