Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 27
اسکی آنکھ کھلی تو خود کو ہر قسم کے شکنجے سے آزاد پایا ۔۔۔۔
اسے حیرت ہوئ وہ اب بھی اسی کمرے میں تھی ۔۔۔۔ مگر اب فرق صرف اتنا آیا تھا کہ کمرے میں وہ ہیبت ناک سرخ روشنی کے بجائے ۔۔ اب نائٹ بلب اون تھا ۔۔ وہ اٹھی ۔۔۔۔ اور جلدی سے سوئچ ڈھونڈ کر کمرے کو روشن کر دیا ۔۔۔ تو اسے اندازا ہوا یہ کسی ہوٹل کا روم تھا ۔۔۔۔
جس میں بلکنی بھی تھی اور ہر ممکن جگہ تھی جہاں سے وہ بآسانی بھاگ سکے ۔۔۔۔ وہ دوڑ کر بلکنی تک آئ ۔۔۔ تو اسے اندازا ہوا دن نکلا ہوا تھا صبح کا سورج دیکھ کر اسکی آنکھیں چندھیا گئ اور وہ وہیں بیٹھی رو دی ۔۔۔۔
کتنی بڑی نعمت لگا تھا دن کا اجالا اسے مگر اسکے سارے رنگ تو چھین گئے تھے ۔۔۔۔
اسنے کچھ ہی دیر بعد ہمت نہ ہارتے ہوئے ۔۔۔ بلکنی سے نیچے دیکھا ۔۔ تو اتنا ٹریفک دیکھ کر پریشانی سے پیچھے ہٹی انکے گاؤں میں تو بس ایک دو موٹر سائیکل ہی چلتی نظر آتی یہ حویلی والوں کی شاندار گاڑیاں اور کچے پکے راستے ۔۔۔۔۔
مگر یہاں تو جیسے ایک طوفان آیا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو کچل کر آگے نکل جانا چاہتے تھے ۔۔ اور یہی تو زندگی ہے ۔۔۔۔
وہ پیچھے ہٹی اور پیچھے پیچھے چلنے لگی کہ اسکو جانی پہچانی مردانی خوشبو اپنے چار سو پھیلتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔ اسنے پلٹ کر نہیں دیکھا جبکہ وہ خوشبو اب اسکے کافی نزدیک آ گئ تھی ۔۔۔
ن۔۔۔نہی نہیں”وہ صدمے سے اپنا دل تھام گئ ۔۔۔۔۔ حلق خشک پڑ گیا
نہیں نہیں “وہ پاگلوں کیطرح چیخی ۔۔جبکہ مڑ کر اسکو دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئ ۔۔۔۔۔
مقابل خاموش کھڑا رہا اسنے اسکے سامنے جانے کی یہ اسکا رخ اپنی طرف موڑنے کی کوشش کے بجائے سگار سلگا کر لبوں میں دبا لی ۔۔۔۔۔
سگار کا دھواں پھیلنے لگا ۔۔۔ شان بے نیازی سی تھی ۔۔۔
جبکہ زریش کی سسکیاں اس یقین پر کے پیچھے سادام فضل خان کھڑا ہے اب ختم ہونی شروع ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔ اور پھر وہ ہوا جو شاید ہی سادام فضل خان کے وہم و گماں میں بھی تھا ۔۔۔
وہ جھٹکے سے مڑی اور اسکے منہ پر اپنے وجود کی پوری طاقت لگا ۔۔۔ کر تھپڑ مار گئ ۔۔۔۔
اور یہ سات ماہ بعد زریش کیطرف سے دیا جانے والا سادام فضل خان کے لیے تحفہ تھا ۔۔۔۔۔
ایک پل کے لیے تو وہ حیران رہ گیا ۔۔ کہ اگر زندگی میں پہلی بار اسکا گریبان کسی نے پکڑا تو اسکی پہلی عاشقی یعنی اسکا باپ ۔۔ اور اگر اسکے منہ پر تھپڑ کسی نے مارا تو اسکی محبوبہ یعنی زریش تھی ۔۔۔۔۔
میں یہ کیسے بھول گئ کہ ۔۔ آپ اپنی سطح سے کتنا گیر چکے ہیں”وہ دھاڑی تھی ۔۔۔ چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔ گردن کی رگیں پھول گئیں جبکہ اس گردن پر سادام کے دیے تحفے بھی آب و تاب سے چمک رہے تھے ۔۔۔۔
سادام نے گھیری سانس کھینچی ۔۔۔۔۔۔ اور دو قدم اس سے دور ہوا مگر زریش جیسے مارنے مر جانے پر تلی ہوئی تھی وہ دو قدم اور اسکے نزدیک ہوئ ۔۔۔۔۔
مجھے رسوا کر دیا ۔۔۔۔ میری آبرو چھین لی مجھ سے ۔۔۔۔ میری عزت کی دھجیاں بکھیر دی سادام فضل خان ۔۔۔ تم کس قدر گھٹیا انسان ہو “وہ اسکا گریبان پکڑتی چلائ ۔۔۔۔ جبکہ لفظوں کے وار ایسے تھے کہ ڈھونڈے سے بھی ۔۔۔ اسے وہ زریش نہ ملے جو سادام کی بات پر سر جھکا دے ۔۔۔
اسنے دو قدم پھر پیچھے لیے اور وہی گھیرا سانس بھرا ۔۔۔
بولتے کیوں نہیں اب۔ ۔۔ کتنی آرام سے میرے وجود پر اپنی فتح کا جشن منا کر ۔ میرے سامنے آ کھڑے ہوئے مجھے عزیت دے کر ۔۔۔۔ مجھے تار تار کر کے۔ “
چپ “سادام سے مزید برداشت نہ ہوا تو آنکھیں نکلتا اب دو قدم اسکی جانب بڑھا ۔۔ جبکہ زریش کی بس اتنے میں ہی پھونک سرک گئ تھی وہ دو قدم دور ہوئ ۔۔۔۔۔
جبکہ سادام بنا روکے اسکیطرف بڑھتا ۔۔ چلا گیا ۔۔ یہاں تک کے پشت پر دیوار نے زریش کے قدم روک لیے ۔۔ اور سادام زریش کے وجود کے آگے ۔۔۔۔ کھڑا اسکے تمام رستوں کو بند کر گیا ۔۔۔۔۔
دور ہٹیں “زریش اندر کی گھبراہٹ چھپاتی ۔۔۔ غصے سے بولی ۔۔ اس انسان کی شکل وہ اب زندگی میں کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
کوئ خاص وجہ ہے تمھارا پاس “وہی لب و لہجہ ۔۔۔۔ وہی خوشبو ۔۔۔ تو وہ پہلے کیوں نہیں پہچان سکی ۔۔۔۔
ہاں ہے ۔۔۔ آپ نے میری عزت لوٹی ہے ۔۔۔ آپ نے ۔۔۔ آپ “وہ بری طرح روئ سادام نےا سکے آنسو صاف کرنے کا کشت بلکل نہیں اٹھایا اسے ایسے ہی ۔۔۔ دیکھتا رہا ۔۔۔
ہم تمھارا عزت لوٹا ہے ۔۔۔ اچھا ۔۔”وہ ہنسا ۔۔۔
ہمیں لگا تم ہمارا بیوی ہے ۔۔۔ “سکون سے اس سے دور ہوتا ۔۔ اسکی حالت سے محظوظ ہوتا ۔۔۔۔ وہ اسے مزید دلی صدمے سے دو چار کر گیا تھا ۔۔۔۔
کون سی بیوی ۔۔۔۔ کیسی بیوی ۔۔۔۔ “
وہی بیوی ۔۔جس نے ۔۔ اپنا ماں باپ سے چھپ چھپا کر بس صادام فضل خان کا ایک حکم پر اس۔ سے شادی کیا تھا ۔۔۔۔۔
وہی بیوی ۔۔۔ جس نے ۔۔ بھرا گاؤں میں اپنا شوہر پر الزام رکھا تھا ۔۔۔
بنا جانے۔ ۔۔ کہ اصل ہوا کیا تھا ۔۔۔ “وہ بیڈ پر نیم دراز سا لیٹتا کافی پرسکون لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ جبکہ اب ڈرائے فروٹ بھی سامنے رکھے وہ آرام سے کھانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
زریش کے لیے یہ سب کسی شاکڈ سے کم نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
تو مجھے بے آبرو کر کے میری عزت کی دھجیاں اڑا کر ۔۔ مجھے اذیت دے کر آپ نے مجھ سے بدلہ لیا ۔۔۔۔”وہ کانچ کا واس اٹھا کر زمین پر مارتی بولی ۔۔۔
سادام اسکے رنگ ڈھنگ سے کافی ایمپریس سا نظر آیا ۔۔۔۔
مگر بولے بنا اسکی جانب دیکھتے وہ بادام کھاتا رہا ۔۔۔۔
میں نے کوئ الزام نہیں لگایا ۔۔ آپ نے میرے ماں باپ کو مارا ہے ۔۔ جانتی ہوں میں کتنے بے حس ہیں آپ “وہ اس واس سے ہی اسکا خون کر دینا چاہتی تھی کاش اس میں اتنی ہمت ہوتی ۔۔۔۔
سادام نے مسکرا کر اسکیطرف دیکھا ۔۔
تمھارا وجود بتاتا ہے تم تھکا تھکا ہے آرام کرے گا ۔۔۔ آ جاو پھر” وہ آنکھوں سے معنی خیز اشارہ کرتے اسے اپنے پاس بلا رہا تھا ۔۔۔۔
زریش کو وہ واقعی بے حس لگا۔ ۔۔ اسنے اسکے ساتھ کتنا بڑا ظلم کیا تھا مگر فرق بھی نہیں پڑ رہا تھا کہ اسنے کچھ غلط کیا ہے کسی قسم کی کوئ شرمندگی نہیں تھی ۔۔۔۔ کوئ ندامت نہیں تھی
تم عورتوں کا عجب مسلہ ہے خود کو کوئ چیز سمجھتا ہے جبکہ ۔۔۔ تم ہے کچھ نہیں زریش سادام خان۔ ۔۔۔ ہمارا بنا ۔۔۔۔
اب تم صرف ہمارا ہے ۔۔ خود کو غور سے دیکھتا تو اندازا ہوتا ۔۔۔۔
تم پر ہمارا رنگ چڑھ گیا ہے ۔۔۔ تمھارا اتنا ایکشن مووی کیطرح رخصتی کیا ۔۔۔ پھر بھی بیٹھا روتا ہے ۔۔ عجیب ہے”وہ اٹھ کر ہاتھ جھاڑتا اسکے نزدیک آیا ۔۔۔
اگر آپ میرے قریب آئے میں اس کانچ سے اپنی گردن کاٹ لوں گی “وہ چیخی ۔۔
سادام ہاتھ اٹھاتا مسکراہٹ چھپاتا پیچھے ہوا ۔۔۔
ایک فیور کرے میم”وہ بولا لہجے کی معصومیت ۔۔۔ دیکھنے لائق تھی زریش پھولے پیپوٹوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
ہم خود کاٹ دے۔ ۔۔ گرنٹی ہے زیادہ درد نہیں ہو گا “اسکے کہنے کی دیر تھی ۔۔۔
زریش نے دکھتی آنکھوں سے زمین پر پڑا کانچ بے دردی سے اٹھایا ۔۔۔
اور مٹھی میں بھر کر اسپر پھینکنے لگی ۔۔۔۔۔
جس سے سادام کو تو کچھ نہیں ہوا وہ بچ گیا مگر زریش نے اپنے ہاتھ زخمی کر لیے تھے اور سادام فضل خان اب سنجیدہ سا ایکدم اسکیطرف بڑھا ۔۔
چھوڑیں میرا ہاتھ ۔۔ “زریش اس سےہاتھ چھوڑنے کی جدوجہد کرنے لگی کہ سادام کی سردنظروں نے اسکے دم توڑے ۔۔۔۔
عنایت “اسنے زور سے اوازلگائ ۔۔۔
اور عنایت نے دروازے کے پیچھے سے ہی سوال کیا ۔۔۔۔
جی خان “
فرسٹ ائیڈ باکس لاو ہمارا محبوب ہمیں مارنے کے چکروں میں خود کو نقصان دے بیٹھا ہے “وہ پھر سے مسکرایا ۔۔۔
اتنا تو وہ کبھی نہیں مسکرایا تھا جتنا اسے تکلیف دے کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
جتنا نقصان آپ نے میرا کیا ہے ۔۔ اتنا نقصان کوئ نہیں کر سکتا ۔۔۔”زریش ہاتھ کھٹکتی بولی سادام کی گرفت ڈھیلی تھی تبھی وہ ہاتھ چھڑا گئ ۔۔۔
تو ہم تمھارا نقصان کے لیے کوئ خاص بندہ ہائیر کرتا ۔۔۔
نہیں وہ چھچھوندر ۔۔۔ کیا نام تھا ۔۔۔ اس اخروٹ کا ۔۔
ہاں وہ فرہاد اسکو ہائیر کرتا ۔۔۔۔ جس کا مالا تم گلے میں سجائے پھیر رہا ہے ۔۔۔”اسنے اسکے گلے میں لاکٹ دیکھ کر طنز کیا ۔۔۔
جسے اسنےاب تک اتارا نہیں تھا۔ ۔۔۔
زریش نے اس تتلی کیطرف دیکھا
سادام کا ہاتھ اسکیطرف بڑھتا کے وہ چھپا گئ ۔۔۔
سادام کا بس نہیں چلا اس حرکت پر اسکا منہ تھپڑوں سے سجا دے ۔۔۔۔
اسکی کلائی پکڑ کر ۔۔ ایکطرف جھڑکی اور اسکے گریبان میں جھولتی وہ تتلی جسے اسنے بمشکل برداشت کیا تھا نکال کر۔ ۔ پھینکی اور جوتے سے مسل دی۔ ۔۔
عنایت نے دروازہ بجایا۔ ۔۔ اور سادام نے فرسٹ ایڈ بکس لیتے ہوئے تتلی کو باہر جوتے سے پھینک دیا ۔۔۔
اور وہ دوبارہ اسکے نزدیک آ گیا ۔۔۔
زریش اسی کی جانب دیکھ رہی تھی آنکھوں میں شرم جھجھک حیا کا عنصر مفقود تھا ۔۔ زہریلی نظریں اس وقت تو نفرت اگل رہیں تھیں ۔۔۔
ہم تمھارا لیے یہ ہوٹل کشمیر کا دل میں بنایا ۔۔ خاموش پرسکون جگہ پر خاص طور پر بنوایا ہے ۔۔۔۔
اس ہوٹل کا ایک ایک کمرہ تمھارا شیان شان ہے ۔۔ ہم اپنا ہنی مون یہاں بنائے گا اوکے۔ ۔ یہ اب تو بناتا رہے گا ۔۔ تم بھی یہیں ہم بھی یہیں”اسکے ہاتھ پر پٹی باندھ کر ۔۔۔ اسکے اسی زخم کو لبوں سے سختی سے چوم لیا۔۔ زریش کو تکلیف کا احساس ہوا ۔ اور اسنے ہاتھ پیچھے کر لیے۔ ۔۔
سادام اٹھ گیا ۔۔
تمھارا لیے ساتھ ماہ میں اپنا ٹھہڑا زبان سیدھا کیا بڑا مشکل ہے تمھارا جیسا بولنا ۔۔۔۔ “وہ سکون سے بولا اور اسکیطرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔جسے توقع کے عین مطابق زریش نے ہاتھ نہیں تھاما یوں ہی بے حسی سے اسے دیکھتی رہی ۔۔
سادام اسکے چہرے پر جھکا۔
تم میں سادام کا دل پھنسا ہے ورنہ معافی کا لفظ تو ہم نے خود کے لیے بھی نہیں رکھا ۔۔۔۔ مگر فکر کرنے کا تمھارا دن ہے ۔۔۔۔
ہمیں تم کیسے برداشت کرے گا ۔۔”
سختی اور معنی خیزی سے کہی بات زریش کا سر گھما گئ ۔۔۔
وہ باہر جانے لگا ۔۔۔ اور زریش کی آواز پر رک گیا ۔۔۔
مجھے لالا کے پاس جانا ہے ۔۔۔”وہ سرخ آنکھوں کو رگڑتی بولی ۔۔۔
سادام نے پلٹ کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
نظروں میں اسکے لیے بلکل رحم نہیں تھا ۔۔۔ جبکہ جیسے جاتا رہا ہو شکر کرو ۔۔ اپنی شکل دیکھا کر تمھیں اتنا بولنے قابل چھوڑ دیا ۔۔۔ “اور وہ باہر نکل گیا جبکہ زریش۔۔۔ وہیں بیٹھتی سسک اٹھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے شام ہو چلی تھی وہ ضد میں یوں ہی بیٹھی تھی جبکہ سادام فضل خان یہاں موجود نہیں تھا وہ نہیں جانتی تھی وہ کہاں ہو گا مگر اتنا یقین تھا وہ یہیں ہو گا ۔۔ وہ کیسے بھاگے کیسے جائے اپنے گھر ۔۔۔۔
وہ انھیں سوچوں میں گم تھی کہ ایک ادھیڑ عمر عورت دروازہ بجا کر اندر آئ ۔۔۔
اس عورت کا شفیق چہرہ دیکھ کر وہ اسکیطرف بڑھی ۔۔۔
اماں اماں مجھے یہاں سے نکال لیں پلیز ۔۔ یہ آدمی مجھے قید کیے ہوئے ہے ۔۔۔۔ پلیز اماں مجھےا پنے گھر جانا ہے”وہ اس عورت کی منت سماجت کرنے لگی جبکہ ۔۔۔۔
اس عورت نے حیرت سے دیکھا ۔۔۔
مگر بی بی ۔۔۔ سرکار نے بتایا آپ انکی بیگم ہیں”وہ زرا حیرت سے بولی تو ۔۔۔ زریش خاموش ہو گئ ۔۔۔ کیا بتاتی ۔۔ اسنے بھی تو محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر نکاح اپنی رضامندی سے کیا تھا ۔ اسکے بعد زریش کچھ بولنے قابل نہیں رہی ۔۔۔
بی بی آپ فریش ہو جائیں اور یہ کھانا بھی کھا لیں”انھوں نے اسکے ہاتھ میں خوبصورت سا لباس تھامایا ۔۔۔۔
زریش کو اس شخص کی سمھجہ نہیں آ رہی تھی وہ کس چیز کی خوشی منا رہا تھا ۔۔۔۔۔
مجھے یہ لباس نہیں پہننا”اسنے غصے میں وہ لباس پھینکا ۔۔۔ اوربیڈ پر بیٹھ گئ اسکے ساتھ کیا کچھ کر دیا تھا اسنے اور اسے پرواہ بھی نہیں تھی ۔۔۔
اس عورت نے بنا منت کیے ۔۔۔ کھانا اسکے پاس رکھا ۔۔اور وہ لباس بھی بیڈ پر رکھ کر ۔۔وہ باہر نکل گئ جبکہ زریش ۔۔۔ نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔۔
بے بسی سے پھر آنسو نکل آئے تھے اسنے ریشمی معمولی سے کامدار لباس کو دیکھا ۔۔ اور گٹھنوں میں منہ چھپا کر رونے لگی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لالا کام ہو گیا وہ یہاں آیا تھا “ہاد نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
ہممم اچھا ہے جوتیاں چٹکھائے زرا۔ “سادام کی باروعب آواز سپیکر پر ابھری جبکہ شہاب جو اسی کے ساتھ بیٹھا تھا ہنس دیا ۔۔۔۔
یار اتنی مشکل سے تیری اردو ٹھیک کرائ ہے تو اب تو ۔۔ اردو کا منہ توڑنا بند کر”شہاب بولا جبکہ سادام نے اسے مکہ دیکھایا ۔۔۔۔
لالا جاناں خوش نہیں ہے۔ ۔۔۔۔”ہاد وہیں اٹکا ہوا تھا سنجیدگی سے بولا ۔۔۔
سادام کی مسکراہٹ غائب ہوئ ۔۔۔
میرے خیال سے اپکو گاؤں واپس آنا چاہیے”وہ پھر بولا ۔۔۔۔
ہممم”سادام کھنکھارا ۔۔۔۔۔
بابا سائیں بھی بیمار “
اس کا نام ہمارا سامنے لے گا تو زبان بھی گڈی سے کھینچا سکتا ہے”سادام غصے سے بولا تو ہاد خاموش ہو گیا ۔۔
تم جاناں کا خبر وبر رکھے گا ۔۔۔ اسکو کچھ نہ ہونے پائے ۔۔۔۔ باقی ہم خود دیکھ لے گا سب “
اسنے کہا تو ہاد خاموش ہوا ۔۔۔
کچھ کہنا چاہتا ہے ۔۔”سادام کو اسکی خاموشی بے وجہ نہیں لگی ۔۔شادی کرنا چاہتا ہوں لالا”اسنے کہا تو ۔۔ سادام کے لب مسکراتے ۔۔
بہت خوب جان سادام ہمارا دل خوش کر دیا۔ ۔۔ بتاو۔ کون ہے وہ لڑکا ۔میرا مطلب لڑکی” وہ خود ہی اپنی بے ساختگی پر دانت تلے زبان دںمباتا بولا ۔۔ تو دوسری طرف ہاد بھی مسکراہٹ دبا گیا ۔۔جبکہ شہاب سن کر ۔۔۔۔ جلدی سے اسکے ہاتھ سے موبائل لے کر ۔۔۔ سپیکر پر لگا گیا ۔۔۔
بیلا ۔۔۔۔ “ہاد نے نام بتایا ۔۔۔۔ تو دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے ۔۔۔۔
شہاب پیچھے ہو کر بیٹھ گیا ۔۔ جبکہ سادام نے سپیکر آف کیا اور اسکے پاس سے اٹھ گیا ۔۔۔
تم کو کوئ اور لڑکی نہیں ملا تھا “سادام کچھ خفا سا لگا اسے شہاب کی دلچسپی بیلا میں محسوس ہوتی تھی تبھی وہ بولا ۔۔۔
یار لالا ۔۔۔ اسکے سوا کچھ نہیں چاہیے مجھے بس وہ چاہیے ۔۔۔ اسکے شوہر نےا ب تک اسے طلاق نہیں دی ۔۔۔۔
اگر آپ نے توجہ نہیں دی تو میں خود کوئ بڑا قدم اٹھا لوں گا “وہ کافی عجلت میں لگا ۔۔ جبکہ سادام کے ماتھے پر بل ڈلے ۔۔۔
ہمکو دھمکی دے گا “وہ پوچھنے لگا ۔۔۔
ہاد خاموش رہا ۔۔۔۔۔
تم زرا نیوا ہو کر رہ ۔۔ ہم خود گاؤں آئے گا تو دیکھے آگ اس معاملے پر “وہ فون بند کرنے لگا ۔۔۔
میں پانچ دن سے زیادہ خاموشی برداشت نہیں کروں گا “ہاد حتمی لہجے میں بولا ۔۔۔
خر کا بچہ”سادام غصے سے گالی دیتا ۔۔۔۔ فون بند کر گیا ۔۔جبکہ پیشانی پر انگوٹھا سختی سے رکھ کر وہ اندرا یا جہاں شہاب آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔۔۔
تم شادی کرنا چاہتا ہےا س سے کوئ دلچسپی رکھتا ہے اس میں “سادام نے دو ٹوک پوچھنا چاہا ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔ تم ہاد سے اسکی شادی کرا دو “شہاب نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔
مگر”
پلیز سادام “شہاب بولا ۔۔۔ تو سادام نے مزید بات نہیں بڑھائی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہاب اٹھ کر ۔۔ جلدی ہی چلا گیا ۔۔ اسکے پاس سے تو وہ ۔۔۔ اوپر مسرور سے قدم اٹھاتا ۔۔۔ زریش کے روم میں ا گیا ۔۔۔۔
وہ بیڈ سے ٹیک لگائے ۔۔۔۔ فریش سی نکھری نکھری بیٹھی تھی جبکہ کھانا بھی تھوڑا بہت کھایا تھا ۔۔۔۔
تمھاری تصویر کے سہارے ۔۔۔
موسم کئ گزارے ۔۔۔۔ موسمی نہ سمجھو پر عشق کو ہمارے “
دروازے سے ٹیک لگائے وہ مسکرا کر دیکھ رہا تھا اسے ۔۔۔
زریش نے سر اٹھایا ۔۔۔ اسکی آنکھیں سوجی ہوئیں تھیں جنھیں لبوں سے چھونے کے لیے وہ زا بے تاب ہونے لگا ۔۔۔۔۔
بلا کا حسن رکھتی تھی وہ خود میں اتنی کشش اتنی کے وہ صرف آسکے اگے ہی تو ہار جاتا تھا ۔۔۔۔
کل آپ نے کہاں میں دشمن ہوں ۔۔۔۔ پھر یہ اتنی مسکراہٹیں کیوں بکھیر رہے ہیں دشمن تو اپنی دشمنی نکال کر ۔۔۔۔ صبر میں ا جاتا ہے ۔۔پھر کیوں مجھے قید کیا ہوا ہے ۔۔۔ آپ مجھے مزید رسوا کرنا چاہتے ہیں”وہ بھیگے لہجے میں بولی ۔۔۔۔
کتنا پیارا بولنے لگ گیا ہے تم دل کرتا ہے تم کو بار بار ۔۔۔ سرخ کرے”وہ مزے سے اسکے نزدیک بیٹھ گیا ۔۔۔ اسکے دیے رشمی لباس میں وہ چاندی کیطرح چمک رہی تھی ۔۔۔
ہم تمھارا دشمن ہے ۔۔۔۔۔ اور تم ہمارا ۔۔۔۔۔ مگر ایک مرلہ زرا گڑبڑ سا ہے ۔۔کہ ہم اپنے دشمن پر مرتا ہے ۔۔۔ عاشقی کرتا ہے ۔۔ تم سے “و اسکے بھیگے بالوں کو ۔۔ والہانہ نظروں سے ۔۔۔ دیکھ رہا تھا ۔۔
جھوٹ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں محبت کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا جاتا ۔۔۔
میرے ماں باپ کو مار دیا آپ نے ۔۔۔ رحم کھاتے اانپر ۔۔۔ مرتضی کی بیٹی ہونا میرا جرم نہیں تھا ۔۔۔ میں نہیں جانتی تھی ۔۔مجھ سے پشت آپ نے پھیری ۔۔۔ تھی آپ نے ۔۔۔۔۔
آپ مجھے نہ بھیجتے ۔۔۔۔ نہ میرے ماں باپ مرتے ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ یہاں قید کر کے ۔۔۔ میری آبرو چھین لی ۔۔۔
زریش سادام خان ۔۔ تم اپنا منہ بند کرے گا ۔۔ یہ کھینچ کر تھپڑ لگا دے اور تمھارا منہ ہمیشہ کے لیے بند کرے ۔۔۔۔
ہمارا سامنے بکواس مت کرے گا ۔۔۔۔
تم مرتضی کا بیٹی ہے ۔۔۔ ہمارا دل میں یہ بات پھنس بن کر چھبتا ہے بے غیرت نہیں ہے ہم ۔۔۔ سمجھا ۔۔۔۔مگر ہم کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتا ۔۔۔۔
تم ہمارا ہے ہم بس اتنا جانتا ہے ۔۔۔۔ اور تم کو نہ ہم دور کرے گا ۔۔نہ جانے دے گا ۔۔اور کسی مائعی کے لالا میں دم نہیں جو ۔۔۔ یہاں آ کر تم کو ۔۔۔۔ ہم سے لے جائے ۔۔۔۔ “وہ انگلی اٹھا کر ۔۔۔ بڑے زلزلے میں بولا ۔۔۔
ہم تمکو چاہتا ہے تم ہماری چاہت میں خوش رہے ۔۔ باقی ۔۔۔ سب تو ہم دیکھ ہی لے گا ۔۔۔
میں اپنے ماں باپ کے قاتل سے بلکل محبت نہیں کرتی “وہ پھر سے بولی ۔۔۔
آپنی عزت لوٹنے والے شخص سے بلکل محبت نہیں رکھتی ۔۔۔۔”وہ رو دی ۔۔۔۔
مگر ہم تو کرتا ہے نہ”وہ پھر زیچ کرتا ۔۔ اسکے نزدیک ہوا اور ۔۔ اسکے چہرے سے اسکی گیلی لٹیں ہٹا کر ۔۔ وہ چاہت سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں”زریش اسکی لو دیتی نگاہوں سے ۔۔ بچتی بولی ۔۔۔
ٹھیک ہے نواب جی بولے گا تو ۔۔ کل تم سے ملاقات کرے گا ۔۔ ویسے بھی خاص کام ہے ہمیں “وہ اسکے چہرے کے قریب چہرہ لاتا بولا ۔۔۔
کبھی نہیں کبھی بھی نہیں میں جنھیں جانتی تھی وہ میری عزت کی حفاظت کرنا جانتے تھے ۔۔۔ وہ مجھ سے جڑے رشتوں کا لحاظ رکھتے تھے ۔۔۔۔۔
دیکھو تم کب سے شکواہ کیے جا رہا ہے ہم نے کہا ۔۔تم اللہ کو کیا منہ دیکھائے گا ۔۔۔ تم نے کسی معصوم پر الزام لگایا اسکو اسکے ماں باپ سے دور کیا
۔ چلو باپ بھائ سے ہی سہی ۔۔ماں کا کیا ہے”اسنے سرجھٹکا ۔۔۔۔
میں نے الزام نہیں لگایا ۔۔۔ “
ثبوت دیکھائے گا ۔۔۔۔ اتنا یقین ہے تو ثبوت لے کر آئے گا ہمارا خلاف ایک بھی ثبوت تم اکھٹا کرنے کا وعدہ کرتا ہے تو جائے ۔۔۔
ہم تم کو روکے گا نہیں”وہ سنجیدہ لگنے لگا ۔۔ جبکہ زریش کو مزید رونا آیا ۔۔۔
م۔۔میں نے بھتان ۔۔نہی ں لگایا”وہ سسکی ۔دل خوف زدہ سا ہوا ۔۔۔۔
تم صرف ہم پر توجہ دے ۔۔۔۔ تم ہلکان کیوں ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ “اسکے لبوں پر انگوٹھا چلاتا ۔۔ وہ اسکو اپنے جادو میں پھنسانے لگا جبکہ زریش نفی کرتی پیچھے ہونے لگی کہ سادام نے جھنجھلا کر ۔۔ اسکے لبوں کو قید میں کر لیا ۔۔ شدت سے جیسے وہ ۔۔ اسے یقین دلانا چاہتا ہو ۔۔ کے اسکی محبت آگ ہے ۔۔۔۔
اور وہ آگ میں اسے جھلسا دے گا اسکی جان کبھی نہیں چھوڑے گا ۔۔۔
جاری ہے
