50.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 21
شہاب اور ہاد نے اسے اسکے اوپر سے ہٹایا جس کا دماغ پھر چکا تھا مگر ولی کے چہرے پر اسکے تشدد کے کئ نشان تھے ۔۔
ہم کہتا ہے تم یہاں سے نکل جائے تو تمہارا صحت کے لیے اچھا ہے ورنہ”وہ رکا
ولی اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔
زریش میرے ساتھ جائے گی بھلے تو کچھ بھی کر لے “وہ اپنے سر سے نکلتا خون صاف کرتا بولا ۔۔۔
تیرا مسلہ “سادام تیش کھا کر بولا
بہن ہے وہ میری”ولی چنگھاڑا تھا
میری بہن اور تیرے حوالے کر دوں اسے میں یہ تیری سوچ ہے میں مر کر بھی تجھے۔ نہیں دوں گا اسے سمجھا
چوہدری مرتضٰی کی اولاد ہے وہ چوہدریوں کا خون “وہ غصےے میں وہ سب بتاتا چلا گیا جس سے وہ خود کو روک کر آیا تھا کہ وہ سادام کو ایسی کوئی بات نہیں بتاے گا مگر شدید تیش میں اسکے منہ سے یہ لفظ سن کر وہاں کھڑے نہ صرف سادام بلکے عنایت شہاب پر بھی جیسے بم گیرہ تھا ۔۔۔
بکواس کر رہا ہے”وہ جلد ہی خود کو سنبھالتا دھاڑا ۔۔۔
جبکہ ولی نے کان دھرے بنا صادق کو اسکی تلاش میں نکال دیا ۔۔۔
حالانکہ صرف اسکے ایک حکم پر یہاں کھڑے ولی کا کچومر بنا دیا جاتا مگر اس وقت سادام کے قدموں کی لڑکھڑاہٹ اور ولی کے قدموں کی مظبوطی اس بات کی دلیل تھی کہ بات وہی ہے جو وہ کہہ چکا ہے ۔۔۔۔
تم نہیں لے جا سکتے انھیں یہاں سے”عنایت حیران و پریشان سی زریش کی خوف زدہ شکل دیکھتا بولا اور صادق کو اس سے دور کیا ۔۔۔۔
بڑے کوئ ڈھیٹ قسم کے لوگ ہو تم “ولی آپا کھوتا چیخا ۔۔
تو یہاں سے دفع ہو جا ورنہ تیرا کچھ نہیں بچے گا اور گھر جا کر اپنے منہ پر لگے ان نشانوں کو غور سے دیکھ “شہاب بھی غصے سے بولا تو ولی خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگا
لڑکی کہیں نہیں جائے گی”وہ دو ٹوک بولا ۔۔۔
جبکہ ولی نے سادام کیطرف دیکھا
جو اس سارے معاملے کو سمجھنا چاہ رہا تھا اور جو اسے سمھجہ آ رہا تھا وہ تو اسنے کبھی سوچ میں بھی نہیں سوچا تھا ۔۔۔
جبکہ زریش حونک سی کھڑی تھی سادام ایکطرف اور دوسری طرف ولی ۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ معملہ کیا ہے مگر خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔۔۔
لے جا”وہ بولا لہجہ مظبوط تھا نگاہیں پھیر لیں تھیں ۔۔۔۔
زریش حیرانگی سے اسکی پشت دیکھ رہی تھی جواس سے ایسے منہ موڑے کھڑا تھا گویا جانتا ہی نہ ہو ۔۔وہ یہ سب سمھجہ نہیں سکی تھی مگر ولی کے ماتھے کے بل وہ سہم سی گئی آج سادام کو تکلیف دینے کی اسے بھی خوشی نہیں تھی ۔۔۔
وہ خود حیرتوں کا تزبزب کا شکار تھا زریش اسکی بہن تھی یہ بات اسے پتہ چلی تھی کبھی کہ اسکے بعد بھی انکے ماں باپ کے ہاں اولاد ہوئی تھی مگر وہ مر گئ ۔۔
اسکے باپ نے یہ کیا کیا تھا اپنی ہی اولاد کو خود سے دور پھینک دیا ۔۔۔
زریش کو لے کر جاتے ہوئے آج اسکے دل میں کسی بہن نام کے لفظ کی عزت اسکا احترام اور سادام کا اپنی بہن پر جان چھڑکنے کا مقصد معلوم ہوا ۔۔۔
اور خود بھی پریشانیوں میں گھیرا وہ اسے لے کر نکل گیا مگر دل میں ایک گوناگوں سکون تھا کہ وہ اپنی کمزوری کو اسکے دام سے نکال لایا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولی اسے لیے حویلی میں داخل ہوا تو زریش وہیں رک گئ ۔۔
چھوٹے چوہدری مجھے نہیں جانا مجھے اپنی اماں ابا کے پاس جانا ہے زریش نے نم آنکھوں سے نفی کی ۔۔
تو ولی نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
اندرچلو”وہ زراغصے سے بولا ۔۔۔
نہیں چھوٹے چوہدری “وہ رونے لگی جبکہ ولی نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے لیے اندر داخل ہوا تو وہاں بیٹھے لاونج میں لوگوں نے حیرت سے یہ منظر دیکھا جبکہ جاناں بھی ایک پل کو دیکھ کر اندر دوبارہ کچن میں چلی گئ ۔۔۔
مجھے نہیں رہنا یہاں “زریش کی ہمت جواب دے گئ جس کے باعث وہ چلائ ۔۔۔
تو ولی کا ہاتھ اٹھا مگر وہ زریش کے منہ پر نہیں پڑ سکا ۔۔۔ اور ہاتھ وہیں رک گیا ۔۔۔
شادی کر لی ہے نہ اس حرام زادے نے تم سے”وہ آنکھیں نکالتا بولا ۔۔۔
جبکہ زریش روتی ہوئی اثبات میں سر ہلا گئ ۔۔۔۔
ارے او ولی اس منحوس کو کیوں لے آیا تو اور کیوں سوال جواب کر رہا ہے” سب کے منہ کا سوال دادی نے کیا تو ولی اپنی پیشانی کی تنی ہوئی رگوں کو دباتا رہ گیا ۔۔۔
اسنے ارد گرد دیکھا ۔۔۔
تو کچن کے دروازے میں کھڑےی جاناں پر نظر پڑی ۔۔۔۔
چائے دو مجھے”اسنے بلند آواز میں کہا تو جاناں دوبارہ کچن میں غڑاپ سے غائب ہو گئ ۔۔۔
اور ولی دادی کے پاس تخت پر بیٹھ گیا ۔۔
آخر آپکی اولاد نے کتنا ڈرامہ پھیلایا ہوا ہے “وہ طنزیہ بولا ۔۔تو دادی نے اسکی جانب دیکھا جبکہ باقی سب اسکو حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔۔
اس نے پہلے کبھی دادی سے اس طرح بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔
ارے کیا مطلب ہے تیرا “وہ زرا خفت زدہ سی ہوئیں ۔۔۔
اسنے جواب نہیں دیا ۔۔اور تب تک صادق بھی زریش کے ماں باپ کو لے آیا ۔۔۔۔
ولی خاموش ہو گیا جبکہ انکو بولنے کی اجازت دی ۔۔۔
تو وہ سب بتاتے چلے گئے ۔۔۔جسے سن کر سب رفتہ رفتہ حیرتوں کا شکار تھے ۔۔۔۔
کیا بکے جا رہی ہے بدذات”دادی آپے سے باہر ہوتی اٹھیں اور انکو مارنے کے لیے لپکی کہ ولی نے انھیں روک لیا ۔۔۔
جبکہ رقیہ بیگم کو وہ دن یاد آ گیا ۔۔۔۔ جب چوہدری مرتضی نے انھیں اطلاع دی تھی کہ انکی بیٹی مر چکی ہے مگر وہ تو ٹھیک تھی زندہ تھی ۔۔۔ وہ کتنا چیخیں تھیں مگر کسی نے نہیں سنی تھی انکی اور آج انکا دل پھٹنے کو تھا انکی بیٹی یہیں اسی لاونج میں کتنا پیٹی اور انھوں نے اسکیطرف دیکھے بنا جاناں کو سینے سے لگایا جبکہ آج اپنے سامنے اپنے وجود کے ٹکڑے کو دیکھ کر انکا دل پھٹ رہا تھا اس حقیقت کو ولی کا قبول کرنا مشکل ہو گیا تھا کجا کہ وہ اتنی ہلکے دل کی مالک ۔۔ وہ آگے بڑھیں دادی چیخ رہیں تھی کہ یہ عورت جھوٹ بول رہی ہے مگر وہاں سب لوگ اس عورت کی بات پر ایمان لے آئے کیونکہ سکندر نے ولی کے دباؤ ڈالنے پر یہ راز فاش کر دیا ۔۔
زریش آنکھیں پھاڑے سب دیکھ رہی تھی ۔۔
رقیہ بیگم اسکے نزدیک ہوئیں اور اسے سینے میں بھینچ کر بری طرح رو دیں ۔۔
میری بچی” انکی سسکیاں گونجنے لگیں سب اب تک اس بات کو سمھجہ نہیں پا رہے تھے شاق کی سی صورت حال تھی ۔۔
پھوپھو جو کل ہی یہاں پہنچی تھی دوپٹہ منہ میں دبائے یہ سب تماشہ دیکھ رہیں تھیں جبکہ فرہاد اور نمل بھی ۔۔ دوسری طرف جس پر یہ انکشاف ہوا تھا وہ پتھر کی ہو چکی تھی اسکی حقیقی ماں اسکے سینے سے لگی رو رہیں تھیں مگر اسکے وجود میں زرا بھی جنبش نہیں ہو رہی تھا ۔۔
اگر تمھارا تعلق چوہدریوں سے ہوتا پھر تو ہم گیا تھا کام سے”کل کے الفاظ سادام کے ا سکے کانوں میں گونجے ۔۔۔
اسکے اماں ابا جا رہے تھے اسکو اسکے گھر میں دیکھ کر خوشی ہوئی مگر افسوس کے وہ اتنی حثیت نہیں رکھتے تھے ۔۔۔ کہ وہ اسکو اب سینے سے بھی لگا سکتے وہ اب انکی بیگم صاحبہ تھی کیونکہ سب جان چکے تھے وہ دونوں وہاں سے نکلتے زریش کی نگاہ انپر پر
اٹھی اور وہ رقیہ بیگم کو خود سے دور کرتی انکے پاس دوڑی ۔۔۔
میں میں آپکی بیٹی ہوں”وہ لرزتے وجود سے بولی ۔۔۔ نہ وہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ سکتی تھی اور نہ ہی وہ سادام کو چھوڑ سکتی تھی اسنے اس سے پشت پھیر لی تھی اسکا دل گویا کھچنے لگا تھا ۔
ابا نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔
بیٹا تمھارا گھر یہ ہی
ابا نہیں” وہ روئ مگر وہ نفی میں سر ہلاتے وہاں سے نکلتے چلے گئے جبکہ زریش کے دل پر آج پہاڑ ٹوٹا تھا ۔۔۔
زریش کو کمرے میں پہنچا دو اور جس نے سوال کرنا ہو گا مجھ سے کرے گا ” اسنے سختی سے کہا اور اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔جاناں کو چائے بلکل بنانی نہیں آتی تھی اسے اندازا ہو گیا ۔۔۔ کیونکہ پتی پانی اور دودھ چائے میں الگ الگ تیر رہا تھا ۔۔۔
وہ بمشکل چائے کا گھونٹ بھر کر اٹھ گیا ۔۔
اسکے جاتے ہی جاناں بھی اندر کمرے میں آگئی وہ نہیں چاہتی تھی کہ دادی اپنے غصے کا نشانہ اسے بنائیں ۔۔
وہ کمرے میں آئ تو ولی آج تھکا تھکا سا لگ رہا تھا ۔۔۔
کافی پھواڑ ہو تم “ولی نے طنز کیا جاناں اسکو آنکھیں پٹپٹا کر دیکھنے لگی ۔۔۔
یہ کمبل کل رات سے یوں ہی پڑا ہے چائے تمھیں نہیں بنانی آتی ۔۔ کمرہ تم نہیں صاف رکھ سکتی ۔۔ کوئ عقل وقل ہے بھی تم میں”وہ زرا تپا تو جاناں اپنے لب چبانے لگی ۔۔۔ ولی کی نگاہ اسکے سرخ ہوتے لبوں پر ٹھر گئ ۔۔۔
وہ آہستگی سے اسکے نزدیک ہوا ۔۔۔اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈالا ۔۔
ایک بار پھر تمھارے بھائی کے دل پر سانپ لٹوا دیے جاناں بی بی ” وہ طنزیہ مسکرایا تو جاناں جو اسکی قربت پر جھجھکتی یہ بات سن کر سادام کا چہرہ آنکھوں میں لہرا گیا ۔۔۔۔
آپ جلتے ہیں لالا سے”وہ اس سے دور ہوتی سرخ آنکھوں سے بولی جبکہ ولی نے حیرت سے اسکیطرف دیکھا ۔۔
کیا بکواس ہے یہ “وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر منہ گھما گیا ۔۔
جی ہاں آپ جان بوجھ کر انھیں ت۔۔۔تنگ ۔۔۔ اور م۔۔مھھے یہاں جھوٹ جھوٹے ہیں آپ ۔۔۔”
چٹاخ ۔۔۔”اسکے گال پر پڑنے والا تھپڑ اسکے اوسان خطا کر گیا ۔۔۔
سالی میرے سامنے زبان چلا رہی ہے ” وہ دھاڑا
چھوڑیں مجھے”جاناں بے بسی سے چیخی جبکہ ولی کا آج تو جیسے دماغ ہی قابو سے باہر ہو گیا ۔۔۔۔
اسنے جاناں کو بنا دیکھے سوچے سمجھے کھینچ کھینچ کر کئ تھپڑ مارے جس سے وہ بے دم ہو گئ ۔
۔۔ میں نے تمھیں روکا تھا کہ تم اس نیچ آدمی کا نام نہیں لو گی اور تم کہتی ہو میں جلتا ہوں اس سے اس منحوس سے ۔۔۔ جس کے پاس ہے ہی کیا ۔۔ “وہ چلایا جبکہ اسکے بعد جاناں کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکل سکا ۔۔۔
تو اس قابل ہی نہیں ہے کہ تجھے عزت دی جائے”وہ اسکو کھینچ کر بیڈ پر پھینکتا ۔۔۔ اسکو اپنے غصے اور غضب کا شکار بنا گیا ۔۔
چھو۔ چھوڑیں”جاناں کی بے بس چیخیں کمرے کی فضا کو ہیبت ناک بنا گئیں جبکہ ولی اسکو اپنے تشدد کا نشانہ بناتا رہا ۔۔
جس سے بھی شاید اسے سکون نہیں ملنا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیرے کی حالت بری ہو چکی تھی ۔۔ سادام سر تھامے بیٹھا تھا ۔۔۔ آگ کیطرح یہ بات پھیلی تھی اور فضل خان کو بھی علم ہو گیا کہ سادام پر کیا گزری ہے تبھی وہ اس سے خفا ایک لفظ بھی نہیں بولے ۔۔۔
سادام کی اپنی حالت بولنے لائق ہی کب رہی تھی شراب کے نشے میں وہ دھت پڑا تھا ۔۔
شہاب اسکو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اسنے کسی سے اگلا لفظ نہیں کہا ۔۔۔
عجیب ماحول ہو چکا تھا ۔اب نہ جانے زخمی شیر کس طرح کا وار کرتا ۔۔۔
جاری ہے