Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
ڈھونگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 18
زریش حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی کتنی آرام سے وہ نکاح کی بات کر رہا تھا..
نواب جی” اسنے گویا پوری چاہت سے پکارا تھا…
آپ ایسا مت کریں “اسکی آنکھیں نم ہوئیں…
زریش سائیں یا تو ہم تمھیں مار دے گا… نہیں تو اپنا کر کے مارے گا.. دونوں صورتوں میں سے ایک کام تو ہو گا…. تو تم خود سوچ لے ہم کھڑا ہے ادھر “اسنے اسکا ہاتھ چھوڑا…
زریش نے پلکیں گیرہ لیں…
ضد سوار تھی اسپر مگر وہ کیسے کر لیتی نکاح…. اسے نہیں سمھجہ آ رہا تھا…..
اور وہ یہ بھی جانتی تھی وہ یہاں سے ایسے نہیں جائے گا..
کچھ دیر سادام اسکے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھتارہا.. اور پھر.. اسنے… بریڈز پر ہاتھ مارا…
اج بھی بھاری شال اور سیاہ لباس میں وہ غضب ناک لگ رہا تھا….
ایسا کرتا ہے تمھارے ماں باپ کو بھی اٹھا لیتا ہے… گواہوں میں شامل ہو جائے گا… عنایت بادشاہ”
وہ زرا اونچا بولا تو زریش نے جلدی سے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا…
اپ کیا کر رہیں ہی نواب جی چھوٹے چوہدری کو پتہ چل گیا تو” وہ خوف زدہ تھی… سادام کو بری طرح غصہ آیا… اسکی بانہوں میں اسکی پناہو میں وہ چھوٹے چوہدری سے ڈر رہی تھی جو اپنی زرا سی چلاکی کو جیت سمھجا بیٹھا تھا….
مگر اسوقت اسنے اسکو کچھ کہنا مناسب نہیں سمھجا……
اور اسے یوں ہی.. اٹھا کر کندھے پر ڈال لیا…
زریش بے بس سی رہ گئ.. اگے کنواں پیچھے کھائ تھی..
وہ چیخ نہیں سکتی تھی مگر اسکی سسکیاں سنائ دے رہیں تھیں…
اور اسنے سادام کی پشت پر اپنے نازک ہاتھوں کے وار بھی نرالے کیے تھے جس سے اسے تو کوئ فرق نہیں پڑا..
گاڑی میں اسے پٹخ کر وہ اپنے ڈیرے کی جانب چل دیا….
اب یہ کوئ نہیں جانتا تھا کہ زریش دوبارہ یہاں آتی یہ نہیں…..
…………….
نیند میں کسی کی سسکیوں کی اواز سنائ دے رہی تھی..
اسنے اچانک ہی اپنے دائیں طرف ہاتھ مارا بیڈ خالی تھا…
جبکہ مقابل میں اتنی جرت ہرگیز نہیں تھی کہ وہ اس کمرے سے باہر نکلتی…
تبھی اسنے آنکھیں کھولیں اور دیکھا وہ واقعی وہاں نہیں تھی…
اسنے گھڑی کی جانب دیکھا 3 بج رہے تھے…
پھر نظر واشروم کے آدھے کھلے دروازے پر گئ…
تو پہلی بار اتنے عرصے میں وہ اسکا نام پکار گیا..
جاناں”عجیب سا لگا.. مگر اسکا نام یہ ہی تھا…
سسکیاں رک گئیں ولی کے لبوں پر مسکراہٹ سی بکھر گئ…
کیونکہ وہ جانتا تھا مقابل اب خوف سے لرز رہی ہو گی.. وہ اپنی جگہ سے اٹھا… جان بوجھ کر شرٹ کے دو اوپری بٹن کھولے… اور واشروم کا دروازہ کھولا اس سے پہلے اسے دوبارہ جاناں پر روب جمانے کا موقع ملتا کہ اسکا بازو دیکھ کر.. وہ ایکدم جھکا…
یہ کیا کیا ہے تم نے”وہ بھڑکا…
اسکا ہاتھ کہنی تک بری طرح چھل چکا تھا اور اسپر سے اب خون رس رہا تھا.. جبکہ جاناں اسکی تھوڑی سی توجہ پاتے ہی بری طرح بکھر گئ…
اسکا شدت سے اپنے لالا کے پاس جانے کا دل کر رہا تھا وہ چیخ چیخ کراسے بتانا چاہتی تھی وہ اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مگر کہنے کی جرت نہیں تھی…
وہ مہربان ہو رہا تھا یہ مزاج ٹھیک تھے وہ نہیں جانتی تھی مگر اسکے رونے پر ولی نے اسکے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھنسا کر اپنے سینے سے لگا لیا…
تمھیں چوٹ کھانے کا شوق ہے مجھے لگ رہا ہے”عجیب فکر کا انداز تھا.. وہ اسکے سینے سے ہی لگی سسکتی رہی..
م… مج. مجھے درد ہو.. ہو رہا ہے” منہ نکلاے بنابتاگئ دیکھنے کی اسکو ہمت نہیں تھی کب پل میں بدل کر وہ اسپر قہر ڈھا دے اسے پتہ. کہاں تھا…
ہونا ہی ہے لگی کیسے ہے”اسکی معصومیت سے بولے گئے فکرے ولی کا دماغ جھنجھٹا گئے…. اکثر اسکا اسطرح بولنا اسکو اسکیطرف مائل کرتا تھا….
ہاں جب وہ اپنے بھائ کا ذکر نہ کرے.. اور صرف اسکی ہو کر رہے… اور اسکا بھائ بھی سب معملات سے دور رہے
.
مگر اسکا قیمتی گھوڑا غائب کروا کر… اسنے اسکے اشتعال کو ہوا دی جس کا شکار اسی کی بہن ہوئ ویسے کون سا وہ اسکے ساتھ کچھ اچھا کروا رہا تھا….
جھک کر اسکو اپنے بازو میں بھرتے ہوئے اسنے ایک پل کو بھی نہیں سوچا کہ یہ وہی لڑکی ہے… اسکے دشمن کی بہن.. اسکے باپ کے قاتلوں کی بیٹی…..
اس وقت وہ ولی کی تھی.. اسکی پناہوں میں تھی اسکے سینے میں چہرہ چھپائے وہ اسکے جزبوں کو سلگا رہی تھی..
اسکے چہرے کی نرماہٹ ولی کا دماغ ہر بات سے ہٹا چکی تھی…
وقت تھا…. حق تھا…. اختیار تھا.. اور وہ نازک کومل سی جان… اسکے اگے کچھ بھی نہیں تھی…
ولی نے اسکو بیڈ پر بیٹھایا… جبکہ جاناں اپنی بے اختیاری پر جھجھک کر اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی.. مگر اپنے پاوں پر خود ہی کلہاڑی مارنا اسکی عادت سی تھی…
ولی نے اسکی کلائ پکڑی..
کیسے لگی “اسکے زخم ہر اپنے لب رکھتا… وہ اسکی آنکھوں میں اترتے اپنے عکس کو دیکھنے لگا….
وہ جانتا تھا یہ وہ لڑکی تھی جس کی آنکھوں میں اس سے پہلے کسی غیر مرد کا عکس نہیں اترا ہو گا… اور وہ محرم بن کر اسکی آنکھوں میں خود کو دیکھ سکتا تھا..
م… میں ب… باتھ ڈب میں پھ.. پھسل گئ… پا.. پانی تو نہیں تھا. مگر. مگر میرے ہاتھ پر لگ گئ”وہ مسکتی ہوئ بچوں کی سی معصومیت لیے اسے بتانے لگی…
جس پر ولی نے اسکی آنکھوں پر بھی پیار کیا….
تمھیں شوق ہے رونے کا” وہ پہلی بار اس سے انسانوں کیطرح بات کر رہا تھا…..
جاناں خود پر جھکا اسے دیکھ رہی تھی… سانسیں بھی بھاری ہو رہیں تھیں جبکہ… پلکیں اب اٹھنے سے قاصر تھی
ادھر میری طرف دیکھو” اسنے اسکا چہرہ اونچا کیا…
جاناں نے اسکیطرف دیکھا..
ہممم اب بتاو “وہ پھر سوال کرنے لگا…
نہ.. نہیں “جاناں نے نفی کی…
پھر ہر وقت رونا مزاہ دیتا ہے” سنجیدگی سے.. وہ اسکے مزید قریب آیا.. نگاہ… اسکے ایک ایک نقش کو جزب کے عالم میں دیکھ رہی تھی..
اپ.. اپ لوگ م. مارتے ہیں..” وہ حقیقت بتا گئ…
ولی نے نگاہ ترچھی کر کے… اسکی صورت دیکھی…
تو تمھیں مار سے ڈر لگتا ہے”اچانک اسکو… اپنی جانب کھینچ کر….. وہ اسکی گرتی اٹھتی پلکوں کے رقص کو اپنے لبوں سے دبا گیا..
جاناں نے اسکی شرٹ مٹھیوں میں جکڑ لی.. ولی کے جزبات مزید شور مچا گئے
جبکہ اثبات میں سر ہلانا نہیں بولی…
ٹھیک ہے چلو کچھ شرائط ہیں وہ پوری کرتی رہو گی تمھیں یہاں کوئ کچھ نہیں کہے گا”.. وہ بولا…. جاناں نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اسکی یہ عجلت ولی کے لبوں کے کنارے کو مسکرانے پر مجبور کر گئ…
ک
.. کیا” وہ بولی
تم روز.. میری قربت میں رہو گی…. پہلی شرط…
میرے آنے سے پہلے نہیں سو گی… اور جب میں او گا… تو میرے لیے تیار ہو کر میرا انتظار کرو گی… روز یاد رکھنا روز.. جس دن یہ نہیں ہوا اگلے دن کی کوئ گرنٹی میرے پاس نہیں ہے….
دوسری تم اس حویلی میں اپنے نیچ بھائ اور باپ کا نام بھی نہیں لو گی تمھاری آنکھوں میں بھی انکی یاد ہوئ… تو میں اپنے رویے کا خود ذمہدار نہیں…
تیسری.. تمھیں مجھ سے پیار کرنا ہو گا “اسکے گالوں پر اپنا جان لیوا لمس چھوڑتا وہ اسے شرائط بتا رہا تھا…
تینوں ہی شرطیں پوری کرنے کی طاقت وہ خود میں نہیں پاتی تھی…..
وہ سر جھکا گی
..نہیں منظور” ولی کچھ دور کھسکتے پوچھنے لگا… جبکہ اچانک اسکے بازوں کی گرفت سخت ہوی گویا جاناں کو یہ سب ماننا تھا ہر حال میں
.م…منظور ہے” وہ بولی… ولی مسکرا دیا.. جاناں نے اسکے گال پر پڑتا ڈیمپل حیرت سے دیکھا ولی بھی اسکی آنکھوں کا تعاقب دیکھ رہا تھا جو اسکے ڈیمپل کو ہی دیکھ رہی تھی…
لالا یہ ڈیمپل کیسے آتا ہے” اسنے سادام کےساتھ دھپ سے بیٹھتے سوال کیا…. سادام جو زمینوں کے خاطے دیکھ رہا تھا توجہ نہ دے سکا جبکہ ہاد نے اپنی خدمات پیش کی..
میں بتاتا ہوں.. تمھیں چاہیے” اسنے کافی کا مگ رکھتے پوچھا..
جی لالا مجھے چاہیے تبھی تو پوچھا ہے”اسنے سر پر ہاتھ مارا..
قاسم حولی میں ڈریل مشین ہے.. زرا لا دو بی بی کی خواہش پوری کر دوں “وہ سکون سے بولا جبکہ سادام اچانک ہی ہنس پڑا اور جاناں کا منہ بنا…
اپ کے نہ کھڈے ڈال دوں میں ڈریل مشین”وہ نقل اتارتی چیڑ کر بولی جبکہ سادام نے اسے بازوں میں لیا…
دیکھو لڑکی… اب یہ ڈیمپل تو نہیں البتہ تمھیں پیمپل آ سکتا ہے” سادام اور ہاد دونوں کے قہقہے گونجے.. وہیں فضل خان بھی آ گئے اپنے بچوں کو چاہت سے دیکھنے لگے..
لالا”جاناں صدمے سے چیخی..
جاناں سائیں وہ تمھارا لیے مرغا پکڑے گا نہ تمھارا شوہر اسکا ڈیمپل. والا تلاش کرے گا ٹھیک… اب تمکو ڈیمپل تمھارے گال پر نہیں دے سکتا”سادام کی بات پر وہ پاوں پٹختی چلی گئ جبکہ وہ تینوں ہنس دیے..
ولی خاموشی سے اسکی انگلیوں کا لمس اپنے گال پر محسوس کر رہا تھا….
دل تھا کہ پل میں ساری حدود پار کر دے..
اچانک جیسے وہ دور ہوئ..
اپنی غلطی پر شرمندہ ریکھائ دینے لگی..
مگر ولی نے اسی تیزی سے اسے قریب کھینچا… اور اسکی بھاری سانسوں کو.. شدت سے جزب کر لیا…
جاناں اس شدت کو کہاں برداشت کر سکتی تھی…
اسکا سانس رکنے لگا.. کمرے میں دبی دبی آواز سی ابھری مگر ولی اپنا عمل جاری رکھے ہوے تھا…
یہاں تک کہ جاناں نے اسے دور کرنے کے لیے اسپر مکے برسا دیے..
وہ اپنی مرضی سی دور ہوتا اب اسکی گردن پر وار کر رہا تھا… جبکہ اس آسنا میں اپنی شرٹ اتار کر دور اچھال دی.
جاناں ہلکان سی ہو گئ..
رونے لگی.. مگر ولی کو اب کوئ نہیں روک سکتا تھا.. وہ اسکی بیوی تھی اور اسکی شرائط منظور کر چکی تھی…
ولی نے بیڈ سے نیچے لٹکتا.. جاناں کا دوپٹہ اٹھایا اور اسکی آنکھوں پر باندھ دیا..
جاناں کی جان ہی اٹک گئ.. جبکہ اسی دوپٹے سی معمولی سے مزاہمت کرتے… ہاتھ بھی باندھ کر وہ پوری طرح اسکو اپنی دسترس میں لے گیا..
مجھے نہیں معلوم تھا تم اتنی جلدی میرے زہن پر سوار ہو جاو گی”وہ سرگوشی نمااواز میں بولتا سائیڈ لیمپ بھی بھجا گیا.
……. .. …
ڈیرے پر اسکے ملازم اسکا دوست.. اور سب تھے وہ سہم سی گئ.. اور بھاگنے کی کوشش کرنے لگی..
نواب جی چھوڑ دیں مجھے.. مج.. مجھے چھوڑیں” وہ احتجاج کرتی اپنی کلائ کو اسکی گرفت سے نکالنے لگی…
مگر سادام نے چھوڑنے کے لیے اسے گھر سے نہیں اٹھایا تھا…
تم زیادہ تردود کرے گا ہم نکاح کی زہمت بھی نہیں کرے گا…” وہ سکون سے بولا زریش اسکی بات پر حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی..
جبکہ سادام طوفان کے خاموش ہوتے ہی دوپٹہ اسکے سر پر پھیلا کر… مولوی کے سامنے لے ایا..
بیٹا لڑکی کی مرضی کے بنا شادی” وہ رکا شہاب نے بندوق اسکی کنپٹی پر رکھی..
مولوی.. ہمارا ہے یہ…. اور اسکا مرضی نہیں نا ممکن ہے یہ تم نکاح پڑھا.. زیادہ ابو نہ بن” وہ بولا تو مولوی صاحب نے نکاح شروع کیا..
قبول عجاب کے مراحل پہلے سادام نے طے کیے جبکہ زریش نے بھی روتے ہوے.. اسکی دسترس میں ہمیشہ کے لیے خود کو دے دیا..
سادام خوش دیکھائ دینے لگا.. جبکہ زریش کو وہاں موجود اکلوتی ملازمہ یعنی شمائلہ کے حوالے کر کے وہ باقی سب کیطرف مڑا شہاب نے زور سے اسے گلے سے لگایا..
یار تو تو ہے “وہ ہنسا کیونکہ وہ لڑکی نکال لایا تھا جبکہ وہ دو بھی مل کر جاناں کو نہیں لا سکے تھے…
سادام نے سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلایا..
خوش ہے” شہاب نے پھر پوچھا..
یہ جاننا چاہ رہا ہے کہ ولی کا بربادی کا ابتداء ہو چکا ہے تو ہاں خوش ہے…. “اسنے سگار سلگایا…
اور وہ لڑکی… “شہاب کچھ کنفیوز سا ہو ا..
وہ تو تھا ہی ہمارا.. اپنا چیز بس ہم اپنا ٹھکانے پر لایا ہے… ” اسنے لاپرواہی سے کہا.. تو شہاب نے داد دی..
واہ تیرے ٹور” وہ ہنسا.. سادام نے ضرورت محسوس نہیں کی…
ویسے وہ خط… “اسے کچھ یاد آیا…
بیٹے محبوب بناے گا تب محبوب کے انگ انگ سے واقف ہو گا نہ…
ہمارا محبوب زرا جاہل سا ہے….
لکھتا بھی مشکل سے ہے….. اور روتا زیادہ ہے… کاغز کو غور سے دیکھتا تو… شاید کھنپڑی چلا پاتا” اسنے سگار ایش ٹرے میں بھجائ اور اسے باہر کا راستہ دیکھایا جبکہ شہاب یہ سائنس سمھجنے کو بے تاب… سادام کے باہر والے کمرے کو دوڑا… وہاں اب بھی اس خط کے ٹکڑے پڑے تھے…
اسنے وہ جوڑے عنایت بھی اسکے پیچھے آ گیا..
اپ ٹھیک ہیں” اسنے پوچھا
یار “شہاب نے کاغز پر آنسوں کے دھبے دیکھ کر سر تھام لیا..
عنایت بھی اب بات سمھجہ گیا تھا…
دونوں بس ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر رہ گئے..
صاف واضح تھا یہ خط زبردستی لکھوایا گیا تھا…
…………….
وہ کمرے میں ایا… زریش بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی…
سادام نے آئینے کے سامنے خود کو دیکھا…
زری سائیں زرا قریب او “اسنے چاہت سے پکارا.. نظر آئینے پر ہی ٹکی تھی…
زریش نے منہ موڑ لیا…
مجھے گھر جانا ہے” وہ دو ٹوک بولی..
اتنا اتراتا کیوں ہے”وہ مڑ کر اسکو دیکھنے لگا.. گھیری نظروں سے….
زریش نے اپنا دوپٹہ درست کیا…
تمکو کیا لگتا ہے.. ہم تمکو اب کیا کرے گا” وہ اسکے پاس بیٹھا…
نواب جی” زریش زرا غصے میں ائ اور سادام نے اسکا ناک کھینچ لیا…
بہت زور سے کہ اسکی نوز پن اسے ہی چبھی..
ہمارا سامنے اواز اتنا رکھے گا جتنارکھتا ہے یہ دو دن اسکا ساتھ رہ کر ہم پر شیرنی بنے گا تو شکار ہمکو ظالم کرنا آتا ہے جبکہ تمھارا صحت اور عمر ابھی ہمارا دام میں پھنسنے کا نہیں “وہ اسے باور کراتا بولا..
جبکہ اسکی بات پر زریش سرخ ہو گئ…
اماں ابا کو پتہ چل جائے گا.” اسے پریشانی ہوئ…
اور چھوٹے چوہدری… “
اسکی اواز دب گئ… بندوق اسکی گردن پر رقص کرنے لگی..
دشمن کا سامنے محبوب کچھ نہیں… سمھجتا ہے نہ ہمکو…. پھر بھی بار بار بولتا ہے”وہ گن لوڈ کرتا پیار سے سمجھانے لگا.. جبکہ زریش کی سانس حلق میں ہی کہیں گم ہو گئ…..
بندوق اسکی گردن پر رقص کرتی سفر طے کر رہی تھی.. زریش.. ہربڑا کر اٹھی..
سادام جبکہ وہیں لیٹ کر اسکو دیکھنے لگا…
تم جانتا ہے تم ہمیں کتنا…. Ho”
نواب جی”وہ حیرانگی سے اسکی بے باک گفتگو پر اسے دیکھنے لگی….
نواب جی کا جان.. زرا.. نواب جی کا خدمت کے لیے نزدیک تو او” وہ لبوں میں مسکراہٹ دباے اسے زیچ کر رہا تھا.. جانتا تھا آنے والے کل میں اسکے لیے کئ انسو ہوں گے تو کیوں ابھی اسکی انکھ کو سکون دے….
……….
جاری ہے
