50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 36
گھر کو راخ کی صورت دیکھ کر اسکے اندر جیسے ابال اٹھے تھے سرخ چہرے سے اسنے اپنا جلتا گھر دیکھا ۔۔۔
اور مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا آگے پیچھے کئ گاڑیاں رکیں تھیں ۔۔۔ سب حیرت میں تھے کہ یہ کیسے ہوا ۔۔
شاید الیکڑک فالٹ ہو “ولی نے افسوس ظاہر کیا ۔۔۔ تو سادام نے بھی اسکی تائید کی فیروز نے دونوں کو خون خوار نظروں سے دیکھا ۔۔
یہ میرا گھر تھا فیروز خان کا یہاں پر ہر چیز پرفکٹ تھی یہ ممکن ہی نہیں کہ یہاں پر الیکٹرک فالٹ ہو”وہ غصے سے چلایا ۔۔۔
سادام اور ولی نے بیقوقت اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
اسکی تلملاہٹ دیکھ کر دونوں کو ہی اپنی اپنی جگہ سکون ملا تھا ۔۔۔
اس سے پہلا بھی الیکٹرک شاٹ ہوا تھا۔ ۔۔ کیوں گھبراتا ہے سائیں گھر ہی تو تھا جل گیا”سادام نے شانے اچکائے تو فیروز نے ان پر لعنت بھیجی ۔۔۔
اور پھر سے راخ کو گھورنے لگا ۔۔۔
اسکے ملازم آگ کو بجھا رہے تھے گاؤں کے لوگ رفتہ رفتہ جمع ہونے لگے تھے فیروز کی حالت ایسی تھی کاٹو کے بدن میں لہو نہیں ۔۔
سادام نے ہاتھ جھاڑے اور اپنی گاڑی میں بیٹھا ۔۔۔۔
ولی بھی اپنی گاڑی میں سوار ہوا ۔۔۔
جبکہ عنایت کو وہ کہہ چکا تھا وہاں کھڑا رہے ۔۔۔ سب ادھر ادھر ہوئے تو ۔۔ فیروز کا ملازم اسکے نزدیک آیا ۔۔۔
جبکہ فیروز بھی دھول اڑاتی دور جاتی گاڑیوں کو چبھتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
مجھے لگتا ہے سرکار انھیں معلوم ہو گیا ہے”وہ بولا تو فیروز نے کھا جانے والی نظروں سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
اور اچانک اسکا گریبان پکڑ کر اسکے دو تھپڑ لگا دیے ۔۔۔
اپنی زبان سے دوسرا کوئ لفظ نکلنے سے پہلے ہزار بار سوچ ۔۔۔ آج اگر تو اس (گالی) سے ڈر کر نہ بھاگتا تو ۔۔۔۔ انکی خوشیوں کو بھی گھن لگتے جو میری بربادی پر منہ دیکھا کر دفع ہو گئے ۔۔۔۔۔”
وہ دھاڑ رہا تھا ۔۔جبکہ ملازم ا سکے سامنے ہاتھ جوڑتا رہ گیا ۔۔
فیروز کے تن بدن میں ایسی آگ لگی تھی کہ بھجائے نہ بھجے ۔۔
ہاں اگر سادام خان جان چکا تھا کہ وہ اسکا دشمن ہے تو ٹھیک ہے سامنے آ کر ہی ۔۔۔ سہی ۔۔وہ اسکو جان سے مر دے گا ۔۔۔
کیونکہ جو کچھ اسکا تھا اسپر سادام ناگ بن کر بیٹھا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی حویلی کے سامنے رکی ۔۔۔ تو سادام فضل خان سکون سے گاڑی سے باہر نکلا ہاں اسپر لگا الزام پوری دنیا کے سامنے ہٹا نہیں تھا مگر آج اسنے اپنی بیوی کی آنکھوں سے گرے تمام آنسوں کا پہلا بدلہ لے لیا تھا ۔۔۔۔
ہاد فضل خان بھی باہر نکلے ۔۔۔
تمکو کیا لگتا ہے کس کا کام ہے”فضل خان عجیب ششوپنج کا شکار تھا ہاد بھی وہیں رک گیا جبکہ شھاب بھی وہیں آ گیا ۔۔ہال میں خواتین بھی جمع تھیں سب سناٹے کی زد میں سادام کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے ۔۔۔ جو وہ کہے گا ۔۔۔ سب سچ ہو گا ۔۔۔
اسکا اپنا ہی ہو گا ۔۔ بچپن سے نوٹنکی کرتا آیا ہے سالہ”سادام نے سرد لہجے میں شانے آچکا کر کہا ۔۔ تو فضل خان نے گھورا ۔۔
تمھارا دماغ درست ہے ۔۔وہ اپنا گھر کیوں جلائے گا”
یہی تو بات ہے بابا سائیں ۔۔۔ لوگ جلا کیسے لیتا ہے اپنا گھر ۔۔۔۔”وہ اتنی سختی سے بولا ۔۔۔ کہ سب حیران رہ گئے ۔۔۔۔
اسنے مدتوں بعد اپنی ماں کیطرف دیکھا ۔۔طنز بھری نظریں تھیں ۔۔۔
۔۔ تو ۔۔۔ سب کی نگاہ اسکی نگاہ کے تعقب میں گئ ۔۔۔۔ وہ دیکھ رہا تھا دو دن سے وہ کیا کر رہی تھی ۔۔۔ سادام وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں عنایت بولو” اسنے فون اٹھایا جبکہ کمرے میں آتی زریش کو بھی دیکھا ۔۔۔۔
خان یہاں تو سب جل گیا”عنایت بولا ۔۔۔
ہاں تو چھوڑنا بھی کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔ اسنے ہمارا بیوی کے ماں باپ کو جلا ڈالا ۔۔۔۔ ہم اسکا کچھ چھوڑتا ۔۔۔۔ تم ایسا کر ۔۔ اب وہ واپس آ جا ۔۔۔ “اسنے کہا ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ زریش کی پھیلتی آنکھوں کو اسنے دیکھنے کے باوجود بھی اگنور کر دیا ۔۔۔
عنایت اس سے اب بھی بات کر رہا تھا جبکہ ۔۔ زریش خود کو ہوا میں معلق محسوس کر رہی تھی اسکے ہاتھ پاؤں کانپ اٹھے تھے آنسوں کا ایک گولہ گلے میں پھنسنے لگا ۔۔۔۔ جو اب آنکھوں سے نکلنے کو بے تاب تھا ۔۔۔
کچھ دیر کے بعد اسنے فون بند کیا ۔۔۔۔ اور زریش کی جانب دیکھا ۔۔ مگر بولا کچھ نہیں ۔۔۔
جبکہ زریش کی اب ہچکیاں بندھنے لگی تھی ۔۔۔۔
وہ سادام کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔ سادام بھی خاموشی سے اسکی صورت دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اور جب اسکا سانس گھٹنے لگا ۔۔اور وہ بچوں کیطرح رونے لگی ۔۔۔ تو سادام نے ہاتھ بڑھا کر ساری دیواریں بیچ کی خود ہی گیرہ کر ۔۔۔ اسکو سینے سے لگا لیا ۔۔
زریش بچوں کیطرح سسکیاں بھر رہی ۔۔۔۔ تھی
سادام اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا ۔۔۔
وہ۔۔۔اماں ابا تو ۔۔معصوم تھے ۔۔۔
آپ ۔۔اپ جانتے ہیں کہ سادام ۔۔۔ میرے ابا صرف ایک کسان تھے ۔۔۔۔
اور اماں ۔۔۔ اماں “وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی زخم جیسے ہرے ہو گئے ۔۔۔۔ سادام نے اسے خود میں مزید بھینچ لیا ۔۔۔
یہ وہ لڑکی تھی جس کے بنا اسکے لیے ایک سانس لینا بھی مشکل تھا ۔۔۔ ہاں اسپر سب گناہ معاف تھے ۔۔۔۔
ہاں اسنے اسکے لیے اپنے اصول توڑ دیے ۔۔۔
ہاں وہ اسکا عاشق تھا ۔۔بھلے پھر وہ اس سے محبت کرتی یہ نہ کرتی ۔۔۔۔
وہ اسکی تھی ۔۔ اور جب وہ اسکی تھی ۔۔۔ تب وہ کیوں اسکے کسی قدم کا منتظر رہتا ۔۔۔
خود میں اس کو بھینچ کر وہ اسکے سارے درد چن لینا چاہتا تھا ۔۔ مگر ۔۔ اسکے آنسوں نہیں رک رہے تھے ۔۔۔۔
فیروز سے بدلے پر اسکے زمیر نے اسے اور سختی سے اکسایا تھا ۔۔ اسنے اسکو زلیل کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ایک ایک حرکت کا جواب دہ تھا ۔۔۔ اسکی بہن اسی کی وجہ سے آج اسکی بیوی تھی جس کی شکل بھی وہ کبھی نہ دیکھے ۔۔۔۔
اے دلبر ۔۔۔۔ تم جتنا روے گا ہم اسکو اتنا درد ناک سزا دے گا”اسکا چہرہ اپنے سامنے کر کے ۔۔۔ وہ اسکے بال اسکے چہرے سے ہٹاتا ۔۔۔۔ بولا ۔۔۔
زریش نے اسکے ہاتھ پکڑے ۔۔ اور بے تابی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
م۔۔مجھے ۔۔۔ میں ۔۔نے اپکو ۔۔ غل غلط سمھج۔۔۔۔۔”اسکے لبوں سے اسکے لفظ بڑی چاہ سے چن کر ۔۔وہ خود کو اسکی محبت سے سیراب کر رہا تھا ۔۔۔
محبت چاہت عشق اسکے لمس کی شدت میں چھپا تھا ۔۔۔
زریش اسکی شدت کو سہہ رہی تھی ۔۔۔
سادام نے اسکی گردن میں سختی سے ہاتھ ڈال کر مزید اسکو خود میں جکڑ لیا ۔۔۔۔
زریش کی سانسیں ٹوٹنے لگی تھی ۔۔۔۔
سادام اہستگی سے اس سے جدا ہوا ۔۔۔۔
تم تو ہمارا جاہل سا محبوب ہے ۔۔۔۔ تم چھوٹی چھوٹی باتیں کر کے ۔۔ہمارا دل میں راج کرتا ہے ۔۔۔ ایسا بڑا بڑا باتیں کر کے ۔۔ ہمکو سزا پر مت اکسایا کر ۔۔۔ “چاہت لٹاتا لمس اسکے چہرے پر بکھرنے لگا ۔۔ آپ آپ مجھ سے خفا نہیں”وہ اسکے لمس پر گھبراتی شرماتی ۔۔۔ بولی ۔۔۔
ناراض اس سے ہوتا ہے جس میں دم خم ہو ۔۔۔ تگڑا محبوب ملتا ہم تب ناراض ہوتا ۔۔۔۔ اب ایسا چوہیا سا تو محبوب ہے کیا ناراض ہو کر ۔۔۔۔ اسکو ہلکان کرے”پیچھے تکیوں سے ٹیک لگاتے ہوئے وہ اسپر اپنے دماغ کی گوہر فشانی کرنے لگا جبکہ زریش حیرت سے خود کو چوہیا ۔۔ سن کر ۔اسکی شکل دیکھنے لگی ۔۔
مطلب ۔۔ آپ مجھے چوہیا نواب جی “وہ خفگی سے اسے دیکھتی اس کے پاس سے اٹھتی کے ۔۔۔ سادام نے اسکا ہاتھ پکڑ کر خود کے پاس گیرہ لیا ۔۔
تم چور ہے افسوس ۔۔ اس گاؤں کے راجہ کا رانی چورنی ہے
تمکو کچھ عجیب نہیں لگا”وہ اسکے ریشمی بالوں کو لبوں سے چھوتا بولا ۔۔۔
آپ نے اسکو شاپینگ کیوں کرائ پھر”زریش نے آنکھیں دیکھیں ۔۔
نکال لے گا ان آنکھوں کو ۔۔ تمیز سے رہ ۔۔ بار بار بتاے گا نہیں”وہ گھور کر بولا ۔۔۔
تھوڑا سا بھی نہیں “زریش معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولی ۔۔ اسکی محبت پر آج دل سے مشکور ہوئ تھی ۔۔۔
اسکی محبت اسکے لیے کتنی حسین کتنی پر اعتماد کتنی خوبصورت تھی۔ ۔۔ کھوٹ اسکی محبت میں تھا کہ وہ اعتبار نہ کر سکی جبکہ سادام نے ہمیشہ اسکے ہاتھ میں اعتبار کی کڑی تھما کر اسے معتبر کیا تھا ۔۔۔
مرد محبت کرے ۔۔۔ تو دنیا کا خوبصورت منظر عورت کے گرد کھینچ جاتا ہے ۔۔۔ مگر وہی مرد اعتبار دے ۔۔۔ تو عورت کے لیے ہر چیز بے معنی ہو جاتی ہے ۔۔ پھر وہ اس مرد پر اپنی تمام وفائیں نچھاور کر دے اپنی جان اسپر سے وار دے تب بھی کم ہو ۔۔۔۔
اور آج اسکے دل میں سادام خان کے لیے عشق کا پودا کھل اٹھا تھا ۔۔۔
بلکل نہیں”اسکی کمر پر حصار بندھتے ہوئے ۔۔۔ وہ اسے اپنی پناہوں میں جکڑ گیا ۔۔ جبکہ زریش ۔۔۔ نے خود کو اسکے حوالے ۔۔ اپنی چاہت سے کر کے ۔۔ اپنی محبت کو معتبر کر دیا تھا ۔۔۔۔ رات کے آنچل نے دونوں کو آغوش میں بھر لیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلکل باپ پر گئ ہے یہ “اسنے چیڑ کر اپنی ماں کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
جو روتی ہوئی بچی کو سمبھال رہیں تھیں اب تک جاناں نے اسکا نام نہیں رکھا تھا ۔۔۔۔ اور ولی سے بھی اس وقت وہ چیڑی بیٹھی تھی ۔۔۔۔
جاناں بچے نام تو رکھو کوئ بچی کا “انھوں نے نرمی سے کہا ۔۔
ہاں ۔۔ اسکے باپ کو پرواہ ہے”وہ تکیوں سے ٹیک لگاتی بولی ۔۔۔۔ اسکی کمر میں بھی درد کی لہر اٹھ رہی تھی ۔۔۔
اچھا تو میری بیٹی کو پرواہ ہو رہی ہے”وہ معمولی سا مسکرائیں ۔۔۔
تو جاناں نے انکی طرف دیکھا ۔۔
بلکل نہیں ۔۔ مجھے بلکل پرواہ نہیں”جاناں نے نفی کی ۔۔۔ تو وہ سر ہلا گئیں جاناں نے چور نظروں سے ماں کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
وہ اپنے دل کی بے چینی سے جیسے اب تنگ آنے لگی تھی ۔۔
وہ ظالم تھا ۔۔۔ اسکے ساتھ اسنے کتنا ظلم کیا تھا ۔۔مگر اسکی مختصر سی توجہ کیوں اسے اسکیطرف مائل کر رہی تھی ۔۔۔
وہ نہیں سمھجہ پا رہی تھی مگر اپنے دل کو سختی سے ڈپٹ کر ۔۔ اسنے گویا خود پر پھر سے لاپرواہی کا کھول چڑھا لیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کا دن اسکی زندگی کا حیران کن دن تھا ۔۔۔
اس ظالم کے چنگل سے کبھی نکلنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا ۔۔ جس سے آزاد ہو کرا ج وہ کسی اور کی منکوحہ بن گئ تھی ۔۔
چوڑیاں اتارتے ہوئے ۔۔۔ وہ اپنے گزشتہ دن سوچ رہی تھی ۔۔۔
کیا وہ اسکی کمزوری نہیں جانتا تھا ۔۔ہاں وہ نہیں جانتا ہو گا ۔۔۔
اسکے اندر کے نقص کو وہ نہیں جانتا ہو گا ۔۔۔
یہ خیال آتے ہی اسکا دم گھٹنے لگا ۔۔ اور گٹھنوں میں منہ چھپا کر وہ رو دی ۔۔۔۔
کھڑکی پر اچانک کھٹکے کی آواز آئ تو وہ ۔۔ چونک کر سر اٹھا کر اس طرف دیکھنے لگی ۔۔۔ جس میں سے اندر اترتے ہاد ۔۔ کو دیکھ کر ۔۔ وہ رونا بھول بھال کر ۔۔۔ اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔۔
آہ آہ “وہ کراہایا ۔۔۔
بیلا نے آنسو صاف کر کے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
ہوا کیا تھا ۔۔
آف مار دیا ۔۔۔ “وہ بازوں سہلاتا بولا ۔۔۔
اور بیلا کیطرف دیکھا جو جھک کرا سکو دیکھنا چاہ رہی تھی اور اسکے دیکھتے ہی ایکدم وہ سیدھی ہوئ اور احساس ہوا اب وہ اسکے کمرے میں ہے ۔۔۔
آپ آپ یہاں کیوں آئے ہیں”وہ بولی ۔۔۔
لو اپنی زوجہ سے نہ ملنے آتا ۔۔۔ مگر یہ کم بخت کیل بازو زخمی کر گئ”ہاد نے بازوں پھر سے سہلایا اور بیلا کی نگاہ اسکی شرٹ پر لگے خون پر گئ ۔۔۔
آپکے بازوں سے خون ا رہا ہے”وہ ایکدم بولی ۔۔ ہاد مسکرا دیا ۔۔۔
تو آپ کس لیے ہو ۔۔۔ “وہ گھمبیر لہجے میں بولتا ۔۔ اسکو کھینچ کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔
اور اسکو فرست سے دیکھنے لگا ۔۔۔
بیلا ۔۔۔ کا چہرہ سرخ پڑ گیا جبکہ دل کانوں میں دھڑک اٹھا ۔۔۔
اپ۔۔”
شش یار تم میں کیا جادو ہے ۔۔۔۔ کہو گیا ہے بندہ تم میں”اسکے چہرے سے بال ہٹاتے ۔۔۔ وہ بولا ۔۔۔
بیلا اس سے دور ہوئ ۔۔۔۔
ہاد مسکرا دیا ۔۔۔۔
اور ابھی وہ اسکے گھبراے شرمائے چہرے پر مزید غلاب کھلاتا جو کے وہ کھلانے آیا تھا ۔۔ دروازہ کھلا ۔۔۔ دھڑ کی آواز سے ۔۔۔
بیلا نے حونک نظروں سے شھاب اور عنایت کو دیکھا ۔۔
جبکہ ہاد کا دل کیا ۔۔۔ کہیں ڈوب کر مر جائے آج ۔۔یہ ان سب کے گلے گھونٹ دے ۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا اب وہ اسکا کیا حشر کریں گے ۔۔اسکی میسنی صورت دیکھ کر بیلا کے لب اپنے آپ مسکرا اٹھے جبکہ ہاد نے مسکینت سے دونوں کیطرف دیکھا ۔۔
سادام عنایت سادام کو بلاؤ”
شھاب نے منہ پر ہاتھ پھیرہ ۔۔۔۔
بچو تو بچ اب”شھاب کے کہنے کی دیر تھی کہ ۔۔۔ ہاد دوڑ کر اس تک پہنچا ۔۔۔
لالا لالا “اسکی بے چارگی پر بیلا ہنس پڑی جبکہ اسنے گھورا ۔۔۔
تمھیں تو اچھے سے پوچھو گا جتنی معصوم میں سمجھتا ہوں اتنی ہو نہیں ۔۔ یار دروازہ تو لاک کرتیں”وہ اسکے نزدیک ا کر اچانک اسکے گال پر اپنا دھڑکتا لمس چھوڑتا آنکھ مارتا باہر شھاب کے پاس بھاگا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے