Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 16
پھرے دار کی نظر اسپر پڑی اور وہ اس سے پہلے انپر چیخ کر دوڑتا شہاب نے اپنے ہاتھ کی بندوق کا پیچھا حصہ اسکی کنپٹی پر مارا اور وہ بے ہوش ہو گیا….
اسنے عنایت کو پھر سے… اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا….
اسے یہ کام کرنے میں خوب مزاہ آ رہا تھا….
حویلی کی دیوار کافی اونچی تھی….
اور کسی کے آ جانے کا خوف الگ… مگر بمشکل ہی صیحی وہ دیوار پھلانگ گے دونوں کے دیوار پھلانگتے ہی کتے بھونکنا شروع ہو گئے.. اور شہاب کا دل کیا اپنی بندوق سے انھیں اڑا دے…
جبکہ عنایت نے…. انکے بھونکتے منوں میں دوائ پھینکی….
شہاب اسے حیرت سے دیکھنے لگا کیونکہ کتے سو چکے تھے..
جانتا ہوں صاحب ولی کتے شوق سے پالتا ہے اور یہ وہ کتے ہیں.. جو لمہے میں ماس کو تن سے جدا کر دیتے…
اسنے کہا تو شہاب نے سر ہلایا اور وہ… آگے کیطرف بڑھنے لگے…
ان ہزاروں کمروں میں سے کس کمرے میں کون ہے وہ.. اب “شہاب جھنجھلایا سا بولا….
عنایت نے ایک تصویر کھولی…. اور اسے غور سے دیکھنے لگا…
اب یہ کیا ہے” شہاب نے چیڑ کر پوچھا….
تصویر حویلی کے اندر کی… اور جہاں تک مجھے خبر ہوئ تھی…
آئزہ بی بی کے ساتھ ہی ہوتی ہیں وہ.. تو یعنی انکے کمرے میں ہوں گی”وہ دماغ لڑاتا بولا…
ویسے یہاں تمھارے ریسورسز کیسے ہیں… کوئ بلبل تو نہیں پال رکھی”وہ دانت نکالتا عنایت کو شرمندہ کر گیا…
مطلب دال کالی ہے بتاتا ہوں تمھارے مالک کو میں “اسنے سر ہلایا تو عنایت نے اپنی مسکراہٹ دبائ اور وہ دونوں اسی طرح چھپتے چھپاتے اندر کی جانب بڑھے….
اور لاونج. میں آ گئے.. سردی کے باعث دونوں ہی بری طرح ہاتھ مسل رہے تھے.. ابھی وہ سہولت سے لاونج میں کسی کو نہ پا کر… عنایت کے بتاے گئے کمرے کیطرف بڑھتے کہ.. دروازہ کھلا…
اور ولی کمرے سے باہر نکلا….
شہاب اور عنایت وہیں جم گئے… وہ لاونج کی لائٹیں کھول کر…. اس سے پہلے انھیں دیکھتا کہ ایک صوفے کے پیچھے اور دوسرا بڑی ساری الماری کے پیچھے چھپا مگر یہ عارضی تھا اگر وہ جلد اندر نہ جاتا تو وہ دونوں پکڑے جاتے اور یہاں سے بچ پاتے یہ نہیں…
سادام سے ضرور مرتے…
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا پیچھلے باغ کیطرف نکل گیا…
دونوں کے ہی دماغ میں جاناں کا خیال آیا..
اور دکھ سے دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے…
ہمیں اپنا کام کرنا چاہیے.. “عنایت نے کہا…
مگر یہاں سے نکلنا اب آسان نہیں” شہاب نے گویا اسے حقیقت بتائ…
اور وہ دونوں پھر بھی اندر بڑھے اور… ائزہ کے کمرے کا دروازہ… بند دیکھ کر عنایت نے اس مشکل پر جھنجھلا کر زمین پر پاوں مارا…
جبکہ شہاب ہنسا.. اور اسنے.. اپنی جیب سے.. اپنا شاندار اعلئ نکالا.. اور بڑی ٹینیک سے.. دروازہ کھول کر وہ اسے ایسے دیکھ رہا تھا.. کہ عنایت ابھی اسکے قدموں میں جھک کر اسے داد دے گا.. جبکہ عنایت واقعی کافی ایمپریس ہوا..
لگتا ہے آپ نے کافی چوریاں کی ہیں وہاں “وہ بڑبڑایا.. جبکہ شہاب اپنے ٹیلنٹ پر چوری کا نام سن کر منہ پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا….
بستر پر نازک سا وجود سکڑا سیمٹا پڑا…
تھا…. وہ دونوں ہی اسے دیکھ نہیں سکتے تھے… کیونکہ یہ سادام کیطرف سے اجازت نہیں.. تھی مگر اسکو لے کر کیسے جاتے… کیونکہ چھونے پر بھی پابندی تھی…
تبھی… شہاب مزید وقت ضائع کیے بنا… اسکے نزدیک ہوا اور.. اسنے کمبل ہٹایا تو لمہے بھر کے لیے ٹھر سا گیا….
وہ ہوش و خرد سے بیگانی… اپنے حسن سے بے پرواہ پڑی تھی کہ شہاب کی نگاہ اس پر سے ہٹنا بھول ہی گئ…
عنایت نے یہ منظر ناپسندیدگی سے دیکھا… اور اس سے پہلے وہ کچھ کرتا.. شہاب کے تاثرات سخت سے ہوے…
شاید اسے احساس ہو گیا تھا وہ اسکے دوست کی نشانی تھی… جس کی وجہ سے وہ شراب پینے لگا تھا… اسکے اندر جیسے آگ سی جل رہی تھی.. اور اس آگ کو یہ لڑکی ہی بجھا سکتی تھی.. اس بات کا اندازا شہاب کو اسکو دیکھ کر ہو گیا.. اسنے زور سے اسکا شانہ ہلایا اور زریش جی جان سے کانپتی اٹھ بیٹھی..
خود پر جھکے شہاب کو دیکھ کر وہ چیختی کے عنایت کو بھی دیکھ کر اسکا سانس جیسے رک گیا..
مطلب بلاوا آ گیا تھا… یعنی وہ آ گیا.. تھا….
اسنے ارد گرد دیکھا… وہ نہیں تھا..
لڑکی شرافت سے چل رہی ہو یہ کوئ اور طریقہ اپنانا……..
گولیوں کی تڑ تڑ آواز پر…. وہ دونوں مڑ کر.. دیکھنے لگے….
مجھے لگتا ہے اسے اندازا ہو گیا ہے “عنایت بولا…
تو شہاب نے.. دانت پیسے کاش اپنے ہاتھوں سے وہ اسے مار دیتا..
ہمیں یہاں سے بھاگنا ہو گا” عنایت نے اسکے جمے ہوئے وجود کو ہلایا.. اور دونوں آخری نظر زریش پر ڈال کر… وہ اس کھڑکی سے ہی.. اگے.. کیطرف کودے..
ولی کی بندوق سے نکلی گولی نے انکا تعقب ضرور کیا مگر افسوس کے دونوں میں سے ایک کو بھی نہ لگی.. اور..
وہ دیواریں پھلانگ کر… بھاگے تھے….
وہ بچ گئے تھے.. اب آگے والے سے کون بچاتا انھیں.
…………….
بے ہوش کتوں کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئ.. جبکہ یہ کتے وہ نہیں تھے جو رات کو سوتے.. اسنے دروازہ کھلوایا تو چوکیدار بھی انگ رہا تھا جبکہ اسے یہ دیکھ کر خطرہ محسوس ہوا کہ گارڈ تو خونم خون باہر پڑا تھا
وہ اندر کی جانب بڑھا اسطرح ڈھونڈتا تو اسے وقت لگتا اور جو آیا تھا اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا.. تبھی اسنے باہر کھڑے ہو کر فائرنگ کی گویا انھیں اطلاع دی تھی… کہ وہ جان گیا ہے…. تبھی وہ لوگ بھاگے اور… وہ سارے گھر والوں کو ویسا ہی چھوڑے اندر اپنے کمرے میں چلا گیا جہاں جاناں بھی جاگ گئ تھی…
ولی نے موبائل اٹھایا…
ہاں وہ حرام زادہ اپنے بندوں کو آج بھیج چکا ہے حویلی کے باہر سیکیورٹی سخت کرو… “اسنے اپنے خاص ملازم سے کہا… اور فون بیڈ پر پھینک کر سہمی ہوئ جاناں کو دیکھا…
تم” وہ اس تک پہنچا.. جاناں کی چیخ سی نکلی…
تم اپنی شکل اس کمبل میں گم کر لو کبھی میں سارا لحاظ بلاطاق رکھے.. ابھی تمھیں چیونٹی کیطرح مسل دوں”سنسناتا لہجا.. جاناں کی ریڈ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا…
وہ ا س سے فاصلہ بناتی… کمبل میں دبک گئ.. اور کمبل سر تک تان لیا… ولی نے غصے سے اسکیطرف دیکھا…
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اندر چھپا وجود کانپ رہا ہے اس وقت.. اسے سادام پر شدید غصہ تھا نا جانے صبح کیسے ہوتی اور وہ ایک نئ…
چوٹ اسکے دل پر مارتا…
………………..
دن کا سورج چاروں طرف پھیلا تو.. جاناں نے کسمسا کر کروٹ بدلی… ولی نے آئینے میں سے اسکی صراحی دار گردن.. اور بے پناہ خوبصورتی کو دیکھا تو وہ دیکھتا رہ گیا..
یہ احساس تو اسنے محسوس ہی نہیں کیا تھا کہ وہ اس کے قریب تھی… وہ اسکی تھی جب چاہے.. وہ اسکو چھو سکتا تھا.. اسکا گداز لمس محسوس کر سکتا تھا….
اسکی نظروں کی تپش تھی کہ جاناں جاگ گئ.. اور سیدھی نظر اسپر ہی گئ..
کافی آرام پرست ہو “اسنے اٹھتے ہی چوٹ کی.. وہ سرخ چہرے سے اپنے دوپٹے کو ڈھونڈتی خود کو ڈھانپ گئ…
اتارو اسے” ولی نے ٹاول وہیں بیڈ پر پٹخا.. اور اسے گھورنے لگا..
جاناں کا دل زور زور سے دھڑک اٹھا…
میں نے کہا اتارو اسے “وہ غصے سے بولا… تو چار نچار جاناں گھبرا کر دوپٹے کو سائیڈ پر کر گئ.. جبکہ ولی کے جزبات اسکے اندر سر توڑنے لگے….
وہ معصوم نگاہوں کو جھکاے بلا کی حسین لگ رہی تھی..
چھونے کی خواہش اسکو اسکے قریب کھینچتی لے گئ..
جاناں نے کمبل پر اپنی گرفت سخت کی..
ولی مسکرایا..
مجھے اچھا لگتا ہے تمھارا ڈرنا… ڈرتی رہا کرو “وہ اسکے چہرے کی نرمی… کو محسوس کرتا… بولا..
جاناں کی گرتی اٹھتی پلکیں.. اسے ساری حدود توڑنے پر اکسا رہیں تھیں…
اور وہ بے خود سا اسپر جھکنے لگا…
اسکے دل کی دھڑکن.. کی اواز اسکے کانوں میں سنای دینے لگی…
اسنے سختی سے جاناں کے بال جکڑے.. اور اسکو دوبارہ لیٹا.. کر وہ.. اسکے کے نازک لبوں کو اپنی شدت کا نشانہ بناتا کہ دھڑ سے دروازہ کھلا.. اور دادی کو دیکھ کر.. ولی.. زرا خفیف سا دور ہوا…
اور جاناں کی تو حالت ایسی تھی.. گویا… زمین کھلے اور وہ اس میں سما جاے.. یہاں تک کہ وہ رونے لگی..
جبکہ ولی… جو تیار تو ہو ہی چکاتھا بنا کچھ کہے.. باہر نکل گیا…
اور دادی نے دروازہ بند کرایا….
جاناں کی جان اب زیادہ حلق میں پھنسی..
تو… بدزات.. میرے پوتے پر اپنا جادو چلائے گی نیچ “
وہ چیختی تھپیڑوں سے اسکا منہ سجا گی جبکہ وہ سسکتی… روتی.. رہی.. شکیلا.. نے بھی سر جھٹکا.. وہ چڑیل انکے مالک کو.. اپنے قابو میں کرنا چاہ رہی تھی…
اپنا غیض و غضب نکال کر.. وہ.. اسے.. ایک منٹ میں باہر آنے کا حکم کرتی وہاں سے چلیں گئیں…
جبکہ جاناں کی سسکیاں کسی کو بھی رولا سکتیں تھیں…
……………..
بلا کر لاو اسے”اسنے حکم دیا تو.. ملازمہ سر ہلاتی چلی گئ
وہ ائزہ کے کمرے میں ائ…
اور دروازہ کھولا..
تجھے چھوٹے چوہدری بلا رہے ہیں.. جا انکی بات سن لے” ملازمہ بولی تو زریش نے ملازمہ کیطرف دیکھا اگر وہ بھاگ سکتی یہ کہیں چھپ سکتی تو کاش وہ چھپ سکتی
مگر اسے جانا تھا.. وہ اٹھی اور ملازمہ کے پیچھے چل دی.. وہ بڑے ہال کمرے میں تھا…
وہ اندر داخل ہوی تو کروفر سے بیٹھا وہ اسی کیطرف دیکھ رہا تھا..
بیٹھو” اسنے اشارہ کیا تو زریش وجود کی کپکپاہٹ پر قابو پاتی وہ بیٹھ گئ اس وقت کمرے میں صرف ولی تھا اور اسکا ایک ملازم جو ہاتھ میں کچھ تھامے کھڑا تھا..
دو اسے یہ کاغذ” ولی نے کہا…
تو ملازم نے زریش کے اگے پرچہ کیا جسے اسنے تھام تو لیا مگر نہ سمھجی سے دیکھتی رہی..
لکھو اسپر” وہ بولا.. تو زریش نے کانپتے ہاتھوں سے قلم اٹھایا..
سادام فضل خان میں نے تم سے محبت کا ڈھونگ چوہدری ولی کے کہنے پر کیا تھا… میں… تم سے محبت نہیں کرتی کیونکہ تم ایک ایسی عورت کی اولاد ہو.. جس نے اپنے شوہر کے ہوتے ہوے کسی سے ناجائز تعلق بنایا تھا….
اور جو بھی میں نے کیا وہ چھوٹے چوہدری کی ایما پر کیا تھا..
میرا پیچھا کرناچھوڑ دو. ورنہ تمھارا قتل میں چھوٹے چوہدری کو کہہ کر کروا دوں گی سمھجے… َ”
اپنی بات مکمل کر کے اسنے سیگار سلگائ
جبکہ زریش پھوٹ پھوٹ کر رو دی..
چھوٹے چوہدری ایسامت کریں میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے خدا کے واسطے یہ ظلم نہ کریں مجھ پر” وہ اسکے اگے ہاتھ جوڑتی.. گڑگڑانے لگی…
جبکہ ولی نے اسے پرے دھکیلا..
زیادہ دڑامے کا وقت نہیں ہے میرے پاس.. یہ تو.. تمھارے ماں باپ مارے جائیں ورنہ.. تم یہ خط لکھو.” اسنے دو ٹوک کہا
جبکہ زریش حیرت سے اسے دیکھنے لگی…
وہ شخص کس قدر ظالم تھا اس بات کا اندازا اسے اس وقت ہو چلا تھا..
میں معافی چاہتی ہو میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی” زریش نے صاف لفظوں میں ہمت باندھتے انکار کیا جبکہ..
ولی مسکرایا…
لے کر او اسکے ماں باپ کو” ملازم نے سر ہلایا زریش بنا سر اٹھاے… خود کو قابو میں رکھنے لگی..
جبکہ اماں ابا کی معافیوں کی اواز اچانک اسکے کانوں میں گونجی..
چھوٹے چوہدری معاف کر دیں “اماں گڑگڑائ..
زریش کا گویا دل پھٹنے کو ہوا.. مگر وہ پھر بھی ایسے ہی بیٹھی رہی..
بندوق چلاو صادق”ولی کی اواز پر وہ جھٹکے سے سر اٹھاتی اپنے بے قصور ماں باپ کو دیکھنے لگی…جنھیں اسنےا پنے قدموں میں رکھا ہواتھا..
بندوق لود کر کے صادق نے اماں کی کنپٹی پر رکھی اور اس سے پہلے ڈریگر دباتا.. کہ زریش پھوٹ پھوٹ کر رو دی…
چلاو گولی” ولی نے پھر کہا..
م.. نہیں… نہیں” اسنے قلم اٹھایا….
مگر لکھنے کی ہمت نہ ہوی..
ولی کے اشارے پر صادق نے ابا کو بری طرح پیٹنا شروع کیا..
اور محبت تڑپ کر مجبور ہوتی.. خود با خود بے وفائی کرتی چلی گئ..
اسنے اپنے لفظوں سے.. سادام کے لیے موت لکھ دی تھی وہ.. پین پھینک کر اماں ابا کے پاس بھاگی.. اور صادق کو روکاجبکہ.. ولی مسکرایا…
جاو.. “اسنے گویا سب کو جانے کی اجازت دی…
اور… زریش آج سب ہارتی وہاں سے اپنے ماں باپ کے ساتھ نکلنے لگی… کہ… اسنے ایک بار پھر ابا کو دیکھا…
تو رک یہ خط سادام کو اپنے ہاتھوں سے دینا ہے.. ا اور…. تیرا انداز ایسا ہو کہ تو اپنی بیٹی کے یار کا قتل کر دے گا” وہ گھورتا بولا جبکہ وہ روتا ہوا سر ہلا گیا..
جا پہلے یہ ہی کر اور رونا بند کر” اسنے کہا اور اماں اور زریش کو جانے کا اشارہ کر کے ابا کو روک لیا…
……………..
ان دونوں کے منہ سجے ہوے تھے.. جبکہ سادام شراب پیتا ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا…
تم دونوں بزدل اس کا گولی کا نیچے آ ہی جاتا.. تو اچھا ہوتا..” وہ.. سگار سلگاتا بولا…
جبکہ شہاب تو اپنے بگڑے منہ کو بار بار آئینے میں دیکھ کر سادام کو گالی دے رہا تھا.. اور عنایت.. بھلہ کچھ بول سکتا تھا…
تم کھیتوں پر گیا تھا یہ… وہاں سے بھی لاپرواہ بنا ہوا ہے” وہ گھور کر بولا….
تو عنایت اسے ساری تفصیل دینے لگا….
جس پر سادام سر ہلا دیتا…
تبھی ڈیرے کا ملازم آیا.. اور اسنے دوسرے گاوں کے کسان کے انے کی اطلاع دی جس پر سادام نے اسے آنے کی اجازت دی…
تو وہ کسان نخوت سے سب کو دیکھتا اندر ایا.. اور ولی کے بتاے ہوے طریقے سے وہ عنایت پر خط پھینکتا… سادام کی جانب دیکھنے لگا..
میری بیٹی کیطرف آج کے بعد تم دیکھنا اسکے بعد چھوٹے چوہدری سے تمھارے ٹکرے کرا دوں گا “خوف سے اسکی اواز دو بار لڑکھڑای تھی مگر وہ بول گیا کیونکہ اسنے لوٹنا وہی تھا اگر سادام زندہ چھوڑتا تو….
عنایت ایکدم بھڑک کے اٹھا.. اور اس کے منہ پر تھپڑ کھنچ مارا…
سادام خانوشی سے یہ تماشہ دیکھ رہا تھا.. وہ کسان یوں ہی کھڑا تھا تن کر.. اسکا انداز عجیب تھا.. جیسے وہ شدید نفرت کر رہا ہو ان سے…
جانے دے اسکو. “عنایت کو روکا…
شہاب نے غصے سے سادام کو دیکھا..
مگر سادام نے وہ خط اٹھا لیا..
جبکہ عنایت نہ چاہتے ہوے بھی اپنا اشتعال دبا گیا.
………..
