No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
Episode 7
بڑے بڑے مٹھائ کے ٹوکروں کو ہاد نے حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت گھر میں بس وہ اور فیروز ہی موجود تھے فضل خان اور سادام دونوں ہی گھر میں نہیں تھے جبکہ… ماں سمیت نوکر بھی ان ٹوکروں کو دیکھ رہے تھے…
یہ چوہدری ولی کے گھر سے شگن کی مٹھائ ائ ہے… اور پیغام مہندی کی رسم کا ہے…. “ایک ملازم نے کہا جس کو ولی کا خاص آدمی یہ سامان دے کر پیغام بھی دے گیا تھا…
ہاد نے فیروز… کی شکل دیکھی جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو.. کیا مطلب ہے اس سب بات کا.. جانتا تو تھا ولی کون ہے…
مگر اس کا یہاں شگن کی مٹھائ بھجنے کی کیا توق تھی بھلہ…
فیروز نے خاموشی سے یہ سامان دیکھا… اور بنا ہاد کی آنکھوں کا جواب دیے اسنے سادام کو فون ملایا..
ولی نے شگن کی مٹھائ اور کل مہندی کا پیغام بھیجا ہے “اسنے دو ٹوک بات بتائ. دوسری طرف سے نہ جانے کیا کہا گیا تھا.. اسنے فون بند کر دیا.. اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا….
لالا بتاو گے ہو کیا رہا ہے” ہاد نے بلآخر تنگ آ کر پوچھا…
جاناں اور ولی کی شادی.. تین دن بعد ہے “فیروز نے اسکو.. سکون سے بتایا جبکہ ہاد جو کافی کا گھونٹ بھرنے لگا.. تھا ماتھے پر کئ شکن لائے اسکو دیکھنے لگا…
دماغ تو نہیں پھر گیا لالا تمھارا…. ایسا کیسے ممکن ہے بھلہ جاناں بہن ہے ہماری.. اور اس نیچ ولی سے کیسے کیوں…
سادام لالا نے کیسے مان لیا یہ فیصلہ اور کیا کس نے ہے یہ”وہ غصے سے بولا… تو فیروز کو اسکا یوں چیخنا ناگوار گزرا..
تمھارے بھائی نے مانا ہے یہ فیصلہ اس سے پوچھو” وہ کہہ کر.. اپنے کمرے میں چلا گیا.. جبکہ ہاد.. بے تابی سے سادام کا انتظار کرنے لگا..
اگلے دس منٹ میں وہ ہال میں داخل ہوا.. تو.. اس کی چال میں ہی… غضب تھا.. گویا.. وہ.. خون چھلکانے کو بے تاب تھا… اسنے غصے میں آتے ساتھ ہی ایک ایک چیز. اٹھا اٹھا کر ہال سے باہر پٹخ دی……
اس نیچ کا ملازم بھی یہاں کیسا ایا”وہ دھاڑا…
سارے ملازم سر جھکا گئے..
تم لوگوں کو.. اپنا…. جان پیارا نہیں ہے” اسنے ایک کا گریبان پکڑا.. مگر اب بھی کسی نے اسکے سامنے زبان نہیں کھولی ہاد اور فیروز سمیت.. ماں بھی اسکو دیکھ رہی تھی…
جس کے چہرے پر پسینے کی بوند سی پھوٹی تھی.. جو کے دسمبر.. کے اس سخت ٹھنڈے مہینے میں… بھی نکل ائ تھی…
جب تم حامی بھر چکے ہو.. تو یہ سب کیوں کر رہے ہو “فیروز اسکے غضب کے سامنے آیا جو ملازم کو.. مار ڈالنے کے در پے تھا..
تم چپ رہا کر فیروز خان… ہمکو لگتا ہے تم ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے سمھجا….
تم جھک کر ہماری ناک گیراتا ہے… اپنے قابو میں رہا کر” وہ دھاڑا.. فیروز کا منہ سرخ ہو گیا…
وہ اسی طرح اسکے ساتھ کرتا تھا….
تم جو مرضی کر لو… بات وہیں کی وہیں ہے جاناں کا رشتہ سرپنچ نے.. پکا کیا ہے.. اور اب.. اس پنچائیت میں کیے فیصلے کے خلاف یہ تم بھی جانتے ہو کہ.. کوئ نہیں جا سکتا.. تو گھر میں بدمزگی کے بجائے… ٹھنڈے دماغ سے سوچا کرو “وہ.. اتنی بے عزتی کے بعد بھی نپے تلے لفظوں میں کہہ کر باہر نکل گیا.. جبکہ ہاد… نے اپنے بھائ کو دیکھا.. جس کا بس ہی تو نہیں چل رہا تھا بس.. اب ہاد کو معملہ کچھ کچھ سمھجہ آ چکا تھا…
لالا… ہم جاناں کی شادی اس سے نہیں کریں گے” وہ بولا تو سادام نے اسکیطرف دیکھا…
تو دو ماہ بعد. تمکو بھی یاد آ گیا تمھارا.. بھائ یہ بہن بھی دنیا میں زندہ ہے” وہ اسپر طنز کرتا بولا جو کچھ شرمندہ سا ہو گیا..
جو تمھارا حرکات ہے اسپر توجہ دو…. سمھجا…
کیونکہ جب ہم نے سمھجایا تو تمھارا منہ بھی توڑ سکتا ہے بنا لحاظ کے… ” وہ اسکو لتاڑ گیا….
تو نور کے دل کو راحت سی ملی.. کتنا حقیر رویہ تھا صبح اسکے ساتھ اسکا… بہت اچھا ہوا جو.. سادام نے اسکو ڈانٹا..
سادام فون ملاتا.. پھر سے باہر نکل گیا جبکہ.. ہاد نے… سر جھٹکا وہ جانتا تھا اسکا بھائ اس سے محبت بھی بے پناہ کرتا ہے.. مگر.. اسے شدت سے تب محسوس ہوا جب.. نور کے مسکراتے لب دیکھے اسنے ماتھے پر بل ڈالے ایک نوکرانی اور اتنی جرت…
وہ ترچھی نظر اسپر ڈال کر نکل گیا…..
مگر یہ نور کی قسمت تھی کہ… وہ ہاد کی نظر میں آ گئ تھی یہ جانے بغیر کے وہ کیا چیز تھا…
………………..
اگر آنسوں رکتے تو اسے افسوس ہوتا کہ کیوں روکے ہیں… کیونکہ اسکے حالات ہی ایسے تھے.. اتنی معمولی سی بات… یہ شاید وہ اسے سمھجہ رہی تھی اسکے گلے کا طوق بن گئ تھی…
ایک ایسا انسان جس کے خاندان کے ساتھ انکی دشمنی نہ جانے کب سے تھی… اسے معلوم نہیں تھا… اور اس شخص کے ساتھ اسکی شادی… وہ گھٹنوں میں سر دیے اپنے آپ سے بھی لاپرواہ لگی…
رات کی تاریکی کو… کھڑکی پر اترتی دیکھ رہی تھی….
کہ دروازہ بجا اور وہ اندر ائ.. وہ اسکی ماں تھیں مگر گھر میں اسکا مقام کچھ بھی نہیں تھا…
وہ اسکے پاس ائ… اور اسکے ساتھ بیٹھ گئ…
اسکا ہاتھ پکڑا جاناں نے اسکے ساتھ کبھی بدتمیزی نہیں کی تھی… تبھی وہ خاموش بیٹھی رہی….
آپ میرے لیے کچھ نہیں کر سکتیں “وہ ادھر ہی دیکھے دیکھے بولی….
ہاں تمھاری ماں بے بس ہے” وہ سنجیدگی سے بولی…
بے بس… جاناں نے رخ انکی طرف کیا..
مائیں بیٹیوں کی ڈھال ہوتیں ہیں…. ڈھال… جب انکے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہو تو وہ تن کر کھڑی ہو جاتی ہیں اپنی بیٹیوں کے سامنے اور آپ مجھے کہہ رہیں ہیں کے میں بے بس ہوں.. یہ میں یہ سمھجو کہ کسی طرح تو اپکا ارمان پورا ہو گیا. “وہ تلخ ہوئ انھوں نے اسکیطرف دیکھا…
سب طعنے دیتے ہیں ایک تم اور سہی” وہ مسکرایا اور اسکی پیشانی چوم لی..
جبکہ جاناں تڑپی…
کچھ کریں اماں کچھ کریں…. “وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی…
آپکی بیٹی دشمنی کی نظر ہو رہی ہے… وہ سب جھوٹ ہے جو دیکھایا جا رہا ہے” وہ انھیں یقین دلانے لگی..
لالا میرے ساتھ ظلم نہیں کر سکتے” وہ رو دی جبکہ وہ بی رو رہیں تھیں.. کر ہی کیا سکتیں تھیں وہ. انکی حثیت تھی ہی کیا..
اسے سینے سے لگائے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتی وہ اسے پرسکون کرنا چاہ رہیں تھیں جبکہ ہ بے حد خوفزدہ تھی.. ولی کی اواز اسکا عمل اسکا ظلم… سب یاد. آ رہا تھا….
اور پھر اسپر لگایا الزام…
……………..
مہمان آئے تھے…. جن میں کوئ مرد تو نہیں تھا ہاں عورتیں تھیں.. اور زریش کو پسند بھی کر گئیں تھیں…
جبکہ زریش کمرے میں آ کر بری طرح روئ تھی..
بھلہ محبت ایسی ہوتی ہے… کل کو… کچھ بھی یہاں سے ہوتا.. وہ تو اسکی گردن پکڑتا… اور اسنے ایسا قدم اٹھایا ہی کیوں کیوں وہ اس راہ کی مسافر بن گئ اور اگر نہ بھی بنتی تو وہ اسے زبردستی بنا دیتا اور اب بھی تو زبردستی ہی بنایا تھا…
وہ چارپائ پر بیٹھی… تھی رات اتر چکی تھی.. آنگن اداس ہو گیا تھا….
اماں کو نہ جانے شادی کی اتنی جلدی کیوں تھی… کہ وہ بس ہتھیلی ہر سرسوں جمانا چاہ رہیں تھیں…
وہ ان سے بات کرنا چاہتی تھی کہنا چاہتی تھی وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی مگر سنتا کون…
بے چینی سے وہ یہی سب سوچتی کمبل میں دبق گئ..
کچھ دیر ہی میں اسکی انکھ لگ گئ….
صبح جلدی بھی تو بہت اٹھی تھی اور لباس تبدیل کیے بنا اسے نیند سی آ گئ…
کچھ ہی دیر بعد اپنے چہرے پر جانا پہچانا بے تاب لمس محسوس کیا… تو وہ.. چونک کر اٹھی اور سادام کو خود پر جھکا دیکھ اسکی چیخ نکلتی کہ… سادام نے اسکی اواز اپنی ہتھیلی کے نیچے روک دی..
اسکی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں… جبکہ اسکے وجود سے پرفیوم کی مہک کے ساتھ ناگوار بو بھی تھی.. زریش مچل گئ.. چہرہ ادھر ادھر مار کر… اسنے خود کو اسکی قربت کے سحر سے آزاد کرنا چاہا… مگر سادام نے اسکے تکیے کے دوسری طرف ہاتھ رکھ کر سارے راستے روک دیے…
بن ٹھن کر لوگوں کے سامنے جاتا ہے.. ہمارا محبوب ہو کر.. کسی اور کے لیے تیار ہوتا.. ہے.. تمکو شرم تو چھو کر بھی نہیں گزرا.. نا لائق “لڑکھڑاتے لہجے میں وہ مدھم اواز میں بولا……
زریش نے اپنے ہاتھ کی مدد سے اسکا ہاتھ ہٹایا.. اور.. اسکو دور دھکیلا…
اپ ہوش میں نہیں ہیں.. شراب پی ہے آپ نے” وہ بے یقین ہوئ اب تک اسنے کبھی سادام کو پیتے نہیں دیکھا تھا..
ہاں ہوش میں رہتا تو کیسے آتا.. تمھارے پاس.. ہمارا انا نہیں آنے دیتا… بے ہوش.. ہونا پڑا.. ” وہ چارپائ پر لیٹتا.. بولا جبکہ. زریش اس سے دور ہو گئ..
جائیں آپ یہاں سے “وہ ناراضگی ظاہر کرتی بولی..
اےےےے.. تم زیادہ مت اتراو.. تم ہمارا ہے سمھجا… “وہ مدہوش لہجے میں بولا…. آنکھیں نیم وا تھیں….
صبح تک تو میں کسی اور سے شادی رچا رہی. تھی .. اور آپ نے اجازت بھی دے دی تھی “وہ اسپر طنز کرتی.. بولی.. تو سادام کا مدھر قہقہ ابھرا… جسے اسنے… زرا گھبرا کر سنا..
اماں ابا جاگ جائیں گے”وہ پریشان ہوئ…
ہم گولی سے اڑا دے گا “اسنے ہاتھ کے اشارے سے اسپر گولی چلائ…
زریش کو وہ بلکل اچھا نہیں لگا.. وہ خاموش ہو گئ….
بولو نہ… سائیں…. تمھارا ساتھ صبح.. ایسا بدل کر چین نہیں ایا… پھر تم.. کسی… چھیچھورا کے ساتھ… شادی رچاے… ہم جان نہ نکال دے “وہ برہم ہوا…
بس سب آپ نے ہی کرنا ہے…. آپ کو ہی غصہ آ سکتا ہے… ” وہ سرخ چہرے سے اسے.. دیکھنے لگی..
اتنا پیارا لگ رہا ہے کہ دل کرتا ہے تمھارا ساتھ رومینس.. مارو… مگر.. تم… اف تم “وہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتا… بولا.. تو زریش دو قدم دور ہوئ کیونکہ وہ اپنی جگہ سے اٹھ چکا تھا…
تمکو پیار کرنا ہے…. “وہ نشے میں کچھ زیادہ ہی بہک رہا تھا….
زریش پھر سے اس سے دور ہوئ…
کسی دن اٹھا لے گا تمکو… تڑپتا رہ جائے گا… “وہ ہنسا.. بالوں میں ہاتھ پھیرہ….
ہاں مجھے اٹھا کر شادی کرنا.. اور.. عزت سے کسی اپنی خاندانی سے “وہ غصے سے بولی…
تو سادام نے سر ہلایا….
بلکل درست
. تم کتنا زہین ہے… سائیں… ہم تمھارے صدقے کیسے جائے “وہ اسکے گال پر جھکا تو زریش پیچھے ہٹی…
اپ کو صرف ظلم کرنا آتا ہے”وہ رو دی…
تم روتا ہوا بھی حشر ڈھاتا ہے روتا رہا کر اچھا لگتا ہے… ” وہ ہنسا…
زریش اسکی بے حسی پر… چپ ہو گئ…
دوبارہ آئے گا. ایسے ہی آئے گا.. ہوش میں انا گوارا نہیں کرتا ہمارا عزت….” وہ اسکے بال پکڑتا.. اسے اپنے نزدیک کر گیا…
کہ زریش کا دل… کانپ اٹھا….
سادام اسے بہت نزدیک سے دیکھ رہا تھا…..
ایک ایک نقش کو.. جیسے ازبر کر رہا تھا.. دلوں کے لے ایک دوسے کے سنگ دھڑک اٹھی تھی….
وہ اسکے ماتھے کو.. پورے حق سے چومتا….
اسکا گال تھپتھپا کر باہر نکل گیا.. جبکہ زریش… وہیں تھم گئ….
اسکو.. چوروں کیطرح اپنے گھر کی دیوار پھلانگتے دیکھ رہی تھی…
……………….
وہ گھر سے باہر نکلا… اور کچھ فاصلے پر کھڑی گاڑیوں پر سوار ہوا… تو…. ولی کے ڈیرے کے ملازم نے اسکو حیرت سے دیکھا.. اور اگلے پل وہ ولی کے ڈیرے کیطرف دوڑا تھا…
ایک عام سے کسان.. کے گھر سے… نواب سادام خان کا نکلنا… عجیب تھا.. تبھی وہ ولی کے پاس یہ اطلاع دینے کو دوڑا…
کیوں دوڑے آ رہے ہو “ولی نے تیور بگاڑ کر دیکھا.. وہ حویلی لوٹ رہا تھا رات کافی ہو چکی تھی..
چوہدری صاحب نواب سادام فضل خان..
وہ وہ جی ہمارے گاوں میں” اسکی پھولتی سانسوں پر…
وہ زیچ ہوا نیند بھک سے اڑ گئ….
کیا مطلب ہے اسکا یہاں کیا کام “اسنے ملازم کو دیکھا….
وہ جی.. شکیل جو کسان ہے اسکے گھر سے نکلے تھے جی وہ “وہ بولا.. تو ولی کے ماتھے پر بل ڈلے….
اور اسنے اپنے خاص ملازم کو دیکھا..
جی چوہدری صاحب میں پتہ کراتا ہوں “وہ اسکی نگاہ کا مطلب سمھجہ گیا تھا…
ولی نے بھی سر ہلا دیا….
یہ کیا معملہ تھا یہ کوئ نئ چال.. وہ سمھجا نہیں
………………
کل صبح نکلنا ہے یہاں سے… تیاری کر لو” اسنے اپنی ماں کیطرف دیکھا..
اپ میرا گلہ دبا دیں خدا کے لیے ایک بار ہی تاکہ میں اس صولی سے اتر جاو… اب تو شہریار بھی.. پیچھلے تین دنوں سے گھر نہیں اتےا ب بھی اپکو تسلی نہیں ہو رہی.” وہ بلاخر بول اٹھی
..زبان بند کر اپنی
وہ آتا ہے یہ نہیں مجھے فرق نہیں پڑتا مگرا ب تک اسنے کاغزات پر دستخط نہیں کیے وہ ایسے ہی جان نہیں چھوڑے گا کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا” انھوں نے فکر مندی سے کہا.. جبکہ وہ انھیں بس دیکھ کر رہ گئ..
دروازے کو اچھے سے بند کر لے.. صبح شہر کے لیے نکلنا ہے تجھے راحت کے گھر چھوڑوں گی میرا دل نہیں مان رہا بس کہ تو یہاں رہے” وہ اپنی ہی بولتیں باہر نکل گئ.. جبکہ ائزہ نے. اپنے آنسوں صاف کیے..
محبت اسے ہر روز ایک ہی بات کہتی تھی ڈوب مر ائزہ یہ محبت کا بھرم تھا….
کہ کاغزات پر دستخط کر دیے….
وہ دروازہ بند کرتی. بستر میں لیٹ گئ بخار کی حدت سے چہرہ تپ اٹھا تھا….
کروٹیں بدل بدل تھک گئ تھی مگر نیند نہیں آ رہی تھی..
وہ ابھی اٹھتی کہ.. کھڑکی کے پٹ سے.. کوئ اند داخل ہوا..
ائزہ ایکدم اٹھ بیٹھی….
شہریار”اسنے حیرت سے دیکھا… ایک پل کو دنگ رہ گئ.. کیونکہ وہ کھڑکی کے پٹ بند کر رہا تھا…
اسکے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی جبکہ ہاتھ میں وہی کاغز…
سکون سے وہ اسکے نزدیک آ گیا…
ائزہ کو اپنے حلیے کا احساس ہوا.. نائٹی… میں اس سے پہلے وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں ائ تھی…
وہ کمبل سےا پنے وجود کو چھپانے لگی….
………………….
جاری ہے
