50.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 32
اگلی صبح اسکی آنکھ کھلی اور اسنے کروٹ لینا چاہی تو درد سے ایکدم کراہ اٹھا ۔۔۔۔۔ اور اسکی آہ سنتے ہی زریش کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔
نواب جی”وہ اس تک پہنچی اور شاید کی دنوں بعد سادام نے اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔۔۔
کیا وہ بھول گئ تھی وہ تو اسکے ماں باپ کا قاتل ہے ۔۔۔۔
وہ کیوں اسکی تامداری میں لگی ہوئ ہے ۔۔۔ کیوں کر رہی اسکی فکر
رات بھی اسنے اسکو اپنے قریب محسوس کیا تھا ۔۔
مگر سادام نے تادیر اسکی جانب نہیں دیکھا ۔۔۔۔
نگاہ پھیر لی ۔۔۔
آپ کو درد ہو رہا ہے”زریش اسکی بے رخی پر آنسو پیتی پھر سے بولی ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف جواب دیے بنا ۔۔ کروٹ لے لی۔ ۔۔۔
اور وہ نگاہیں بند کرتا ۔۔۔۔ کہ اسکی سسکیوں کی آواز کانوں میں پڑی ۔۔۔۔
آپ مجھ پر غصہ کر لیں مگر اس طرح مت کریں ۔۔۔ میں ۔۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں میں نہیں جانتی تھی لالا یہ کرنے آئیں ہیں”وہ اسکے مظبوط بازو پر اپنا نازک سرد ہاتھ رکھ کر بولی ۔۔۔
کیوں کیا تمھیں یقین ہو گیا ہے ۔۔۔ تمھارا ماں باپ کو ہم نے نہیں مارا ۔۔۔ جو ہماری پرواہ ہو رہی ہے”بند آنکھوں سے سوال کیا گیا ۔۔۔۔
یہ شاید اب ایسا نہ لگتا ہو “
زریش کے رونے میں مزید اضافہ ہو گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ سادام نے اکتا کر موبائل اٹھایا ۔۔۔
ہاں عنایت ۔۔۔ کمرے میں او”اسنے کہا اور صرف دو منٹ بعد دروازے پر ہونے والی دستک پر زریش خود ہی پیچھے ہٹی اور صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
عنایت اندر آیا۔ ۔۔۔
کیسی طبعیت ہے خان “وہ موآدب سا پوچھ رہا تھا ۔۔۔
ہمیں کوئ دوائ دے ۔۔۔ درد ہو رہا ہے ۔۔۔ “وہ نیچلے ہونٹ کو دانتوں میں بے دردی سے بھینچتا ضبط کرتا بولا ۔۔۔
زریش نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔ یہ بات وہ اسے بھی تو بتا سکتا تھا کہ سکتا تھا ۔۔ وہ دل و جان سے اسکی مدد کرتی ۔۔
دل و جان سے”اچانک ہی وہ اپنے خیال پر رک گئ ۔۔۔
یہ تو وہ شخص تھا جس نے اسکے ماں باپ کو جلا دیا ۔۔ کتنی بے دردی سے ۔۔۔۔
ایسا۔بھی تو ہو سکتا ہے جیسا وہ کہہ رہا ہو وہی سچ ہو “آج مہینے گزر جانے کے بعد اسے یہ خیال آیا تو دل ڈوب سا گیا ۔۔۔
وہ جو کبھی اپنی بات کی صفائ نہ دے ۔۔ وہ ہزار ہا بار اسکے سامنے اس بات کی ہی صفائ دیتا رہا تھا ۔۔۔
اور پھر پنچائیت میں اگر وہ گواہی نہ دیتی تو اسکے خلاف ثبوت تو کوئ نہیں تھا ۔۔۔۔
جیسے ورک پلٹتے گئے اور اسے ۔۔۔ اپنے عمل کا پشتاوا سا ہونے لگا ۔۔۔۔۔
اسنے چور نظروں سے سادام کو دیکھا ۔۔ عنایت اسکی اٹھنے میں مدد کر رہا تھا ۔۔ شاید وہ فریش ہونا چاہتا تھا ۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھی اور الماری کھول کر اسکا سیاہ لباس نکالا ۔۔۔ گرے چادر نکالی ۔۔۔۔
اسکے کفلنگز ڈھونڈے اسنے یہ کام سادام کے نکلنے سے پہلے ہی کر لیا ۔۔۔۔
عنایت بھلے پشت پھیرے کھڑا تھا ۔۔۔
مگر اسکی حرکات دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ سادام نے عنایت سے کپڑے مانگے ۔۔۔
تو عنایت الماری کیطرف بڑھتا ۔۔۔۔ کہ زریش نے اسے بے حد مدھم آواز میں پکارہ ۔۔۔
یہ۔۔۔یہ کپڑے میں ۔۔نے نکال دیے ہیں “اسنے کہا ۔۔
خان نہیں پہنے گے”عنایت نے اسے یاد دلایا ۔۔۔
آپ مت بتائیے گا میں نے نکالیں ہیں”زریش سر جھکا گئ ۔۔۔ اپنی غلطیوں کا احساس شدید ہوا وہ جلد باز نہیں تھی مگر اگر یہ وہی انسان ہوا تو ۔۔۔ وہ بری طرح پھنس چکی تھی ۔۔۔
عنایت نے سارا سامان اٹھا کر سادام کو دیا ۔۔ اور دس منٹ میں وہ خود ہی فریش سا باہر نکلا۔ ۔۔
تم باہر انتظار کرے اور ہمارا والدہ سے ناشتے کا کہے “اسنے حکم دیا تو عنایت سر ہلاتا نکل گیا ۔۔
وہ صرف کھانا ہی اپنی ماں کے ہاتھ کا ۔۔ کھاتا تھا اسکے علاوہ اسے پتہ نہیں تھا ۔۔۔ کہ اسکی ماں کا بھی وجود موجود ہے ۔۔۔ جو اس سے بات کرنے کو بے چین ہے ۔۔۔
عنایت کے نکلتے ہی ۔۔۔ سادام ڈریسنگ کے سامنے بڑھا ۔۔۔۔
زریش بھی وہیں آ گئ ۔۔ دونوں کا عکس۔ ۔ آئینے میں ابھرا ۔۔۔ اگر حالات اور سے ہوتے ۔۔ تو اسے یقین تھا وہ یہاں ایسے اس حولیے میں اس شخص کی بے رخی میں نہ کھڑی ہوتی۔۔۔
سادام نے بال بنائے ۔۔ اور خود پر پرفیوم چھڑکا۔۔۔۔
شال شانوں پر ڈالتے ہوئے اسکو کافی دقت ہوئ مگر زریش کی مدد لیے بنا ہی اسنے شال شانوں پر پھیلائ اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔۔۔
اسکے زخم ٹھیک نہیں تھے ۔۔۔۔ وہ کیوں جا رہا تھا ۔۔
آپکی طبعیت نہیں ٹھیک اپکو آرام کی ضرورت ہے”زریش نے آنکھوں کی نمی کو حلق میں اتارا ۔۔۔
سادام کے قدم رکے ۔۔۔
تمکو یقین ہو گیا ہم نے تمھارا ماں باپ کو نہیں مارا “وہی سوال وہی انداز وہی ایک بات ۔۔۔ زریش پھوٹ پھوٹ کر رو دی جبکہ سادام باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
اسے نہیں سمھجہ ا رہا تھا کیا کرے یقین کرے ۔۔۔ اسکا دل و دماغ بس اسی بات کی گواہی کر رہا تھا جبکہ کہیں دور سے ایک خدشہ ہوتا وہ کتنا جزباتی تھی وہ یہ کر سکتا تھا ۔۔ اور اسنے انکے گاؤں کے لوگوں پر گولیاں بھی تو چلائیں تھیں ۔۔۔۔
وہ وہیں سسکتی رہی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سادام نیچے آیا ۔۔ اسکا باپ ٹیبل پر سر براہی کرسی پر بیٹھا تھا ۔۔ اسکے بہن بھائ دوست اس ٹیبل پر موجود تھے ۔۔۔
اسکی ماں ۔۔۔ جسےبرسوں گزر گئے اسنے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا اسکی کرسی کے پاس ۔۔ پرجوش سی کھانا سرو کرنے کھڑی تھی۔۔۔ اسکو زرا سی عنایت نے بیٹھنے میں مدد کی ۔۔۔
ہم کو نہیں پتہ تھا گولیاں ہمیں لگے گا سیدھا تم ہو گا “اسنے سب پرجتایا تو ٹیبل پر زافران سا گھل گیا سب کی ہنسی میں زندگی تھی ۔۔۔
لالا اب کیسا محسوس کر رہے ہیں”جاناں نے پوچھا تو اسنے سر ہلایا ۔۔۔
درد تو ہے ۔۔۔۔ ہوتا رہے گا “اسکی بات میں معنی خیزی سی تھی ۔۔۔
سب اس بات کا مفہوم سمھجتے تھے ۔۔۔
اگر بہتر محسوس نہیں کر رہے تو ڈاکٹر کو بلاؤ “شھاب نے سوال کیا ۔۔۔
سادام کو ہنسی آئی۔ اور اسنے عنایت کو اشارہ کیا ۔۔ عنایت نے اسکے آگے نا چاہتے ہوئے بھی سیگریٹ کا ڈبہ پٹخا۔
جس میں سے سیگریٹ نکال کر اسنے جلائ اور لبوں میں دبا کر دھواں چھوڑنے لگا ۔۔
اسکی ماں اسکچاہتاے بلکل ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔ وہ ناشتہ سرو کر رہی تھی ۔۔۔
نہیں شھاب باؤ ۔۔۔ آج تم ہمارا سلطان کا خدمت کرے گا ۔۔۔ اسکو نہلائے گا ۔۔ ہم ہے ۔۔ بس اب وہ کسی کام دھندے کو لگے ۔۔۔ فارغ بیٹھا بیٹھا بچے کرتا ہے ۔۔ “وہ نفی میں سر ہلاتا سب کو ہنسنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔
جبکہ سادام کو محسوس ہوا ۔۔ اسکے لبوں سے کسی نے سیگریٹ نکال لی ہو ۔۔۔ اسنے چونک کر اپنی ماں کیطرف دیکھا ۔۔۔
تم ۔۔ تمھاری طبعیت نہیں ٹھیک ہو سکے تو کچھ دن اسکو مت پینا “برسو بعد بذات خود انھوں نے اسکو مخاطب کیا تھا ۔۔
سب حیرانگی سے ان کیطرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔
فضل خان نے چمچ پلیٹوں پر پٹخی ۔۔
تمھارا ہمت کیسا ہوا ہمارا بیٹے سے بات کرنے کا “وہ چیخے ۔۔۔
تم یہاں سے دفع ہو بدکردار عورت ۔۔۔ اب سالوں بعد تمھارا ممتا نے جوش مارا ہے “وہ بے قابو سے ہونے لگے جبکہ انکی آنکھیں بھیگیں ۔۔۔
ب
۔۔۔بیٹا ہے میرا ۔۔۔ میری پہلی اولاد ہے ۔۔۔ میں پیار کرتی ہوں اس سے”وہ روتی ہوئیں انھیں بتانے لگی ۔۔۔
شاید یہ زیادہ ہو گیا تھا فضل خان کا میٹر شاٹ ہوا وہ اس تک پہنچتے ۔۔۔۔ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھاتے کہ ہاد نے ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
بابا سائیں ۔۔ یہ مورے اور لالا۔ کا مسلہ ہے “اسنے جتایا جبکہ سادام ۔۔ نے سیگریٹ کو ایک پلیٹ میں مسل دیا اور بنا کچھ کہے ناشتہ شروع کر دیا یہ منظر بھی سب کے لیے حیرت انگیز تھا ۔۔ وہ سیگریٹ ناشتے سے پہلے لازمی پیتا تھا مگر آج اسنے اس عورت کے کہنے پر نہیں پی ۔۔۔
فضل خان نے غصے سے بیٹے کو دیکھا ۔۔۔
ہاں وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ سیگریٹ پیے ۔۔مگر اس عورت کیطرف مائل ہو یہ تو کبھی نہیں ۔۔
بیٹھ جاؤ سائیں ۔۔۔”سادام نے باپ کو اشارہ کیا ۔۔۔ مگر وہ وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئے ۔۔۔
تمکو اسکو روکنا نہیں چاہیے تھا ہاد سائیں”سادام نے کہا ۔۔۔
تو کیا وہ مورے پر ہاتھ اٹھاتے ۔۔ ٹھیک تھا”ہاد کو غصہ آیا ۔۔۔
وہ ہمارا سامنے ایسابھی نہیں کرتا ۔۔۔ اب انا کا کیا بنے گا “سادام ہنسا ۔۔۔ شھاب کو بھی ہنسی آئی ۔۔جبکہ ہاد بھی بات سمجھتا ۔۔۔۔
ہنسی دبا گیا ۔۔۔
جاناں نےا پنی ماں کیطرف دیکھا وہ نم آنکھوں سے سادام کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔
مورے آپ لالا سے بات کرنا چاہتی ہیں”جاناں نے سوال کیا ۔۔۔
تم۔۔۔ تم ٹھیک ہو بیٹا”انھوں نے اپنے آنسو روکتے ہوئے سوال کیا ۔۔ اور انکا ہر سوال سادام کی برداشت سے باہر ہو رہا تھا ۔۔
سب سانس روکے اسکے کھانے سے رکے ہاتھ دیکھ رہے تھے ۔۔۔
وہ سامنے نہ جانے کس کو گھور رہا تھا ۔۔۔
جبڑے بھینچ گئے تھے ۔۔۔ لقمہ وہیں چھوڑا اور وہ ایک جھٹکے سے اٹھا ۔۔ تکلیف سے اسکی آہ نکلی مگر وہ بنا روکے ۔۔ باہر نکلا ۔۔۔۔
عنایت بھاگ کر اسکے پیچھے ہوا ۔۔۔ شھاب بھی ناشتہ چھوڑ کر پیچھے گیا جبکہ وہ بے بسی سے رو دیں ۔۔ جاناں اور ہاد نے افسوس سےانکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج جیسے ملازموں کی پریڈ لگ گئ تھی ۔۔ ہر ملازم ناک کی سیدھ میں کام کر رہا تھا ۔۔۔ سادام فضل خان ۔۔ آج ڈیرے میں نہیں تھا ۔۔۔ وہ اصطبل میں کھڑا ۔۔ سلطان کو پیار کر رہا تھا یہ حقیقت تھی اسکے سینے میں تکلیف ہو رہی تھی مگر یہ ان سے کم تھی جو اسے اس کمرے اور اس گھر میں مل رہی تھی ۔۔۔
تم جیتے گا سلطان “وہ گویا حکم دینے لگا تو سلطان ہنہنایا ۔۔
ہم جانتا ہے تم کو یہ عورت زنگ لگا چکا ہے تبھی ہم تمکو اس سے الگ کرتا ہے ۔۔۔ تم جیتے گا تبھی اپنا ماشوق کے پاس آئے گا “وہ دھمکاتا ہوا ۔۔ باہر نکلا جبکہ عنایت سلطان کو کھینچ کر باہر لے آیا ۔۔۔
کیا شھاب باؤ تم ریس لگائے گا ۔ ۔”اسنے گاگلز لگاتے ہوئے سوال کیا ۔۔
نہیں بھئی ۔۔۔ اور تیرا دماغ تو نہیں خراب تیرے سینے پر تین تمغے
سجے ہیں میرے بھائ ۔۔ سلطان کی سواری پھر کبھی ۔۔۔
ناشتہ بھی نہیں کیا کچھ کھا پی لے”وہ بولا ۔۔۔ تبھی ملازم نے چوہدری ولی کے آنے کی اطلاع دی ۔۔۔
تو سادام نے مڑ کر ایک نظر ملازم کو دیکھا ۔۔۔۔
عنایت نے بندوق لوڈ کی ۔۔ اور غصے سے آگے بڑھا ولی کو وہ مار دینا چاہتا تھا ۔۔۔ شھاب نے بھی دانت بھینچے ۔۔۔
جبکہ تبھی ولی اندر داخل ہوا ۔۔ حولیہ بھلے صاف تھا ۔۔ مگر آنکھوں سے لگتا تھا وہ راتوں کو سویا نہیں ۔۔
سادام سلطان کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا ۔۔
عنایت نے اسپر بندوق تانی۔۔۔
اگر تم خان تک پہنچے تو آخری سانس لو گے آج ۔۔۔۔
عنایت بادشاہ ۔۔۔۔ جاناں کو بہن نہیں مانتا کیا”پشت پھیرے ہی سوال کر رہا تھا عنایت بات سمھجتے ہوئے تلملا کر بندوق ہٹا گیا ۔۔
چوہدری ولی بھی کروفر سے کھڑا تھا ۔۔
تو تم اس سے بات کرو گے ۔۔ نہ جانے اب کیا کرنے آیا ہے”شھاب نے غصے سے کہا ۔۔۔
جبکہ ہاد نے ولی کو دیکھا ۔۔ تو وہ اس تک پہنچتا ۔۔کہ سادام نے روک دیا ۔۔۔
تم سب غائب ہو “اسنے ولی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے حکم دیا ۔۔
نہیں خان ۔۔۔ میں اپکو چھوڑ کر نہیں”
عنایت کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ۔۔۔ سادام نے اسکی جانب ایسی نظروں سے دیکھا ۔ کہ وہ پاؤں پٹخ کر باہر نکل گیا ۔۔ شھاب اور ہاد کو بھی وہاں سے نکلنا پڑا ۔۔۔
کوئ سب کچھ جیت کر ہارتا ہے ۔۔ تمھارا جیسا ۔۔۔ اور کوئ ہار کر بھی بادشاہ کہلاتا ہے ہمارا جیسا ۔۔۔
ہمارا دہلیز پر تم بڑا انا مار کر آیا ہے ۔۔ تمھارا انگ انگ جیتاتا ہے”وہ ہنسا۔ ۔۔ تو ولی نے خونخوار نظروں سے اسکیطرف دیکھا ۔۔
تم زندہ کیسے بچے اصل بات سوچنے کی یہ ہے”اسنے تیوری چڑھا کر پوچھا ۔۔۔
بس تمھارا بہن کا محبت کھینچ لایا “اسنے سیگریٹ لبوں میں رکھی ۔۔ اور اسکیطرف ڈبہ اچھالا ۔۔ ولی نے ڈبہ کیچ کیا ۔۔ اور سیگریٹ خود بھی سلگا لی ۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے تم جانتے ہو میں یہاں کیوں آیا ہوں”ولی نے دھواں فضا میں چھوڑتے ہوئے کہا ۔۔
ام ام “سادام نے سیگریٹ باہر نکالی ۔۔
نہیں کچھ خاص نہیں پتہ بتاؤ کیوں آئے ہو ۔۔۔ “وہ جان بوجھ کر اسکو تپاتا بولا ۔۔۔
ولی نے دانت بھینچے سادام کی مسکراہٹ گھیری ہوئی ۔۔۔
میں جان گیا ہوں ۔۔۔ زریش کے ماں باپ کو کس نے مارا ہے”ولی نے کہا تو سادام نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
آنکھوں میں چند پل کے لیے حیرت ابھری اور پھر وہ اس سے لاپرواہ سا ہو کر سلطان کو دیکھنے لگا ۔۔۔
کیا تم نہیں جاننا چاہو گے”ولی اسکے نزدیک آیا اب دونوں ہی کی نگاہ سلطان پر تھی ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ جانی ہوئ چیز دوبارہ جاننے کا شوق نہیں رکھتا”پہلی بار وہ ایک دوسرے سے سیدھی طرح بات کر رہے تھے مگرا کڑ دونوں کے مابین اب بھی موجود تھی ۔۔۔
حیران ہونے کی بارہا ب ولی کی تھی اسنے جھٹکا کہا کر سادام کی صورت دیکھی ۔۔ جس کا دھیان ولی پر تو بلکل نہیں تھا ۔۔۔
تم جانتے ہو “اسکی آواز بلند ہوئ ۔۔۔
سادام نے سر ہلایا ۔۔۔
تو تم نے اس حرام خود کی گردن کیوں نہیں دبائ”وہ چلایا ۔۔
جانتے ہو ہم دونوں میں فرق کیا ہے”سادام نے اسکیطرف دیکھا جو غصے سے بھڑک رہا تھا ۔۔۔۔
تمھارا اوپری منزل خالی ہے ۔۔۔ اور ہمارا وہی بھرا ہوا ہے بس “سادام نے کہا تو ولی نے اسکی جانب ۔۔۔ ضبط سے دیکھا ۔۔۔
ہاں جس مرد کو عورت کا زنگ لگ جائے اسکے دماغ کی اوپری منزل کبھی نہیں بھرتی “ولی نے بھی چوٹ کی ۔۔ وہ کہاں پیچھے رہ سکتا تھا مگر وہ اب بھی حیران تھا آخر جان کر بھی سادام نےا ب تک ایکشن کیوں نہیں لیا ۔۔۔
یہی بات ہے تم بللا پنے بارے میں صحیح سوچتا ہے “سادام مڑا ۔۔
بکواس بند کرو “ولی غصے سے چیخا ۔۔۔ اسکی بات کا مفہوم ولی کے بچے کیطرف تھا ۔۔
بکواس سننے تو تم خود آیا ہے”سادام نے شانے اچکائے ۔۔۔
تمھارے منہ لگنا ہی غلط تھا “ولی کو اپنے فیصلے پر افسوس ہوا ۔۔۔۔
گھڑ ریس لگائے گا ۔۔۔”سادام نے گاگلز ہٹا کر اسکیطرف دیکھا ۔۔ جیسے آنکھوں سے وہ اسے کچھ بتا رہا ہو ۔ ۔
نہیں یہاں سارے گھوڑے تمھارے ہیں”ولی نے نفی کی سیگریٹ زمین میں پھینک کر مسل دی ۔۔۔
تم صرف ہارنے سے ڈرتا ہے وہ بھی ہم سے ۔۔لو سلطان کا سواری کرو ۔۔۔”سادام نے اسکیطرف سلطان کی باگ کی جسے ولی نے تھام لیا آنکھوں میں دونوں کے چیلینج تھا ۔۔۔
تم زخمی وہ بھولو مت”ولی طنزیہ مسکرایا اور ایک جست میں ہی سلطان پر سوار ہوا ۔۔
سادام ہنسا ۔۔ دوسرے گھوڑے پر سوار ہوا ۔۔۔
زخمی شیر زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔۔۔ کبھی سنا نہیں کیا تم نے “وہ گھوڑے 🐎 کی لگامیں کھینچتا ۔۔۔ آگے بھگا لے گیا ۔۔ جبکہ سلطان بھی بھاگا ۔۔۔۔
ہوا کی دوش پر دونوں سوار تھے ۔۔۔ ایک دوسرے کو ہرا دینے کا جنون گھوڑے ہی ٹاپ میں ہی محسوس ہو گیا تھا ۔۔۔۔
نوابوں کے گاؤں کے لوگ دانتوں تلے انگلیاں دبا گئے ۔۔ یہ منظر دیکھ کر ۔۔ جب کوئ اور بھی تھا جس نے حیرت سے یہ نظارہ دیکھا ۔۔۔۔ ہاد عنایت شھاب بھی دھول اڑاتے گھوڑے اور ان پر سوار دو سر پھیروں کو دیکھ رہے تھے ۔۔
گاؤں میں آگ کیطرح یہ خبر پھیلی ۔۔ چوہدریوں اور نوابوں میں حیرت انگیز مقابلہ تھا ۔۔۔ سب جیسے دونوں کے راستوں سے ہٹ چکے تھے ۔۔۔۔
حویلی والے خود ڈیرے کیطرف ا گئے تھے ۔۔۔
جبکہ جاناں اور زریش بھی حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگی مگر جاناں نے تادیر نہیں دیکھا۔۔۔ اسنے زریش کو اگنور کیا ۔اور اپنے کام میں لگ گئ ۔۔۔
بھائ کم بے رخی دیکھا رہا تھا جو بہن نے بھی دیکھا دی اسکی آنکھیں بھیگی اور وہ کمرے میں دوبارہ بند ہو گئ ایک لقمہ بھی اب تک منہ میں نہیں رکھا تھا اسنے ۔۔۔۔ اور شاید آگے بھی نہیں رکھنا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہدریوں کے گاؤں کی سرحد پر سادام کاگھوڑا رکا ۔۔۔ اور گھوڑا جیت کی خوشی میں ہنہنایا ۔۔۔ جبکہ سادام نے جتاتی نظروں سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
ولی خاموشی سے ۔۔ اسکی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اور پھر اچانک دونوں ہنس دیے ۔۔۔۔
ہاں وہاں جو لوگ کھڑے تھے انھیں اٹیک انا یقینی تھا ۔۔۔۔
سادام گھوڑے سے اترا ۔۔۔ ولی بھی اترا ۔۔۔۔
اور اچانک دونوں ایک دوسرے کے بغلگیر ہوئے ۔۔۔
ہم اپنے دشمن سے کبھی یاری نہیں لگاتا “سادام پھنکارا ۔۔
تو تمھیں اتنا سپنا کیوں آیا کہ میں اپنے باپ کے قاتلوں سے ہاتھ ملاؤ گا ۔۔”ولی بولا ۔۔ تو سادام مسکراتے ہوئے اس سے دور ہوا ۔۔۔۔
اگر وہ زندہ بچا تو تمھیں پھر گولیوں سے بھون دوں گا “مسکراتے ہوئے وہ سادام کی آنکھوں میں دیکھتا بولا ۔۔۔
اسکے ساتھ اس بار تمھارا بھی کام تمام نہ کر دے “
بہن کا نقصان کرو گے”ولی نے شانے اچکائے ۔۔۔۔
سیم ٹو یو “
اسنے کہا ۔۔۔ اور ولی نے صادق کو اشارہ کیا ۔۔۔۔
دونوں نے آخری بار ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔
اور ولی وہاں سے چلا گیا ۔۔جبکہ سادام نے سلطان کیطرف گھور کر دیکھا ۔۔۔
تم واقعی کسی کام کا نہیں رہا ۔۔۔ اسکو اسکی محبوبہ سے اتنا دور کرو ک انسان کا بچہ بن جائے”وہ کہتا جیپ میں بیٹھا اسکا سینا بری طرح دکھ رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا ممکن ہی نہیں یہ دونوں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیں”وہ چیزیں پھینکتا غصے سے چلایا ۔۔۔
مالک مگر یہ منظر سارے گاؤں نے دیکھا ہے “اسکا ملازم بولا ۔۔جانتا ہوں ۔۔ جانتا ہوں ۔۔۔۔
مگر میں وہی کروں گا جس سے سادام فضل خان بدنام ہو جائے ۔۔۔۔”وہ پھنکارا ۔۔۔۔
کھیت سادام کے نہیں ولی کے جلا دو ۔۔۔ مگر یہ کام ۔۔۔ اس طرح ہو کے اس بار ثبوت نہ ملے اور یہ ایک دوسرے کے گریبان پکڑ لیں ۔نہ ہی کوئ گواہ ہو “وہ بولا ۔۔۔
جی سرکار جو حکم”ملازم نے کہا ۔۔۔ اور باہر نکل گیا
تم زیادہ دنوں کے مہمان نہیں ہو ۔۔۔ سادام فضل خان ۔۔۔۔ بس چند دن ۔۔ چوہدری ولی ہی تمھیں جان سے مارے گا “وہ مسکرایا ۔۔اور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہو ا ۔۔۔
ایک عکس سا ابھرا تھا ۔۔۔ شناخت ایسی ۔۔ کے بچپن سے ۔ ساتھ تھے ۔۔۔
مگر دوسرے میں حسد اور جلن ۔۔۔۔ نے بربادی مچا دی ۔۔۔ جبکہ سادام فضل خان جانتا ہی کب تھا یہ سب ۔۔
دولت کے نشے ۔۔۔ اور حاکمیت ۔۔۔ اور اختیار ۔۔ ایک کا دوسرے کو گھٹن حسد اور جلن سے روز سلگا رہا تھا ۔۔۔
نواب فیروز خان تمھیں برباد کر دے گا “آئینے کے سامنے مونچھوں کو تاؤ دیتا ۔۔۔۔
وہ ہنسا اور ہنستا چلا گیا ۔۔۔
اور ہاں ۔۔ وہ تمھاری چھکریا ۔۔۔ بھی میری ہو گی”وہ جیسے سادام کو جیتا رہا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنایت سادام کو کمرے میں لایا ۔۔۔۔ تو سادام کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا
تم پین کلر دے گا ہمیں”وہ دھاڑا۔ عنایت نے لب بھینچے ۔۔۔
شھاب نے دوائ کھول کر اسکے آگے کی ۔۔۔ ہاد بھی وہیں کھڑا ۔۔۔ تھا ۔۔۔۔
کیا ضرورت تھی لالا اس منافق سے ہاتھ ملانے کی”ہاد تپ کر بولا ۔۔۔۔
سادام نے جواب نہیں دیا جبکہ زریش اس ہڑبونگ پر ایکدم اٹھی تھی پورے دن سے کچھ نہ کھانے پر وہ اس وقت نقاہت کا شکار تھی ۔۔۔
یہ آدمی پاگل ہو چکا ۔۔۔ ہے مجھ سے سرٹیفیکٹ لے لو”شھاب بھی بولا ۔۔۔ جبکہ سادام نے دونوں کیطرف دیکھا اس وقت اسکا کسی بات کو موڈ نہیں تھا ۔۔ اسنے منہ پر کمبل تان کر ان سب کو دفع ہو جانے کا سگنل دیا تھا ۔۔۔
وہ تینوں باہر نکلے تو ۔۔زریش نے اسکیطرف دیکھا جس کا چہرہ سفید کمبل سے چھپا ہوا تھا ۔۔۔۔
اسنے دروازہ بند کیا ۔۔۔
تبھی جاناں نے دروازہ بجا دیا ۔۔
زریش کھول کر ایک طرف ہو گئ ۔۔جاناں نے ایک نظر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
اور اپنے بھائ کی جانب بڑھی ۔۔۔
لالا ٹھیک ہیں ۔۔ اس آدمی نے پھر سے اپکو تکلیف دی ہے”وہ سرخ نظروں سے بھائ کو دیکھنے لگی ۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔ وہ ہمکو تکلیف دے گا ۔۔۔ ہم اسکے حلق میں ہاتھ ڈال کر کلیجہ نکال لے گا “سرسراتے لہجے میں بولا کہ جاناں کے بھی رنگ فق ہوئے ۔۔۔
سادام نے غور سے اسکی صورت دیکھی ۔۔ معملہ تو یہاں بھی سنگین تھا ۔۔ وہ مسکرایا ۔۔
جاؤ جاناں ہمکو آرام کرنا ہے”اسنے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
جاناں سمھجہ نہیں سکی ۔۔ ایکدم اسکی بات پر اسکا دل کیوں بیٹھا تھا ۔۔۔
وہ وہاں سے اٹھی ۔۔۔ اور باہر نکل گئ ۔۔
زریش کچھ دیر ۔۔ یوں ہی دروازے کو کھولے کھڑی رہی ۔۔ جبکہ ۔۔ پھر اسنے ۔۔ دروازہ احتیاط سے بند کیا ۔۔۔
اور ۔۔ سادام کیطرف دیکھا ۔۔۔
وہ آنکھیں بند کیے لیٹا تھا ۔۔ شاداب چمکتا چہرہ ۔۔ تکلیف سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ اسکے نزدیک گئ ۔۔۔ مگر کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئ ۔۔۔
تم کھانا نہ کھا کر ۔۔۔ کون سا احتجاج پر ہے لڑکی ۔۔۔۔ “سادام کی سخت آواز پر زریش کا دل جیسے پہلی روز کیطرح دھڑک اٹھا ۔۔۔
آپ ۔۔۔اپ نہیں بول رہے مجھ سے “وہ رو دی ۔۔۔ اس وقت معصومیت کے جیسے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے ۔۔
تم اپنے بھائ کے گھر چلا جائے ۔۔۔۔ “سادام نے الگ ہی بات کی ۔۔۔
ک۔۔۔کیوں”زریش نے پوچھا ۔۔۔
سادام نےا س کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
کیوں کے ہم تمھارا شکل نہیں دیکھنا چاہتا”اسنے سنجیدگی سے کہا ۔۔ جبکہ زریش ایک بار پھر سر جھکا گئ ۔۔ سسکنے لگی ۔۔
اور روتا ہوا ہمیں سخت زہر لگتا ہے ۔۔۔ نکلتا ہے ایک منٹ میں ہمارے کمرے سے یہ پھینک دے تمکو باہر” وہ آنکھیں نکالتا بولا ۔۔۔
زریش وہیں بیٹھی روتی رہی جبکہ سادام نے اسکو ہاتھ بڑھا کر اپنی طرف کھینچا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری پے