50.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

کیسے اٹھانا تھا اس موبائل کو وہ نہیں جانتی تھی فون بجتے بجتے بند ہو گیا….
اور وہ کمرے میں اندر بھاگ گئ کیونکہ ابا اماں کی اواز آ رہی تھی…
وہ دونوں کچھ پریشان دکھ رہے تھے اسنے بجتے موبائل کو… اپنے کپڑوں کے نیچے دبا دیا… اور باہر نکل ائ موبائل کی آواز گو کہ اب بھی آ رہی تھی مگر صرف اسکے کمرے کی حد تک جب کہ وہ باہر آ چکی تھی..
مجھے نہیں سمھجہ آ رہا چوہدری صاحب نے زری دہی کو کیوں بلایا ہے”ابا پریشان دکھ رہے تھے جبکہ زری یہ بات سن کر خود بھی پریشان ہو گئ.
اسے سمھجہ نہیں ایا… ایسا کیوں ہوا…
اماں خاموش تھیں…
کل صبح ہی بلایا ہے… تم لے جانا… میں کھیتوں پر جاو گا” انھوں نے لمبا سانس کھینچ کر کہا
نہیں ابا مجھے نہیں جانا میرا بھلہ کیا کام ہے” وہ گھبرائ گھبرائی بولی…
زری دہی.. وہ بڑے لوگ ہیں ہمارے گاوں کے چوہدری ہیں.. نہ جانے تم سے کیا کام ہو گا.. چلی جانا اور تمھاری ماں بھی تو ساتھ جاے گی”اسے تسلی دے کر وہ اندر چلے گئے جبکہ….
اماں نے اسکیطرف دیکھا اسکی آنکھیں بھیگ سی گئیں تھیں اسے ڈر لگ رہا تھا ناجانے.. کیا ہو گا….
تبھی اسکی آنکھیں بھیگیں.. اماں چپ چاپ کمرے میں چلیں گئیں جبکہ وہ سولی پر لٹکی دوبارہ کمرے میں ائ… تو فون بج رہا تھا. وہ جانتی تھی فون بس اسی کا آ رہا ہو گا… اور جس طرح فون چیخ رہا تھا.. اسکے غصے کا اندازا ہو رہا تھا….
مگر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اسے یہ فون استعمال نہیں کرنا آتا تھا….
اوپر سے ولی کے بلاوے نے اسکے اوسان خطا کر دیے تھے…
……………
تم اسکو موبائل دے کر آیا بھی ہے یہ نہیں “وہ چیخا غصے سے برا حال تھا عنایت کو اپنی شامت صاف دیکھائ دی…
خان میں انھیں کے ہاتھ میں دے کر آیا ہوں….” اسنے جیسے اسے یقین دلانا چاہا..
جبکہ اسکی بات پوری ہونے سے پہلے… سادام نے اسکے منہ پر تھپڑ کھینچ مارا….
تمھارا کوئ محبوب ہوتا… تو تم یہ الووں والا حرکت نہ کرتا.. اسکو کہاں چلانا آتا ہے.. جاہل ہے ہمارا محبوب بھی” وہ غصے سے بھنا رہا تھا..
عنایت ایک لفظ بھی نہیں بولا وہ اکثر.. اسپر غصہ نکال دیتا تھا….
کچھ دیر ادھر سے ادھر چکر کاٹ کر اسنے پھر عنایت کو دیکھا..
کل وہ حرام خور برات لاے گا” وہ.. موبائل بیڈ پر پھینکتا… بولا..
جی خان”عنایت نے اثبات میں سر ہلایا…
تو تم کوئٹہ سے آتا اسکا گاڑی کو اڑا کر اسکا ٹانگیں توڑ نہیں سکتا یہ یہ کام ہم کو خود اپنے ہاتھوں سے کرنا ہو گا “وہ سختی سے بولا…
خان ہو جائے گا..” عنایت نے سر ہلایا…
ہممم وہ کل صبح جائے گا.. مگر واپس اپنا قدموں پر نہ ائے.. شام تک اے گا یاد رکھنا “اسنے جیسے یاد دہانی کرائی..
ہو جائے گا خان” اسنے پھر یقین دلایا.. تو سادام نے سر ہلایا
اور ایک بار پھر زریش کو فون ملایا کہ شاید وہ اٹھا لے مگر اسے سخت غصہ آ رہا تھا….
وہ لڑکی.. دنیا سے کتنا دور تھی…
یہ بات تو وہ بھول گیا تھا…. کہ اسنے خود ہی اسے دنیا سے دور رکھا ہوا تھا….
………………
دن کا سورج نکلا تو زریش جاے نماز پر سے اٹھی ساری رات اسے نیند نہیں ائ.. اماں نے اسکے کمرے کا دروازہ بجایا….
تو اسکا دل اچھل اٹھا…
وہ جانتی تھی کہ وہ اسے کس لیے بلا رہیں ہیں تبھی وہ اٹھی اور کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا اسکی روئ ہوئ گھبرای ہوئ آنکھیں دیکھ کر انھوں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا….
پریشان کیوں ہوتی ہے میری دہی میں ساتھ ہوں چل…”انھوں نے کہا تو وہ انکا ہاتھ سختی سے تھامتی انکے ساتھ ہو لی کچھ دیر میں ہی وہ حویلی پھنچ گئے وہ پہلی بار حویلی ائ تھی…
بڑی بی بیٹھیں تخت پر اماں نےانکے ہاتھ پر پیار کیا تو انھوں نے سر ہلایا..
اور تسبیح کرتے ہوے آنکھوں کے اشارے سے آنے کی وجہ جاننی چاہی…
وہ جی میری دہی کو. چھوٹے چوہدری صاحب نے بلایا. تھا جی”اسنے کہا.. تو انھوں نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا بھلہ ولی کا کیا کام تھا…. اس چھوکری سے…
انھوں نے سوچا اور بیٹھنے کا کہا اور اندر پیغام بھجوایا وہ توجہ سے اسکی جانب دیکھ رہیں تھیں جو بری طرح گھبرا رہی تھی…
اور کچھ ہی دیر میں اندر سے بلاوا آ گیا…
تم یہیں بیٹھو… چوہدری جی نے صرف لڑکی کو بلایا ہے”نوکرانی بولی تو اسنے اماں کا پلو تھام لیا…
نہیں” وہ رو دینے کو تھی..
اے چل جا… میرے پوتے کو اور بھی کام ہیں “وہ غصے سے بولیں تو.. اماں نے اسے اشارہ کیا اور خود اللہ سے دعا کرنے لگی… کہ سب خیر ہو…
جبکہ زریش خوف زدہ سی اندر ای…
یہ کمرہ ہے چوہدری صاحب کا اندر چلی جا اور احتیاط سے غصے کے تیز ہیں “نوکرانی کہہ کر چلی گئ جبکہ زریش کی ہمت اندر جانے کی نہیں ہو رہی تھی مگر وہ کچھ ہمت کر کے دروزاہ بجا کر اندر ائ تو ولی ڈریسنگ کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا… شیشے میں اسکا عکس دیکھ کر مسکرایا…
او او… تمھارا تو کل سے انتظار تھا…. سناو کیسی جا رہی ہے سادام فضل خان سے عاشقی.. ویسے.. زبردست. کل دیکھ کر اندازا ہو گیا اسکی چوائس کمال ہے “وہ جیسے بول رہا تھا زریش زمین میں گڑتی جا رہی تھی…
ارے رونے کیوں لگی تمھاری جیسی لڑکیوں کے لیے یہ باتیں عام ہی تو ہیں… تمھیں میرے منہ سے اپنی تعریف لگتا ہے پسند نہیں ائ” وہ پرفیوم خود پر چھڑکتا صوفے پر بیٹھ
کر ایک منٹ کو اسنے گھڑی کیطرف دیکھا.
زریش کے انسو اسکی اپنی جوتی پر گیرنے لگے تھے….
ہاہاہا….. چلو ٹھیک ہے. تم اپنی عاشقی برقرار رکھو مگر اب.. اس میں چوہدری ولی کی شمولیت ہو گی اب تم اس کمینے کو میرے لیے الو بناو گی…”
نہیں” اچانک ہی زریش سختی سے بولی یہ ناممکن تھا اور ولی سے زیادہ گھٹیا اسنے کسی کو آج تک نہیں پایا تھا…
اچھا “ولی اپنی جگہ سے اٹھا اور اسکے مقابل آ گیا جبکہ زریش اس سے خوف کھا کر دو قدم دور ہوئ..
اور باہر جانے کے لیے پر تولنے لگی….. جبکہ ولی نے اسکی کلائ پکڑ کر سختی سے موڑ دی….
زیادہ زبان چلائ تو چیونٹی کیطرح مسل دوں گا….
تم اب یہیں رہو گی… سمھجی…. باقی بات تم سے آ کر کروں گا… “وہ اسکو جھٹکتا…. باہر نکل گیا… جبکہ زریش… اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بری طرح رو دی..
یہ سب کیا تھا.. اسنے تو کبھی سوچانہیں تھا…اسکی محبت دو دشمنیوں کے درمیان پیس جائے گی…
وہ یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی اسے.. فورا… سادام سے ملنا تھا. وہ وہاں سے بھاگی. اور اما‍ کے پاس ای جو اسے روتا دیکھ کر پریشان ہوئیں جبکہ.. انکے چہرے پر الگ خوفزدگی تھی…
اماں چلیں. اسنے کہا. تو وہ سر ہلا گئیں جبکہ بڑی بی نے آواز دے کر انھیں روک لیا…
اے چھوکری… تو یہیں رہے گی جب تک ولی نہیں آتا.. “وہ مصروف سی بولیں..
بڑی بی خیریت ولی سرکار”
اب تو پوچھے گی ہم سے… “وہ چیخی تو وہ خاموش ہو گئیں…
اور زریش کا ہاتھ چھوڑا..
اماں نہیں مجھے نہیں رہنا.. اماں آپ مجھے کیوں چھوڑ کر جا رہی ہیں” زریش تو بچوں کیطرح بلک اٹھی…
وہ بے بس ہو گئیں جبکہ چوہدری سکندر نے ایک گھوری سی ڈالی تھی….
اے اتنا ڈرامہ کیوں کر رہی ہے.. کل چلی جائے گی تو اپنے گھر چل جا اب رقیہ کے ساتھ کچن میں اور تو بھی جا سر میں درد کر دیا” وہ نخوت سے بولیں تو… اماں خاموشی سے باہر کی جانب چل دیں جبکہ زریش سسکتی رہی…
سادام اماں ابا…
اور دوسری طرف ولی….
اسکا دل بیٹھنے لگا تھا….
………… ……..
گاڑی تیزی سے ڈرائیو کرتا وہ شام ہونے سے پہلے گھر پہنچ جانا چاہتا تھا.. سادام فضل خان کے دونوں مہرے اسکے ہاتھ میں تھے.. اور وہ اب اپنی انگلیوں پر نچوانا چاہتا تھا.. …. سادام کو…
تبھی.. وہ تیزی سے ڈرائیو کرتا گاوں کیطرف بڑھ رہا تھا کہ… اسکی گاڑی کی بریکیں آوٹ آف کنٹرول ہوئ… اور وہ گاڑی سمبھال نہیں.. سکا.. گاڑی درخت میں جا کر بجی…
اور چوہدری ولی.. کے گرد… رفتہ رفتہ سارا گاوں جما ہونے لگا.. مگر یہ گاوں دشمنوں کا تھا.. جہاں سے وہ… انکی عزت چھین کر بڑی شان سے آج لے کر جانے والا تھا یہ جانے بغیر کے مقابل اسکی روح کھینچ لے گا اپنی کمزوریاں اسکے حوالے نہیں کرے گا…
……………..
خان کام ہو گیا “عنایت نے کہا..
بہت خوب عنایت.. مرنا نہیں چاہیے… زندہ رکھے اسے” وہ سکون سے بولا.. زریش کے پاس جانے کی تیاری کرنے لگا…
جی خان زندہ ہے ٹانگوں پر چوٹیں آئیں ہیں ہسپتال پہنچا دیں “وہ سوال کرنے لگا. سادام نے سرد نظروں سے اسکیطرف دیکھا..
تم زیادہ رحم دل نہ بنے تو بہتر ہے… پہلے یہ بتا وہ نیچ ملا “اسکا سوال اسکی جانب تھا جو اسکے خلاف ساری سازش کر گیا تھا..
جی خان اسکا پتہ مل جائے گا “
تم سست ہو گیا ہے عنایت” وہ دھاڑا..
معافی چاہتا ہوں خان” عنایت سر جھکا گیا…
اسکا مردہ لاش اسکے گاوں میں پھینکوا دے… “اسنے حکم دیا…
جی خان” عنایت سر ہلاتا… چلا گیا جبکہ سادام نے… موبائل پٹخا…
ڈھولا سائیں تم مرے گا ہمارے ہاتھوں سے.. اتنا تڑپاے گا.. تو ہم تمھارا جان نہیں بخشے گا” وہ غصے سے بولا اور برش ڈریسنگ پر پھینک کر وہ کمرے سے نکلا تو.. جاناں راستے میں آ گئ…
سادام اسے اگنور کرتا جانے لگا..
لالا مجھے معاف کر دیں” وہ اسکے قدموں میں بیٹھی.. تو پہلی بار سادام فضل خان کی جان پر بنی تھی..
کھڑا ہو ایک منٹ میں “وہ تیوری بگاڑے بولا.. اور اسکا سسکتا وجود کو.. اپنے بازوں کے حصار میں لیا….
تمھارا شادی اس ولی سے نہیں ہو گا.. گھبراو مت”اسنے اسے تسلی دی..
جانتی ہوں مگر میرا بھائ مجھ سے دور ہو گیا ہے”وہ رو دی.. تو سادام کے لب مسکرا دے.. بلکل ایسے ہی زریش بھی اسکے لیے رو دیتی تھی….
دل اس سے ملنے کو اور مچلنے لگا….
مگر سادام لبوں سے ایک لفظ بھی کہے بنا… اسکے سر پر ہاتھ رکھتا باہر نکل گیا…
جاناں جانتی تھی وہ اپنے اصولوں کے خلاف کبھی نہیں جا سکتا…
………………
آئزہ نے دو دن کمرے میں گزار دیے تھے حویلی میں ایک نئے وجود کا اضافہ ہو چکا تھا…. مگر اسے تو.. اپنی پڑی تھی بخار سے اسکا وجود جھلس چکا تھا…. آج ولی نے دوسرے گاوں برات لے جانی تھی مگر اب تک ولی ہی نہیں آیا تھا اسے اس بات سے فرق نہیں پڑا تھا.. کون سا اسنے جانا تھا اسکی حالت تھی بھی نہیں ایسی… اور نہ ہی حویلی میں کوئ ایسا سواگت ہو رہا تھا..
اماں سے تو وہ بات بھی نہیں کر رہی تھی…
خود ہی کمرے سے نکل کر… وہ کچن میں ائ تو.. پانی کی پیاس سے گلے میں کانٹے اگ اے اسنے پانی پینا چاہا کہ کسی نے نرمی سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچ لیا کہ ائزہ کی چیخ نکل گئ.. جسے شہریار کے ہاتھ کی سخت گرفت نے دبا دیا..
چھوڑیں چھوڑیں “وہ خود کو چھوڑانے لگی…لو اتنی سی قربت پر خود کو آگ میں جھونک لیا..
لگتا ہے تمھیں مزید وقت دینا چاہیے مجھے” وہ ہنسا.
گھٹیا انسان ہیں آپ ” وہ غصے سے بولتی اس سے الگ ہوئ..
اچھا مجھے نہیں پتہ تھا… ویسے یہ بات ابھی ہی پتہ چلی ہے مجھے پہلے تو نہیں تھی” وہ اسے زیچ کر رہا تھا….
آپ کتنے غلیظ ہیں” وہ سسکی… سب کے سامنے شریف ترین انسان شخص اندر سے کیا تھا اسی کی عزت کا لوٹیرہ وہ سوچ ہی رہی تھی کہ
زریش اچانک ہی کچن میں آ گئ..
ائزہ نے اسکی جانب دیکھا…. اس سے پہلے شہریار متوجہ ہوتا.. وہ وہاں سے غائب ہو گئ..
ائزہ کو حیرت ہوئ….
اس لڑکی کو تو پہلے کہیں دیکھا تھا…..
اسنے… “
……………….
جاری ہے
See translation