Dhongiyan Shama By Tania Tahir Readelle50252 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
ڈھنگیاں شاماں
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 26
شام سے رات ڈھل چکی تھی سیاہی چارو جانب پھیل گئ ۔۔۔۔۔
مگر زریش اب تک گھر نہیں لوٹی رقیہ بیگم کا تو دم نکلا جا رہا تھا جبکہ شھریار مسلسل فرہاد کو ٹرائے کر رہا تھا ۔۔۔ اور ولی جو کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا سخت بھڑک رہا تھا کہ اسے یہ اطلاع اتنی دیر سے کیوں دی گئ ۔۔۔۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں کو گاؤں میں نہ پھیل جانے کا خوف ستانے لگا تھا ۔۔
اگر گاؤں میں پھیل جاتی خبر تو ان کی ناموسی کتنی ہوتی ۔۔۔ کہ حویلی کی لڑکی غائب ہے اور پھر جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔۔۔
کہاں مر گیا ہے یہ فرہاد “ولی دھاڑا ۔۔۔ تو پھوپھو کے زریش کے لیے کوسنے شروع ہو گئے ۔۔۔۔۔
جنھیں بمشکل وہاں کھڑے لوگوں نے برداشت کیا ۔۔۔۔
ہمیں پولیس کو اطلاع کرنی چاہیے”ولی نے آخر کار کہا تو شھریار نے غصے سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
تمھارا دماغ ٹھیک ہے ۔۔ ساری عزت کا دلیہ نکل جائے گا ۔۔۔۔”وہ گھور کر بولا ۔۔۔
تو پھر میں خود جا کر ڈھونڈتا ہوں ۔۔ “اس سے برداشت ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے ۔۔ صادق چار بار شہر سے ہو کر آ گیا ہے ۔ وہاں لوگوں نے کچھ نہیں دیکھا
یہ دیکھا ہے تو خوف کے باعث کوئ بتانے کو تیار نہیں ہے”وہ بولا ۔۔۔ تو ولی نے مٹھیاں۔ بھینچ لیں ۔۔۔۔
یہ اس اس منحوس کے ہرے قدم ہیں جب سے میرے بچے کی زندگی میں آئ ہے ۔۔۔ تب سے ۔۔ تب سے ہماری زندگیاں برباد کر کے رکھ دیں ہیں اس کرم جلی نے “جاناں کو دیکھ کر دادی کا سارا اٹیک جاناں کی سمت ہو گیا ۔۔۔
جو انکی چائے دینے جھکی تھی پریشانی میں کسی نے کچھ نہیں کھایا تھا وہ احساس میں سب کے لیے چائے بنا لائی مگر یہ لوگ اس قابل نہیں تھے ۔۔۔۔
آپکی پوتی اور پوتے کا بویا سامنے آ رہا ہے صرف”وہ سیکھ گئ تھی ۔۔۔ ہاں یہاں رہ کر اسکی گھبراہٹ نے اب کھلم کھلا نفرت کی شکل اختیار کر لی تھی ۔۔۔
ائے ہائے کیا بول رہی ہے”دادی نے غصے سے کپ سائیڈ پر پٹخا ۔۔ کیونکہ یہ بات صرف انھوں نے سنی تھی ۔۔۔ جاناں نے ہلکی آواز میں جو کہی تھی ۔۔
دادی کا ریاکشن دیکھ کر ولی کو الگ غصہ چڑھنے لگا ۔۔۔
یہاں اتنے برے حالات ہو چکے ہیں اور آپکی یہ ڈرامے بازی نہیں مق رہی ۔۔۔۔ “اسکے چلانے پر سب دنگ رہ گئے جبکہ دادی خود ششدر تھیں ۔۔
ولی کیا بدتمیزی ہے”شھریار نے فورا ٹوکا ۔۔۔۔
بدتمیزی نہیں ہے ۔۔۔ میرا دماغ پھٹ رہا ہے زریش کہاں ہو گی جس حال میں ہو گی ۔۔ اور یہ اپنی الگ کہانی لے کر روز شروع ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔ بس بہت وہ چکی ہے دادی ۔۔ اب آپ خاموش ہی رہا کریں”وہ دو ٹوک جواب دیتا ۔۔ پشت پھیر گیا ۔۔۔
انھوں نے خود اسے پالا تھا اسے ایسا خود بنایا تھا ۔۔ اسکی طبعیت میں یہ سر کشی خود ڈالی تھی اور آج پوری حویلی سارے ملازموں کے سامنے جس پر مان کر کے وہ اس حویلی میں دندناتی تھیں بے عزت ہو چکیں تھیں اور یہ سب اس چڑیل کے سبب تھا انھوں نے نفرت سے جاناں کو دیکھا ۔۔۔
اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔۔
جو بویا تھا وہ اب خود پا رہیں تھیں تو آنکھیں بھیگ اٹھیں تھیں ۔۔۔۔
شھریار مجھ سے مزید برداشت نہیں ہو رہا کچھ کرو کمشنر کو شامل کر لو اس معاملے میں عزت ہے وہ ہماری”ولی بھڑکا ۔۔۔۔
شھریار کو بھی اسکی بات مناسب لگی ایسے تو وہ انتظار کرتےرہے جائیں گے۔ ۔۔۔۔
مجھے تو لگتا ہے اسکے پیچھے بھی اس سادام کا ہاتھ ہے کیا وہ بدلہ نہیں لے گا اپنی بے عزتی کا “سکندر چاچو جو کافی دیر سے خاموش کھڑے تھے بولے تو سب انکی طرف متوجہ ہوئے ۔۔ جبکہ جاناں حیرانگی سے انھیں دیکھنے لگی ۔۔۔
ولی کا تو دماغ گھوم گیا اس طرف تو اسکی سوچ ہی نہیں گئ تھی ۔۔۔۔
اچانک برتنوں کے ٹوٹنے کی آواز پر سب نے جاناں کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
میرے گھر والوں نے مجھے بدتمیزی بد تہزیبی نہیں سیکھائ تبھی آج تک آپ لوگوں کا ہر ظلم سہہ کر میں لبوں پر آف نہیں لائ مگرا پ لوگ اس قابل نہیں تھے کہ آپ لوگوں کو عزت بخشی جاتی ۔۔۔
آپ کے بھتیجے نے مجھ پر الزام لگایا ۔۔۔کہ میں آوارہ ہوں ۔۔۔۔ میرے کمرے میں زبردستی گھس کر مجھے ہراساں کیا میری تصویریں لی ۔۔ اور پھر میرے لالا کو دیکھا کر انکو تکلیف پہنچائ۔۔ بھری پنچائیت میں جسے عزت بنانے جا رہے تھے ۔۔۔ اسکے ساتھ جھوٹی بنای گئ رنگ رلیوں ۔
جاناں “وہ دھاڑا ۔۔۔ اسے روکنا چاہا
جاناں نے ایک نظر اسکیطرف دیکھا۔ ۔۔ اور بنا ڈرے پھر سے بولنا شروع کیا ۔۔۔
کے قصے پوری پنچائیت میں سنا کر مجھ سے شادی کر لی ۔۔میرے بھائ کی نظروں میں مجھے رسوا کر دیا کہ وہ جو میرے بنا سانس نہ لیں ۔۔ اتنا عرصہ مجھے میرے حال پر چھوڑ گئے۔ ۔۔۔۔
آپ مردوں میں انا ضد غیرت بہت ہوتی ہے ۔۔۔ مگر تب کہاں مر گئ تھی ولی جب آپ مجھ پر الزام لگا رہے تھے ۔۔۔۔
آج ہمارے رشتے میں کچھ بھی نہیں سواے زبردستی اور نفرت کے ۔۔۔
اور میرے لالا ۔۔۔۔ آپکی بہن نے بنا سوچے سمجھے ۔۔۔۔ انپر الزام لگایا بھتان رکھا انپر ۔۔۔۔
کیا خدا کی پکڑ سے آپ لوگ دور چلے گئے تھے ۔۔۔۔۔
اب جب کوئ نہیں مل رہا تو پھر میرے لالا کو گھسیٹ کر بیچ میں لے آئے ہیں ۔۔۔۔
جو ساتھ ماہ سے ۔۔ نہ جانے کہاں ہیں کسی کو نہیں معلوم ۔۔۔ بہت خوب بہادری اور مردانگی ہےا پ لوگوں کی بہن آپکی بھاگی ہے اور الزام میرے بھائ پر رکھ “
چٹاخ”منہ پر پڑنے والے تھپڑ سے وہ زمین پر گیری تو اسے تکلیف کا احساس ہوا ۔۔۔ اور حویلی میں داخل ہوتے ہاد نے یہ منظر دیکھا ۔۔ تو وہ بڑے بڑے ڈک بھرتا ولی کو دور دھکیل کر اسکے منہ پر پنچ مار گیا ۔۔۔۔
ولی جو اس سب کے لیے تیار نہیں تھا دور جا گیرا ۔۔۔۔
بس ایک بار مجھے پتہ چل جائے سادام لالا کہاں ہیں تو ۔۔۔ تمھیں اچھے سے بتاؤں گا ۔۔۔۔۔ لے جا رہا ہوں اپنی بہن کو یہاں سے ۔۔۔۔”وہ روتی ہوئی جاناں کو اٹھانے لگا ۔۔۔
ن۔۔نہیں لالا”
بلکل چپ یہ تمھیں لاوارث سمجھے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ ہم نے دریہ دلی سے آپسی جنگ ختم کی کچھ تو لحاظ رکھتے”وہ چلایا ۔
میرا باپ مارا ہے تم لوگوں نے دشمنی تو
تھارے باپ کی موت پر ختم ہو گی “
اسنے کوئ گل نہیں کھلایا تھا جو اسے ہار پہناتے ۔۔ اور میرا موڈ اور طبعیت تمھارے منہ لگنے کی نہیں ہے “وہ دو ٹوک کہتا ۔۔۔ جاناں کو اٹھنے میں مدد دینے لگا ۔۔۔
بات سنو ۔۔۔۔ ایسے معاملات بگڑتے ہیں بمشکل ٹھیک ہوئے ہیں”
بس کریں چوہدری شھریار یہ تو شرافت سے مجھے جانے دیں ۔۔ ورنہ ۔۔۔ جو میں سن چکا ہوں اسے پھیلانے میں مجھے ایک منٹ بھی نہیں لگے گا “وہ پہلی بار سادام کے بنا تن کر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔
جبکہ جاناں بھی اب مزید یہاں رہنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
میری بیوی یہاں سے کہیں نہیں جائے گی ۔۔۔ سمجھا تو ۔۔ اب شرافت سے نکل کبھی تیرا ۔۔۔ بھرکس نکلے “ولی ہوش میں آتا جاناں کو اپنی طرف کھینچ کر بولا ۔۔۔
لالا آپ جائیں”جاناں جانتی تھی یہ لوگ جنگلی ہیں ۔۔۔
ٹھیک ہے اب تم سے سادام لالا خود ملیں گے”۔ وہ غصے سے بولتا چلا گیا ۔۔۔۔
آج وہ اچانک ہی جاناں سے ملنے ا گیا ۔۔ اور ولی کا رویہ دیکھ کر ۔۔ اسکا دل مٹھی میں ا گیا کبھی انھوں نے اسے تھپڑ نہیں مارا تھا اور وہ اسکے ساتھ کیا کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسے کسی بھی صورت سادام سے رابطہ کرنا ہی تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندھیرے کمرے میں اسکی آنکھ کھلی تو خوف سے تھر تھرتا وجود مزید تھر تھرا اٹھا کیونکہ اس اندھیرے میں معمولی سی سرخ روشنی تھی اتنی معمولی کے شکل کی پہچان نہ ہو ۔۔۔ ایک دوسرے کی ۔ مگر وہ صوفے پر بیٹھا ہویلہ دیکھ سکتی تھی ۔۔۔
کو۔۔کون ہیں آپ ۔۔۔ م۔۔مجھے جانے دیں ۔۔۔ کیا ۔۔ بگاڑا ۔ بگاڑا ہے میں نے”وہ روتی سسکتی بولی۔ ۔۔۔
جبکہ اسکا نازک وجود رسیوں میں جکڑا اسے تکلیف دے رہا تھا ۔۔۔۔
وہ ہویلہ سیگریٹ کا کش بڑے سٹائل سے لیتا رہا ۔۔۔۔
دشمن”معمولی مدھم ۔۔۔۔ آواز جسے زریش گھڑی کی بس ٹک ٹک میں بمشکل سن پائ تھی ۔۔۔
کو کو کون دشمن ۔۔۔ “زریش حیرانگی سے اسکو دیکھنے کے لیے آنکھیں پھاڑ رہی تھی مگر اس کا دل پتے کی طرح کانپ رہا تھا ۔۔ انوہنی کا احساس بری طرح غالب آ رہا تھا ۔۔۔۔
سب کا دشمن”بس اتنے لفظ کہے اور وہ ہویلہ اسکے نزدیک آنے لگا ۔۔۔
ن۔۔نہیں ۔۔نہیں “زریش اسکے قریب آنے پر۔ ۔اجنبی خوشبو محسوس کر کے بری طرح رونے لگی ۔۔
جبکہ اس شخص نے ہاتھ بڑھا ۔۔ کر اسکے گالوں پر انگلیوں کا لمس چھوڑا ۔ اور زریش اس حدت بھرے لمس پر جی جان سے سہمی تھی ۔۔۔۔
گھٹیا انسان چھوڑو مجھے”وہ سر جھٹک کر اسکا ہاتھ ہٹا گئ ۔۔۔
تمھارے ہونٹ سینے پر مجھے بلکل اچھا نہیں لگے گا ۔۔۔ دکھ ہو گا ان ہونٹوں میں چھپی خوشبو محسوس نہیں کر سکوں گا “وہ اسکے بہت نزدیک تھا ۔۔۔ زریش کا دل بیٹھنے لگا ۔۔
پل ۔۔۔۔ پلیز م۔۔مجھے جانے دو ۔۔۔ میں مجھے “
ششششش فضول بول کر اپنا نقصان کرتی ہو تم لڑکیاں ۔۔۔ “وہ اسکے گلے میں جھولتا دوپٹہ اس سے جدا کرنے لگا ۔۔ جبکہ ۔۔۔ زریش کی چیخ ۔نکل گئ ۔۔
م۔۔۔میں شادی شدہ ہوں ۔۔ مج۔۔۔مجھ پر رحم کھاؤ ۔۔۔ میرا بھائ مار دے گا تمھیں”وہ منت کرتی بعد میں چلائ جبکہ طنزیہ سی ہنسی محسوس ہوئی ۔۔۔
شادی شدہ ہو ۔۔ تو مجھے کوئ پروبلم نہیں “وہ اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر ۔۔۔ اسکے چہرے پر ایک ان کہا ۔۔ اجنبی لمس چھوڑتا جا رہا تھا جو زریش کو تڑپانے لگا ۔۔۔
مج۔۔۔مجھے چھوڑ دو ۔۔۔ “وہ سسکی
میں نے کون سا تمھیں ساتھ رکھنا ہے ۔۔ چھوڑ دوں گا۔ ۔۔ “وہ اسکی سانسوں کو تکلیف دیتا ۔۔۔۔ لمہے سرکا گیا ۔۔۔۔
کہ زریش اسکے پیچھے ہٹنے پر کھانسنے لگی ۔۔۔۔
م۔۔۔مجھے بے اب۔۔۔ آبرو مت ۔۔ کرو ” وہ ہار نہ مانتے ہوئے بے بسی سے بولی جبکہ اپنے ہی لبوں سے پھوٹتے خون کا ذائقہ وہ اپنے منہ میں محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔۔
بے آبرو ۔۔۔ وہ روکا ۔۔۔
تھوڑا سا دور ہوا ۔۔۔۔
میرا بھی ایک محبوب تھا۔ ۔۔۔۔ جس دن اسکو نہیں دیکھ۔ دیکھ
وہ کھنکھارا ۔۔۔
دیکھتا تھا ۔۔ پاگل پاگل سا پھرتا تھا ۔۔۔ کیونکہ میرے جیسا پیار اسے کوئی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔
مگر اب میرا محبوب دھوکے باز نکلا ۔۔۔ تو میں سب کے محبوب ختم کر دینا چاہتا ہوں ۔۔۔”
وہ اپنی بات کہہ کر چپ ہو گیا ۔۔۔
م۔۔۔ممگر میں میں ایسی نہیں ہوں ۔۔۔”زریش نے اسے یقین دلایا ۔۔۔
مگر میں ایسا ہی ہوں ۔۔۔ اب اپنی سیٹی بند کرو “اسنےاسکا منہ کھول کر دوپٹہ پھنسایا اور اسکے سر کے پیچھے کس کر باندھ دیا۔۔۔۔
جبکہ زریش خود کو چھڑانے بچانے کی تگ و دو کر رہی تھی۔ ۔۔
وہ خوف سے مرنے کو تھی ۔۔۔۔
کہ اب وہ اجنبی شخص رسیاں کھول رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اسکو دیکھنا چاہتی تھی بے بسی سے بنا آواز کے گڑ گڑا رہی تھی ۔۔۔۔
جبکہ وہ بھرپور شخص اسے کھینچتا ہوا ۔۔ بیڈ پر پھینک گیا ۔۔ زریش نے بھاگنے کی کوشش کی اپنا منہ کھولنے کی کوشش کی ۔۔ مگر اسکے دونوں ہاتھ بھی رسیوں میں جکڑے جا چکے تھے ۔۔۔۔
آ آ آ”وہ بولنا چاہتی تھی ۔۔ جبکہ اس کے ان بے بس لفظوں کو وہ سائیکو انسان انجواے کرتا ۔۔۔۔ اسے بستر پر دھکیل کر اسکے سارے احتجاجوں کا گلہ گھونٹ گیا ۔۔۔
اسکا لمس اپنی گردن اور اب حدوں سے پار محسوس کر کے وہ آج ۔۔۔ مر گئ تھی ۔۔۔ سوبار مری تھی مگر اس شخص نے رحم نہ کھاتے ہوئے اسکو ۔۔۔ جیسے جان بوجھ کر جان سے مارا تھا ۔۔۔۔
رات سرکتی رہی ۔۔۔ اور چارو اطراف میں تباہی مچاتی گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن کا سورج چوہدری کے اوسان خطا کرنے کے لیے کافی تھا ۔۔۔۔
حویلی میں پولیس کا کیا کام تھا لوگ تجسس کے مارے حویلی کے باہر جمع ہوتے ملازموں سے کریدنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔ جبکہ ملازم منہ سیے کھڑے تھے ۔۔۔۔
اگر ایک لفظ بھی منہ سے ادا ہوتا تو چوہدری ولی کہاں انکو زندہ چھوڑتا تبھی وہ لوگوں کو دور کرتے مگر نہ جانے کہاں سے بات پھیلی تھی ۔۔۔۔
لوگ اب ملازموں سے زریش کے بارے میں سوال کرنے لگے تھے ۔۔۔
جس پر وہ اب لوگوں کو جھڑک کر بھگا دیتی ۔۔ کیونکہ حویلی میں تقریبا سارا دن ہی لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔۔۔۔
ولی کے بھڑکنے پر اب کھلے عام زریش کو ڈھونڈا جا رہا تھا مگر پھر بھی گاؤں والوں سے چھاپنے کی کوشش جاری تھی ۔۔۔
دن سے شام ڈھل آئ مگر زریش کہیں سے نہیں ۔۔ ملی ۔۔ اور نہ ہی فرہاد ۔۔۔
پھوپھو کا تو دم نکل گیا ۔۔۔۔ تھا ۔۔۔۔
انکا اکلوتا پوتا نہ جانے کہاں تھا ۔۔ رو رو کر وہ خدا سے اسکی سلامتی کی دعائیں مانگ رہیں تھیں ۔۔مگر فرہاد اور زریش کا نام و نشان ہی نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔۔
جب ہر حربہ نہ کارا ہو گیا تو ۔۔۔
ولی کا صرف آج جگہ شک پکا ہو گیا کہ یہ حرکت صرف سادام کی ہے ۔۔ تبھی وہ رات ڈھلتے ہی ۔۔ کمشنر کے ساتھ ۔۔ اپنے سسرال ۔۔ یعنی فضل خان کے سامنے موجود تھا ۔۔۔۔
کہاں ہیں تمھارا بیٹا ۔۔۔”ولی نے ان سے سوال کیا ۔۔۔
جس سوال کا جواب وہ خود ساتھ ماہ سے تلاش کر رہے تھے ۔۔۔
وہیں ہاد بھی نکل آیا ۔۔۔ اور ولی کو دیکھ کر اسکا حلق تک کڑوا ہو گیا ۔۔۔
شھریار کا بھی شک اب انکی طرف ہی جا رہا تھا کیونکہ وہ ہر ممکن کوشش کر چکے تھے ۔۔۔۔
نا موسی الگ پھیل رہی تھی ۔۔۔۔
میری بہن غائب ہے کل سے اپنے بیٹے کو نکالو باہر اور پوچھو میری بہن کہاں ہے”ولی جیسے پاگل ہونے کو تھا ۔۔۔۔
تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔۔۔۔ سات ماہ سے ہمارا اولاد ہمارا جگر کا ٹکڑا ہم سے منہ موڑ کر بیٹھا ہےاس ور اب تمھارا بہن کہاں سے پیدا ہو گیا”فضل خان غصے سے بولے ۔۔۔۔
جھوٹ بول رہا ہے یہ کمشنر انکے آپس ہی ہے میری بہن گرفتار کریں انھیں خود نکل آئے گا وہ “ولی چلایا جبکہ کمشنر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور ایک طرف لے گیا ۔۔۔
ولی صاحب کیسی پاگلوں والی باتیں کر رہیں ہیں نہ ثبوت نہ گواہ کس لیے انھیں اٹھائیں گے ہم ۔۔۔۔”
میں پرچہ ہٹواو گا “ولی دانت بھینچا بولا ۔۔۔
جناب یہ کوئ ہلکے لوگ نہیں ۔۔۔جو منہ اٹھائیں اور انھیں گرفتار کر لیں ۔۔۔ بنا ثبوت کے ہم پھسوانے والے کام نہ کریں”وہ سمجھانے لگے تو ولی کا بس نہیں چلا اپنے ہی بال نوچ لے ۔۔۔ یہ سب کیا ہو رہا تھا آخر کہاں چلی گئ تھی زریش۔
وہ مٹھیاں بھینچتا وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔
کہ اسکے سیل پر صادق کی کال آنے لگی ۔۔۔۔
اسنے فون اٹھایا ۔۔۔
سرکار فرہاد صاحب یہاں نہر کے پاس ملے ہیں جی”صادق کی پریشان کن آواز تھی ۔۔۔
وٹ ۔۔۔۔ “ولی چیخا ۔۔
ہاں جی اور حالت بھی بہت خراب ہے “وہ بولا تو ولی ۔۔۔ نے شھریار کو اطلاع دی اور دونوں نہر کی طرف جیسے دوڑ کر چلے جانا چاہتے تھے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زریش کے سامنے کھانا رکھا تھا ۔۔۔۔۔ اور اندھیرے سے اسکو اب متولی ہونے لگی تھی دن ہوا رات ہوئ اسکے وپتہ نہیں تھا ۔۔۔
وہ کون تھا جو اسکو بے آبرو کر چکا تھا ۔۔۔۔
جو اسکی عزت کو تار تار کر چکا تھا ۔۔۔۔ جو اسکے وجود کو روند چکا تھا ۔۔۔۔۔ وہ بولنا چاہتی تھی مگر اسکے منہ سے دوپٹہ نہیں نکالا گیا تھا ۔۔۔۔
بکھرے حولیے سے جس سے وہ خود سے نظر نہ ملا پائے وہ ۔۔۔ زارو زار رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
تم نے کھانا نہیں کھایا “وہ ہویلہ دوبارہ کمرے میں آیا ۔۔۔ تو زریش ۔۔ زور زور سے سر پٹخنے لگی ۔۔۔۔
اور وہ ہویلہ اسکے نزدیک آ گیا ۔۔۔۔ اسکے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ اسکا گلہ اسکا وجود بری طرح دکھ رہا تھا ۔۔۔
دوپٹہ کی گھیری ڈھیلی ہوئ ۔۔۔ اور مقابل جو کوئ بھی تھا ۔۔۔ اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔ جبکہ زریش ایک طرف لڑکھی ہوئ تھی ۔۔۔۔
اس ہویلے نے زبردستی اسکے منہ میں نوالے ڈالنا شروع کیے ۔۔۔۔
زریش کے آنسوں نے بستر کی جگہ بھگو دیں تھی ۔۔۔۔
کھانا کھالا کر اسنے پلیٹیں ایکطرف رکھیں۔۔۔۔ اور سکون سے بیٹھ گیا ۔۔۔
زریش کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اب اسکو دیکھ رہا ہے وہ سمیٹنے لگی ۔۔۔
مت کرو میرے ساتھ ایسا۔۔۔”وہ بے بسی سے بیٹھی ہوئی آواز سے چیخی ۔۔۔
مار دیا جائے چھوڑ دیا جائے”اپنے زخمی لبوں پر بے درد سا لمس محسوس کرتے ہوئے اسنے نفی کی تھی ۔۔
نہیں وہ دوبار اپنی آبرو نہیں لٹا سکتی تھی ۔۔۔
نہیں نہیں ۔۔۔”وہ چیخی ۔۔۔
جبکہ ایک مظبوط شکنجے میں پھر سے پھنس گئے ۔۔۔۔
مار دیا جائے”بڑی چاہت سے کہا گیا ۔۔۔۔ اور ایک بار پھر ۔۔۔ بے تاب سا لمس ۔۔ اسکے ارد گرد تھا اسکا سر گویا اب پھٹنے کو تھا ۔۔۔۔
کچھ دیر وہ ۔۔۔ یہ عزیر روتے میں سہتی رہی ۔۔ جبکہ اچانکا اس ہویلے نے اسے خود سے دور جھٹکا ۔۔۔۔۔
اور اسکی ناک پر رومال رکھ دیا ۔۔
انتھزیا ایسا تھا کہ وہ دو منٹ بھی مزید ہوش میں نہ رہ سکی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے سر پر اتنی بے دردی سے وار ہوئے ہیں کہ وہ کومے کی جا چکے ہیں مگر آپ دعا کریں یہ طویل نہیں ہو گا ۔۔۔”ڈاکٹر نے کہا ۔۔۔ تو ولی ہتھیلی پر مٹھی مار کر رہ گیا تھا ۔۔
کوئ مانتا یہ نہیں مانتاگر وہ جانتا تھا ۔۔۔ فوت سادام کے سوا یہ اور کوئ نہیں تھا ۔۔۔۔۔
جاری ہے
