50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

ڈھنگیاں شاماں
ازق تانیہ طاہر
Episode 22
وہ ہانڈی بنانے کی کوشش کر رہی تھی اسکا خوف سوا نیزے پر تھا جبکہ ولی نے بنا اسپر دھیان دیے دادی کے انڈر اسے دے دیا تھا کہ وہ اسے اچھا کھانا بنانا سیکھائیں اور خود وہ دو دن سے ڈیرے پر تھا بہن کے مل جانے کا سوگ تھا یہ اس بات کا کے کمزوری تو اسکی بھی سادام کے قدمے تلے دبی ہوئی ہے وہ بھی اپنے دل و دماغ کی رضامندی سے ۔۔۔
جبکہ اسپر کیا بیتے گی اسکے اس عمل سے سنے سوچا نہیں تھا ۔۔ ہاں اتنا ضرور ہوا تھا بات بے بات جو انکا ہاتھ اٹھتا تھا وہ نہیں اٹھ رہا تھا نہ وہ کسی اور چیز سے اسے مار رہیں تھیں مگر زبان کے تیر مسلسل جاری تھے وہ اسکو ماں باپ کی بالیاں دیتے نہیں تھک رہیں تھیں ۔۔۔ جبکہ جاناں جو بلکل اس ماحول کا حصہ نہیں بن پا رہی تھی ۔۔ رونے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی.
اسکا ہاتھ جگہ جگہ سے جل۔ گیا تھا جبکہ دادی کی باتیں اسکے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو رہیں تھیں
جو وہ اسکی ماں اور باپ بھائ کے بارے میں کہہ رہیں تھیں
جسمانی تکلیف کی الگ تکلیف تھی کہ کوئ اسے مارتا تھا وہ جانتی تھی تبھی اسکا جسم دکھتا تھا مگر یہ ذہنی عزیر اسکا کچھ ثانی نہیں تھا ۔۔۔
اے کتنا چمچ چلاتے گی”وہ اسکے پیچھے آ کر چیخیں ۔۔۔۔مگر ہاتھ نہ اٹھا سکیں جبکہ جاناں کا دل گویا بیٹھ ہی گیا انکے ایک دم آنے سے ۔۔۔۔
وہ میں تو “اسنے کچھ کہنا چاہا ۔۔
کیا میں تو ۔۔۔۔ اتنی کوئ منحوس ہے میرے پوتے کو اپنے دام میں پھنسا لیا اور صورت دیکھو کسی مومنی بنا کر کھڑی ہے”وہ اسکو نفرت سے دیکھ کر بولیں ۔۔۔ جبکہ پیچھے سے آئزہ آ گئ ۔۔۔
دادی اپکو باہر پھوپھو بلا رہیں ہیں”اسنے کہا تو وہ سر ہلاتی پلٹیں ۔۔۔
اپنی نمل سے اپنے ولی کی شادی کراؤں گی ۔۔اور تجھے تو طلاق دلواکر اس گاؤں سے باہر نکلوا گی کہیں کی نہیں رہے گی”وہ نفرت سے پھنکارتہ باہر چلیں گئیں جبکہ نمل مسکرا دی ۔۔۔۔
جاناں کی بھیگی آنکھوں کو آئزہ نے افسوس سے دیکھا ۔۔ اور نہ جانے اسے کیا ہوا ۔۔ دو قدم بڑھا کر وہ اس تک پہنچی اور پتے کیطرح کانپتی اس بے قصور لڑکی کو گلے سے لگا کرا سکی تکلیف کچھ کم کرنی چاہی ۔۔۔۔
جبکہ جاناں بکھرا ی گئ ۔۔۔
مج۔۔۔مجھے اپنے گھر جانا ہے ۔۔ مجھے لالا کے پاس “ش
شششش یہاں نام نہ لو یہ ظالموں کی قید ہے تمھیں رہائ نہیں ملے گی ۔۔ مگر تم دوسرے کام پر دھیان دو اپنے شوہر کو کسی اور کا نہ ہونے دینا کبھی ۔۔۔ تم خالی ہاتھ رہ جاؤ ۔۔۔ اسپر توجہ دو ۔۔۔ ٹھیک ہے “وہ نرمی سے اسکے بال سہلاتی سمجھانے لگی ۔۔
م۔۔۔مگر مجھے مجھے ان سے ڈر لگتا ہے”وہ حقیقت بتا گئ ۔۔۔
اتنا بھی خوفناک نہیں ہے”آئزہ اسے ہلکا پھلکا کرنے کو مسکرای
جبکہ جاناں نے برا سا منہ بنایا ۔۔۔۔
تو وہ ہنس دی ۔۔۔
یہ کھانا تو نوار بنا لے گی چلو اس حویلی کی نئ مہمان سے ملنے چلتے ہیں”آئزہ نے کہا تو ۔۔جاناں نے باہر کیطرف اشارہ کیا کہ دادی ۔۔ روک لیں گی جو آئزہ وک بھی سمھجہ آیا تبھی اسنےا پنی چادر اسکے ہاتھ میں دی جاؤ ۔۔
تم یہ پہن جاؤ “اسنے آنکھ آمری یعنی دادی سے چلاکی کرنے کو دونوں تیار تھیں ۔۔
جاناں جھجھکتی ہوئ ۔۔۔ باہر نکلی ۔۔۔
دادی نے دیکھا اور منہ موڑ لیا ۔۔جبکہ آئزہ جب نکلی تو انکی توجہ وہاں نہیں تھی ۔۔۔
وہ دونوں نکلی تو دونوں ہنسنے لگی۔ ۔
تم کتنا پیارا ہنستی ہو”آئزہ نے پیار سے کہا ۔۔ تو جاناں پھر سے جھجھک گئ
شرمانا بند کرو اب چلو زریش کے پاس چلتے ہیں پہلے میں اکیلی تم اب ہم تین ہیں پھر بھی ہم ایک دوسرے سے نہیں ملتے”وہ افسوس سے بولی ۔۔ اور زریش کے روم میں آ گئ جو ۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر ایکدم سر اٹھا کر انھیں دیکھنے لگی ۔۔
آئزہ بی بی ۔۔ مجھے یہاں سے جاناں ہے پلیز مجھے یہاں سے نکال دیں”وہ سسک کر اسکے قدموں میں جھکتی کے آئزہ نے اسے تھام لیا ۔۔
کیا کر رہی وہ زری ۔۔۔ میں تمھاری بی بی نہیں ہوں اب ۔۔ آئزہ کھو بس مجھے ۔۔ تم ہمارے گھر کی ہو سچی میں تو بہت خوش ہوں باقی شہریار اور تائ بھی کا فی خوش ہیں میں جانتی ہوں تائ کو تم موقع دو وہ بہت اچھی ہیں شہریار تمھارے پاس خود آئیں گے اور ولی لالا بھی کافی پوزیسیو ہیں مگر غصے کے بس تیز ہیں ۔۔۔
بس نہیں بہت زیادہ”اچانک جاناں کے منہ سے نکلا تو آئزہ ہنس پڑی جبکہ ۔۔۔ زریش کا تو دم نکل رہا تھا ۔۔۔ یہ حقیقت اسکے لیے بلکل قابل قبول نہیں تھی ۔۔۔
اسکے ماں باپ جو تھے اسے وہی چاہیے تھے ۔۔۔
اچھا تم ریلکس ہو جاؤ ۔۔ تمھارے اما ابا بھی تم سے یہاں ملنے آیا کریں گے ٹینشن مت لو”وہ بولی اور اسے بیڈ پر بیٹھایا ۔۔۔
تو زریش اور جاناں دونوں انگلیاں مروڑتیں بیٹھی ہوئیں تھیں
آف ہو بس بھی کرو دونوں ایک ہی اہم کر رہی ہو “وہ چڑ کر بولی ۔۔۔
زریش تم بتاؤ۔ ۔۔ حالانکہ ہم پہلے بھی ملنے ہیں مگر تم سے پوچھا نہیں میں نے تم نے کتنا پڑھا ہے اب تو خیر ہم سب کی پڑھائ رک گئ ہے ” وہ افسوس سے بولی
زریش نے اسکیطرف دیکھا کل دو دن سے رو رو کر اسنے اپنی آنکھیں سوجا لیں تھیں اور سیاہ جوڑے میں وہ اپنے نواب کا گم مناتی سب کو اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی ۔۔۔
میں نے زیادہ نہیں پڑھا ۔۔۔۔”اسنے جواب دیا ۔۔
کیوں”آئزہ کو حیرت ہوئی
بس میٹرک”اسنے جواب دیا ۔۔
اچھا مجھے لگا تم کالج بھی جاتی ہو “آئزہ بولی تو اسکی آنکھوں میں ایکدم سادام ا گیا ۔۔۔ جسے وہ چھپاتی سر جھکا گئ ۔۔
اور تم”اب اسنے جاناں کیطرف دیکھا ۔۔
لالا جو زیادہ تعلیم نہیں پسند میں نے بھی ایف اے کیا ہے ۔۔ مگر میں پڑھنا چاہتی تھی اگر یہ سب نہ ہوتا تو میں انکو مننا لیتی”جاناں مسکرا کر بولی اسے یوں نارملی بات کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔
اچھا اب ولی لالا کو منا لو”آئزہ ہنسی ۔۔ تو جاناں مسکرا نہ سکی ۔۔
وہ بہت سخت ہیں “ایک بار پھر سے جاناں نے کاہ تو ۔۔ ائزہ خاموش ہو گئ جو نرم تھا اسنے کون سا اسکے ساتھ اچھا کیا تھا ۔۔۔
ابھی وہ کوئ بات کرتی کہ دروازہ دھڑ سے کھلا اور نمل اندر آئ ۔۔
ارے حویلی کی تین بے عزت ہوئ لڑکیاں یہاں بیٹھی ہیں”وہ یہ طنز اچھالتی بولی جو آئزہ کو سخت برا لگا جبکہ جاناں اس سے گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھی نمل کو یہ منظر دیکھ کر تقویت سی ملی ۔۔
زریش الگ گھبرائ تھی ۔۔
ہم کچھ پرسنل بت کر رہے ہیں جاؤ تم”آئزہ نے جاناں کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ اپنے ساتھ بیٹھا لیا جبکہ ۔۔ زریش کو بھی گھور کر بیٹھایا ۔۔
زیادہ مت آڑو تمھارے بھی پر کٹوانا آتے ہیں مجھے”نمل کو سخت زہر لگی تھی آئزہ ۔۔
تو کٹوا دو اگر میرے پر ہوئ تو ہی کٹے گے”وہ اپنی بات پر مشاہ لیتی ہنسی ۔۔ جبکہ جاناں کو بھی ہنسی سی آئ ۔۔۔
زریش ان سب کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
تم نہ زیادہ مت ہنسو ابھی میں نے بی جان کو بلا لیا تو ۔۔۔ طیٹو گی” آئزہ پر تو زور چل نہیں سکتا تھا تبھی وہ جاناں پر جھپٹتی بولی جبکہ ۔۔۔ آئزہ اور زریشش حیران رہ گئیں وہ جاناں کے ریشم جیسے بال کھینچنے میں مصروف تھی ۔۔۔
دو ہٹو”آئزہ چیخی ۔۔۔
مگر نمل کو اپنی بے عزتی برداشت نہیں ہوئ ۔۔
تبھی زریش بھی بیچ میں ائ
چھوڑو “وہ بولی جبکہ نمل نے اسکو تھپڑ دے مارا یہ سب کام وہ دادی کی شے پر کر رہی تھی ۔۔
اور نہ جانے زریش کو کیا ہوا ۔۔ الٹا زریش نے اسکے منہ پر دو تھپڑ دے مارے جس سے نمل ہل گئ ۔۔۔
آج کے بعد مجھ پر ہاتھ مت اٹھانا “وہ غصے سے بولی ۔۔۔
اور نہ ہی ۔۔۔ ان پر “
وہ آنکھیں دیکھتی بولی
تم دونوں کو تو ولی سے ہی ہٹواو گی میں”وہ روتی چیختی نیچے چلی گئ ۔۔۔
جبکہ زریش نے بہادری دیکھا تو دی اب اسکا دم نکل رہا تھا ۔۔
آئزہ اور جاناں اسکی بھیگی آنکھوں کو حیرت سے دیکھ رہیں تھیں ۔۔
اور اچانک آئزہ ہنس پڑی جبکہ جاناں بھی بھیگی پلکوں سے مسکرائی ۔۔
بہادری دیکھا کر رو رہی ہو “آئزہ بولی تو زریش اور رونے لگی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولی گھر میں داخل ہوا تو ساتھ شہریار اور فرہاد بھی تھا ۔۔۔
وہ اندر آئے تو دادی کے ساتھ لیپٹی بری طرح روتی نمل کو پایا تو فرہاد سب سے پہلے آگے بڑھا ۔۔
کیا ہوا تمھیں ” اسنے پوچھا تو نمل ہچکیاں لیتی ولی کو دیکھتے ہوئے سب بتا گئ ۔۔
جبکہ فرہاد نے بھی ولی کیطرف دیکھا شہریار نے زیادہ منہ نہیں لگایا کیونکہ وہ سے جانتا تھا کہ نمل کیسی ہے یہ بات تو ولی بھی جانتا تھا
مگر دادی کے بولنے پر وہ سر ہلاتا اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔
ارے ساری کمبختیں اکھٹی ہو گئیں
ہاے اب میرا کیا ہو گا “دادی چیخی جبکہ شہریار نے بلکل توجہ دینے کی ضرورت نہیں سمھجہ ۔۔
وہ کمرے میں آیا تو آئزہ آج پہلے سے مختلف لگی ۔۔
کسی ہو “وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔
آج پتہ اپکو زریش نے نمل کو تھپڑ دے مارا “وہ جلدی سے اسے بتانے لگی
شہریار اسکے قریب آنے پر اسے غور سے دیکھنے لگا ۔۔
اچھا پھر”اسے اچھا لگا آئزہ کا اس طرح خوش ہونا ۔۔
پھر کیا پھر رونے لگی ۔۔ اور میں اور جاناں خوب ہنسے “وہ بیڈ پر بیٹھتی مسکراتی فریش سی لگ رہی تھی جیسے کئ دنوں کی دھند اسپر سے چھٹ گئ ہو ۔۔۔
لگتا ہے دوسری ہوگئ تمھاری ان سے”شہریار بھی اسکے ساتھ بیٹھا اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا جسے آئزہ نے محسوس نہیں کیا ۔۔
ہاں نہ ۔۔ اس لیے کیونکہ ہم تھوڑی سی ہیں تو بس ہم نے دوستی کر لی”وہ چپکی جبکہ شہریار نے اسکے شانے پر گرفت سخت کی اور اسے اپنے نزدیک کر لیا ۔۔
جبکہ آئزہ کو اب اس جان لیوا قربت کا احساس ہوا ۔۔۔۔
مجھے ے بھی دوستی کر لو “وہ اسکے کے چہرے کے ایک ایک نقش کو نگاہوں میں بسوتا بولا ۔۔
آپ دور ہوں”وہ دوبارہ خود پر کھول چڑھاتی بولی ۔۔
نہیں آج نہیں”شہریار نے اسے مزید نزدیک کر لیا ۔۔ آج میں تمھارے دل سے اپنے لیے تمام بدگمانیوں کو ختم کر دینا چاہتا ہوں”وہ اسکی جھجھکتی پلکوں پر لب رکھ گیا ۔۔
شہریار “آئزہ نے تنبیہ کی ۔
جبکہ شہریار نے اسکے لبوں پر انگلی رکھ کر کچھ بھی مزید کہنے سے روکا اور ۔۔ اسکے نازک وجود کو چاہت سے اپنے قبضے میں کر لیا ۔۔۔۔
وہ خوبصورتی سے اسپر اپنی محبت کی بارش کر رہا تھا ۔۔
آئزہ نے اس بند کو روکنا چاہا مگر شہریار اس کے لیے تیار نہیں تھا ۔۔ تبھی اسے اپنی بانہوں کے شدت بھرے گھیرے میں لے کر ۔۔۔
وہ اسکے فرار کے راستے بند کر گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاناں کمرے میں آنے کا نام نہیں لے رہی تھی جبکہ ولی نے زریش سے بات کرنے کا ارادہ کل پر ڈال دیا ۔۔ وہ کافی دیر سے جاناں کا انتظار کر رہا تھا کہ نمل کمرے میں آ گئ ۔۔
ولی “وہ بولی تو ولی سیدھا ہوا ۔۔۔
ہاں بولو کچھ چاہیے”اسنے پوچھا ۔۔
تم اپنی بیوی سے پوچھو اسنے مجھے کیوں مارا میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا “وہ ہچکیوں سے روتی ولی کے گلے کا ہار بن گئ ۔۔ اور تبھی کمرے میں جاناں داخل ہوئے ۔۔ اور یہ منظر دیکھ کر دروازے پر ہی تھم گئ ۔۔
ولی بس تم پوچھو اس سے مجھے نہیں پتہ ۔۔ دیکھو ا بھی گئ”نمل مزید ولی کے قریب بیٹھتی جاناں کو نفرت سے دیکھتی بولی ۔۔۔
ولی نے نمل کو وہیں چھوڑے اٹھا ۔۔
جاناں اسکے اس طرح سے ٹھنے پر خوفزدہ ہو گئ ۔۔۔
تم نے ۔۔۔ نمل پر ہاتھ اٹھایا”وہ سنجیدگی سے اسکے نازک ہاتھوں سے چائے کا کپ لیتا مدھم آواز میں بولا نگاہ اسکے کانپتے لبوں پر تھی جبکہ گرتی اٹھتی پلکوں کا رقص جان لیوا سا لگا
وہ گھبرائ گھبرائ سیدھا اسکے دل کے تاروں کو چھیڑ رہی تھی اسکے دیکھنے کا انداز نمل نے حیران کن نظروں سے دیکھا ۔۔۔
جبکہ جاناں کی پلکیں بھیگی ۔۔
م۔۔میں نے نہیں مارا”جاناں نے اپنی صفائی دی ۔۔۔
جھوٹی ہے یہ”نمل چیخی ولی جیسے ہوش میں آیا ۔۔اور بگڑے تیوروں سے جاناں کو گھورا ۔۔
معافی مانگو”وہ کڑک لہجے میں بولا ۔۔ جبکہ مزید سکے نزدیک وہ گیا ۔۔۔
جاناں نہ کچھ کرتے ہوے بھی اس سے معافی مانگ گئ اور نمل کا چہرہ کھلا ۔۔۔
ہممم آئندہ خیال رکھنا ورنہ اچھا نہیں ہو گا اڈیٹ”وہ اسکو کہتی ولی کیطرف مسکراہٹ اچھالتی باہر چلی گئ جبکہ ولی ۔۔ جو اسکے جانے کا ہی انتظار کر رہا تھا ۔۔ ایک ہاتھ سے دروازہ بند کیا ۔۔اور اسکے سسکتے وجود کو بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔
اور دروازے سے ہی لگ گیا ۔۔جبکہ جاناں اسکے سامنے تھی اور ولی کی پشت دروازے پر تھی اور چائے ہاتھ میں تھی ۔۔۔
اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے وہ چائے کی سیپ بھرتا اسے سینے سے لگا ۔۔ دیکھ رہا تھا ۔۔
کب تک رونا ہے”وہ بلآخر بولا ۔۔
آپ جانتے تھے میں نے نہیں مارا انھیں”جاناں کی شکواہ کرتی نگاہیں اسپر اٹھیں ۔
ہاں جانتا تھا “وہ بولا ۔۔ جبکہ اپنی جھوٹی چائے اسکے لبوں سے لگا دی جاناں تقریبا ساری اسپر تھی ۔۔۔ چائے پینے کا دل بھی نہیں تھا ۔۔ مگر ولی نے گھوری ڈالی اور وہ ایک سیپ لے گئ ۔۔۔
وہ اب منگیتر کو بھی تو خوش رکھنا ہے نہ”وہ سکون سے بولا جاناں نے اسکیطرف دیکھا ۔۔یعنی ساری زندگی وہ انکی غلم بن کر رہے گی ۔۔
ٹھیک ہے مگر ۔۔۔۔ آپ اس طرح مت کریں”وہ اس سے جدا ہوتی بولی ۔۔
تمھیں کوئ فرق نہیں پڑتا میری کسی اور سے شادی پر”ولی زرا تیور ڈالتا بولا۔
ن۔۔نہیں”جاناں نے سچائ بیان کی ۔۔۔
ولی نے اسکا شانہ تھاما ۔۔ اور چائے کا خالی کپ سائیڈ پر رکھا ۔۔
تم سچکہہ رہی ہو “وہ غصے میں دیکھا ۔۔
اپنی شرائط بھول رہی ہو تم”مزید غصہ کرنے لگا ۔۔۔
م۔۔۔میں جھوٹی محبت کر لوں گی آپکے ضد کرنے پر مگر مجھے واقعی ۔۔اپ سے محبت نہیں”وہ اسکی سختی پر اسے فرق بتانے لگی جبکہ ولی بریڈز پر ہاتھ پھیرتا اسے دھکیل گیا ۔۔۔
بکواس ہے تمھارے دل و دماغ میں صرف میری محبت ہو گی”وہ چلایا ۔۔۔
ن۔۔نہیں ہو گی”جاناں بھی جیسے ضد باندھ چکی تھی ۔۔
تو کس سے کرو گی تم “وہ اسکے بال مٹھی میں جکڑتا بولا ۔۔۔
کسی سے بھی مگر آپ سے کبھی نہیں”وہ اسکو دور کھٹکتی چیخی اور واشروم میں بند وہ گی جبکہ ولی نے چائے کا کپ زمین پر دے کر مارا۔ ۔۔
اور بجتے فون کو اٹھایا ۔۔۔
کیا مصیبت ہے”وہ چیخا
سرکار لوہار ماجد ہے آپ جانتے ہیں آپ ے گاؤں کا اسکو اور اسکی بیٹی کو جو اس سادام نے گولی مار دی ہے دونوں زخمی حالت میں ملے ہیں”صادق بولا تو ۔۔۔ ولی کی کنپٹیوں پھٹنے وک ہوئیں ۔۔۔۔
کیوں مارا اسنے ۔۔ وہ نا حق کسی کو کچھ نہیں کہتا “اسے یقین نہیں آیا جیسے ۔۔ اپنی دشمن کی صفتوں سے وہ بھی واقف تھا ۔۔
وہ جی اسکی بیٹی انکی نظر سے پانی لے رہی تھی سادام نے اسکی جون بیٹی اور اسکی ٹانگیں گولیوں سے بھون دی جی”صادق بتا رہا تھا جبکہ ولی فون بند کر گیا ۔۔۔
تو تم ایسے سامنے آؤ گے”وہ دانت ہچکچا کر بولا ۔۔ اسکے گاؤں کا ایک ایک فرد اسکے لیے اہم تھا اور اب ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاہ شال سیاہ لباس میں وہ یہ ہاتھ میں سگار لیے دوسرے ہاتھ میں شراب کا گلاس تھامے ۔۔۔ ڈیرے پر ہونے والی دعوت سے محظوظ ہو رہا تھا ۔۔جبکہ شہاب اور عنایت اسکی اندرونی کیفیت سے آگاہ تھے مگر وہ کسی سے اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
باقی اسکے دوست اسکے اس پہلی بار ایسا جشن منانے پر ۔۔۔۔ کافی خوش دکھ رہے تھے ۔۔۔
ارے او شہاب باؤ ۔۔۔۔ ہمارا سلگتا دل کا جشن مناؤ “وہ دونوں ہاتھ اٹھاتا اپنی علاقائ پٹھانی موسیقی پر رقص کرتا بلاشبہ جان لیوا لگ رہا تھا ۔۔۔
شہاب نے اسکو گور سے دیکھا اور اسکا ساتھ دیتا شراب پینے لگا ۔۔۔
ہمارا طرف سے سب کا کھلا اجازت ہے ۔۔۔ دشمن گاؤں ک جس عورت ۔۔ جس مرد کو دیکھے گولی سے اسکو چلنا قابل نہ چھوڑے”وہ علان کرتا بولا ۔۔جبکہ ٹھٹھرتی ٹھندی رات میں لکڑیوں کے جلتے الاؤ پر اسنے شراب پھینکی آگ کے شعلے مچل کر جوش میں آئے ۔۔ جبکہ ہا ہولا الگ مچا کیونکہ انکے گاؤں کا سردار آج رقص کر رہا تھا ۔۔۔۔
اے بابا سائیں”اپنے باپ کو دیکھ کر وہ انکے نزدیک گیا ۔۔۔
تو وہ اسکی حالت پر حیران رہ گئے ۔۔
تم ہمارا دل بھلانے کے لیے لڑکی کا انتظام کرو ۔۔۔
ہم شادی کرنا چاہتا ہے “وہ بولا ۔۔
تم سچ کہہ رہا ہے “فضل خان کو یقین نہیں آیا ۔۔
سچ ہی سچ ہے ۔۔ سردار صاحب اڑا دوں گاؤں میں خبر سادام خان سے جو اپنا بیٹی بیاہنہ چاہتا ہے ۔۔ وہ آ جائے”وہ پھر سے اس الاؤ کے گرد رقص کرتا کے فضل خان نےا سکا ہاتھ پکڑا ۔۔
تم گاؤں کا عورت سے شادی کرے گا “فضل خان کو یہ بات پسند نہ آئی ۔۔
ارے بابا سائیں ۔۔۔ تم خود ڈھونڈے گا ہاں ۔۔۔”سرخ آنکھوں سے ۔۔۔ وہ مسکرتے لبوں سے ۔۔۔ انھیں سمجھانے لگا ۔۔۔
اور دوبارہ الاؤ کے پاس جا کر ۔۔۔ وہ ہاد کے ساتھ رقص کرتا ۔۔۔ نہ جانے کیا چاہ رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باہر رات کو نکلی تو ولی کمرے میں موجود نہیں تھا تبھی وہ آسانی سے سو گئ ۔۔ اور جب اسکی آنکھ کھلی وہ تب بھی نہیں تھا تبھی وہ جلدی سے فریش ہو کر کچن میں آ گئ ۔۔۔
جہاں آئزہ بھی آج الگ ہی رنگ میں مسکراتی دیکھائی دے رہی تھی ۔۔۔
تم مسکرا کیوں رہی ہو “جاناں آخر پوچھ بیٹھی ۔۔
کچھ نہیں “آئزہ سٹپٹائ ۔۔۔
تبھی وہ ناشتہ بنانے لگی اب کچھ کچھ ناشتہ بنا ہی لیتی تھی اور آئزہ کی مدد سے اب وہ اچھا ناشتہ بنا چکی تھی اور خوش بھی تھی ۔۔
دادی ہو ناشتہ دے کر وہ چھپ گئ ۔۔ ولی بھی کر کے جا چکا تھا ۔۔۔
زریش نہیں آئ ۔۔نیچے نہ اسنے ناشتہ کیا “جاناں نے یاد دلایا ۔۔
ہاں شہریار کہہ رہے تھے وہ اس ے ملنے جائیں گے مگر ضروری فون کال سے انھیں آج شہر جانا پڑا ہے “اسکی تفصیل پر وہ سر ہلا گئ ۔۔
تبھی رقیہ بیگم کے ساتھ زریش بھی وہیں ا گئ ۔۔۔
دوپہر ڈھل آئ تھی ۔۔ آئزہ اور جاناں اس سے باتیں کرتیں اسے بولنے پر مجبور کر رہیں تھیں جبکہ وہ رقیہ بیگم کے پاس سے کھلائے گے پراٹھے کو بس بس کر رہی تھی جبکہ وہ دونوں ہنسنے لگی ۔۔
تبھی ۔۔ وہ جیسے تھم گئ ۔۔۔
دل پر آہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔
اسکے ارد گرد اس ستم گر کی خوشبو پھیل گئ ۔۔۔
وہ اٹھ کر باہر جاتی کہ باہر سے شور کی آواز پر وہ سب ہی باہر آئیں ۔۔
سادام فضل خان آیا ہے ۔۔ جاؤ پورے گاؤں میں اشتہار لگوا ڈالے ۔۔۔”وہ وہرہ شان سے حویلی میں داخل ہوا ۔۔
سیاہ لباس میں مرجھانے سے وجود کو اگنور کرتا ۔۔ آنکھوں میں بے پناہی انسو لیے کھڑی اپنی بہن کو دیکھنے لگا ۔۔۔
جبکہ ولی اپنے ڈیرے سے بھاگتا ہوا ۔۔ حویلی پہنچا تھا ۔۔۔
دادی بھی غصے سے لال پہلی ہو رہیں تھیں ۔۔۔
جبکہ نمل کا تو دل ہی بیٹھ گیا ۔۔
کیا چیز تھا وہ شخص جو اسکے سامنے کھڑا تھا ۔۔
اور فرہاد کی نظریں اس وجود پر تھیں جسے وہ اس گھر میں پہلی بار دیکھ رہا تھا یعنی زریش پر ۔۔۔
ارے یہ کیوں آیا ہے یہاں آج نکل جا ہمارے گھر کے دروازے ہمارے دشمنوں پر کھلے نہیں”دادی کی چھنگاڑتی آواز پر اسنے رخ موڑ کر دیکھا ۔۔
ہم بڑھاؤ سے بات نہیں کرتا ۔۔۔ ملازم زرا سائیڈ پر ہوں ۔۔”اسکے سرد انداز پر سب کے منہ کھل گئے ۔۔
سادام فضل خان جس حویلی میں تم کھڑے ہو وہ تمھارے سامنے ہے یہاں دو منٹ بھی کھڑا ہونا چاہتے ہو تو تمیز مت بھولنا ۔۔۔
تمھاری بہن کا گھر ہے زرا کمر جھکا کرا نا “ولی مسکرا کر طنز کرنے لگا ۔۔۔
جبکہ سادام نے سگار لبوں سے نکال کر اسکے ہاتھ میں تھاما دی ۔۔
تم زرا چپ ہو کر کھڑا ہو ۔۔۔ تمھارا صورت ہم دیکھنا نہیں چاہتا ۔۔۔”
وہ دو ٹوک بولا کر جاناں کی جانب بڑھنے لگا ۔۔
ولی میں اسکو روکنے کی ہمت جیسے مفود ہو گئ کیونکہ وہ سرپنچ کے ساتھ آیا تھا ۔۔۔
جو اب اندر داخل وہ رہے تھے ۔۔۔۔
جاری ہے