50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28


·
ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 28
وہ بیلا کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔جو ادھر ادھر دیکھتی باہر کا راستہ ناپ رہی تھی ۔۔۔ اسکے انداز سے صاف واضح تھا وہ بھاگنے کے لیے پر تول رہی ہے ۔۔۔
مگر باہر پھرے دار تو کافی سخت تھے وہ اسکی اس نادانی پر جی بھر کر مسکرایا ۔۔۔ اور واچمین کو انٹرکام پر فون کر کے ۔۔۔ اسے کہیں بھی جانے سے روکنے کے لیے منع کر دیا ۔۔۔
بیلا ۔۔۔ اپنی جان میں درختوں کی لمبی روش کی اوٹ میں چھپتی چھپاتی ۔۔۔ مین دروازے تک آ گئ ۔۔مگر اسے یہ دیکھ کر سخت غصہ آیا کہ ۔۔۔ وہاں نور بھی کھڑی تھی اور اسے باہر نکلنے میں مدد دے رہی تھی ہاں اگر نور نہ ہوتی تو یہ بات ہاد خان اسکی معصومیت سمجھتا مگر اب وہ سمھجہ چکا تھا یہ اس چھوٹی سی مگر چلاک لڑی کے کام تھے وہ نا دان نہیں تھا سب سمجھتا تھا ۔۔۔ کہ وہ کیا چاہ رہی ہے ۔۔ اسنے بنا ریسپونس کے دیکھنے پر اکتفا کیا ۔۔۔ اور کافی کا مگ وہیں چھوڑ کر وہ اب نیچے آنے لگا جبکہ بیلا اپنی جیت پر کامیاب سی باہر نکل چکی تھی نور نے ہاتھ جھاڑے اور اندر کی جانب آنے لگی کہ اسنے ہاد کو دیکھا جو باہر کیطرف ہی جا رہا تھا جب سے سادام گیا تھا ۔۔۔ وہ یہیں تھا ایک دن بھی کہیں نہیں جاتا تھا۔
ہاد نے نور پر ایک ترچھی نظر ڈالی اور گاگلز لگا کر وہ باہر نکل گیا جبکہ نور کی جان سلگ اٹھی ۔۔۔۔
بیلا اس وقت اسے دنیا کی سب سے بری لڑکی لگی تھی ۔۔
جو اس کے حق پر ڈاکہ ڈال رہی تھی ۔۔۔
ہاد جا چکا تھا ۔۔۔ وہ بیلا کے لیے نفرت لیے دانت کترنے لگی ۔۔
نہیں اسے انکا پیچھا کرنا چاہیے ۔۔ اسنے کہا ۔۔ اور انکے پیچھے چل دی ۔۔۔۔
بیلا ۔۔ روتی ہوئی آگے جا رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی اسے کہاں جانا ہے ۔۔۔ وہ اپنے شوہر کے پاس کبھی نہیں جانا چاہتی تھی وہ کس قدر اسے مارتا تھا ۔۔۔
وہ خوف زدہ سی ۔۔۔ ادھر ادھر جا رہی تھی ۔۔۔
اگر تھک گئ ہو تو رک سکتی ہو “مسکراتی آواز پر وہ جھٹکے سے پلٹی اور ہاد کو دیکھا جس سے وہ بھاگ رہی تھی وہ تو اسکے پاس آگیا تھا ۔۔۔۔
وہ تیز تیز چلنے لگی ۔۔۔ ۔جبکہ نور درختوں کی اوٹ سے یہ منظر دیکھ رہی تھی اسکے بھاگنے پر ہاد نے بھی بھاگ کر جلدی سے اسکی کلائی کو پکڑ لیا ۔۔۔
بیلا کی کپکپاہٹ وہ محسوس کر سکتا تھا ۔۔۔۔
کہاں جا رہی ہو “اسنے پوچھا ۔۔۔ چاہت سے آنکھیں اب اسکے صاف شفاف چہرے کو دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔
گوری رنگت میں چھپا بے پناہ حسن ۔۔۔ ساری خوبصورتی جیسے سیمٹ آئ تھی ۔۔۔
آپ دور رہیں مجھ سے جانے دیں مجھے ۔۔۔ میں ویسی نہیں ہوں “وہ ہچکی لیتی اسکو گویا سمجھانے لگی ۔۔
ہاد کا دل اس معصومیت پر مر مٹنے کو تھا ۔۔۔
تم تو کیسی ہو “وہ اس کی بیوقوفی پر اپنی ہنسی دبا کر پوچھنے لگا ۔۔جس سے بچنا چاہ رہی تھی ۔۔۔ اسی کے ہاتھ میں ہاتھ دیے کھڑی تھی ۔۔۔
میں میں ۔۔۔۔ وہ تو نہیں ہوں ۔۔۔”وہ پھر الٹے سیدھے لفظ بول گئ ۔۔
اچھا تو تم وہ ہو “ہاد نے جیسے سب سمھجہ ۔ جانے والے انداز میں کہا ۔اور افسوس سے سر ہلانے لگا ۔۔ بیلا نے آنکھیں پٹپٹا کر اسکی صورت دیکھی ۔۔۔
نہیں میں وہ تو نہیں ہوں “وہ ایکدم بولی ۔۔۔
نہ جانے وہ کیا سمھجی تھی ۔۔۔
ابھی تو تم نے کہا تم تم وہ ہو”
میں نے کہا میں وہ نہی۔۔۔۔۔اپ میرا ہاتھ چھوڑیں “اسکی آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے ۔۔اور ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھڑا لیا ۔۔ ہاد کو ہنسی آ گئ ۔۔اتنی بھی بیوقوف نہیں تھی مگر نوے پرسنٹ پکی بیوقوف تھی ۔۔۔
تم کہیں نہیں جا سکتی”اسکو پلٹتے دیکھ ہاد نے اسے روکا۔۔ لہجے میں سختی تھی ۔۔
آپ اچھے انسان نہیں ہیں ۔۔۔”وہ رو پڑی ۔۔۔ وہ اسکی صورت دیکھنے لگا ۔۔۔
یہ بات تو مجھے بھی پتہ نہیں تھی بہت شکریا آپ نے مجھے میری حقیقت سے روشناس کرایا” وہ احسان مند نظر آنے لگا ۔۔۔
بیلا گھبراہٹ میں ناخون کترنے لگی ۔۔۔
جبکہ ہاد نے اسکو ایکدم اپنے نزدیک کیا ۔۔۔۔
جس سے بیلا کا وجود زرد ہوا۔
میں کاٹ دوں”وہ اسکی نازک انگلیوں کو لبوں کیطرف لے جاتا ۔۔ تپتے لہجے میں بولا ۔۔ بیلا کے ہاتھوں کی لرزش سے اسکا دل جوش میں آیا ۔۔اور اس سے پہلے وہ ۔۔۔۔ اسکی نازک انگلیوں کو لبوں میں دباتا ۔۔۔۔ بیلا نے پوری طاقت لگا کر اسکو خود سے الگ کیا ۔۔۔۔
اور بنا اسکیطرف دیکھے بھاگنے لگی ۔۔
جبکہ ہاد بھی اسکے پیچھے ہوا ۔۔۔
اچھا ایم سوری ۔۔ رک جاؤ ۔۔ کہاں جا رہی ہو “وہ چیخا ۔۔۔ جبکہ پتھرہوں کے نیچے آنے پر ۔۔۔ وہ ایکدم گیر گئ ۔۔۔۔
ہاد کے سانس پھول رہے تھے ۔۔۔
آپ مجھے سے دور رہیں ۔۔ دور رہیں”وہ پھولی سانسوں میں روتے ہوئے ۔۔۔ اسکو دورکرنے لگی ۔۔ ہاد اسکے پاس ۔۔۔ گٹھنوں کے بل بیٹھا ۔۔۔
شرافت سے حویلی چل رہی ہو ۔۔یہ ۔۔ میں کچھ کروں ۔۔ویسے روڈ سون سان ہے ۔۔۔ شام بھی بس ہونے کو ہے ۔۔ کیا خیال ہے “وہ مزے سے بولا ۔۔۔ جبکہ ۔۔ بیلا کا دل چڑیا کی طرح گھبرا اٹھا ۔۔۔
بیلا کچھ سمجھے بنا ۔۔ بے اوسان رونے لگی ۔۔
ارے ارے ۔۔اوکے ۔۔۔ یو جسٹ لائک بیبی ۔۔۔”وہ اسکے نزدیک ہوا ۔۔
اب حویلی چلیں ۔۔یہ مزید ورزش کرنا چاہتی ہو “اسنے اسکو بنا ہاتھ لگائے پوچھا ۔۔۔۔
بیلا اٹھی ۔۔۔ جان تو گئ تھی یہ انسان اسے بھاگنے نہیں دے گا جتنا وہ بھاگے گی اسکے پیچھے آئے گا ۔۔۔
تبھی اٹھی ۔۔۔ مگر پاؤں زخمی ہو گیا تھا ۔۔
کافی خون خرابے کی شوکین ہو “وہ اسکو اچانک ہی ۔ بانہوں میں بھر کر بازوں میں اٹھا گیا ۔۔۔۔
بیلا حیران پریشان۔بے بس رونے لگی ۔۔۔۔
آپ مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔ آپ میں چل لوں گی”
میں کسی کو نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔ کسی کے ساتھ ,چیپک جاؤں ۔۔ سو چیپک جاتا ہوں ۔۔۔ اور تمھارے ساتھ تو دل والا معملہ ہے “وہ چلتا جا رہا تھا ۔۔ بیلا خود کو نیچے اتارنے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ کمزور سی تھی ۔۔۔ تبھی ہاد کی گرفت بھی کافی سخت تھی ۔۔۔
سب دیکھیں گے “وہ حویلی کے قریب آنے لگی ۔۔۔۔۔ تو بول اٹھی ۔۔
اچھا ہمارے بیچ کچھ ڈینگ ڈونگ ہے ۔۔ تبھی تم چھپانا چاہ رہی ہو۔ ۔۔”وہ ہنسا کھل کر محظوظ ہوا ۔۔ بیلا کا سرخ چہرہ تپ اٹھا ۔۔۔۔
ہاد نے اسے کچھ فاصلے پر زمین میں اتار دیا ۔۔۔
تم جانتی ہو کہ میرے روم کے بلکل نیچے تم ہوتی ہو ۔۔۔۔
کہیں میں چھت توڑ کر تمھارے کمرے میں نہ آ جاو۔ ۔۔۔ حفاظت کرنا اپنی”وہ بولا ۔۔ تو بیلا اسکی صورت تکنے لگی ۔۔۔
اف ۔۔۔۔ کیسے برداشت کروں”وہ لمبی آہ بھرتا ۔۔۔ اس سے دور ہوتا گیا ۔۔۔
جبکہ بیلا ۔۔۔ پاؤں سے نکلتے خون اور پھر ہاد کی باتوں سے پریشان ہو چکی تھی ۔۔
وہ جلدی سے اندر گئ ۔۔ نور کچن میں ہی تھی ۔۔۔
تم پھر ا گئ”نور کے لہجے میں نفرت تھی شمائلہ نے نور کو دیکھا ۔۔
نور کتنی بدتمیزی ہے”
آپی یہ اچھی لڑکی نہیں ہاد صاحب کے ساتھ چکر چلائے ہوئے ہے “وہ غصہ اتار گئ جبکہ بیلا جو اسے اپنی پکی دوست سمھجنے لگی تھی ان لفظوں پر ڈس ہارٹ ہوتی ۔۔۔ وہ مرے مرے قدموں سے پلٹ گئ ۔۔ جبکہ ۔۔۔
شمائلہ نے افسوس سے نور کو دیکھا ۔۔
اور بیلا کے پیچھے گئ جس کا زخمی پاؤں وہ محسوس کر چکی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے ولی کے کہنے پر لانڈری خود کی اور اسکے سفید کرتے کے ساتھ غلطی سے اپنی سرخ شرٹ بھگو کر وہ باہر آ گئ ۔۔۔ اس میں بلکل ہمت نہیں تھی کہ وہ ۔۔۔۔ مزید لانڈری کرے ۔۔ تبھی رقیہ بیگم سے مدد مانگی اور چپکے سے ملازمہ کو ۔۔۔۔ اپنا کارنامہ دیکھایا ۔۔ تو ۔۔۔۔ ملازمہ نے سر تھام لیا ۔۔
جاناں بیٹی ۔۔ یہ تو کرتا سرخ ہو گیا ۔۔۔”وہ بولیں ۔۔
جی ۔۔۔ اماں ۔۔ “جاناں کو خود بھی نظر آ رہا تھا ۔۔۔ اور وہ گھبرا بھی چکی تھی
اب کیا ہو گا بیٹی “اماں اس سے زیادہ فکر مند دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا اماں انکے پاس بہت کرتے ہیں یہ انھیں یاد نہیں رہے گا آپ ۔۔ پھینک دیں “وہ بولی اور اسے لگا کہ ایس ہی گا تبھی اپنے روم میں آ گئ ۔۔۔۔
اسکے آتے ہی ولی بھی عجلت میں کمرے میں داخل ہوا دونوں کے مابین تین چار دن سے کوئ بات نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔
کیونکہ جاناں اس سے کوئ سوال جواب نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
اور کون سا اسنے جواب دے دینا تھا کسی بات کا ۔۔
سڑا ہوا کریلہ”وہ منہ میں بڑبڑائ ۔اور ٹانگیں اوپر کر کے خود اپنی ٹانگیں دبانے لگی ۔۔۔
ولی کو کمشنر سے ملنے جانا تھا تبھی جاناں کی بڑبڑاہٹ پر توجہ دیے بنا ۔۔۔ اپنے کپڑے دیکھنے لگا ۔۔۔
میرا کرتا کہاں ہے “الماری میں اپنا ایک سوٹ کم پا کر وہ اسکے سر پر پہنچا ۔۔
میں کھا گئ”وہ چڑ کر بولی ۔۔۔۔ ولی اسکے رنگ ڈھنگ دیکھ رہا تھا جب سے ماں بننے والی تھی تب سے ۔۔اسکے مزاج ہی آسمانوں کو لگ گئے تھے ۔۔۔۔ اسکے علاوہ بھائیوں کی واپسی سپورٹ پر وہ مزید چمک اٹھی تھی ۔۔۔
تم جتنی بڑی جگہ گھیرنے لگ گئ ہو تم کھا بھی سکتی ہو اتنی موٹی ہو چکی ہو دل بھی نہ آئے بندے کا “وہ بھی حساب برابر کرتا اسکا کھلا منہ دیکھ کر ایک بار پھر سے الماری میں دیکھنے لگا ۔۔۔
ویسے تو بڑا آپ مجھ پر دل پھینکتے پھر رہے تھے “وہ غصے میں لگی ۔۔
چونٹی کو پر نکلنے لگے ہیں دکھ رہا ہے مجھے”وہ بھڑک کر دروازہ بند کر کے باہر نکلنے لگا جاناں نے منہ لگانا بھی ضروری نہیں سمجھا اسکی طبعیت اسے سخت عاجز کر چکی تھی ۔۔۔
تم مجھے بتاؤ گی میرا کرتا کہاں ہے”وہ دوبارہ اندراتا چیخا ۔۔۔۔
ولی آپکی الماری میں ہزاروں کے حساب سے کپڑے ہیں اپکو ایک کرتے کی پڑی ہے “وہ تمیز سے بولی ۔۔۔
تو ولی نےا س کیطرف حیرانگی سے دیکھا ۔۔۔
کم ازکم وہ اس سے درست جواب کی مزید امید نہیں کر رہا تھا ۔۔
جان ولی ۔۔ میری ہر چیز میرے لیے قیمتی ہے اٹھ کر مجھے ڈھونڈ کر دو “وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا ۔۔۔ تو جاناں کچھ خفیف سی ہو گئ ۔۔
وہ ۔۔ وہ کرتا ۔۔۔ پھینک دیا م۔۔میں ۔۔ مجھ میں نے”وہ اٹکتے لہجے میں اس سے ڈرتی بتا ہی گئ ۔۔۔
ولی نے آنکھیں بڑی کر کے اسکیطرف دیکھا ۔ ۔
جاناں اسکیطرف دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔ اسکی سنجیدگی سے خوف زدہ لاگ ہوئ
ولی اسکے نزدیک آ یا ۔۔ ماتھے پر کئ بل تھے ۔۔۔۔
کیوں پھیکوایا ہے “اسنے پوچھا جاناں کو وقت کے ساتھ اپنی سنگین غلطی کا احساس ہو چلا ۔۔ وہ کافی پوزیسیو لگ رہا تھا ۔اپنی چیز کے بارے میں۔۔۔۔
وہ م۔م۔میں نے اپنا ۔۔۔ میرا مطلب ۔اپ نے کہا لانڈری خود کرنا ۔۔۔ تو ۔۔ میں مجھے نہیں دھونا آتے کپڑے ۔۔۔
وہ کرتا ۔ خراب ہو گیا میری شرٹ کا رنگ چڑھ گیا اسپر ۔۔”
وہ منہ بناتی بولی ۔۔۔
ایسے ہی تو میں نہیں کہتا ۔۔۔ تم نمل سے سیکھ لو کچھ ۔۔۔ کتنی سلیقہ مند ہے وہ ۔۔ ہر چیز آتی ہے اسے ۔۔پرفیکٹ “
شادی بھی اسی سے کرتے پھر”حسب توقع وہ سڑ کر بولی ۔۔۔
نہیں میرے نصیب میں بد سلیقہ لڑکی لکھی گئ تھی”وہ کہتا اٹھا اور دوبارہ الماری کھول لی ۔۔ غصہ تو آیا ۔۔۔ اسپر مگر ۔۔ نہ جانے ۔۔ اسکے بتانے کے طریقے سے ہی غصہ اڑن چھو ہو گیا ۔۔اپنی دلی کیفیت سے وہ خود واقف ہو رہا تھا رفتہ رفتہ ۔۔بات اسکی قربت سے آگے بڑھنے لگی تھی پہلے صرف اسکی قربت میں وہ خود کوپرسکون محسوس کرتا تھا ۔۔۔ مگر اب اس سے بحث کر کے چیڑا کر بھی اسے اچھا لگنے لگا تھا ۔۔ خاص طور پر نمل کے نام سے ۔۔۔ اور دوسرا ۔۔۔۔ اسکا بھرا بھرا وجود اور ایک احساس کہ اسکے وجود میں اسکی نشانی ہے ۔۔ یہ سب مل کر ولی کو اسکی محبت پر قائل کر رہے تھے ۔۔۔۔
مگر وہ کبھی اسکے سامنے اس چیز کا اظہار نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اسکے لیے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لازم و ملزوم ہوتی جا رہی ہے اسکی اپنے کمرے میں موجودگی ۔۔۔ اسکا اسے ولی کہنا ۔۔۔ یہ سب مل کر ۔۔اسکے دل کو جاناں کے قدموں میں لا چکے تھے ۔۔ دل تھا کہ اظہار کے لیے مچل اٹھا تھا ۔۔ جبکہ ۔۔۔ وہ دل پر سختی سے پھیرا بیٹھا چکا تھا چاہنے کی گستاخی وہ کر چکا تھا مگر اظہار نہیں کر سکتا تھا اسکی انا اسے جھکا ہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
اسنے دوسرا کرتا نکالا ۔۔۔ اور تیار ہو کر آئینے کے سامنے بال بناتا وہ پیچھے اسکے بیڈ پر لیٹے وجود کو دیکھنے لگا ۔۔۔
اسکی نظروں کی سخت تپش تھی جاناں نے بھی اسی لمہے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔
اور دونوں تا دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے کمرے کی خاموشی ۔۔۔۔ بڑھنے لگی ۔۔
آنکھوں سے آنکھوں کا تصادم بہت زور آور تھا ۔۔۔۔
ایک کی آنکھوں میں حق تھا ۔۔۔ چاہت کے عناصر تھے جبکہ جاناں کی نگاہوں میں شکووں کا ڈھیر تھا ۔۔۔
تمھیں گاؤں دیکھانے کل لے جاؤ گا ۔۔۔۔ “وہ اچانک بولا ۔۔۔
کیوں”وہ چہرے کا رخ موڑ گئ ۔۔۔
وہ جب سے یہاں آئ تھی حویلی میں ہی قید تھی ۔۔۔
میری مرضی”وہ سکون سے بولا ۔۔۔
پھر ٹھیک ہے آپکی مرضی ہی اب تک چلتی آئ ہے ۔۔میری مرضی تو خیر کسی چیز میں شامل نہیں”وہ بستر سے اٹھنے لگی ۔۔۔۔
تمھاری مرضی کس چیز میں ہے”ولی نے اچانک اسکی کمر میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔۔ جاناں اسکے سینے سے ا لگی ۔۔۔
ولی کی لو دیتی نظروں میں وہ زیادہ دیر نہیں دے سکی ۔۔
کیوں مجھ سے چرا رہی ہو نظر”ولی کو اچھا نہیں لگا ۔۔۔ اسکا نگاہ پھیرنا۔۔۔
آپ کیا چاہتے ہیں “وہ اسکیطرف دیکھ کر بولی ۔۔۔
جب تم میرے پاس آئ تھی تب ایسی نہیں تھی “وہ بول اٹھا ۔۔۔
آپ نے مجھے بنا دیا ۔۔ ایسا ۔۔۔ میں تیار رہوں گی ۔۔ آپکے وقت کا۔ مگر مجھے شہر لے کر جائیے گا ۔۔۔ “اسکے حصار میں کسمساتی وہ دور ہوتی ۔۔اسکا پہلاوا درست کرتی ۔۔ عام سے لہجے میں بولی ۔۔۔
ولی کو خود پر شدید غصہ آیا ۔۔۔۔
آخر اسکی آنکھوں میں جتنی لو جتنی طاقت تھی اتنی ہی وہ سرد کیوں تھی ۔۔۔۔ کیوں آخر ۔۔۔
کیا اسے ہی زیر ہونا تھا پہلے ۔۔۔
وہ اپنا سامان ۔۔ اٹھاتا وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔
ایک شعر جو بہت پہلے کہیں سنا تھا یاد آ گیا اسے ۔۔ جو آج اسکی زندگی پر پورا اترتا تھا ۔۔۔
اپنی اپنی انا میں گم ۔۔۔۔
میں محبت اور تم “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میم یہ ہوٹل پرائیویٹ ہے “عنایت نے عاجز آ کر کہا ۔۔۔۔
جبکہ وہ انگریزی لڑکی پھر بھی اندر چلتی گئ ۔۔۔
اتنا بڑا ہوٹل پرائیویٹ کیسے ہو سکتا ہے فولش مین”وہ لڑکی خالص انگریزی میں بڑبڑاتی ہوئ ۔۔۔۔
اندر آ گئ ۔۔۔۔ اسکی آنکھیں اس انوکھے ہوٹل کو دیکھ کر چندھیائ تھی ۔۔۔۔
ایک بہت خوبصورت ہال روم ۔۔۔۔ اور اسکے گرد بنے کمرے ۔۔۔۔
اور پھر دوسری منزل اور تیسری منزل پر بھی اسی طرح بنے کمرے ۔۔۔ ہوٹل کا جدید طرز تعمیر اسکا دل ایکدم خوش ہوا
اور پھر وہ ریسیپشن تلاش کرنے لگی مگر یہاں ریسپشن نہیں تھا ۔۔۔
سادام اور شہاب جو ابھی ابھی داخل ہوئے تھے اس لڑکی کو اور پھر عاجز سے کھڑے ۔۔۔ عنایت کو دیکھنے لگے ۔۔
خان میں اس لڑکی کو کب سے کہہ رہا ہوں یہ ہوٹل پرائیویٹ ہے مگر ۔۔ یہ تو مان کر ہی نہیں دے رہی”عنایت چیڑ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ لڑکی مڑی ۔۔۔ جینز شرٹ میں اسکی خوبصورتی پر چند پلوں کے لیے ۔۔ دم ساد گئے دونوں ۔۔اور پھر ۔۔ نگاہیں خیر کر دینے والی خوبصورتی جو دوسرے کو بری طرح بہکا دے ۔۔۔ عنایت کے کھنکھارنے پر دونوں ہوش میں آئے ۔۔۔
شہاب تو کھانسنے لگا ۔۔۔
سادام کے دماغ نے جلدی سے حرکت کی تھی ۔۔۔
ایکسکیوزمی مس بیوٹی ۔۔۔ یہ پرائیویٹ ہوٹل ہے بٹ ۔۔۔ تم کو پھر بھی ویلکم “
انگریزی لہجے میں وہ بڑی خوبصورتی سے بولا ۔۔ تو وہ لڑکی تو اسکے پٹھانی لب و لہجے پر فدا سی ہو گئ ۔۔۔۔
اوہ یو آر سو سوئیٹ”وہ مسکرائی ۔۔۔
یہ کیا بےغیرتی ہے”شھاب نے پاؤں پٹخے ۔
بیٹے اب تو دیکھتا جائے گا ۔۔۔ “وہ شانہ تھپتھپاتا ہوا ۔۔۔ اسکا نازک ہاتھ تھام گیا ۔۔جبکہ ۔۔۔ کمرے سے تھک ہار کر آخر اسکی ضد پوری کر کے نکلنے والی ۔۔۔ زریش باہر نکلی ۔۔۔ تو یہ سب دیکھ کر ۔۔۔ دنگ ہی رہ گئ ۔۔۔
آئیے میم”وہ احترام کی انتہا پر تھا ۔۔
شہاب کا بس نہیں چلا اس ٹھرکی پٹھان کا سر پھاڑ دے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے