50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode ,24
وہ راکھ کیطرح بھجے اپنے گھر کو اپنے آنگن کو دیکھ رہی تھی جس میں اسکے ماں باپ جنھوں نے اسے پالا ۔۔۔ اسکو اپنے آنچل میں چھپایا ۔۔۔ جن کی وہ اولاد تھی انھوں نے تو قبول نہیں کیا مگر ان لوگوں نے اسے ہر خوشی دی تھی جو وہ چاہتی تھی ۔۔۔۔
اور آج اسکا بچپن اسکی جوانی اس گھر کے ساتھ راکھ ہو گئ تھی ۔۔۔اور اسکے پیچھے کون تھا ۔۔ وہ جس کے لیے وہ پاگل تھی یہ وہ اسکے لیے پاگل تھا مگر ہاں اسکی نفرت جیت گئ ۔۔۔ وہ اکثر اسے کہتا تھا ۔۔۔۔ کہ وہ شکر ادا کرے کہ اسکا تعلق حویلی والوں سے نہیں ۔۔۔۔۔ اور اسکی بدقسمتی یہ تھی کہ اسکا تعلق حویلی والوں سے تھا یہ الگ بات تھی اسکا تعلق مرتضیٰ سے تھا جس کو شاید ہی اسنے کبھی دیکھا ۔۔ہو اور اس بات کی سزا اسنے اسکے ماں باپ کو دی ۔۔جو پہلے اسکی جدائ سے نڈھال تھے وہ جانتی تھی ۔۔۔ اور وہ کتنی آسانی سے انھیں بےموت مار گیا ۔۔۔۔کیا اسکا دل نہیں کانپا کیا کوئ لحاظ کوئ بات کوئ محبت نامی چیز اسکے قدموں میں حائل نہیں ہوئ ۔۔کیا کسی چیز نے اسے نہیں روکا ۔ا۔ور اسنے جلا ڈالا سب کچھ ۔۔۔
ابھی کچھ دنوں پہلے بھی تو اسنے بے قصوروں پر گولی چلائی تھی ۔۔۔ اور آج وہ اسکے ماں باپ کو راکھ کر چکا تھا ۔۔۔۔ اسکا دل کیا چیخیں مارے اپنے ہونے کا گم کرے ۔۔۔۔۔۔ اگر وہ نہ ہوتی تو یہ کہانی اس اختتام کو نہ پہنچتی ۔۔اسے لگا اسکی نسیں پھٹ جائیں گی ۔۔۔
وہ حونک کھڑی تھی لوگوں کی افسوس سے بھر پور چیمگویاں اسکے کانوں میں پڑ رہیں تھیں جبکہ وہ سامنے دیکھ رہی تھی جہاں پہلے کبھی اسکا گھر ہوا کرتا تھا ۔۔۔
اسنے اپنے شانے پر کسی کا لمس محسوس کیا وہ جا نتی تھی پیچھے کون ہو گا ۔۔۔۔۔
دل و دماغ میں وجود میں سادام کے لیے اتنی نفرت محسوس کر کے وہ خود شدر تھی کہ اسکے عشق میں دیوانی وہ ۔۔ اسکے لیے ایسے جزبات بھی کبھی محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔
ولی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
اور جیسے اسے رونے بکھرنے کے لیے اپنا شانہ فراہم کیا ۔۔۔۔
اور وہاں کھڑے لوگ بھی اس چھوٹی سی لڑکی کے رونے پر آبدیدہ ہو چکے تھے سب کی آنکھیں نم تھیں ۔۔۔ جبکہ ولی کے وجود میں انگارے دوڑ رہے تھے ۔۔۔۔
میں نے تمھیں کہا تھا وہ آدمی اچھا نہیں نیچ ہے نیچ آدمی “ولی نے دانت بھینچے ۔۔۔۔
جبکہ زریش مسلسل روے گئ ۔۔۔۔
تم حویلی چلو ۔۔۔”
نہیں نہیں مجھے میرے اماں ابا ۔۔۔ مجھے انکے پاس جانا ہے”وہ سسکی سرخ آنکھوں سے کسی کے دل پر دستک دے گئ ۔۔۔۔
جو اسکے رونے پر بے چین نظر آنے لگا ۔۔
زری بیٹا ۔۔ ” شہریار کی آواز پر وہ پلٹی اور شہریار نے بھی اسکو سینے سے لگایا اور زبردستی حویلی لے آیا ۔۔۔
ولی فرہاد بھی حویلی میں بیقوقت داخل ہوئے ۔۔ دادی کو تو کوئ غم تھا نہیں نہ ہی نمل نے زحمت کی کیونکہ اسے زریش سے نفرت ہی تھی ۔۔۔پھوپھو نے بھی توجہ نہیں دی جبکہ باقی سب اسکے غم میں کھڑے تھے رقیہ بیگم نے اسکے آنسو صاف کیے آئزہ نے اسکو زبردستی پانی پلایا جو سمبھل ہی نہیں رہی تھی اور بلآخر یہ غم نہ سہن کرتے وہ بے ہوش ہو گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ایف آئی آر درج کراوں گا “ولی کی دھاڑ باہر تک سنائی دی ۔۔۔۔
زریش کو تو اسکے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا ۔۔ڈاکٹر نے صدمے کی وجہ سے بے ہوش ہونے کی وجہ بتائ تھی اور کچھ دیر میں ہوش میں آنے کی تسلی بھی دی تھی ۔۔۔ جاناں خوف سے کانپ رہی تھی ۔۔
ہائے اسی طرح اس بدذات کے باپ نے میرے بیٹے کو مارا تھا ۔۔
ہاے مولا ۔۔۔۔ “دادی نے جاناں کو دیکھتے ۔۔۔ چیخ چیخ کر کہا ۔۔۔۔
جبکہ ولی کے وجود میں اس عمل سے مزید پتنگے لگ رہے تھے ۔۔
ہم سرپنچ سے بات کرے گے “شہریار نے کہا ۔۔جبکہ ولی نے سامان اٹھا اٹھا کر پھینکنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
وہ سرپنچ اب تو اسکی جوتی کے نیچے آ چکا ہے ۔۔۔ اور تم فیصلہ اسکے ہاتھ پر ڈال رہے ہو “
سرپنچ نے ہی رات پنچائیت کا کہا ہے ۔۔۔۔”شہریار نے گویا یاد دلایا ۔۔
بھاڑ میں جائے سب “ولی بولا کہ فرہاد نےا سکے شانے پر بازو رکھا ۔۔
اگر تم پولیس میں معملہ لے جاؤ گے تو ۔۔ ضرور وہ اپنی بیل کرا لے گا تم اسکے اثرورسوخ سے واقف ہو وہ ایک رات بھی وہاں نہیں روکے گا پنچائیت کو بیچ میں پڑنے دو “اسنے اسے سمجھایا جبکہ و لی غصے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
اور جاناں مزید کچن میں چھپ گئ وہ اب کمرے میں کسی صورت نہیں جانا چاہتی تھی اگر وہ جاتی تو یقیناً وہ اسکا گلہ دبا دیتا مگر موت تو اسکی آنی تھی ۔۔
ولی کمرے کا دروازہ کھولتا باہر نکلا ۔۔۔۔
اور سیدھا کچن میں آیا جاناں اسکے تیور دیکھ کر پیچھے ہونے لگی ۔۔۔
و۔۔۔ولی”اسنے اسکے بڑھتے قدموں کو روکنا چاہا ۔۔۔ دروازے کی اوٹ سے یہ منظر پھوپھو نمل اور دادی دیکھ رہیں تھیں ۔۔
تجھے بھی جلا دوں اور تیری لاش کو راخ کا ڈھیر کر کے تیرے گاؤں پھیکواو گا تب تم لوگوں کو ہمارے غم کا اندازا ہو گا”وہ دھاڑا جبکہ جاناں رونے لگی ۔۔۔۔
بکواس بند”کھینچ کر تھپڑ مارتے وہ اس بات کو بھول چکا تھا کہ اب اسکی کنڈیشن پہلے جیسی تو نہیں تھی ۔۔
جاناں خوف زدہ تھی ۔۔ رونے لگی جبکہ ولی اپنا غصہ آج اسپر نکال دینا چاہتا تھا ۔۔ وہ پیچھے ہٹتی زمین پر گیر گئ ۔۔جبکہ ولی نے اپنی پینٹ کی بیلٹ نکالی ۔۔
جاناں کی ویسے ہی چیخیں نکل گئیں ان تینوں نے حیرت سے منہ میں کپڑا لے لیا ۔۔۔
اس سے پہلے وہ اسپر وار کرتا شہریار نے اسکا ہاتھ جکڑا ۔۔
جانور ہو تم”وہ چلایا ۔۔ بہت ہو چکی تھی آخر یہ سب کتنوں کو سہنا پڑتا ۔۔۔ اسکی حد جواب دے گئ ۔۔
باقی سب بھی وہیں ا گئے سوائے زریش کے جو اب بھی بے ہوش ۔۔۔ تھی
ہاں پاگل ہو گیا ہوں ۔۔ کیوں رکھو میں اس سانپ کو اپنے گھر میں ۔۔۔ اگر آج پنچائیت اس کے بھائ کو ۔۔۔ اس علاقے سے باہر نہیں نکالے گی ۔۔۔ اور یہ فیصلہ نہیں کرے گی کہ دوبارہ سادام فضل خان اس علاقے میں قدم نہیں رکھے گا ۔۔ میں تب تک اس لڑکی کے ساتھ یہ ہی سلوک کروں گا ۔۔۔”وہ چنگھاڑا ۔۔
ولی اسکا کیا قصور ہے”شہریار نے اسے پیچھے دھکا دیا جبکہ آئزہ نے ۔۔ جاناں کو وہاں سے ہٹایا ۔۔
تو پنچائیت میرے حق میں فیصلہ سنا دے “وہ دو ٹوک بولا ۔۔۔
اور نہ سنایا تو “شہریار نے کہا ۔۔۔۔
تو وہ دن اسکا آخری دن ہو گا دنیا میں”وہ نفرت سے بولا۔ ۔۔
تمھارے بچے کی ماں بننے والی ہے وہ”شہریار نے اسے حقیقت کا آئینہ دیکھایا ۔۔۔
تو پہلی عورت ہے جو بننے والی ہے “وہ لاپرواہی سے بولتا وہاں سے اپنے روم میں آ گیا ۔۔۔
جبکہ شہریار نے افسوس سے روتی ہوئی جاناں کو دیکھا۔۔۔
اپنے کمرے میں لے جاؤ آئزہ اسے “وہ بولا ۔۔
آے ہائے کیوں “دادی بولیں جبکہ شہریار کی سخت نظروں پر خاموش ہو گئیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے اتنا جلد بازی کیوں دیکھایا آخر”پہلی بار فضل خان اسپر چیخے تھے ۔۔۔
سادام نے انکی جانب دیکھا
تو تم بھی اس بات پر ایمان لے آیا کہ ہم اس سب کاروائ کا پیچھے ہے”وہ سرد نظروں سے انھیں دیکھنے لگا ۔۔۔
جو تم نے کیا ہے اسے قبول کرو کبھی بھی دشمنی کا ابتدا ہماری طرف سے نہیں ہوا مگر اب تم اپنی طرف سے سلگا آیا ہے اب کون جلے گا اس میں ہمارا لڑکی ہمارا معصوم بیٹی “وہ غصے سے چلائے ۔۔۔
ہم تم کو ایک بات ہزار بار سمجھائے کیا ہم نہیں جانتا اور ہم ڈیرے پر موجود تھا نہیں سمھجہ آتا”وہ بھی چلایا ۔۔
تو فضل خان نے اسکی چلاہٹ کی پرواہ کیے بنا اسکا گریبان جکڑا ۔۔۔ یہ منظر سب دیکھ رہے تھے ۔۔۔ اسکے گریبان پر پہلی بار کسی نے ہاتھ ڈالا تھا اور وہ اسکا باپ تھا جو اسے جان سے زیادہ عزیز تھا ۔۔۔
اگر ہمارا بیٹی اس سب کا شکار ہوا تو ہم تمھیں جان سے مار دے گا۔۔۔۔ تم نے جو کیا ہے اسکا سزا بھگتو تاکہ ہمارا بیٹی امن سے رہے”وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولے ۔۔۔
کچھ دیر میں اسے پنچائیت میں حاضر ہونا تھا اور اسکے اپنے اسکے خلاف کھڑے ہو چکے تھے جس نے بھی یہ چال چلی تھی بہت بھیانک چلی تھی ۔ ۔۔ جس کا انجام بھی بہت بھیانک ہونے والا تھا ۔۔ وہ انکا ہاتھ جھٹکتا اپنی سرمئ سوٹ پر وائٹ شال کو جھاڑتا باہر کی جانب بڑھا عنایت فورا اسکے پیچھے ہوا شہاب بھی ۔۔۔ ہاد اور فضل خان الگ آئے تھے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنے افسوس کا مقام ہے سادام فضل خان بے قصوروں کو مار کر کس انا کو تسکین دی تم نے “سرپنچ غصے سے بولے آج پھر پورا گاؤں جمع تھا جبکہ انکے گاؤں کے لوگ بھی جمع ہو رہے تھے۔ ۔۔
ہم نے کچھ نہیں کیا”وہ سگار سلگاتا بولا ۔۔۔۔
کب تک بھاگو گے اپنے جرم سے ہاں ۔۔ تم نے جو کیا وہ سرا سر نہ انصافی تھی ۔۔
تمھارا پاس کوئ ثبوت ہے یہ ہم نے کیا ہے “وہ سگار پھینکتا غصے سے سرپنچ کو گھورتا بولا جبکہ نمل جو اوٹ میں کھڑی تھی اس بندے کے انداز پر فدا ہوئ جا رہی تھی ۔۔۔
زریش بھی انھیں میں موجود تھی اور اس شخص کے ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے پر آج وہ پیچ و تاب کھا رہی تھی کیا وہ۔ نہیں جانتی تھی اسے اتنا عرصہ ساتھ رہ کر اسے معلوم ہو چکا تھا وہ ضد کا کتنا پکا ہے ۔۔۔۔
کیا وہ یہ نہیں دیکھ رہی تھی کہ اسکے لیے وہ اپنی ضدیں چھوڑتا آ رہا ہے ۔۔۔۔
میں ہوں ثبوت
میں گواہی دیتی ہوں سادام فضل خان کے خلاف کہ یہ ہی میرے ماں باپ کا قاتل ہے ۔۔ اسی نے مارا ہے میرے ماں باپ کو ۔۔۔ اور میں درخواست دیتی ہوں سرپنچ جی ۔۔ آپ اسکو کڑی سزا دیں تاکہ یہ لوگوں کو انسان سمجھے چیونٹی نہیں جنھیں جب چاہے مسل دے”مظبوط جانی پہچانی آواز پر اسنے گردن گھما کر دیکھا وہ دوپٹے سے بنا چہرہ ڈھانپے اپنے حسن کی بے پناہ روانیاں لیے ۔۔۔ عین ان سب مردوں کے سامنے کھڑی اسکے خلاف گواہی دے رہی تھی سادام حیرت سے اسکیطرف دیکھنے لگا ۔۔۔
وہاں سب تھوڑا حیران ہوئے مگر بولے کچھ نہیں عنایت مٹھیاں بھینچے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ شہاب کا بس نہیں چل رہا تھا اس لڑکی کو بم سے اڑا دے ۔۔۔ فیروز اور ہاد خاموش تھے فضل خان کا الگ پارا ہائ ہو رہا تھا ۔
سزا سنائیں سرپنچ جی”یہ فضل خان تھے۔ جبکہ سادام کی نظریں ایک شخص پر ٹک کر رہ گئیں تھی۔۔
سب سے پہلے ہم تمھارے بیٹے اور اپنی بیٹی کا رشتہ توڑتے ہیں ۔۔۔۔ اور دوسرا تمھارا بیٹا اب اس علاقے میں نہیں رہے گا اور مقابل گاؤں کی سرداری اسکی پگ سے ہٹائے جاتی ہے۔۔۔۔۔۔”سرپنچ کے دوٹوک فیصلے پر بھی اسکی آنکھوں کی پتلیوں میں ہلچل نہیں ہوئ ۔۔ جبکہ زریش اندر چلی گئ ۔۔۔ جاناں اپنے بھائ کو بھیگی نظروں سے دیکھتی رہی۔۔۔
فضل خان نے سر ہلایا ۔۔۔
میں بھی ایک فیصلہ کرنا چاہتا ہوں اگر اجازت ہو”وہ سرپنچ کیطرف دیکھ کر بولے جنھوں نے سر ہلایا ۔۔۔
میں آج سے یہ دشمنی جو برسوں سے چلی آ رہی ہے اسکو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں اپنی طرف سے “وہ بولے تو سب حیران رہ گئے ۔۔۔
کیوں فضل خان بیٹے کے گاؤں سے نکلنے پر ہوش ٹھکانے ا گئے کیا “ولی طنزیہ بولا ۔۔ جبکہ انھوں نے اسکیطرف دیکھے بنا شہریار کو دیکھا جو خاموش بیٹھا تھا ۔۔
باپ کوو مارا تھا تم نے میرے ۔۔۔اج اچانک پیدا نہیں ہوئ تھی یہ دشمنی جس سے تھک کر تم نے ختم کرنے کا اعلان کیا ۔۔
یہ میری دشمنی ہے تمھاری موت سے ہی ختم ہو گی”وہ غصے سے بولا ۔۔۔
سادام کے سر میں پھر سے مائگرین کا درد شروع ہو چکا تھا جسے سنے کافی دوائیاں کے بعد روکا تھا مگر اس وقت اتنی شدت سے ہو رہا تھا کے اسکا بس نہیں چلا گن ہولڑر سے گن نکال کر وہ اپنے سر میں ہی مار لے وہ سر جھکائے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھاما۔ ۔۔ بیٹھا ۔۔ تھا ۔۔۔
جبکہ سامنے فیصلے وہ رہے تھے ۔۔۔
مجھے منظور ہے یہ دشمنی بہت بربادی کیطرف لے جا رہی ہے “شہریار نے کہا ۔۔۔ تو سب کو شہریار کا فیصلہ سمھجہ آیا ۔۔ جبکہ ولی نے غصے سے اسے دیکھا ۔۔۔
تمھارا دماغ ٹھیک ہے”ولی نے آنکھیں نکالیں۔۔۔
چوہدری ولی اس وقت گاؤں کی پگ میرے سر پر ہے اور میں فضل خان کے فیصلے سے متفق ہوں “وہ کچھ جتاتا ہوا بول جبکہ ولی نے اسے حیرانگی اور غصے سے دیکھا اور وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
جبکہ فضل خان اور شہریار بغل گیر ہوئے ۔۔۔
فضل خان نے مڑ کر پیچھے دیکھا ۔۔۔
اور اسی طرف عنایت نے بھی دیکھا ۔۔۔۔
خان”وہ بے تابی سے سادام کے نزدیک ہوا ۔۔۔
ہمارا سر پھٹ ۔۔۔جائے گا ۔۔۔۔”وہ برداشت کی حدیں پار کر رہا تھا ۔۔۔
شہاب باؤ “عنایت نے کہا جبکہ سادام اسکو پرے دھکیلتا وہاں سے نکلا ۔۔۔
پیچھے عنایت اور شہاب بھی تھے ۔۔۔۔
تمھارا بیٹا ۔۔۔اپنی سزا پوری کرے ۔۔”سرپنچ سختی سے بولے ۔۔
فضل خان نے فیصلہ سنایا۔ ۔۔
اگر یہ فیصلہ نہ ہوتا تو ارد گرد کے گاؤں والے بھی یہ کام کر کے ۔۔۔ سامنے آئے گا ۔۔ اور یہ لوگ انصاف کو ترسیں گے”انھوں نے کہا تو شہریار خاموش رہا جبکہ فضل خان پھر سر ہلا گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خان”
سادام “
آہ ۔۔۔ آہ”وہ دونوں اسکے آگے پیچھے تھے جبکہ وہ چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینک رہا تھا ۔۔۔ چلا رہا تھا ۔۔۔
خان دوائ لے لیں ۔۔۔ “عنایت بولا جبکہ سادام نے وہ گلاس اسی کے سر پر پھوڑ دیا ۔۔
دور رہے گا ہم سے سب ۔۔۔ سب دور رہے گا ۔۔۔۔”وہ چیخ رہا تھا ۔۔۔۔
ہاد بھی وہیں ا گیا ۔۔۔
لالا”وہ آگے بڑھتا ۔۔کے ۔۔۔ شہاب نے روکا۔۔۔۔ درد کہنا آسان ہے جھیلنا کسی سزا سے کم نہیں ۔۔۔
صرف اپنا موبائل اور والٹ اٹھایا تھا اسکے بعد اسنے ۔۔ اور گاڑی کی چابی لے کر وہ باہر نکلا ۔۔۔۔
خان میں ساتھ چلوں گا “عنایت اسکے پیچھے پیچھے تھا ۔۔
درد کی شدت سے اسکی آنکھیں سرخ اور آنکھوں کے گوشے گویا پھٹنے کو تھے۔ ۔۔۔۔
وہ گاڑی میں سوار ہوا ۔۔۔ تو شہاب نے بھی اپنا موبائل کریڈٹس اور گاڑی کی چابیاں اٹھائیں جو یہیں آ کر لی تھیں ۔۔ اور انکی گاڑی کے پیچھے لگا دی ۔۔
جبکہ ہاد وہیں کھڑا رہ گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت اچھا فیصلہ کیا تم نے”ولی زریش کے سامنے بیٹھا تھا جو رو رہی تھی ۔۔۔
میں تمھارے ہر فیصلے کے ساتھ ہوں ۔۔۔ تم مجھے اپنا سمھجہ سکتی وہ”وہ اسکو یقین دلاتا بولا ۔۔ جبکہ زریش نے سر ہلا دیا ۔۔۔۔
میں پڑ پڑھنا چاہتی ہوں”وہاں ہاتھی سے بولی ۔۔۔
کیوں نہیں ۔۔۔ تم پڑھو میں تمھارا اڈمیشن بہت اچھے کالج میں کراؤ گا “وہ خوش ہوا کہ اسنے کوئ فرمائش کی تھی ۔۔
بہت شکریہ”زریش نے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔
میں خلا کا کیس بھی”
لالا”اسنے پہلی بار سے پکارا تھا اس طرح ۔ ولی خوش دیکھائی دے رہا تھا ۔۔
ابھی آپ مجھے ان جھمیلوں میں نہ ڈالیں “وہ سر جھکا کر بولی ۔۔۔ تو ولی نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
ٹھیک ہے تم ٹائم لے لو “وہ بولا تو زریش اسکی بات مان گئ ۔۔۔۔
پریشان مت ہونا میں تمھارے ساتھ ہوں “وہ مسکرایا تو زریش بھی مسکرا۔ دی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
دن رفتہ رفتہ گزرنے لگے تھے ۔۔۔ وقت پانی کی لہروں کی مانند اگے گے جا رہا تھا ۔۔۔۔
دونوں گاؤں کے درمیان تعلقات استوار ہونے لگے تھے ۔۔۔۔
جس میں شہریار کا بہت بڑا ہاتھ تھا ۔۔۔۔۔
وہ یہ سب ٹھیک کرنے کی بھر جدو جہد کر رہا تھا ۔۔۔
زریش میڈیکل کالج میں اڈمیشن لے چکی تھی ۔۔۔ جبکہ زبردستی جاناں کا بھی ولی نےا ڈمیشن کرا دیا تھا اور آئزہ نے بھی ان دونوں کو دیکھ کر لے لیا ۔۔۔جبکہ شہریار نے تو اسے بہت روکا کہ وہ ان جھمیلوں میں نہ پڑے ۔۔مگر آئزہ نے ایک نہ سنی ۔۔۔۔
جبکہ جاناں تو بری طرح پھنسی تھی ۔۔۔
ولی کے اچھے ہونے کی امیدیں ۔۔۔ بلکل ختم ہو گئ تھی ۔۔ وہ ضرورت سے زیادہ سخت ہو گیا تھا ۔۔۔ جبکہ وہ سکے بچے وک جنم دینے جا رہی تھی اس بات۔ کی اسے بلکل پرواہ نہیں تھی اپنی مرضی اور مزاج سے وہ ہر چیز کو دیکھتا اور سمجھتا تھا۔ ۔
جاری ہے