No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
سلام چوہدری صاحب” ملازم نے ولی کے سامنے آداب سے سر جھکایا… اور ایکطرف ہو گیا جبکہ ولی نے اپنے گھوڑے کے سر پر ہاتھ پھیرا… یہ اعلیٰ نسل کا گھوڑا تھا جو اسنے عرب سے.. منگوایا تھا… خاص طور پر جیتنے کے لیے….
یار جتنا ہے اس سالے سادام فضل خان کو دھول چٹانی ہے… اور پھر رفتہ رفتہ اسکے باپ کی گردن پر بلکل ویسے ہی تلوار چلانی ہے جیسے. انھوں نے میرے باپ “وہ خاموش ہوا… غصے سے آنکھیں سرخ ہو گئیں تھی…
تم باہر لے کر جاتے ہو اسکو” اسنے ملازم کیطرف دیکھا جبکہ گھوڑے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہا تھا….
جی چوہدری صاحب روز لے جاتا ہوں….. اور کل تو میدان میں دوڑایا بھی تھا “وہ بولا تو اسنے سر ہلایا.
.بہت خوب بس اسکو مزید ٹرین کرو… کہ یہ اس دن.. جیت کو چوہدریوں کی پگ پر سجاے ورنہ اسے بتا دینا… بندوق سے بھیجا اڑا دوں گا” وہ سر جھٹکتا کہتا… باہر نکل گیا جبکہ ملازم نے سر ہلایا….
کھیتوں میں کوئ مسلہ تو نہیں “اسنے اپنے ساتھ چلتے خاص ملازم سے پوچھا…
نہیں… چوہدری جی بس… زیادہ فصل کے انتظار میں ہیں…. تاکہ نوابوں کو گھڑ مقابلے کے ساتھ یہاں بھی ہار کا منہ دیکھنا پڑے”ملازم بھی نفرت سے بولا….
ہمم ہونا تو یہ ہی چاہیے.. “وہ سیگریٹ سلگاتا بولا….
اور نہر کے پاس بیٹھ گیا.. وہ اکثر اس طرف آتا تھا…. یہاں سے دوسری طرف نوابوں کا گاوں تھا..
انکے گاوں سے گزرتی نہر کو اسنے نفرت سے دیکھا…
فضل خان کا خون اسی نہر میں بہے گا…
وہ یہ ہی سوچ رہا تھا کہ دوسری طرف نہر کے ساتھ لگے پیپل کے درخت کے نیچے ایک خوبصورت لڑکی کو وہ غور سے دیکھنے لگا…
اسکے گرد کافی کبوتر تھے… جنھیں وہ محبت سے دانا ڈال رہی تھی…
وہ سیگریٹ کے کش بھرتا…. غور سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا… جس کے بالوں کی لٹیں… اسکے چہرے پر رقصاں تھیں…
یہ منظر کافی دلکش تھا.. خوبصورت بھی…
مگر ولی کو زیادہ دیر برداشت نہیں ہوا. اپنی بندوق کو لوڈ کر کے اسنے ایک کبوتر کا نشانہ لیا جبکہ.. سیگریٹ کو لبوں میں دبا لیا..
ٹریگر دبتے ہی دو کبوتروں کی جوڑی… خون میں لت پت.. ایک طرف لڑھک گئ…
جبکہ نسوانی چیخ بھی اسے سنائ دی تھی.. ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ لیے.. اسنے کسی گیم کیطرح یہ منظر انجوائے کیا… اور باقی چھ کبوتر بھی اسکے ٹریگر کا نشانہ بنے.. اور مختلف جگہوں پر گیر گئے..
اب وہ لڑکی کیطرف دیکھ رہا تھا.. جس نے بس ایک نظر سرخ نظروں سے اسے دیکھا… اور پھر… وہ مردہ کبوتروں کے ساتھ ہوے اس بے رحم رویے پر رو رہی تھی…
ولی کی مسکراہٹ مزید تر گھیری ہو گئ..
وہ چاہتا تھا وہ لڑکی سر اٹھا کر اسکیطرف دیکھے.. مگر. لڑکی کبوتروں کے غم میں نڈھال ہو رہی تھی…
اور اس سے پہلے وہ لڑکی اسکیطرف دیکھتی.. پیچھے سے ملازم کی اواز پر وہ پلٹا…
اور دو لمہوں میں اسنے دوبارہ اس طرف دیکھا تو.. وہاں نہ کبوتر تھے.. اور نہ وہ لڑکی.. وہ.. نفی میں سر ہلاتا اٹھ گیا جبکہ اپنی بندوق. دوبارہ.. گن ہولڈر میں سجا کر وہ کروفر سے.. چلتا… استطبل کی جانب آ گیا… لیکن زہن کی سکرین پر.. نقش ہو گئ تھیں وہ دو سرخ آنکھیں..
وہ مسکرا دیا…
…………..
اسکا دل بیٹھا جا رہا تھا…. ہاتھوں میں کبوتر بھرے.. وہ حویلی کے اندر داخل وہئ اور وہیں صحن میں بری طرح رو دی….
کیا ہوا. جاناں.. دہی رانی روتی کیوں ہے”بابا سائیں کی فکرمند آواز پر… وہ انکی جانب دیکھتی دوڑتی ہوئ.. انکے سینےسے لگ گئ…
عنایت” وہ کسی حادثے کا سوچ کر غصے میں عنایت کو پکارنے لگے.. جبکہ کشمالہ بھی ساتھ تھی پھر کس کی جرت ہو گئ تھی.. فضل خان کی بیٹی پر غلط نگاہ ڈالتا…
عنایت کے کچھ بولنے سے پہلے.. جاناں نے سسکتے ہوئے اپنے کبوتروں کیطرف اشارہ کیا..
بابا سائیں وہ گاوں والوں نے میرے سارے کبوتر مار دیے”وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی. تو وہ جلال میں آ گئے..
اتنا ہمت کس( گالی) میں پیدا ہو گیا.. کہ فضل خان کی بیٹی کے ساتھ یہ اسکے جانوروں کے ساتھ بھی یہ کرے…
اکھٹا کرو گاوں والوں کو” وہ عنایت پر چھنگاڑے جبکہ اسنے پھر نفی کی.
وہ دوسرے گاوں کا تھا.. چوہدریوں کا… “وہ آنسوں صاف کرتی بتا رہی تھی.. اور اس بات پر تو انکا پارہ مزید ہائ ہوا…
ابھی وہ چلاتے کے فیروز.. سامنے سے آیا.. اور جاناں کے سر پر ہاتھ رکھا…
بیٹا میں اور دلا دوں گا “وہ معملہ نمٹاتا ہوا بولا… اگر یہ بات.. سادام کے کانوں تک پہنچتی تو لازمی وہ جنگ شروع کر دیتا…
اسے تو صرف چوہدریوں سے لڑنے کا موقع چاہیے تھا..
تم یہ سکھا رہا ہے وہ گولی ہمارا بیٹی کو بھی لگ سکتا تھا.. اتنا جرت ان میں کہ ہمارا بیٹی کے سامنے گولی چلاے کیا بھول گیا ہے فیروز خان ہم اپنی دہی رانی کے سامنے بندوق نہیں لاتا.. اور. وہ کم بخت گولیاں چلاتا ہے.. فون گھماو عنایت بلاو سادام خان کو.. وہی ہوش ٹھکانے لگاے گا “وہ فیروز پر بھڑکتے عنایت کو بھی بولے..
چاچو آپ کیوں بات کو تول دے رہے ہیں میں شہریار سے بات کروں گا اگلی بار ایسا نہیں ہو گا” فیروز.. آرام سے بولا.. جبکہ جاناں دوبارہ کبوتروں کے پاس.. انکے زخم دیکھ کر ر ورہی تھی….
فیروز… تم ہماری نظروں سے دور ہو جاو “وہ جاناں کو بانہوں میں بھرتے ناگواری سے بولے جبکہ… فیروز خاموش ہو گیا..شکر یہ تھا کہ وہ جاناں کے رونے سے.. وہاں سے چلے گے..
ورنہ ایک تماشہ ضرور ہوتا..
جاناں کے سسکتے وجود کو دیکھ کر اسے بھی دکھ ہوا. ان سب کے لیے جاناں بہت قیمتی تھی ایک اکیلی لڑکی تھی تبھی سب اسکو آنکھوں کا تارا سمھجتے تھے…
باپ بھائی کی لاڈلی تھی پھر بھی.. کم ہمت اور کمزور دل کی تھی…
عنایت سادام کو کچھ مت بتانا”وہ بولا.. تو عنایت نے سر ہلایا..
اور چلا گیا جبکہ فیروز لاونج میں داخل ہوا…
تو جاناں اب بھی رو رہی تھی…
بیٹا میں اور لا دوں گا رو مت” وہ پھر سے اسکو پکارتا بولا..
لالا مگر کوئ اتنا ظالم ہو گا انھوں نے سارے کبوتر مار دیے.. وہ بچنے کے لیے اڑے بھی”وہ سسکی تو.. فضل خان نے اسے سینے سے لگا لیا.
ہمارا بیٹی روے گا تو ہم کو سکون کیسے ملے گا…. اب تم چپ ہو جاو. ہم سادام سے کہہ کر.. تمھارے مجرم کی ہڈیاں تمھارے سامنے تڑواے گا” وہ بولے تو.. جاناں نے نفی کی…..
اور اٹھ کر چلی گئ.. سب جانتے تھے وہ اتنی آرام سے اس بات کو نہیں بھولے گی… دو چار دن تو وہ اپنے کبوتروں کا سوگ بناے گی…
مگر فیروز کی کوشش تھی کہ وہ سادام سے اس بات کو دور ہی رکھے. تاکہ وہ کوئ ہنگامہ کھڑا نہ کرے….
……………………..
وہ اپنے گھوڑے کو غور سے دیکھ رہا تھا جو ہر میدان میں اسے جیتاتا تھا…
سلطان کا کھانا پینا کیسا ہے…. “اسنے گھوڑے کی پشت پر ہاتھ پھیرا…
جی اچھا ہے….” ملازم نے مسکرا کر بتایا… 10 سال سے اسکے ساتھ تھا.. وہ… سادام اسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتا تھا….
اپنا ہیروائن کے پاس جاتا ہے”وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا..
ملازم مدھم سا مسکرایا… مگر جلد مسکراہٹ چھپا لی وہ دیکھ لیتا تو… بندوق سے اڑا دیتا…
جی “اسنے بس اتنا کہا….
دو دن میں زنگ لگائے گا.. یہ سلطان کا ہیروائن اسکو… تم دو دن دور رکھے گا… جب جیت جائے گا.. تو ہم خود علیحدہ روم دے گا…پھر سکون سے بناے اپنا ہنی مون مگر سلطان… جیتنا پڑے گا اب اپنی ہیروائن.. کا خاطر….
ورنہ تمھارا ہیروائن…. گیا کام سے..” وہ ملازم کو سمجھاتے سمجھاتے گھوڑے سے کہنے لگا.. جبکہ اسکا گھوڑا ہنہنایا…
ہمیں یقین ہے.. تم ہم سے زیادہ اپنا ہیروائن پر مرتا ہے.. اسکی خاطر جیتے گا….” وہ لاڈ سے بولا… اور اسکا کھانا وغیرہ دیکھ کر… باہر نکل آیا…
ہاں عنایت کھیتوں کا حال سناو…. “وہ عنایت کے ساتھ چلتا سگار پیتا بولا.. عنایت ابھی ابھی حویلی سے ہی آیا تھا…
خان فصل سمھجو تیار ہے…. “عنایت اسے اطلاع دینے لگا…
اور دشمنوں کا” وہ ترچھی نظر سے اسے دیکھتا… دھواں ہوا میں اڑا گیا…
خان لگتا ہے انکی فصل اچھی بنے گی.. اس بار…” عنایت بلاخر.. اسے حقیقت بتا گیا جبکہ.. سادام نے اسکی جانب سرد نظروں سے دیکھا…
مگر خان بس مجھے لگتا ہے.. ہو سکتاہے ایسا نہ ہو “یہ بات تو سادام بھی جانتا تھا.. وہ اس سے جھوٹ نہیں بولتا تھا….
عنایت انکا فصل اترنے سے پہلے ہی جلا ڈالو… “وہ سکون سے بولا.. جبکہ عنایت نے سر ہلایا….
اج کیا دن ہے عنایت بادشاہ”ہر چیز کے بارے میں جان کر.. وہ اب.. سکون سے چرپائ پر بیٹھا.. عنایت سے پوچھنے لگا..
خان اتوار.. “وہ بولا سمھجہ گیا تھا وہ کس لیے پوچھ رہا ہے…
مطلب عاشقی کا دن نہیں ہے… ہمارا محبوب بھی لا پرواہ ہو گیا ہے.. تین دن سے.. اپنا رخ روشن نہیں دیکھایا.. اور پھر مظلوم بنتا ہے” وہ کچھ خفا سا لگا… عنایت خاموش کھڑا رہا….دل میں ہنسی بھی ائ… وہ صاف زبان میں بول ہی نہیں سکتا تھا…
کیا حکم ہے خان” عنایت نے بلاخر اسکی جانب دیکھتے راہ دیکھائ..
اسنے عنایت کی آنکھوں میں دیکھا اور ہنس دیا…
تم سے ڈر جاے گا عنایت…. یہ کام ہم خود ہی کرے گا… بس تم رات بارہ کے بعد گاڑی کا انتظام کر لینا” اسنے فیصلہ کرتے ہوے کہا..
جی “عنایت نے سر ہلایا..
بابا سائیں کو خبر نہ ہو “اسنے تنبھی بھی کی تو وہ پھر سر ہلا کر اسے یقین دلانے لگا…
اور حویلی کا حال چلا سناو… ہاد سائیں کا کچھ آتا پتہ” وہ بولا تو عنایت… جیسے ٹیپ ریکارڈر کیطرح سب کے بارے میں اطلاع دینے لگا…
خان ہاد سائیں… اپنے دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں زیادہ تر….
مطلب مختلف جگہوں پر… ” وہ اسے دبی زبان میں جیسے کچھ سمھجانا چاہ رہا تھا جس پر سادام نے سر ہلایا….
اور فیروز لالا دو چار دن سے… نہیں ملے شہریار سے… “
انکا تعمیر کیسا جا رہا ہے “وہ پوچھنے لگا..
اچھا کام ہو رہا ہے جلد مکمل ہو جاے گا” وہ بولا تو وہ ہنسا…
کیسا بات کرتا ہے عنایت وہاں کالج بن گیا تو ہمارا محبوب کیسے دیکھے گا ہم کو… مکمل ہونے سے پہلے گیرہ ڈالنا” اسنے حکم دیا جس پر عنایت نے سر ہلایا…
جاناں بی بی کے کبوتر مر گئے. خان”اسنے آہستگی سے اطلاع دی.. سادام نے چونک کر اسکیطرف دیکھا..
کیسے “وہ ایکدم اٹھا جانتا تھا وہ کتنی حساس ہے…
وہ… خود ہی” وہ اہستگی سے جھوٹ بول گیا.. سادام نے نوٹس نہیں لیا اور چادر جھاڑ کر حویلی کیطرف ہو گیا….
اگر بعد میں اسے پتہ چلتا تب اسکے لیے زیادہ خطرناک تھا سادام.. بانسبت اس کے کے وہ اسے پہلے ہی بتا دے…
……………….
وہ جاناں کے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں اپنی ماں کو دیکھ کر اسے شدید ناگواری کا احساس ہوا…
ہم کو کمرہ خالی چاہیے… “وہ دروازے میں کھڑا اونچی آواز میں بولا جبکہ وہ نم نگاہوں سے اسکو دیکھ کر باہر نکل گئیں…
جاناں سائیں ہزار بار کہا ہے… دور رہا کرو.. اس عورت سے” وہ مسکرا کر بولتا اسکے ہچکیاں بھرتے.. وجود کو دیکھنے لگا…
جاناں نے جواب نہیں دیا تو. وہ اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا
کیا مسلہ ہے کیوں روتا ہے” جانتا تو تھا مگر اس سے مکمل بات جاننا چاہتا تھا….
لالا میرے کبوتر مر گئے”وہ سسکی تو اسنے اسکا سر سینے سے لگا لیا…
جاناں گڑیا مر جاتا ہے کچھ نہیں ہوتا ہم نیا لے دے گا نہ روتا کیوں ہے”وہ اسے بھلانے لگا…
لالا انھیں مارا ہے..” وہ آنسوں صاف کرتی کچھ خفا ہوئ…
سب کے لیے یہ عام بات تھی مگر اسکے لیے نہیں..
کون مارتا ہے کس کا اتنا جرت ہے”وہ تیوری بگاڑ کر اسکیطرف دیکھنے لگا..
ساتھ والے گاوں سے….” وہ سوں سوں کرتی بولی جبکہ یہ خبر ملنی تھی… اور سادام کو پتنگے لگے وہ ایکدم اٹھا…
تمھارا دماغ میں شکل ہے اس نامعقول کا “وہ سختی سے بولا… جبکہ… جاناں نے نفی کر دی…
تو سادام نے گھیرہ سانس بھرا….
ہم تم کو کبوتر لے دے گا.. بکرا لا دے گا.. گھوڑا بھی لا دے گا.. اب تم رونا بند کرے گا” وہ اسکے دوبارہ رونے پر جھنجھلایا.
پھر وہ میرا گھوڑا ہو گا.. اور وہ وائٹ کلر کا ہو گا… اور ہاد اسے نہیں لے گا”جاناں نے چمکتی آنکھوں سے کہا.. تو سادام مسکرا دیا…
بلکل ہماری جاناں کا ہو گا… تم بس دیکھ لینا کون سا گھوڑا مانگتا ہے. وہی نسل کا گھوڑا تمھارا پاس ہو گا…” وہ اسے پیار سے دیکھتا بولا تو جاناں ہنس دی….
کبوتروں کا غم تھوڑا ہلکا ہوا تھا مگر ختم نہیں… اور اپنے پیارے کبوتروں کے قاتل کو وہ بھولنے والی نہیں تھی..
………….
دو دن سے سادام کو نہیں دیکھا تھا تبھی وہ بھجی بھجی سی پھر رہی تھی….. نہ جانے اتنی جلدی وہ اسکے دل میں کیوں آ بسا تھا کہ ایک دن بھی اس سے دوری برداشت نہیں ہوتی تھی
اماں نے دو دن سے اسکی کالج سے چھٹی کرا لی تھی…
کیونکہ پڑوس میں زہدہ انٹی کی بیٹی کی شادی تھی… اور زہدہ انٹی امی کی منہ بولی بہن تبھی… اماں نے اسکی چھٹی کرا لی شادی کو اسنے خوب انجوائے تو کیا مگر بار بار سادام کی یاد ا جاتی تھی…
اور ابھی بھی وہ علاقائ پٹھانی لباس سیاہ فراق میں بالوں کو کئ بل دیے…. اور تھوڑے بہت میکپ میں کمال لگ رہی تھی کہ پوری شادی میں سب نے اسکی تعریف کی. .
اماں اسے لباس تبدیل کرنے کا کہہ کر… خود دوسرے کمرے میں جا کر سو گئیں کیونکہ سارا دن کام کرنے کے بعد ان میں اٹھنے کی ہمت نہیں تھی پھر.. دوائیاں بھی وہ کافی لیتی تھیں تبھی غنودگی میں جلدی چلی جاتی جبکہ ابا.. کو کھیت پر سے آنے کے بعد کسی کا ہوش نہیں رہتا تھا بس کھانا کھا کر سو جاتے تھے…
وہ اکثر ان کے سونے کے بعد اپنی کتابیں اٹھا لیتی..
سادام نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ وہ پڑھے گی نہیں… اسکی ماں پڑھی لکھی تھی تبھی وہ اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے گھر سے بھاگی اور.. اب وہ نہیں چاہتا تھا.. کہ زری پڑھے.. تبھی اسنے سختی سے پابندی لگا دی… اور زری نے.. اسکا ہر حکم مان لینا اپنا فرض سمھجا….
مگر پڑھائ… کے لیے اسکا دل کہتا تھا.. کہ اسے بھی سب کیطرح.. شعور ہو…
پھر وہ اکثر سوچتی سادام بھی تو اتنا زیادہ پڑھا ہوا ہے…
اور جلد ہی یہ سب سوچیں جھٹک دیتی…
آئینے کے سامنے کھڑے خود کو دیکھتے اسکے دل میں خواہش جاگی کہ سادام اسکو دیکھے… اسکی چاہت سے لبریز آنکھیں اسکے چہرے کا احاطہ کریں..
اور اچانک وہ ہنس…
کیا سوچ رہی ہے زری “اسنے اپنے سر ہر ہاتھ مارا.. اور.. پلٹی… کہ دھک سے رہ گئ….
نواب جی” وہ حیرت سے.. سادام کو کمرے کے دروازے پر دیکھنے لگی….
کچے مٹی کے کمرے میں سادام کو وہ کسی حور سے کم نہیں لگی… جبکہ زری.. ایکدم ہوش میں ائ….
آپ اپ…. یہ اللہ… اپکو ڈر نہیں لگتا… “اسکا ہاتھ اندر کھینچ کر اسنے دروازہ بند کیا.. اور.. تھوڑا سا سر نکال کر باہر دیکھا.. تو عنایت سمیت دو اور لوگ جو اس کے ہی بندے تھے اماں ابا کے کمرے کے باہر کھڑے تھے.. زری کا خوف سے وجود کانپ اٹھا….
اپ”
ششش”اسنے اسکی کمر میں اچانک ہاتھ ڈال کر اسے.. کچی مٹی کی دیوار کے ساتھ لگا دیا…
زری کی بڑی بڑی آنکھیں پھیلیں….
تم اتنا خوبصورت ہے… ہم کیسے روکے گا خود کو “اسکی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کے دلفریب منظر میں وہ بہک رہا تھا.. بری طرح…
نو.. نواب جی” اسکو خود پر جھکتا دیکھ وہ جلدی سے اس سے دور ہوئ…
دل کی دھڑکنوں کا رقص جان لیوا تھا جبکہ وہ اس وقت سادام کے لیے امتحان بنی بیٹھی تھی…
تم ہمارے لیے تیار ہوا ہے… کیا دسمبر نے تمھارے یار کے انے کا بھی پتہ دیا تھا…” وہ ہنستا ہوا چارپائی پر سکون سے لیٹ گیا.. جبکہ زری کمرے کے بیچ میں کھڑی تھی….
نواب جی امں جاگ جائیں گی” وہ… اسکی باتوں پر کیا شرماتی دھڑکا اماں کا جو لگا تھا…
تو آنے دے.. تمھارا محبوب آیا ہے… تم ہم کو ان سے ڈراے گا “وہ تیوری ڈالے بولا…
ن.. نہیں ایسانہیں ہے.. “وہ سر جھکا گئ..
ادھر آ کر بیٹھے گا یہ ہم خود آئے” وہ سرد لہجے میں بولا.. تو زری شرافت سے.. اسکے پاس بیٹھ گئ جبکہ سادام اسکے کانپتے لبوں اور گھبرانے وجود کو… چاہت بھری نگاہوں کے حصار میں لیے… خوش تھا… پھر ایکدم سیدھا ہو گیا ایسے کے زری کے بے حد قریب ہو گیا…
تم کہاں گیا تھا اتنا تیار شیار پھرتا ہے” زری اسکی قربت سے ہی گھبرائے ہوئ تھی کہ اسکی تشویش پر… اسے جلدی سے بتاتی اس سے دور ہوئ..
وہ انٹی زاہدہ کی بیٹی کی شادی تھی.. تین دن.. سے اسی لیے..” وہ چپ ہو گئ کیونکہ سادام نے اسکی کلائ سختی سے جکڑ لی تھی…
تم ہماری اجازت کے بغیر آتا جاتا ہے… “وہ سختی سے پوچھ رہا تھا.. زری نفی میں سر ہلانے لگی..
نہیں نواب جی.. میں بس.. ادھر پاس میں ہی گئ تھی.. انکا گھر ادھر ہی ہے ہمارے گھر کے آہ “اسکے ہاتھ پر سادام کے دانتوں کے نشان..
بڑے واضح تھے کہ اسکی نگاہیں بھیگ گئیں….
اور وہ زخمی نطروں سے.. اسکو دیکھنے لگی… جو اب انگوٹھے کی مدد سے.. اسکی کلائ سہلا رہا تھا…
ہمارے اندر معافی کا مادہ نہیں…. اگلی باری تمکو یاد رہے گا.. ہماری عاشقی میں رہنا آسان نہیں.. “
جاری ہے
