50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 25
دوسری طرف دادی نے پورا زور لگایا ہوا تھا کہ ولی نمل کی طرف مائل ہو کیونکہ انھیں وقت گزرنے کے ساتھ ہواؤں کے رخ بدلتے نظر آ رہے تھے تبھی جاناں کو بلانا اس سے کام کرانا فحال انھوں نے چھوڑا ہوا تھا ۔۔ وہ نمل کو ولی کے آگے پیچھے پھیراتی تھیں ۔۔۔جبکہ نمل بھی اب اس کام میں دلجمعی سے حصہ لیے ہوئے تھے مگر سادام فضل خان ساتھ ماہ گزرنے کے باوجود اب اسکے خوابوں میں آنے لگا تھا جسے وہ جھٹک دیتی ۔۔۔ کیونکہ وہ کون سا یہاں موجود تھا نہ جانے کہاں تھا اس پنچائیت کے بعد کسی نے اسے گاؤں میں نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
مگر ولی کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتی تھی وہ ۔۔۔ کہ کسی ایک کے لالچ میں ہاتھ آیا بندہ بھی نکل جائے ۔۔۔۔
تبھی دادی اور پھوپھو کا بتایا ہر حربہ کر رہی تھی ۔۔۔۔
فرہاد زریش اور آئزہ کو کالج شہر چھوڑنے جانے لگا تھا ۔۔ جبکہ جاناں اپنی طبعیت کے باعث آج کل نہیں جا رہی تھی ۔۔۔
جس طرح نمل ولی کے قریب ہو رہی تھی جاناں اتنی ہی ڈھیلی پڑتی جا رہی تھی اسکے رویے اور اسکے بھائ کے ساتھ ہوئ زیادتی کے سبب ولی جاناں کے دل میں جگہ بنانے میں۔ ناکام ہی رہا تھا ۔۔۔ اور ان ساتھ مہینوں میں جاناں زریش کو بھی بہت کم مخاطب کرتی تھی ۔۔
ہاں وہ لڑکی اسکے بھائ کی محبت ہو سکتی تھی ۔۔ لیکن اسکا بھائ اس لڑکی کی محبت نہیں تھا اگر ہوتا تو محبوب تو آنکھوں سے دل کا حال جان جاتے ہیں پھر وہ بھری محفل میں اسپر الزام رکھ گئ تھی بنا دیکھے اور سوچے سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ ولی اور شہریار دونوں کے ساتھ ہی زریش کے تعلقات کافی اچھے ہو گئے تھے ۔۔۔۔ دادی اور پھوپھو تو اسے اتنا بلاتی نہیں تھیں جبکہ نمل سخت چڑتی تھی ۔۔۔۔ وہ بھی صرف آئزہ اور جاناں سے خود سے بات کرتی تھی ۔۔ جبکہ رقیہ بیگم سے بھی اب رفتہ رفتہ اسکے انداز بدل رہے تھے اور یہ تبدیلی ان تینوں ماں بیٹوں کو کافی بھائ تھی ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں آیا تو وہ منہ صاف کرتی ابھی واشروم سے باہر نکلی تھی ۔۔ ماتھے پر چھوٹے چھوٹے کئ بل تھے جنھیں ولی نے توجہ سے دیکھا ۔۔۔۔
اور جاناں بستر پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔ گھیرے گھیرے سانس لیتی وہ اپنے فریبی وجود کو دوپٹے سے ڈھانپ کر ولی کو سرے سے اگنور کر گئ تھی ۔۔۔ اتنی ہمت تو اس میں آ ہی گئ تھی ۔ کیونہ ان ساتھ ماہ میں ایک بار بھی ولی نے اسپر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔ مگر زبان کے تیر چلا کر اسکا دل گھائل ضرور کیا تھا ۔۔۔۔
اور کل بھی نمل کے دھکے سے پھوپھو پر گیرنے ولی چائے پر وہ اسے کتنا سنا گیا تھا سارے گھر کے سامنے۔ ۔
اور سلیقہ نمل سے سیکھنے کا بھاشن الگ دیا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر پہلی بار وہ بری طرح تپی تھی ۔۔۔۔ اور کل رات سے ہی خاموشی منہ پر سجائے پھر رہی تھی الٹا اسکے بچے نے بھی جینا حرام کیا ہوا تھا ۔۔ وہ الٹیاں کر کر کے عاجز آ چکی تھی ۔۔۔۔
سارے کمرے میں ومیٹ کی سمیل پھیلائی ہوئی ہے”وہ تیوری بگاڑ کر دیکھتا ۔۔۔ روم فریشنر اون کر گیا۔ ۔ ۔
نمل کو بلا کر یہ سمیل بھی نکلوا لیتے آخر کو اسکے اندر سمیل باہر نکالنے کا سلیقہ بھی موجود ہو گا “وہ بولی اور اپنی جگہ سے بمشکل اٹھی اور ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھا ۔۔۔۔۔
تو اپنے وجود سے گھبرا ہی گئ ۔۔ کیسا حولیہ ہو چکا تھا اور وہ کتنے آرام سے بیٹھی تھی اسکے سامنے ۔۔۔۔۔
زیادہ زبان چلنے لگ گئ ہے تمھاری”ولی نے روب جمانا چاہا تبھی اسکی کلائ پکڑی ۔۔۔۔
آپ نمل کی کلائی پکڑ لیں ۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا میرے اندر۔ ۔ ایسی کوئ بات ہو گی کے آپ میری یہ کلائی پکڑے یہ اسپر نرمی ظاہر کریں ۔۔۔ ہاں اگر مارنا چاہتے ہیں تو الگ بات ہے”اسنے بنا ڈرے ۔۔ جواب دیا ۔۔ولی تو دنگ رہ گیا۔
جبکہ جاناں ہاتھ چھڑاتی صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔
یہ نمل نمل کی تسبیح کیوں کر رہی ہو “وہ سمجھا نہیں لے دے کر بات بات پر نمل کا طنعہ مار رہی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ اپکو اس سے محبت ہے “اسکی آنکھیں بھیگیں ۔۔۔ مگر اب ان بھیگی آنکھوں کو اسکو دیکھانے کے بجائے ۔۔۔ وہ نظریں پھیر کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی جو دستک کے بنا کھلا تھا ۔۔۔۔اور روز کیطرح نمل دودھ کا گلاس لیے کھڑی تھی ۔۔۔
ولی پہلے شاکڈ میں تھا ۔۔ نمل کا کمرے میں داخل ہونا اچھا نہیں لگا ۔۔۔
نمل دروازہ نوک کرنے کی ہیبیٹ بھی سیکھ لو ۔۔۔۔۔ “وہ زرا سختی سے بولا۔ ۔۔ نمل کا چہرہ سرخ ہوا جبکہ جاناں نے توجہ نہیں دی اسے غرض ہی کب تھی ۔۔۔۔
وہ میں “نمل ہچکچا گئ ۔۔۔
تھنکیو”ولی نے اس سے گلاس لیا اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔
جبکہ نمل کا غصے سے خون کھول گیا ۔۔۔۔۔
ہاں تو تم کیا کہہ رہی تھی”اب وہ بلکل اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسکے شانے پر بازو پھیلا کر اس سے سوال کرنے لگا ۔۔۔
جاناں نے اسکا بازو دیکھا ۔۔۔
نمل پر پھیلا لیں “اسنے ہاتھ دور کیا ۔۔۔
اور صوفے سے بھی اٹھ گئ ۔۔ اور اپنے بستر پر لیٹ گئ ۔۔۔۔
جبکہ کتابیں سامنے کھول لیں ۔۔۔
کیا بکواس ہے یار “وہ کچھ اور چاہتا تھا تبھی اتنا سیدھا چل رہا تھا۔ ۔۔
جبکہ جاناں کافی بھری بیٹھی تھی ۔۔۔۔
آپ چاہتے کیا ہیں مجھ سے ابھی چار دن پہلے مجھے اس حالت میں صوفے پر دھکیل کر حکم صادر کر کے گئے تھے دور رہا کرو ۔۔۔ مجھ سے ۔۔۔۔ جبکہ رات اپنی من مانی آپ نے کی تھی میری کوئ منشا نہیں تھی ۔۔۔۔ اور نہ کبھی ہوئ ۔۔۔۔ ۔مگر صبح کے سورج پر سزا مجھے ملی ۔۔۔
پھر کل مجھے نمل سے سلیقہ سیکھنا چاہیے مجھے آتا ہی کیا ہے ۔۔۔۔
تو یہ سب اب آپ میرے ساتھ کیوں کرنا چاہتے ہیں دوبارہ ۔۔۔۔
آپ کے انداز میں نرمی ولی صرف میری قربت پر آتی ہے ۔۔۔ اسکے علاوہ میرے لیے آپکی زبان سے صرف پتھر نکلتے ہیں “سنجیدگی سے وہ اسکو حقیقت کا آئینہ دیکھا گئ ۔۔۔۔۔
ولی چند لمہیں خاموشی سے اسے سنتا رہا اور اسکی کتابیں اٹھا کر سائیڈ پر دھکیل دی۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا زہر ہے تمھارے اندر میرے لیے”وہ بھی سنجیدگی سے سوال کر گیا ۔۔۔۔
ہاں کیونکہ آپ دشمن ہیں۔ ۔۔میرے لالا کے اور میرے ۔۔۔ آپکی بہن ۔۔ دشمن ہے “
جاناں “وہ سختی سے ہاتھ اٹھا گیا۔ ۔۔۔ مگر وہ ہاتھ جاناں کے گال پر نہیں لگا ۔۔۔
آپ مار لیں اب مجھے عادت ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔ “اسنے کہا تو ولی کا دل عجیب سا گھبرا اٹھا تھا اسکے اس لہجے پر ۔۔
آپ نے مجھ پر الزام لگایا تھا ۔۔ جھوٹا ۔۔۔۔۔ آپکی بہن نے میرے بھائ پر جھوٹا الزام لگایا ہے ۔۔۔ کیا آپ دونوں کو اللہ سے ڈر نہیں”
انف “وہ دھاڑا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔”اسنے مختصر جواب دیا اور کمبل سر تک تان گئ ۔۔جبکہ ولی کمرے کے واسط میں کھڑا ۔۔۔ دل کی کیفیت پر پریشان ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ جو اسکی ڈری سہمی ادا پر اسکا ہونے لگا تھا مگر آج اسکے اندر اپنے لیے اتنی نفرت دیکھ کر ۔۔۔ گویا مٹھی میں جکڑا گیا تھا ۔۔۔۔
تبھی اسنے دودھ کا گلاس پھینک کر توڑ دیا ۔۔۔
جاناں کو افسوس ہوا مگر اسنے کمبل سے چہرہ باہر نہیں نکالا ۔۔۔۔
یہ صاف کرو فورا”وہ جان بوجھ کر بولا ۔۔۔ اور موبائل نکال کر اپنے آپ کو لاپرواہ ظاہر کرنے لگا ۔۔۔
نمل کو بلا لیں “جواب ملا ۔۔۔ تو اب اسے واقعی غصہ ا گیا تھا ۔۔
تیری ۔۔۔۔ ابھی دماغ درست کرتا ہوں “وہ بڑبڑاتا اٹھا ۔۔۔ نمل کے نام سے چیڑ ہونے لگی تھی ۔۔
اسنے کمبل کھینچا ۔۔ وہ ملائ سا چہرہ لیے ۔۔ آنکھیں بند کیے اس سے بے پرواہ پڑی تھی ۔۔۔
ولی نے دل کو ڈپٹا ۔۔۔ جو اسکی کہی بات کے لیے مچلنے لگا تھا گویا اسکی قربت چاہتا تھا مگر وہ نگاہ چرا نہ سکا ۔۔۔
ایک ہاتھ اسکے تکیے پر رکھ کر ۔۔۔ دوسرا اسکے گردن کے نیچے رکھتے ۔۔ وہ دل فریب سا جھٹکا دیتے اسکا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کر گیا جاناں نے نگاہیں سختی سے بھینچی ۔۔۔
دوبارہ نمل کا نام مت لینا “وہ اسے ایک موقع دے رہا تھا ۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔۔ کیا برائ ہے ۔۔۔۔ دوسری شادی کریں اور میری جان چھوڑ دیں “وہ اسکو دونوں ہاتھوں سے دور کرتی ۔۔ بولی ۔۔۔
پہلی تو کامیاب ہو نہیں رہی دوسری پر اکسا رہی ہو “وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقش پر فدا ہوتا ۔۔۔ اپنی ہار تسلیم کر گیا ۔۔۔۔
اسکی جادوئی قربت کہیں اور بھٹکنے نہیں دیتی تھی ۔۔۔
زریش اسکے جان لیوا لمس سے خود کو بچانق چاہتی تھی جبکہ ہ ولی کا موڈ کچھ اور ہی تھا ۔۔ رفتہ رفتہ وہ اسکے ساتھ ہی لیٹتا چلا گیا۔۔۔۔
اتنا نکھرا میں عادی تھوڑی ہوں اتنے نکھرے کا “جاناں کی بھاری سانسوں کو قربت سے دیکھتے ۔۔۔ وہ بولا جبکہ اسکے بالوں کو اسکے چہرے سے ہٹایا ۔۔۔
جاناں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ۔۔ کروٹ بدل لی۔
ایسا لگ رہا ہے کافی زخمی ہے ہرن” وہ دوبارہ اسکا رخ اپنی طرف جھٹکے سے کر گیا ۔۔
آہ “جاناں نے اسکی عجلت پر اسکے بازوں پر زور سے مارا ۔۔
ولی اسکی ایکدم سہمنے والی آنکھوں کو دیکھنے لگا جو نگاہ جھکا گئ تھی ۔۔
ہر انداز پر فدا ہونے کو جی چاہتا ہے “وہ پھر سے گستاخیوں پر اترا ۔۔۔
جبکہ جاناں میں کہاں اسکو روکنے کی ہمت تھی ۔۔ مگر اپنی نہ پسندیدگی وہ ظاہر کر رہی تھی ۔۔
جاناں “ولی نے وارن کیا ۔۔۔۔
آپ سمھجہ کیوں نہیں رہے “جاناں کا لہجہ بھیگا ۔۔۔۔
ولی نے ایک منٹ اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
مجھے بھی ضرورت نہیں ہے تمھاری”وہ غصے سے ۔۔ اپنی شرٹ کے بٹن لگاتا بولا ۔۔۔۔۔
جاناں نے اسکیطرف نہیں دیکھا ۔۔۔
ولی گھورتا رہا ۔۔ اور پھر اسپر سے غصے میں کمبل کھینچ کر وہ باہر نکل گیا ۔۔۔
جاناں نے کلس کر زمین پر پڑے کمبل کو دیکھا ۔۔۔ اور دوبارہ لے کر سو گئی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئزہ یہ لو ۔۔۔ “شھریار نے اسکے آگے چاکلیٹ کی جو کل کا ٹیسٹ یاد کر رہی تھی جسے سنے جلدی سے لپک کر لینا چاہا ۔۔ تو شھریار نے دور کر لی ۔۔۔
اسنے اسکیطرف دیکھا ۔۔جب دینی نہیں تھی تو دیکھائی کیوں “وہ غصہ ظاہر کرنے لگی ۔۔۔
جب بیوی میری نہیں تو شادی کیوں کی “اسنے اسکی بات لٹائ۔۔۔
خیر بہتر جانتے ہیں شادی کیسے ہوئ تھی”اسنے ترچھی نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔
شھریار درحقیقت اس سے اب اس موضوع پر بات کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
آئزہ ۔۔۔ تمھیں چچی سے اب ناراضگی ختم کر دینی چاہیے”وہ نرمی سے سمجھانے لگا ۔۔۔۔
آئزہ نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
انھوں نے مجھےا پ سے جدا ہونے پر اتنا مجبور کر دیا ۔۔کہ آپ نے سارے بدلے مجھ سے لیے ۔۔۔۔ “آئزہ کی آنکھیں بھیگی ۔۔
ماں ہیں وہ تمھاری کل بھی سکندر چاچو انھیں ہسپتال لے کر گئے تو ۔۔ میں انکے ساتھ گیا ۔۔۔۔ انکی طبعیت نہیں ٹھیک تمھیں اس ناراضگی کو طویل نہیں کرنا چاہیے وقت کے ساتھ سب بدل جاتا ہے “وہ بولا ۔۔۔ تو آئزہ کو خیال آیا ۔۔ ہفتہ پہلے وہ پیچھے باغ میں پڑھ رہی تھی تو اسکی ماں حسرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ اور وہ وہاں سے اٹھ کر ا گئ ۔۔
وہ خاموش ہوئ تو ۔۔۔ شھریار نے اسے سینےسے لگا لیا ۔۔۔
ہم ایک ہیں بہت خوش ہیں ۔۔۔۔ بس پھر کسی سے کوئ ناراضگی نہیں بنتی ٹھیک ہے “
وہ اسکو نرمی سے سمجھاتا رہا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرہاد ۔۔۔ آپ آج لیٹ آئے ہیں کافی”زریش نے اسکیطرف دیکھا جو مسکرایا ۔۔
سوری میڈیم ۔۔۔ میں زرا کام سے نکلا ہوا تھا ۔۔۔ اور میں کسی پریٹی گرل کے لیے ایک پریٹی گفٹ لے رہا تھا اسی لیے دیری ہو گئ ۔۔۔
اسنے پیار سے کہا جبکہ زریش نے اسکیطرف دیکھا ۔۔
آنکھیں بند کرو بئ۔۔۔”وہ اسکی پھٹی آنکھوں کو دیکھ کر بولا ۔۔۔
اور زریش اسکی بچکانی حرکت پر مسکراتی ۔۔۔ آنکھیں بند کر گئ ۔۔
جھٹکا تو تب لگا جب وہ اسکی گردن میں کچھ ڈال رہا تھا ۔۔
ول یو میری می”مدھم آواز سے کہہ کر وہ پیچھے ہٹا زریش دھک سے رہ گئ اسکی صورت تکنے لگی ۔۔۔۔
جبکہ نگاہ اس تتلی پر گئ جو اسنے اسکی گردن میں ڈالی تھی اس سے پہلے وہ کچھ بولتی کہ انکی گاڑی پر اچانک اٹیک ہوا تھا ۔۔۔
زریش کی چیخ نکلی جبکہ فرہاد خود ایکدم پریشان دیکھنے لگا ۔۔۔۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے”زریش نے فرہاد کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔
جبکہ فرہاد بھی باہر انکی گاڑی پر پڑنے والے ڈنڈوں کو دیکھ رہا تھا جنھوں نے شور مچا دیا تھا پارکنگ میں سے لوگ بھاگ رہے تھے ۔۔۔
انھوں نے دروازہ اچانک جھٹکے سے کھولا ۔۔بدقسمتی کے فرہاد نے آٹومیٹک لاک بھی نہیں لگایا تھا ۔۔
اور فرہاد کو گردن سے پکڑ کر باہر کھینچا ۔۔۔۔۔ اور بری طرح اسے پیٹنے لگے ۔۔
کیا کر رہے ہیں آپ لوگ چھوڑیں انھیں “زریش روتی ہوئی فرہاد کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ تو ایک سانس ہو کر فرہاد کو مارے جا رہے تھے ۔۔۔
اچانک زریش کی کلائی ایک نقاب پوش کی ہتھیلی میں پکڑی گئی ۔۔
وہ جھٹکے سے پلٹی ۔۔۔
حیرانگی سے دیکھا ۔۔۔ اور خوف سے وہ کپکپا گئ ۔۔۔
اے رک”اپنی طرف کھینچتا نقاب پوش اسے اپنے ساتھ گھسیٹ رہا تھا جو جانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ فرہاد چیخا جبکہ ۔۔۔
توجہ دیے بنا وہ نقاب پوش اس کو گھسیٹ کر اپنے ساتھ ایک سیاہ گاڑی میں لے گیا ۔۔ جبکہ فرہاد کو مسلسل مارنے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو چکا تھا ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون ہو تم ۔۔ چھوڑو مجھے ۔۔میں نے کہا ہے چھوڑو مجھے”وہ چیخی اپنا آپ اس سے چھڑوانا چاہا۔ ۔۔
چپ ” ۔۔۔ وہ کڑک آواز میں چیخا ۔۔۔ تو مقابل کو روح فنا ہو چکی تھی ۔۔
کو۔۔کون ہو تم”زریش کے آنسو زارو قطار بہنے لگے مگر وہ جو بھی تھے جیسے روبورٹ کے تھے اگلا لفظ نہیں بولے ۔۔۔
میری لالا تم لوگوں کو مار دیں گے”زریش غصے سے بولی ۔۔ اب بھی وہ دونوں ایسے ہو گئے جیسے کوئ تھا ہی نہیں۔
اسکا دماغ چکرا گیا ۔۔۔
چھوڑو مجھے ۔۔۔” اسنے پاگلوں کیطرح دروازہ پیٹا مگر بے سود ۔۔۔دروازہ کھول کر باہر نکلنے کی کوشش بھی کی جبکہ وہاں موجود کسی نے بھی اسکی بات کا جواب نہیں دیا ۔۔۔ نہ ہی توجہ دی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زریش نہیں آئ ۔۔۔ ابھی تک”رقیہ بیگم نے شام کو ڈھلتے دیکھا تو آئزہ سے کہا ۔۔
آپ فکر نہ کریں فرہاد بھائ ہیں ساتھ “وہ بولی تو رقیہ بیگم نے نفی کی ۔۔
میرا دل سا گھبرا رہا ہے فرہاد ۔۔۔ کہاں لے گیا میری بچی کو “وہ رو دینے کو ہوئیں ۔۔۔
تبھی آئزہ نے شھریار کو فون ملایا ۔۔۔
اور انھیں اطلاع دی ۔۔۔
جاری ہے